ایرانی صدر مسعود پزشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

ایران کے صدر مسعود پزشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاں وہ صدر آصف زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔ بطور صدر مسعود پزشکیان کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے

خلاصہ

  • ہائبرڈ نظام ملک سے اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے: آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ
  • غزہ میں تقسیم کے متنازع مقامات پر امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا دورہ
  • 5 اگست کو توڑ پھوڑ کا کوئی ارادہ نہیں،عمران خان جیل میں ثابت قدم ہیں: سلمان اکرم راجہ
  • اگست میں پنجاب میں مون سون کی بارشوں کا نیا سلسلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ
  • ایرانی صدر مسعود پژشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے
  • یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ کیئو کے متعدد اضلاع پر روسی ڈرونز اور میزائلوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں شیخانی پولیس پوسٹ پر ڈاکوؤں کے حملے میں ایلیٹ فورس کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ایک ڈاکو مارا گیا۔

لائیو کوریج

  1. سابق روسی صدر کے ’اشتعال انگیز‘ بیانات: ٹرمپ نے جوہری آبدوزوں کو ’مناسب خطوں میں پوزیشن سنبھالنے‘ کے احکامات دے دیے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے سابق روسی صدر دمتری میدوی ایدف کے ’اشتعال انگیز‘ بیانات کے جواب میں دو امریکی جوہری آبدوزوں کو ’مناسب خطوں میں پوزیشن سنبھالنے‘ کی ہدایت جاری کر دی ہیں۔

    ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ اقدام اس لیے لیا ہے کہ ’یہ احمقانہ بیانات صرف الفاظ سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ الفاظ بہت اہم ہوتے ہیں اور کبھی کبھی ان کے غیرارادی نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ موقع نہیں آئے گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے یہ وضاحت نہیں دی کہ جوہری آبدوزوں کو کن مقامات پر بھیجا گیا ہے۔

    یوکرین میں جنگ بندی کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات اور روس پر نئی پابندیوں کے اعلانات کے ردعمل میں سابق روسی صدر دمتری میدوی ایدف حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر کئی مرتبہ تبصرے کر چکے ہیں۔

    ٹرتھ سوشل پر امریکی صدر نے لکھا کہ: ’سابق روسی صدر اور کونسل آف رشین فیڈریشن کے موجودہ ڈپٹی چیئرمین دمتری میدوی ایدف کے انتہائی اشتعال انگیز بیانات کی روشنی میں میں نے دو جوہری آبدوزوں کو مناسب خطوں میں پوزیشن سنبھالنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔‘

    پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سابق روسی صدر نے لکھا تھا کہ ’ہر نیا امریکی الٹی میٹم ایک خطرہ ہے اور جنگ کی طرف ایک قدم ہے۔‘

  2. اسلام آباد ایکسپریس ٹرین کو پیش آنے والے حادثے میں 25 افراد زخمی

    ٹرین حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہRescue

    اسلام آباد ایکسپریس ٹرین کی پانچ بوگیاں پٹری سے اترنے کے نتیجے میں 25 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    جمعے کو پیش آنے والے اس حادثے کے نتیجے میں میڈیا کو جاری کیے گئے بیان میں ریسکیو پنجاب کے ترجمان نے بتایا ہے حادثہ کالا شاہ کاکو کے قریب پیش آیا۔

    ’اسلام آباد ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتر گئی، زیادہ تر مسافروں کو خراشیں آئیں ہیں۔‘

    ترجمان ریسکیو نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر 25 لوگوں کو فرسٹ ایڈ دی گئی ہے جبکہ مجاہد حسین جن کی عمر 25 سال ہے کو ریسکیو کرکے ہاسپٹل منتقل کردیا گیا ہے۔ وہ بوگیوں میں پھنس گئے تھے۔

    ترجمان ریسکیو کے مطابق ایک اور شخص کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان ریسکیو کے مطابق تمام بوگیوں میں مکمل سرچ آپریشن کیا جارہا ہے تاکہ کوئی مسافر پھنسا نہ ہو اور زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال مریدکے منتقل کیا جارہا ہے۔

    ترجمان ریلوے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرین لائن ایکسپریس سادھوکی سے مدد کے لیے روانہ کر دی گئی ہے اور راولپنڈی اور لاہور سے آنے جانے والی ٹرینوں کے روٹ کو عارضی طور پر تبدیل کر دیا گیا۔ ٹریک کلیئر ہونے تک ٹرینیں براستہ وزیر آباد ،سانگلہ ہل ، حافظ اباد، شاہدرہ ،لاہور پہنچیں گی۔

    ٹرین حادثہ

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1222

  3. بلوچستان میں 15 دن کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ اور ماسک پہننے پر پابندی

    blochistan

    محکمہ داخلہ و قبائلی امور نے بلوچستان بھر میں 15 دن کے لیے دفعہ 144کا نفاذ کردیا ہے۔

    اس حکم کے بعد عوامی مقامات پر ماسک پہننے پر پابندی عائد ہوگی۔ محمکہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق دفعہ 144کے تحت 15دن تک موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوگی۔ عوامی مقامات پر چہرے کی شناخت کو چھپانے کے لیے مفلر، ماسک یا کسی اور چیز کے استعمال پر پابندی رہے گی۔

    اس حکم کے تحت پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع ، دھرنوں اور احتجاج پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

    دفعہ 144کے تحت اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی رہے گی۔

  4. بنگلہ دیش ٹیرف میں کمی کو اپنی سفارتی فتح کے طور پر دیکھ رہا ہے, سیدہ اختر بی بی سی بنگلہ، ڈھاکہ

    bangladesh

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بنگلہ دیش نے امریکہ کی جانب سے خود پر لگنے والے ٹیرف کو 35 سے 20 فیصد پر آ جانے کو اپنی فیصلہ کن سفارتی فتح قرار دیا ہے۔

