یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ روز کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں 24 نومبر کو ہونے والے دھرنے میں فسادات کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کے اجلاس میں دھرنوں میں قانون پامال کرنے والوں کو سخت سزا دینے کے احکامات جاری کیے۔ وہیں دوسری جانب اڈیالہ جیل میں عمران خان نے اپنے وکلا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکُنان پر ہونے والے مظالم کے خلاف شہباز شریف اور محسن نقوی کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ روز کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے بعد مارشل لا اٹھا لیں گے۔ اس سے پہلے جنوبی کوریا کے صدر نے ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پارلیمنٹ نے اس مارشل لا کے خاتمے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
ابھی جنوبی کوریا کی فوج کا مؤقف واضح نہیں ہے کہ وہ صدر کے اس اعلان پر کیا رائے رکھتی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جیسے ہی صدر نے مارشل لا کا صدارتی حکمنامہ واپس لینے کا اعلان کیا تو پارلیمنٹ کے سامنے عوام نے جشن منانا شروع کر دیا۔
جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے اب سے کُچھ دیر قبل مُلک میں مارشل لا لگانے کا اعلان کیا ہے۔
رات گئے ایک قومی نشریاتی ادارے پر اپنے خطاب کے دوران جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے کہا کہ ’یہ اقدام ملک کو شمالی کوریا کی کمیونسٹ قوتوں سے بچانے اور ریاست مخالف عناصر کے خاتمے کے لیے ضروری ہے۔‘
یون نے کہا کہ ’ان کے پاس موجودہ مُلکی صورتحال کے پیشِ نظر مارشل لا کا سہارا لینے کے علاوہ اُن کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔‘
تاہم اپنے خطاب کے دوران اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ مُلک میں مارشل لا لگائے جانے کی صورت میں کون سے مخصوص اقدامات کیے جائیں گے۔
تاہم یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا کی حزب اختلاف کی ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما لی جے میونگ نے کہا ہے کہ مارشل لا کا اعلان غیر آئینی ہے۔
یونہاپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکمراں پیپلز پاور پارٹی کے سربراہ ہان ڈونگ ہون نے بھی اس اعلان پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ’غلط فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔
جنوبی کوریہ کے صدر یون سوک یول کون ہیں؟
یون سوک یول 2022 سے جنوبی کوریا کے صدر ہیں۔ وہ پیپلز پاور پارٹی کا حصہ ہیں اور اپنے حریف لی جے میونگ کو نہایت ہی کم پوائنٹس سے شکست دے کر صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوئے۔
جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ ساتھ اُن کی اہلیہ کو بھی مختلف تنازعات اور سکینڈلز کی وجہ سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ اُن کی اہلیہ پر مبینہ طور پر مہنگے تحائف قبول کرنے کی وجہ سے تنقید ہوتی رہی ہے۔ جس کی وجہ سے گزشتہ ماہ یون نے معافی بھی مانگی تھی اور کہا تھا کہ اُن کی اہلیہ کو اپنے معاملات کو بہتر کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں 24 نومبر کو ہونے والے دھرنے میں فسادات کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کے اجلاس میں دھرنوں میں قانون پامال کرنے والوں کو سخت سزا دینے کے احکامات جاری کیے۔ وہیں دوسری جانب اڈیالہ جیل میں عمران خان نے اپنے وکلا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکُنان پر ہونے والے مظالم کے خلاف شہباز شریف اور محسن نقوی کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے۔‘
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان سے ملاقات کے بعد اُن کی بہن علیمہ خان نے اپنے بھائی کا بیان صحافیوں کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ علیمہ خان کے بقول عمران خان نے کہا ہے کہ ’26 نومبر کو ہونے والے مظالم کی وجہ سے سب سے پہلے تو مقدمہ شہباز شریف اور محسن نقوی پر درج کرایا جائے۔‘
عمران خان کی بہن علیمہ خان کا میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ سابق فوجی آمر یحیٰ خان کا آپریشن بھی کامیاب ہوا تھا لیکن اس کے کچھ عرصے کے بعد ملک دو لخت ہوگیا تھا اور اس طرح لال مسجد آپریشن اور نواب اکبر بگٹی کے خلاف ہونے والے آپریشن نے بھی ملک پر منفح اثرات چھوڑے تھے۔‘
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے کہا ہے کہ احتجاج کے دوران زخمی ہونے والوں کی تیمارداری کے لیے ہسپتال جائیں تو ہم نے کہا ہے کہ جو لوگ زخمیوں کا پتہ کرنے کے لیے ہسپتال جاتے ہیں تو انھیں اُٹھا لیا جاتا ہے، انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اور اگر کوئی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے جاتا ہے تو اُسے بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں فیملی کے ارکان اور وکلا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسلام آباد میں احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کے کارکنوں پر حملے کا معاملہ انٹرنیشنل فورم پر بھی اٹھایا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی ائی کارکنوں پر حملوں کے ملک پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ملک میں موجودہ جمہوریت کی جو شکل ہے اس سے عدلیہ اور میڈیا کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔‘
پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جیل میں گفتگو سے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’(عمران خان کا کہنا تھا کہ) اگر یہ سمجھتے ہیں جو انھوں نے کیا ہم اس پر خاموش رہیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ یہ جو بربریت ہوئی ہے دنیا میں کسی جگہ ایسا نہیں ہوا۔ یہ یحییٰ خان پارٹ ٹو اوپر آکر بیٹھ گیا ہے۔‘
عمران خان نے اڈیالہ جیل میں گفتگو کے دوران کہا کہ ’ہم اس پر پورے زور سے ہر جگہ آواز اُٹھائیں گے۔ انٹرنیشنل فورمز پر جائیں گے میری مزید مشاورت جاری ہے میں تفصیلات اکٹھی کر رہا ہوں ہم اس کو ایسے نہیں چھوڑیں گے۔‘
