عمران خان رہائی فورس کے اعلان پر حکومتی ردعمل: ’یہ چاہتے ہیں کہ رمضان میں بھی عمران خان کی ملاقاتیں نہ ہوں‘
جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں جب رانا ثنا اللہ سے عمران خان رہائی فورس کے قیام سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ عمران خان کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ رمضان کے دوران بھی عمران خان کی ملاقاتیں نہ ہو سکیں۔‘
خلاصہ
سپریم کورٹ: عمران خان کی توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے سے متعلق اپیل پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری
سی ٹی ڈی بلوچستان کا کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 14 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کار سازی کی صنعت میں 67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
انڈین سیکریٹری خارجہ کی جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے سربراہ ڈاکٹر شفیق رحمان سے ڈھاکہ میں ملاقات
لائیو کوریج
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے مسودہ تیار ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
ایران کے وزیر خارجہ
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک مسودہ تیار کر لیا گیا
ہے۔
بی بی سی فارسی کے
مطابق، انھوں نے یہ بات بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر
جنرل رافیل گروسی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔
خیال رہے کہ ایرانی
وزیر اور آئی اے ای اے کے سربراہ کے درمیان یہ بات چیت جنیوا میں عمان کی ثالثی میں
تہران اور واشنگٹن کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد ہوئی ہے۔
منگل کے روز عراقچی
نے کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن نے تنازعات کو روکنے کے لیے معاہدے کے لیے ’رہنما
اصولوں‘ پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے ایران نے ابھی
تک امریکہ کی تمام ’ریڈ لائنز‘ کو قبول نہیں کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر
توانائی کرس رائٹ نے خبردار کیا ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے
لیے واشنگٹن ’جو بھی کرنا پڑا، کرے گا‘۔
نائیجیریا میں کاربن مونو آکسائیڈ کے اخراج سے 37 کان کن ہلاک
افریقی ملک نائیجیریا
کی وسطی ریاست پلیٹیو میں سیسے اور زنک کی کان میں مشتبہ کاربن مونو آکسائیڈ کے اخراج
سے کم از کم 37 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں۔
خیال کیا جا رہا ہے
کہ یہ واقعہ سورج طلوع ہونے سے عین قبل واس قصبے کے باہر ایک مقام پر پیش آیا جسے کان
کنی کمپنی سالڈ یونٹی نائیجیریا لمیٹڈ چلاتی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ
کان میں ہوا کے گزر کا ناقص نظام تھا جس کے باعث زیرِ زمین زہریلی گیس جمع ہو گئی ہے
اور اس کی وجہ سے رات کی شفٹ ختم ہونے سے قبل تمام کان کن بیہوش ہو گئے۔
صبح کان میں کام کرنے
کے لیے آنے والے مزدوروں نے انھیں دریافت کیا - 20 سے زائد کان کنوں کو بچا لیا گیا
اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی اہلکاروں نے
کان کو بند کر دیا ہے اور حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ یہ کان ریاست
کے دارالحکومت جوس سے تقریباً 200 کلومیٹر (124 میل) جنوب مشرق میں واقع ہے۔
ریاستی عہدیداروں نے
ابھی تک علاقے کا دورہ نہیں کیا ہے اور سکیورٹی خدشات کی وجہ سے امدادی کارروائیوں
کی رفتار بھی سست ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں اس علاقے میں مسلح جرائم پیشہ گروہ جنہیں مقامی
طور پر ’بینڈٹس‘ کہا جاتا ہے کافی سرگرم ہیں۔
صفیان ہارونہ ان کان کنوں میں سے ہیں جنھوں نے صبح مزدوروں کا کان سے نکالا تھا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کان کنوں میں سے کچھ کان کن جو بچ گئے تھے انھیں علاج کے لیے واس کے ایک ہسپتال لے جایا گیا۔
ہارونہ کے مطابق، یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح ساڑھے چھ بجے پیش آیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کان کن فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنی شفٹ ختم کرنے کے لیے دوبارہ زیر زمین واپس گئے تھے۔ ’یہ کاربن مونو آکسائیڈ گیس تھی جو لیک ہوئی اور انھیں ہلاک کر دیا۔‘
