آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پی ٹی آئی اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے لاشوں کی سیاست کر رہی ہے: وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اب تحریک انصاف اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے لاشوں کی سیاست کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال والے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں کوئی لاشیں نہیں لائی گئی ہیں۔

خلاصہ

  • پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تحریک انصاف پر ’لاشوں کی سیاست‘ کا الزام لگایا ہے۔ ادھر پی ٹی آئی نے اس حکومتی دعوے کی تردید کی ہے کہ ’فائنل کال‘ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔
  • وزارت داخلہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کا اس پرتشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی انھیں ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
  • ادھر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ’وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں، ڈریں جب ہم گولی کا جواب گولی سے دیں گے۔‘

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    یکم دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں آٹھ شدت پسند ہلاک، فوج کے ایک کیپٹن سمیت دو اہلکار بھی مارے گئے: آئی ایس پی آر

    پاکستان کی فوج کا کہنا ہے سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک اور نو کو زخمی کر دیا ہے جبکہ اس دوران فوج کے ایک کیپٹن سمیت دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع بنوں کے علاقے بکاخیل میں آپریشن کے دوران پانچ شدت پسند ہلاک اور نو زخمی ہوئے ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق دوسری کارروائی ضلع خیبر میں کی گئی، جہاں تین شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ضلع خیبر میں آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ کیپٹن محمد ذوہیب الدین ہلاک ہوئے جبکہ ضلع بنوں کے علاقے بکاخیل میں کیے گئے آپریشن کے دوران پنجاب کے ضلع جھنگ کے رہائشی 29 سالہ سپاہی افتخار حسین ہلاک ہوئے ہیں۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے اضلاع بنوں اور خیبر میں شدت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کی تحسین کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دہشتگردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔‘

  3. پی ٹی آئی اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے لاشوں کی سیاست کر رہی ہے: وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اب ڈیڈ باڈی کی سیاست کی جا رہی ہے۔‘

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کے ہسپتالوں کی انتظامیہ کے مطابق تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران یہاں کوئی لاشیں نہیں لائی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق پہلے کہا گیا ہے کہ سنائپر نے مارا ہے اور پھر کہا گیا کہ سامنے سے گولیاں ماری گئی ہیں۔ ان کے مطابق ٹی وی چینلز نے ایسا کوئی منظر نہیں دکھایا، جہاں عمارتوں کے اوپر سنائپرز کھڑے ہوں یا سامنے سے گولی چلائی گئی ہو۔

    وزیراطلاعات کے مطابق احتجاج میں فورسز کو اسلحہ نہیں دیا جاتا ہے۔

    اس سے قبل پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے بھی کہا تھا کہ پولیس اور رینجرز نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں اور بارودی مواد استعمال نہیں کیا۔ وزارت کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کا اس پرتشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا۔

    وزیراطلاعات نے اپنی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اس احتجاج میں تربیت یافتہ مسلحہ افغان شہری اور دیگر شرپسند عناصر موجود تھے۔ مظاہرین جدید اسلحہ اور آنسو گیس کے شیل چلانے میں ماہر تھے۔

    وزیراطلاعات کے مطابق اس احتجاج میں 37 افغان شہری بھی شریک تھے۔ انھوں نے پوچھا کہ ’کیا ہمارا آئین اور قانون اس بات جی اجازت دیتا ہے کہ غیر ملکی شہری احتجاج کریں۔ ایک لڑکا جو افغان شہری ہے اس کو ڈی چوک کینٹر سے گرفتار کیا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’45 کے قریب بندوقیں بھی پولیس نے تحویل میں لی ہیں۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان میں کسی بھی غیر ملکی شہری کی احتجاج میں شرکت ناقابل قبول ہے۔ اس کے جواب میں افغان طالبان نے اپنے بیان میں اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی حکام بار بار حالیہ احتجاج میں افغان شہریوں کی شرکت کا تذکرہ کر کے مزید پابندیوں کی بات کرتے ہیں جس سے پناہ گزینوں میں بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ افغان طالبان کے مطابق اس کے بعد افغان شہریوں کو پھر سے ہراسانی جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی کے احتجاج میں ہلاکتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے عطاللہ تارڑ نے کہا کہ ’غیر ملکی میڈیا اے آئی والی تصاویر چلا رہا ہے۔ غزہ کی تصاویر شیئر کی گئیں اور ایک سنہ 2019 والی تصویر بھی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔‘ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ’یہ فرار کی شرمندگی کو مٹانے کے لیے ڈیڈ باڈی کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ کوئی ثبوت نہیں ڈیڈ باڈیز کا۔

    ان کے مطابق ’سیاسی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا انھوں نے وزیرداخلہ محسن نقوی کے ساتھ خود پوری جگہ دیکھیں کہیں کسی سڑک پر خون کا دھبہ تک نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ اب یہی رستہ رہ گیا ہے کہ ایف آئی اے کے ذریعے نوٹس کروائیں اور الزام لگانے والوں سے کہا جائے کہ وہ ثابت کریں ’ریاستیں کمزور نہیں ہوا کرتی ہیں۔ ریاستیں ایک حد تک آگے نہیں جاتی ہیں۔‘