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں 24 نومبر کو ہونے والے دھرنے میں فسادات کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس منگل کے روز ہوا۔
اجلاس میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’دھرنوں میں قانون پامال کرنے والوں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو زخمی اور ہلاک کرنے والوں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔‘
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نو مئی کو کور کمانڈر ہاؤس میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعے کے بعد درج ہونے والے مقدمے میں نامزد سات افراد کو بے گناہ قرار دے دیا گیا ہے۔
جے آئی ٹی کی جانب سے نو مئی کو پیش آنے والے جلاؤ گھیراؤ کے واقعے سے متعلق اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت پیش کی گئی۔ عدالت میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ میں سات افراد سے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ دورانِ تفتیش بے قصور قرار پائے گئے۔
اے ٹی سی عدالت کے جج منظر علی گل نے عبوری ضمانتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
نو مئی سے متعلق لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں درج مقدمہ نمبر 96/23 کور کمانڈر ہاؤس حملہ کیس میں جن افراد کو بے قصور قرار دیا گیا ہے اُن میں رضوان فرید، محمد اسلم، مزمل حسین، عاصمہ ممتاز، حیات اللہ، محمد رمضان اور محمد ذوالفقار شامل ہیں۔
یاد رہے کہ نو مئی کو کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں جلاؤ گھیراؤ کے واقعے کے بعد پولیس نے اس کیس میں ملوث درجنوں مرد و خواتین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ گرفتار افراد میں سے چند کے کیسز دہشت گردی کی عدالتوں جبکہ ایک سابق ایم پی اے سمیت 16 افراد کے کیسز فوجی عدالتوں میں چلائے جا رہے ہیں۔
تاہم اب اس کیس میں رہائی پانے والے افراد وہ ہیں کہ جن کے مقدمات انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت تھے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے وہاں قائم قبائل کے مورچوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد اور راستے محفوظ بنانے کے لیے 65 نئی چوکیاں قائم کرنے اور علاقے میں فرنٹیئر کانسٹبلری تعینات کرنے کے فیصلے بھی کیے گئے ہیں۔
ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت جو اہم مورچے تھے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے خالی کرا لیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا صورتحال پر مکمل قابو پانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں کرم میں امن کے قیام کے لیے فیصلے کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں قائم تمام مورچے مسمار کیا جائیں گے۔
یاد رہے کہ کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ کرم میں 21 نومبر سے شروع ہونے والے حملوں اور جھڑپوں اور مختلف واقعات میں 133 افراد ہلاک اور 177 زخمی ہوئے ہیں۔
ضلع کرم کے مختلف علاقوں میں قبائل نے اپنے اپنے مورچے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے مخالفین پر فائرنگ کی جاتی ہے۔
ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود نےدعویٰ کیا کہ تمام سٹریٹجک مورچے خالی کر لیے گئے ہیں ۔ جاوید اللہ محسود نے بتایا کہ اپر کرم سے دیگر شہروں تک جانے والے راستوں پر آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس بارے میں ایک گرینڈ جرگہ آئندہ دو روز میں متوقع ہے۔
یاد رہے کہ جنگ بندی کے باوجود اب تک کرم میں شاہراہوں پر سفر شروع نہیں کرایا جا سکتا جس وجہ سے علاقے میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی صدارت میں صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کرم میں امن کے قیام کے لیے فیصلے کیے گئے ہیں۔
کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا کہ کرم میں شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے نہ صرف 65 نئی چوکیاں قائم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ علاقے میں فرنٹیئر کانسٹبلری کی پلاٹون کی تعیناتی کے لیے وفاق سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
کابینہ اجلاس کے بارے میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسئلے کے پر امن اور پائیدار حل کے لئے گرینڈ جرگہ تشکیل دیا گیا ہے اور یہ جرگہ علاقے میں امن کی مکمل بحالی تک وہاں قیام کرے گا۔
کابینہ اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ ’کرم میں کچھ عناصر فریقین کے درمیان نفرت پھیلا کر حالات کو خراب کر رہے ہیں،جنھیں دہشتگرد قرار دیکر ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
کابینہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایسے عناصر کی نشاندہی کرکے انھیں شیڈول فور میں ڈالا جائے گا۔ مقامی سطح پر لوگوں کے پاس موجود بھاری اسلحہ بھی اکٹھا کیا جائے گا۔ کرم میں جھڑپوں کے دوران شہید ہونے والوں کے ورثا اور زخمیوں کو مالی امداد فراہم کیا جائے گی اورعلاقے میں ہونے والے املاک کے نقصانات کے لئے متاثرین کو معاوضے دیے جائیں گے۔‘
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ علاقے میں بد امنی کی وجہ سے دوسرے اضلاع میں نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی فوری اور باعزت واپسی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سارے عمل کی حکومتی سطح پر مانیٹرنگ کے لیے صوبائی وزیر قانون، مشیر اطلاعات اور متعلقہ پارلیمنٹیرینز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
کابینہ میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کرم سمیت تمام ضم اضلاع اور دیگر حساس اضلاع کی سول انتظامیہ کو بلٹ پروف/بم پروف گاڑیاں فراہم کی جارہی ہیں۔
اس اجلاس میں کہا گیا ہے کہ کرم کا مسئلہ دہشتگردی نہیں، بعض عناصر دو مسلکوں کے لوگوں میں نفرتیں پھیلا رہے ہیں اور مقامی عمائدین ایسے شر پسند عناصر کی نشاندہی میں تعاون کریں۔