عمران خان رہائی فورس کا اعلان: ’یہ چاہتے ہیں کہ رمضان میں بھی عمران خان کی ملاقاتیں نہ ہوں‘، رانا ثنا اللہ کا الزام
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی قیادت پر عمران خان کے خلاف سازشیں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں جب رانا ثنا اللہ سے عمران خان رہائی فورس کے قیام سے متعلق سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ عمران خان کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ رمضان کے دوران بھی عمران خان کی ملاقاتیں نہ ہو سکیں۔‘
واضح رہے کہ آج وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے سٹریٹ موومنٹ کے تحت ’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ سہیل آفریدی کے مطابق ’یہ فورس عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن جدوجہد کرے گی۔‘
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ ’عید کے بعد میں تمام نوجوانوں سے پشاور میں حلف لوں گا اور اس کے بعد ہم آگے کا لائحہ عمل دیں گے۔‘
اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’یہ کچھ نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی یہ اس قابل ہیں کہ ایسا کچھ کر سکیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی جیل میں لیونگ کنڈیشنز اے ون ہیں۔ ان کا بہترین علاج ہوا جبکہ انسانی حقوق کے اوپر قطعاً کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔‘
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ’احتجاج ، دھرنوں اور جس تحریک کا اعلان آج کیا گیا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو شاید ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے یا یہ عمران خان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ان کو تین بار آفر کر چکے ہیں کہ آؤ بیٹھ کر مل کر بات کریں تو ان دھرنوں اور احتجاج سے تو بہتر ہے کہ یہ (پی ٹی آئی) ان کے ساتھ بیٹھیں۔
ترک صدر نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے ’صومالی لینڈ‘ کو آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔
دورہ ایتھوپیا کے دوران اردوغان نے کہا کہ یہ اقدام ایک غیر مستحکم خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گذتہ برس دسمبر میں اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا، جس نے 30 سال پہلے صومالیہ سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔
ترک صدر کے بیان کے ردعمل میں صومالی لینڈ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی علاقائی کشیدگی کو ہوا دینے سے گریز کرے۔
واضح رہے کہ صومالی لینڈ خلیج عدن پر سٹریٹجک اہمیت کا حامل علاقہ ہے اور اس کی اپنی کرنسی، پاسپورٹ اور پولیس فورس موجود ہے۔ یہ سنہ 1991 میں سابق آمر جنرل سیاد بری کے خلاف آزادی کی جنگ کے بعد وجود میں آیا اور تب سے دہائیوں کی تنہائی کا شکار رہا۔
تقریباً 60 لاکھ آبادی کے ساتھ یہ خود کو جمہوریہ کہلانے والا خطہ حالیہ برسوں میں صومالیہ، ایتھوپیا اور مصر کے درمیان کئی علاقائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔
امارتی صدر کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیوں کے بعد امریکی سینیٹر کے ساتھ ملاقات کی ویڈیو جاری
،تصویر کا ذریعہReuters
رواں ہفتے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں۔
ان قیاس آرائیوں کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اپنا دورہ ابوظہبی منسوخ کر دیا جبکہ ترک صدر کے دفتر نے ایکس پر اس پوسٹ کو بھی ڈیلیٹ کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اماراتی رہنما کی صحت ٹھیک نہیں۔
تاہم بدھ کے روز ان تمام قیاس آرائیوں نے اس وقت دم توڑ دیا جب شیخ محمد بن زاید نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم سے ملاقات کی۔
لنڈسے گراہم نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے شیخ محمد بن زاید کے بارے میں گردش کرنے والی ’جھوٹی خبروں‘ پر تنقید بھی کی۔
متحدہ عرب امارات کی ڈبلیو اے ایم نیوز ایجنسی کے مطابق بدھ کے روز ہونے والی یہ ملاقات قصر الشاطی میں ہوئی، جس کی تصاویر اور اور ویڈیو بھی شائع کی گئی ہیں۔