    بنگہ دیش میں ودیا امرت خان جو کہ ایک نامور گارمنٹ فیکٹری کی مالک ہیں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی مصنوعات مسابقتی رہیں گی کیونکہ انڈیا، سری لنکا اور کمبوڈیا جیسے اس کے اہم حریفوں کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔

    امریکہ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے جو اس کی کل برآمدات کا 17 فیصد ہے۔ ریڈی میڈ گارمنٹس امریکہ کو ہونے والی برآمدات کا تقریبا 90 فیصد بنتا ہے۔

    محصولات میں کمی سے ملک کو کچھ آسانی ملی ہے جہاں لمبےعرصے سے وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے ایک سال بعد بھی سیاسی تناؤ موجود ہے۔

    بنگلہ دیش نے 25 بوئنگ طیاروں کا آرڈر بھی دیا ہے اور امریکہ سے پانچ سال میں سات لاکھ ٹن گندم خریدنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

  5. کراچی میں نامعلوم افراد کے حملے میں سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام ہلاک, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    کراچی میں نامعلوم افراد کے حملے میں سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام ہلاک ہوگئے ہیں۔

    ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا کا کہنا ہے کہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی فیز 6 میں مسجد کے باہر ان پر حملہ کیا گیا۔

    جمعے کے روز ہونے والے اس حملے کے بعد سامنے آمنے والی ویڈیو فوٹج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ قمیض شلوار میں ملبوس ایک شخص جس نے چہرے پر ماسک پہنا ہوا ہے ان پر فائرنگ کرتا ہے اور فرار ہوجاتا ہے۔

    یاد رہے کہ سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام پر یہ دوسرا حملہ ہے اس سے قبل گذشتہ سال ڈفینس کے علاقے کھڈہ مارکیٹ میں وہ فائرنگ میں زخمی ہوگئے تھے۔

    پولیس نے اس واقعے کو ذاتی چپقلش کا نتیجہ قرار دیا تھا اس کے علاوہ ان کے خلاف پولیس سے لڑائی کا مقدمہ بھی درج تھا۔

    2019 میں ان کو ڈرائیور کے قتل کیس میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں بعد میں انہوں نے ضمانت حاصل کی تھی ان کا کہنا تھا کہ اس ڈرائیور کو انہوں نے شکایت پر نکال دیا تھا جس کے بعد سے وہ ان کو نہیں جانتے تھے۔

  6. ہائبرڈ نظام ملک سے اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے: آل پارٹیز کانفرنس

    تحریک تحفظ آئین کی آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہائبرڈ نظام ملک سے اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے۔

    آل پارٹیز کانفرنس کے بعد مصطفیٰ نواز کھر نے اعلامیہ پڑھا جس میں کہا گیا کہ ’کل کا دن اس حوالے سے پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا اور اس سے یہ بات ایک دفعہ پھر عیاں ہوتی ہے کہ یہ ہائبرڈ نظام ملک میں اپوزیشن کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے۔‘

    اپوزیشن کانفرنس میں شریک جماعتوں نے اعلامیے میں کہا کہ ’ہم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ناحق قید کی مذمت کرتے ہیں اور ان کی جلد از جلد رہائی اور ان کے اسلام آباد ہائی کورٹ و سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی فوری سماعت کے لیے مقرر کیے جانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    اعلامیے میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی وسینیٹ اور اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سمیت درجنوں تحریک انصاف کے کارکنان کو عدالت کے ذریعے دی گئی سزاؤں کی مذمت بھی کی گئی۔

    یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان بھر میں اور خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں غیر قانونی طور پر لاپتا افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    ’سیاسی مخالفین کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات کے اندارج اور CTD کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کی روک تھام کا بھر پور مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    کل جماعتی کانفرنس میں شریک جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا کہ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں اور سیاسی قوتوں کے درمیان ایک نئے میثاق جمہوریت کی اشد ضرورت ہے۔

    اعلامیے میں جماعتوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ صوبوں کے غصب کیے گئے حقوق اور وسائل جیسے کہ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر حاصل کی گئی لاکھوں ایکڑ زمینوں کی لیز فل الفور منسوخ کی جائے۔

  7. غزہ میں تقسیم کے متنازع مقامات پر امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا دورہ

    steve

    ،تصویر کا ذریعہMike Huckabee/X

    امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے چند گھنٹے غزہ میں خوراک کی تقسیم کے متنازع مقامات پر گزارے جھنیں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت سے مقامی فلسطینیوں کے لیے چلایا جا رہا ہے۔

    تاہم دوسری جانب غزہ میں جمعے کو مزید دس ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔

    غزہ کے متاثرین امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کے دورے پر تنقید کر رہے ہیں ایک فلسطینی شہری نے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی ابوالوف کو بتایا کہ سٹیو وٹکوف کا دورہ میڈیا کو دکھانے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ انسانیت کی خدمت کا مشن نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ سٹیو وٹکوف ایک ایسے وقت میں غزہ کا دورہ کر رہے ہیں جب امدادی ایجنسیاں غزہ میں قحط کا الرٹ جاری کر رہی ہیں۔ بہت سے لوگ بھوک اور خوراک کی کمی سے مر رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی جانب سے جاری تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق 1373 فلسطینی مئی کے آخر سے اب تک خوراک کی تلاش کرتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی ہلاکتیں خوراک کی تقسیم کے مقامات کے قریب ہوئی ہیں۔

    us

    ،تصویر کا ذریعہMike Huckabee / X

  8. ایرانی صدر مسعود پژشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچیں گے

