باجوڑ میں چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ، ’دس اہلکار ہلاک‘: پولیس

پولیس حکام کے مطابق اس حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت دس ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ تاہم پاکستان کی فوج کی جانب سے ابھی تک اس واقعے اور ہلاکتوں سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ کے ماموند کے علاقے ملنگی میں ایف سی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

خلاصہ

  • امن بورڈ کے رُکن ممالک نے غزہ استحکام فورس کے لیے ’ہزاروں اہلکار‘ فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ
  • ایران کے ساتھ کوئی نتیجہ خیز معاہدہ نہیں ہوا، لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں: امریکہ
  • ایران پابندیاں ہٹانے کے بدلے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں سمجھوتے پر غور کرنے کو تیار ہے: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ
  • اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ مکمل، رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی: حکام
  • عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ہم حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرے: اسد قیصر

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    17 فروری کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بریکنگ, باجوڑ میں چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ، دس اہلکار ہلاک: پولیس, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    باجوڑ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ باجوڑ میں ماموند میں ایک سکیورٹی پوسٹ پر خود کش حملے میں کم از کم دس افراد اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اعلی پولیس حکام کے مطابق لوئی ماموند میں ایف سی اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں دس اہلکار ہلاک ہوئے۔ دو اہلکار زخمی ہوئے۔ علاقے میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ایک اور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے بارود سے بھری گاڑی اس عمارت سے ٹکرا دی ہے جس میں فرنٹیئر کور کی چیک پوسٹ قائم ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ اس عمارت میں پہلے ایک مدرسہ بھی فعال تھا۔

    ایک اور اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں ایک پولیس اہلکار اور نو ایف سی اہلکاروں کی جان چلی گئی ہے جبکہ ملبے تلے سے اب بھی مزید لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔

    تاہم پاکستان کی فوج کی جانب سے ابھی تک کوئی اس واقعے اور ہلاکتوں سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ کے ماموند کے علاقے ملنگی میں ایف سی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

    اپنے ایک بیان میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ’دہشت گردوں کے حملے میں فورسز کے اہلکاروں سمیت ایک بچی کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے۔‘ انھوں نے واقعے کے بعد ریسکیو اداروں کو فوری اور بھرپور امدادی کارروائیاں کرنے کی ہدایت جاری کی۔ سہیل آفریدی کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ دہشت گردی کے بزدلانہ واقعات سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔‘ وزیرِ اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ’دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جامع اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’دہشت گردی پورے ملک کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے اور صوبے میں امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔‘

    باجوڑ کا علاقہ ملنگی کہاں واقع ہے؟

    خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند کے علاقے ملنگی میں ایک عمارت میں بارود سے بھڑی گاڑی کا دھماکہ ہوا ہے۔ اس عمارت میں پہلے ایک مدرسہ قائم تھا لیکن بعد ازاں یہاں سکیورٹی چیک پوسٹ قائم کر دی گئی تھی۔

    لوئی ماموند ضلع کے شمال میں واقع ہے اور بنیادی طور پر ملنگی کا یہ علاقہ باجوڑ کے دوسرے بڑے بازار عنایت کلی سے تقریباً 12 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    تحصیل ماموند کی سرحد ایک طرف افغانستان سے ملتی ہے جبکہ دوسری جانب خار بازار سے جڑتی ہے۔ اگر پشاور سے باجوڑ کی طرف سفر کیا جائے تو پہلے صدیق آباد اور پھر عنایت کلی آتا ہے، جس کے قریب ہی ملنگی کا علاقہ واقع ہے۔

    باجوڑ میں حالات ایک عرصے سے کشیدہ ہیں اور آئے روز تشدد کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ چند روز قبل واڑہ ماموند کے علاقے میں ایک حملے میں ایک پولیس انسپکٹر ہلاک ہوا تھا۔ اس سے پہلے بھی باجوڑ میں جمعیت علما اسلام کے مقامی قائدین پر حملے ہو چکے ہیں۔

    دو برس قبل جے یو آئی کی ایک تقریب میں دھماکے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

  3. عمران خان کا علاج ذاتی ڈاکٹرز اور فیملی کی نگرانی میں ہونا ان کا آئینی و قانونی حق ہے: سہیل آفریدی

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان کا علاج ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں، اہل خانہ کی موجودگی میں اور بہترین ہسپتال میں ہونا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کوئی عام قیدی نہیں بلکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

    سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں اور ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا موجودہ رویہ سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ذاتی ڈاکٹرز اور اہل خانہ کو نہ ملنے دینا شکوک و شبہات کو بڑھا رہا ہے، اور اگر رپورٹس درست ہیں تو ان کے ملنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ 900 دنوں میں کبھی عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کی لیکن اب معاملہ سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکا ہے۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان کئی دنوں سے بغیر کسی باضابطہ کال کے پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور ایک گملہ تک نہ ٹوٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ احتجاج مہذب اور آئینی دائرے میں ہے۔ پارٹی کی حکمت عملی واضح ہے اور احتجاج کا لائحہ عمل پارلیمنٹیرینز تک محدود تھا، جس کے تحت عمران خان کی ہدایت پر ارکانِ پارلیمنٹ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پرامن دھرنا دے رہے ہیں۔

    سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو اس کی ذمہ داری خود حکومت پر ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کوئی ہجوم نہیں بلکہ منظم سیاسی جماعت ہے اور احتجاج یا آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ صرف عمران خان کے نامزد کردہ قائدین کریں گے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب آفیشل کال دی جائے گی تو عوامی ردعمل ایسا ہوگا جسے کوئی طاقت روک نہیں سکے گی، تاہم فی الحال معاملہ صرف عمران خان کی صحت سے متعلق ہے اور اس پر سیاست نہیں کی جا رہی۔

  4. ایران حق پر ہے اور اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے: طالبان حکومت کے ترجمان

    Anadolu Agency

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency

    افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ریڈیو ایران کے پشتو سیکشن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی حکومت ایران اور امریکہ کے درمیان ’جنگ اور تصادم کی حمایت نہیں کرتی۔‘

    مجاہد کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے درخواست کی تو ’افغان طالبان اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق ہمدردی اور تعاون کے لیے تیار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’تہران اور کابل کے درمیان تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران ’حق پر ہے اور اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔‘

  5. پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ’سمارٹ کنٹرول آف دی سٹریٹ آف ہرمز‘ مشقوں کا آغاز کر دیا

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں 'سمارٹ کنٹرول آف دی سٹریٹ آف ہرمز' کے عنوان سے مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق اس مشق کا مقصد بحری یونٹس کی عملی تیاری کا جائزہ لینا اور ممکنہ فوجی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو پرکھنا ہے۔

    ایرنا نیوز ایجنسی نے پاسدارانِ انقلاب کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ یہ مشق 'سمارٹ کنٹرول آف دی سٹریٹ آف ہرمز' کے نام سے کی جا رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس مشق کے مقاصد میں درج ذیل عوام شامل ہیں:

    بحری یونٹس کی تیاری کا معائنہ

    سلامتی کے منصوبوں اور فوجی جوابی کارروائی کے منظرناموں کا جائزہ

    آبنائے ہرمز میں ممکنہ خطرات کے مقابلے کی حکمتِ عملی

    خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے جغرافیائی فوائد سے استفادہ کرنا

    یاد رہے کہ اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ پاسدارانِ انقلاب 12 فروری کو آبنائے ہرمز میں مشق کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ردِعمل کے بعد کہا گیا کہ کوئی مشق طے نہیں کی گئی۔ اس موقع پر سینٹ کام نے اپنے بیان میں زور دیا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کسی بھی فوجی مشق کو محفوظ اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں تاکہ بین الاقوامی بحری جہاز رانی متاثر نہ ہو۔

    یہ مشق ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان نئے مذاکرات کا دور شروع ہونے والا ہے اور امریکی بحریہ کا جدید ترین طیارہ بردار جہاز 'جرالڈ آر فورڈ' مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ ہے تاکہ 'ابراہم لنکن' اور اس کے ٹاسک فورس میں شامل ہو سکے۔

  6. عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ تک پہنچ چکی جسے تسلی بخش قرار دیا گیا ہے: طلال چوہدری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    bbc

