بنگلہ دیش میں انتخابات: ووٹوں کی گنتی جاری، جماعت اسلامی نتائج میں تاخیر پر نالاں اور بی این پی کا دھاندلی کا الزام

بنگلہ دیش میں 13 ویں قومی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی نے اپنے کارکنوں کو نتائج کے اعلان تک پولنگ سٹیشنز نہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ بی این پی اور جماعت اسلامی نے انتخابات میں کامیابی کے بھی دعوے کیے ہیں۔

خلاصہ

  • بنگلہ دیش میں مجموعی طور پر پُرامن پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری
  • انڈیا کی ڈیفنس کونسل نے مزید رفال طیاروں سمیت فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے 39 ارب ڈالرز کی منظوری دے دی
  • سپریم کورٹ نے 16 فروری سے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان کا طبعی معائنہ اور بیٹوں سے فون پر بات کروانے کا حکم دیا ہے
  • پاکستان میں گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد، نیپرا نے صنعتکاروں کے لیے بجلی سستی کر دی
  • وزیرِ اعظم کا اسلام آباد کی امام بارگاہ کا دورہ، خود کش حملہ آور کو روکنے والے عون عباس کے اہلِ خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    13 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بنگلہ دیش میں انتخابات: جماعت اسلامی نتائج میں تاخیر پر نالاں اور بی این پی کا دھاندلی کا الزام

    بنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش میں پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور ایسے میں ملک کی دو بڑی جماعتوں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کی جانب سے شکایات سامنے آنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    جمعرات کی رات ایک پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے رہنما نتائج کے اعلان میں ’تاخیر‘ پر نالاں نظر آئے۔

    جماعت کے امیر شفیق الرحمان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک ہماری معلومات ہے متعدد حلقوں میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور ہم آگے ہیں لیکن مقامی ریٹرننگ افسران اعلانات نہیں کر رہے، نتائج کو روک رہے ہیں، ہمیں نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟‘

    دوسری جانب بی این پی کے رہنما مہدی امین نے ایک پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی پر ’دھاندلی اور فراڈ‘ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس سب کے باوجود غیرسرکاری نتائج دیکھ کر لگ رہا ہے کہ لوگ جس جماعت سے محبت کرتے ہیں وہ عوامی حمایت سے دو تہائی نشستوں کے ساتھ حکومت بنائے گی۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’دھاندلی کر کے کچھ مخصوص امیدواروں ک کچھ مخصوص نشستوں پر جتوایا جا رہا ہے۔‘

  3. بنگلہ دیش کے عام انتخابات: پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری، بی این پی اور جماعت اسلامی کی جانب سے کامیابی کے دعوے

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہBangladesh Jamaat-e-Islami

    بنگلہ دیش میں 13 ویں قومی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی نے اپنے کارکنوں کو نتائج کے اعلان تک پولنگ سٹیشنز نہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    بی این پی اور جماعت اسلامی نے انتخابات میں کامیابی کے بھی دعوے کیے ہیں۔

    بی این پی الیکشن سٹیئرنگ کمیٹی کے ترجمان مہدی امین نے کارکنوں اور حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک پولنگ سٹیشنوں سے باہر نہ نکلیں۔

    اُنھوں نے حالات سازگار ہونے اور الیکشن جیتنے کی بھی اُمید ظاہر کی۔

    ڈھاکہ کے موضع بازار میں 11 جماعتی اتحاد کی جانب سے بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل احسان المحبوب زبیر نے کہا کہ ’لوگوں کی ایک بڑی تعداد صبح سے ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑی تھی، اس الیکشن کے موقع پر شہر کے لوگوں نے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔‘

    تاہم جماعت کی بریفنگ میں الزام لگایا گیا کہ کچھ حلقوں میں مسائل ہیں۔

    جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ اس کے ایجنٹوں کو بعض دیگر حلقوں میں بہت سے مراکز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور انھیں دھمکیاں دی گئیں۔

    بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن کے مطابق جمعرات کو ہونے والے 13ویں پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم میں دوپہر 2 بجے تک ملک بھر میں ووٹرز ٹرن آؤٹ 48 فیصد تھا۔ تاہم ابھی تک مجموعی ٹرن آؤٹ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے دعویٰ کیا ہے کہ 'یہ الیکشن ملکی تاریخ کا سب سے پرامن موقع تھا۔'