ویڈیو میں امارتی صدر اور حکام کو امریکی سینیٹر کے ساتھ بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ڈبلیو اے ایم کے مطابق اس ملاقات میں علاقائی امور اور مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا، کل پہلا روزہ ہو گا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آ گیا ہے اور کل بروز جمعرات ملک بھر میں پہلا روزہ ہو گا۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رمضان کے چاند سے متعلق اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آج پاکستان بھر میں زونل کمیٹیوں کے اجلاس منعقد ہوئے۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق پاکستان میں آج بیشتر مقامات پر مطلع صاف رہا اور ملک کے مختلف مقامات سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئیں۔
اس کے علاوہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش میں بھی کل پہلا روزہ ہو گا۔
حمدان کو جبری گمشدگی کے بعد قتل کیا گیا، پولیس مقابلہ جعلی تھا: لواحقین کا الزام, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے گولیمار کے رہائشی نوجوان حمدان کے مبینہ پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں جبری گمشدگی کے بعد قتل کیا گیا اور اب ان کی لاش ورثا کے حوالے نہیں کی جا رہی۔
بدھ کے روز اہلخانہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
اہل خانہ کے مطابق حمدان بلوچ کو 29 دسمبر 2025 کو سی ٹی ڈی اہلکاروں نے دھوبی گھاٹ پل کے قریب سے بغیر کسی وارنٹ کے حراست میں لیا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح جبری گمشدگی کا واقعہ تھا۔ بعد ازاں 6 جنوری 2026 کو سی ٹی ڈی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ حمدان کو رئیس گوٹھ سے ایک مسلح تنظیم سے تعلق اور سہولت کاری کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔
لواحقین نے بتایا کہ منگل کے روز سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ حمدان بلوچ ایک مبینہ مقابلے میں مارا گیا اور وہ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔
اہلخانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات دے کر واقعات کو چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
یاد رہے کہ منگل کے روز سندھ پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا تھا کہ کراچی میں ایک مبینہ مقابلے میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) بشیر زیب گروپ سے تعلق رکھنے والے چار مشتبہ شدت پسند مارے گئے۔
اہلخانہ کے مطابق انھوں نے لاش کی شناخت کر لی تاہم ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی کی اجازت کے بغیر میت ورثا کے حوالے نہیں کی جا سکتی جبکہ متعلقہ حکام مختلف حیلے بہانوں سے معاملہ مؤخر کر رہے ہیں۔
پریس کانفرنس میں موجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما فوزیہ بلوچ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے جبری گمشدگی، پھر دہشت گردی کے الزامات اور آخر کار مبینہ جعلی مقابلہ، یہ سب اقدامات قانون سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور حمدان بلوچ کی لاش کا فوری طور پر شفاف پوسٹ مارٹم کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
خواجہ آصف: افغانستان میں نئی فضائی کارروائیاں کرنے میں ’ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں فضائی کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔
خبر رساں ادارے فرانس 24 کے ساتھ ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے پاکستان میں سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملے کابل میں طالبان حکومت اور انڈیا کی ملی بھگت سے چھیڑی جانے والی ’پراکسی جنگ‘ کا نتیجہ ہیں۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ پاکستان افغانستان میں نئی فضائی کارروائیاں کرنے میں ’ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا‘ جب تک کہ کابل سے کوئی ’امن کی ضمانت‘ نہیں دے دیتا۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت گذشتہ کچھ عرصے سے تسلسل سے یہ الزام عائد کرتی آئی ہے کہ ملک میں شدت پسندی کی بڑی کارروائیوں میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