    اپنے بیان میں ترجمان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ 26 نومبر ملکی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے اور حکومت بے گناہ شہریوں کے ناحق خون میں لتھڑی ہوئی ہے۔ ترجمان کے مطابق عوام اپنے معصوم بھائیوں کے ناحق خون کو ہرگز بھولیں گے نہ معاف کریں گے۔

    مراد سعید وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں روپوش ہیں، چھاپہ مارنا اچھا نہیں لگتا: عطااللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید اس وقت وزیراعلیٰ ہاؤس میں پشاور میں روپوش ہیں اور اب وزیراعلی ہاؤس پر چھاپہ مارنا اچھا نہیں لگتا۔ واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے جن چند رہنماؤں نے روپوشی اختیار کی تھی ان میں مراد سعید نے بھی شامل ہیں۔

    صحافی مطیع اللہ سے متعلق سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ مطیع اللہ نے ایک خبر دی کہ رینجرز کو اس کے اپنے ایک اہلکار نے مارا جو درست نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہم پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے ساتھ رابطے میں رہے اور اب یہ معاملہ حل ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے مطیع اللہ پر ایف آئی آر میں درج الزامات کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ صحافی مطیع اللہ سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی جبکہ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔

  4. وزیر اعظم کو غلط معلومات ملی ہیں، صوبے میں سی ٹی ڈی فعال ہے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور

    پشاور میں کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ اپیکس کمیٹی میں وزیراعظم نے کہا تھا خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) فعال نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم کو غلط معلومات ملی ہیں۔‘ ان کے مطابق ’سی ٹی ڈی مستحکم ادارہ ہے اور اس کے صوبے میں 16 سٹیشنز فعال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور سی ٹی ڈی نے ہزاروں دہشت گرد کارروائیاں ناکام بنائیں، انھیں سلام پیش کرتا ہوں۔‘

    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ سی ٹی ڈی کو کل مزید ایک ارب روپے جاری کیے جائیں گے۔

    علی امین نے کہا کہ اب ہمیں فرانزک کے لیے پنجاب سمیت کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ 20 بم پروف گاڑیوں کی خریداری کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کٹس کا مسئلہ ہے، 300 کٹس کے لیے کل فنڈز مہیا کریں گے۔ 16 سنائپرز کے لیے بھی فنڈز دے رہے ہیں، ہمارے پاس بہت لمبی سرحد ہے، ملک کے قربانیاں دیتے رہے گے۔

    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ہم نے ابھی پراسیکیوشن پر کام شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’آئندہ ہفتے پراسیکیوشن میں اور لوگوں کو بھی لارہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی میں زیرحراست ملزمان کے لیے خصوصی سیل تیار کیے ہیں، زیرحراست ملزمان کی اصلاح بہت ضروری ہے۔

  5. پولیس اور رینجرز نے پی ٹی آئی کے پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں اور بارودی مواد استعمال نہیں کیا: وزارتِ داخلہ

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے پرتشدد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں اور بارودی مواد استعمال نہیں کیا۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کا اس پرتشدد ہجوم سے براہ راست کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا اور نہ ہی انھیں ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

    ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پر تشدد مظاہرین کے ساتھ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت اسلام آباد میں فوج کو تعینات کیا گیا۔‘ مزید یہ کہ فوج کی تعیناتی کا مقصد اہم تنصیبات کو محفوظ اور غیر ملکی سفارت کاروں کی حفاظت اور دورے پر آئے اہم وفود کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا تھا۔

    وزارت کا الزام ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے عمل کے دوران پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ موجود گارڈز اور مظاہرین میں مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی۔

    پریس ریلز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں چیک پوسٹ پر ڈیوٹی پر متعین تین رینجرز اہلکاروں کو گاڑی چڑھا کر ہلاک کیا گیا۔ پرتشدد مظاہرین نے ایک پولیس اہلکار کو بھی ہلاک کیا اور مظاہرین کے ہاتھوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 232 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ پرتشدد مظاہرین نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا اور پولیس کی متعدد گاڑیوں کو بھی آگ لگائی۔ جیل وینز کو آگ لگانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 11 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین نے سنگجانی کے بجائے اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہو کر قانون کی خلاف ورزی کی اور پر تشدد مظاہرین نے پشاور تا ریڈ زون تک مارچ کے دوران ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔

    وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ 21 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو امن و امان ہر قیمت پر قائم رکھنے کی ہدایت کی۔ ہائی کورٹ نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ امن و امان کے حوالے سے پی ٹی ائی قیادت سے رابطہ کریں۔

    ’بیلاروس کے صدر اور اعلی سطحی چینی وفد کے دورے کے پیش نظر پی ٹی آئی کو متعدد بار احتجاج موخر کرنے کا کہا گیا۔ پی ٹی آئی کے احتجاج جاری رکھنے کی ضد پر انھیں سنگجانی مقام کی تجویز دی گئی۔ غیر معمولی مراعات بشمول بانی سے ملاقاتوں کے باوجود پی ٹی آئی نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔‘

    وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے اسلحہ بشمول سٹیل سلنگ شاٹس، سٹین گرنیڈ، آنسو گیس شیل اور کیل جڑی لاٹھیوں وغیرہ کا استعمال کیا اور پر تشدد احتجاج میں خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کا بھرپور استعمال کیا گیا۔