    انھوں نے کہا کہ 'یہ الیکشن ہمارے لیے بڑی خوشی اور جشن کا وقت ہے۔ اس کے ذریعے نئے بنگلہ دیش کے ایک بے مثال سفر کا آغاز ہوا ہے۔ یہ الیکشن ملک کی تاریخ کا سب سے پرامن تہوار تھا، اگر اس رجحان کو برقرار رکھا گیا تو ہماری جمہوریت عروج پر پہنچ جائے گی۔'

    الیکشن کے حوالے سے مختلف جماعتوں کی جانب سے کچھ شکایات کے باوجود کسی بڑے تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم کھلنا میں دو دھڑوں کے درمیان جھڑپ میں بی این پی رہنما کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

  4. عمران خان کو کسی ہسپتال داخل کیا جائے، تمام ملاقاتوں میں حکام سے صوبائی امور پر بات چیت ہوئی: سہیل آفریدی, اعظم خان، بی بی سی اُردو اسلام آباد

    تصویر

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی اور افغانستان سے متعلق کچھ امور پر اتفاق ہوا ہے۔

    اسلام آباد میں بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے واضح کیا کہ تیراہ سے زبردستی لوگوں کو نکالا گیا ہے اور اب میں نے یہ ہدایات دی ہیں کہ ان لوگوں کو معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ اپنا عزت سے گزر بسر کر سکیں۔

    صوبے میں فوجی آپریشنز سے متعلق انھوں نے کہا کہ ’میری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صوبے میں امن و امن کی بحالی اور افغانستان سے متعلق کچھ امور پر اتفاق ہوا ہے جن کے بارے میں ابھی تفصیلات سامنے نہ لانے پر اتفاق ہوا ہے۔‘

    وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ حکومت اور عسکری حکام سے ہونے والی ملاقاتوں میں صوبائی امور پر بات چیت ہوئی ہے اور انھوں نے پارٹی امور اور عمران خان سے متعلق بات نہیں کی ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ این ایف سی سمیت خیبر پختونخوا کا حق اسے دیا جائے گا تاہم حکومت نے اس مجبوری کا بھی ذکر کیا ہے کہ خزانے میں اتنے وسائل نہیں ہیں کہ فوری ادائیگیاں ہو سکیں۔

    آٹھ فروری کے احتجاج سے متعلق سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی میں پہلے احتجاج سے متعلق کنفیوژن تھی مگر بعد میں یہ اتفاق ہو گیا تھا کہ تحریک تحفظ آئین احتجاج کی کال دینے کی مجاز ہوگی۔

    ایک سوال پر سہیل آفریدی نے کہا کہ میں بطور وزیر اعلیٰ اپنے صوبے میں احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی کال نہیں دے سکتا اس وجہ سے کسی بھی ریلی یا مظاہرے سے میں نے خطاب بھی نہیں کیا۔

    ’عمران خان کو کسی ہسپتال میں داخل کیا جائے‘

    سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جو سرکاری میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں خود تسلیم کیا گیا ہے کہ عمران خان کی بینائی 10 سے 15 فیصد تک رہ گئی ہے، تاہم اس رپورٹ پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تاحال ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو مکمل معائنہ کی اجازت نہیں دی گئی۔

    سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرتے وقت نہ ان کے اہلخانہ کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان کے ذاتی معالج کو بلایا گیا، جو بدنیتی اور خوف کی عکاسی کرتا ہے۔

  5. انڈیا کی ڈیفنس کونسل نے مزید رفال طیاروں سمیت فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے 39 ارب ڈالرز کی منظوری دے دی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کی سربراہی میں ڈیفنس ایکوزیشن کونسل نے دفاعی فورسز کی صلاحیت میں اضافے کے لیے 39 ارب ڈالرز کی منظوری دے دی ہے۔

    جمعرات کو دہلی میں ہونے والے اجلاس میں اس بجٹ کی منظوری دی گئی، جس کے تحت مزید رفال لڑاکا طیارے انڈین فضائیہ میں شامل کیے جائیں گے۔

    خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈیا نے 114 رفال طیارے اور دیگر فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے 39 ارب ڈالرز کی منظوری دی ہے۔

    کونسل نے نئے میزائل اور سیٹلائٹ سسٹم خریدنے کے لیے بھی رقم کی منظوری دی ہے۔

    وزارت دفاع نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ اس کا مقصد فضائی قوت میں اضافہ اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج اور بحریہ کو بھی اپنی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں گے جبکہ کوسٹ گارڈز کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔

    وزارت دفاع نے جمعرات کو فرانس کے ساتھ 114 رفال لڑاکا طیاروں کی خریداری کے طویل عرصے سے زیر التوا معاہدے کی منظوری دے دی۔ اسی طرح کی خریداری کو تقریباً 13 سال قبل حتمی شکل دی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔

  6. ہم نے انڈیا کے خلاف نہ کھیلنے کا فیصلہ اس کھیل کو ہتھیار نہ بننے دینے کے لیے کیا تھا: ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہPCB

    ،تصویر کا کیپشنتصویر

    ترجمان پاکستان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ اس کھیل کو ہتھیار نہ بننے کے لیے کیا تھا۔

    جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں سیاست ملوث کرنا یا اس کو ہتھیار بنانا افسوسناک ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ انڈیا کرکٹ کو بنگلہ دیش کے خلاف ہتھیار بنانا چاہ رہا تھا۔ ہمارا فیصلہ کرکٹ میں سیاست کو نہ لانے دینے کے لیے تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے رواں ماہ کے آغاز پر بنگلہ دیش سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے 15 فروری کو کولمبو میں انڈیا کے ساتھ شیڈول ورلڈ کپ کا میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔

    پاکستان کا موقف تھا کہ بنگلہ دیش کے انڈیا میں کھیلنے سے متعلق سکیورٹی خدشات کو نظرانداز کر کے اسے کرکٹ ورلڈ کپ سے باہر کرنا ناانصافی تھی۔

    لیکن آٹھ فروری کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام اور پاکستان کرکٹ بورڈ حکام کی لاہور میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد پاکستان نے اپنا فیصلہ تبدیل کر کے انڈیا کے سااتھ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی۔

    پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جس کے بعد پاکستان نے انڈیا کے ساتھ میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  7. ایران جوہری تنصیب کے قریب زیر زمین سرنگوں پر مشتمل کمپلیکس مضبوط کر رہا ہے: سیٹلائٹ تصاویر میں انکشاف, بی بی سی ویریفائی

    سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے جوہری مقام کے قریب سرنگوں کے احاطے کو مضبوط کیا ہے۔

    ایران نطنز جوہری تنصیب کے جنوب میں تقریباً ایک میل کے فاصلے پر زیر زمین کمپلیکس کے داخلی راستوں کو مضبوط کر رہا ہے۔

    انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی (آئی ایس آئی ایس) کے تھنک ٹینک کی طرف سے تجزیہ کردہ سیٹلائٹ امیجز ماؤنٹ کولنگ گاز لا پر واقع کمپلیکس کو دکھاتی ہیں جسے پکیکس ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک سرنگ کے دروازے پر نیا کنکریٹ دکھائی دیتا ہے۔

    10 فروری کی تصاویر سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک اور سرنگ میں کنکریٹ سے مضبوط ڈھانچہ شامل کیا گیا ہے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہSatellite image ©2026 Vantor

    ،تصویر کا کیپشن18 ستمبر 2025 کو لی گئی تصویر
    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہSource: Satellite image ©2026 Vantor

    ،تصویر کا کیپشن10 فروری 2026 کو لی گئی تصویر

    آئی ایس آئی ایس کا کہنا ہے کہ جگہ کے ارد گرد بھاری تعمیراتی مشینری اور مواد کی جاری موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپلیکس ابھی تک آپریشن کے لیے تیار نہیں ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ برس ایران پر کیے جانے والے حملوں کو اس جوہری تنصیب کو نشانہ نہیں بنایا تھا جبکہ اس کے قریب نطنز جوہری پلانٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    آئی ایس آئی ایس نے اصفہان میں ایک جوہری مقام پر سرنگ کے داخلی راستوں کو مٹی ڈال کر بند کرنے کی سیٹلائٹ تصاویر کا بھی تجزیہ کیا ہے۔ اس مقام کو گذشتہ برس کے حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

  8. بنگلہ دیش کے عام انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم، ’آزاد اور منصفانہ‘ انتخابات کے دعوے اور الزامات

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بنگلہ دیش میں 13 ویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر میں اکا دکا بدامنی کے واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ پرامن رہی۔

    پولنگ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے شروع ہوئی اور ساڑھے چار بجے تک جاری رہی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ووٹرز ٹرن آؤٹ بہتر رہا ہے، تاہم نتائج کا باضابطہ اعلان جمعے کے روز تک متوقع ہے۔

    ان انتخابات کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ تھی جبکہ نوجوان ووٹرز کے کردار کو ان انتخابات میں فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اصل مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے مابین ہے۔

    بنگلہ دیش کی سیاست میں گذشتہ کئی دہائیوں سے اہم سمجھے جانے والی شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جس پر بعض ماہرین ان انتخابات کے منصفانہ ہونے سے متعلق سوال اُٹھا رہے ہیں۔