گذشتہ برس ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کے سبب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متعدد سرحدی جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئی تھیں جس کے بعد قطر اور ترکی کی کوششوں سے دونوں ممالک میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جب پاکستان پر حملہ کرنے کی بات آتی ہے تو نئی دہلی اور کابل ’ایک ہی صفحے پر‘ ہوتے ہیں۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ انڈیا کے ساتھ جنگ کا ’امکان‘ اب بھی موجود ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات بغیر کسی پیشرفت کے ختم
،تصویر کا ذریعہReuters
روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات بغیر کسی پیشرفت کے ختم ہو گئے ہیں۔
جنیوا میں یہ مذاکرات منگل کو رات دیر تک جاری رہے لیکن بدھ کو بات چیت صرف دو گھنٹے جاری رہی۔
اگرچہ امریکی نمائندے سٹیو ویٹکوف اس بات چیت کے حوالے سے کافی پرامید تھے تاہم روس اور یوکرین دونوں نے یہ اشارہ دیا کہ یہ مذاکرات ’مشکل‘ رہے۔
روس اور یوکرین چار سال سے جاری اس تنازع میں ممکنہ جنگ بندی کی شرائط سے بہت دور نظر آئے۔
اس کے باوجود کریملن کے مذاکرات کار ولادیمیر میڈنسکی نے کہا کہ ایک اور ملاقات ’جلد‘ ہو گی۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسیکی نے بھی فریقوں کے موقف میں فرق کی وجہ سے مذاکرات کو مشکل قرار دیا۔
مذاکرات کے اختتام کے اعلان سے کچھ دیر پہلے زیلنسیکی نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ ’مذاکرات کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے جو پہلے ہی آخری مرحلے تک پہنچ سکتے تھے۔‘
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے وفود کی آخری ملاقات جنوری میں ابوظہبی میں امریکہ کی ثالثی میں ہوئی تھی، جس کے بعد کئی مہینوں میں پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں عدم پیشی پر علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ مقدمے کی اگلی سماعت پر ملزمہ کو عدالت میں پیش کیا جائے۔
گذشتہ سماعت پر بھی عدالت نے علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے تھے جس کی تعمیل راولپنڈی پولیس نے اڈیالہ جیل کے باہر علیمہ خان سے کروائی تھی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد شاہ نے علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر احتجاج مقدمے کی سماعت کی۔ علیمہ خان آج بھی عدالت نے پیش نہ ہوئیں۔
علیمہ کے وکلا نے استثنی کی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے ملزمہ کے ضمانتیوں کے بھی وارنٹ جاری کیے جبکہ عدالتی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہان کمرۂ عدالت میں موجود رہے۔
اس مقدمے کے سینیئر پروسیکیوٹر ظہیر شاہ کا کہنا تھا کہ 38 بار استغاثہ کے گواہان پیش ہوئے ہیں اور ان کے بقول علیمہ خان ’جان بوجھ کر سماعت میں رکاوٹ کھڑی کر رہی ہیں۔‘
عدالت نے اس مقدمے کی سماعت جمعرات تک ملتوی کی ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس میں 5700 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 5702 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد 100 انڈیکس 178853 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
واضح رہے کہ موجودہ ہفتے کے پہلے دو کاروباری دنوں میں سٹاک مارکیٹ میں مندی ریکارڈ کی گئی تھی اور دو دنوں میں مجموعی طور پر 6400 پوائنٹس سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
بدھ کے روز سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور کاروبار کا اختتام 5702 پوائنٹس اضافے کے ساتھ ہوا۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار احسن محنتی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اضافے کی وجوہات کے بارے میں بتایا کہ مارکیٹ میں تیزی کی وجہ جنوری کے مہینے میں ملک کے کرنٹ اکاونٹ کے سرپلس ہونے کے ساتھ ملک میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ہے۔
انھوں نے کہا اس کے ساتھ موجودہ مہینے کے آخر میں بین الاقوامی فنڈ کی پاکستان آمد کے بعد ملک کے لیے قرض پروگرام کے اگلی قسط کے ریلیز ہونے کی توقع بھی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مثبت رجحان کو فروغ ملا ہے۔
سہیل آفریدی کا ’عمران خان رہائی فورس‘ بنانے کا اعلان: ’احتجاج کی کال دینے سے پہلے تیاری کریں گے‘
،تصویر کا ذریعہ@PTI
وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعظم
عمران خان کی رہائی سے متعلق ایک فورس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد اب
منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔
بدھ کو سپریم کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے
ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ سٹریٹ موؤمنٹ کی تیاری کے لیے ’عمران خان رہائی
فورس‘ کا قیام ناگزیر ہے جس کے لیے ملک بھر سے نوجوانوں کی ممبرشپ کی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’عمران خان رہائی فورس‘ میں آئی ایس ایف،
انصاف یوتھ ونگ، وومن ونگ، اقلیتی ونگ، پروفیشنلز اور ہر مکتبہ فکر کے افراد شامل
ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ یہ فورس مکمل طور پر پُرامن جدوجہد کرے گی
اور اس کی تحلیل کا اعلان خود عمران خان اپنی رہائی کے بعد کریں گے۔
سہیل آفریدی کے مطابق ’عمران خان رہائی فورس‘ کے ممبرشپ
کارڈز آئندہ چار سے پانچ دن میں تیار ہو جائیں گے اور عید الفطر کے بعد ممبر بننے
والے افراد سے حلف لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ تحریک کے لیے مضبوط چین آف کمانڈ
ہو گی اور ہر ہدایت عمران خان کی نامزد قیادت کے ذریعے آئے گی۔
دریں اثنا ان کا کہنا تھا کہ احتجاج
کی ’کال دینے سے پہلے تیاری ہو گی اور پھر لڑائی ہو گی۔‘
پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ’میں
پاکستانیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ایک کال دیں گے اور بہترین کال دیں گے۔ لیکن
اس سے پہلے ہم تیاری کریں گے۔ ہم لڑائی لڑیں گے اور بھرپور تیاری سے لڑیں گے۔ یہ
لڑائی حقیقی آزادی کے لیے لڑیں گے۔‘
پاکستان کا نمیبیا کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
پاکستان ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آج نمیبیا کے خلاف میچ میں ٹاس
جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم میں نمیبیا کے خلاف دو تبدیلیاں
کی گئی ہیں اور ٹیم میں ابرار احمد اور شاہین آفریدی کی جگہ خواجہ نافع اور سلمان
مرزا کو شامل کیا گیا ہے۔
کولمبو میں پاکستان اور نمیبیا کے درمیان ہونے والے
اس میچ میں پاکستان کے لیے کامیاب ہونا انتہائی اہم ہے کیونکہ اس میچ کا فیصلہ اس
بات کا تعین کرے گا کہ پاکستان سپر ایٹ مرحلے میں جائے گا کہ نہیں۔
اراکینِ پارلیمان کا عمران خان کی صحت کے معاملے پر پارلیمنٹ میں جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان: ’مقصد احتجاج ریکارڈ کروانا تھا، جس میں کامیاب رہے‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف اور اس کی ہم خیال جماعتوں سے تعلق
رکھنے والے اراکین پارلیمان کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران کی صحت سے متعلق
معاملات پر پارلیمنٹ میں گذشتہ کئی روز سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر
دیا ہے۔
تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے باہر
میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کا اعلان کیا اور کہا کہ چونکہ
رمضان شروع ہو رہا ہے اس لیے دھرنا ختم کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس اور
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
بھی کی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما آج (بدھ) پارلیمان میں
دھرنے کے مقام سے اٹھ کر سپریم کورٹ پہنچے تھے تاکہ سابق وزیر اعظم عمران خان سے
متعلق کیسز کی سماعت میں شرکت کر سکیں۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس
کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر انھیں سخت تشویش ہے اور اسی بنیاد
پر پی ٹی آئی اور ہم خیال جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں احتجاج
کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس دھرنے کا مقصد اپنا احتجاج ریکارڈ
کروانا تھا، جس میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور اُن کی ہم خیال
جماعتیں جلد ہی آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے۔
مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران گاڑیاں بنانے کی صنعت میں 67 فیصد اضافہ, سارہ حسن، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں وزراتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال
کے دوران ملک کی بڑی صنعتوں کی ترقی میں اضافہ ہوا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے چھ
ماہ کے دوران لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں اضافے کی شرح چار اعشاریہ آٹھ فیصد رہی۔
مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سب سے زیادہ اضافہ
آٹو موبائل یا گاڑیاں بنانے کی صنعت میں ہوا اور اس صنعت میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران
67 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گارمینٹس کے شعبے میں ترقی کی شرح سات اعشاریہ پانچ
فیصد جبکہ کے سیمنٹ کے شعبے میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران گیارہ اعشاریہ چھ فیصد اضافہ
ہوا ہے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے گزشتہ
چھ ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات سمیت توانائی کے شعبے میں 13 اعشاریہ پانچ فیصد اضافہ
ہوا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں اقتصادی استحکام کے اثرات
اب صنعتی پیدوار کے شعبے میں ترقی کی شکل میں سامنے آ رہے ہیں۔ ملک میں سیمنٹ سمیت
تعمیراتی شعبے میں ترقی بھی اقتصادی استحکام کو ظاہر کر رہی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق دسمبر میں بڑی صنعتوں میں
ترقی کی شرح نمو نو اعشاریہ دو فیصد رہی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسی ترقی پذیر
ممالک صنعتیں ترقی بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ بے روزگاری کم کرنے میں اہم کردار
ادا کرتی ہیں لیکن پاکستان میں گذشتہ کئی سال سے لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے شبعے کی
شرح نمو منفی رہی ہے اور پاکستان میں صنعتکار مہنگی بجلی، ٹیکسوں کے بوچھ اور پیدواری
لاگت زیادہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں۔
چند ہفتے قبل ہی حکومت نے صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی
فی یونٹ قیمت میں 4.04 روپے کمی کا بھی اعلان کیا ہے جبکہ ٹیکسوں میں کمی بھی زیر غور
ہے۔
صنعتکار اور عارف حبیب گروپ کے چئیرمین عارف حبیب کا
کہنا ہے کہ گذشتہ کئی برسوں کے دوران سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام کے سبب پاکستان
کی صنعتیں اپنی پیدواری صلاحیت سے کم سطح پر آپریٹ کر رہی تھیں لیکن اب کسی حد تک اقتصادی
استحکام کے سبب آگرچے نئی صنعتیں نہیں لگ رہی ہیں لیکن صنعتی پیدوار بڑھی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا ادارک ہے کہ صنعتوں
کے لیے سازگار ماحول ضروری ہے۔
سی ٹی ڈی بلوچستان کا دو کارروائیوں میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے 14 عسکریت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سی ٹی ڈی بلوچستان کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دو مختلف کارروائیوں میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے 14 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کو فراہم کی جانے
والی معلومات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تمام افراد دو مختلف کارروائیوں میں مارے گئے۔
سی ٹی ڈی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ افراد
فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے لیکن آزاد ذرائع سے ان کی کسی عسکریت پسند تنظیم سے
تعلق اور فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سی ٹی ڈی کو سراہتے ہوئے
کہا ہے کہ اس کے جوانوں نے کالعدم تنظیموں کے عزائم کو ناکام بنایا۔
سی ٹی ڈی نے 14 افراد کو کن علاقوں میں ہلاک کرنے کا
دعویٰ کیا ہے؟
سی ٹی ڈی کی جانب سے کوئٹہ میں میڈیا کو فراہم کردہ
معلومات میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے 15 سے 20 عسکریت پسند
ڈیگاری کے علاقے سے کوہ مردار پہاڑی کو عبور کرکے کوئٹہ میں درخشاں کے علاقے میں آئے
تھے۔
’وہ اس علاقے میں کسی ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے
لیے موقع کے انتظار میں تھے۔ ان کے خلاف کارروائی کے لیے سی ٹی ڈی کے سپیشل آپریشن
ونگ کے اہلکاروں کو بھیجا گیا۔‘
سی ٹی ڈی کے مطابق سپیشل آپریشن ونگ کے اہلکاروں کو
دیکھتے ہی مسلح افراد نے ان پر شدید فائرنگ کی جس میں تین اہلکار زخمی ہوگئے۔
سی ٹی ڈی کا دعویٰ کہ ہے کہ فائرنگ کا تبادلہ ایک گھنٹے
