آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں پاسداران انقلاب کی جانب سے اردن میں فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعوی

اس سے قبل مسینٹکام نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔ دوسری جانب دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’ امریکہ کے آج علی الصبح حملوں کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

خلاصہ

  • سینٹکام نے اعلن کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر آدھی رات کے بعد، ایران کے خلاف 'سیلف ڈیفنس سٹرائیکس' شروع کی ہیں
  • یرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔'
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے
  • جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے منگل کے روز ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ اس کے پیشِ نظر مظفرآباد میں تمام مارکیٹس بند رہیں

لائیو کوریج

  1. ہم نے امریکی اڈوں پر ڈرون سے حملہ کیا: ایرانی فوج

    ایرانی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے ڈرون حملوں کی لہر کے ساتھ ’امریکی اڈوں اور امریکی پانچویں بیڑے کے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق، فوج نے ان حملوں کو جنوبی ایران کے باشندوں کے خلاف امریکی ’ہراساں کیے جانے‘ کے بعد ’جوابی اقدام‘ قرار دیا۔

    خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، خاتم الانبیا بیس

    خاتم الانبیا کے ہیڈکوارٹر جو کہ ایران میں جنگ کے انتظام کا انچارج ہے نے جنوبی ایران کے بعض حصوں پر امریکی حملوں کے ایک گھنٹہ بعد ایک بیان جاری کیا اور حملوں کی تفصیلات بتائیں۔

    بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران کی جانب سے ’مزید سخت ردعمل‘ دیا جائے گا۔

  2. پاسداران انقلاب کا بحرین میں امریکی بحریہ کے اڈے پر حملے کا اعلان، بحرین میں سائرن بج گئے

    بحرین میں خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

    بحرین کی وزارت داخلہ نے عوام پر زور دیا کہ وہ ’پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام پر جائیں۔‘

    اس سے قبل پاسداران انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے اڈے پر حملہ کیا۔

    تسنیم خبررساں ادارے نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’دشمن کے مذموم اقدام کے جواب میں، پاسداران انقلاب کی بحری افواج نے بحرین کے پانچویں بحری بیڑے پر صبح ڈھائی بجے ڈرون حملہ کیا‘۔

    بدھ کی صبح پاسداران انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’آج علی الصبح امریکہ نے جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملہ کیا، جس سے سرک میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہر کے ضلع بیمانی میں پانی کے دو ٹینک تباہ کر دیے، دشمن کے اس مذموم اقدام کے جواب میں، پاسداران انقلاب نے ایف آئی آر کی نیوی پر حملہ کیا۔‘

    پاسداران انقلاب کے بیان میں ’جھڑپوں کے جاری رہنے‘ کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ ’اگر برائی جاری رہی تو سخت ردعمل سامنے آئے گا۔‘

  3. پاسداران انقلاب کا شمالی خلیج فارس میں ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جاری فضائی لڑائی کے دوران ایک ایم کیو-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق ڈرون کا مقصد ’شمالی خلیج فارس کے آسمان سے میدان جنگ میں داخل ہونا اور مداخلت کرنا تھا۔‘

    ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے یہ کہا ہے کہ ڈرون ’جام کاؤنٹی، بوشہر صوبے کی فضا میں تباہ کیا گیا ہے۔ سینٹکام نے ابھی تک اس دعوے کا جواب نہیں دیا ہے۔

  4. امریکہ نے بدھ کی صبح ایران میں 20 اہداف پر حملے کیے: حکام

    جنوبی ایران میں بدھ کی صبح فضائی حملوں کے بارے میں فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے، امریکی حکام نے کہا کہ دیگر مقامات کے علاوہ حملوں میں ’20 اہداف‘ کو نشانہ بنایا گیا، جو بظاہر مختصر وقفوں پر تین لہروں میں کیے گئے تھے۔