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا وعدہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن عوامی لیگ کا موقف ہے کہ ایسا نہیں ہو رہا۔

    عوامی لیگ کے ایک رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ عوامی لیگ کو نظرانداز کر کے ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کسی طور بھی ممکن نہیں ہیں۔

    خیال رہے کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت عوامی لیگ پر پابندی عائد کر دی تھی۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہTarekuzzaman Shimul/BBC Bangla

    لڑائی جھگڑے اور اموات

    دہائیوں بعد ایسا ہو رہا ہے کہ ان انتخابات میں ملک کی دو اہم سیاسی شخصیات یعنی شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا شامل نہیں۔

    ووٹرز ملک کے لیے صرف نئی حکومت کا انتخاب نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک آئینی ریفرنڈم کے لیے بھی ووٹ دیں گے جو فیصلہ کرے گا کہ آیا جولائی کے چارٹر، ایک وسیع اصلاحاتی پیکج پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں۔

    کھلنا میں مدرسہ پولنگ سٹیشن پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے مابین ہونے والی ہاتھا پائی کے دوران بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے محیب الزمان کوچی نامی رہنما ہلاک ہو گئے۔

    بی این پی کے مقامی رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ وہ لڑائی کے دوران دھکا لگنے سے نیچے گرے، جس کے بعد اُن کی ہلاکت ہوئی۔

    کھلنا میٹروپولیٹن کارپوریشن کے کمشنر محمد زاہد الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں جماعتوں کے مابین ووٹ مانگنے کے معاملے پر جمعرات کی صبح تکرار شروع ہوئی جو بعدازاں میں ہاتھا پائی اور دھکم پیل میں تبدیل ہو گئی۔

    اُن کے بقول اس دوران محیب الزمان کی حالت بگڑ گئی اور اُنھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

    دریں اثنا کھلنا-2 حلقے میں بی این پی کے امیدوار کے چیف ایجنٹ محمد منیر الزمان مونی نے بتایا کہ صبح آٹھ بجے کے قریب عالیہ مدرسہ کے قائم مقام پرنسپل محمد عبدالرحیم نے مدرسہ کی ووٹرز لائن میں جا کر جماعت اسلامی کے لیے مہم چلائی۔

    اُن کے بقول اس دوران کوچی نے اُنھیں روکا جس پر بحث چھڑ گئی اور مجیب الزمان کوچی کو دھکے دیے گئے۔ اُنھیں کھلنا سٹی میڈیکل کالج ہسپتال لیجایا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے اُنھیں مردہ قرار دے دیا۔

    برہمن باڑیا کے ضلع سریل میں سید سراج الاسلام آڈیٹوریم پولنگ سٹیشن پر ڈیوٹی کے دوران ایک پولنگ افسر بے ہوش ہونے کے بعد جان کی بازی ہار گئے۔

    یہ واقعہ جمعرات کی صبح تقریباً 7:45 بجے پولنگ شروع ہونے کے فوراً بعد پیش آیا۔

    پولنگ افسر کا نام محمد مجاہد الاسلام بتایا جاتا ہے اور ان کی عمر 48 سال تھی۔

    راجشاہی اور درگاپور میں بھی اُمیدواروں کے مابین تصادم کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے الزام عائد کیا ہے کہ کومیلا کے علاقے لکسام میں متعدد پولنگ سٹیشنز سے جماعتِ اسلامی کے پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا گیا ہے۔

    اُنھوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے حامیوں نے ان کے اپنے حلقہ ڈھاکہ میں منی پور گرلز اسکول کے مرکز میں ووٹنگ کے عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی، لیکن فوج کے اہلکار وہاں پہنچے اور حالات کو قابو میں کیا۔

    ان کا خیال ہے کہ مجموعی طور پر ووٹنگ کافی پرامن طریقے سے جاری ہے۔

  9. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس میں چار ہزار پوائنٹس کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور 100 انڈیکس میں بڑی کمی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران اب تک چار ہزار پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 78 ہزار 725 کی سطح تک گر گیا۔

    سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا اور اس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کمی کی وجہ مالیاتی نتائج میں توقعات سے کم فی شیئر آمدن اور شئیر ہولڈرز کو کم منافع کی تقسیم ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ بینکوں کے مالیاتی نتائج مارکیٹ توقعات سے کم رہے ہیں تو اس کے ساتھ جمعرات کو فرٹیلائزرز شعبے کی ایک بڑی کمپنی کی جانب سے بھی کم منافع کی تقسیم کا اعلان کی گیا ہے جس نے مارکیٹ میں منفی رجحان کو فروغ دیا اور جس کے باعث مارکیٹ میں کمی ہونا شروع ہوئی۔

