یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
10 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پاکستانی فوج کی ایک گاڑی ’آئی ای ڈی‘ دھماکے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں ایک کیپٹن سمیت سات اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
10 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی مختلف پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں خدمات انجام دینے والے ’ٹینور ٹریک سسٹم‘ (ٹی ٹی ایس) والے اساتذہ نے حکومت کی طرف سے معاہدے کے مطابق تنخواہیں نہ بڑھانے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپنی درخواست میں انھوں نے ان سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے اور باقاعدہ سالانہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافے کی استدعا کی ہے۔
ان اساتذہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکومت کو کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پابند بنایا جائے اور وزارت خزانہ سے کہا جائے کہ اس بجٹ میں ان کے لیے مناسب رقم مختص کی جائے تا کہ وہ تعلیمی سلسلے کو بلا کسی پریشانی کے جاری رکھ سکیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز اسحاق اس مقدمے پر سماعت کریں گے۔
آل پاکستان ٹینور ٹریک فیکلٹی ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ممبر اور قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے ٹینور ٹریک اساتذہ کو درپیش چیلنجز کے بارے میں کہا کہ ’ٹی ٹی ایس پالیسی کے مطابق ہر تین سال بعد تنخواہوں پر نظر ثانی کی جانی چاہیے تھی لیکن ایسا صرف 2011، 2015 اور 2021 میں ہوا ہے۔‘
ان کے مطابق حکومت کی جانب سے بنیادی پے سکیل (بی پی ایس) ملازمین کی تنخواہوں میں سنہ 2021 سے تقریباً 60 فیصد اضافہ کرنے کے باوجود، ٹی ٹی ایس فیکلٹی کے لیے اس کے مطابق ایڈجسٹمنٹ نہیں دیکھی گئی۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے وضع کردہ ماڈل ٹینور ٹریک ورژن 2.0 کے مطابق بی پی ایس اور ٹی ٹی ایس فیکلٹی کی تنخواہوں کے درمیان 35 فیصد فرق کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ ان اساتذہ کے مطابق وہ پارلیمانی کمیٹیوں سمیت وزارت خزانہ کے پاس بھی گئے مگر ابھی تک ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو سکی جس کے بعد انھوں نے مجبور ہو کر قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

درخواست گزار ڈاکٹر سعدیہ مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں تقریباً چار ہزار ٹی ٹی ایس اساتذہ ہیں جو یونیورسٹی میں پڑھانے والے اساتذہ کی تعداد کا تقریباً چار کے قریب بنتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اساتذہ اچھی ملازمتیں چھوڑ کر پاکستانی اداروں میں پڑھانے کے لیے آئے تھے مگر اب حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے ان میں سے متعدد ملک چھوڑ کر ہی چلے گئے ہیں اور مزید بھی ڈر ہے کہ پاکستان سے یہ اساتذہ واپس باہر چلے جائیں گے۔
ڈاکٹر سعدیہ نے بتایا کہ یہ تمام اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں اور یہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں تعلیم کے نظام میں بہتری کے لیے سنہ 2007 میں ایسے اساتذہ بھرتی کیے گئے تھے جو پاکستانی طلبا کو جدید تعلیم سے آراستہ کر سکیں۔ ان کے مطابق آغاز میں تو حکومت نے ان اساتذہ کو اچھی مراعات دیں مگر پھر بعد میں اس کا خیال نہیں رکھا گیا اور ان اساتذہ کے لیے اب کام جاری رکھنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ سنہ 2007 میں جو تنخواہ 300 ہزار ڈالر بنتی تھی اب 2024 میں وہ بمشکل 1450 ڈالر بنتی ہے یعنی خرچے دگنا ہو گئے اور تنخواہ آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شدید گرم موسم کی وجہ سے تمام اساتذہ اسلام آباد نہیں پہنچ سکے ہیں مگر اگر ضرورت پڑی تو پھر ہزاروں اساتذہ اور طلبا اسلام آباد کا رخ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
جن اساتذہ نے عدالت میں دائر کی جانے والی درخواست پر دستخط کیے ہیں اور پھر عدالت میں ان کی بائیومیٹرک تصدیق ہوئی ہے ان کی تعداد 79 بنتی ہے۔
اس سسٹم کے تحت ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت ان کی پینشن کی ادائیگی تک نہیں کر رہی ہے۔
ڈاکٹر سعدیہ نے اپنی درخواست میں بھی عدالت کو بتایا ہے کہ حکومت ان اساتذہ کو ریٹائرمنٹ، صحت اور موت کی صورت میں کسی بھی قسم کی ادائیگی نہیں کر رہی ہے، جس سے ان کے گھر والے بھی معاشی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر سعدیہ کے مطابق دو اساتذہ کی دوران ملازمت موت واقع ہوئی تو پھر ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے دیگر اساتذہ نے ایک فنڈ قائم کیا۔