    وفاقی وزیرِ مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمنائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ تک پہنچ چکی ہے جس میں عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اور ان کے بقول سابق وزیر اعظم کی رپورٹ کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کی نظر جوانوں جیسی ہے اور ان کو سب کچھ بہت اچھا دیکھائی دیتا ہے۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو لے کر ایسے افراد بھی پارلیمنٹ لاجز تک پہنچے جو پارلیمنٹیرینز نہیں تھے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان میں سے کچھ مسلح افراد کو بھی پارلیمنٹ لاجز میں داخل کیا گیا جہاں فیملیز موجود تھیں اور جس سے پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کیا گیا۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ سیاسی مخالفین کو مایوسی ہوئی ہو گی کہ عمران خان کی آنکھ محفوظ رہی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور ان کا احتجاج ناکام ہو چکا ہے، اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلیٰ کی تبدیلی بھی کوئی نتیجہ نہ دے سکی۔

    داخلہ امور کے وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد نئے ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہمارا واسطہ ان عناصر سے ہے جو مساجد اور امام بارگاہوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

  7. سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن عمان کے ساحل سے 150 میل کی دوری پر

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بحیرہ عرب میں دیکھا گیا ہے۔

    26 جنوری کو یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن خلیج میں پہنچ گیا ہے۔ بی بی سی نے اتوار کو سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے اس کے مقام کا تعین کیا ہے۔

    یہ جہاز جو کہ پچھلی تصاویر میں نظر نہیں آرہا تھا، عمان کے ساحل سے تقریباً 150 میل (240 کلومیٹر) دور تھا۔

    تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے، تاکہ ایران پر اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے دباؤ ڈالا جا سکے۔

    اس سے قبل ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اگر امریکہ ایران پر سے پابندیاں ہٹانے پر بات کرنے پر آمادہ ہے تو ان کا ملک جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتہ کرنے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔

    مجید تخت روانچی نے کہا کہ اب یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ سمجھوتے پر آمادگی ثابت کرے۔ اگر وہ مخلص ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم ایک معاہدے کی طرف بڑھیں گے۔

    خیال رہے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے وہ جنیوا میں ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے کے حصول کے لیے ٹھوس تجاویز کے ساتھ موجود ہوں گے۔

    تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ دھمکیوں کے سامنے جھکنا کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں ہو گا۔

    bbcverify

    ،تصویر کا ذریعہbbcverify

  8. دھمکیوں کے سامنے جھکنا کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں ہو گا: عباس عراقچی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ جوہری ماہرین کے ہمراہ پیر کے روز بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی سے تفصیلی گفتگو کریں گے۔

    ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ منگل کو ہونے والی سفارتی بات چیت سے قبل وہ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے بھی ملاقات کریں گے۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ وہ جنیوا میں ایک منصفانہ اور متوازن معاہدے کے حصول کے لیے ٹھوس تجاویز کے ساتھ موجود ہوں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ دھمکیوں کے سامنے جھکنا کسی صورت مذاکرات کا حصہ نہیں ہو گا۔

  9. معالجین عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری کا دعویٰ کر رہے ہیں مگر میں تصدیق کرنے سے قاصر ہوں: ڈاکٹر عاصم یوسف

    SKMCH

    ،تصویر کا ذریعہSKMCH

    شوکت خانم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا علاج کرے والے معالجین ان کی بینائی میں نمایاں بہتری کا دعویٰ کر رہے ہیں مگر میں تصدیق کرنے سے قاصر ہوں۔

    ڈاکٹر عاصم یوسف نے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی رہنما عمران خان کی صحت سے متعلق تازہ بیان جاری کیا ہے۔

    ایکس پر پوسٹ کردہ یہ بیان اُن کی جانب سے اسلام آباد میں عمران خان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں سے کانفرنس کال اور حالیہ معائنے کے بعد جاری کیا گیا۔

    ڈاکٹر عاصم یوسف کے مطابق گذشتہ رات 9 بج کر 45 منٹ پر اُن کی فون پر اسلام آباد میں موجود اُن دو ڈاکٹروں سے بات ہوئی جو عمران خان کا علاج کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ لاہور سے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر خرم عاصم مرزا بھی اس کال میں شریک تھے اور تقریباً 40 منٹ تک گفتگو جاری رہی۔

    ڈاکٹر عاصم کے مطابق کال کے دوران دونوں معالجین نے بتایا کہ جب انھوں نے پہلی مرتبہ عمران خان کا معائنہ کیا تو اُن کی کیا علامات تھیں، اب تک کیا علاج کیا گیا، علاج کی تفصیلات کیا رہیں اور فالو اَپ کس نوعیت کا رہا۔

    انھوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی تازہ ترین تشخیص گذشتہ روز دوپہر کو کی گئی تھی۔ معالجین کے مطابق اُن کی رائے میں عمران خان کی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اُن کی بینائی میں بھی خاصی بہتری دیکھی گئی ہے۔

    ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا کہ اگر وہ خود اس بات کی تصدیق کر پاتے تو انھیں انتہائی خوشی ہوتی۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے انھوں نے خود عمران خان کا معائنہ نہیں کیا، نہ ہی وہ اُن کے علاج میں شریک رہے اور نہ ہی اُن سے بات کر سکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس لیے وہ اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے قاصر ہیں کہ انھیں جو معلومات فراہم کی گئی ہیں وہ کس حد تک درست ہیں۔

    ڈاکٹر عاصم یوسف نے حکام سے اپیل کی کہ انھیں یا اُن کے ساتھی ڈاکٹر فیصل سلطان یا دونوں کو عمران خان سے ملاقات اور اُن کے علاج میں شرکت کی اجازت دی جائے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ کی جانب سے نامزد کیے گئے اور اسلام آباد میں موجود ریٹینا سپیشلسٹس کو بھی معائنے اور علاج میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔

    انھوں نے زور دیا کہ آئندہ تمام طبی نگہداشت شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کی جائے، جو مناسب سہولیات اور معیار کا حامل ادارہ ہے، تاکہ عمران خان کو بہترین ممکنہ طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    یاد رہے اس سے قبل وزیر قانون نے بتایا تھا کہ ’متعلقہ افراد کے مطابق عمران خان نظر والی عینک استعمال کر رہے ہیں تو تقریباً 70 فیصد ایک آنکھ ٹھیک ہے اور دوسری آنکھ کی نظر بالکل ٹھیک ہے۔ لہذا ایسی پریشانی کی بات نہیں ہے۔‘

  10. ایران کو اپنے تمام افزودہ یورینیم کو ختم کرنا ہو گا اور اسے آئندہ مزید افزودگی سے روکا جائے: نیتن یاہو

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکہ کو کسی بھی جوہری معاہدے کے تحت ایران سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنے تمام افزودہ یورینیم کو ختم کرنا ہو گا اور اسے آئندہ مزید افزودگی سے روکا جائے۔

    اتوار کے روز یروشلم میں ایک خطاب کے دوران اُنوں نے کئی شرائط بیان کیں، جن میں یہ بھی شامل تھا کہ ’تمام افزودہ مواد ایران سے باہر جانا چاہیے‘ اور یہ کہ ایران کے پاس ’افزودگی کی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہنی چاہیے۔‘

    ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایرانی اور امریکی حکام منگل کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی نے تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ پابندیاں اٹھانے پر بات کرنے کے لیے تیار ہو تو ایران جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتوں پر غور کرے گا۔

  11. ریڈ زون میں احتجاج: پی ٹی آئی کے سات ارکانِ پارلیمنٹ سمیت 55 افراد پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    اسلام آباد پولیس نے ریڈ زون میں مظاہرہ کرنے اور پولیس اہلکاروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے سات ارکان پارلیمنٹ سمیت 55 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    یہ مقدمہ پولیس اہلکار کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیا گیا ہے اور یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    تھانہ سنگ جانی کے ایس ایچ او محمد اسحاق کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ 15 فروری کو پارلیمنٹ لاجز اور پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے ڈیوٹی دے رہے تھے جہاں پاکستان تحریک انصاف سے متعلق رکھنے والے سات ارکان پارلیمنٹ دیگر کارکنوں کے ساتھ مظاہرہ کر رہے تھے۔

    درخواست گزار کے بقول پولیس نے انھیں ایسا کرنے سے منع کیا تو مظاہرین نے نہ صرف انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں بلکہ کہا کہ اگر کسی نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو وہ یہاں سے زندہ بچ کر نہیں جائے گا۔

    اس مقدمے میں کہا گیا گیا ہے کہ مظاہرین کی تعداد 50-55 کے قریب تھی اور ان میں سے متعدد افراد کے ہاتھوں میں آتشیں اسلحہ سمیت ڈنڈے اور دیگر سامان بھی موجود تھا۔

    دوسری جانب پولیس نے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر مظاہرہ کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے چار افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے ان کا پانچ دن کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

  12. پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مندی، 100 انڈیکس میں 6000 پوائنٹس سے زائد کی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز مندی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور 100 انڈیکس میں 6000 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں کاروبار آغاز سے ہی دباؤ کا شکار رہا اور انڈیکس میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جاتی رہی اور یہ سلسلہ کاروبار کے اختتام تک جاری رہا۔

    پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے بارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مندی کی وجہ موجودہ مہینے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کے قرض پروگرام کے لیے نظر ثانی جائزہ ہے جس میں سرفہرست ملک میں بڑی کمپنیوں پر سپر ٹیکس کا معاملہ ہے۔

    واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے گذشتہ ماہ کمپنیوں پر سپر ٹیکس نافذ کرنے کے فیصلے کو قائم رکھا تھا۔

    تجزیہ کار احسن محنتی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس وقت سپر ٹیکس کی مد میں حکومت نے بڑی کمپنیوں سے 300 ارب روپے تک وصول کرنے ہی جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت کا ٹیکس ٹارگٹ بھی ہے جسے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پورا کرنا ہے۔

    محنتی نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کار اس معاملے پر کافی فکر مند نظر آتے ہیں۔

  13. زاہد حسین بارکزئی سمیت تین ملزمان کو دھماکہ خیز مواد سمیت گرفتار کر لیا ہے: سندھ رینجرز, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    سندھ رینجرز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گیی ایک مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں کراچی کے علاقے چکرا گوٹھ، کورنگی سے انتہائی مطلوب تین دہشت گردوں یاسرعرفات، خدا بخش اور زاہد حسین بارکزئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ لگ بھگ 20 روز قبل انسانی حقوق کے کارکن زاہد حسین عرف بارکزئی کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ زاہد کو نقاب پوش افراد گھر سے اپنے ہمراہ لے گئے تھے جس کے بعد سے ان کی کوئی خبر نہیں تھی۔

    سندھ رینجرز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ زاہد حسین سمیت تین ملزمان کو دھماکہ خیز مواد سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔

    سندھ رینجرز کے ترجمان کے مطابق ملزموں کے قبضے سے بارودی مواد، انتہا پسندی پر مبنی لٹریچر کی 250 کتابیں اور لیپ ٹاپ برآمد کیے گئے ہیں۔

    ترجمان رینجرز کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کالعدم تنظیم میں شمولیت کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی ذہن سازی کرنے اور انتہا پسندی پر مبنی لٹریچر کی فراہمی میں ملوث تھے۔

    اس سے قبل زاہد بارکزئی کے چچا سعید بارکزئی کی جانب سے ڈی جی رینجرز اور انسانی حقوق کمیشن، پاکستان کو درخواست دی گئی تھی۔ اس درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 27 جنوری 2026 کی رات دو سے ڈھائی بجے کے درمیان چار سے پانچ کاروں پر سوار نقاب پوش اشخاص ان کے بھتیجے کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد سے اُن کی کوئی خبر نہیں ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کا بھتیجا امن پسند شہری ہے اور کسی بھی غیر قانونی عمل میں کبھی شریک نہیں رہا ہے۔

    واضح رہے کہ زاہد حسین بارکزئی انسانی حقوق سے وابستہ ہیں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لیاری میں ادبی و علمی سرگرمیوں اور بحث مباحثوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔

  14. عمران خان کی ایک آنکھ عینک کے ساتھ 70 فیصد، دوسری بالکل ٹھیک ہے: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

    پاکستان کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کی بینائی سے متعلق جو تازہ ترین رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانی تھی، اس کے بارے میں انھوں نے اٹارنی جنرل اور متعلقہ افراد سے بات کی ہے۔

    وزیر قانون کے مطابق ’انھوں (متعلقہ افراد) نے کہا ہے کہ عمران خان نظر والی عینک اگر استعمال کر رہے ہیں تو تقریباً 70 فیصد ایک آنکھ ٹھیک ہے اور دوسری آنکھ کی نظر بالکل ٹھیک ہے۔ تو ایسی پریشانی کی بات نہیں۔‘

    اعظم نذیر تارڑ شیخوپورہ بار ایسوسی ایشن فیروزوالا کی تقریب حلف برداری سے خطاب کر رہے تھے۔

    انھوں نے تحریک انصاف کے احتجاج کی وجہ سے راستوں کی بندش پر بھی بات کی اور کہا کہ آئین کا آرٹیکل 15 شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا: ’آپ پہلی دفعہ دیکھ رہے ہیں کہ شہریوں کے حقوق سلب کرنے کے لیے حکومت سرکاری سطح پر اقدامات کر رہی ہے۔‘

