فرانس کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان: ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے‘
فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چند لمحوں کی دوری ہے اور پھر دنیا امن کو روک نہیں پائے گی ‘۔
خلاصہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی آئینی درخواستیں اعتراضات لگا کر واپس کر دیں۔
پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے سابق رکن جمشید دستی کو ملتان کی ایک مقامی عدالت نے جعلی ڈگری کیس میں سات سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ 'آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہی اس صورتحال کو سیاسی حل فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے اور ایک ایسی صورتحال جس کو روکنا ضروری ہے۔'
کراچی میں تین خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کی شام ساڑھے سات بجے وہ اپنے گھروں سے نکلے تھے اور رات کو اُنھیں قتل کیا گیا۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ نے فلسطینی ریاست کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر زمینی حملوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ غزہ شہر پر حملے میں اپنی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گی۔
بگرام ایئربیس کی حوالگی سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر افغان طالبان کا ردعمل: ’دوحہ معاہدے کے تحت امریکہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا پابند ہے‘
سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں سات شدت پسند ہلاک، افغان حکومت پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے: آئی ایس پی آر
لائیو کوریج
بریکنگ, فلسطینی صدر کا حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطینی
صدر محمود عباس جنھیں نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا نہیں دیا
گیا انھوں نے ویڈیو خطاب کے دوران مستقل جنگ بندی اور اقوام متحدہ کے ذریعے انسانی امداد تک رسائی کو یقینی
بنانے کا مطالبہ کیا۔
انھوں
نے ’بغیر کسی تاخیر کے‘غزہ اور مغربی
کنارے کی تعمیر نو کے آغاز کا بھی مطالبہ کیا۔
محمود عباس نے کہا کہ غزہ پر حکومت کرنے میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا، انھوں نے گروپ کو فلسطینی اتھارٹی کے سامنے
ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔
انھوں
نے وضاحت کی کہ ’ہم جو چاہتے ہیں وہ ہتھیاروں کے بغیر ایک متحد ریاست ہے۔‘
محمود
عباس
کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے تین ماہ کے اندر ایک عبوری آئین کا مسودہ تیار کیا جائے
گا تاکہ اقتدار کی درست منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انھوں
نے مزید کہا کہ اس کے بعد انتخابات بین الاقوامی مشاہدے کے تحت ہوں گے۔
انھوں
نے ان 149 ممالک
کی تعریف کی جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے اور جن ممالک نے نہیں کیا ان
سے ایسا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
محمود عباس نے اقوام متحدہ کی کانفرنس کے دوران منظور
کیے گئے کسی بھی امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی عرب
اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر بھی آمادگی کا اظہار کیا۔
’فلسطینیوں کے لیے ریاست کا قیام ایک حق ہے، انعام نہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں ’بستیوں
کی مسلسل توسیع‘ کا کوئی جواز پیش نہیں۔’
انھوں
نے متنبہ کیا کہ اس کے ساتھ ساتھ ’الحاق کے بڑھتے ہوئے خطرے‘ اور ’آباد کاروں کے تشدد میں اضافے‘ کو بھی روکنا چاہیے۔
اقوام
متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اس کا واحد حل وہ ہے جس میں دو آزاد اور خود
مختار ریاستیں باہمی طور پر تسلیم کی جائیں اور وہ بین الاقوامی برادری میں مکمل طور
پر ضم ہوں۔
انھوں
نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کے لیے ریاست کا قیام ’ایک حق ہے، انعام نہیں‘۔
انھوں
نے مزید کہا کہ ’ریاست سے انکار کرنا ہر جگہ انتہا پسندوں کے لیے ایک تحفہ ہوگا۔‘
دوسشی
جانب سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں اپنے
رہنما محمد بن سلمان کی جانب سے خطاب کیا۔
انھوں
نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر ایمانوئل میخواں کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا
اعادہ کیا کہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔
بریکنگ, فرانس کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان: ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے تصدیق کی ہے کہ
ان کی حکومت فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گی۔
انھوں
نے نیویارک میں اقوام متحدہ سے خطاب میں فرانس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے
کا اعلان کرنے سے قبل کہا کہ ’غزہ میں جنگ بند کرنے اور حماس کی جانب سے
حراست میں لیے گئے باقی 48 یرغمالیوں کو رہا کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘
ان
کا کہنا تھا کہ ’چند لمحوں کی دوری ہے اور پھر دنیا امن کو روک نہیں پائے گی ‘۔
انھوں
نے مزید کہا ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔‘
صدر میخواں نے سات اکتوبر کے حملوں کی مذمت کی اور کہا ہے کہ وہ خطے میں امن دیکھنا چاہتے ہیں
جو دو ریاستوں کو ساتھ ساتھ رہنے سے پیدا کیا جائے۔
فراسن
کے صدر کا کہنا تھا کہ ’جاری جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے‘۔ ’
انھوں
نے مزید کہا کہ ’ہر چیز ہمیں مجبور کرتی ہے‘ کہ اسے حتمی انجام تک پہنچائیں۔
اٹلی میں اسرائیل کے خلاف مظاہروں کے دوران جھڑپیں، متعدد شہروں میں نظام زندگی مفلوج, پال کربی، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہEPA
اٹلی میں اسرائیل کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے باعث مختلف شہروں میں سڑکیں، ریلوے اور بندرگاہیں بند کر دی گئیں۔ پیر کو مختلف یونینز کی جانب سے پورے ملک میں اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی تھی۔ میلان کے مرکزی سٹیشن کے اطراف ’فری فلسطین‘ کا نعرہ لگانے اور امریکی پرچم نذر آتش کرنے پر بھی جھڑپیں بھی ہوئیں۔
مظاہروں کے دوران میلان کی ایم فور میٹرو لائن کو بھی بند کر دیا گیا۔ مظاہرین کے ایک گروپ کی جانب سے پولیس کی جانب سٹریٹ سائن اور دھویں کے بم بھی پھینکے گئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔
اُدھر روم میں لگ بھگ 20 ہزار افراد نے مرکزی سٹیشن کے باہر ریلی نکالی۔
مارچ کرنے والوں نے دارالحکومت کے مشرق میں ایک مرکزی رنگ روڈ کو بلاک کر دیا۔ طلبہ نے ٹیورن یونیورسٹی کے ایک کیمپس کو بھی بلاک کر دیا۔ فلورنس میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالی اور اسرائیل کے خلاف نعرہ بازی کی۔
،تصویر کا ذریعہMARCO BERTORELLO/AFP
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں، جب برطانیہ، کینیڈا اور پرتگال سمیت یورپ کے مختلف ممالک نے فلسطین کو بطور آزاد ریاست تسلیم کر لیا ہے اور فرانس بھی جلد ہی اسے تسلیم کرنے والا ہے۔ اٹلی میں دائیں بازو کی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرے۔
کچھ عرصہ قبل اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے کہا تھا کہ ایسی ریاست کو تسلیم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
وزیر اعظم میلونی نے میلان میں احتجاجی مظاہروں کے دوران کے مناظر کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مظاہروں کا غزہ سے اظہار یکجہتی سے کوئی تعلق نہیں اور اس سے غزہ کے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
کون کون سے ممالک فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے جا رہے ہیں؟
اتوار کو برطانیہ، کینیڈا اور پُرتگال نے سرکاری طور پر
فلسطین کو بطور ایک ریاست تسلیم کر لیا ہے۔
آج فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اور سعودی ولی عہد محمد
بن سلمان کی مشترکہ میزبانی میں اقوامِ متحدہ میں کانفرنس ہو رہی ہے جس میں دیگر
ممالک بھی فلسطین کو بطور ایک ریاست تسلیم کر سکتے ہیں۔
جمعے کو فرانسسیسی صدر کے ایک مشیر نے کہا تھا کہ فلسطین
کو بطور ریاست تسلیم کرنے والوں میں یہ ممالک شامل ہوں گے:
فرانس
بیلجیئم
لکسمبرگ
انڈورا
مالٹا
سان مارینو
اقوامِ متحدہ کے 193 رُکن ممالک میں سے 75 فیصد فلسطین
کو پہلے ہی بطور ایک ریاست تسلیم کر چکے ہیں۔ جن ممالک نے یہ قدم اب تک نہیں
اُٹھایا ہے ان میں امریکہ، اسرائیل، اٹلی اور جرمنی بھی شامل ہیں۔
یورپی ممالک کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا معاملہ؛ اسرائیل کے ممکنہ اقدامات کیا ہو سکتے ہیں؟, رافی برگ، بی بی سی نیوز
برطانیہ اور دیگر ممالک کی طرف سے اتوار کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ اسرائیل کیا جواب دے گا۔
اسرائیل نے پہلے ہی اس اقدام پر شدید ردعمل دیا ہے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ وہ اس ہفتے کے آخر میں امریکہ سے واپسی کے بعد اپنا ردعمل دیں گے۔
سب نظریں اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب پر بھی ہیں کہ وہ اس موقع پر کیا بات کرتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھیں گے۔ حالانکہ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے اور دنیا کے کئی ممالک اسے فلسطینی ریاست کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ اسرائیل مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو ضم کر سکتا ہے جو کہ انتہائی متنازع اقدام ہو گا اور اس کا مطلب بین الاقوامی برادری کو براہ راست چیلنج کرنا ہو گا۔