یاد رہے کہ کرم میں حالیہ دنوں میں 21 نومبر سے اس وقت حالات کشیدہ ہو گئے تھے جب لوئر کرم میں سیکیورٹی کانوائے میں گاڑیوں پر نا معلوم افراد نے حملہ کر دیا تھا جس میں پچاس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس واقعہ کے بعد اگلے روز مقامی لوگوں کے مطابق اپر کرم کے علاقے علیزئی سے ایک کشکر نے لوئر کرم کے علاقے بگن پر حملہ کر دیا تھا جس میں ابتدائی طور پر 32 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے بعد اس علاقے میں کرم کے مختلف علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس میں 133 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
کرم میں 12 اکتوبر کو بھی کانوائے میں شامل گاڑیوں پر حملہ ہوا تھا جس میں ہلاکتیں ہوئی تھیں اور علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ افواج پاکستان ملک کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنا دیں گی۔ قوم کی حمایت سے ملک کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے نارووال اور سیالکوٹ کا دورہ کرکے فیلڈ ٹریننگ مشقوں کا معائنہ کیا۔
بیان کے مطابق جنرل عاصم منیر کو مشق کے مقاصد اور انعقاد کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی، مشقوں کا مقصد ابھرتے آپریشنل چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشہ ورانہ مہارتوں اور میدان جنگ کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے۔
اس موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ قومی حمایت سے وطن کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف نے دشمن کی طرف سے کسی بھی ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مستقل تیاری کو برقرار رکھنے کی اہم اہمیت پر زور دیا۔
ترجمان پاک فوج کے اعلامیے کے مطابق اس دوران مشق میں آرمر، انفینٹری، میکانائزڈ انفینٹری، آرٹلری، ایئر ڈیفنس، آرمی ایوی ایشن، اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل یونٹس کے فائر، مینیوور آپریشنز کیے گئے جب کہ برقی جنگی صلاحیتوں اور معلوماتی آپریشنز کے موثر استعمال کا بھی مظاہرہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ان آپریشنز کو دشمن کے مواصلات میں خلل ڈالنے اور جدید میدان جنگ کے ماحول میں غلط معلومات کی حکمت عملیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے اعلان کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہلاک ہونے والے کارکنوں کا کیس اقوام متحدہ سمیت ہر فورم میں لے جایا جائے گا۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے 12 کارکن ہلاک ہوئے تھے تاہم پاکستان کی حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
ایسے میں سوموار کی رات عمران خان کے ایکس اکاوئنٹ پر جاری ہونے والی ایک پوسٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا کیس اقوام متحدہ سمیت ہر فورم تک لے کر جائیں گے۔
اس پوسٹ میں سپریم کورٹ سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ ’غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کروائی جائیں‘ اور مبینہ ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
پوسٹ میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ ’اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں کا ڈیٹا جلد از جلد پبلک کیا جائے اور تمام ہسپتالوں اور سیف سٹی کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے تاکہ شواہد غائب نہ کیے جا سکیں۔‘
اس پوسٹ میں پارلیمنٹ کے سیشن میں قرارداد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے کارکنان کو اگلے مرحلے کی تیاری کی تاکید کی گئی ہے
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حزب اللہ کی جانب سے ملٹری پوسٹ پر حملے کے جواب میں جنوبی لبنان کے علاقوں پر تازہ حملے کیے ہیں جبکہ دوسری جانب حزب اللہ نےدعویٰ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی ’خلاف ورزیوں‘ کا جواب دے رہا ہے۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم نو شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز نے اپنے بیان میں جنگ بندی کے معاہدے پر اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے اہداف اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ڈو کے علاقے پر حزب اللہ کے حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان سرحد پر واقع ماؤنٹ ڈو ایک متنازع علاقہ جسے شیبا فارمز کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ عمل میں آیا تھا تاہم دونوں جانب سے اس سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حالیہ حملے سامنے آئے ہیں۔
حزب اللہ کے بیان کے مطابق اس نے اپنے دفاع میں ’انتباہی‘ حملہ کیا ہے اور اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں اسرائیلی فوج کے مقام پر مارٹر گولے فائر کیے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حزب اللہ کے حملے کو ’جنگ بندی کی شدید خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل اس کا بھرپور جواب دے گا۔
یاد رہے کہ جس وقت پہلی بار جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا تب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اگر حزب اللہ نے شرائط کو توڑا تو ان کا ملک حملہ کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔
سوموار کو ہونے والے حملے حال ہی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی نزاکت کا اشارہ ہیں جس کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 13 ماہ سے جاری تنازع کو ختم کرنا تھا۔
گزشتہ ہفتے، امریکہ اور فرانس نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ ’لبنان میں جنگ کا خاتمہ کر دے گا، اور اسرائیل کو حزب اللہ اور لبنان سے سرگرم دیگر شدت پسند تنظیموں کے خطرے سے محفوظ رکھے گا۔
معاہدے کے تحت حزب اللہ کو جنوبی لبنان میں اپنی مسلح موجودگی ختم کرنے کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے جب کہ اسی عرصے میں اسرائیلی افواج کو علاقے سے نکلنا ہوگا۔
پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد میں ڈی چوک پر جو کچھ ہوا اس میں کچھ پتا نہیں کس نے کہاں سے فائرنگ کی۔ ہم تمام مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ضروری ہے کہ پہلے یہ اپنا جھوٹ واپس لیں تاکہ شفاف تحقیقات ہو سکیں۔‘
نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے پروگرام ’لائیو ود عادل شاہ زیب‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ریڈ زون سے متصل ڈی چوک پردو بجے سے رات 12 بجے تک کم از کم 10سے 15 ہزارلوگ جمع تھے جن میں سات سے آٹھ ہزار مسلح افراد تھے جن کے پاس مشین گن سمیت مہلک اور طرح طرح کا جدید اسلحہ تھا اور یہ لوگ ارد گرد کی عمارتوں کے اوپر چڑھے ہوئے تھے۔ ‘
’مغرب کے بعد اندھیرا ہونے پر فائرنگ شروع ہوئی اور اگلے تین چار گھنٹوں میں کچھ پتا نہ چلا کہ کون کس پر اٹیک کر رہا ہے۔ کچھ پتا نہیں کس نےکہاں سے فائرنگ کی۔‘
اینکر نے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان کی شفاف تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن بننا چاہیے جس میں دونوں جانب سے برابر کی نمائندگی ہو؟
اس سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’ضروری ہے کہ پہلے یہ اپنا جھوٹ واپس لیں۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے جھوٹے پروپیگنڈوے کو تسلیم کرے تاکہ پارلیمانی کمیشن شفاف تحقیقات کرسکے۔ یہ پارلیمان میں آ کر بات کریں۔ وہاں یہ مسلہ اٹھائیں۔ ہم بالکل اس معاملہ کو بہتر طریقے سے حل کرنے کو تیار ہیں۔‘
یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی فائنل کال کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا، تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں۔
اسلام آباد میں احتجاجی مارچ ختم ہونے کے بعد متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں نے کارکنوں کی اموات سے متعلق متضاد دعوے کیے تھے۔ تاہم سوموار کے روز چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ ’سیکڑوں اموات کی بات کرنے والوں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں، ہمارے 12 کارکن ہلاک ہوئے۔‘
رانا ثنا اللہ نےپروگرام میں گفتگو کے دوران دعویٰ کیا کہ ’ڈی چوک پر جو کچھ ہوا حکومت اس کی صاف وشفاف انکوائری کرانا چاہتی تھی اور ان کو دیکھا جائے مگر انھوں نے ملک کے اندر اور باہر اتنا پروپیگنڈا کیا کہ ساری چیزیں پس پشت چلی گئیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ سیاسی مسائل کا حل صرف سیاسی مذاکرات میں ہیں تاہم وہ قوم کے سامنے پہلے یہ سچ لائیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا کا غلط فائدہ اٹھایا۔ اور اب یہ اسی سوشل میڈیا سے خود ایکسپوزہو گئے ہیں۔‘
ڈائیلاگ کرنے والوں کے پاس اختیارات ہوں تاکہ حل تک پہنچنے میں مدد ملے: رہنما پی ٹی آئی علی ظفر
اسی پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما علی ظفر نے کہا کہ ’اس کی تحقیقات کے لیے جو بھی اقدامات کیے جائیں تو ہم یقینا اس کا حصہ ہوں گے اور اگر کمیشن بنتا ہے اور اس پر فیصلہ کرتا ہے تو ہم اس کا حصہ ہوں گے تاہم کمیشن 26ویں آئینی ترمیم کی طرح نہ ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس میں شک نہیں تمام مسائل کو حل کرنا بات چیت سے ہی ضروری ہے تاہم ڈائیلاگ کرنے والی تمام جماعتوں کو نہ صرف ایک دوسرے پر اعتماد ہونا چاہیے اور ان کے پاس اختیارات بھی ہونے چاہییں تاکہ حل تک پہنچنے میں مدد ملے۔‘
پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں فائرنگ سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈہ پور کے چچا زاد بھائی ہلاک ہوگئے۔
پولیس ایف آئی آر کے مطابق 35 سالہ ثقلین گنڈہ پور کے بھائی فریدون خان کنڈاپور نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ’ثقلین گزشتہ روز عصر کے وقت کلاچی میں موجود ہماری زمینوں کی جانب گئے تھے اس دوران رات آٹھ بجے اطلاع ملی کہ میرے بھائی کی گولیوں سے چھلنی لاش مانیری دادا قبرستان میں پڑی تھی۔‘
پولیس نے مقتول کے بھائی فریدون گنڈہ پور کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردیہے۔ ثقلین گنڈا پور وزیر اعلی کے چچازاد بھائی تھے اور وہ خود بھی ممبر ڈسٹرکٹ کونسل رہے۔
گزشتہ چند سالوں میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں بدامنی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سردار اسماعیل خان گنڈہ پور کے بیٹے اور صوبائی اسمبلی کے سابق امیدوار سردار فریدون خان گنڈہ پور کے بھائی سردار ثقلین خان گنڈہ پور کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے تعزیتی بیان میں انھوں نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجہ میں سردار ثقلین کی ہلاکت انتہائی تشویش ناک ہے اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں گیں۔
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا ہے۔
نوشکی میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ نوشکی شہر میں بس اڈے کے قریب ایف سی کے مین گیٹ پر کیا گیا۔
اس حملے میں ایف سی کے دو اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں تاہم انتظامیہ کی جانب سے تاحال حملے میں کسی اہلکار کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
انتظامیہ کے ایک اہلکار نے مسلح افراد کی ایک اور کارروائی میں ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے پانچ کارکنوں کو اغوا کرنے کی بھی تصدیق کی ہے۔
ان کارکنوں کو دو روز قبل مسلح افراد نے اغوا کیا تھا جبکہ تعمیراتی کمپنی کی مشنری کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔
نوشکی انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ مغوی کارکنوں کا تعلق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ہے جن کی تاحال بازیابی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔
ان دونوں واقعات کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر 2024 کو ڈی چوک میں ہونے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے احتجاج پر سابق وزیر اعظم عمران خان اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، کوہسار پولیس نے ڈی چوک احتجاج پر درج ہونے والے مقدمہ نمبر 1032 پر متعدد ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے۔