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی شہروں جیسا کہ جسک اور بندر عباس کے آس پاس، مناب، سرک اور کوہ مبارک کے دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا، لیکن اس نے ابھی تک ان تنصیبات یا مقامات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں جن پر حملہ کیا گیا ہے۔

    تاہم ہرمزگان میں مقامی حکام نے اطلاع دی ہے کہ سرک کے دیہات میں پانی کے دو ذرائع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    امریکی حملوں کے بعد ضلع بیمانی اور کوہستک شہر میں پانی منقطع

    ہرمزگان پراونشل واٹر اینڈ ویسٹ واٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا ہے کہ آج صبح امریکی حملوں کے بعد ’سرک کاؤنٹی میں پانی کی تقسیم کا اہم انفراسٹرکچر‘ تباہ ہو گیا ہے۔

    عبدالحمید حمزہ پور نے کہا کہ ان حملوں میں، ’ضلع بیمانی میں دو سٹریٹجک آبی ذخائر کو نشانہ بنایا گیا اور مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔۔۔ جنھوں نے ضلع بیمانی اور کوہستک شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘

    ان کے مطابق، ’فی الحال، ضلع بیمانی اور کوہستک شہر کے تمام دیہات میں پانی کی تقسیم کا عمل روک دیا گیا ہے۔‘

  5. بریکنگ, ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر میزائل حملہ

    فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا ہے۔

    پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق ’اس نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹھوس ایندھن کے میزائلوں کے ذریعے ’چار اہم اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں امریکی فضائی اڈے پر F-35 لڑاکا جیٹ ہینگرز اور آرمی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ شامل ہیں۔

    ابھی تک امریکی ذرائع نے اس حملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

    اس سے قب خاتم الانبیاء کے ہیڈ کوارٹر نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ ایرانی حملے پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے مشترکہ طور پر کیے تھے۔

  6. بریکنگ, امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایران کے خلاف اپنی ’جوابی کارروائیاں‘ ختم کرنے کا اعلان

    سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر تہران کے وقت آدھی رات کے بعد، ایران کے خلاف ’سیلف ڈیفنس سٹرائیکس‘ شروع کی ہیں۔

  7. امریکہ کے ایران پر حملے، یہ کارروائی ’جوابی ردعمل‘ ہے: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران پر حملوں کے حوالے سے بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران میں کارروائی کی ہے۔

    سینٹکام نے ایک بیان میں کہا، ’یہ مشن بلا جواز ایرانی جارحیت کے تناسب میں ایک جواب ہے۔‘

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’تشدد کو بڑھاوا دینے والی امریکی حکومت نے آج علی الصبح جسک، سرک اور قشم کے کئی مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا اور شہری سپلائی کے پانی کے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے امریکی افواج سے تعلق رکھنے والے ایک اپاچی فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔

    سینٹکام نے کہا کہ گرائے گئے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے دونوں عملے کو ایک امریکی سمندری ڈرون کے ذریعے بچا لیا گیا۔

    یہ پہلا موقع تھا کہ امریکی فوج نے عوامی طور پر تصدیق کی کہ اس نوعیت کی کارروائی میں اس قسم کے جہاز کا استعمال کیا گیا۔

    امریکی صدر نے اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ’جس ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا اس میں دو پائلٹ شامل تھے، دونوں محفوظ ہیں اور زخمی نہیں ہوئے، تاہم امریکہ اس کا لازمی جواب دے گا۔‘

    ٹرمپ نے بعد میں اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ایران پر جوابی حملے ’بہت طاقتور‘ ہوں گے۔

    ایک ٹیلی فون انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے پر ردعمل دینا ’اہم‘ تھا۔

    ٹرمپ نے مزید کہا، ’یہ اس کا ردعمل ہے جو انھوں نے گزشتہ رات ہمارے ہیلی کاپٹر کے ساتھ کیا، اور میں سمجھتا ہوں کہ ردعمل بہت مضبوط ہونا چاہیے، اور موجودہ ردعمل اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