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر مسعود پژشکیان سنیچر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں جہاں وہ صدر آصف زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی صدر کے ساتھ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور دیگر وزرا بھی پاکستان آ رہے ہیں۔

    خیال رہے یہ بطور صدر مسعود پژشکیان کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ انھیں پاکستان آنے کی دعوت وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دی تھی۔

    اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 26 مئی کو ایران کا دورہ کیا تھا۔

  9. 5 اگست کو توڑ پھوڑ کا کوئی ارادہ نہیں،عمران خان جیل میں ثابت قدم ہیں: سلمان اکرم راجہ

    سلمان اکرم راجہ

    ،تصویر کا ذریعہX/Salman Akram Raja

    پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا پانچ اگست کو عمران خان کی قید کے دو سال پورے ہونے پر توڑ پھوڑ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس ملک میں کوئی تنازع نہیں ہونا چاہیے۔

    اپنی جماعت کے حامیوں کے نام پیغام میں انھوں نے کہا کہ ثابت قدم رہیں عمران خان جیل میں ثابت قدم ہیں۔

    ’عمران خان جیل میں ثابت قدم ہیں وہ چٹان کی طرح جیل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔‘

    تاہم انھوں نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو عدالت کی جانب سے حال ہی میں سنائی گئی سزاؤں کے حوالے سے کہا یہ دو دن ملکی تاریخ کے تاریک ترین دن تھے۔

    ’جس طرح سزائیں سنائی گئیں کسی مہذب ملک میں اس طرح سزائیں نہیں دی جاتیں۔ پاکستان کے عوام کی آواز کو دبا کر ترقی نہیں ہو سکتی۔‘

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما گوہر ایوب نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے قید سنائی ہے لیکن میں آپ کے سامنے مسکرا رہا ہوں‘

    ان کا کہنا تھا کہ جن گواہوں کی گواہی پر فیصل آباد کی عدالت نے سزائیں سنائی ہیں ان کی گواہی سرگودھا کی عدالت مسترد کر کے ایک کیس میں مجھے بری کر چکی ہے۔

    عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں جبکہ سُنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہیں۔

    یہ فیصلہ نو مئی 2023 کو فیصل آباد میں واقع ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے کیس میں سنایا گیا ہے جس میں 185 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 108 ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائیں دی گئیں۔

    اس سے قبل 22 جولائی کو سرگودھا اور لاہور کی عدالتوں سے سامنے آنے والے فیصلوں میں پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد احمد خان بچھر، رُکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ اور سابق وزرا یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں کو سزائیں سُنائی گئی تھیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. اگست میں پنجاب میں مون سون کی بارشوں کا نیا سلسلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ

    FLOOD

    ،تصویر کا ذریعہSAJJAD HAIDER

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے چھٹے سپیل کا الرٹ جاری کر دیا ہے اور پانچ اگست سے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق بارشوں کے باعث پانچ اگست سے دریائے چناب اور جہلم میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاوالدین، گجرات، گجرانوالہ، حافظ آباد میں بارش کا امکان ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، سرگودھا، میانوالی، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اور اوکاڑہ، ڈیرہ غازی خان، بھکر، بہاولپور، خانیوال، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ اور راجن پور میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظرمتعلقہ محکموں کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق اگست میں مون سون بارشیں گذشتہ ماہ کی نسبت زیادہ ہونے کی پیشگوئی ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث مری و گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے اور بارشوں کے باعث کچے مکانات مخدوش عمارتوں کو نقصان کا خدشہ ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسافر اور سیاح موسمی صورتحال کے پیش نظر محتاط رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

    اس کے علاوہ عوام کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ اربن و فلیش فلڈنگ کی صورت میں محفوظ مقامات پر رہیں گاڑی ہرگز بہتے ہوئے پانی سے کراس نہ کریں اور ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

  11. انسدادِ دہشت گردی عدالت میں سات سالہ بچے کی ایک لاکھ روپے کے عوض ضمانت منظور, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات تحت قائم مقدمے میں عدالت نے 7 سالہ بچے کی ایک لاکھ روپےکے عوض ضمانت منظور کی ہے۔

    صہیب خالد نامی بچے کو ایک ایسے مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے جو کہ ایران سے ملحقہ سرحدی ضلع کیچ میں سی ٹی ڈی یعنی کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ نے درج کیا ہے۔

    یہ مقدمہ ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں سی ٹی ڈی تھانے میں حقوق انسانی کے معروف کارکن گلزار دوست کے خلاف درج کیا گیا تھا جس میں ان کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔

    بچے کو مقدمے میں نامزد کرنے کی وجہ کیا بنی ؟

    سی ٹی ڈی مکران کی جانب سے تربت میں درج مقدمے کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ فورتھ شیڈول میں شامل گلزار دوست کی تقریر بچے صہیب خالد کی آئی ڈی سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شیئر کی گئی۔

    گلزاردوست کا شمار مکران میں حقوق انسانی کے معروف کارکنوں میں ہوتا ہے جنھوں نے بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کے خلاف چند سال قبل تربت سے کوئٹہ تک پیدل700 کلومیٹر طویل لانگ مارچ کیا تھا۔

    ان کا نام پہلے ہی فورتھ شیڈول میں شامل تھا تاہم چند روز قبل تربت شہر میں فدا شہید چوک پر ایک تقریر کے بعد ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    ایف آئی آر کے مطابق گلزار دوست کی ویڈیو صہیب خالد کی آئی ڈی سے اپ لوڈ ہونے کے بعد اسے شکیل مراد نامی شخص نے واٹس ایپ گروپ میں شیئر کرکے مزید وائرل کردی۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق اس ویڈیو سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوئی اور یہ مبینہ طور پر نوجوانوں کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کی باعث بنی۔

    مقدمے کے نامزدگی کے بعد بچے کی ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا۔

