یہ صحفہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ ’سابق وزیر اعظم عمران خان کی پیشی والا نیب ترامیم کیس براہ راست نشر کرنا بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔ نیب ترامیم کیس پہلے براہ راست نشر ہو چکا ہے۔‘ واضح رہے کہ 30 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے براہ راست دکھانے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit
بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں دھرنے کے شرکا کی جانب سے ڈپٹی کمشنر چمن کے دفتر پر چڑھائی سے حالات ایک مرتبہ پر کشیدہ ہو گئے ہیں۔
منگل کی صبح مشتعل مظاہرین کی بہت بڑی تعداد نہ صرف ڈپٹی کمشنر چمن کے دفتر کے باہر جمع ہوئی بلکہ دفتر پر حملہ کر کے وہاں توڑ پھوڑ بھی کی۔
مقامی صحافیوں کے مطابق چمن شہر میں صورتحال اُس وقت کشیدہ ہو گئی کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ اور افغانستان کے درمیان شاہراہ پر گڑنگ کے مقام پر رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے کاروائی کی جس دوران مظاہرین کے ساتھ جھڑیں ہوئیں۔
اگرچہ چمن میں ایک احتجاجی دھرنا گزشتہ سال 21 اکتوبر سے جاری ہے تاہم چار مئی کو چمن شہر میں ایف سی کے قلعہ کے سامنے مظاہرین پر فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد دھرنے کے شرکاء نے گڑنگ کے مقام پر بین الاقوامی شاہراہ کو بند کر دیا تھا۔
شاہراہ کو مظاہرین نے مکمل طور پر بند کرنے کی بجائے اسے بڑی مال بردار گاڑیوں کے لیے بند رکھا جس کے باعث سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ ان کے ڈرائیور اور عملے کے دوسرے لوگوں کو مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ شب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گڑنگ کے مقام پر نہ صرف رکاوٹوں کو ہٹا دیا بلکہ مظاہرین کے خیموں کو بھی نذر آتش کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مظاہرین نے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کے جانے کے بعد شاہراہ کو ایک مرتبہ پھر بند کیا تاہم انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔‘
گڑنگ میں ہونے والی کارروائی کے خلاف دھرنے کے شرکاء مشتعل ہوگئے اور انھوں نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج شروع کیا۔

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit
چمن کے صحافیوں نے بتایا کہ ’بعض مشتعل مظاہرین نے پریس کلب پر بھی پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں پریس کلب کے بھی شیشے ٹوٹ گئے۔‘
دُپٹی کمشنر چمن راجہ اطہر عباس نے بتایا کہ مظاہرین کا ان کے دفتر کے باہر احتجاج اور دھرنا جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک 7 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ ’گرفتار ہونے والے افراد میں دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی اور غوث اللہ کے علاوہ دیگر رہنما شامل ہیں۔‘
ایسی اطلاعات ہیں کہ گرفتار ہونے والے رہنمائوں کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں مذاکرات کے لیے بلایا گیا تھا جہاں سے ان کو گرفتار کیا گیا تاہم ڈپٹی کمشنر نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
چمن میں پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے ضلعی انتطامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق چمن میں پولیو مہم کے دوران ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں شر پسند عناصر نے حملہ کر کے دو لیویز اہلکار کو زخمی کیا۔ اس کے علاوہ دو پولیو ورکر خواتین کو بھی مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق گزشتہ شب ضلعی انتظامیہ نے شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے چمن دھرنا کمیٹی کے ساتھ مزاکرات کیے۔
انتظامیہ کے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’ڈی سی کے دفتر میں مزاکرات کے دوران مظاہرین میں سے بعض نے ڈی سی چمن راجہ اطہر عباس پر حملہ کیا اور ڈسی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔‘
بیان کے مطابق لیویز اہلکاروں نے بر وقت کارروائی کر کے شر پسند عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر لیا تاہم حملے میں ڈی سی چمن محفوظ رہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مظاہرین نے ریڈ لائن کراس کر دی ہے اس لیے حملہ آوروں کے خلاف انسداد دہشتگردی کی ایف آئی آر درج ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit
ضلعی انتظامیہ کے مطابق چمن شاہراہِ پر غیر قانونی روڈ بلاک کو ختم کرتے ہوئے ٹریفک کے لئے بحال کردیا گیا ہے۔
درایں اثناء حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ ’حکومت بلوچستان نے مسئلے کو بارہا مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی لیکن احتجاج پر بیٹھے لوگوں نے مذاکرات میں سنجیدگی نہ دکھاتے ہوئے ڈیڈ لاک برقرار رکھا۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کئی ماہ کے احتجاج کے دوران متعدد بار قانون کو اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا جس میں ایف سی کے قلعے اور پولیو ٹیم اور ڈی سی کمپلیکس پر حملہ کیا گیا۔‘
ترجمان کا کہنا ہے کہ ’دھرنے کے نام پر عام عوام کو تنگ کرنا یا ریاست سے بغاوت کا درس دینا قابل قبول نہیں۔‘
خیال رہے کہ چمن میں گزشتہ سال اکتوبر سے ایک دھرنا جاری ہے جو کہ چمن سے افغانستان آمدورفت کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف شروع کیا گیا۔