اس مقدے میں عمران خان، بشریٰ بی بی اور وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پو کے علاوہ پولیس نے شعیب شاہین، مراد سعید، عمر ایوب، شیر افضل مروت، فیصل جاوید، علی بخاری، عامر مغل کے بھی وارنٹ حاصل کر لیے ہیں۔ تاہم عدالت کی جانب سے زلفی بخاری، سلمان اکرم راجہ، رؤف حسن، علی زمان، پیر مصور، میاں خلیق الرحمان، سہیل آفریدی، شہرام خان ترکئی، بریگیڈیر (ر) مشتاق اللہ، میجر (ر) راشد ٹیپو کے بھی وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔
کوہسار پولیس نے ڈی چوک احتجاج پر درج ہونے والے مقدمہ نمبر 1032 پر 96 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے۔
ملزمان کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے علاوہ، فسادت کے لیے لوگوں کو اُکسانے، سرکاری ملازمین پر حملے، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 153 یعنی فساد پھیلانے اور اشتعال انگیزی کرنا، اقدام قتل، اغوا، ڈکیتی، کارِ سرکار میں مداخلت اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تاہم درج ہونے والی ایف آئی آر کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اسلام آباد میں دفعہ 144 کے باوجود لاؤڈ سپیکر کا استعمال کرتے ہوئے اپنی اشتعال انگیز تقاریر کی مدد سے لوگوں کو ڈی چوک پہنچنے کی تاکید کرتے رہے۔‘
ایف آئی آر کے متن میں مزید یہ بھی درج ہے کہ ’بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کی قیادت میں 16 سے 17 ہزار مظاہرین کے پاس ڈنڈے، کُلہاڑیاں،چاقو، آنسو گیس اور غلیل تھیں۔‘
یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو احتجاج کے لیے دی جانے والی ’فائنل کال‘ کے بعد اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد کے لیے احتجاجی مارچ کیا گیا تھا۔ تاہم 26 نومبر کو مارچ کے شرکا اور پولیس میں جھڑپ کے بعد پی ٹی آئی کارکن کو مُنتشر کر دیا گیا تھا۔
26 نومبر کو ڈی چوک میں ظاہرین کو منتشر کیے جانے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق سوشل میڈیا پر مختلف اور متضاد اعداد و شمار پیش کیے تھے۔
تاہم پیر کے روز چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہلاکتوں سے متعلق ہم نے وہی بیان دیا کہ جن کی تفصیل ہمارے پاس موجود تھی، 12 ہلاکتیں ہوئیں ہم یہ کہتے ہیں کہ جو کہا جا رہا ہے کہ سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی ہیں اس سے متعلق ہم نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور تب تک ہمارا بیان یہی رہے گا کہ جب تک ہمارے پاس اس سے متعلق کوئی واضح حقائق سامنے نہیں آتے۔‘
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 24 نومبر کو اُن کی احتجاج کی کال پر نکلنے والوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ’وہ سب ایک اور متحد رہیں آپ کے درمیان لوگ اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کریں گے مگر آپ سب کو متحد رہنا ہے۔‘
بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ’بانی پی ٹی آئی کا اپنے لوگوں کے لیے پیغام ہے کہ گولی کیوں چلائی گئی اس بارے میں قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی اس بارے میں احتجاج کیا جائے کہ ایسا کیوں ہوا اور جو بھی بات ہو وہ اسملبی میں ہو۔‘
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی سے متعلق یہ باتیں بھی کی جا رہی ہیں کہ پارٹی میں تضاد اور تفریق پائی جاتی ہے، ایسا کُچھ بھی نہیں ہے عمران خان کا اپنی پارٹی کے لوگوں کے لیے یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سب ایک اور متحد رہیں آپ کے درمیان لوگ اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کریں گے مگر آپ سب کو متحد رہنا ہے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے یہ باتیں بھی سامنے آرہی ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
* خیبرپختونخوا کی طرح پنجاب، سندھ سے کارکنان کی بڑی تعداد تحریک انصاف کے احتجاج میں شامل کیوں نہ ہوئی؟
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کا یہی پیغام ہے کہ چاہے ہم سنگجانی تھے یا ڈی چوک تھے احتجاج وہاں ہوتا ہے کہ جہاں اس کا اثر ہوتا ہے۔ جہاں بھی احتجاج ہونا تھا گولی نہیں چلنی چاہیے تھی حاص طور پر تب کے جب ابھی تک سارے لوگ اُس مقام تک پہنچے بھی نہیں تھے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ساری دُنیا ایک بات کہتی ہے کہ ایک بندے کی ہلاکت بھی بہت بڑی بات ہوتی ہے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ آپ اپنے ہی لوگوں پر گولی نہیں چلاتے۔ گولی جس جانب سے بھی چلی اس کی مذمت کی جاتی ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے یہ ایک انتہائی غلط قدم تھا۔‘
تاہم گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بڑا افسوس ہوتا ہے کہ اب ڈیڈ باڈی کی سیاست کی جا رہی ہے۔‘
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے کہا گیا ہے کہ سنائپر نے مارا ہے اور پھر کہا گیا کہ سامنے سے گولیاں ماری گئی ہیں۔‘
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ’ٹی وی چینلز نے ایسا کوئی منظر نہیں دکھایا، جہاں عمارتوں کے اوپر سنائپرز کھڑے ہوں یا سامنے سے گولی چلائی گئی ہو۔‘
دوسری جانب پیر کے روز جی ایچ کیو حملہ کیس سے متعلق فرد جرم عائد کیے جانے کی کارروائی چھٹی بار ملتوی ہوئی۔ عمران خان سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم کی کارروائی 5 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔ پیر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران عمران خان اور سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 66 ملزمان کو عدالت پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پیر کے روز 28 ستمبر اور 5 اکتوبر کے مزید چھ مقدمات میں بھی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بجھوا دیا گیا۔