یورپی حکام، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی اسرائیل کو اس کے خلاف خبردار کر چکے ہیں۔ یہ ممالک اسے اس تنازع کے دو ریاستی حل سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے 75 فیصد سے زائد ارکان مغربی کنارے کو فلسطینی ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔
اسرائیل کا طاقت ور اتحادی امریکہ اسے اسرائیل کے دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اپنے منصوبے کے لیے بھی نقصان دہ سمجھتا ہے۔
نتن یاہو جن پر غزہ کے معاملے پر پہلے ہی شدید بین الاقوامی دباؤ ہے۔ وہ ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں جو اتحادی حکومت کے لیے بھی قابل قبول ہو اور وہ بین الاقوامی برادری کے مزید ردعمل سے بھی بچ سکیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی پٹیشنز پر اعتراض، ’درخواست گزاروں نے ذاتی رنجش کی بنا پر درخواستیں دائر کیں‘, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کی آئینی درخواستیں اعتراضات لگا کر واپس کر دیں۔
درخواستوں پر یہ اعتراض لگایا گیا ہے درخواست گزاروں نے واضح نہیں کیا کہ مفاد عامہ کا کون سا سوال ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ کون سے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں؟
اعتراض میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں نے ذاتی رنجش پر آرٹیکل 184/3 کے غیر معمولی دائرہ کار کے تحت درخواستیں دائر کیں۔ اعتراض کے مطابق سپریم کورٹ کا ذوالفقار مہدی بنام پی آئی اے کیس ذاتی رنجش کی بنیاد پر آرٹیکل 184/3 کی درخواست دائر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے اختیارات کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھِیں۔
جسٹس طارق جہانگیری سمیت اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز نے انفرادی طور پر پٹیشنز دائر کی تھیں۔ دیگر ججز میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحاق خان شامل ہیں۔
درخواستوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ریاست پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قرار دیا جائے کہ انتظامی اختیارات عدالتی اختیارات پر حاوی نہیں ہوسکتے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پہلے سے تشکیل شدہ بینچ میں تبدیلی کرنے کے مجاز نہیں، چیف جسٹس اپنی منشا کے مطابق دستیاب ججز کو روسٹر سے الگ نہیں کرسکتے۔ چیف جسٹس اپنی منشا کے مطابق ججز کو عدالتی فرائض کی انجام دہی سے بھی نہیں روک سکتے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ یہ قرار دیا جائے کہ ایک ہائی کورٹ کے جج کو صرف آرٹیکل 209 کے تحت ہی کام سے روکا جا سکتا ہے.
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ہی ایک ساتھی جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی امور کی انجام دہی سے روک دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے منگل کو یہ حکم جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہونے سے متعلق درحواست کی سماعت کے دوران سنایا تھا۔
اس عدالتی حکم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کا ڈیوٹی روسٹر جاری کردیا گیا تھا اور اس روسٹر کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کا نام تمام بینچز سے نکال دیا گیا تھا۔
جعلی ڈگری کیس میں جمشید دستی کو سات برس کی قید کی سزا
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کے سابق رکن جمشید دستی کو ملتان کی ایک مقامی عدالت نے جعلی ڈگری کیس میں سات سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
این اے 175 مظفرگڑھ سے منتخب ہونے والے سابق ایم این اے پرالزام تھا کہ انھوں نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اپنی تعلیمی اسناد جعلی طور پر جمع کروائیں۔
الیکشن کمیشن کی درخواست پر عدالت نے تمام شواہد اوردلائل سننے کے بعد جرم ثابت ہونے پرانھیں سزا سنائی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن بھی سپیکر قومی اسمبلی کے ریفرنس پر جمشید دستی کو نااہل قرار دے چکا ہے۔ ان کے خلاف یہ مقدمہ کئی سال سے زیر سماعت تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ شفافیت کے تقاضے پورے کریں اوراگروہ ایسا نہ کریں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
جمشید دستی نے سزا کے فیصلے کو سیاسی انتقام قراردیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پرجاری بیان میں انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف یہ کارروائی مخالفین کی سازش ہے اور انھیں جان بوجھ کر انتخابی سیاست سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔
فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنا ہی تنازع کو سیاسی حل فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے: فرانسیسی صدر