چمن میں مظاہرین پر مبینہ تشدد اور ان کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے زیر اہتمام احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سابق صدر اور رہنما پاکستان تحریکِ انصاف عارف علوی نے کہا ہے کہ ’عمران خان کو مُلک چھوڑنے کی آفر کی گئی۔ مگر انھوں نے یہ کہ کر ٹھکرا دی کہ مر جاؤں گا مُلک نہیں چھوڑوں گا۔‘
فصیل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ’بانی پاکستان تحریکِ انصاف کو ایک ڈیل آفر کی گئی انھیں کہا گیا کہ شہر چھوڑ دو، تو اس پر عمران خان نے کہا کہ میں مر جاؤں گا پاکستان نہیں چھوڑوں گا۔‘
فیصل آباد میں تقریب کے دوران اپنے خطاب میں سابق صدر نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ بانی پی ٹی آئی کو مُلک چھوڑنے کی آفر کس کی جانب سے کب اور کن حالات میں کی گئی۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’آج کل جو لوگ عمران خان کو سزا دینے کی نیت کرتے ہیں اور سزا دینے کی کوشش کی ہے اور جھوٹی سزائیں دیں ہیں اُن کا نام بھی خاک میں مل جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہIHC
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے براہ راست دکھانے کی درخواست کو مسترد کرنے کے فیصلے پر بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے اب اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’نیب ترمیم کیس کی کارروائی لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔‘
اس اختلافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’سابق وزیر اعظم عمران خان کی پیشی والا نیب ترامیم کیس براہ راست نشر کرنا بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔ نیب ترامیم کیس پہلے براہ راست نشر ہو چکا ہے۔‘
واضح رہے کہ 30 مئی کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے براہ راست دکھانے کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
اس معاملے پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست گزار یعنی عمران خان کو اجازت ہے کہ وہ ویڈیو لنک کی مدد سے عدالتی کارروائی میں شامل ہو سکتے ہیں۔
30 مئی کو دوران سماعت عدالت کی جانب سے یہ ریمارکس دیے گئے تھے کہ ’ہم جلد بازی میں فیصلہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے اس پر سوچ بچار کی گئی۔‘
یاد رہے کہ 30 مئی کو سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کے موقعے پر سابق وزیر اعظم عمران خان اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر پیش ہوئے تو خیبر پختونخوا ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے عدالت کی کارروائی کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے دکھانے کی درخواست کی گئی تھی۔
اس درخواست پر عدالتی بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تاہم پانچ رکنی بینچ میں سے جسٹس اطہر من اللہ نے لائیو سٹریمنگ کی درخواست کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ کا مزید کہنا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ سابق وزیر اعظم کی پیشی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے جاری ہونے والے اختلافی نوٹ میں مُلک کے سابق وزیِر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے کیس اور اُن کو دی جانے والی پھانسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’ذوالفقار علی بھٹو جب پھانسی دی گئی وہ عام قیدی نہیں تھے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف بھی عام قیدی نہیں تھے۔ سابق وزرا اعظم کیخلاف نیب اختیار کا غلط استعمال کرتا رہا۔ سابق وزرا اعظم کو عوامی نمائندہ ہونے پر تذلیل کا نشانہ بنایا گیا ہراساں کیا گیا۔‘
جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے جاری کردہ یہ اختلافی نوٹ 13 صفحات پر مشتمل ہے۔
اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بانی پی ٹی آئی بھی عام قیدی نہیں ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کے کئی ملین پیروکار ہیں۔ حالیہ عام انتخابات کے نتائج اس کا ثبوت ہیں۔ ایس او پیز کا نہ بنا ہونا کیس براہ راست نشر کرنے میں رکاوٹ نہیں۔ اس کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے اور نہ ہی غیر معمولی حالات ہیں۔‘
سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال کے خلاف توہین عدالت ازخود نوٹس کیس میں مصطفیٰ کمال کی فوری معافی کی استدعا مسترد کردی۔
عدالت نے توہین آمیز پریس کانفرنس نشر کرنے پر تمام ٹی وی چینلز کو شو کاز نوٹسز جاری کر دیے جبکہ فیصل واوڈا سے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس پر دوبارہ ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم افغان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
سپریم کورٹ کی طلبی پر فیصل واڈا اور مصطفی کمال عدالت میں پیش ہوئے۔ مصطفیٰ کمال کے وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ ’ہم نے تحریری جواب جمع کرا دیا ہے جس میں غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ مصطفی کمال نے پریس کانفرنس زیر التوا اپیلوں سے متعلق کی تھی، مصطفی کمال خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑ رہے ہیں۔ ‘