    گلزار دوست کے خلاف جس مقدمے میں بچے کو نامزد کیا گیا ہے اس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کو شامل کیا گیا ہے۔

    بچے کے وکیل جاڑین دشتی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ مقدمے میں دہشت گردی کے دفعات شامل ہونے باعث بچے کی ضمانت کے لیے تربت میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رجوع کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا ہماری درخواست پر عدالت کے جج نثار علیزئی نے بچے کی ایک لاکھ روپے کی ضمانت منظور کی۔ رابطہ کرنے بچے کے والد محمد خالد نے بتایا کہ ان کا بچہ دوسری جماعت کا طالب علم ہے اور ان کی عمر بہت کم ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شاید بچے کی عمر کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی باعث ان کے نام کو شامل کیا گیا۔

  12. جنسی ہراسانی کیس: کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو کیخلاف محتسب عدالت کا فیصلہ معطل، فریقین کو سندھ ہائیکورٹ سے نوٹسز جاری, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

    سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مونس عبداللہ علوی کے خلاف صوبائی محتسب اعلیٰ کے فیصلہ کو معطل کر دیا ہے۔

    واضح رہے کہ کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مونس عبداللہ علوی کو صوبائی محتسب اعلیٰ نے سابق کولیگ کو ہراساں کرنے اور کام کی جگہ پر ناخوشگوار ماحول پیدا کرنے کا مرتکب ٹھہرایا تھا۔

    محتسب جسٹس (ر) شہناز طارق نے مونس علوی کو حکم دیا تھا کہ وہ مدعیہ کو 25 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کریں۔

    اس فیصلے کے خلاف کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے صوبہ سندھ کی ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ جس کے بعد عدالت نے صوبائی محتسب اعلیٰ کا فیصلہ معطل کردیا۔

    عدالت کی جانب سے محتسبِ اعلی، خاتون سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تمام فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے سماعت 8 آگسٹ تک ملتوی کردی۔

    دورانِ سماعت جسٹس فیصل کمال عالم نے ریمارکس دیے کہ ’اس ادارے کا کیا قانون ہے؟‘

    جس پر کے الیکٹرک کے سی ای او کے وکیل ایڈووکیٹ عابد زبیری نہ کہا کہ ’یہاں وفاقی قانون پر عملدرآمد ہوتا ہے صوبائی قانون نہیں ہے۔ اس ججمنٹ میں بہت سی خامیاں ہیں۔ پہلے بھی اس نوعیت کے کیس میں این آئی آر سی اور لیبر کورٹ کا مسئلہ تھا۔ محتسب کے پاس بھی واٹس ایپ کے میسجز بھی دکھائے گئے تھے۔

    ایڈووکیٹ عابد زبیری کا مزید کہنا تھا کہ ’صوبائی محتسب کے پاس اس شکایت کو سننے کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔‘

    واضح رہے کہ متاثرہ خاتون نے ’پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ، 2010‘ کے تحت شکایت دائر کی تھی۔

    متاثرہ خاتون نے مونس علوی اور کے الیکٹرک کے دیگر عہدیداروں کی جانب سے ہراساں کرنے، دھمکانے اور ذہنی اذیت پہنچانے کے الزام عائذ کیے تھے۔

    ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات

    متاثرہ خاتون کی جانب سے درج شکایت میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھیں اکتوبر 2019 میں ایک کنسلٹنٹ کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں 26 دسمبر 2019 کو سی ایم سی او کے طور پر کام کرنے پر راضی کیا گیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اپنی ملازمت کے دوران انھیں مونس علوی کی جانب سے نامناسب تبصروں اور افعال کا سامنا کرنا پڑا۔

    اپنی درخواست میں خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ انھیں رات کے وقت تنہا کافی یا رات کے کھانے پر مدعو کیا گیا جہاں تکلیف دہ اور بیہودہ تبصرے بھی کیے۔

    متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ مونس علوی نے ایسا ماحول پیدا کیا جہاں وہ خود کو مسلسل خطرے میں محسوس کرتی تھیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان پر مبینہ طور پر 24/7 دستیاب رہنے کا دباؤ ڈالا گیا اور اکثر ویک اینڈز پر انھیں ون آن ون میٹنگز کے لیے ایسے وقت بلایا جاتا تھا جب کوئی اور موجود نہیں ہوتا تھا۔

    محستب اعلیٰ کے تحریری فیصلے کے مطابق متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ مونس علوی ان کے سامنے اپنے پاؤں پھیلاتے، ایک ٹانگ صوفے پر رکھتے اور کبھی کبھی اپنے جرابیں، ٹائی اور جیکٹ اتار دیتے تھے، جو ان کی نظر میں’بہت غیر آرام دہ اور نامناسب‘ رویہ تھا۔

    محتسب کے حکم میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ مونس علوی نے جرح کے دوران اس رویے کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ نماز پڑھنے کے لیے ان کی موجودگی میں اپنی ٹائی، جرابیں اور جیکٹ اتارتے تھے۔ فیصلے میں اس رویے کو ’قابل مذمت اور ناقابل قبول‘ قرار دیا گیا، خاص طور پر خواتین ساتھیوں کی موجودگی میں۔

    تحریری فیصلے کے مطابق اپنے دفاع میں مونس علوی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کی ملازمت شکایت دائر کرنے سے ایک ماہ قبل ختم کر دی گئی تھی اور یہ الزامات ملازمت کے خاتمے کا بدلہ لینے اور ’غیر قانونی فوائد‘ حاصل کرنے کے لیے گھڑے گئے تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک پیشہ ور اور پرسکون شخصیت کے مالک ہیں اور کے الیکٹرک میں خواتین کے لیے مساوی مواقع کا کلچر ہے، نہ کہ ’پدرسری، جنسی اور جارحانہ رویوں کی گنجائش ہے۔