    پریس ریلز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے پرتشدد احتجاج میں تربیت یافتہ شر پسند اور غیر قانونی افغان شہری بھی شامل تھے۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے عسکریت پسندانہ حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کیا۔ صوبائی سرکاری مشینری کی مدد سے سڑک پر نصب رکاوٹیں ہٹا کر دوسرے شر پسند جتھوں کے لیے راستہ بنایا۔

    ’ان خود ساختہ پر تشدد حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے صورتحال سنبھالنے کے بجائے راہ فرار اختیار کیا۔‘

    وزارت کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر ایک منظم پراپیگینڈا شروع کر دیا ہے جس میں مبینہ ہلاکتوں کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

    پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے بڑے ہسپتالوں کی انتظامیہ نے بھی ہلاکتوں کی رپورٹ کی تردید کی ہے مگر من گھڑت سوشل میڈیا مہم کے دوران پرانے اور اے آئی سے تیار کردہ جھوٹے کلپس کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

    وزارت کا الزام ہے کہ غیر ملکی میڈیا کے بعض عناصر بھی اس پروپیگنڈا کا شکار ہو گئے ہیں۔ وزرا، حکومتی اہلکار، پولیس آفیشلز اور کمشنر اسلام آباد نے بار بار مصدقہ ثبوت کے ساتھ اصل صورتحال کی وضاحت کی۔

    بیان میں کہا گیا ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر پاکستانی شہریوں کی حفاظت کی۔

    پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم پاکستان میں انتشار بدامنی اور تفرقہ بازی کو فروغ دے رہی ہے اور اندرون اور بیرون ملک ایسے عناصر کا متعلقہ قوانین کے تحت احتساب کیا جائے گا۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے صوبائی اسمبلی کو اداروں کے خلاف بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے استعمال کیا۔

    وزارت کا دعویٰ ہے کہ پرتشدد مظاہرین سے 18 خودکار ہتھیاروں سمیت 39 مہلک ہتھیار برآمد ہوئے ہیں، پکڑے گئے شر پسندوں میں تین درجن سے زائد غیر ملکی اجرتی شامل ہیں۔ اور پرتشدد مظاہروں کے دوران معیشت کو بالواسطہ نقصانات کا تخمینہ 192 ارب روپے یومیہ ہے۔

  6. ٹرمپ نے سابق معاون کو ایف بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا

    امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سابق معاون کاش پٹیل کو فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کی سربراہی کے لیے منتخب کیا ہے۔

    یہاں یہ یاد رہے کہ پٹیل نے بارہا اس ایجنسی پر تنقید کی ہے۔

    پٹیل ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران امریکی محکمہ دفاع کے سابق چیف آف سٹاف تھے۔

    وہ نو منتخب صدر کے مستقل حامی رہے ہیں۔

    پٹیل کے اس عہدے پر فائز ہونے کے لیے ایف بی آئی کے موجودہ ڈائریکٹر کرسٹوفر رے کو استعفیٰ دینے ہو گا یا وہ برطرف کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ فلوریڈا کی ہلزبرو کاؤنٹی کے شیرف چاڈ کرونسٹر کو ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے سربراہ کے طور پر نامزد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

  7. ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں سیلاب سے کم از کم 12 افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر

    ملائیشیا اور اس کے پڑوسی ملک تھائی لینڈ میں شدید بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب سے کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    شمالی ملائیشیا میں ایک لاکھ 22 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوئے ہیں جب کہ جنوبی تھائی لینڈ میں تقریباً 13 ہزار افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

    شدید بارشوں اور طوفان کی مزید وارننگز کے سبب ہلاکتوں اور بے گھر افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    پھنسے ہوئے رہائشیوں کو بچانے کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے اور بے گھروں کو پناہ فراہم کی جا رہی ہے۔

    ہفتے کے شروع میں شروع میں آنے والے سیلاب نے دونوں ممالک کے ہزاروں باشندوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا ہے۔

    سوشل میڈیا اور مقامی چینلز پر چلنے والی ویڈیوز میں کاریں اور مکانات ڈوبے ہوئے ہیں اور لوگ کمر کے آنے والے گہرے پانی سے گزرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    ڈیزاسٹر حکام نے بتایا ہے کہ سیلاب نے جنوبی تھائی لینڈ میں تقریباً پانچ لاکھ 34 ہزار خاندانوں کو متاثر کیا ہے اور طبی سہولیات کو سیلاب کے پانی سے بچانے کے لیے دو ہسپتالوں کو بند کرنا پڑا۔

    سیلاب کی وجہ سے چھ صوبوں کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔

  8. پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، اطلاق یکم دسمبر سے

    وزارت خزانہ نے پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جس کا اطلاق یکم دسمبر سے ہوچکا ہے۔

    3.72 روپے کے اضافے کے ساتھ پیٹرول کی نئی قیمت 252.10 روپے فی لیٹر ہے جبکہ 3.29 روپے کے اضافے کے ساتھ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 258.43 روپے فی لیٹر ہے۔

    جبکہ لائٹ ڈیزل آئل اورمٹی کے تیل کی قیمت میں بالترتیب 0.48 اور 0.62 روپے کمی کے ساتھ نئی قیمتیں 151.73 روپے فی لیٹر اور 164.98 روپے فی لیٹر ہیں۔