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیصل واوڈا کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا مصطفیٰ کمال نے فیصل واڈا سے متاثر ہو کر پریس کانفرنس کی؟ جس پر وکیل مصطفیٰ کمال فروغ نسیم نے کہا کہ نہیں ایسی بات نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں عدلیہ کے بارے میں باتیں ہوتی ہیں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک آئینی ادارہ ہے، قوم کو ایک قابلِ احترام عدلیہ اور فعال پارلیمنٹ چاہیے، ایک آئینی ادارہ دوسرے آئینی ادارے پر حملہ کرے تو کوئی فائدہ نہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آپ ڈرائنگ روم میں بات کرتے تو الگ بات تھی، اگر پارلیمنٹ میں بات کرتے تو کچھ تحفظ حاصل ہوتا، آپ پریس کلب میں بات کریں اور تمام ٹی وی چینل اس کو چلائیں تو معاملہ الگ ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’پارلیمنٹ نے آرٹیکل 270میں ترمیم کی ہم نے کوئی بات نہیں کی، اگر پاکستان کی خدمت کے لیے تنقید کرنی ہے تو ضرور کریں۔ اراکین پارلیمنٹ کا حق نہیں کہ وہ دوسرے آئینی ادارے پرتنقید کریں۔‘
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نہ کہا کہ ’ہم نے نہیں کہا ہمارے فیصلوں پر تنقید نہ کریں۔ ٹی وی چینلز نے 34 منٹ تک یہ تقاریر نشر کیں۔ کبھی اپنی ذات پر نوٹس نہیں لیا ، آپ نے عدلیہ پر بات کی اس لیے نوٹس لیا۔
سپریم کورٹ نے مصطفی کمال کی فوری معافی کی استدعا مسترد کردی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ صحافیوں کو ہم نے بچایا ہے ان کی پٹیشن ہم نے اٹھائی۔ آپ معافی نہیں مانگنا چاہتے۔
عدالت نے فیصل واوڈا سے توہین عدالت کے شوکاز نوٹس پر دوبارہ ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا جبکہ توہین آمیز پریس کانفرنس نشر کرنے پر تمام ٹی وی چینلز کو شو کاز نوٹسز جاری کردیے۔

،تصویر کا ذریعہRADIO PAKISTAN
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ چین قرضوں کے لیے نہیں بلکہ ترقی اور کاروبار کے لیے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ چینی باشندوں کی ہلاکت کا واقعے پر انتہائی افسوس ہے۔ چینی شہریوں کو پاکستان میں فول پروف سکیورٹی فراہم کریں گے۔
یہ بات وزیر اعظم نے چین مں جاری پاک چائنا بزنس فورم سے خطاب کے دوران کہی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پانچ روزہ سرکاری دورے پر اپنے وفد کے ہمراہ اس وقت چین میں موجود ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’چند ماہ قبل دہشت گردی کا ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں پانچ چینی شہری مارے گئے۔ اس واقعے پر پورا پاکستان رنجیدہ تھا۔ ہر موقع پر اپنے ساتھ موجود رہنے والے چین کے شہریوں کی پاکستان میں سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی۔‘
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں، ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری نوجوان افرادی قوت ہے۔ پاکستان میں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بزنس کاونسل قائم کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بدعنوانی پر قابو پانے کے موثر اقدامات کر رہا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر ہم ماضی میں رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔ حکومت کی توجہ اقتصادی اصلاحات پر ہے۔
چین میں پاک چائنا بزنس فورم سے خطاب کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے تمام معاشی اعشاریے مثبت سمت کی جانب گامزن ہیں۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد ہے۔
اس موقع پر تقریب سے حطاب میں وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا پاکستان میں آئی ٹی، زراعت، معدنیات سمیت دیگر شعبوں میں بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے اقدامات کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہScreen Grab
صوبہ بلوچستان کے اہم سرحدی شہر چمن میں گزشتہ کئی روز سے جاری دھرنے اور ضم شدہ قبائیلی علاقوں کے حقوق سے متعلق آپوزیشن رہنماؤں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی جس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود اچکزئی اور مجلس وحدت المسلمین سے راجہ ناصر عباس جعفری شامل تھے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ضم شدہ علاقوں کے مسائل اور چمن میں جاری دھرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ اپنے لوگوں کی ساتھ کئے واعدے پورے نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صرف اور صرف جھوٹے واعدے کرتے ہیں۔‘
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا ان علاقوں کے ساتھ روئیہ انتہائی تشویشناک اور تکلیفدہ ہے، اُن کا کہنا تھا کہ ’یوں لگتا ہے کہ ان علاقوں سے وفاقی حکومت کوئی انتقام لے رہی ہے۔ میں اپیل کرتا ہوں کے ان لوگوں پر رحم کیا جائے۔‘ انھوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود لوگوں کو فیڈریشن کے خلاف اُکسا رہے ہیں، آپ ان علاقوں میں ایک ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں کہ لوگ بغاوت کی جانب جائیں۔‘
مجلس وحدت المسلمین کے راجہ ناصر عباس جعفری نے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مُلک میں قانون کی بالادستی نہیں ہے، آئین کی بالادستی نہیں، حکومتی روئیہ اگر یہی رہا تو مُلک میں انتشار کو ہوا ملے گی اور آپ خود ایک طبقے کو دہشت گردی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ آپ تو واعدے کر کے وہ پورے نہیں کرتے۔ جان بوجھ کر ہمیں تقسیم کیا جا رہا ہے، تاکہ لوگ مل کر اپنے حقوق کے لیے بات نہ کر سکیں اور سب اپنے بارے میں سوچیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
