یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
نو جولائی تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت کئی برسوں سے خفیہ اداروں کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ قومی سلامتی کے مفاد کے پیش نظر فون کالز اور میسجز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ انھوں نے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک میں بھی ایسے قوانین موجود ہیں۔
پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
نو جولائی تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
منگل کے روز قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن ایکٹ 1996 کے سیکشن 54 کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کام کرتی ہیں اور اس ہی کے تحت جب کبھی انھیں ضرورت پڑتی ہے تو ڈیٹا تک رسائی حاصل کرتی ہیں یا ’انٹرسیپشن‘ کرتی ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس میں بھی کالز انٹرسیپشن کی وجہ سے ثبوت ملے۔
’لاہور میں ڈی آئی جی مبین کا کیس میں نے خود دیکھا ہوا ہے، نوجوان پولیس افسر شہید کیا گیا، جیو فینسنگ کے ذیعے ٹریس ہوا، بندے پکڑے گئے۔‘
’1996 سے آج 28 سال ہوگئے ہیں، کسی حکومت نے اس قانون کو نہیں بدلا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وقتاً فوقتاً نوٹیفیکیشن جاری کیے جاتے ہیں جن کے تحت حکومت ایجنسیوں اور ان کے افسران کو قانون کے مطابق اختیارات دیتی ہے۔
’حکومت نے یہ یقینی بنانے کے لیے کہ یہ [اختیارات] انسدادِ دہشتگردی، قومی سکیورٹی اور جرائم کا پتا لگانے کے لیے استعمال کیے جائیں، اس لیے ’پریمیم انٹیلی جنس‘ ایجنسی کو نوٹیفکیشن کے ذریعے اختیارات دیے گئے ہیں۔‘
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ دائرہ کار 50 ایجنسیوں تک پھیلایا جائے۔ ’ہر کسی کو اختیارات دیے جاتے تو یہ بھی برا تھا۔‘
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ’انھیں [ایجنسی کو] پابند کیا گیا ہے کہ گریڈ 18 سے اوپر کے افسران کے نام دیے جائیں اور انھیں جو ایریا سونپے گئے ہیں اس کا بھی بتایا جائے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔‘
خیال رہے کہ آٹھ جولائی کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کے افسران کو فون کالز اور پیغامات ’انٹرسیپٹ‘ کرنے کی اجازت دی ہے۔
حکومت کی جانب سے ان کی وزارت کو بھیجی گئی سمری کے متعلق وفاقی وزیر کا کہنا تھا جب یہ سمری منسٹری کو بھیجی گئی تو اس میں کہا گیا کہ یہ سب کچھ کرتے ہوئے لوگوں کی پرسنل لائف اور پرائیوسی کا بھی خیال رکھا جائے گا، اور قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف ایکشن ہوگا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ کوئی نیا یا انہونا کام نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون پچھلے 28 سالوں سے لاگو ہے اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسے قوانین موحود ہیں۔ برطانیہ کے قانون ’ٹیلی کام لاء فل انٹرسیپشن آف کمینیکیشن ریگولیشن‘ کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہاں بھی یہ چیزیں موجود ہیں۔
’[اس قانون کے] استعمال کے غلط یا صحیح ہونے پر چیک ہو سکتے ہیں لیکن میں ثابت یہ کرنا چاہتا تھا 1996 سے یہ قانون موجود ہے۔‘
حزبِ اختلاف کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ قانون اتنا ہی برا اور ملک دشمن ہے تو چار سال آپ حکومت میں تھے تو اسے ختم کر دیتے۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے ملک بھر میں دو سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے تین ماہ کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔
منگل کے دن پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ حکومت ملک بھر میں دو سو یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے 50 ارب روپے مختص کر رہی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ عارضی ریلیف کے لیے مختص رقم ترقیاتی بجٹ سے نکالی جائے گی۔
وزیر اعظم کے مطابق پچاس ارب روپے سے 92 سے 94 فیصد تک گھریلو صارفین کو ماہانہ چار سے سات روپے فی یونٹ تک کا ریلیف ملے گا جو اگست، جولائی اور ستمبر کے تین ماہ کے لیے ہو گی۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ عام آدمی کا جائز مطالبہ پورا ہو گا اور اس اقدام سے تین ماہ میں ڈھائی کروڑ صارفین کو فائدہ ہو گا جن میں کے الیکٹرک صارفین بھی شامل ہوں گے۔
تاہم واضح رہے کہ یہ ریلیف عارضی ہے۔ وزیر اعظم نے معاشی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مجبوری تھی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اس نئے اقدام پر آئی ایم ایف کو اعتماد میں لے گی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کراچی کی بندرگارہ سے درآمدات پر ڈیوٹی کی مد میں سالانہ 1200 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے۔