،تصویر کا ذریعہAPP
صدر مملکت آصف علی زرداری اور سپیکر قومی اسملبی سردار ایاز صادق نے لکی مروت میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے واقعے میں پاکستانی فوج کے جوانوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایوانِ صدرکے پریس ونگ کی طرف سے جاری بیان میں صدر مملکت نے واقعہ میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوج کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ہلاک ہونے والوں کے لیے بلندی درجات کی دعا کی۔

،تصویر کا ذریعہNA
صدر مملکت نے سکیورٹی فورسز پر خود ساختہ بم کے ذریعے دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی اور کہا کہ پوری قوم ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
اتوار کو جاری بیان کے مطابق ’سپیکر نے شہید کیپٹن محمد فراز الیاس اور دیگر بہادر جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنما اور سینیٹر ایمل ولی خان نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں چھ جماعتی اتحاد کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اس اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین کا شکر گزار ہوں۔ ان کے مطابق اس اتحاد میں نیشنل پارٹی، پی کے نیپ، نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ، جے یو آئی، ایچ ڈی پی اور اے این پی شامل ہیں۔
ایمل ولی کے مطابق چھ جماعتی اتحاد نے فیصلہ کیا کہ پہلے بلوچستان اور اس کے بعد ملک بھر میں جلسے اور جلوس ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ اتحاد نہ حکومت بنانا چاہتا ہے (اور) نہ حکومت گرانا چاہتا ہے۔‘
ایمل ولی خان کے مطابق یہ اتحاد نہ کسی کو سزا دینا چاہتا ہے نہ کسی کو جیل ۔سے نکلوانا چاہتا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد آئین کی بالا دستی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جو اختیار ہمارے اکابرین نے انگریز سے لے کر عوام کو دیا تھا اتحاد کا مقصد وہ اختیار عوام کو واپس دلانا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان بننے کے بعد یہ اختیار عوام سے چھین لیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ الیکشن میں اس اختیار سے کھلواڑ کیا گیا۔ ایمل ولی کے مطابق ’سکیورٹی مسائل کے جواز پر ہمارے وسائل پر قابض ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے اس طرح کے مسائل کے خلاف ہم یکجا ہوکر انھیں روکنے کی کوشش کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہم ان نکات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایمل ولی خان نے کہا کہ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ان چھ جماعتوں کے ارکان شامل ہوں گے۔
ایمل ولی خان کے مطابق یہ کمیٹی بلوچستان کے مسائل کی نشاندہی کرے گی۔ ان مسائل پر عوامی اتفاق رائے سے مل کر تحریک چلائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پاکستانی فوج کی ایک گاڑی ’آئی ای ڈی‘ دھماکے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں ایک کیپٹن سمیت سات اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی آیس پی آر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ای ڈی دھماکے میں شہید ہونے والوں میں قصور سے تعلق رکھنے والے 26 برس کے کیپٹن محمد فراز الیاس بھی شامل ہیں۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سکردو سے تعلق رکھنے والے 50 برس کے صوبیدار میجر محمد نذیر، ضلع گانچھے کے رہائشی 34 برس کے لانس نائیک محمد انور، غذر کے 36 برس کے لانس نائیک حسین علی، ملتان سے تعلق رکھنے والے 33 برس کے سپاہی اسد اللہ، 27 سالہ گلگلت کے رہائشی سپاہی منظور حسین اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے 31 برس کے سپاہی راشد محمود شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس وقت اس علاقے کو ہر خطرے سے پاک کرنے کے لیے آپریشن کیا جا رہا ہے اور اس حملے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط بنا دیتی ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار اور علیم عادل شیخ سمیت تحریک انصاف کے 20 سے زائد مرکزی و صوبائی عہدیداروں کے خلاف ضلع پشین میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ ان کے خلاف لیویز تھانہ بوستان میں وال چاکنگ اور ایک جلسے سے خطاب کے حوالے سے درج کیا گیا۔