  9. کُرم میں امن خراب کرنے والوں کے ساتھ ’دہشتگردوں والا سلوک‘ ہوگا: علی امین گنڈاپور کا جرگے سے خطاب

    ضلع کُرم میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے قائم کیے گئے گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ علاقے میں امن کی خرابی کا باعث بننے والے افراد کے ساتھ ’دہشتگردوں والا سلوک‘ کیا جائے گا۔

    سنیچر کو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق گرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ کُرم میں صوبائی حکومت کی درخواست پر امن قائم کرنے کے لیے فوج کو تعینات کیا گیا ہے اور یہاں ’قائم تمام کے تمام مورچے بلاتفریق ختم کیے جائیں گے۔‘

    خیال رہے ضلع کُرم میں پُرتشدد واقعات کی تازہ لہر میں اب تک 100 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً 150 لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔

    وزیرِ اعلی علی امین گنڈاپور نے ہدایات جاری کیں کہ ’علاقے میں لوگوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ جمع کیا جائے، جبکہ سرحدی علاقے کے لوگوں کے پاس موجود اسلحہ بھی امانتاً اپنے پاس رکھ لیا جائے۔‘

    ’جو بھی ہتھیار اُٹھائے گا وہ دہشت گرد کہلائے گا۔‘

    خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ کُرم میں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کے لیے فنڈز ترجیحی بنیادوں پر جاری کیے جائیں گے۔

  10. بریکنگ, صحافی مطیع اللہ جان کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا, اعظم خان، بی بی سی اردو

    صحافی مطیع اللہ جان کو سنیچر کی شام اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد کی ایک انسداد دِہشتگردی عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان کی 10 ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کی تھی۔

    سماعت کے آغاز پر اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے تفتیشی افسر نے کہا کہ مطیع اللہ جان کو عدالت جلد سے جلد پہنچائیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کو معطل کر دیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسمانی ریمانڈ معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ مطیع اللہ جان کو اب جوڈیشل ریمانڈ پر تصور کیا جائے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ صحافی مطیع اللہ سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی جبکہ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔

    سنیچر کے روز صحافی مطیع اللہ جان کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے تفتیشی افسر کو ہدایات دیں کہ ’ہائیکورٹ کے حکم نامہ کی کاپی دی جائے۔ روبکار اور اس حکم نامہ کو ریکارڈ کے ساتھ لگایا جائے۔‘

  11. ’خبر کا نشہ یہاں تک لے آیا‘: صحافی مطیع اللہ جان نے ضمانت کے بعد کمرۂ عدالت میں بی بی سی کو اپنی گرفتاری کے بارے میں کیا بتایا؟, اعظم خان، بی بی سی اردو اسلام آباد

    سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کو سنیچر کی صبح نو بجے پولیس نے اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کرنا تھا۔ یہ عدالت دارالحکومت کے سیکٹر جی الیون کے اس کمپلیکس کے اندر واقع ہے جہاں اس سے قبل بھی اہم سیاسی اور حکومتی شخصیات پیشیاں بھگت چکی ہیں۔

    یہیں پر وہ نیب کی عدالتیں بھی موجود ہیں جن میں نواز شریف سمیت سابق وزرائے اعظم اور اہم حکومتی شخصیات پیش کی جاتی رہی ہیں۔

    پولیس اور صحافیوں کا رش صبح سے ہی معمول سے زیادہ تھا۔ مطیع اللہ جان کے اہلِخانہ، رشتہ دار، کلاس فیلوز، صحافی دوست اور وکلا کی بڑی تعداد بھی اس کمرۂ عدالت میں موجود تھی جہاں سے ان کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری ہوئے۔

    مطیع اللہ جان کو مبارکباد دینے کا سلسلہ کمرۂ عدالت میں ہی شروع ہو گیا۔ تحریری حکمنامے کے انتظار میں تھانہ مارگلہ کی پولیس اور ایس ایچ او بھی اسی کمرۂ عدالت میں موجود تھے جنھوں نے پھر مطیع اللہ کو واپس جیل لے جانا تھا۔ اب رہائی کے لیے قانونی ضابطے پورے ہونے تک مطیع اللہ جان کو پولیس کی حراست میں ہی رہنا ہو گا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعے کو مطیع اللہ کے خلاف دو دن کا جسمانی ریمانڈ معطل کیا تو پھر ان کی قانونی حیثیت اڈیالہ جیل کے قیدی کی ہو گئی ہے۔ تاہم ابھی یہ نہیں معلوم کہ انھیں کون سا قیدی نمبر پکارا جانا ہے اور کیا اڈیالہ جیل کی انتظامیہ انھیں یہاں سے قیدی بنا کر رہائی کے عمل کو ممکن بنائے گی یا پھر اس میں بھی کوئی رکاوٹیں ڈالی جائیں گی۔ میں دیگر صحافیوں اور وکلا سے کچھ تاخیر سے کمرہ عدالت پہنچا تو فوراً اس نشست پر چلا گیا جہاں مطیع اللہ بیٹھے ہوئے تھے۔