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ انھیں توقع ہے عمران خان کی بینائی سے متعلق رپورٹ دیکھنے کے بعد تحریک انصاف راستے کھول دے گی، ورنہ پھر وفاق کو ایکشن لینا پڑے گا۔

    وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سرکاری سطح پر موٹرویز اور جی ٹی روڈ کو بند کرنا غیر آئینی اقدام ہے۔ اگر صوبائی حکومت نے آئین و قانون کی پاسداری نہ کی تو ’اسے درست کرنے کا طریقہ بھی آئین کے اندر ہی موجود ہے، پھر اس صورت میں شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

  15. خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد کے باہر جاری تحریک انصاف کا دھرنا ختم، رکاوٹیں ہٹا دی گئیں, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر جاری پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا ختم کر دیا گیا ہے اور پولیس کی جانب سے لگائی گئی خار دار تاریں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس میں پی ٹی آئی اور ہم خیال سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج آج چوتھے روز بھی جاری ہے۔

    رکاوٹیں ہٹانے جانے سے پہلے تک وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بھی خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہی موجود تھے اور انھیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔

    اسلام اباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شاہراہ دستور کی طرف جانے والے راستے کھلے ہیں۔

    واضح رہے کہ پارلیمنٹ اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر واقع ہے۔

  16. عمران خان کے معائنے سے متعلق اُن کی بہن سے منسوب دعوے من گھڑت ہیں: تحریک انصاف

    پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی آنکھوں کے معائنے کے بعد اُن کی بہن نورین خانم سے منسوب کردہ خبروں کو جعلی قرار دیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ایکس پر شائع بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نورین خانم کے فیک اکاؤنٹ سے جاری ہونے والی تمام تر رپورٹس کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔

    تحریک انصاف نے کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر مبنی تھی جو ان کی بہن نورین خان سے منسوب جعلی اکاؤنٹ سے شروع ہوئی تھی۔

    ’اکاؤنٹ اور اس سے منسلک دعوے مکمل طور پر من گھڑت ہیں اور ان کا عمران خان کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ غلط اور گمراہ کن خبر ہے اور انتہائی افسوسناک اور تشویشناک بات ہے کہ ایسی حساس خبر کو خاندان یا پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات سے تصدیق کے بغیر شائع کیا۔

    خیال رہے کہ پیر کی صبح سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر نورین خانم کے نام سے موجود ایک ’ویریفائیڈ‘ اکاؤنٹ، جس کے 52 ہزار سے زائد فالوورز ہیں، کے ذریعے عمران خان کی صحت کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔

    درستگی: بی بی سی اُردو نے بھی اس اکاؤنٹ، جسے پاکستان تحریک انصاف نے فیک قرار دیا ہے، کے ذریعے عمران خان کی صحت سے متعلق تفصیلات پر مبنی مختصر رپورٹ اپنے لائیو پیج پر شائع کی تھی جسے تحریک انصاف کی وضاحت کے بعد ہٹا دیا گیا ہے اور اس پوسٹ میں ترمیم اور درستگی کر دی گئی ہے۔

  17. خیبر پختونخوا سے پنجاب اور اسلام آباد کی طرف جانے والے راستوں پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کا احتجاج جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    پشاور سے اسلام آباد کی جانب جانے والی موٹروے پر صوابی کے مقام پر دھرنا جاری ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے راستہ بند کیا ہوا ہے۔ مظاہرین میں زیادہ تعداد صوابی اور اس کے قریبی علاقوں سے لوگوں کی ہے جبکہ پشاور اور دیگر علاقوں سے بھی لوگ صوابی پہنچے ہیں۔

    انصاف لیبر ونگ پشاور ریجن کے تمام عہدے داران سے کہا گیا ہے کہ وہ دوپہر ڈھائی بجے تک پشاور موٹروے ٹول پلازہ پہنچ جائیں جہاں سے کارکن صوابی میں جاری احتجاج میں شامل ہوں گے۔ ضلع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، مہمند اور خیبر سے تعلق رکھنے والے تنظیمی عہدے داروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ آ کر اس احتجاج میں شامل ہوں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے نائب سیکریٹری اطلاعات اکرام کھتانہ نے بتایا ہے کہ موٹروے کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان سے پنجاب کی طرف جانے والے راستوں بھکر روڈ، قریشی موڑ، چشمہ روڈ اور سی پیک روڈ پر بھی دھرنے جاری ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر خرم ذیشان نے بی بی سی کو بتایا کہ کوہاٹ سے اٹک اور راولپنڈی تک جانے والے راستے کو خوشحال گڑھ کے مقام پر بند کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، اس احتجاج میں کوہاٹ ڈویژن کے پانچوں اضلاع کوہاٹ، ہنگو، اورکزئی، کرم اور کرک سے لوگ شامل ہیں۔

