فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ’آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہی اس صورتحال کو سیاسی حل فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے اور ایک ایسی صورتحال جس کو روکنا ضروری ہے۔‘
توقع کی جارہی ہے کہ فرانس آج اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔
ایمانویل میکخواں نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ (فلسطین کو آزاد ریاست) تسلیم کرنا ایک سیاسی عمل کا آغاز ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کے فوراً بعد وہ جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ تک انسانی امداد کی بحالی کی توقع رکھتے ہیں۔
فرانس کے صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ان کا مطالبہ اور غزہ میں جاری جنگ پر ان کے اعتراضات یہود مخالف نہیں ہیں۔
انٹرویو میں ایمانویل میکخواں نے یہ بھی کہا کہ فرانس میں امریکی سفیر چارلس کشنر، جن کے بیٹے کی شادی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سے ہوئی ہے، ان پر فرانس میں یہود مخالف صورتحال سے نمنٹے کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کرنے کا الزام لگانا ہے۔
اگست میں کشنر نے یہ بھی کہا تھا کہ فرانس کی خارجہ پالیسی کا موقف فرانس میں یہودیوں کے خلاف تشدد کے گھریلو واقعات سے جڑا ہوا ہے۔
فرانس نے کشنر کو ان کے ’ناقابل قبول‘ الزامات کی وجہ سے طلب کیا تھا۔
یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مزید ریاستیں بھی فلسطین کو علیحدہ ملک تسلیم کریں۔ تاہم جرمنی نے ابھی دو ریاستی حل سے متعلق اپنے فیصلے کو مؤخر کر دیا ہے۔
دو ریاستی حل اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے بین الاقوامی حمایت یافتہ فارمولا ہے۔
یہ مغربی کنارے اور غزہ میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کی تجویز پیش کرتا ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ یہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ ہوگا۔
اسرائیل دو ریاستی حل کو مسترد کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی حتمی تصفیہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کا نتیجہ ہونا چاہیے اور ریاست کا درجہ شرط نہیں ہونی چاہیے۔
فلسطینی اتھارٹی، جو 1990 کی دہائی میں امن معاہدوں کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی، دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے لیکن حماس ایسا نہیں کرتی کیونکہ وہ اسرائیل کے وجود کی مخالف ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اگر پناہ گزینوں کو واپسی کا حق دیا جائے تو وہ اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کیے بغیر 1967 کی ’ڈی فیکٹو‘ سرحدوں پر مبنی ایک عبوری فلسطینی ریاست کو قبول کر سکتی ہے۔
تنازع کو حل کرنے کی ابتدائی کوششوں میں اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں نے سنہ 1993 میں اوسلو امن معاہدے کے نام سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد امن مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرنا تھا۔ تاہم، بات چیت بالآخر ختم ہو گئی کیونکہ ہر فریق نے دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے۔