    میں جیسے ہی قریب پہنچا تو ان کے اہلِخانہ کو ان کے ساتھ محوِ گفتگو پایا۔ ان کا بیٹا عبدالرزاق، جس نے سب سے پہلے سوشل میڈیا پر ان کے لاپتہ ہونے کی خبر دی تھی، بالکل ان کے سامنے کھڑا تھا جبکہ ان کی بیٹی ان سے گپ شپ کر رہی تھیں۔ مطیع اللہ کی اہلیہ ان کے ساتھ والی نشست پر تھیں۔ میں نے فوراً یاد دلایا کہ جب کچھ سال قبل اسلام آباد کے ایک سکول کے سامنے سے مطیع اللہ کو اغوا کر لیا گیا تھا تو اس وقت انھوں نے فون پر مجھے اس واقعے کی تفصیلات بتائی تھیں۔

    میرے استفسار پر مطیع اللہ نے کہا کہ ’دوران حراست ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔‘ پولیس اہلکاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میری ان سب لوگوں سے اچھی گپ شپ ہوئی ہے۔‘

    کمرۂ عدالت میں موجود صحافی ثاقب بشیر نے ہمیں مطیع اللہ اور اپنے اغوا سے متعلق تفصیلات بتانا شروع کر دیں جو ایف آئی آر میں درج تفصیلات سے یکسر مختلف تھیں اور اس سے قبل بی بی سی پر رپورٹ بھی ہو چکی ہیں۔

    مطیع اللہ سے میں نے ازرائے تفنن سوال کیا کہ سب آئس آپ نے پولیس کے حوالے کر دی ہے، جس پر مطیع اللہ مسکرا دیے جبکہ ان کے ساتھیوں کے اہم تبصرے بھی سننے کو ملے۔ صحافی سہیل خان نے کہا کہ ’مطیع اللہ کوئی نشہ نہیں کرتا مگر پھر بھی سب ادارے ان سے پناہ ضرور مانگتے ہیں۔‘ صحافی اعزاز سید کا کہنا تھا کہ ’مطیع اللہ کو خبروں کے نشے نے یہاں تک پہنچایا ہے۔‘

    صحافی فیاض راجہ نے کہا کہ ان سے خود مطیع اللہ نے سگریٹ نوشی ترک کروائی تھی اور پولیس کے ذریعے مطیع کے نشے سے متعلق مجھے اچھا لطیفہ سننے کو ملا۔

    مطیع اللہ نے کمرۂ عدالت سے نکلتے ہوئے یہ کہا کہ ’میں ان سب لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میرے لیے آواز اٹھائی۔ یہ میرے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے اور جمہوریت کے لیے آواز ہے۔‘

  12. شامی باغیوں نے حلب شہر کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا، 2016 کے بعد روس کے حلب پر فضائی حملے

    انسانی حقوق پر کام کرنے والے برطانیہ میں قائم مانیٹرنگ گروپ ایس او ایچ آر نے کہا ہے کہ شام میں باغیوں نے ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس گروپ کے مطابق روس نے سنہ 2016 کے بعد پہلی بار سنیچر کی رات کو حلب کے کچھ حصوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

    ایس او ایچ آر کا کہنا ہے کہ بدھ سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں 20 عام شہریوں سمیت 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گذشہ کئی برسوں میں شامی حکومت کے خلاف یہ باغیوں کا یہ ایک بڑا حملہ ہے۔

    سنہ 2016 کے بعد یہاں سے بے دخل کیے جانے کے بعد پہلی بار باغی جنگجو بشارالاسد کی افواج سے لڑنے کے لیے حلب میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ شام کے فوجی ذرائع نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حلب کے ایئرپورٹ سمیت شہر کو جانے والے تمام رستے بند کر دیے گئے ہیں۔

    شام کی فوج نے سنیچر کو اس کی تصدیق کی ہے باغی حلب شہر کے بڑے حصے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس دوران ان سے ہونے والی لڑائی میں درجنوں شامی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

    شام کی فوج نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حلب سے عارضی طور پر فوجی دستے واپس بلائے گئے ہیں تا کہ ان باغیوں کے خلاف جوابی حملے کی تیاری کی جا سکے۔‘

    ایس او ایچ آر کے مطابق کسی بڑی مزاحمت کے بغیر ہی باغی حلب شہر کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چونکہ شامی افواج نے پسپائی اختیار کر لی اس وجہ سے شہر میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ سٹی کونسل، پولیس سٹیشننز اور انٹیلیجنس کے دفاتر خالی پڑے ہیں۔ اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا ہے۔‘

    اس سے قبل شامی باغی گروہ ہیئت تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) اور اس کے اتحادی گروہوں کی طرف سے بدھ سے شروع کیے جانے والے حملوں کے بعد جمعے کو حکومتی افواج نے یہ کہا تھا کہ انھوں نے حلب شہر اور ادلب صوبے کی بہت سی جگہوں کا قبضہ باغیوں سے چھڑا لیا ہے۔ ایچ ٹی ایس سے منسلک ایک چینل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں ان باغی جنگجوؤں کو حلب کے اندر دکھایا گیا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی نے اس فوٹیج کے مقام کا پتا چلایا جو کہ حلب کے نواحی علاقے میں واقع ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اس کے ایک رپورٹر نے باغی جنگجوؤں کو شہر کی مرکزی عمارت کے سامنے دیکھا ہے۔ سنہ 2011 میں جمہور پسند مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد شام میں خانہ جنگی میں اب تک پانچ لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال سے اسد حکومت کے مخالف گروہوں جن میں جہادی بھی شامل ہیں نے ملک میں اس خانہ جنگی سے فائدہ اٹھایا اور مخلتف جگہوں پر قبضے کی جنگ شروع ہو گئی۔