    خرم ذیشان سے پوچھا گیا کہ کیا کرک آئل فیلڈ سے بھی سپلائی روک دی گئی ہے؟ ان کا جواب تھا کہ راستے بند ہونے کی وجہ سے آئل ٹینکروں کی آمد و رفت بھی بند ہے۔

    خرم ذیشان نے کہا کہ احتجاج کے اگلے مرحلے میں ریلوے کو بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

  18. بنوں میں تھانہ میریان کے قریب دھماکہ، بچے سمیت دو افراد ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    بنوں پولیس سٹیشن کے باہر دھماکے کے بعد کا منظر

    ،تصویر کا ذریعہFarhat Ullah

    بنوں میں تھانہ میریان کے قریب ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں بچے سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے۔ ریجنل پولیس آفس بنوں کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بارودی مواد تھانہ میریان کے سامنے دکانوں کے نزدیک موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

    میڈیکل اینڈ ٹیچنگ انسٹیٹیوٹ کے ترجمان نعمان خان نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں میں دو لاشیں اور 14 زخمی لائے گئے۔ ترجمان کے مطابق ہلاک افراد میں ایک بچہ ہے جس کی عمر نو یا 10 سال ہے اور ایک 24 یا 25 سال کا نوجوان ہے۔

  19. پاکستان تحریک انصاف اور حامی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج کا چوتھا روز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    پارلیمنٹ میں تحریک انصاف اور حامی جماعتوں کے اراکین کا احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہShandana Gulzar

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف اور ہم خیال سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے۔

    تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا علاج ان کے اہل خانہ کو اعتماد میں لے کر اور ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں کروایا جائے۔

    جمعے کے روز سے شروع ہونے والے اس احتجاج میں دو درجن سے زائد ارکان پارلیمنٹ موجود ہیں جنھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے تک ہی محدود کیا ہوا ہے۔

    ان ارکان پارلیمنٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سمیت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بھی شامل ہیں۔

    سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ ناصر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہیں اور انھوں نے 24 گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا۔

    انھوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار باہر سے کھانے پینے کی اشیا اندر نہیں لانے دے رہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود کیفے ٹیریا کے سٹاف کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے کیونکہ کیفے ٹیریا میں نہ تو سٹاف ہے اور نہ ہی کھانے پینے کی چیزیں۔

    پی ٹی ائی کے سینیٹر عون عباس کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ کے پاس جو بسکٹ وغیرہ پڑے تھے وہ بھی ختم ہو گئے ہیں۔

    دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پارلیمنٹ ہاؤس کو دونوں اطراف سے گھیرے میں لے رکھا ہے اور پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔

    ڈیوٹی پر جانے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ ملازمین کے لیے ایک چھوٹا دروازہ کھولا گیا ہے اور جامہ تلاشی کے بعد انھیں اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ملازمین کی جامہ تلاشی کے دوران ان کے موبائل فون بھی قبضے میں لیے گئے اور اس وقت واپس کیے گئے جب وہ پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت کے اندر داخل ہوئے۔

    اسلام آباد کے خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر بھی سکیورٹی اہلکار بدستور تعینات ہیں اور اندر موجود وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

    ادھر سابق وزیر اعظم عمران خان کی قانونی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں عمران خان کی صحت کو بنیاد بنا کر القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ مقدمات میں دی جانے والی سزاؤں کے خلاف دائر کی گئی اپیلیں جلد سننے کی استدعا کی گئی ہے۔

  20. پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں

    پیٹرول پمپ پر کام کرنے والا شخص

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت پاکستان کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے کا اضافہ کردیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 253 روپے 17 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    اس کے علاوہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں سات روپے 32 پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد 268 روپے 38 پیسے فی لیٹر میں ملنے والا ہائی سپیڈ ڈیزل اب 275 روپے 70 پیسے میں ملے گا۔

    پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