اس سلسلے میں ایف آئی آر کے متن کے مطابق نامزد افراد نے اپنے خطاب میں ریاست اور اداروں کے خلاف لاؤڈ سپیکر کے ذریعے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز تقاریر کیں۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان کا ہر فعل عوام کو اکسانے، انتشار پھیلانے اور ریاست سے بغاوت کے زمرے میں آنے کے علاوہ کار سرکار میں مداخلت ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بلوچستان کے دورے پر ہیں۔ انھوں نے گزشتہ روز بوستان میں جلسے سے خطاب کے علاوہ سنیچر کو کوئٹہ میں تحریک انصاف لائرز فورم کے تحت وکلا کنوینشن سے خطاب کیا۔
بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں تین روز کے پرتشدد مظاہروں کے بعد سنیچر کو صورتحال نسبتاً پرامن رہی۔
چمن میں دھرنا کمیٹی کے سربراہ مولوی عبدالمنان نے بتایا کہ دھرنے کے شرکا کی جانب سے کمیٹی کے گرفتار عہدیداروں سمیت تمام عہدیداروں کی رہائی کے لیے حکومت کو مہلت دی گئی ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھرنا کمیٹی کے 9 عہدیداروں سمیت 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کے شرکا نے حکومت اور انتظامیہ کو تمام گرفتار افراد کی رہائی کے لیے مہلت دی ہے۔ ’اگر گرفتار لوگوں کو رہا نہیں کیا گیا تو احتجاج میں دوبارہ شدت لائی جائے گی۔‘
چمن انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ گرفتار افراد کی تعداد 48 تھی جن میں سے زیادہ تر کو علاقے کے عمائدین کے کہنے پر چھوڑ دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ دھرنا کمیٹی اور عمائدین کی مشترکہ کمیٹی کے وعدے کے مطابق سنیچر کو شہر میں حالات نسبتاً پرامن رہے۔
درایں اثنا سنیچر کی شام کوئٹہ پریس کلب میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ آٹھ ماہ پہلے نگراں حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ چمن بارڈر سے آمدورفت پاسپورٹ کے زریعے ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ چمن بارڈر سے دہشتگردوں کی آمدورفت کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔
انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض سیاسی جماعتیں حکومت اور عوام کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی بجائے لوگوں میں اشتعال پیدا کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا وہ چمن کے لوگوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے مسائل سیاسی طور پر حل کرائیں اور سازشی عناصر سے دور رہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم اورببانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے عدت کیس میں سزا معطلی کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردی۔
بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے تضاد سے بھرپور کمزور شواہد عدالت میں پیش کیے، ان شواہد کی بنیاد پر سزا نہیں سنائی جا سکتی تھی اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا برقرار نہیں رہ سکتی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے جیل میں بدترین حالات میں رکھا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سزا معطلی کی درخواست جلد نمٹائی جائے۔
بشریٰ بی بی کی دخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت 3 فروری کی سزا کا فیصلہ معطل کرکے ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کرے۔
واضح رہے کہ 3 فروری کو سول جج قدرت اللہ نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کو اس کیس میں سات سات سال قیدکی سزاسنائی تھی۔
علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدالت میں نکاح کیس دوسری عدالت ٹرانسفر کرنے کی درخواست منظور کرلی ہے اور کیس ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکاکی عدالت کو ٹرانسفرکردیاہے اور گیارہ جون کو اس کی سماعت ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہPTV
سابق وزیراعظم اور صدر مسلم لیگ ن نواز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم امریکہ جا کر کہا تھا کہ نواز شریف کی جیل سے اے سی اتروا دوں گا ’مگر اب آپ (عمران خان) خود جیل میں ہیں تو میرا اس طرف دھیان بھی نہیں گیا ہے۔‘
مری میں سینیٹ پارلیمانی پارٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور صدر مسلم لیگ ن نواز شریف نے کہا کہ وہ (عمران خان) دو اے سی لگوا دیں، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں کینہ پرور اور انتقام پر یقین رکھنے والا شخص نہیں ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ جو باتیں انھوں نے امریکہ میں جا کر کیں وہ ایک وزیراعظم ایسی باتیں نہیں کرتا۔ نواز شریف نے کہا کہ ’میرے بارے میں انھوں (عمران خان) نے بیان دیا کہ او نواز شریف میں تمھیں وزیراعظم سے گھسیٹ کر نکالوں گا۔‘