    روس اور اس کے اتحادیوں کی مدد سے شام کی حکومت نے بڑا حصہ ان گروہوں سے واپس لے لیا۔

    ادلیب میں زیادہ کنٹرول ایچ ٹی ایس کا ہے تاہم ترکی کے حمایت یافتہ باغی اور ترکی کی افواج بھی ادلیب میں موجود ہیں۔

    ایس او ایچ آر کے مطابق شامی اور روسی طیاروں نے جمعے کو ادلیب کے قریب 23 فضائی حملے کیے۔ اس گروپ کے مطباق روس کے ان حملوں میں چار عام شہری مارے گئے اور 19 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ روس کے خبر رساں اداروں کے مطابق روسی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صرف انتہا پسند قوتوں کو ہی نشانہ بنایا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اپنے بیان میں شامی حکومت کے لیے جلد امن و امان کی بحالی کے لیے مدد کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ باغیوں کی طرف سے ملک کی خود مختاری اور سالمیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

  13. بریکنگ, صحافی مطیع اللہ جان کی 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد کی انسداد دِہشتگردی عدالت نے صحافی مطیع اللہ جان کی 10 ہزار روپے کے مچلکوں پر ضمانت منظور کر لی ہے۔

    انسداد دِہشت گردی کی عدالت اسلام آباد میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات، دہشتگردی کیس سے متعلق سماعت ہوئی۔

    سماعت کے آغاز پر اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے تفتیشی افسر نے کہا کہ مطیع اللہ جان کو عدالت جلد سے جلد پہنچائیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کو معطل کر دیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسمانی ریمانڈ معطل کرتے ہوئے کہا تھا کہ مطیع اللہ جان کو اب جوڈیشل ریمانڈ پر تصور کیا جائے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اور الزام عائد کیا گیا ہے کہ صحافی مطیع اللہ سے 246 گرام آئس برآمد ہوئی جبکہ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی کوشش کی۔

    سنیچر کے روز صحافی مطیع اللہ جان کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے تفتیشی افسر کو ہدایات دیں کہ ’ہائیکورٹ کے حکم نامہ کی کاپی دی جائے۔ روبکار اور اس حکم نامہ کو ریکارڈ کے ساتھ لگایا جائے۔‘

    جج نے ریمارکس دیے کہ صحافی مطیع اللہ جان کو جوڈیشل ریمانڈ پرجیل بھیج رہا ہوں جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہم نے ضمانت کی درخواست دائر کی ہے اور آج ہی سماعت کر دیں۔

    جج نے ریمارکس دیے کہ آپ کی درخواست ضمانت سات صفحات پر مشتمل ہے۔ نوٹس کر رہا ہوں، نوٹس کا مطلب ہے پراسیکیوشن نے کوئی دلائل دینے ہیں تو دیں۔

    عدالت نے کہا کہ آج ہی نوٹس ہو گیا 10 ہزار روپے مچلکوں پر ضمانت منظور کی جاتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد صحافی مطیع اللہ جان کے بیٹے نے بدھ کی صبح اسلام آباد پولیس کودرخواست دی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد نے‘ ان کے والد کو اغوا کر لیا۔

    درخواست میں اُن کے بیٹے کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُن کے والد کے اغوا کا واقعہ گذشتہ رات گیارہ بجے کے لگ بھگ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی پارکنگ میں پیش آیا۔

  14. پنجاب کے مختلف شہروں سے رواں ماہ 34 شدت پسند گرفتار کیے گئے: سی ٹی ڈی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    سی ٹی ڈی کی جانب سے پنجاب کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے خلاف رواں ماہ کیے گئے آپریشنز کی تفصیلات جاری کر دی گئیں۔

    سی ٹی ڈی کے اعلامیے کے مطابق نومبر کے مہینے میں کُل 242 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ہیں جس دوران 34 شدت پسند گرفتار کیے گئے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق لاہور، بہاول نگر، بہاولپور، گجرانوالہ، فیصل آباد، راولپنڈی ،نارووال اور رحیم یار خان سمیت دیگر اضلاع میں کی گئیں۔

    اعلامیے کے مطابق ’لاہور سے فتنہ الخوارج سمیت دیگر تنظیموں کے 11 انتہائی خطرناک دہشت گرد باروی مواد اور اہم عمارتوں کے نقشوں سمیت گرفتار ہوئے۔‘

    ترجمان کے مطابق شدت پسند لاہور میں ایک اہم سرکاری عمارت کو ٹارگٹ کرنا چاہتے تھے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ رواں ماہ میں 7536 کومبنگ آپریشنز کے دوران637 مشتبہ افراد بھی گرفتار کیے گئے۔

  15. اس وقت سے ڈریں جب ہم گولی کا جواب گولی سے دیں گے:علی امین گنڈا پور

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے سے ڈرتے نہیں ہیں۔ وفاق میں ہمت ہے تو لگا کر دکھائے۔

    جمعے کی شام خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پورنے کہا کہ کرسی نہیں عزت اور خودداری چاہیے، اپنے حق کےلیے پرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔

    انھوں نے خطاب کے دوران حکومت کو متنبہ کیا کہ کہا کہ ’ڈرو اس وقت سے جب ہم یہ کہیں کہ ہم بھی گولی کا جواب گولی سے دیں گے اور امن کا نعرہ چھوڑ کر نکلیں گے، اسلحہ ہمارے پاس بھی ہے، بارود ہمارے پاس بھی ہے، پیسہ ہمارے پاس بھی ہے۔‘

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض حکومتی شحصیات سے منسوب کر کے ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جس میں کہا جا رہا ہے کہ کچھ عرصے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف موثر کارروائی کے لیے ٹاسک فورس بھی قائم کر دی ہے اور حکم دیا ہے کہ ’تمام تخریب کاروں‘ کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائیں۔

    علی امین گنڈاپور نے خطاب کے دوران الزام عائد کیا کہ ’اس دفعہ 245 لگا کر ان لوگوں نے فوسرز سے ہمیں فورسز سے مروائیں، ایسا کام اگرآپ کے ساتھ ہوتا تو آپ کے اہل خانہ کتنی بد دعائیں دیتے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گورنر راج سے نہیں ڈرتے۔

    ’مینڈیٹ بھی ہمارا چوری ہو، لیڈر بھی ہمارا جیل میں، گولیاں بھی ہم کھائیں، پر امن احتجاج بھی ہم نہ کرسکیں، اگر ایسا ہے تو پھر ایسا نہ کہ ہم بھی نعرہ لگادیں کہ ایسا ہے تو پھر ایسا ہی صحیح۔‘

    واضح رہے کہ اکتوبر کے آغاز میں بھی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاملات حد سے بڑھ گئے تو گورنر راج لگانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ جو چیز آئین میں موجود ہو (گورنر رول) اس کا آپشن ضرور موجود ہوتا ہے، گورنر رول ماضی میں لگائے گئے ہیں، جب مرض لاعلاج ہوجاتا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

    یاد رہے کہ 24 نومبر کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی قافلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا تھا۔

    تاہم 26 نومبر کو رات گئے رینجرز اور پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک سے جناح ایونیو تک کے علاقے کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں سے خالی کرالیا تھا اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔

  16. یورپ میں پاکستانی ایئرلائنز کے داخلے پر عائد پابندی ختم: وزیرِ دفاع خواجہ آصف

    پاکستان کی قومی ائیر لائن (پی آئی اے) کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستانی ایئرلائنز کے یورپ داخلے پر عائد پابندی ختم کردی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایاسا نے نجی ایئرلائن ایئربلیو کو بھی یورپ تک فلائٹ آپریشن شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    پی آئی اے کے ترجمان کی جانب سے بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ ایاسا نے اپنے مکتوب میں پابندی ہٹانے کے حوالے سے اپنے فیصلے سے وزرات ہوابازی اور پی ائی اے انتظامیہ کو باضابطہ آگاہ کردیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا اس پابندی کے ختم ہونے کے بعد پوری قوم اب دوبارہ اپنی قومی ائیر لائن میں یورپ کا براہ راست سفر کر سکے گی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ائی اے انتظامیہ نے گذشتہ چار سال کی انتھک محنت کے بعد یہ اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔

  17. اسلام آباد میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے ٹاسک فورس قائم، ’تخریب کاروں‘ کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے: وزیراعظم شہباز شریف کا حکم

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہنگامہ آرائی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف موثر کارروائی کے لیے ٹاسک فورس قائم کر دی ہے اور حکم دیا ہے کہ ’تمام تخریب کاروں‘ کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے۔

    خیال رہے پی ٹی آئی نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دی تھی، جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں دو دنوں تک جماعت کے کارکنان اور سکیورٹی اہکاروں کے درمیان جھڑپیں دیکھنے میں آئی تھی۔

    جمعے کو وزیراعظم نے امن و امان کے حوالے سے خصوصی اجلاس کی سربراہی کی جس میں آرمی چیف اور دیگر حکومتی وزرا بھی شامل تھے۔

    میڈیا کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ٹاسک فورس 24 نومبر کو ’انتشار‘ پھیلانے میں ملوث مسلح افراد اور پر تشدد واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کرے گی تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے۔

    وفاقی حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی ٹاسک فورس کی سربراہی وزیر داخلہ محسن نقوی کریں گے جبکہ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور سکیورٹی فورسز کے نمائندے بھی اس ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے.

    وزیرِ اعظم نے ملک میں آئندہ کسی بھی قسم کے ’انتشار و فساد‘ کی کوشش کو روکنے کیلیے وفاقی انسداد فسادات فورس بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

    اجلاس میں وفاقی فورینزک لیب کے قیام کی منظوری بھی دی گئی اور ایسے واقعات کی تحقیقات و شواہد اکٹھا کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے گا۔

    وزیراعظم نے امن و امان کے حوالے سے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے مظاہرین نے گولیاں چلائیں جس سے ایک پولیس اہلکار اور تین رینجرز اہلکار ہلاک ہوئے۔

    اس دوران شہر کی ایک سڑک پر تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ کر تین رینجرز اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے بھی متعدد کارکنان کی ہلاکتوں کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہرین پر گولیاں نہیں چلائی گئیں۔

    وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا سے ایک جتھہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر آیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت کا ایک ایجنڈا ہے کہ ہر چیز کو تہہ و بالا کر دو۔‘

    ’یہ سیاسی جماعت نہیں ایک فتنہ ہے، تخریب کاروں کا ایک جتھہ ہے۔ جتنے بھی تخریب کار ہیں، ان سب کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائیں۔ یہ قومی فرض ہے اگر ان کا چہرہ نہ دکھایا تو تاریخ معاف نہیں کر گی۔‘

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مطابق ’کے پی کی حکومت نے ان آٹھ مہینوں میں عوامی منصوبوں کی بحالی، سکولوں اور سڑکوں پر کتنی توجہ دی۔۔۔ پاڑہ چنار میں جو دلخراش واقعات ہوئے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاڑہ چنار کی طرف تحریک انصاف کی حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کی رسوائی کی گئی اور معیشت کو نقصان پہنچایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ چینی وزیراعظم کی اکتوبر میں پاکستان آمد کے موقع پر بھی ایسا ہی کیا گیا اور اب بیلا روس کے صدر کی آمد پر بھی ایسا ہی ہوا۔

    ’اس کے پیچھے انتہائی تخریب کار کی سوچ ہے، وہ دن رات ان کی رہنمائی کرتے ہیں کہ فلاں آ رہا ہے اب ہم یہ کرتے ہیں، اب یہ ہم یہ کرتے ہیں۔۔‘

  18. پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران ڈی چوک سے گرفتار ہونے والے 19 افراد کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    اسلام آباد کی ایک انسداد دہشتگردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ڈی چوک پر احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 19 ملزمان کو گذشتہ رات چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

    جمعرات کو پولیس کی جانب سے گرفتار ملزمان کو جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

    ملزمان کو رات ساڑھے دس بجے عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور سیکریٹریٹ پولیس نے ان کے دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔

    رات گئے سماعت کی وجہ سے کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہ ہو سکا اور اس اقدام کی وجہ سے عدالت کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق کی عدالت نے پی ٹی آئی احتجاج کے بعد پارٹی قیادت کے خلاف درج مقدمات کے معاملہ میں پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اور سینئیر وکیل سلمان اکرم راجہ کے خلاف وفاق اور پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک ملزم کو گرفتاری سے روک دیا۔

    جمعے کو ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کے دوران سلمان اکرم راجہ عدالت پیش ہوئے اور موقف اختیارکیا گیا کہ وفاق اور پنجاب میں معلوم نہیں کتنے مقدمات درج ہیں،لاہور میں پنجاب پولیس کی جانب سے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ کسی بھی نامعلوم مقدمہ میں گرفتاری کا خدشہ ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات دی جائیں اور گرفتاری سے روکا جائے۔ عدالت نے فریقین کو جواب کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاقی پولیس اور پنجاب پولیس سے مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں اور سلمان اکرم راجہ کی کسی نئے مقدمہ میں گرفتاری سے روک دیا۔

  19. اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے جسمانی ریمانڈ کا فیصلہ معطل کردیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کا انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ معطل کردیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسمانی ریمانڈ معطل کرتے ہوئے کہا کہ مطیع اللہ جان کو اب جوڈیشل ریمانڈ پر تصور کیا جائے۔

    جمعے کو مطیع اللہ جان کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی۔

    سماعت کے دوران مطیع اللہ جان کے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر ریاست علی آزاد بھی عدالت میں پیش موجود تھے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر ریاست علی آزاد نے عدالت میں ایف آئی آر پڑھ کر سنائی اور کہا کہ ایف آئی آر میں آئس کی خرید و فروخت کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گذشتہ روز مطیع اللہ جان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا تھا۔ اس موقع پر مطیع اللہ جان کی وکیل ایمان مزاری نے کہا تھا کہ آج ہی مطیع اللہ جان کی درخواست ضمانت متعلقہ عدالت میں دائر کی جائے گی۔

  20. ضلع کرم میں متاثرہ افراد کی فوری معاونت کے لیے امدادی سامان فراہمی جاری

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں گاڑیوں کے قافلے پر حملے کے بعد سے شروع ہونے والی کشیدگی پر سات روزہ سیز فائر پر اتفاق ہونے کے باوجود صورتحال پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں متاثرہ افراد کی فوری معاونت کے لیے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سامان فراہم کر دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے امدادی سامان میں 250 خیمے، 250 ہاجین کٹس، کمبل، گدے، بسترے شامل ہیں.

    پولیس کے مطابق ان پرتشدد حملوں میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ان میں مزید اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام امدادی سامان ضلعی انتظامیہ کو حوالے کر دیا گیا. پی ڈی ایم اے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو امدادی سامان متاثرین کو فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے سُنی اور شیعہ قبائل کے درمیان لاشوں اور قیدیوں کی واپسی کی غرض سے سیزفائر کے اعلان کے باوجود مخالف گروہوں میں مختلف مقامات پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیرِ اطلاعات بیرسٹر سیف نے اتوار کو دعویٰ کیا تھا کہ فریقین نے لاشوں اور قیدیوں کو واپس کرنے کے علاوہ سات روزہ سیز فائر پر اتفاق کیا ہے تاہم مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ مختلف قبائل کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