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔
منگل کے روز سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تیرہ رکنی بینچ نے کی۔
فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد جیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’فیصلہ سنانے سے متعلق آپس میں مشاورت کریں گے اور فیصلہ کب سُنایا جائے گا ابھی اس بارے میں کُچھ نہیں کہہ سکتے۔‘
واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے اب تک سات سماعتیں ہو چکی ہیں۔
منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی اور کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے وکیل اور اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بھی اپنے دلائل مکمل کیے۔
تاہم سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب الجواب میں دلائل دیے۔ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار ہی نہیں۔
سماعت کے دوران سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جواب الجواب میں کہا کہ ’آرٹیکل 218 کے تحت دیکھنا ہے کیا الیکشن کمیشن نے اپنی زمہ داری شفاف طریقہ سے ادا کی یا نہیں۔ ثابت کروں گا الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری مکمل نہیں کی۔ موقف اپنا گیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہیں کروائی۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’2018 میں بلوچستان عوامی پارٹی نے کوئی سیٹ نہیں جیتی لیکن تین مخصوص نشستیں ملیں۔ الیکشن کمیشن نے بلوچستان عوامی پارٹی سے متعلق بے ایمانی پر مبنی جواب جمع کروایا۔ الیکشن کمیشن اپنے ہی دستاویزات کی نفی کر رہا ہے، کیا یہ بے ایمانی نہیں؟‘
سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے جب جواب الجواب دلائل مکمل کیے تو جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ’بلے کے نشان کا فیصلہ آنے سے پہلے حامد رضا پی ٹی آئی کے نامزد تھے۔ الیکشن کمیشن نے غلط تشریح کی جس وجہ سے تنازع پیدا ہوا۔
اس کے بعد آزاد امیدواروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے اپنا ریکارڈ دبانے کی کوشش کی۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو جو ریکارڈ جمع کرایا وہ مشکوک ہے۔‘
جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’یہ انتہائی اہم معاملہ ہے کہ سپریم کورٹ سے ریکارڈ چھپایا گیا۔‘
بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’آپ پی ٹی آئی کے ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں لوگوں کو سنی اتحاد کونسل میں جانا درست تھا؟‘ جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’جب الیکشن کمیشن نے ہمیں آزاد ڈیکلئیر کر دیا تو سنی اتحاد کونسل میں جانا درست تھا۔ تاہم اس سے پہلے جو ہوا وہ الیکشن کمیشن کی غلطی تھی۔‘
جسٹس جمال مندوخیل نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ ’سوچ کر جواب دیں کیا پی ٹی آئی کو یہ نشستیں واپس نہیں چاہییں؟ جس پر اُن کا جواب تھا کہ ’اگر عدالت آئینی تشریح سے ایسے نتیجے پر پہنچے تو مجھے انکار نہیں۔‘
بعد ازاں جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت کو انتخابات سے نکالا، کیا ایسے عمل کو سپریم کورٹ کو نہیں دیکھنا چاہیے۔‘
منگل کے روز مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
کیس کا پس منظر
6 مئی کوسپریم کورٹ نے 14 مارچ کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے معاملہ لارجر بینچ کو ارسال کردیا تھا۔
تاہم اس سے قبل 3 مئی کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ 4 مارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں تھی۔
پاکستانی حکومت نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو فون کالز اور پیغامات ’انٹرسیپٹ‘ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
کیبنٹ ڈویژن کے ایک افسر نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
آٹھ جولائی کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کے افسران کو یہ اختیار پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن ایکٹ 1996 کے سیکشن 54 کے تحت دیا ہے۔
نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی کے مفاد میں اور جرائم کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کال ریکارڈ کرنے یا سننے کے عمل کے لیے خفیہ ادارے کی جانب سے جو افسران نامزد کیے جائیں گے وہ 18 گریڈ سے کم کے نہیں ہو گے۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے ان کی اپنے وکیل سے گفتگو افشا کیے جانے کا معاملہ زیر سماعت ہے۔