تحریک انصاف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے سوشل میڈیا اکاوئنٹ سے ایک پیغام جاری ہونے کے بعد اٹھنے والے تنازع میں ایف آئی اے کی جانب سے متعدد رہنماوں کو طلب کیے جانے کے نوٹس کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی ٹویٹ کا مقصد ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے نیشنل ڈائیلاگ کے اہتمام کی ترغیب دینا تھا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پارٹی رہنماؤں کی طلبی کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ہونے والے ٹویٹ کو سیاسی مخالفین نے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے، ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی جانب سے کمپلینٹ فائل کر دی جاتی ہے۔ کمپلینٹ میں کہا جاتا ہے کہ ٹویٹ سے مسلح افواج کے جوانوں کو بغاوت پر اکسایا گیا ہے۔‘
درخواست کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ڈپٹی ڈائریکٹر کی کمپلینٹ ایک کمپلینٹ نہیں، بلکہ ٹرائل کے بغیر فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ تفتیشی افسر کی جانب سے 31 مئی کو درخواست گزاران کو طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے۔ اس کمپلینٹ اور طلبی کے نوٹسز کا مقصد درخواست گزران کو ہراساں کرنا ہے۔‘
پی ٹی آئی چیئرمین کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کمپلینٹ اور طلبی کے نوٹسز کو کالعدم قرار دے۔ درخواست کے زیرِ سماعت ہونے تک فریقین کو درخواست گزاران کو گرفتار کرنے یا ہراساں کرنے سے روکا جائے۔‘
درخواست میں سیکٹری داخلہ، شکایت کنندہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اور تفتیشی افسر کو فریق بنایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں نہ جاتے تو پی ٹی آئی کا کیس اچھا تھا۔
منگل کے دن کیس کی سماعت کے موقع پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی جا کر کہہ سکتی تھی یہ ہمارے لوگ ہیں نشستیں ہمیں دو، کس دلیل پر پی ٹی آئی کا یہ موقف مسترد ہوتا۔
کیس کی سماعت سننے والے عدالتی بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی بھی سیاسی جماعت نشستیں نہ جیتے، سب آزاد آئیں، تو کیا ہو گا؟
اس سوال پر تحریک انصاف کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ایسی صورت میں مخصوص نشستیں کسی کو نہیں ملیں گی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب ہے سیاسی جماعتوں کو اپنی جیتی سیٹوں کے حساب سے ہی مخصوص نشستیں ملیں گی۔
چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر پی ٹی آئی والے سنی اتحاد میں شامل نہ ہوتے تو کیا مخصوص نشستیں خالی رہتی؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ خود کہ چکے ہیں کہ ایوان میں کوئی نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ سیاسی جماعتوں کو کس تناسب سے نشستیں ملیں گی یہ آئین میں کہاں لکھا ہے؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کا منشور ایک تو نہیں ناں؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمانی نظام میں سیاسی جماعت کی ایک اہمیت ہوتی ہے۔
بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اس وقت سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے والے نہیں کہہ رہے کہ ہم اس کے منشور سے متفق نہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کسی رجسٹر سیاسی جماعت کیلئے الیکشن لڑا ہونا کیوں ضروری ہے آزاد امیدواروں کی شمولیت کیلیے؟ مجھے اس کے پیچھے کیا دانش ہے وہ سمجھ نہیں آتی۔
اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیے کہ مجھ سے پوچھیں تو اس کے پیچھے معقول وجہ موجود ہے، ایک جماعت الیکشن میں حصہ نہیں لیتی تو سیاسی عمل کو رد کرتی ہے۔
اس کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTV
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی جماعتی انتخابات کروا لیتی تو آج نشستوں والا مسئلہ ہی نہ ہوتا۔
منگل کے روز کیس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل فیصل صدیقی کی جانب سے دلائل دیے جانے کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کے مطابق نہیں، قانون پر چلنا ہے۔
اس دوران وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ بلے کے نشان والے فیصلے کی وضاحت کر دیتی تو سارے مسئلے حل ہو جاتے۔
اس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ اگر پی ٹی آئی جماعتی انتخابات کروا لیتی تو آج نشستوں والا مسئلہ ہی نہ ہوتا۔اس عدالت پر ہر چیز کا ملبہ نہ ڈالیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی نے جمہوری حق سے اپنے لوگوں کو محروم رکھا تھا، اس سیاسی جماعت کے الیکشن میں ووٹرز کی خواہش کی عکاسی کہاں ہوئی؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پارٹی الیکشن ہوتے تو اس کا فائدہ پی ٹی آئی ممبران کو ہی ہوتا، وہ الیکشن لڑ لیتے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بات کرنی ہے تو پوری کیجیے۔
سماعت کے دوران جب بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگر سچ سب بولنا شروع کریں تو وہ بہت کڑوا ہے تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ میں تو بولتا ہوں۔
چیف جسٹس نے تحریک انصاف کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کی دشواری یہ ہے کہ آپ خود کو تحریک انصاف امیدوار ظاہر کرنا چاہتے تھے، الیکشن کمیشن نے آپ کو کہا تحریک انصاف کو بلا نہیں ملا تو آپ کو نہیں دے سکتے۔ خود کو تب آزاد امیدوار ڈیکلیئر کرتے اور بیٹ مانگ لیتے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون نےکہا اپنی پارٹی میں انتخابات کروا لیں، قانون ہم نے نہیں آپ نے بنایا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کم سے کم بلے کا نشان مانگتے تو صحیح، ملنا نہ ملنا سپریم کورٹ بعد میں دیکھتی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ مختلف پارٹی سے منسلک ہونا چاہ رہے تھے، آپ اب آزاد امیدوار نہیں۔
کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی گئی۔
توہین عدالت کیس میں ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی مصطفی کمال نے بھی جواب سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کروا دیا جس میں انھوں نے اپنے بیان پرغیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ ’معزز ججوں کی ساکھ یا اختیار کو بدنام کرنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ ملک کے تمام ججوں خاص طور پر اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو سب سے زیادہ قابلِ عزت و احترام سمجھتا ہوں۔‘
مصطفیٰ کمال نے جواب میں کہا ہے کہ ’اپنے کسی بھی بیان کے حوالے سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں اور اپنے آپ کو اس عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ توہین عدالت کی کارروائی ختم کی جائے۔‘
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی اپیلوں پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ بینچ معاملے کی سماعت کررہا ہے۔
سنی اتحاد کونسل کے وکیل ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے دلائل کا دوبارہ آغاز کردیا اور کہا کہ انھیں کچھ بنیادی قانونی سوالات فریم کرنے کا کہا گیا تھا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ پہلے کیس کے مکمل حقائق سامنے رکھ دیں۔
ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ کل جسٹس جمال مندوخیل کا سوال تھا پی ٹی آئی نے بطور جماعت الیکشن کیوں نہیں لڑا۔ سلمان اکرم راجہ نے اسی متعلق درخواست دی تھی جو منظور نہیں ہوئی۔ اس میں کوئی تضاد نہیں کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا۔ اسی لئے سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کیلئے پہلے فہرست جمع نہیں کرائیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اپنی یہ بات ایک بار دہرا دیں جس پر فیصل صدیقی نے دہرایا کہ جی اس میں کوئی تنازعہ نہیں ہے سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ تنازعے کی بات کیوں کر رہے ہیں۔ بس کہیں الیکشن نہیں لڑا فل سٹاپ۔
فیصل صدیقی ایڈوکیٹ نے کہا کہ سیاسی جماعت اور پارلیمانی پارٹی کے درمیان ایک تفریق ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آئین اس تفریق کو تسلیم کرتا ہے؟
فیصل صدیقی نے کہا کہ جی 63 اے آرٹیکل موجود ہے۔ عدالت کے استفقار پر فیصل صدیقی نے کہا کہ آٹھ فروری سے پہلے ہم سیاسی جماعت تھے۔ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد ہم پارلیمانی جماعت بن گئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کل سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کیخلاف بھی کھڑے ہو سکتے ہیں جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ اس کا عدالت کے سامنے موجود معاملے سے تعلق نہیں۔
واضح رہے کہ کیس کی سماعت سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کی جا رہی ہے۔
جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، محمد علی مظہر، عائشہ ملک، اطہر من اللہ، سید حسن اظہر رضوی، شاہد وحید، عرفان سعادت خان اور نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/@FAISALVAWDAOFFICIAL
سابق وفاقی وزیر سینیٹر فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ کی جانب سے عدلیہ مخالف بیان پر توہین عدالت کے نوٹس پر سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کروا دیا ہے۔
فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ان کی پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کی توہین کرنا نہیں بلکہ ملک کی بہتری تھا۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ سے جواب موصول نہ ہونے پر 15 مئی کو پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس میں کسی جج یا عدلیہ پر الزام نہیں لگایا،بلکہ جسٹس اطہرمن اللہ کی تعریف کی۔‘
سینیٹر فیصل واوڈا نے جواب میں کہا ہے کہ کسی بھی طریقے سے عدالت کا وقار مجروح کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ملزم سمجھتا ہے کہ عدالت کا امیج عوام کی نظروں میں بے داغ ہونا چاہیے۔
فیصل واوڈا کے مطابق ’حال ہی میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کو اپنی غطلیاں تسلیم کرنی چاہییں۔ اپریل 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خلاف توہین آمیز مہم چلی، آرٹیکل 19 اے کے تحت ملزم نے جسٹس بابر ستار کے گرین کارڑ سے متعلق معلومات کے لیے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھا، دو ہفتے گزر جانے کے باوجود جواب موصول نہیں ہوا۔‘
فیصل واوڈا کے مطابق ’ملزم سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مضبوط دفاع کیلئے فوج اور خفیہ اداروں کی مضبوطی ضروری ہے،عدلیہ کے ساتھ فوج اور خفیہ اداروں کی مضبوطی کا انحصار عوامی تائید پر ہے۔ دفاعی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے خلاف مہم زور پکڑ رہی ہے،انھوں نے استدعا کی کہ توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے۔‘