    شہر یار بٹ نے بتایا کہ اس کے ساتھ نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی نے بھی مارکیٹ میں منفی رجحان کو پیدا کیا کیونکہ سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں میں سے بھی کافی نیٹ میٹرنگ نظام سے منسلک ہیں اور اب پالیسی میں تبدیلی سے ان پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

  10. پنجاب میں کم عمری میں شادی قابلِ سزا جرم قرار، شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر, سارہ حسن، صحافی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت نے کم عمری میں شادیوں کی روک تھام کے لیے شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے کا آرڈیننس جاری کیا ہے۔

    پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان کی جانب سے جاری کیے گئے آرڈیننس کے تحت کم عمری کی شادی کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

    پاکستان میں سندھ، بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی پہلے ہی شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے قانون کی منظوری دے چکی ہیں۔

    پنجاب میں قانون سازی کے بعد اب صرف خیبر پختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جہاں تاحال اس بارے میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ہے۔

    پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا ’پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس‘ 2026 صوبے بھرمیں نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    اس آرڈیننس کے بعد ’پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس‘ 1929 ختم ہو گیا ہے جس کے تحت مردوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال اور خواتین کے لیے 16 سال مقرر تھی۔

    آرڈیننس کے تحت کم عمری کی شادی کے بعد ہونے والے ازدواجی تعلقات کو ’چائلڈ ابیوز‘ یعنی بچوں کے ساتھ بدسلوکی قرار دیا گیا ہے جس کی کم سے کم سزا پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ سزا سات سال قید ہے اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قانون کے تحت عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ 90 دن کے اندر اندر سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنائیں۔

    نئے قانونی فریم ورک کے تحت نکاح خواں حضرات کم عمر جوڑوں کا نکاح رجسٹرڈ نہیں کر سکتے اور خلاف ورزی کی صورت میں انھیں ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    اسی طرح کسی بچے سے شادی کرنے اور کروانے میں معاونت میں ملوث افراد کو کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ تین سال کی جیل اورایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

    آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی سرپرست یا کوئی اور شخص قانونی حیثیت میں ہو یا غیر قانونی طور پر، کم عمری کی شادی یا بچوں کے استحصال کو فروغ دے، اسے انجام دینے کی اجازت دے، یا جان بوجھ کر یا غفلت کے سبب اسے روکنے میں ناکام رہے تو اسے زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

    آرڈیننس میں ان تمام چیزوں کو قابلِِ سزا جرم قرار دیا گیا جس میں ضمانت اور راضی نامہ بھی نہیں ہو سکے گا۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ قوانین میں تبدیلی کا مقصد پنجاب میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کو بہتر بنانا، شادی کی کم از کم عمر میں صنفی امتیاز کا خاتمہ کرنا اور بچوں کے استحصال کے خلاف قانونی تحفظ کو مضبوط کرنا ہے۔

  11. سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو گھر میں گرنے سے چوٹیں آئیں، سی ایم ایچ میں علاج جاری: آئی ایس پی آر

    قمر جاوید باجوہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اپنے گھر میں گرنے کے باعث زخمی ہو گئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سابق آرمی چیف کو گھر میں گرنے سے چوٹیں آئیں اور ان کا سی ایم ایچ میں علاج جاری ہے۔

    سنہ 2016 میں جب قمر جاوید باجوہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف بنے تو ان کی تقرری کسی سرپرائز سے کم نہیں تھی۔

    وہ سنیارٹی کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر تھے اور انھیں فیورٹ نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے خود انھیں اس عہدے کے لیے چنا تھا۔

    ان کی مدت ملازمت صرف نومبر 2019 تک تھی لیکن بعد میں تحریک انصاف کی حکومت میں انھیں تین سال کی توسیع مل گئی۔

  12. عمران خان کو لاحق آنکھوں کی بیماری کیا ہے؟

    عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کا دعویٰ کرتے ہوئے گذشتہ ماہ پاکستان تحریک انصاف نے کہا تھا کہ ان کی آنکھ کی رگوں میں ’خطرناک رکاوٹ‘ پیدا ہو چکی ہے۔

    پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’ڈاکٹروں کے مطابق یہ نہایت حساس اور سنگین طبی مسئلہ ہے، جس کا بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے۔‘

    اس کے کچھ روز بعد پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ’دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت‘ پر ایک آپریشن تھیٹر میں طبی علاج فراہم کرنے کی تصدیق کی تھی۔

    پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا تھا کہ عمران خان نے دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت کی تھی جس کے بعد ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص کی گئی تھی۔

    سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کیا ہے؟

    برطانیہ میں صحت عامہ کے ادارے این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق معمر افراد میں بینائی کمزور ہونے کی عمومی وجہ ریٹینل وین آکلوژن یعنی پردۂ چشم کی نس میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے جس سے وہاں خون کا لوتھڑا بن سکتا ہے۔

    آنکھ کے کالے حصے کے پیچھے واقع پتلی تہہ ریٹینا کہلاتی ہے جو کہ پرانے وقتوں کے کیمروں کی فلم جیسی ہوتی ہے۔ نس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے آنکھ سے خون یا دوسرے مائع ریٹینا میں لیک ہوتے ہیں جس سے زخم بنتے ہیں، سوجن ہوتی ہے یا آکسیجن کی قلت بھی ہوتی ہے۔ یوں روشنی جذب کرنے والی خلیات کے کام میں خلل پیدا ہوتی ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    این ایچ ایس کے مطابق یہ حالت 60 سال سے کم عمر افراد میں عام نہیں۔

    ریٹینل وین آکلوژن کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک سینٹرل رینیٹل وین آکلوژن کہلاتی ہے جس میں رکاوٹ مرکزی نس میں پیدا ہوتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق اس حالت میں بینائی زیادہ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔

    این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق اس حالت کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کالیسٹرول، گلاکوما، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور خون کی نایاب بیماریاں شامل ہیں۔

    ماہرین کی رائے ہے کہ اس حالت کی جلد تشخیص ضروری ہے تاکہ اس کا علاج ممکن ہو سکے۔

  13. ڈیرہ اسماعیل خان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن: ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو

    پولیس
    ،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)

    خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران مارے جانے والے چار پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔

    گذشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران چار شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ پولس کے ایس ایچ او سمیت چار اہلکار بھی مارے گئے۔

    اس حملے میں ڈی ایس پی حافظ عدنان سمیت تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    یہ واقعہ تحصیل پنیالہ کے قریب پیش آیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس نے بڈھ میں مسلح شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔

    ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ پولیس ٹیم کی واپسی پر مسلح شدت پسندوں نے گھنے جنگلوں کی آر سے فائرنگ کی، جس میں ایس ایچ او فہیم ممتاز سمیت چار اہلکاروں کی جان چلی گئی۔

    ایس ایچ او لکی مروت فہیم ممتاز نے گزشتہ سال اکتوبر میں پولیس سکول پر شدت پسندوں کے حملے میں بہادری کا مظاہرہ کیا تھا جس پر پولیس حکام کی جانب سے انھیں سند دی گئی تھی۔

    گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان میں درابن اور ضلع بنوں میں تھانہ ہوید پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں لیکن ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    لکی مروت میں پولیس کے مطابق امن کمیٹی کے رہنما اور فٹ بال گراؤنڈ پر دو الگ الگ مقامات پردھماکوں سے دو بچے اور ایک خاتون زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  14. پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے حکم پر فوری اور شفاف عملدرآمد کا مطالبہ

    سابق وزیراعظم کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کے حکم پر فوری اور شفاف عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ’سپریم کورٹ کا عمران خان کی آنکھوں کے مکمل چیک اپ کا حکم، ان کی بگڑتی ہوئی صحت اور حراست میں بروقت طبی دیکھ بھال سے انکار کے پارٹی کے دیرینہ خدشات کی توثیق کرتا ہے۔‘

    بیان کے مطابق عمران خان کو ’فوری طور پر اپنے ذاتی معالج تک رسائی دی جانی چاہیے۔‘

    پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ یہ صرف ایک میڈیکل ٹیسٹ کی بات نہیں۔

    ’یہ اس بارے میں ہے کہ آیا قانون کی حکمرانی سیاسی مخالفین پر لاگو ہوتی ہے، یا صرف اقتدار میں رہنے والوں کے تحفظ کے لیے ہے۔‘

    پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ ’ہم عدالت کے حکم پر فوری اور شفاف عملدرآمد، اپنی پسند کے ماہرین تک رسائی اور زیر حراست ان (عمران خان) کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والے حربوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان کے اختتام پر یہ بھی لکھا گیا کہ ’تاریخ دیکھ رہی ہے۔‘

  15. ’عمران خان کی ان کے بچوں سے بات کروائی جائے گی‘: اٹارنی جنرل کی یقین دہانی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے جیل میں اس سیل کا بھی دورہ کیا، جہاں پر عمران خان کو رکھا گیا ہے۔

    سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے جیل میں ملنے والے سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان سے ان کے بچوں کی ٹیلی فون پر بات کروائی جائے جس پر اٹارنی جنرل نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ 16 فروری سے پہلے عمران خان کی ان کے بچوں سے بات کروائی جائے گی۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جیل میں ملنے والی سہولیات سے متعلق ایک رپورٹ اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈنٹ نے بھی بھیجی ہے اور سکیورٹی اور سہولیات کے نقطے پر مماثلت پائی جاتی ہے۔

    سلمان صفدر نے عمران خان سے ملاقات کے بعد اپنی رپورٹ میں جو سفارشات کی ہیں، اس میں انھوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ عمران خان سے ان کی فیملی کے ارکان کی ملاقات بھی کروائی جائے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملاقات کا معاملہ چونکہ دوسری عدالت میں ہے لہذا ہم اس میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

  16. سپریم کورٹ کا 16 فروری سے پہلے عمران خان کی آنکھ کا سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی موجودگی میں معائنہ کروانے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے عدالت کی طرف سے مقرر کیے گئے ’فرینڈ آف کورٹ‘ سلمان صفدر کی طرف سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں یہ حکم دیا۔

    جمعرات کو توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی صحت اور ان کو جیل میں سہولتوں سے متعلق الگ سے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت ہوئی۔

    سلمان صفدر نے رپورٹ کے نکات عدالت میں پڑھتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت اور بالخصوص ان کی آنکھ کی بیماری سے متعلق فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کی فیملی کے کسی ممبر کی موجودگی میں کروایا جائے۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئی سپیشلسٹ کی ٹیم جلد ہی اڈیالہ جیل کا دورہ کرے گی اور سابق وزیر اعظم کی آنکھ کا معائنہ کیا جائے گا، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ 16 فروری سے پہلے ڈاکٹروں کی ٹیم اڈیالہ جیل کا دورہ کر کے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کرے۔

    تاہم عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی میں عمران خان کا طبی معائنہ کروانے کی سفارش کو منظور نہیں کیا۔

  17. کینیڈا میں فائرنگ کا واقعہ: ’ملزم پیدائشی طور پر مرد تھا، جس نے چھ برس قبل عورت بننے کا عمل شروع کیا‘

    کینیڈا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں گذشتہ روز ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں ایک 18 سالہ نوجوان کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ایک سکول اور گھر میں ہونے والے فائرنگ کے اس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے جبکہ مبینہ حملہ آور بھی اپنی ہی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔

    پولیس نے بتایا کہ ملزم جیسی وین روٹسیلار گولی لگنے سے زخمی ہونے کی وجہ سے جائے وقوعہ پر مردہ پایا گیا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ وین روٹسیلار پیدائشی طور پر مرد تھے لیکن چھ برس قبل انھوں نے عورت بننے کا عمل شروع کیا۔

    ابھی تک حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

    فائرنگ سے ٹمبلر رج سیکنڈری سکول میں چھ افراد ہلاک اور کم از کم 25 زخمی ہوئے۔ دو دیگر افراد میں ملزم کی ماں اور سوتیلا بھائی، قریبی گھر میں مردہ پائے گئے۔

    پولیس کے مطابق پہلے فائرنگ گھر میں ہوئی جس کے بعد ملزم سکول گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی سال میں متعدد مواقع پر ملزم کے گھر جا چکے ہیں کیونکہ انھیں ذہنی صحت سے متعلق خدشات سے متعلق کچھ کالز موصول ہوئی تھیں۔

  18. بنگلہ دیش میں عام انتخابات آج: یہ الیکشن اتنا اہم کیوں؟

    بنگلہ دیش

    بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے جو مقامی وقت کے مطابق شام 4:30 بجے تک جاری رہے گا۔

    یہ الیکشن کئی وجوہات کی بنا پر اہم اور ماضی میں ہونے والے انتخابات سے مختلف ہے۔

    سنہ 2024 میں ملک میں پرتشدد مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد ان کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے اور وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتی۔

    دہائیوں بعد ایسا ہو رہا ہے کہ ان انتخابات میں ملک کی دو اہم سیاسی شخصیات یعنی شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا شامل نہیں۔

    ووٹرز ملک کے لیے صرف نئی حکومت کا انتخاب نہیں کر رہے بلکہ وہ ایک آئینی ریفرنڈم کے لیے بھی ووٹ دیں گے جو فیصلہ کرے گا کہ آیا جولائی کے چارٹر، ایک وسیع اصلاحاتی پیکج پر عمل درآمد کیا جائے یا نہیں۔