اس معاملے کی سماعت کے دوران یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ پاکستان میں ٹیلی کام کمپنیاں ’لا فُل انٹرسیپٹ مینیجمنٹ سسٹم‘ نامی ایک مخصوص نظام کے تحت خفیہ اداروں کو صارفین کا ڈیٹا فراہم کرتی ہیں۔
عدالت نے اس معاملے میں اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ اسے بتایا گیا ہے کہ ملک میں کام کرنے والی ٹیلی کام کمپنیوں نے پاکستانی خفیہ اداراوں کو اپنے دو فیصد (تقریباً 40 لاکھ) صارفین کے فون کال، میسجز اور دیگر ڈیٹا تک ’لافُل انٹرسیپٹ مینجمنٹ سسٹم‘ کے ذریعے رسائی دے رکھی ہے۔
عدالت نے اس معاملے میں اپنے حکم نامے میں یہ بھی لکھا ہے کہ پاکستانی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے عدالت کو بتایا تھا کہ کسی بھی ایجنسی کو نگرانی کی اجازت نہیں دی گئی اور حکومتِ پاکستان عدالت میں رپورٹ جمع کروائے کہ ’لا فُل انٹرسیپٹ مینیجمنٹ سسٹم‘ لگانے کا ذمہ دار کون ہے جو شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کر رہا ہے۔
بی بی سی نے پی ٹی اے اور ٹیلی کام کمپنیوں میں کام کرنے والوں کی مدد سے یہ جاننے کی بھی کوشش کی ہے کہ ’لا فُل انٹرسیپٹ مینیجمنٹ سسٹم‘ کیسے کام کرتا ہے اور یہ نظام کیا ہے۔ اس بارے میں مزید جاننے کے لیے کلک کریں۔
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت آج چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میںتیرہ رکنی بینچ آج کرے گا۔
سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی اور کنول شوزب کے وکیل سلمان اکرم راجہ اپنے دلائل مکمل کر چُکے ہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کے وکیل اور اٹارنی جنرل آف پاکستان بھی اپنے دلائل مکمل کر چُکے ہیں۔
سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی جواب الجواب میں دلائل دیں گے۔ الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار ہی نہیں رہی۔
واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے حوالے سے اب تک سات سماعتیں ہو چکی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے اس اپیل میں فریق ہونے کی درخواست دائر کر رکھی ہے تاہم ابھی تک سپریم کورٹ نے اس درخواست کو قابل سماعت یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ نہیں کیا۔
امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھو ملر کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی عوام کو دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے میں ہمارے مشترکہ مفادات ہیں۔‘
امریکی دفترِ خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان میں ایک نئے فوجی آپریشن اور افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف ممکنہ کارروائی کے متعلق پوچھے گئے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستانی عوام کو دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے میں ہمارے مشترکہ مفادات ہیں۔ ہم باقاعدگی سے حکومتِ پاکستان کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے اور استعداد کار بڑھانے کے مواقع کی نشاندہی کی جاسکے، جس میں انسداد دہشت گردی سے متعلق بات چیت بھی شامل ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستان میں نو مئی کے احتجاج کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خیال میں دُنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے، یعنی ہم جائز، آزادیِ اظہار کی حمایت کرتے ہیں، جس میں احتجاج کا حق، پرامن اجتماع کا حق بھی شامل ہے، اور ہم پرتشدد کارروائیوں کی مخالفت کرتے ہیں، ہم توڑ پھوڑ، لوٹ مار، آتش زنی کی مخالفت کرتے ہیں۔ جب ان حالات سے نمٹنے کی بات آتی ہے تو ہم سب سے پہلے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تمام مظاہرے پرامن طریقے سے ہونے چاہئیں اور حکومتوں کو ان سے قانون کی حکمرانی اور اظہار رائے کی آزادی کے احترام کے مطابق نمٹنا چاہیے۔‘
ذوالفقار بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شفاف ٹرائل کے بغیر ایک معصوم شخص کو پھانسی پر چڑھایا گیا اور یہ کہ ذوالفقار بھٹو کی پھانسی کے فیصلے کا براہ راست فاٸدہ جنرل ضیا الحق کو ہوا، اگر ذوالفقار علی بھٹو کو رہا کر دیا جاتا تو وہ ضیا الحق کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلا سکتے تھے۔
چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فاٸز عیسی نے 48 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا ہے اور جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ تحریری رائے میں اضافی نوٹ دیں گے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جب کیس چلایا گیا اس وقت عدالتوں کی آئینی حیثیت ہی نہیں تھی، ملک میں مارشل لا نافذ تھا اور ملک اور اس کی عدالتیں مارشل لا کی قیدی تھیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ آمر کی وفاداری کا حلف اٹھانے والے جج کی عدالتیں عوام کی عدالتیں نہیں رہتیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے بھٹو کیس کی فائل ملنے سے پہلے ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ پولیس تفتیش مکمل کر چکی ہو تو ایف آئی اے کو فائل دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں ہے۔
تفیصلے میں مزید لکھا گیا ہے کہ بھٹو کیس کی تفتیش دوبارہ کرنے کا کوئی عدالتی حکم موجود نہیں تھا اور ہائی کورٹ نے خود ٹرائل کرکے قانون کی کئی شقوں کو غیر موثر کر دیا۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی انھوں نے کی جن کی ذمہ داری ان کا تحفظ تھا۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ بھٹو کیس میں شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف کوئی براہ راست شواہد موجود نہیں تھے۔ کیس میں سزائےموت کے لیے شواہد ناکافی تھے۔
عدالت کا مزید کہنا ہے کہ ذوالفقار بھٹو کے خلاف دفعہ 302 لگانے کے ڈائریکٹ شواہد نہیں تھے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ قتل کا الزام ایف ایس ایف نامی فورس کے ذریعے تھا اور وقوعے میں استعمال گولی کا خول ایف ایس ایف کے ہتھیاروں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ واضح کرنا چاہتی ہے نہ ہم اپیل سن رہے ہیں نہ ہی نظرثانی۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ آئین یا قانون ایسا میکانزم فراہم نہیں کرتا جس کے تحت سزا کو کالعدم قرار دیا جاسکے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ سے نظرثانی خارج ہونے کے بعد بھٹو کی سزا کا فیصلہ حتمی ہو چکا تھا، صدارتی ریفرنس میں کسی حتمی ہو جانے والے فیصلے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو نوٹس دیے بغیر کیس منتقل کیا گیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قتل کا ٹرائل لاہور ہائی کورٹ میں براہ راست چلایا گیا، اس سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد ایسی کوئی مثال ملتی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ پورے ایشیا میں ایسی مثال نہیں ملتی جہاں براہ راست قتل کا ٹرائل ہائی کورٹ نے چلایا ہو۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ میں براہ راست ٹرائل چلا کر ذوالفقار علی بھٹو کو ایک اپیل کے حق سے محروم کیا گیا۔
جسٹس مشتاق حسین کے متعلق کیا کہا گیا ہے؟
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو قائمقام گورنر بنا کر عارضی چیف جسٹس کی تعیناتی عمل میں لائی گئی اور چھ ماہ تک جسٹس مشتاق حسین قائمقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ رہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کا عہدہ آئینی طور پر لمبا عرصہ خالی نہیں چھوڑا جا سکتا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ قائمقام چیف جسٹس کی تعیناتی مخصوص حالات میں ہی ہوسکتی ہے۔
سپریم کورٹ کا مزید کہنا ہے کہ جسٹس یعقوب علی نے بطور چیف جسٹس پاکستان عہدے کا چارج چھوڑ دیا تھا، آئین میں ججز کے مستعفی ہونے یا ریٹائرمنٹ کا ذکر ہے چارج چھوڑنے کا نہیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ جسٹس انوار الحق کی بطور چیف جسٹس تعیناتی جسٹس یعقوب علی کے چارج چھوڑنے پر ممکن ہوئی۔
پاکستان کی وفاقی وزرات داخلہ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر عائد پابندی کو آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ایکس پر پابندی کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
وزارت داخلہ کا یہ موقف سندھ ہائی کورٹ میں ایکس پر عائد پابندی ہٹانے کی ایک درخواست کے سلسلے میں جمع کرائے جانے والے سرکاری جواب سے سامنے آیا ہے جس میں وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ایکس پر پابندی کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
سندھ ہائی کورٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے جمع کرائے جانے والے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ایکس پر پابندی آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا خاص طور پر ایکس پر ملکی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے اور ملکی سیکورٹی اور وقار اور حساس اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں ایکس پر پابندی عائد کی گئی۔
وزارتِ داخلہ کا موقف ہے کہ ان کا کام پاکستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے اور ایکس پر پابندی سے پہلے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔
وزارت داخلہ کے مطابق آئین کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے، تاہم آزادی اظہار رائے پر قانون کے مطابق کچھ پابندی بھی ہوتی ہیں۔
جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ ایکس ایک غیر ملکی کمپنی ہے جس کو متعدد بار قانون پر عمل درآمد کا کہا ہے تاہم پاکستان کے ساتھ ایکس کا کوئی معاہدہ نہیں کہ وہ مقامی قوانین کی پابندی کرے۔
وزارت داخلہ نے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ کچھ عناصر ایکس کے ذریعے ملک میں عدم استحکام پھیلانا چاہتے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق اسی طرح کے خدشات کے بعد پاکستان پہلے ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کر چکا ہے، تاہم بعد میں ایم او یو سائن کرنے اور ملکی قوانین پر عملدرآمد کی یقین دہانی پر یہ پلیٹ فارم کھول دیے گئے تھے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک بھی وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جاتی رہی ہے اسی لیے ملکی مفاد میں اس درخواست کو مسترد کیا جائے۔
ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کہتی ہیں کہ ارشد شریف کی ہلاکت سے متعلق کینیا کی عدالت کا فیصلہ ان کے لیے ریلیف کے ساتھ ساتھ حیرانی کا باعث ہے کیونکہ پاکستان میں بھی اب تک انھیں انصاف نہیں ملا ہے۔
بی بی سی کو دیے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے ملک میں بھی اپنے شوہر کے لیے انصاف حاصل نہیں کر پا رہی۔ میرے شوہر کو پاکستان میں دھمکیاں ملی تھیں۔ ان پر غداری کے جعلی مقدمات تھے کیونکہ وہ بلا خوف صحافت کرتے تھے اور اشرافیہ کی کرپشن کو بے نقاب کرتے تھے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ارشد شریف نے اپنی زندگی بچانے کے لیے کینیا میں عارضی طور پر پناہ لی تھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ ارشد شریف کئی ملکوں کے ویزا حاصل نہیں کر پا رہے تھے لہذا انھوں نے کینیا آمد پر ویزا حاصل کیا اور پھر وہ کینیا میں چھپ کر زندگی گزار رہے تھے۔
جویریہ نے کہا کہ ’یہ میرے لیے دردناک تھا کہ کینیا انھیں تحفظ دینے میں ناکام رہا اور انھیں کینیا کی پولیس نے قتل کیا۔‘
’میرا خیال ہے کہ انھیں (پولیس اہلکاروں کو) اس قتل کے لیے پاکستان سے لوگوں نے ہائیر کیا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’میرے لیے یہ حیران کن ہے اور میں کینیا کی عدلیہ کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میری بات سنی اور مجھے انصاف دیا۔‘
عدالت کی جانب سے معاوضے کے اعلان پر ارشد شریف کی اہلیہ نے کہا کہ ’میں نے اپنے لیے یا اپنی فیملی کے لیے کسی معاوضے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ میرے لیے اہم یہ ہے کہ تمام ملوث پولیس اہلکاروں کی سزا دی جائے اور کیس کی صحیح طریقے سے تحقیقات کی جائیں اور سزائیں دی جائیں۔‘
جویریہ نے کہا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز سے رابطے کریں گی۔
کینیا کی اعلیٰ عدالت نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ہلاکت کے معاملے میں ان کی اہلیہ کی جانب سے دائرکردہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کینیا کی حکومت کو اس واقعے کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
کینیا کی ہائیکورٹ کی جج جسٹس سٹیلا موٹوکونے پاکستانی صحافی پر کینیا کی پولیس کے اہلکاروں کی فائرنگ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیرقانونی قرار دے دیا۔
عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ ارشد شریف پر فائرنگ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔
جسٹس سٹیلا کا کہنا تھا کہ ہر شخص آئین اور قانون کے سامنے برابر ہے اور اسے زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کی گہرائی کے ساتھ تحقیقات ہونا لازم ہیں اور ان پر ہونے والی فائرنگ کے بارے میں معلومات کی عدم فراہمی، معلومات کے حصول کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
ارشد شریف اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے پاکستان چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اطلاعات کے مطابق خود ساختہ جلا وطنی کے دوران وہ پہلے دبئی پھر لندناور پھر کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں مقیم رہے تھے۔ 22 1کتوبر 2022 کی شب وہ نیروبی سے 110 کلومیٹر کے فاصلے پر مگاڈی کے علاقے میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔
کراچی میں پیدا ہونے والے 49 سالہ ارشد شریف نے متعدد پاکستانی نیوز چینلز میں کلیدی عہدوں پر کام کیا تھا۔ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے سے قبل وہ نجی نیوز چینل اے آر وائی سے منسلک تھے تاہم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد انھیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کا اعلان ان کے ملک چھوڑنے کے چند دن بعد اے آر وائی کی جانب سے کیا گیا تھا۔
کینیا کی عدالت کا فیصلہ: ’حکام پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہے‘
کینیا کی عدالت کے فیصلے کے مطابق معروف پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ہلاکت میں ملوث پولیس اہلکاروں نے نہ صرف انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کی بلکہ انھوں نے اپنے قوائد و ضوابط کو بھی نظر انداز کیا۔
ارشد شریف 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کی پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے۔
عدالت نے ارشد شریف کی بیوی اور درخواست گزار جویریہ صدیق کو ایک کروڑ کینین شیلینگ (77972.71 ڈالر) معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق رقم کی مکمل ادائیگی تک اس پر واجب سود بھی ادا کیا جائے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق پبلک پراسیکیوشنز کے ڈائریکٹر (ڈی پی پی) اور انڈپنڈنٹ پولیسنگ اوور سائٹ اتھارٹی (آئی پی او اے) نے ارشد شریف کی ہلاکت میں ملوث دو پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے ڈی پی پی اور آئی پی او اے کو حکم دیا کہ تحقیقات اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی مکمل کی جائے۔
اکتوبر 2023 کے دوران جویریہ صدیق اور کینیا میں صحافیوں کی ایسوسی ایشن نے ایک درخواست دائر کی تھی۔ اس کا مقصد صحافی ارشد شریف کے ’ٹارگٹڈ قتل‘ پر کینیا میں حکام کے احتساب، معافی اور شفافیت کا مطالبہ کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق درخواستگزار چاہتے ہیں کہ کینیا کے اٹارنی جنرل، نیشنل پولیس سروس اور ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز ’ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں اور انھیں سزا دیں جنھوں نے ارشد شریف کو قتل کیا۔‘
عدالت نے فیصلے میں بتایا کہ پولیس اہلکار صرف مخصوص حالات میں انتہائی اقدام اٹھا سکتے ہیں اور ان کی ترجیح زندگی کا تحفظ ہونی چاہیے۔ اس کے مطابق ارشد شریف کی ہلاکت کے کیس میں پولیس اہلکاروں نے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گولیاں چلائیں جسے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل اوشیل ڈڈلی نے کہا ہے کہ ’یہ (ارشد شریف کے خاندان) کے ساتھ ساتھ کینیا کے شہریوں کی کامیابی ہے جو پولیس کا احتساب چاہتے ہیں۔‘
جویریہ صدیق نے بی بی سی کو دیے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز کے ذریعے اپنے شوہر کی ہلاکت پر انصاف حاصل کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان میں بھی صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اور خاندان کو اس فیصلے سے اطمینان ملا ہے۔ لیکن میں اپنے شوہر کے لیے زیادہ سے زیادہ انصاف حاصل کرنے سے نہیں کتراؤں گی۔‘
خیال رہے کہ سنہ 2022 کے دوران ارشد شریف پاکستان سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔ انھیں فوج پر تنقید کرنے پر غداری جیسے سنگین الزام کا سامنا تھا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت منگل گیارہ بجے تک ملتوی۔
دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر جج افضل مجوکا نے سماعت کی۔
سماعت شروع ہوئی تو بشریٰ بی بی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سلمان اکرم راجہ عدت کے دورانیے پر اپنے دلائل دے چکے ہیں۔
اس موقع پر عدالت سے خاور مانیکا کے معاون وکیل کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ میں اس درخواست پر اپنا جواب لکھوں گا۔ خاور مانیکا کے جونیئر وکیل نے استدعا کی کہ 11 محرم تک سماعت ملتوی کی جائے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مذاق اڑانے والی بات ہو رہی ہے، یہ ڈائریکشن کا کیس ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کی ڈائریکشن ہے، سیشن جج کیسے التواء دے سکتا ہے، انہوں نے وکیل بدلنا ہے تو بدلیں، یہ کیا مذاق ہے کہ ایک جونیئر وکیل درخواست لے کر آ جائیں، اس درخواست میں کیس کے چلنے کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا، مجھے 15 منٹ دیں میں درخواست کا جواب لکھوں گا، پھر عدالت فیصلہ کرے۔‘
جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ ’آپ اپنے دلائل مکمل کریں میں ہائی کورٹ کو لکھوں گا، پھر پرسوں سن لوں گا، سماعت ملتوی کرنے سے متعلق ہائی کورٹ سے ڈائریکشن لے لیتا ہوں۔‘
ایک مختصر وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو کیس کی سماعت کرنے والے جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ ’ہائیکورٹ اگر کوئی ڈائریکشن دیتی ہے تو دیکھیں گے ورنہ پرسوں ہر حال میں اس پر دلائل ہونگے۔‘