گذشتہ برس نو مئی کو عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیے جانے کے بعد ہونے والے پرتشدد احتجاج کے دوران مظاہرین نے جی ایچ کیو سمیت دیگر حساس مقامات پر دھاوا بولا تھا۔ اس پر پولیس نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔
دو روز قبل لاہور کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے عمران خان کی نو مئی واقعات سے متعلق درج سات مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
بیرسٹر گوہر کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’عمران خان سے متعلق جو لوگ یہ خبریں چلا رہے تھے کہ اُن کی طبعیت تھیک نہیں ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں نہیں ہیں ایسا کُچھ بھی نہیں ہے وہ بلکُل ٹھیک ہیں۔‘
ڈی چوک میں حالیہ احتجاج میں ہلاکتوں سے متعلق ہونے والے ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک جمہوری پارٹی ہیں اور ہم کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیتے۔ ڈی چوک احتجاج میں ہلاکتوں سے متعلق ہم نے وہی بیان دیا کہ جن کی تفصیل ہمارے پاس موجود تھی، 12 ہلاکتیں ہوئیں ہم یہ کہتے ہیں کہ جو کہا جا رہا ہے کہ سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی ہیں اس سے متعلق ہم نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور تب تک ہمارا بیان یہی رہے گا کہ جب تک ہمارے پاس اس سے متعلق کوئی واضح حقائق سامنے نہیں آتے۔‘
پاکستان میں موجودہ مالی سال میں نومبر میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد رہی ہے۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق نومبر میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد رہی جو اکتوبر میں 7.2 فیصد تھی۔
موجودہ مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں مہنگائی کی اوسط شرح 7.88 فیصد تک رہی جو گذشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں 28.6 فیصد تھی۔
ملک میں رواں برس نومبر میں مہنگائی کی شرح ساڑھے چھ سال کی کم ترین سطح پر رہی۔ پاکستان میں ڈھائی سال قبل مہنگائی کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا تھا اور گزشتہ مالی سال میں مئی کے مہینے میں یہ شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم رواں سال سے مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی دیکھی گئی ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں ہونے والی کمی کیا روزمرہ کے استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں کمی ہے اور کیا واقعی ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔
اس سلسلے میں ماہر معیشت اور بینک آف پنجاب کے چیف اکنامسٹ صائم علی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ماہانہ بنیادوں پر کنزیومر پرائس انفلیشن میں 400 چیزوں کی قیمتیں موجودہ ہیں جن میں ردو بدل کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ سی پی آئی کی شرح یا عام الفاظ میں مہنگائی کی شرح کیا رہی ہے۔
انھوں نے کہا مہنگائی کی شرح کو جو نمبر دیا جاتا ہے وہ ان تمام چار سو چیزوں کی قیمتوں کا اوسط ہوتا ہے اس میں کچھ چیزوں کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے اور کچھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ صائم نے بتایا کہ رواں برس نومبر میں پانچ فیصد مہنگائی کی شرح کا مطلب ہے کہ اس سال نومبر میں گزشتہ سال نومبر کے مقابلے میں سی پی آئی باسکٹ میں موجود تمام چیزوں کی قیمت میں اوسط پانچ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے کہا یقینی طور پر کچھ چیزوں کی قیمت میں کمی ہوئی ہے اور کچھ کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے تاہم جب اوسط نکالا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ چیزوں کی قیمتوں میں اس نومبر میں گذشتہ سال نومبر کے مقابلے میں پانچ فیصد کا اضافہ ہوا ہے یعنی ایک عام شخص پر ان چیزوں کی خریداری کے لیے پانچ فیصد کا اضافی بوجھ پڑا ہے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال مہنگائی میں کمی نہیں آئی بلکہ اس کے بڑھنے کی رفتار میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم اس کے باوجود ابھی بھی عام فرد کے لیے صورتحال بہت پریشان کن ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا تقریباً 40 فیصد اضافہ اس وقت خط غربت سے نیچے ہے یعنی ایک تہائی آبادی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے۔
ماہرِ معیشت ثنا توفیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مہنگائی کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ آپ سینسیٹو پرائس انڈیکیٹر (ایس پی آئی) کے ذریعے سودا سلف اور روزمرہ خریداری میں شامل اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ مہنگائی نے آپ کی گروسری باسکٹ کو کس حد تک متاثر کیا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اس اشاریے کے مطابق ’اس گروسری باسکٹ میں سب سے زیادہ حصہ تقریباً 34 سے 35 فیصد خوراک کا ہے اور اگر کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں پر اثر پڑے گا تو یقیناً ایک عام صارف کی زندگی پر بھی اثر مرتب ہو گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ مہنگائی کی شرح کا جائزہ لیتے وقت پیٹرولیم، ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ انڈیکس کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’اگرچہ اس ماہ مہنگائی کی شرح میں کمی سنگل ڈیجٹ میں آئی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا ہونا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مہنگائی کی شرح میں کمی نظر آنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ برس ہمارا بیس انڈیکس ہی بہت زیادہ تھا اس لیے تمام اقتصادی ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ رواں برس جو بھی اعداد و شمار سامنے آئیں گے وہ یقیناً گذشتہ برس سے کم ہوں گے۔‘