تک جاری رہا جس میں جوابی کارروائی میں آٹھ مسلح افراد ہلاک ہوئے جبکہ باقی برساتی
نالوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق دوسری کاروائی ضلع بارکھان میں میر
واہ کے علاقے تنگ کھریڑ میں کالعدم تنظیم کے مسلح افراد کی موجودگی پر کی گئی۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں گھات لگا کر کیے
جانے والے حملے میں کم از کم چھ مبینہ عسکریت پسند مارے گئے جبکہ باقی فرار ہوگئے۔
’ان کاروائیوں کے دوران اسلحہ، دھماکہ خیز مواد
اور کالعدم تنظیم کے جھنڈے بھی برآمد کیے گئے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
سپریم کورٹ: عمران خان کی توشہ خانہ کیس کا فیصلہ معطل کرنے سے متعلق اپیل پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اُردو
سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم
عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں اُن کے خلاف آنے والا فیصلہ معطل کرنے کی
اپیل سے متعلق کیس پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا ہے۔
بدھ کے روز جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین
رکنی بینچ نے اس اپیل کی سماعت کی تو عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ روسٹم پر
آئے اور انھوں نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے توشہ
خانہ (ون) کے مقدمے میں عمران خان کو دی جانے والی سزا کو معطل کیا ہے لیکن ابھی
تک اس کیس میں دیے گئے فیصلے کو معطل نہیں کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ فیصلہ معطل نہ ہونے کی بنا پر عمران خان کو
الیکشن نہیں لڑنے دیا گیا، اس کے باوجود کہ اُن کی سزا معطل تھی۔
جسٹس ہاشم کاکٹر نے استفسار کیا آپ کی اس اپیل پر فیصلہ نہیں
ہوا؟ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ ابھی اپیلاسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی اپیل میں سزا معطل ہو گئی ہے تو پھر
کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے اور الیکشن لڑنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ اگر کسی معاملے میں سزا
معطل ہو جائے تو بندہ جیل میں رہے گا یا پھر آزاد ہو گا؟ جس پر عمران خان کے وکیل
کا کہنا تھا کہ سزا معطل ہونے پر بندہ آزاد تصور ہو گا۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
مرد خواتین کے محافظ ہیں قاتل نہیں، سپریم کورٹ نے بیوی کو قتل کرنے والے منشیات کے عادی شوہر کی اپیل خارج کر دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیوی کو قتل کرنے والے
منشیات کے عادی شوہر وارث مسیح کی اپیل خارج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا
فیصلہ برقرار رکھا جس کے تحت سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ،
جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے جاری
کیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ’مرد خواتین کے
محافظ ہیں، قاتل نہیں۔ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن ہیں جو تحفظ، احترام اور
وقار کی حقدار ہیں۔‘
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے میں اس
بات پر ’افسوس کا اظہار کیا گیا کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ معمولی باتوں پر غیر
انسانی سلوک اور بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے۔‘
عدالت کے مطابق ’منشیات کی لت خواتین پر ہونے والے
وحشیانہ تشدد کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے اور کسی کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے
مقدس رشتوں کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ
جامع قانون سازی، مؤثر نفاذ کے طریقہ کار اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر
ہونے والے ظلم کو روکے۔‘
عدالت نے واضح کیا کہ خواتین کا تحفظ آئین کے
آرٹیکل 9 (حقِ زندگی و آزادی) اور آرٹیکل 25 (برابری) کے تحت ریاست کی آئینی ذمہ
داری ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم وارث مسیح منشیات کا عادی
تھا اور اپنی بیوی جمیلہ بی بی کے ساتھ اکثر جھگڑا کرتا تھا۔ 6 جولائی 2015 کی رات
کو اس نے اپنی بیوی اور دو کمسن بچوں، رمشا اور رمیش کو ڈنڈوں کے وار کر کے شدید
زخمی کر دیا۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت سر پر گہرے