    محتسب نے مونس علوی کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ متاثرہ خاتون نے اپنی ملازمت کے خاتمے سے قبل ستمبر 2020 میں واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے بورڈ کے ایک رکن کو علوی کے ’نامناسب رویے‘ کے بارے میں شکایات کی تھی۔

    محتسب کے مطابق خاتون کو ان کی ’ناقص کارکردگی کے جھوٹے بہانے سے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انھوں نے آواز اٹھانے کی جرات کی تھی۔‘

    حالیہ فیصلہ بہت پریشان کن ہے: مونس علوی

    دوسری جانب مونس علوی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر کہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ تعلقات میں دیانت اور وقار کی اقدار کو برقرار رکھا اور وہ کام کی جگہ کو سب کے لیے محفوظ بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔

    فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالیہ فیصلہ ان کے لیے بہت پریشان کن ہے۔ اگرچہ وہ قانونی عمل اور اسے برقرار رکھنے والے اداروں کا احترام کرتے ہیں لیکن انھیں نیک نیتی کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ نتائج اس صورتحال کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے جس کا انھوں نے تجربہ کیا۔

    مونس علوی کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اپنے قانونی مشیر کے ساتھ اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپیل کے اپنے حق کو استعمال کریں گے۔

  13. یوکرین کے دارلحکومت کیئو پر روس کا ڈرونز اور کروز میزائلوں سے حملہ، 26 افراد ہلاک

    ،ویڈیو کیپشنیوکرین میں روسی حملے کے مناظر

    یوکرین میں حکام کا کہنا ہے کہ کیئو کے متعدد اضلاع پر روسی ڈرونز اور میزائلوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے جن میں تین بچے بھی شامل ہیں، جبکہ اس روسی حملے میں 159 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    روس کی جانب سے اس ڈرون حملے میں ایک کثیر منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک چھ سالہ بچہ اور اس کی ماں بھی شامل ہیں جبکہ یوکرین کے دارالحکومت میں دو درجن سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یوکرین کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ حملے میں تین بچے ہلاک اور 16 زخمی ہوئے ہیں۔ کیئو کے میئر نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایک رات میں زخمی ہونے والے بچوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے باوجود روسی حملے جاری ہیں کہ اگر ولادیمیر پوتن 8 اگست تک جنگ بندی پر راضی نہ ہوئے تو ماسکو پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

    یوکرین کی وزارت داخلہ نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امدادی کارکنوں نے سویتوشینسکی ضلع میں رہائشی عمارت کے ملبے سے 10 لاشیں نکالی ہیں جن میں دو سالہ بچے کی لاش بھی شامل ہے۔

    Roman Petushkov/Global Images Ukraine

    ،تصویر کا ذریعہRoman Petushkov/Global Images Ukraine

    اقوام متحدہ میں امریکہ کے قائم مقام نمائندے جان کیلی نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ اب معاہدہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ یہ کام 8 اگست تک کیا جانا چاہیے۔

    یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے رات کے وقت 309 ڈرون اور آٹھ کروز میزائل داغے۔ اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے اکثر کو تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن کروز میزائلوں سمیت متعدد ڈرونز نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔

    روس نے میدان جنگ میں مزید کامیابی کا دعوی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس نے مشرقی ڈونیٹسک خطے میں سٹریٹجک طور پر اہم پہاڑی چوٹی کے قصبے چسیو یار پر قبضہ کرلیا ہے۔

    تاہم، یوکرین نے اس بات کی تردید کی ہے اور فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہاں ابھی لڑائی جاری ہے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  14. رحیم یار خان میں کچے کے ڈاکوؤں کا پولیس چوکی پر حملہ، پانچ اہلکار ہلاک

    Abdul Khaliq Soomro

    ،تصویر کا ذریعہAbdul Khaliq Soomro

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں شیخانی پولیس پوسٹ پر ڈاکوؤں کے حملے میں ایلیٹ فورس کے پانچ اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ایک ڈاکو مارا گیا۔

    پولیس کے مطابق 40 سے زائد ڈاکوؤں نے بھاری ہتھیاروں، دستی بموں، ہینڈ گرنیڈ اور راکٹ لانچرز سے چوکی شیخانی پر حملہ کیا جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آواروں میں سے 1 ڈاکو ہلاک ہوگیا۔

    ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں محمد عرفان، محمد سلیم، خلیل احمد، غضنفر عباس، نخیل حسین شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشیں شیخ زید ہسپتال منتقل کر دیں گئیں ہیں جہاں لاشوں کا پوسٹ مارٹم جاری ہے پولیس کا کہنا ہے پوسٹ مارٹم کے بعد اہلکاروں نمازِ جنازہ ’صادق شہید پولیس لائنز‘ میں آدا کی جائے گی۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صادق آباد کے قریب پولیس چوکی پر ڈاکوؤں کے حملے کیشدید الفاظ میں مذمت کی اور ہلاک ہونے والے 5 پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ’پولیس جوانوں نے تاریکی میں بزدلانہ حملہ کرنے والے ڈاکوؤں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں دیں۔ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف برسر پیکار پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔‘

    ترجمان پنجاب پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شیخانی پولیس پوسٹ پر ڈاکوؤں کے حملے کے بعد آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سینئر پولیس افسران کے ہمراہ رحیم یار خان میں جائے وقوعہ اور پولیس کیمپوں کا دورہ بھی کریں گے۔‘

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آئی جی پنجاب، سینئر پولیس افسران کے ساتھ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت بھی کریں گے۔