’حکومت اس کو اپنی کامیابی نہیں کہہ سکتی کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی بین الاقوامی منڈی میں کمی کے باعث ہے اور بجلی کی قیمت اور ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں بھی کمی کا تعلق تیل کی قیمت سے ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ایک عام آدمی کو سب سے زیادہ روز مرہ کی کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں سے فرق پڑتا ہے جن میں سے زیادہ تر گذشتہ سال کے مقابلے میں بڑھی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ حالیہ مون سون کے باعث کھانے کی قیمتوں میں آنے والے ماہ میں کوئی کمی متوقع نہیں ہے اور عام آدمی کے لیے رواں سال بجٹ اور عائد ٹیکسز کے باعث قوت خرید اتنی کم ہو گئی ہے کہ اس کے لیے قیمتوں میں معمولی فرق اس کی جیب پر ریلیف میں کوئی فرق نہیں ڈالتا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ مہنیوں کے دوران شرح سود میں بھی کمی کی گئی ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم کی تعیناتی کیخلاف سماعت کرنے والے آئینی بینچ کے ممبران جسٹس امین الدین خان اور جسٹس جمال مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کرلی۔
سوموار کے روز دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سینیارٹی کوئی بنیادی حق نہیں ہے اور ماضی میں بھی سینیارٹی سے ہٹ کر چیف جسٹس کی تعیناتی کی مثالیں موجود ہیں۔
تاہم جسٹس مندوخیل نے یہ کہ کر کیس کسی دوسرے آئینی بینچ کو منتقل کرنے کا حکم دے دیا کہ وہ اور جسٹس امین الدین خان دونوں جوڈیشل کمیشن کے ممبر ہیں۔ ان کا کہنا تھا وہ دونوں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی تعیناتی کی منظوری دینے والے جوڈیشل کمیشن کا حصہ تھے۔
جسٹس مندوخیل کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس میں جوڈیشل کمیشن کو بھی فریق بنایا گیا ہے اس لیے کمیشن کے دو رکن یہ کیس نہیں سن سکتے ہیں۔
جسٹس عالیہ نیلم: لاہور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس
رواں سال جولائی میں منتخب ہونے والی جسٹس عالیہ نیلم لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہیں۔ وہ 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کی جج مقرر ہوئیں اور انھیں 2015 میں مستقل جج تعینات کیا گیا۔
جولائی میں ہونے والے سپریم جوڈیشنل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے عہدے کے لیے تین سب سے سینیئر ججز جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس عالیہ نیلم کے نام شامل تھے جس پر کمیشن نے جسٹس عالیہ نیلم کا انتخاب کیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی لگ بھگ 150 برس کی تاریخ میں گنی چنی خواتین ہی جج بنیں لیکن ان میں سے جسٹس عالیہ نیلم پہلی خاتون ہیں جن کو یہ اعزاز ملا۔ اب تک پانچ خواتین لاہور ہائیکورٹ کی جج بن چکی ہیں۔
پہلی مرتبہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں لاہور ہائیکورٹ میں خواتین ججز کا تقرر کیا گیا۔ ان میں جسٹس فخرالنسا کھوکھر، شاعر مشرق محمد اقبال کی بہو ناصرہ جاوید اقبال اور سابق وزیر ریحانہ سرور کی بہن طلعت یعقوب لاہور ہائیکورٹ کی جج مقرر ہوئیں۔
فوجداری قانون میں مہارت رکھنے والی جسٹس عالیہ نیلم 12 نومبر 1966 کو پیدا ہوئیں۔ وہ 1995 میں وکالت کی ڈگری لینے کے بعد 1996 میں وکیل بنیں۔
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے مطابق انھوں نے آئینی معاملات، وائٹ کالر کرائم، دیوانی، فوجداری، انسداد دہشت گردی کے قوانین، نیب، بینکنگ جرائم، خصوصی مرکزی عدالتوں کے قانون اور بینکنگ قوانین سے متعلق پریکٹس کر رکھی ہے۔
اس کے مطابق ’بار میں پریکٹس کرتے ہوئے انھوں نے کامیابی کے ساتھ متعدد مقدمات لڑے جن میں دیوانی قانون، فوجداری قانون، بینکنگ قانون اور انسداد دہشت گردی کے قوانین شامل ہیں۔‘
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے مطابق انھوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں 2009 سے فروری 2013 تک تقریباً 91 مقدمات، لاہور ہائی کورٹ میں تقریباً 850 مقدمات اور ٹرائل کورٹس میں تقریباً 1473 مقدمات لڑے۔
وہ 2013 میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈجسٹ جج مقرر ہوئیں اور انھیں 2015 میں مستقل جج تعینات کیا گیا۔
جسٹس عالیہ نیلم نے کئی اہم مقدمات پر فیصلے کیے۔ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کے الزام میں ضمانت منظور کرنے والے تین رکنی بنچ کی رکن تھیں۔
جسٹس عالیہ نیلم نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی نو مئی کے واقعات پر درج مقدمات کی انسداد دہشت گردی عدالت کے ضمانت مسترد کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیا اور ضمانت کی درخواستوں کو بحال کیا۔
جسٹس عالیہ نیلم نے نو مئی کے مقدمات میں گرفتار خواتین خدیجہ شاہ اور عالیہ حمزہ سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتیں منظور کیں۔
ججز کی تعیناتی میں سینیارٹی کا تنازع
جسٹس عالیہ نیلم سینیارٹی کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر تھیں اور اسی وجہ سے قانونی حلقوں میں ان کے انتخاب پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا۔
بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ 1996 کے الجہاد کیس میں یہ طے ہوا تھا کہ سب سے سینیئر جج ہی ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر ہوگا اور اس معاملے میں سینیارٹی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
1996 کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ لاہور ہائیکورٹ میں کسی جج کا تقرر سینیارٹی کے اصول سے ہٹ کر کیا گیا ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے دور میں جسٹس فخرالنسا کھوکھر کو سینیارٹی کے اصول کے تحت نظر انداز کیا گیا اور ان کی جگہ جسٹس افتخار حسین چودھری کو چیف جسٹس مقرر کیا گیا. 1996 میں اسی فیصلے کی بنیاد پر اُس وقت کے سب سے سینیئر جج جسٹس خلیل الرحمان خان، جنھیں وفاقی شرعی عدالت بھیج دیا گیا تھا، کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مقرر کیا گیا۔