عمران خان کا نام لیے بغیر نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ اپنے دور میں خود چل کر ان کے گھر گئے تھے۔ ووٹ مانگنے یا مدد مانگنے نہیں بلکہ ان سے یہ کہنے کہ ’آؤ مل کر کام کرتے ہیں۔‘ نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے بینظیر بھٹو سے بھی اسی مقصد کے لیے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے تھے کہ ملک آگے بڑھے۔
نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کے ہر منصوبے پر مسلم لیگ (ن) کا نام لکھا ہوا ہے، جو بڑا کام پاکستان کی تاریخ میں ہوا اس کے پیچھے ہماری جماعت ہے، کوئی اور پارٹی بتادے کہ انہوں نے کونسا قابل ذکر منصوبہ بنایا ہے؟
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میرے دل میں مشرف کے خلاف کوئی شکوہ نہیں لیکن میں صرف مشرف سے پوچھتا ہوں کہ کیا وجہ تھی کہ انہوں نے ایک اچھے بھلے وزیر اعظم کو اکھاڑ کے باہر پھینک دیا اور اسمبلیاں بھی توڑ دیں؟ عدلیہ ان کے گلے میں ہار پہنایا اور کہا کہ ہمیں آپ کا انتظار تھا، آپ کہاں تھے؟ اور پھر اس وزیر اعظم کو گرفتار کرلیا جس نے ایٹمی بٹن پر ہاتھ رکھ کے اسے دبایا تھا اور ایٹمی دھماکے کیے، یہ صلہ ملا اس وزیر اعظم کو۔
سابق وزیراعظم نے کہا ان کے دور میں عالمی مالیاتی ادارے نے کہا تھا کہ اب شاید پاکستان کو مزید کسی آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت نہ رہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ’میں تو گھر گھر سستی بجلی پہنچا کر گیا تھا بلکہ نکالا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میٹرو بس کو جنگلا بس کہنے والے ملک کو اجاڑ کر چلے گئے۔‘
نواز شریف نے حکومت کو یہ مشورہ دیا کہ ’ایسی پالیسی بننی چاہیے کہ ہمارے ملک میں بجلی اور گیس سستی آئے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ حکومت کی توجہ سستی بجلی اور گیس پر ہونی چاہیے۔
نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ اگر وہ اسی جذبے اور محنت سے کام کرتے رہے تو پھر یہ ملک بحرانوں سے بہت جلد باہر نکلے گا۔
نواز شریف نے کہا کہ ملک میں اس وقت مہنگائی کم ہو رہی ہے، سٹاک مارکیٹ مستحکم جا رہی ہے۔ اب لوگوں میں تھوڑا سا سکھ کا سانس آنا شروع ہوا۔ انھوں نے کہا کہ اس بہتری کے لیے ’میں شہباز شریف کو بھی شاباش دوں گا، وہ بہت محنت اور خلوص سے کام کر رہے ہیں۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ’مریم نواز دن رات کام کر رہی ہیں، لوگوں سے مل رہی ہیں، ہر جگہ پہنچ رہی ہیں، گھل مل رہی ہیں، آٹے کی قیمتیں نہ بڑھنے میں ان کا بہت کردار ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہX/@ZARTAJGULWAZIR
پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے رکن قومی اسمبلی زرتاج گل کو قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد کیا ہے۔
اپنے ایک ٹویٹ میں عمر ایوب نے کہا کہ عمران خان نے زین قریشی اور احمد چھٹہ کو ڈپٹی پارلیمانی لیڈرز نامزد کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@OmarAyubKhan

،تصویر کا ذریعہNA
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں اس وقت 20، 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق جب بجلی آتی ہے تو پھر یہ اتنی کم ہوتی ہے کہ اس سے فریج اور دوسری اشیا خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’سندھ میں لوگ گرمی سے تڑپ رہے ہیں۔‘ شازیہ مری نے وزیر توانائی سے کہا کہ وہ ایک دن سندھ میں سانگھڑ میں آ کر گزاریں تا کہ انھیں پتا چلے کہ لوگ کیسے جی رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت پر مثبت تنقید ہے جس کا مقصد بہتری لے کر آنا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ ’بجٹ میں حکومت کی ترجیح غریب عوام کو ریلیف دینا ہونا چاہیے۔‘
’آنے والا بجٹ کسان دوست ہونا چاہیے‘
شازیہ مری نے کہا کہ اس وقت کسان بحران میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آنے والا بجٹ کسان دوست ہونا چاہیے، ہاری دوست بجٹ ہونا چاہیے۔