    AFP

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    کچے کا علاقہ کیا ہے؟

    دریائے سندھ جیسے جیسے جنوب کی جانب بڑھتا ہے اس کی موجوں کی روانی سست اور اس کی وسعت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے قریب اس کی وسعت اسے ایک بڑے دریا سے کئی ندی نالوں میں تبدیل کر دیتی ہے جن کے درمیان کئی چھوٹے چھوٹے جزیرے نمودار ہوتے ہیں جن تک رسائی ریتلی زمین اور سڑکوں کی عدم موجودگی میں مشکل ہوتی ہے۔

    اسی مشکل کو ڈاکو اپنی آسانی میں بدل کر یہاں پناہ گاہیں بنا کر آس پاس کے علاقوں میں دہشت پھیلاتے ہیں اور پولیس کی دسترس سے دور یہاں پناہ بھی لیتے ہیں اور وقت پڑنے پر قانون نافذ کرنے والوں کا مقابلہ بھی کرتے ہیں۔

    یہ ساحلی پٹی جنوبی پنجاب، بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے سنگم پر واقع ہے اور نوآبادیاتی دور سے ڈاکوؤں اور آزادی کے لیے لڑنے والے جنگجوؤں کے لیے چھپنے کا ٹھکانہ رہا ہے۔ یہ علاقہ مختلف عملداریوں کے درمیان واقع ہے جس کی وجہ سے یہاں تک قانون کی رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔

    جس کچے علاقے کی ہم بات کر رہے ہیں وہ جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان اور راجن پور کے درمیان کا علاقہ ہے۔

    یہاں کے رہائشی زمیندار میرل خان بتاتے ہیں کہ کہنے کو تو یہ بمشکل بیس سے تیس کلومیٹر کا علاقہ ہے جہاں دریائے سندھ کا پانی سارا سال موجود رہتا ہے لیکن ندی نالوں کے درمیان جزیروں پر ڈاکووں کی پناہ گاہوں تک پلوں کی عدم موجودگی میں پہنچنا مشکل کام ہے۔

    میرل خان کے مطابق اس علاقے کی ساخت ایسی ہے کہ کہیں جنگل ہے، کہیں پانی ہے اور کہیں خشکی۔ اسی لیے پولیس کے لیے یہاں کے ڈاکوؤں سے مقابلہ کرنا اور ان کا خاتمہ کرنا خطروں سے پُر ہوتا ہے اور عام طور پر پولیس کے لیے یہ 'نو گو ایریا' سمجھا جاتا ہے۔

  15. ایف اے ٹی ایف میں بتاؤں گا کہ خطے میں ہونے والی دہشت گردی میں انڈیا ملوث ہے: علی امین گنڈاپور

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے انڈین حکومت کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں کُچھ دن قبل دیے جانے والے بیان کو پاکستان کے خلاف بطور ثبوت جمع کروانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈین حکومت نے ایف اے ٹی ایف کو میرے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انڈیا آج سے نہیں ہمیشہ سے پاکستان اور اس پورے خطے کے اندر جتنی دہشتگردی ہو رہی ہے اس میں ملوث ہے۔ اب میں ایف اے ٹی ایف کو پہلے خط لکھ رہا ہوں اور پھر خود وہاں پر جاکر وضاحت سے بتاؤں گا کہ کشمیر میں اور گلگت بلتستان میں انڈیا نے کیا کیا ہے اور وہ اب بھی کیا کُچھ کر رہا ہے۔‘

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریکِ انصاف کے آفیشل فیس بُک پیج پر موجود اپنے ایک ویڈیو بیان میں 25 جولائی کو کہا تھا کہ ’ہم نے پولیس کے ذریعے آپریشن کر کے ان (گڈ طالبان، بیڈ طالبان) کو نکالا مگر بعد میں پھر انھیں لوگوں کو دوبارہ لایا گیا، جب وہ دوبارہ پکڑے گئے تو آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلی جنس) اور ایم آئی (ملٹری انٹیلی جنس) والوں نے پولیس سے انھیں چھڑوایا اور کہا کہ یہ ہمارے لوگ ہیں ہم ان کو استعمال کرتے ہیں۔ اب وہ لوگ پھر ذیادہ ہو گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا اپنے اسی بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’میں دوبارہ کہتا ہوں کہ اپنے وردی والے بندوں سے جنگ لڑیں۔ گڈ طالبان، بیڈ طالبان قبول نہیں، اگر آپ کو ان کی ضرورت ہے تو ان کو فوج میں بھرتی کر لیں پھر ان کو وردی میں کشمیر میں لڑاتے ہیں یا کسی اور محاذ پر لڑائیں ایسے شہروں میں یہ نہیں گھومیں گے، ان کے ذریعے جو آپ جنگ لڑنا چاہ رہے ہیں اس کی وجہ سے آپ اور عوام کے درمیان اعتماد ختم ہو رہا ہے۔‘

    علی امین گنڈاپور نے اپنے سابقہ بیان پر جاری وضاحت میں اب مزید کہا ہے کہ ’پورے پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں انڈیا ملوث ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے اندر انڈیا کے سفارتخانوں میں نہ تجارت ہو رہی تھی، نہ سرمایہ کاری ہو رہی تھی اور نہ سفارت کاری ہو رہی تھی۔ ان سفارتخانوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے کام کر رہے تھے۔‘

  16. 24 گھنٹوں میں خوراک کی تلاش میں مصروف 91 فلسطینی ہلاک، امریکی سفیر آج غزہ کا دورہ کریں گے

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف جمعے کو غزہ کا دورہ کریں گے اور خوراک کی تقسیم کے مراکز کا جائزہ لیں گے۔

    حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جمعرات کی سہ پہر سے قبل 24 گھنٹوں کے دوران 111 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں سے 91 کی جان امداد کی تلاش کے دوران گئی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ وٹکوف اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ساتھ علاقے کا دورہ کریں گے اور ’مزید خوراک کی فراہمی اور غزہ کے مقامی باشندوں سے ملنے کے منصوبے کو محفوظ بنائیں گے تاکہ سنگین زمینی صورتحال کے بارے میں درست حقائق سے متعلق آگاہی حاصل کی جا سکے۔‘