مارچ 2024 کے دوران جسٹس ملک شہزاد احمد خان لاہور ہائیکورٹ کے وہ آخری چیف جسٹس تھے جن کا تقرر سینیارٹی کی بنیاد پر ہوا تھا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکہ میں قید پاکستانی عافیہ صدیقی کے کیس کے لیے امریکہ جانے والے وفد کو مالی معاونت فراہم کرنے کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔
سوموار کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے اپنی بہن کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت اسلام ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کی۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔
وزارتِ خارجہ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ وفد کے ویزوں سے متعلق درخواست وزارت خارجہ نے بھیج دی ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ایک ہفتے تک ویزے منظور ہو جائیں گے۔
وزارت خارجہ کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ذاتی وجوہات کی بنا پر سینیٹر عرفان صدیقی وفد کے ساتھ نہیں جا سکیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے سینیٹر بشریٰ وفد کے ساتھ امریکہ جائیں گی۔
عدالت نے سماعت 13 جنوری تک ملتوی کر دی۔
سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 126 ملزمان پر آج جی ایچ کیو حملہ کیس میں فرد جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
گذشتہ سماعت کے دوران راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے تمام ملزمان کو اگلی سماعت پر اپنی حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق عدالتی حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزم شاہ محمود قریشی کو لاہور سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس نو مئی کو عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کیے جانے کے بعد ہونے والے پرتشدد احتجاج کے دوران مظاہرین نے جی ایچ کیو سمیت دیگر حساس مقامات پر دھاوا بولا تھا۔ اس پر پولیس نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔
دو روز قبل لاہور کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے عمران خان کی نو مئی واقعات سے متعلق درج سات مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
سابق وزیر اعظم کو راولپنڈی کے نیو ٹاؤن تھانے میں درج مقدمے میں بھی آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا.
اس مقدمے میں عدالت اب تک ملزم عمران خانُ کا گیارہ روز کا جسمانی ریمانڈ دے چکی ہے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔
عمران خان کے خلاف الزام ہے کہ ان کے حکم پر پی ٹی آئی کے کارکنوں نے راولپنڈی میں احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کی تھی۔
اس کے علاوہ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت بھی آج ہوگی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اس مقدمے کی سماعت کریں گے اور ملزمان کا 342 کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔ گذشتہ تین سماعتوں کے دوران ملزمان کی جانب سے بیانات ریکارڈ نہیں کروائے گئے ہیں۔
عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر بشری بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
ان تینوں مقدمات کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہوگی۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو صدارتی معافی دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ امریکی عوام سمجھ پائے گی کہ ایک باپ اور صدر نے ایسا فیصلہ کیوں لیا۔
جو بائیڈن کے بیٹے کو دو مختلف مقدمات میں سزا کا سامنا تھا۔
اپنے بیان میں جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس کے خلاف بنائے گئے کیسز ناانصافی پر مبنی تھے۔
رواں سال ستمبر میں ہنٹر نے ٹیکس فراڈ کے مقدمے میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔
اس سے قبل جون میں غیر قانونی طور پر آتشیں اسلحہ رکھنے اور اسے خریدتے وقت ماضی میں اپنی منشیات کے استعمال کی عادت کے بارے میں جھوٹ بولنے کے جرم میں انھیں قصوروار پایا گیا تھا- ہنٹر کسی بھی موجودہ امریکی صدر کے پہلے بچے ہیں جو کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
جو بائیڈن نے اس سے قبل جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ نا اپنے بیٹے کو معافی دیں گے اور نا ہی اس کی سزا کم کریں گے۔ اٹلی میں منعقدہ جی سیون کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ جیوری کے فیصلے کی پابندی کریں گے اور اپنے بیٹے کو سرکاری معافی نہیں دیں گے۔
تاہم اتوار کو جاری بیان میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ عدالتی نظام کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں لیکن ان کے بیٹے کے کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔
صدر بائیڈن کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے اختیارات کا ناجائز استعمال اور انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات کے تحت ریاست کے خلاف پروپیگنڈا میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے جوائنٹ ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے۔
وزیرِ اعظم آفس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد سے کچھ شرپسند عناصر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ریاست اور سکیورٹی فورسز کے حوالے سے گمراہ کن پروپگینڈا پھیلا رہے ہیں جس کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے۔
اعلامیے کے مطابق چیئرمین پاکستان ٹیلی کمینیکیشن اتھارٹی دس رکنی جوائنٹ ٹاسک فورس کے سربراہ ہوں گے۔
جوائنٹ ٹاسک فورس کے دیگر ارکان میں وزارتِ اطلاعات اور وزارتِ داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹیز، ایف آئی اے سائبر کرئم ونگ کے ڈائریکٹر کے علاوہ انٹیلی جنس بیورو کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔
جوائنٹ ٹاسک فورس 24 سے 27 نومبر کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر جھوٹا پروپیگینڈا کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرے گی اور دس روز میں اپنی سفارشات مرتب کر کےحکومت کو پیش کرے گی۔