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ’آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہی اس صورتحال کو سیاسی حل فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے اور ایک ایسی صورتحال جس کو روکنا ضروری ہے۔‘
توقع کی جارہی ہے کہ فرانس آج اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔
ایمانویل میکخواں نے بی بی سی کے امریکی پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ (فلسطین کو آزاد ریاست) تسلیم کرنا ایک سیاسی عمل کا آغاز ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کے فوراً بعد وہ جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ تک انسانی امداد کی بحالی کی توقع رکھتے ہیں۔
فرانس کے صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ان کا مطالبہ اور غزہ میں جاری جنگ پر ان کے اعتراضات یہود مخالف نہیں ہیں۔
انٹرویو میں ایمانویل میکخواں نے یہ بھی کہا کہ فرانس میں امریکی سفیر چارلس کشنر، جن کے بیٹے کی شادی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا سے ہوئی ہے، ان پر فرانس میں یہود مخالف صورتحال سے نمنٹے کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کرنے کا الزام لگانا ہے۔
اگست میں کشنر نے یہ بھی کہا تھا کہ فرانس کی خارجہ پالیسی کا موقف فرانس میں یہودیوں کے خلاف تشدد کے گھریلو واقعات سے جڑا ہوا ہے۔
فرانس نے کشنر کو ان کے ’ناقابل قبول‘ الزامات کی وجہ سے طلب کیا تھا۔
یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ مزید ریاستیں بھی فلسطین کو علیحدہ ملک تسلیم کریں۔ تاہم جرمنی نے ابھی دو ریاستی حل سے متعلق اپنے فیصلے کو مؤخر کر دیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہDawoud Abu Alkas via Reuters
،تصویر کا ذریعہDawoud Abu Alkas via Reuters
دو ریاستی حل کیا ہے؟
دو ریاستی حل اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے بین الاقوامی حمایت یافتہ فارمولا ہے۔
یہ مغربی کنارے اور غزہ میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کی تجویز پیش کرتا ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ یہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ ہوگا۔
اسرائیل دو ریاستی حل کو مسترد کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی حتمی تصفیہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کا نتیجہ ہونا چاہیے اور ریاست کا درجہ شرط نہیں ہونی چاہیے۔
فلسطینی اتھارٹی، جو 1990 کی دہائی میں امن معاہدوں کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی، دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے لیکن حماس ایسا نہیں کرتی کیونکہ وہ اسرائیل کے وجود کی مخالف ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اگر پناہ گزینوں کو واپسی کا حق دیا جائے تو وہ اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کیے بغیر 1967 کی ’ڈی فیکٹو‘ سرحدوں پر مبنی ایک عبوری فلسطینی ریاست کو قبول کر سکتی ہے۔
تنازع کو حل کرنے کی ابتدائی کوششوں میں اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں نے سنہ 1993 میں اوسلو امن معاہدے کے نام سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد امن مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرنا تھا۔ تاہم، بات چیت بالآخر ختم ہو گئی کیونکہ ہر فریق نے دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے۔
کراچی میں تین خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی میں تین خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سنیچر کی شام ساڑھے سات بجے وہ اپنے گھروں سے نکلے تھے اور رات کو اُنھیں قتل کیا گیا۔
محمد ظفر نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا ہے کہ خواجہ سرا سچل کے علاقے میں مختلف کمروں میں رہائش پذیر ہیں۔ 21 ستمبر کو واٹس اپ پر انھیں معلوم ہوا کہ ان کے تین ساتھیوں الیکس ریاست عمر 20 سال، جیئل اجن عمر 26 سال، اسما عمر 20 سال 24 ستمبر کو شام ساڑھے چار بجے یہ کہہ کر نکلے کہ وہ تینوں سپر ہائی وے بحریہ ٹاؤن کی طرف جا رہے ہیں۔
مدعی کے مطابق رات کو تقریباً دو بجے محمد جیئل کے نمبر پر کال کی تو کال تو جا رہی تھی لیکن اٹینڈ نہیں کر رہا تھا وہ مسلسل دوپہر ایک بجے تک کال کرتے رہے لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
درخواست گزار کے مطابق جب انھوں نے واٹس ایپ کھولا تو معلوم ہوا کہ ناگوری ٹاؤن کے لنک پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تینوں خواجہ سراؤں کو قتل کردیا ہے۔
اس سے قبل ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں کو ایک ایک گولی لگی ہوئی ہے ان میں سے دو کو سینے اور ایک خواجہ سرا کو سر میں گولی ماری گئی ہے۔