وزیراعظم محمد شہبازشریف چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کیانگ کی دعوت پر چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اپنے سرکاری دورے کے دوران وزیر اعظم بیجنگ کے علاوہ ژیان اور شینزین کے شہروں کا دورہ کریں گے۔شہباز شریف بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے اور وزیراعظم لی کیانگ سے وفود کی سطح پر بات چیت کریں گے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نیشنل پیپلز کانگریس کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ژا لیجی اور اہم سرکاری محکموں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیراعظم چین میں اقتصادی اور زرعی زونز کا بھی دورہ کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین چین پاکستان اقتصادی راہداری کو مزید اپ گریڈ کرنے اور تجارت اور سرمایہ کاری کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کریں گے۔
یہ بات چیت سلامتی اور دفاع، توانائی، خلائی، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے کی جائے گی۔
وزیر اعظم کے اس دورے میں ان کے ہمراہ اسحاق ڈار ، مریم اورنگزیب اور دیگر حکام شامل ہیں۔

مہنگے آٹے سمیت اشیائے خوردونوش کی فراہمی کے خلاف بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کا جمعے کے روز سے شروع ہونے والا احتجاجی دھرنا کوئٹہ پریس کلب کے باہر جاری ہے۔
یاد رہے کہ ایران سے متصل سرحدی علاقے ماشکیل سے تعلق رکھنے والے افراد 700 کلومیٹر طویل پیدل لانگ مارچ کر کے کوئٹہ پہنچے تھے اور تب سے ہی مطالبات کی منظوری کے لیے کیمپ قائم کر کے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔
دھرنے کے شرکا نے ایران سے خوراکی اشیا کے حصول کے لیے مزہ سر کراسنگ پوائنٹ کو دوبارہ کھولنے کے مطالبات سمیت حکومت کو سات مطالبات پیش کیے ہیں ۔
ماشکیل کے انجمن تاجران کے رہنما کبیراحمد ریکی نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور بلوچستان سے پیر کے روز مذاکرات کے بعد کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا کیمپ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ ’ماشکیل کے لوگوں کو 40 کلو ایرانی آٹا ساڑھے تین ہزار روپے مل سکتا ہے تو پھر انھیں کیوں اس بات پر مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ 40 کلو آٹا آٹھ سے 10 ہزار روپے میں خریدیں۔‘
دھرنے میں شریک جیند بلوچ کا کہنا ہے کہ ’اگر ایران سے ماشکیل کے لوگوں کو خوراک کی اشیا لانے کی اجازت نہیں دی گئی تو وہاں کے لوگ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والی مہنگی اشیا خرید نہیں سکیں گے کیونکہ غربت کی وجہ سے ان میں مہنگی اشیا خریدنے کی سکت نہیں ہے۔‘
ڈپٹی کمشنر واشک نعیم عمرانی کا کہنا ہے کہ چونکہ بارڈر کا معاملہ وفاقی حکومت سے تعلق رکھتا ہے اس لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے محکمہ داخلہ بلوچستان کو اس معاملے کو وفاقی حکومت سے اٹھانے کے لیے مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔
مزہ سر کراسنگ پوائنٹ کو کھولنا کیوں ضروری ہے؟
طویل لانگ مارچ کی وجوہات کے بارے میں جنید بلوچ نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب کی صورت میں نوکنڈی کے راستے ماشکیل کا راستہ پاکستان کے دیگر علاقوں سے منقطع ہوجاتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس راستے کی بندش کے بعد جو متبادل راستہ ہے وہ نہ صرف بہت زیادہ طویل ہے بلکہ محفوظ بھی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ماشکیل کے لوگوں نے حکام سے یہ مطالبہ کیا کہ ایران سے متصل مزہ سر کراسنگ پوائنٹ کو کھولا جائے تاکہ وہ ایران سے سستے داموں بنیادی اشیا صرف خرید سکیں۔
واضح رہے کہ اس کراسنگ پوائنٹ سے پہلے قانونی طور پر تجارت ہوتی تھی تاہم کورونا کی وبا کے دوران اسے بند کیا گیا جو تاحال نہ کھل سکی۔
'اس کرسنگ پوائنٹ کو کھلوانے کے لیے ایک ماہ سے زیادہ لوگوں نے احتجاج کیا لیکن اس کے باوجود اسے نہیں کھولا گیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر مکمل طور پر نہیں کھولا جاتا تو کم ازکم چند دن کے لیے کھولا جائے تاکہ لوگ ایران سے خوراکی اشیا حاصل کرسکیں مگر لوگوں کے اس مطالبے کو بھی اہمیت نہیں دی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’حال ہی طوفانی بارشوں کے باعث ہامون کے علاقے میں سیلابی پانی آنے سے ماشکیل کا مختصر ترین راستہ پھر بند ہوگیا جس سے اشیا خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور ان کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوگئیں۔
دھرنے کے شرکا کے مطالبات کیا ہیں ؟
ماشکیل کا شمار بلوچستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں غربت کی شرح بہت زیادہ ہے ۔
لانگ مارچ اور دھرنے کے شرکاء نے حکومت کو سات مطالبات پیش کیے ہیں جن مزہ سر کراسنگ پوائنٹ کے علاوہ پانچ سال سے بند زیرو پوائنٹ کو دوبارہ کھولنے کے مطالبات سر فہرست ہیں۔
دیگر مطالبات میں قانونی گزرگاہ گیٹ سے اتوار کی چھٹی کا خاتمہ، نوکنڈی سے ماشکیل تک شاہراہ کی تعمیر کے کام کو تیز کرنے، ماشکیل سول ہسپتال میں عملے کی موجودگی کو یقینی بنانے ، ماشکیل شہر میں بند 27 تعلیمی اداروں کی فوری بحالی اور ماشکیل شہر میں منشیات فروشی میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کے مطالبات شامل ہیں۔
دوسری جانب ماشکیل میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یہ سفارش کی گئی ہے کہ ماشکیل کی آبادی کے لیے ایرانی اشیا کی سستے داموں حصول کو یقینی بنانے کہ مزہ سر کراسنگ پوائنٹ کو کھولا جائے اور اس کو مستقل طور پر کھولنے میں اگر کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے تو کم از کم اسے ایسے مواقع پر کھولا جائے جب سیلاب کی وجہ سے ماشکیل کا مختصر ترین راستہ بند ہوجاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI Official