    ان انتخابات میں بیرون ملک مقیم بنگلہ دیشی ووٹرز کی طرف سے بھیجے گئے بیلٹ بھی پہلی بار قبول کیے جا رہے ہیں۔

  19. امریکہ ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی حکام کی ملاقات, تنویر ملک، صحافی

    @Financegovpk

    ،تصویر کا ذریعہ@Financegovpk

    امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کی وزیرِ خزانہ سے ملاقات

    امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف ساؤتھ اینڈ سنٹرل ایشین افیئرز کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومرشائم، نٹالی اے بیکر (امریکہ کی نگران سفیر برائے پاکستان) کے ہمراہ آج وزارتِ خزانہ میں وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سے ملاقات کی۔

    وزیرِ خزانہ نے پومرشائم کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی معاشی ترقی میں امریکہ کی دیرینہ معاونت اور شمولیت کو سراہا، خصوصاً کثیرالجہتی مالیاتی فریم ورک میں تعاون کو۔ دونوں فریقین نے پاکستان کے معاشی منظرنامے، اصلاحاتی ایجنڈے اور دوطرفہ معاشی تعاون کو بڑھانے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزیرِ خزانہ نے وفد کو پاکستان کی میکرو اکنامک استحکام اور اصلاحاتی پیش رفت سے آگاہ کیا، جس میں پائیدار، برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف منتقلی پر زور دیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ کم ہوا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آئی ہے جو ترسیلاتِ زر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے کی وجہ سے ہے، اور کریڈٹ ریٹنگز میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

    وزیرِ خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط کو مزید مضبوط کرے گی، بیرونی استحکام کو یقینی بنائے گی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرے گی جو دیرپا ترقی میں معاون ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری اداروں میں اصلاحات اور عوامی شعبے کو مختصر کرنے کے اقدامات تیز کیے جا رہے ہیں تاکہ کارکردگی بہتر ہو اور مالیاتی خطرات کم ہوں۔

    وزیرِ خزانہ نے بڑھتے ہوئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی اجاگر کیا اور حالیہ ملکی سرمایہ کاری کے اقدامات اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا حوالہ دیا۔

    پومرشائم نے پاکستان کی مالیاتی استحکام کی کوششوں کو سراہا اور کلیدی معاشی اشاریوں میں بہتری کے آثار کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا دونوں ممالک کی مشترکہ ترجیح ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی کاروباری ادارے اصلاحاتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور پالیسی میں تسلسل تجارتی روابط کو مزید سہارا دے گا۔

    وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے غیر ملکی سرمایہ کاری کو سہولت دینے اور امریکی بزنس کمیونٹی، بشمول یو ایس چیمبر آف کامرس اور امریکن بزنس کونسل، کے ساتھ باقاعدہ روابط برقرار رکھنے کے عزم کو دہرایا۔

    وزیرِ خزانہ نے پومرشائم کو پاکستان کے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس میں دوبارہ داخلے کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا، جن میں پانڈا بانڈ کے اجرا شامل ہیں، جو مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

    نجکاری کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے حکومت کے تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کے عزم کو دہرایا۔ انھوں نے کہا کہ نجکاری کا عمل تیزی پکڑ رہا ہے، جس میں بینکنگ اور بجلی کی تقسیم کے شعبوں میں لین دین اور بڑے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ شامل ہے، جس کا آغاز اسلام آباد سے ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ پیش رفت نے حکومت کے اصلاحات اور نجی شعبے کی شمولیت کے عزم کو مزید تقویت دی ہے۔

  20. پاکستان کی وفاقی حکومت کے ذمے ملکی و غیر ملکی قرضے 78,529 ارب روپے تک پہنچ گئے, تنویر ملک، صحافی

    موجودہ مالی سال کے پہلے چھ مہینوں میں پاکستان کی وفاقی حکومت کے ذمے ملکی و غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ایک سال میں 6,882 ارب روپے بڑھ گیا۔

    سٹیٹ بینک کے بُدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 کے اختتام پر حکومتی قرض بڑھ کر 78,529 ارب روپے ہو گیا، جو دسمبر 2024 کے اختتام پر 71,647 ارب روپے تھا۔ اس طرح ایک سال میں اس میں 9.3 فیصد اضافہ ہوا۔

    نومبر 2025 کے اختتام پر یہ قرضہ 77,536 ارب روپے تھا اور صرف ایک مہینے میں اس میں 1.3 فیصد اضافہ ہوا۔

    اعداد و شمار کے مطابق دسمبر تک اندرونی قرض 55,363 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ بیرونی قرض 23,166 ارب روپے رہا۔