انھیں جائے وقوعہ سے گولیوں کے دو خول بھی ملے ہیں جس سے اندازہ ہے کہ انھیں یہاں ہی مارا گیا ہے، دو لاشیں قریب اور ایک لاش چند میٹر دور موجود تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کے سامان سے کوئی شناختی علامت نہیں ملیں ایک پرس میں کچھ ذاتی استعمال کی اشیا ملی ہیں جن میں استعمال شدہ ٹشو پیپر اور کچھ کنڈوم شامل ہیں۔
بقول ان کے جائے وقوعہ پر تو کوئی کیمرے نہیں تاہم سپر ہائی وے پر موجود کیمروں سے مدد لی جائے گی۔
ان کے مطابق تلاش ایپ کے ذریعے فنگر پرنٹس کی مدد سے دو خواجہ سراؤں کی شناخت کی گئی ہے جبکہ ایک خواجہ سرا کا نادرا کے پاس کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔ تاہم ان کے ساتھیوں نے ان کی شناخت اسما کے نام سے کی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران ایک خواجہ سرا کے انڈر گارمنٹس سے موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے جس کی فارنزک کرائی جا رہی ہے اس کے علاوہ جیو فینسگ اور سی ڈی آر کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔
کراچی میں فائرنگ سے صحافی امتیاز میر زخمی: بظاہر معاملہ ذاتی دشمنی کا لگتا ہے، پولیس, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
،تصویر کا ذریعہfacebook/imtiaz.mir.9
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ کے
نتیجے میں زخمی ہونے والے صحافی اور اینکر پرسن امتیاز میر کی حالت اب خطرے سے باہر
ہے۔
گذشتہ شب امتیاز میر
اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ کراچی کے علاقے ملیر کالا بورڈ کے قریب موٹر سائیکل سوار
مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے وقت امتیاز میر کے بھائی محمد صالح گاڑی
چلا رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے
کہ امتیاز میر کو تین جبکہ محمد صالح کو ایک گولی لگی۔ واقعے کے بعد انھیں نجی ہسپتال
منتقل کیا گیا۔
ابتدائی طور پر امتیاز
میر کو ونٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا تاہم کراچی پولیس کے ڈی آئی
جی فرخ لنجار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب امتیاز میر کی حالت خطرے سے باہر ہے اور
انھوں نے ہسپتال جا کر زخمی صحافی سے ملاقات بھی کی ہے۔
ڈی آئی جی لنجار کا
کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے جس کی مدد سے پولیس
ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بظاہر معاملہ ذاتی دشمن کا لگتا ہے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر
اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت صحافیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے
لیے پرعزم ہے اور ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
امتیاز میر گذشتہ ایک
دہائی سے صحافت کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ سندھی چینل آواز اور اردو چینل میٹرو پر حالات
حاضرہ پر پروگرام بھی کرتے ہیں۔ امتیاز میر بھی ان صحافیوں جنھوں نے اسرائیل کا دورہ
کیا تھا۔ تاہم ڈی آئی جی فرخ رضا کا کہنا ہے کہ اس حملے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
امتیاز میر کے ساتھ
زخمی ہونے والے ان کے بھائی محمد صالح کا بھی کہنا ہے کہ ان پر حملہ ذاتی دشمنی کی
وجہ سے کیا گیا ہے۔
اگر جوہری ہتھیار ترک کرنے پر اصرار نہ کریں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں: کم جونگ اُن کا ٹرمپ کو پیغام
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنکم جونگ اُن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی 2019 میں ہونے والی ملاقات کے دوران لی گئی ایک تصویر۔
شمالی کوریا کے
رہنما کم جونگ اُن کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا سے جوہری
ہتھیار ترک کرنے پر اصرار نہیں کریں تو ان سے بات ہو سکتی ہے۔
شمالی کوریا کی
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق، کم جونگ کا کہنا تھا کہ وہ
پابندیوں کے خاتمے کے بدلے میں اپنے جوہری ہتھیار کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
سنہ 2019 میں
ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب شمالی کوریا کے رہنما
نے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
سرکاری خبر رساں
ایجنسی کے مطابق، اتوار کے روز سپریم پیپلز اسمبلی سے خطاب کے دوران کم جونگ اُن کا
کہنا تھا کہ ’ذاتی طور پر، اب بھی میری ڈونلڈ ٹرمپ سے اچھی یادیں وابستہ ہیں۔‘
دوسری جانب بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے بجائے نیوکلیئر ہتھیاروں کی پیداوار منجمد کرنے پر معاہدہ ہوتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنوبی کوریائی صدر لی جے میونگ نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا ہر سال 15 سے 20 نئے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال جوہری تخفیف کے بجائے نئے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری منجمد کرنا زیادہ ’قابل عمل، حقیقت پسندانہ متبادل‘ ہوگا۔