  8. ہم سفارت کاری کی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہم دیگر زبانوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں: عباس عراقچی

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’ہماری سرزمین کے قریب موجود غیر ملکی افواج کو ہمیشہ اپنے انسانی غلطیوں، سادہ اور غیر ارادی حادثات، یا حتیٰ کہ کراس فائر کی زد میں آنے کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔‘

    عراقچی کا کہنا ہے کہ ’ان خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ وہ ان علاقوں سے نکل جائیں۔‘

    ایرانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم سفارت کاری کی زبان میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہم دیگر زبانوں میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔‘

    اس سے قبل ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی ایکس پر اسی نوعیت کا ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم سفارت کاری کی زبان کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہم دیگر زبانیں کہیں زیادہ روانی سے بول سکتے ہیں۔‘

    یہ پیغامات امریکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھیں امریکی فوج نے مطلع کیا ہے کہ ایران نے گذشتہ رات آبنائے ہرمز پر گشت کے دوران ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب امریکہ اس حملے کا جواب دینا پڑے گا۔

    اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپاچی ہیلی کاپٹر کے حادثے سے متعلق ایک بیان جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر عمان کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہوا اور امریکی افواج نے اس کے دونوں پائلٹس کو بچا لیا۔

  9. مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں: اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک پیغام میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں حالیہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام کارروائیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اُنھوں نے ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’لبنان، ایران اور غزہ میں جنگ بندیوں کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے جس سے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والے راستوں کی بندش کے فیصلے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتا ہوں، اور ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ تمام گزرگاہوں کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے تاکہ بڑے پیمانے پر انسانی امداد غزہ تک تیزی، محفوظ طریقے سے اور بلا رکاوٹ پہنچ سکے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمد و رفت کے حقوق اور آزادیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘

    اس سے قبل لبنانی میڈیا نے ملک کے جنوبی شہر صور پر اسرائیل کی جانب سے تازہ فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کا کوئی فوجی حل نہیں۔ ’آگے بڑھنے کا واحد راستہ بات چیت اور مذاکرات ہیں۔‘

  10. آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین 10 محرم کے بعد کی جائے گی: ایرانی حکام

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں قائم ہیڈکوارٹر نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ ان کا جنازہ اور تدفین 10 محرم کے بعد کی جائے گی۔

    ادارے کے مطابق اس فیصلے کی وجہ ’ان دنوں ایران اور دنیا کے مختلف حصوں میں جاری مجالسِ عزا‘ کو قرار دیا گیا ہے۔

    گذشتہ ہفتے تہران میونسپلٹی کے نائب ڈائریکٹر برائے ثقافتی و سماجی امور نے کہا تھا کہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ممکنہ طور پر ’ذوالحجہ کے آخر یا محرم کے آغاز میں‘ ادا کی جائے گی۔

    محمد امین توکلی زادہ نے کہا تھا کہ ان تقریبات کی ذمہ داری پاسدارانِ انقلاب کے سپرد کی گئی ہے اور اس سلسلے میں تین دن کی ’عوامی ریلیوں‘ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

    ان کے مطابق، الوداعی تقریب کے بعد نمازِ جنازہ اور دیگر رسومات ادا کی جائیں گی جو تہران میں کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’دارالحکومت میں 1.5 کروڑ سے دو کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔‘

  11. گذشتہ رات ایران نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، اب ہمیں ردِ عمل دینا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ رات ایران نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر مار گرایا ہے۔

    اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’مجھے ابھی ہماری عظیم فوج نے آگاہ کیا ہے کہ گذشتہ رات ایرانیوں نے آبنائے ہرمز پر گشت کے دوران ہمارے ایک انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔‘

    امریکی صدر کے مطابق اس ہیلی کاپٹر میں دو پائلٹ سوار تھے جو اس واقعے میں محفوظ رہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’اس حملے کے جواب میں امریکہ کو لازماً ردّعمل دینا ہوگا۔‘

    اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپاچی ہیلی کاپٹر کے کریش سے متعلق ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر عمان کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہوا ہے اور امریکی افواج نے اس کے دونوں پائلٹس کو بچا لیا ہے۔

    سینٹکام کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر ’علاقائی پانیوں میں گشت‘ کر رہا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔

  12. اسرائیلی وزیرِ خزانہ کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد

    فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اُن کے ملک نے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور ناروے کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں تشدد کے باعث اسرائیل کے وزیرِ خزانہ پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    ژاں نویل بارو نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ آج اُن افراد کے خلاف پابندیاں لگائی گئی ہیں جو مغربی کنارے میں غیر قانونی آبادکاری اور پرتشدد واقعات کے لیے ذمہ دار ہیں۔

    بارو کا مزید کہنا ہے کہ ’اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ، آبادکار تنظیموں کے چار سربراہان اور 21 پرتشدد آبادکاروں کے فرانس میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘

    فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ خزانہ مغربی کنارے کے انضمام کی فعال حمایت کرتے ہیں اور کھل کر اس کا دفاع کرتے ہیں۔ ’وہ مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام، غزہ میں بستیوں کے دوباری قیام، اور فلسطینی اتھارٹی کو معاشی طور پر کمزور کرنے اور اس کے انہدام کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ً

    ان کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں عالمی برادری کی بھاری اکثریت کے لیے ناقابلِ قبول ہیں جو اب بھی دو ریاستی حل کے لیے پُرعزم ہے۔

    انتہائی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے سموٹریچ حالیہ مہینوں میں فرانس میں داخلے پر پابندی کا سامنا کرنے والے دوسرے اسرائیلی وزیر ہیں۔

    گذشتہ ماہ فرانس نے اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔

    اتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے اہم ارکان سمجھا جاتا ہے۔

    آئرلینڈ نے بھی حالیہ دنوں میں ان دونوں کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔

    برطانیہ نے گذشتہ سال جون میں ان دونوں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جبکہ سپین اور سلووینیا سمیت دیگر ممالک نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔

  13. ایران کے خلاف حالیہ حملے ’مزید طاقتور حملوں کی تیاری‘ ہے، اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف کا بیان

    اسرائیلی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر کا کہنا ہے کہ ان کی فوج \ایران پر ایک اور شدید اور دور رس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ً

    شمالی اسرائیل میں فیلڈ ٹریننگ مشقوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایران پر جو حملہ کیا ہے وہ ایک انتہائی بڑے اور طاقتور وار کی تیاری ہے۔‘

    اُنکا مزید کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور وہ ’حزب اللہ کو پہنچنے والے نقصان کو جاری رکھنے اور مزید بڑھانے کا سلسلہ‘ جاری رکھیں گے۔

  14. مارچ سے اب تک 3,666 افراد مارے جا چکے ہیں، لبنانی وزارتِ صحت

    لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے ملک کی وزارتِ صحت عامہ کی جانب سے جاری اعداد و مار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے آغاز کے بعد سے اب تک 3,666 افراد ہلاک اور 11,321 زخمی ہو چکے ہیں۔

    یہ تازہ ترین اعداد و شمار دو مارچ سے نو جون کے درمیان تک کے عرصے کے ہیں۔ اس سے قبل سوموار کے روز وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطقب ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3,637 جبکہ 11,188 زخمی رپورٹ کیے گئے تھے۔

  15. پشاور کے قریب فیڈرل کانسٹبلری کی چوکی پر حملے میں چھ اہلکار ہلاک، چار زخمی ہو گئے, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پشاور کے قریب فیڈرل کانسٹبلری کی ایک چوکی پر مسلح افراد کے حملے میں چھ اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے سینیئر پولیس حکام نے اس حملے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چھ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب سکیورٹی ذرائع نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ چوکی میں تعینات اہلکاروں نے حملے پر فوری جوابی کارروائی کی، جس میں چار حملہ آوروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے لیکن فرار ہوتے مسلح شدت پسند لاشیں ساتھ لے گئے ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور ایف سی کے چھ اہلکاروں کو بھی ساتھ لے گئے ہیں اور اس وقت علاقے میں آپریشن جاری ہے۔