شازیہ مری نے کہا کہ کسان یہ نہیں کہتا کہ ہمیں چاند اور تارے لا کر دو یا دودھ کی نہریں بہا کر دو بلکہ وہ سپورٹ مانگ رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ عنقریب سندھ میں کسان کارڈ جاری کر دیے جائیں گے۔ شازیہ مری نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو اس بجٹ میں خصوصی ریلیف دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حکومت پاکستان کے ذمے واجب الادا قرض میں موجودہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں میں 13 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ قرضہ 66084 ارب روپے ہو گیا ہے۔
گذشتہ سال اپریل کے مہینے کے اختتام پر یہ قرض 58599 ارب روپے تھا۔ مار چ 2024 کے مہینے کے اختتام پر یہ قرض 65374 ارب روپے تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مجموعی قرض میں اسے ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے لیے جانے والے قرض کی مالیت 44482 ارب روپے ہے جب کہ غیر ملکی قرضے کی مالیت 21602 ارب روپے ہے۔
موجودہ مالی سال میں جولائی سے اپریل کے عرصے میں ملکی قرضے میں 22 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ غیر ملکی قرضے میں دو فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
سپریم کورٹ میں تین ججز کی خالی نشستوں پر تقرری کے معاملہ پر تین ناموں کی منظوری دے دی گئی۔
سپریم جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد گھیبہ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ عقیل عباسی اور لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد بلال کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے حتمی منظوری کے لیے معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا۔ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد تینوں ججز کی سپریم کورٹ میں تعیناتی ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر مملکت آصف زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) تشکیل دے دی جس میں وزیر اعظم چیئرمین اور چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ رکن ہوں گے۔کونسل کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہوئے اس کا اجلاس پیر 10 جون کو طلب کرلیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی قومی اقتصادی کونسل کے ممبر مقرر ہوں گے۔
وفاقی وزرا خواجہ آصف، محمد اورنگزیب، احسن اقبال بھی کونسل کے ممبر ہوں گے۔ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری اقتصادی امور، وفاقی وزیر احد چیمہ خصوصی دعوت پر کونسل اجلاس میں شریک ہوسکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قائم مقام گورنر پنجاب ملک محمد احمد خان کے دستخط کے بعد پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا ہتک عزت بل قانون بن گیا۔
گذشتہ دنوں صحافتی تنظیموں کے تحفظات اور اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود پنجاب اسمبلی میں ہتک عزت بل 2024 منظور کرلیا گیا تھا۔ بل صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمان نے پیش کیا تھا۔
ٹرائل سے قبل 30 لاکھ روپے تک ہرجانہ: پنجاب میں ہتکِ عزت کا نیا قانون کیا ہے؟
اس قانون کے تحت حکومت ایسے خصوصی ٹریبیونل بنا پائے گی جو چھ ماہ کے اندر اندر ایسے افراد کو سزا دیں گے جو ’فیک نیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ہوں گے۔‘
یہ سزا 30 لاکھ روپے تک ہرجانے کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ اور ہرجانے کی یہ سزا ٹریبیونل ٹرائل شروع ہونے سے قبل ہی ہتک عزت کی درخواست موصول ہونے پر عبوری حکم نامے میں سنا سکتا ہے۔
ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہونے کی صورت میں عبوری طور پر لی گئی ہرجانے کی رقم ہرجانے کی حتمی رقم میں شامل کر لی جائے گی۔
ہرجانے اور قانونی کارروائی کے علاوہ یہ ٹریبیونل ایسے شخص کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ یا ایسا کوئی بھی پلیٹ فارم جس کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ ہتکِ عزت کی گئی ہو، اس کو بند کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔
ہتکِ عزت یا ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کے تحت ان ہتک عزت ٹریبیونلز کو انتہائی بااختیار بنایا گیا ہے جن کی کارروائی کو روکنے کے لیے کوئی عدالت حکمِ امتناع جاری نہیں کر پائے گی۔
پنجاب اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے علاوہ صحافتی تنظیموں نے اس قانون کے منظور کیے جانے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ’یہ قانون پاکستان میں آزادی اظہارِ رائے کے آئینی حق کے خلاف ہے اور اس کو لوگوں کی آواز بند کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