فلسطینی ریاست کی تسلیم کو بہانہ بنا کر غربِ اردن کے علاقوں کو ضم کرنے کی کوشش نہ کی جائے: برطانیہ کا اسرائیل کو انتباہ
،تصویر کا کیپشنبرطانوری سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ جس طرح ہم اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں... اسی طرح ہمیں فلسطینیوں کے اپنی ریاست کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔
برطانیہ کی سیکریٹری
خارجہ یویٹ کوپر نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست
کو تسلیم کرنے کے جواب میں غربِ اردن کے مزید علاقوں کو ضم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
وہ پیر کے روز نیویارک
میں اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں شرکت سے قبل بی بی سی سے بات کر رہی تھیں۔ آج فرانس
اور دیگر یورپی ریاستیں بھی فلسطین کو تسلیم کرنے والی ہیں۔
اتوار کے روز برطانیہ،
کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اسے برطانوی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی کہا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم
بنیامن نیتن یاہو نے ان اعلانات کی مذمت کرتے ہوئے انھیں دہشت گردی کے لیے بڑا انعام
قرار دیا ہے۔
بی بی سی کی جانب
سے کوپر سے سوال کیا گیا کہ آیا انھیں اس بات کی فکر ہے کہ برطانیہ اور دیگر ممالک
کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے اقدام کو بہانہ بنا کر اسرائیل غربِ اردن کے
مزید علاقوں کو ضم کر سکتا ہے۔ اس پر کوپر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے اسرائیلی ہم
منصب پر واضح کر دیا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
کوپر کا کہنا ہے کہ
دونوں طرف موجود انتہا پسند دو ریاستی حل کے کسی بھی امکان کو ختم کرنے کی کوششوں
میں لگے ہوئے ہیں جبکہ برطانیہ دو ریاستی حل کے امکان کو بحال کرنا اپنی اخلاقی
ذمہ داری سمجھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ
منہ پھیر کر چلے جانا اور یہ کہنا کہ یہ کام تو انتہائی مشکل کام ہے بہت آسان ہے۔
’ہمیں لگتا ہے کہ جب
ہم اتنی تکالیف اور مصائب دیکھ رہے ہیں تو ایسا کرنا غلط ہو گا۔‘
ان کا مزید کہنا
تھا، ’جس طرح ہم اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں، اسرائیل کی ریاست کو... اسی طرح ہمیں فلسطینیوں
کے ریاست کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔‘
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں واضح کمی ہو رہی ہے: پی ڈی ایم اے پنجاب
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پنجاب میں قدرتی
آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے صوبے کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول
پر ہے جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں واضح کمی ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیلاب
سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔
دریاؤں کی صورتحال
ڈی جی پی ڈی ایم اے
عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں درمیانے سے نچلے درجے کی سیلابی صورتحال
برقرار ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گنڈا
سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 95 ہزار کیوسک جبکہ سلیمانکی کے مقام پر پانی کا
بہاؤ 81 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے چناب: مرالہ
کے مقام پر پانی کا بہاؤ 55 ہزار کیوسک جبکہ خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ
24 ہزار کیوسک ہے۔ قادرآباد اور ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ بالترتیب 29 ہزار اور 35
ہزار کیوسک ہے۔
پی ڈی ایم اے کے
مطابق پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 18 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے راوی: جسڑ کے
مقام پر پانی کا بہاؤ 6 ہزار کیوسک، شاہدرہ 9 ہزار کیوسک اور بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام
پر 28 ہزار کی کیوسک ہے۔ دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 30 ہزار
کیوسک ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب
کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کی رود کوئیوں میں بہاؤ نہیں ہے۔
فلپائن میں ’تباہ کن‘ سمندری طوفان کا خطرہ، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلپائن میں حکام نے
’تباہ کن‘ سندری طوفان کے پیشِ نظر ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
سپر ٹائفون راگاسا
230 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فلپائن کی جانب بڑھ رہا اور پیش گوئی ہے کہ یہ
طوفان آج فلپائن کے کم آبادی والے شمالی جزیروں سے ٹکرائے گا۔ بعد ازاں طوفان مغرب میں جنوبی
چین کی طرف بڑھے گا۔