زخم آنے اور سر کی ہڈی ٹوٹنے اور دماغی چوٹوں کے باعث واقع ہوئی۔
عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’ملزم
کی اپنی بیٹی رمشا وارث مسیح نے بطور چشم دید اور زخمی گواہ اپنے باپ کے خلاف بیان
دیا۔ فیصلے میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’جب بیوی گھر کے اندر غیر فطری موت کا
شکار ہو تو حالات کی وضاحت کرنے کی بنیادی ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے، تاہم
ملزم ٹرائل کے دوران خاموش رہا اور کوئی معقول وضاحت پیش نہ کر سکا۔‘
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ وقوعہ کے بعد ملزم کا فرار
ہونا، تدفین میں شریک نہ ہونا اور پولیس کو اطلاع نہ دینا اس کے خلاف سنگین حالات
و شواہد ہیں۔
یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے وارث مسیح کو اپنی بیوی
کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی جبکہ بچوں کو زخمی کرنے پر ایک سال قیدِ
بامشقت اور دیت کا پانچ فیصد بطور جرمانہ ادا کرنے کی سزا بھی دی تھی۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزائے موت کو عمر
قید میں تبدیل کر دیا تھا جسے اب سپریم کورٹ نے برقرار رکھتے ہوئے ملزم کی اپیل
خارج کر دی۔
انڈین سیکریٹری خارجہ کی جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے سربراہ ڈاکٹر شفیق رحمان سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہ@ihcdhaka
بنگلہ دیش میں 18 ماہ بعد منگل کو بنگلہ دیش نیشنل
پارٹی کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوگئی۔
انڈیا کے سیکریٹری خارجہ وکرم مِسری نے ڈھاکا میں
جماعتِ اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ملاقات کی، جسے انڈین ہائی کمیشن
کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں ملاقات قرار دیا۔ یہ ملاقات نئی حکومت کے
حلف برداری کی تقریب کے دوران ہوئی۔
انڈین ہائی کمشن کی جانب سے ایک پر جاری بیان کے
مطابق، انڈین سیکریٹری خارجہ نے ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کو ان کے نئے منصب پر مبارکباد
دی اور کہا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات عوامی مفادات سے جڑے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق
الرحمٰن نے دونوں ممالک کے گہرے ثقافتی رشتوں پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ
تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
تقریبِ حلف برداری میں انڈیا کی پارلیمنٹ کے سپیکر
اوم برلا بھی شریک ہوئے، جنھوں نے نو منتخب وزیراعظم طارق رحمان کو وزیراعظم
نریندر مودی کی جانب سے مبارکباد کا پیغام دیا۔ وزیراعظم مودی نے طارق الرحمٰن کو انڈیا
کے دورے کی دعوت بھی دی۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے
عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے بھاری اکثریت حاصل کی جبکہ
جماعتِ اسلامی دوسری بڑی اپوزیشن جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
بنگلہ دیش میں قائم ہونے والی حکومت اور اس کی نئی
کابینہ کا پہلا اجلاس بدھ یعنی آج سہ پہر 3 بجے ہوگا۔
پاکستان کا موجودہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب سات کروڑ ڈالر رہا: سٹیٹ بینک آف پاکستان, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
موجودہ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ایک ارب سات کروڑ ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے میں 56 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سرپلس تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں بہتری دیکھنے میں آئی۔ جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، جبکہ دسمبر میں 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خسارہ تھا۔ جنوری 2025 میں یہ خسارہ 39 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ پورے سال میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ معیشت کے مجموعی حجم کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہ سکتا ہے۔
توقع ہے کہ جون 2026 تک زرِ مبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے۔
اعداد و شمار کے مطابق حقیقی مؤثر شرحِ تبادلہ جنوری میں کم ہو کر 103.3 رہ گئی، جو دسمبر میں 103.6 تھی۔