جج افضل مجوکا کا سلمان صفدر سے مکالمہ کہا کہ جمعہ تک وقت ہے نا تو پرسوں آپ دلائل دے دیجیے گا۔ جس پر بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ اس پٹیشن کو فکس ہی نہیں کررہی۔ آپ کے پاس اختیار ہے کہ آپ درخواست کو مسترد کردیں۔ کل کا دن دے دیں کارروائی ہو یا نہ ہو۔‘
جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ ’میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے شیڈول کا پابند ہوں اگر اعلیٰ عدلیہ نے خود تبدیل نہ کیا تو۔‘
عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل یعنی منگل گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔
اسلام اباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف ریفرنس سے قبل ہی ٹرولنگ کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کونسل کا ہنگامی اجلاس صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ریاست علی آزاد کی صدارت میں ہوا۔
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ریاست علی آزاد نے بتایا کہ ’آج دوپہر 2 بجے اسلام ہائیکورٹ میں پاکستان بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے۔‘
ریاست علی آزاد کا کہنا تھا کہ ’ججز کی ٹرولنگ اور دیگر حربوں کے ذریعے دباو میں لینے کی مذمت کرتے ہیں۔ کسی کو عدلیہ کی بازو مروڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وکلا ایسی تحریک چلائیں گے کہ لوگ ماضی کی تحریکیں بھول جائیں گے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک صرف آئین اور قانون کی بالادستی کیساتھ ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ جو بھی جج آزاد عدلیہ کی بات کرتا ہے تو وہ آئین اور قانون کی بات کرتا ہے۔ آئین اور قانون کی بات کرنے والوں کو دھمکیاں بھی ملتی ہیں اور لالچ بھی دیا جاتا ہے۔‘
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ریاست علی آزاد کا کہنا تھا کہ ’جب آپ کو سفارشیں بھی کرائی جائیں اور آپ انکار کریں تو اس انکار کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ یس کہنے کی قیمت ملتی ہے جبکہ نو کہنے کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے نو کہنے والے ججز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بار کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔‘
صدر ہائیکوٹ بار کا کہنا تھا کہ ’چھ ججز کے خط لکھنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ ججز کے خلاف بدنیتی کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنسز پر بھی غور کیا جائے گا۔‘
اسلام آباد کے 3 انتخابی حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کے اُمیدواروں کی درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری۔
اسلام آباد کے 3 انتخابی حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان تحریکِ انصاف کے اُمیدواروں کی درخواستوں پر سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری کررہے ہیں۔
آج سماعت کے آغاز پر شعیب شاہین کے وکیل سجیل سواتی نے گزشتہ آرڈرز اور اس سے متعلق قوانین پڑھ کر سُنائے۔
سجیل سواتی کا کہنا تھا کہ ’الیکشن ایکٹ قوانین کے مطابق سات دن سے زائد کیس ملتوی نہیں ہو گا۔‘
عدالت کی جانب سے ٹربیونل کے وکیل کو ہدایت کی گئی کہ وہ الیکشن ایکٹ کا رول 144 پڑھیں۔
جس کے بعد جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ ’اس کے مطابق ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر ہونا ہے اور 180 دن میں فیصلہ ہونا ہے۔‘
دورانِ سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری اور طارق فضل چوہدری کے وکیل کے درمیان مکالمہ ہوا جس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری نے طاقر فضل چوہدری کے وکیل سے کہا کہ سوال کیا کہ آپ نے وکالت نامہ جمع کروا دیا ہے جس پر اُن کا جواب تھا کہ ’میں نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، آج کرواں گا۔ جس پر جسٹس طارق محمود جہانگیری نے وکیل کو بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ ’آپ جب وکالت نامہ جمع کرائیں گے تب بات کریں گے۔‘
دورانِ سماعت عامر مغل کی الیکشن پٹیشن پر انجم عقیل خان کے وکیل نے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا دیا۔
وکیل انجم عقیل خان کی جانب سے درخواست پر کہا گیا کہ عامر مغل کی پٹیشن شروع میں 45 دن کے اندر دائر ہوئی، پھر واپس لے گئے سات روز میں جمع نہیں کرائی پھر اعتراضات بھی لگے۔