فلپائن کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ راگاسا کے نتیجے میں تین میٹر سے اونچی لہریں پیدا ہونے کا خطرہ
ہے۔
دارالحکومت منیلا سمیت
ملک کے بیشتر حصوں میں سکولوں اور سرکاری دفاتر بند کر دیے گئے ہیں اور حکام نے خبردار
کیا ہے کہ طوفان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔
طوفان راگاسا
فلپائن کے دور افتادہ بابویان جزائر سے ٹکرائے گا۔ یہاں کی آبادی تقریباً 20
ہزار افراد پر مشتمل ہے جن میں سے اکثر غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ جزیرے تائیوان سے
تقریباً 740 کلومیٹر (460 میل) کے فاصلے پر واقع ہیں۔ راگاسا کے تائیوان سے براہ راست
ٹکرانے کا امکان نہیں تاہم طوفان کے باعث تائیوان کے مشرقی ساحل پر شدید بارشوں کی
پیش گوئی ہے۔
جنوبی اور مشرقی تائیوان
کے جنگلاتی علاقے پیر کی صبح سے بند کر دیے گئے ہیں، جب کہ کچھ فیری
سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے درمیان جوہری پروگرام منجمد کرنے کا معاہدہ سیول کو قبول ہو گا: جنوبی کوریائی صدر
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریائی صدر لی جے میونگ نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا ہر سال 15 سے 20 نئے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ ا
جنوبی کوریا کے صدر
نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے
درمیان شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے بجائے نیوکلیئر ہتھیاروں کی پیداوار منجمد کرنے
پر معاہدہ ہوتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
بی بی سی کو دیے
گئے ایک انٹرویو میں جنوبی کوریائی صدر لی جے میونگ نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا ہر
سال 15 سے 20 نئے جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال جوہری تخفیف
کے بجائے نئے نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری منجمد کرنا زیادہ ’قابل عمل، حقیقت پسندانہ
متبادل‘ ہوگا۔
،تصویر کا ذریعہBBC/ Hosu Lee
،تصویر کا کیپشنصدر لی شمالی کوریا کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس تناؤ میں کمی کے خواہشمند ہیں جو ان کے پیشرو یون سک یول کے دور میں پیدا ہوئی تھی۔
یاد رہے کہ سنہ 2022 میں شمالی کوریا نے خود کو جوہری طاقت قرار دے دیا تھا اور اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ کبھی بھی اپنے ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
پیانگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں سے دستبردار کروانے کی پچھلی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور 2019 سے شمالی کوریا نے مذاکرات کی کسی بھی دعوت کا مثبت جواب نہیں دیا ہے۔
لی جے میونگ کا کہنا ہے کہ ’جب تک ہم جوہری تخفیف کے طویل مدتی مقصد سے دستبردار نہیں ہوتے، میں سمجھتا ہوں کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل [پروگرام] کی ترقی کو روکنے کے واضح فوائد ہیں۔‘
صدر لی شمالی کوریا کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس تناؤ میں کمی کے خواہشمند ہیں جو ان کے پیشرو یون سک یول کے دور میں پیدا ہوئی تھی۔
جنوبی کوریا کے رہنما چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کم جونگ اُن کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کریں جو 2019 میں ٹرمپ کی پہلی میعاد کے دوران تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ مذاکرات اس وقت ناکام ہوئے جب امریکہ نے شمالی کوریا کو اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر افضل بٹی ’اغوا کاروں کے ہاتھوں قتل‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہSocial media
حکام کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان کے ضلع زیارت کے اسسٹنٹ کمشنرافضل بٹّی کو اغوا کاروں نے قتل کر دیا ہے تاہم ان کی لاش تاحال بازیاب نہیں کروائی جا سکی ہے۔
مقتول اسسٹنٹ کمشنر افضل بٹّی اور ان کے بیٹے کو گن مین اور ڈرائیور کے ہمراہ 10 اگست کو زیارت میں زاہزری کے مقام سے نامعلوم افراد نےاغوا کیا تھا، تاہم بعد میں اغوا کاروں نے اُن کے ڈرائیور اور گن مین کو چھوڑ دیا تھا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے افضل بٹی کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے قتل اور اغوا میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔
چند روز قبل اسسٹنٹ کمشنر اوران کے بیٹے کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پرآئی تھی جس میں وہ سرکاری حکام سے اپنی بازیابی کی اپیل کر رہے تھے۔
اتوار کی سہ پہر اسسٹنٹ کمشنر کی مبینہ لاش کی تصویر منظرعام پر آئی تھی، بی بی سی آزادنہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکا مگر زیارت کے تحصیلدار نور محمد نے رابطہ کرنے پر دعویٰ کیا کہ لاش اسسٹنٹ کمشنر ہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ قتل کے بعد لاش کو ہرنائی کے علاقے میں پھینکے جانے کی اطلاعات ہیں جہاں اس کی تلاش کام جاری ہے۔