    اسی دوران سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نام سے ایک پوسٹ بھی سامنے آئی، جس میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی۔

    یہ واقعہ پشاورکے قریب حسن خیل کے علاقے میں رات ایک سے دو بجے کے درمیان پیش آیا۔

    حسن خیل کا علاقہ نیم قبائلی علاقہ درہ آدم خیل کے قریب واقع ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر ہونے والے حملے میں ہلاک اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

    یاد رہے کہ حسن خیل میں ماضی میں بھی مسلح شدت پسندوں کی موجودگی پرسکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کی ہیں۔ اکتوبر 2025 میں حسن خیل پولیس سٹیشن پر حملہ ہوا جس میں حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی اور دو حملہ آور مارے گئے تھے۔

    اسی طرح مئی 2024 میں حسن خیل میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران پانچ شدت پسند مارے گئے تھے جبکہ ایک کیپٹن اور ایک حوالدار مارے گئے تھے۔

    اپریل 2026 میں بھی حسن خیل کے نواح میں سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا تھا جس میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

  16. جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے متعلق اطلاع دینے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان, نصیر چوہدری، صحافی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، سردار امان اور خواجہ مہران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے افراد کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مطلوب افراد کی موجودگی یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔

    سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ریاض مغل نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کالعدم تنظیم کے مذکورہ ارکان اس وقت روپوش ہیں اور پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔

    ان کے مطابق جو بھی شخص ان افراد کی موجودگی کے بارے میں اطلاع فراہم کرے گا، اسے حکومتی اعلان کے مطابق انعام دیا جائے گا۔

    دوسری جانب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال پر آج پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کاروباری مراکز بند رہے۔ مختلف شہروں میں بازاروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال دیکھی گئی جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہی۔

  17. ’ٹرمپ نے نظام کی تبدیلی کا وعدہ کیا تھا لیکن ایران کا اعتماد بڑھ گیا‘, جیریمی بوون، نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جب 28 فروری کو یہ تنازع شروع ہوا تو اسے کس طرح دیکھا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو، دونوں نے اس فوجی کارروائی کو تاریخی تناظر میں پیش کیا تھا۔

    نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ اپنی پوری سیاسی زندگی میں اس موقع کے منتظر رہے کہ جسے وہ اسرائیل کا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں اس کا مقابلہ کریں اور اب آخرکار انھیں ایک ایسا امریکی صدر ملا جو ان کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔

    ٹرمپ کو بظاہر یقین تھا کہ ایک فوری فتح ممکن ہے۔ انھوں نے ایرانی عوام سے کہا تھا کہ وہ لمحہ قریب آ رہا ہے جب وہ اپنے ملک کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

    اس کے بجائے، ایران ایک نئی قیادت کے ساتھ سامنے آیا۔ یہ وہ نظام کی تبدیلی نہیں جس کا ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا تاہم بہت سے سینیئر رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد، ایک نئی نسل نے ان کی جگہ لے لی۔

    وہ اب بھی گہری نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں لیکن پرانی قیادت کے مقابلے میں کم محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا اعتماد تنازع کے دوران ہونے والی پیشرفت سے بڑھا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں خلل کے اثرات سے۔

    یہ تبدیلی خطے کو نئے سرے سے شکل دینے میں مدد دے رہی ہے۔ اب صورتحال کا رخ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے واپس پلٹنا مشکل بلکہ شاید ناممکن ہے۔