    پریس سیکریٹری نے مزید کہا کہ وٹکوف، جو اسرائیل کے دورے پر ہیں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ بھی ’نتیجہ خیز‘ اور اہم ملاقات کی ہے۔

    ہسپتال کے ایک ڈائریکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کے روز شمالی غزہ میں ایک کراسنگ کے قریب کھانے کے انتظار میں موجود 50 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔

    فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زکم کراسنگ کے قریب پیش آنے والے اس واقعے میں زخمی ہونے والوں کو گاڑیوں پر غزہ شہر کے الشفا ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے امدادی لاریوں کے ارد گرد جمع ہجوم پر فائرنگ کی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے ’وارننگ شاٹس‘ فائر کیے لیکن انھیں کسی جانی نقصان کا علم نہیں ہے۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی حکام نے دھمکی دی ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تو وہ حماس کے خلاف نئے تادیبی اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان میں غزہ کے کچھ حصوں کو ضم کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

    اپنے سفیر کی اسرائیل آمد کے فورا بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کا تیز ترین حل حماس کے لیے ہتھیار ڈالنا اور یرغمالیوں کو رہا کرنا ہے!!‘

    غزہ میں وزارت صحت نے جمعرات کے روز کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائی میں 111 فلسطینی ہلاک اور 820 زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک علیحدہ بیان میں وزارت نے کہا کہ گزشتہ روز غذائی قلت سے دو افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد جنگ کے آغاز سے اب تک غذائی قلت سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 159 ہوگئی ہے جن میں 90 بچے بھی شامل ہیں۔

    الشفا ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سالمیہ نے جمعرات کی صبح بی بی سی کو بتایا کہ انھیں بدھ کے روز زکم کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے میں ہلاک ہونے والے 54 افراد کی لاشیں اور 412 زخمیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  17. پٹرول کی قیمت میں 7 روپے 54 پیسے فی لیٹر کمی، ڈیزل مزید مہنگا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 7 روپے 54 پیسے فی لیٹر کمی کردی جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل ایک روپے 48 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق 7 روپے 54 پیسے فی لیٹر تنزلی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 264 روپے 61 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 285 روپے 83 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔

    پٹرول کی قیمت میں یہ کمی مسلسل چار بار اضافے کے بعد کی گئی ہے۔

    Petrol

    ،تصویر کا ذریعہFinance Division

  18. امریکہ کی جانب سے انڈیا کی آٹھ کمپنیوں پر پابندی عائد، پانچ انڈین شہری بھی پابندیوں کی ذد میں, شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

    India USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے ایران کے تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پٹرو کیمیکل کی تجارت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے انڈیا کی چھہ کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2018 کے ایک حکم نامہ کے تحت پانچ انڈین شہریوں کے خلاف بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو ایران کے محمد حسین شمخانی کی شپنگ کمپنی کی تجارتی سرگرمیوں میں شریک تھے۔

    شمخانی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کے ایک اعلی سیاسی مشیر علی شمخانی کے بیٹے ہیں اور بہت بڑی شپنگ کمپنی کے مالک ہیں۔

    امریکہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی تفصیل کے مطابق انڈین کمپنیوں کے نام ’کنچن پولیمرز ، ال کیمکل سولیوشنس، رمنیک لال ایس گوسالیہ اینڈ کمپنی ، گلوبل انڈسٹریل کیمکلز، پرسسٹینٹ پیٹرولیم اور جیو پیٹر ڈائی کیم ہیں۔

    بیان کے مطابق یہ کمپنیاں ایرانی پیٹرو کیمیکل درآمد کررہی تھیں جن کی تجارت پر امریکہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔

    انڈیا کی دو اور کمپنیوں ’اینسا شپ مینیجمنٹ ‘ اور ’شری جی جیمس‘ پر حسین شمخانی نیٹ ورک سے تجارتی روابط رکھنے کے لیے پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    محمکمہ تجارت اور فارین ایسٹس کنٹرول نے حسین شمخانی کی شپنگ کمپنی کے 50 سے زیادہ بحری جہازوں اور تقریبآ 50 اہلکاروں پر پابندی عائد کی ہے جن میں پانچ انڈین شہری بھی ہیں ۔ ان کے نام محمد رفیق حبیب اللہ ، جیکب کورین ، انل کمار پناکل ، نارین نائر ، پنکج ناگ جی بھائی پٹیل اور الیاس جعفر بتائے گئے ہیں۔

    جن انڈین کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ نسبتآ چھوٹی کمپنیاں ہیں۔

    امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ان کمپنیوں نے 2024-25 میں مجموعی طور پر 221 ملین ڈالر کے پیٹرو کیمکل مصنوعات ایران سے خریدے اور انھیں فروخت کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے تیل کی تجارت کرنے والی کمپنیوں پر یہ پابندیاں ایران کے تیل کی برآمد کے نظام کو مفلوج کرنے کے اقدامات کے طور پر لگائی ہیں۔

    امریکی حکومت کی طرف سے عائد کی گئی ان پابندیوں کے تحت امریکی حکام امریکہ میں ان کمپنیوں اور افراد کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ ایران کے زر مبادلہ کا ایک بڑا حصہ تیل کی فروخت سےحاصل ہوتا ہے۔

    ایران کی خبر رساں ایجینسیوں کے مطابق ایران کی نیشنل پیٹرو کیمیکل کمپنی کے سربراہ حسن عباس زادہ نے اعلان کیا تھا کہ 2024-25 میں ایران نے 13 ارب ڈالر کے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات برامد کی تھیں۔