اگرچہ سرکاری حکام نے مغوی اسسٹنٹ کمشنر کے قتل کی تصدیق کی تاہم ابھی تک ان کے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اسسٹنٹ کمشنرزیارت بلوچستان کے ایک عمر رسیدہ آفیسر تھے۔ ان کا تعلق پنجاب کے علاقے تونسہ شریف سے تھا۔
انھوں نے بلوچستان میں اپنی ملازمت کا آغازپٹواری کی حیثیت سے کیا تھا۔ بعد میں وہ ترقی پاتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر فائزہوئے۔
اغوا سے قبل وہ زیارت کی تحصیل زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ محمد افضل ایک فرض شناس، محنتی اور قابل افسر تھے۔
برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں: فلسطینی مشن
برطانیہ میں تعینات فلسطینی مشن نے برطانوی حکومت کی جانب سے فلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیے جانے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
فلسطین کے سفیر حسن زملت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’آج کا دن صرف فلسطین کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ برطانیہ کی جانب سے اس پرعائد ذمہ داری کی سنجیدگی کے ساتھ تکمیل کا دن بھی ہے۔
ان کے مطابق ’یہ دیرینہ مگر ضروری اعلان اس بات کا اعتراف ہے کہ برطانیہ نے بالآخر فلسطینی عوام کا اپنے وطن میں خود ارادیت، آزادی اور خودمختاری کے ناقابلِ تنسیخ حق سے صرف نظر کا خاتمہ کر دیا ہے۔
بیان کے مطابق ’یہ فیصلہ انصاف، امن اور تاریخی زیادتیوں کی اصلاح کی جانب ایک ناقابلِ واپسی قدم ہے۔ برطانیہ کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیل غزہ میں نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب یہ اعتراف عمل میں بدلنا چاہیے تاکہ نسل کشی کو روکا جا سکے اور بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھا جائے۔
ڈاکٹر زملت نے کہا کہ ’آج کا دن ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ، برطانیہ اور دنیا بھر میں، اس مقصد کے لیے کام جاری رکھیں گے کہ فلسطین ایک آزاد، خودمختار اور خوشحال ریاست کے طور پر اُبھرے اور ہمارے عوام کے تمام حقوق پورے ہوں۔‘
بریکنگ, ایک دہشتگرد ریاست کو مسلط کرنے کی تازہ ترین کوشش کا جواب امریکہ سے واپسی پر دوں گا: اسرائیلی وزیراعظم
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہو گی۔
کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’سات اکتوبر کے قتل عام کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے رہنماؤں کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ دہشتگردی کا بہت بڑا انعام دے رہے ہیں۔‘
’اور میرا آپ کے لیے ایک اور پیغام ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔ دریائے اردن کے مغرب میں فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو گی۔‘
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ’برسوں سے‘ انھوں نے’اس دہشت گرد ریاست‘ کے قیام کو روکا۔
اسرائیلی رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمارے ملک کے دل میں ایک دہشتگرد ریاست کو مسلط کرنے کی تازہ ترین کوشش کا جواب‘ وہ امریکہ سے واپسی پر دیں گے، جہاں وہ اس ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کریں گے۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کیا مطلب بنتا ہے؟, پال ایڈمز، بی بی سی نیوز
فلسطین ایک ایسی ریاست ہے جو موجود ہے اور نہیں بھی ہے۔ اسے بڑی حد تک بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ بیرون ملک سفارتی مشنز اور ٹیمیں جو اولمپکس سمیت کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لیتی ہیں۔
لیکن اسرائیل کے ساتھ فلسطینیوں کے دیرینہ تنازعے کی وجہ سے: بین الاقوامی سطح پر متفقہ سرحدیں نہیں، کوئی سرمایہ نہیں
اور نہ کوئی فوج ہے۔
اسرائیل کے فوجی قبضے کی وجہ سے مغربی کنارے میں 1990 کی دہائی میں امن معاہدوں کے بعد قائم ہونے والی فلسطینی اتھارٹی اپنی سرزمین یا عوام پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتی۔
غزہ، جہاں اسرائیل بھی قابض طاقت ہے کو ایک تباہ کن جنگ کا سامنا ہے۔
ایک قسم کی نیم ریاست کے طور پر اس کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے، اس کو تسلیم کرنا ناگزیر طور پر کسی حد تک علامتی ہے۔
یہ ایک مضبوط اخلاقی اور سیاسی بیان کی نمائندگی کرے گا لیکن زمینی حالات میں بہت کم تبدیلی نظر آئے گی۔ لیکن یہ علامتی طور پر بہت مضبوط پیغام ہے۔ جیسا کہ سابق وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے گذشتہ جولائی میں اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران نشاندہی کی تھی کہ ’برطانیہ پر دو ریاستی حل کی حمایت کرنے کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