پی ٹی آئی امیدوار علی بخاری کی راجہ خرم نواز کے خلاف الیکشن پٹیشن پر سماعت کے دوران جسٹس طارق محمور جہانگیری نے وکیل راجہ خرم نواز سے سوال کیا کہ ’کیا آپ نے فارم 45، 46، 47 جمع کروائے ہیں؟‘ جس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’تحریری جواب جمع کرایا ہے۔‘
تاہم وکیل علی بخاری کا کہنا تھا کہ ’میرے اعتراضات پر کوئی جواب ان کی جانب سے جمع نہیں ہوا۔‘
جس پر جسٹس طارق محمور جہانگیری کا کہنا تھا کہ ’30 مئی کے آرڈر کے مطابق چھ جون تک ٹریبیونل نے سماعت ملتوی کی تھی۔‘
پی ٹی آئی امیدوار شعیب شاہین کی طارق فضل چوہدری کے خلاف الیکشن پٹیشن پر سماعت کے دوران طارق فضل چوہدری کی جانب سے وکیل عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ سردار تیمور اسلم نے وکالت نامہ واپس لے لیا ہے اور طارق فضل چوہدری نیا وکیل کریں گے۔
تاہم اسی دوران طارق فضل چوہدری خود الیکشن ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے۔ عدالت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ای ایم ایس کا ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔
جس پر عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ ’طارق فضل چوہدری نے بھی فارم 45، 46، 47 جمع نہیں کروائے۔ الیکشن ٹریبونل کا طارق فضل چوہدری کو فارم 45، 46، 47 جمع کرانے کا حکم۔ تاہم جواب جمع نا کرانے پر طارق فضل چوہدری پر 20 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا۔
جس پر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’چار پانچ دن ہمیں دے دیں تو ہم جواب جمع کرا دیں گے۔‘
جس پر پی ٹی آئی کے رہنما شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ ’سات دن کورٹ کا وقت ہے ایک ماہ سے آرڈر ہے اس پر عمل نہیں ہوا۔‘
اس پر جسٹس طارق جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ ’اگر آئندہ سماعت پر عدالتی آرڈر پر عمل نا ہوا تو ممبرشپ معطلی کے لیے شوکاز کریں گے۔‘
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم اپنے ٹیکس محصولات میں اضافہ نہیں کرتے ہیں تو یہ ہمارا آخری آئی ایم ایف پروگرام نہیں ہوگا۔‘
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کو دیے جانے والے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’اس ماہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کے لیے حکومت پر اُمید ہے۔‘ تاہم حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے اس معائدہ کا تخمینہ 6 سے 8 ارب ڈالر لگایا تھا۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم اپنے ٹیکس محصولات میں اضافہ نہیں کرتے ہیں تو یہ ہمارا آخری آئی ایم ایف پروگرام نہیں ہوگا۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جون میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’جس طرح 2017 میں میاں نواز شریف نے آئی ایم ایف کو خیر آباد کہ دیا تھا انشا اللہ یہ جو (آئی ایم ایف کا) پروگرام ہم لینے جا رہے ہیں یہ پاکستان کی تاریخ میں آخری پروگرام ہوگا اور اُس کے بعد ہم انشا اللہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے۔‘
وفاقی وزیرِ خزانہ کا فنانشل ٹائمز کو دیے جانے والے انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’ملک کا انحصار درآمدات پر ہے جس کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے۔‘
وفاقی وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ ’ہمیں قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جب تک معیشت درآمد پر مبنی رہے گی، ہمارے پاس ڈالر ختم ہوتے رہیں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’لوگ رشوت، کرپشن اور ہراسانی کے ڈر سے ایف بی آر پر اعتماد نہیں کرنا چاہتے۔‘
وفاقی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اپنے پروگرام کے لئے پانچ سال نہیں ہیں۔ ہمیں اگلے دو سے تین مہینوں میں اپنی مثبت کارکردگی دکھانا پڑے گی۔‘
اس سے قبل نئے مالی سال 2024-25 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر نئے مالی سال کے اہداف کے حصول میں مُشکلات پیدا کر سکتی تھی۔‘
گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر:
کراچی کے علاقے کریم آباد میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈی ایس پی علی رضا کی ہلاکت پر افسوس اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا نے شہادت کا بلند رتبہ پایا۔‘
اس سے قبل ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ فائرنگ کے واقعے میں ڈی ایس پی کا گن مین بھی زخمی ہوا ہے۔ ان کے مطابق ڈی ایس پی علی رضا سر میں گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
اس لائیو پیج میں پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شامل کی جائیں گی۔
تین جولائی کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