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کا دفتر فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے پی ٹی آئی کے دفتر کو ڈی سیل کرنے سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے یہ حکم جاری کیا ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے خلاف پی ٹی آئی نے درخواست دائر کی تھی۔
اسلام آباد انتظامیہ نے مبینہ طور پر بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی پر 24 مئی کو پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکریٹریٹ کو سیل کر دیا تھا۔
اسلام آباد انتظامیہ نے اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ فور میں پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کے اطراف مبینہ غیر قانونی تعمیرات کو بھی گرا دیا تھا۔
تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سی ڈی اے کے غیر قانونی آپریشن کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
دوسری جانب سی ڈی اے حکام کا موقف تھا کہ کمرشل پلاٹ پر بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی منزل بھی تعمیر کی گئی تھی۔ سی ڈی اے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ جس جگہ پر پی ٹی آئی کا مرکزی سیکریٹریٹ ہے وہاں پلاٹ پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں۔

’ماشکیل کے لوگوں کو 40 کلو ایرانی آٹا ساڑھے تین ہزار روپے مل سکتا ہے تو پھر انھیں کیوں اس بات پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ 40 کلو گرام آٹا 8 سے 10 ہزار روپے میں خریدیں؟‘
یہ کہنا تھا ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی علاقے ماشکیل کے انجمن تاجران کے رہنما کبیراحمد ریکی کا جنھوں نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ و قبائلی امور بلوچستان سے مذاکرات کے بعد کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا کیمپ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کی۔
یہ دھرنا کیمپ ماشکیل سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں نے قائم کیا ہے جنھوں نے ماشکیل سے کوئٹہ تک 700 کلومیٹر طویل پیدل لانگ مارچ کیا اور کوئٹہ پہنچنے کے بعد وہ گذشتہ جمعہ سے پریس کلب کے باہر دھرنا دے کر بھیٹے ہیں۔
دھرنے میں شریک جیئندبلوچ نے کہا کہ ’اگر ایران سے ماشکیل کے لوگوں کو خوراکی اشیا لانے کی اجازت نہیں دی گئی تو وہاں کے لوگ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والی مہنگی اشیا خرید نہیں سکیں گے کیونکہ غربت کی وجہ سے ان میں مہنگی اشیا خریدنے کی سکت باقی نہیں ہے۔‘
دھرنے کے شرکا نے ایران سے خوراکی اشیا کے حصول کے لیے مزہ سر کراسنگ پوائنٹ کو دوبارہ کھولنے کے مطالبات سمیت حکومت کو سات مطالبات پیش کیے ہیں۔
ادھر ڈپٹی کمشنر واشک نعیم عمرانی کا کہنا ہے کہ چونکہ بارڈر کا معاملہ وفاقی حکومت سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے محکمہ داخلہ بلوچستان کو اس معاملے کو وفاقی حکومت سے اٹھانے کے لیے مراسلہ بھیج دیا گیا ہے۔
دھرنے کے شرکا کے پیر کی شام کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ زاہد سلیم سے مذاکرات ہوئے۔
جیئند بلوچ نے بتایا کہ مذاکرت میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری نے دھرنے کے مطالبات کے حوالے سے مثبت یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ شک تو کسی بنیاد پر بھی ہوسکتا ہے مگر عمران خان کے خلاف سائفر کا معاملہ بری ہونے والا کیس نہیں تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ سائفر کیس بالکل ثابت ہے۔ ملزم نے جرم سرزد کرنے کے بعد پوری دنیا کے سامنے اقرار جرم کیا ہوا ہے۔ سزا کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ زیادہ سزا دی گئی ہے۔ اگر تکنیکی غلطیاں تھیں تو ریمانڈ ہونا چاہیے تھا۔ جیسے جراح کا موقع دیا جائے، تمام کمیاں پوری کی جاسکتی تھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سیاسی فائدہ نقصان الگ چیز ہے لیکن کیس کے میرٹ سیاسی نظریے سے نہیں دیکھے جاتے۔‘
’اس کیس کے صحیح ہونے پر کوئی شک نہیں۔ پوری دنیا نے دیکھا سائفر کو لہرایا گیا، اس کے مواد پر بات کی گئی۔‘ ان کے مطابق عمران خان نے بطور وزیر اعظم اپنے حلف کی خلاف ورزی کی تھی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’سائفر سے کھیلنے کی بات بھی پوری دنیا نے سنی۔ کیس کا بری ہوجانا یا سزا نہ ہونا، ایک الگ بات ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں بانی پی ٹی آئی نے یہ جرم سرزد کیا۔‘
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’یہ کیس ریمانڈ ہونا چاہیے تھا، اگر اس کے ٹرائل میں بے ضابطگی یا جلد بازی ہوئی۔ جب جرم میرٹ پر ثابت ہے تو پھر کیا ججز کی یہ ذمہ داری نہیں کہ پروسیجرل کمی پیشی کو پورا کرنے کے لیے کیس کو ریمانڈ کرتے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جب شک کا فائدہ ملزم کو جانا ہے تو پھر شک تو جج صاحب کو کسی بھی وجہ سے ہوسکتا ہے۔‘
’شک کی بنیاد پر بری ہونا پورے عدالتی نظام کا بھٹہ بٹھانے کے مترادف ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’سائفر مقدمے کا فیصلہ ایک عدالت نے کیا تھا، کسی انتظامی شخص نے نہیں۔ جرم تو ہوا ہے، عمران خان نے کیا ہے۔ اب بری ہوجانا یا شک کا فائدہ ملنا، وہ الگ چیز ہے۔‘
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے مزید کہا کہ ایک آدمی ریاست کو شکست دینے کے لیے اس قسم کے ہتھکنڈے اپنائے تو ایک قانونی و آئینی سسٹم موجود ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر عمران خان نے سیاست میں آگے بڑھنا ہے تو انھیں سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے۔ ’وہ طاقت کے زور پر بلڈوز نہیں کر سکیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ کوئی مذاکرات نہیں کرے گی۔‘