پنجاب اسمبلی میں موجود صحافیوں نے بل کے منظور کیے جانے کے موقع پر پنجاب اسمبلی سے بھی احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کیا تھا۔
تاہم پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ ’اس قانون کا مقصد فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔‘
اس قانون سے متعلق مزید تفصیلات کے لیے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کی اس خبر پر کلک کیجیے۔
بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں مظاہروں کا سلسلہ جمعہ کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں سے پر تشدد مظاہروں کے الزام میں 45 افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ مظاہروں کے دوران قانون نافذ اہلکاروں سمیت 20 افراد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب چمن میں مظاہرین پر مبینہ تشدد اور ان کی گرفتاریوں کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔ چمن میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ جمعہ کو دوپہر کے بعد شہر میں ایک مرتبہ پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔
اہلکار کے مطابق مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کی وجہ سے سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا۔ پتھراؤ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آٹھ اہلکار معمولی زخمی ہوئے جبکہ 12 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔
اہلکار نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پر تشدد مظاہروں کے الزام میں چار زخمیوں سمیت 45 مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔
چمن شہر میں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے کوئٹہ اور سرحدی شہر چمن کے درمیان جمعہ کو ریل سروس بھی معطل رہی۔ کشیدہ صورتحال کی وجہ سے شہر میں کاروباری سرگرمیوں کے علاوہ سرکاری دفاتر میں کام بھی معطل رہا۔
خیال رہے کہ چمن میں گذشتہ سال اکتوبر سے افغانستان آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
چمن میں مظاہرین کی گرفتاری اور ان پر مبینہ تشدد کے خلاف کوئٹہ میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ اور پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر اہتمام کوئٹہ میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان پارٹیوں کے رہنماؤں نے حکومت سے چمن میں دھرنے کے شرکا کے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہBYC
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی خاتون رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور کمیٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف گوادر میں باڑ لگانے سے متعلق سیمینار منقعد کروانے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تعزیرات پاکستان کے دس مختلف دفعات کے تحت یہ مقدمہ سول لائنز پولیس سٹیشن کے ایک سب انسپکٹر کی مدعیت میں اس سیمنار کی مناسبت سے درج کیا گیا ہے جو کہ گذشتہ ماہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گوادر میں مبینہ طور پر باڑ لگانے کےمنصوبے کے حوالے سے منعقد کیا تھا۔
پولیس کی جانب سے اس سلسلے میں درج ایف آئی آر کے مطابق دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر پولیس نے 18مئی کو پریس کلب اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کو تالا لگایا تھا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے ۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ اور بیبرگ بلوچ تقریباً دو سو دیگر افراد کے ہمراہ ریلی کی شکل میں پریس کلب آئے اور انھوں نے حکومتی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی اور پریس کلب میں احتجاج کا کیا۔
سول انتظامیہ کی جانب سے انھیں ہر ممکن سمجھانے کی کوشش گئی کی وہ منتشر ہوجائیں لیکن انھوں نے ایک بھی نہیں سنی بلکہ انتظامیہ اور پولیس کے اہلکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے عدالت روڈ کو بلاک کیا جس سے ٹریفک معطل ہوگئی۔
ایف آئی آر کے مطابق انھوں نے پریس کلب کے تالے توڑکر اندر داخل ہوئے اور وہاں حکومت اور حکومتی اداروں کے خلاف تقاریر کرکےملکی سالمیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہPM House
وزیراعظم شہباز شریف نے آج بیجنگ کے تاریخی ’گریٹ ہال آف دی پیپل‘ میں چینی صدر شی جن پنگ سے طویل اور تفصیلی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے ساتھ وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