    ایران سے ہونے و الے 2015 کے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں ‏عائد کی ہیں۔

    امریکہ نے ایران سے پٹرول کی تجارت کے سلسلے میں انڈیا کے علاوہ چین، متحدہ عرب امارت ، ترکی اور انڈونیشیا کی کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی ہے ۔ امریکی محکمہ تجارت نے ایرانی تیل کی سمگلنگ کے نٹورک کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

  19. نو ماہ منقطع رہنے کے بعد ضلع کرم کا زمینی رابطہ بحال, بلال احمد، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    پاڑہ چنار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم کا نو ماہ منقطع رہنے کے بعد زمینی رابطہ بحال ہوگیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں علاقے میں مسافر گاڑیوں پر حملے کے بعد علاقے میں فریقین کے درمیان مزید تصادم کو روکنے کے لیے روڈ کو بند کر دیا گیا تھا جس کے باعث مرکزی شہر پاراچنار میں اشیا خوردونوش اور دیگر اشیا کی قلت پیدا ہوگئی تھی۔

    حکومت نے عارضی طور پر پاڑہچنار کے لیے ہیلی سروس بھی شروع کی تھی جو کہ ناکافی تھی۔

    ’کبھی ہاسٹل کبھی ہوٹل اور کبھی رشتہ داروں کے گھر یہ دن گزارے‘

    حیدر علی تقریبا نو ماہ بعد اپنے علاقے پاڑہ چنار پہنچے ہیں وہ گزشتہ سال ستمبر میں اپنی پڑھائی کے سلسلے میں پشاور آئے تھے مگر علاقے کی صورتحال کے باعث وہ پشاور میں پھنس گئے تھے۔

    حیدر علی گزشتہ ایک سال پشاور میں گزارنے کو اپنی زندگی کے بد ترین دن قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی ہاسٹل کبھی ہوٹل اور کبھی رشتہ داروں کے گھر یہ دن گزارے۔

    ’اب شکر ہے کہ راستے بحال ہوگئے ہیں چونکہ ابھی بھی مین راستے پر آنے سے ڈر لگتا ہے اس لیے متبادل راستے سے مسافر گاڑیاں پاڑہ چنار آتی ہیں۔‘ حیدرعلی کریمنالوجی میں دوسری سال کے طالب علم ہیں۔

    ’روزانہ بیس سے بائیس مسافر گاڑیاں پاڑہ چنار آتی ہیں‘

    علی انور پاڑہ چنار پشاور اڈا کے منشی ہیں۔ ان کے مطابق روڈ کھلے ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا ہے اس سے پہلے کانووائے کے ذریعے مسافر اور اشیائے خوردونوش آتے تھے اب جب سے روڈ کھلا ہے روزانہ بیس سے بائیس مسافر گاڑیاں پاڑہ چنار آتی ہیں۔

    ان کے مطابق ’فی الحال روڈ صبح نو بجے سے تین بجے تک کھلا ہے امید ہے جلد ہی 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا اعلان کیا جائے گا۔ اشیائے خوردونوش کی گاڑیاں مین ٹل پاڑا چنار روڈ والا راستہ ہی استعمال کرتے ہیں۔‘

    سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت روڈ کو مخصوص ٹائم کے دورانیہ کے لیے کھولا ہے: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر

    اس حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کرم عامر نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ مین روڈ کو سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے بند کرنا مجبوری تھی۔ اب باقاعدہ ایک سیکیورٹی پروٹوکول کو فالو کرکے روڈ کو ایک مخصوص ٹائم کے دورانیہ کے لیے کھولا ہے۔

    عامر نواز کے مطابق جو لوگ متبادل راستہ استعمال کررہے ہیں وہ اپنی مرضی سے کررہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں چونکہ متبادل راستہ زیادہ تر اہل تشیع فرقے سے تعلق رکھنے والوں کا علاقہ ہے اس لیے ان کا رجحان وہاں زیادہ ہے حالانکہ اشیائے خوردونوش کے ساتھ دوسری گاڑیاں مین روڈ ہی استعمال کرتی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ دسمبر میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد حکومت نے ضروری سمجھا کہ اب علاقہ کی سطح پر بھی جرگہ کیے جائیں اور ان کو بھی اعتماد میں لیا جائے جو کہ کامیابی سے جاری ہیں ان کے مطابق علاقے میں حالات نارمل ہیں۔

    متبادل راستہ کون کونسا ہے؟

    حالات جب معمول کے مطابق تھے تو گاڑیاں مین ٹل پاڑہ چنار والے راستہ پر چلتی تھی پھر حالات خراب ہونے کے بعد کئی ماہ تک صرف اشیائے خوردونوش کانوائے کی صورت میں جاتے تھے جس پر بھی دو تین بار حملہ ہوا تھا۔

    اب جبکہ حکومت کی طرف سے روڈ کھولا گیا ہے تو پاڑہچنار جانے والی مسافر گاڑیاں بگن سے آگے شورکو روڈ کا علاقہ جو کہ چنار کلے، شورکو، ٹنگئی، منڈاؤ سے ہوتے ہوئے علیزئی کے مقام پر ختم ہوتا ہے راستہ استعمال کرتی ہیں جبکہ مسافر گاڑیاں صدہ، پیر قیوم اور کھڑکئی کے راستے سے اب بھی اجتناب کرتی ہیں۔

    اس سال جنوری میں گرینڈ جرگہ نے امن معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں اہل تشیع فرقے کی مسافر گاڑیوں پر حملہ کیا گیا جس کے بعد اہل سنت کے گاؤں بگن پر حملے کیے گئے جس کے بعد حکومت نے علاقے کی صورتحال کی وجہ سے روڈ کو بند کردیا گیا تھا۔