’اداروں نے کوئی سیاست کرنی ہے؟ کیا انھوں نے الیکشن میں حصہ لینا ہے؟ سیاست سیاستدانوں نے ہی کرنی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہIHC
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس بابر ستار کے خلاف ’سوشل میڈیا مہم‘ اور فیملی کا ڈیٹا لیک ہونے پر وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے آئی ایس آئی اور ڈی جی امیگریشن کو آئندہ سماعت سے قبل دوبارہ رپورٹس جمع کی ہدایت کی ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے سرکاری وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے ان کا تعین کرنا ہے جنھوں نے جج کی فیملی کا ڈیٹا سب سے پہلے شیئر کیا۔ ’کیا ایجنسیوں کے پاس ان اکاؤنٹس کو ٹریس کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں؟‘
بینچ میں موجود جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے سوال کیا کہ ’وہ کون لوگ تھے جنھوں نے آدھے گھنٹے سے دو گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنا دیا؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک ہی روز تین مختلف کمپین چلائی گئیں؟‘
جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل لارجر بینچ نے جسٹس بابر ستار کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم چلانے اور ان کی فیملی کا ڈیٹا لیک کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔
عدالت نے ڈی جی امیگریشن سے رپورٹ طلب کی کہ جج کی فیملی کے ٹریول سے متعلق معلومات اور دستاویزات سسٹم سے کیسے نکلیں؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ سسٹم میں معزز جج کی یہ انفارمیشن کتنی بار چیک کی گئیں؟انفارمیشن کے لیے لاگ ان کیا گیا ہوگا، وہ آپ نے بتانا ہے۔‘
جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ ’آپ نے یہ بھی بتانا ہے کہ یہ انفارمیشن کیسے لیک ہوئی؟‘
امیگریشن حکام نے کہا کہ ’ہماری ٹیکنیکل ٹیم آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کر دے گی۔‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ مستقل رہائش اور گرین کارڈ کا مطلب امریکی شہریت رکھنا نہیں ہے۔ امیگریشن حکام نے کہا کہ وہ ٹریول ڈاکومنٹ ہوتا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ’آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ محض ٹریول ڈاکومنٹ ہوتا ہے، مستقل رہائشی کارڈ رکھنے والے کا ویزا چیک نہیں کیا جاتا؟ آپ نے سٹینڈ لے لیا ہے کہ پی آر کارڈ ہونے کا مطلب امریکہ کی شہریت نہیں ہے۔‘
انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا ’آپ حکومتی نمائندوں کو سمجھائیں، جوڈیشری کی کسی سے کوئی مخاصمت نہیں ہے۔‘
’دوران سماعت کوئی سوال کرے تو باہر پریس کانفرنس کے بجائے یہاں آ کر جواب دینا چاہیے۔‘
ایف آئی اے نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈلز کی نشاندہی ہوئی ہے اور مزید پر کام جاری ہے۔
وزارت دفاع کی جانب سے بھی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے مایوس کن قرار دیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا ’اس رپورٹ میں بھی انھی ٹوئٹر ہینڈلز کا ذکر ہے جو پہلے بتائے ہیں۔‘
’ایف آئی اے تفتیشی ایجنسی ہے وہ اس حوالے سے بہتر معاونت کرسکتی ہے۔‘
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا ’کیا آپ کہہ رہے ہیں پرائم انٹیلیجنس ایجنسی کی ایف آئی اے سے کم صلاحیت ہے کہ وہ تعین نہیں کرسکتی؟‘
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ’یہ ٹیکنیکل چیزیں اور حساس معاملہ ہے۔‘
عدالت نے کہا ’ایف آئی اے کی رپورٹ پرائم انٹیلیجنس ایجنسی سے بہت بہتر ہے، ہم پوچھ رہے ہیں ایجنسی کے پاس صلاحیت ہے یا نہیں؟‘
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا ’اگر ملک دشمنوں کی جانب سے فائیو جی وار شروع کر دی جائے۔ کل کو ملک دشمن عناصر کسی کے خلاف توہین مذہب کا الزام عائد کرتی ہیں تو کیا آئی ایس آئی اصل ملزمان کی نشاندہی کرسکتی ہے؟ اگر وہ آرمی چیف، صدر مملکت پر توہین مذہب کا الزام لگائیں اور ان الزامات کے نتیجے میں جلاؤ گھیراؤ ہو، بلڈنگز کو جلا دیا جائے تو کیا آئی ایس آئی ان ملک دشمن عناصر کو ٹریس کر سکے گی یا نہیں؟‘
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ’یہ ایک ہاں اور نہ کا سوال ہے۔ بتائیں آپ کی استعداد ہے کہ نہیں؟‘
’ایف آئی اے نے تو بہت کام کیا ہے۔‘
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’جج کی فیملی سے متعلق ڈیٹا صرف ایف آئی اے یا امیگریشن حکام کے پاس ہونا چاہیے تھا۔ وہ ڈیٹا آپ کے سسٹم سے نکل کر سوشل میڈیا پر کیسے آیا؟ ڈیٹا کو چیک کرنے کے لیے کون مجاز ہے؟ وہ انفارمیشن خفیہ ہیں جو کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا۔ کیا آپ وہ انفارمیشن کسی ایجنسی یا کسی اور کے ساتھ شیئر کرتے ہیں؟ انکوائری کر کے بتائیں کہ جج کی فیملی کے ڈیٹا تک کس نے رسائی حاصل کی تھی؟‘
ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ان کے پاس 300 ٹیکنیکل ایکسپرٹس اور 90 ہزار سے زائد انکوائریز ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ’ایف آئی اے کے پاس بہت ورک لوڈ ہے، اس کے باوجود انھوں نے بہت اچھا کام کیا ہے اور وہ جوابدہ بھی ہیں۔‘
عدالت نے توہین عدالت کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم تحریری آرڈر جاری کریں گے تو اس میں آئندہ کی تاریخ بتا دیں گے۔‘