سنہ 2024 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد چین کے صدر کے ساتھ وزیر اعظم شہباز کی یہ پہلی ملاقات تھی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے سنہ 2015 میں صدر شی جن پنگ کے پاکستان کے تاریخی دورے کو یاد کیا جس دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کو باضابطہ طور پر فعال کیا گیا تھا اور دو طرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا گیا تھا۔
دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان موجود پائیدار شراکت داری کی توثیق کی اور اسے مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور تجارت سمیت دیگر مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
انھوں نے علاقائی اور عالمی امور بشمول افغانستان، فلسطین اور جنوبی ایشیا سمیت جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
چینی صدر کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (جی ڈی آئی) کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بی آر آئی کے فلیگ شپ منصوبے کے طور پر، چین پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے سی پیک کے تحت جاری بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل، سی پیک کی اپ گریڈیشن اور دوسرے مرحلے میں سی پیک کے تحت ترقیاتی منصوبے آگے بڑھانے پر اتفاق رائے کیا۔
صدر شی جن پنگ نے وزیر اعظم کے اعزاز میں عشائیے کا بھی اہتمام کیا جہاں باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کا ایک اور دور ہوا۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی متنازع ٹویٹ سے متعلق ایف آئی اے حکام نے ان سے جیل میں پوچھ گچھ کی ہے۔
اڈیالہ جیل کے حکام کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے ایاز محمود کی سربراہی میں دو رکنی ٹیم نے سابق وزیر اعظم سے ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک اس متنازع ٹویٹ کے بارے میں سوالات کیے ہیں۔
جیل حکام کے مطابق اس تفتیش کے دوران عمران خان کے دو وکلا بھی موجو تھے۔
واضح رہے کہ عمران خان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور ساتھ ہی انھوں نے بنگلہ دیش کے رہنما شیخ مجیب الرحمن کی ویڈیو بھی لگائی ہوئی ہے، جسے ایف آئی اے ترجمان کے بقول اب تک نہیں ہٹایا گیا۔
جمعے کے روز اڈیالہ جیل میں مقدمے کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے اس پوسٹ کو اون (درست ماننا) کیا تھا اور کہا تھا تاہم انھوں نے کہا تھا کہ اس پوسٹ پر لگی ہوئی ویڈیو انھوں نے نہیں دیکھی۔
اڈیالہ جیل کے حکام کے مطابق ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے وہ ویڈیو عمران خان کو دیکھائی اور ان سے ایک گھنٹہ تفتیش کے دوران اس پوسٹ سے متعلق سوالات کیے ہیں۔
چند روز پہلے ایف آئی اے کی ٹیم اس متنازع پوسٹ سے متعلق تفتیش کرنے کے لیے اڈیالہ جیل آئی تھی تو عمران خان نے یہ کہہ کر شامل تفتیش ہونے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اپنے وکلا کی موجودگی میں ایف آئی اے کے سوالوں کے جواب دیں گے۔
ایف آئی اے نے اس متنازع ٹویٹ کے معاملے میں پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو بھی طلب کیا تھا۔
ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم جلد ہی اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی جس کی روشنی میں سابق وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے موجودہ مالی سال میں مئی کے مہینے میں 3.2 ارب ڈالر کی رقم پاکستان بھیجی گئی۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مئی 2024 میں موصول ہونے والی رقم گزشتہ سال مئی کے مہینے میں 54.2 فیصد زیادہ ہے۔
مالی سال 2024 کے پہلے گیارہ مہینوں کے دوران ترسیلاتِ زر کی مد میں 27.1 ارب ڈالر کی رقم آئی جو گذشتہ مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں سے 7.7 فیصد زیادہ ہے۔
مئی 2024 کے دوران ترسیلاتِ زر زیادہ تر سعودی عرب (819.3 ملین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (668.5 ملین ڈالر)، برطانیہ (473.2 ملین ڈالر) اور امریکہ (359.5 ملین ڈالر) سے موصول ہوئیں۔
تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق مئی کے مہینے میں سب سے زیادہ ترسیلات زر آئیں جس کی وجہ عید الاضحی سے پہلے پاکستان زیادہ رقم بھیجنا اور اس کے ساتھ روپے کی قدر میں استحکام رہا۔
انھوں نے امکان ظاہر کیا کہ آنے والے مہینوں میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کرنسی مستحکم رہی تو یہ ترسیلات زر مزید بڑھ سکتی ہیں۔