    اس کے نتائج ایران اور اسرائیل سے کہیں آگے تک پھیل گئے ہیں اور خلیجی ممالک کو متاثر کر رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات جیسے ممالک، جن کی معیشتیں استحکام پر منحصر ہیں، پہلے ہی اس تنازع سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث نمایاں نقصان دیکھ چکے ہیں۔

  18. صور میں اسرائیلی حملے میں آٹھ افراد ہلاک: لبنانی میڈیا

    لبنان کے سرکاری نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ صور میں اسرائیلی حملے میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    لبنان کے سرکاری نشریاتی ادارے نے یہ اعدادوشمار دیتے ہوئے ملک کی وزارت صحت کا حوالہ دیا۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حملے کے بعد ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے جبکہ 32 افراد زخمی ہیں۔

  19. اسرائیل اور لبنان ’جلد‘ واشنگٹن میں مزید مذاکرات کریں گے: امریکی سفیر

    امریکہ کے بیروت میں سفیر مائیکل ایسا کے مطابق اسرائیل اور لبنان سے توقع ہے کہ وہ ’جلد‘ واشنگٹن میں مزید مذاکرات میں شریک ہوں گے، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    یاد رہے کہ 3 جون کو ہونے والے مذاکرات کے آخری دور کے نتیجے میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کی تجدید ہوئی تھی تاہم جیسا کہ ہم رپورٹ کر رہے ہیں، حملے جاری رہے ہیں۔

    مائیکل ایسا نے پیر کے روز بیروت میں لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کی، جس کے بعد امریکی سفیر نے کہا کہ حالیہ عسکری کشیدگی کے باوجود مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے اور عون کو بتایا کہ مذاکرات ’صحیح سمت‘ میں جا رہے ہیں۔

    مائیکل ایسا نے بعد ازاں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ برف پگھل چکی ہے اور ہم لبنان کو اس کے بحران سے نکالنے میں مدد جاری رکھیں گے۔‘

    کل امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر نشر ہونے والے بیان کے مطابق لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جاری بات چیت کا مرکز عدم جارحیت کے ایک معاہدے کے قیام پر ہے، جس کے بعد ’منصفانہ اور جامع امن‘ قائم کیا جائے گا۔

  20. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مار چ شروع, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، مظفر آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے بھمبر سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔

    مقامی پولیس کے مطابق لانگ مارچ میں حصہ لینے والوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ایک پولیس اہلکار کے مطابق مظاہرین برنالہ کوٹلی پلندری اور دیگر علاقوں سے میر پور اور رؤلاکوٹ پہنچ رہے ہیں جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار سڑکوں اور دیگر علاقوں میں پیٹرولنگ کر رہے ہیں۔

    میر پور سے مظاہرین راولاکوٹ کا سفر شروع کریں گے اور راولاکوٹ سے مظفر آباد کی جانب آئیں گے۔

    مظفر آباد میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر تمام مارکیٹیں بند ہیں، سرکاری دفاتر کھلے ہیں لیکن وہاں پر سرکاری اہلکار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ اور شہر میں واقع تمام پیٹرول پمپس بند ہیں۔

    شہر میں اگرچہ دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے لیکن اس کے باوجود نوجوان ٹولیوں کی شکل میں مخلتف چوراہوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ حکومت کشمیر نے حال ہی میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

    مظفر آباد کے ایک تاجر کا کہنا ہے کہ انھوں نے دوکان اپنی مرضی سے بند کی اور کسی تنظیم یا کسی گروپ نے انھیں ایسا کرنے کو نہیں کہا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے یا ہڑتال کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔

    تاجروں کے ایک دھڑے کے صدر حاجی عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کے حالات ماضی کے مقابلے میں مختلف ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب کوئی زبردستی دکان بند نہیں کروا سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ کوئی زبردستی ان کی دکانیں بند نہیں کروا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہڑتال سے روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور اس ہڑتال کی وجہ سے ہزاروں افراد جو مختلف ہوٹلوں میں یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔

    مظفر آباد میں ابھی تک حالات نارمل ہیں جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورت حال کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