یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا تاہم بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے۔
دو اگست کی خبروں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کیجئے
صوبائی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ موبائل نیٹ ورکس جلد بحال کر دیے جائیں گے جبکہ تمام راستوں سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی جائیں گی
یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا تاہم بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے۔
دو اگست کی خبروں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کیجئے
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال میں گلوف (گلیشیئر پر بننے والی جھیل کے پھٹنے) کا خطرہ ہے اور اس کے باعث سیلاب آسکتا ہے۔
ادارے کی جانب سے جاری انتباہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ 3 اگست کی شام سے چترال میں بارشوں کا امکان ہے جبکہ 3 سے 6 اگست کے دوران گلگت بلتستان میں وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں اور بلند و بالا برفانی جھیلوں کے پگھلنے کی وجہ سے علاقے میں گلوف اور سیلاب کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور مقامی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ گلوف اور سیلاب سے متعلقہ واقعات سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مُلک میں حالیہ بارشوں کی وجہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال میں بننے والا مون سون کا سلسلہ ہے جو 31 جولائی کو ملک میں داخل ہوا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ مون سون کے اس سلسلے کے نتیجے میں 2 تا 5 اگست ملک کے بیشتر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔
جمعے کے روز شبلی فراز کی جانب سے بیرون ملک جانے پر پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست کی سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی۔
شبلی فراز اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت شبلی فراز کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان مؤکل کے خلاف چار 4 ایف آئی آرز درج ہیں اور وہ ان تمام کیسز میں ضمانت پر ہیں۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آیا ان کے پاس شبلی فراز کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا کوئی جواز ہے۔ اس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت جو حکم کرے گی ہم اس پر عمل کریں گے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ اور ڈائیریکٹر جنرل پاسپورٹس شبلی فراز کا نام ای سی ایل میں رکھنے کے بارے میں عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے شبلی فراز کا نام ایک ہفتے میں ای سی ایل سے نکال کر رپورٹ عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ڈی جی پاسپورٹ اور ڈی جی ایف آئی اے عملدرآمد کی رپورٹ پیش کریں۔

،تصویر کا ذریعہUS GOVERNMENT
امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کے روز روس اور مغربی دنیا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں 24 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔
یہ سرد جنگ کے بعد روس اور مغربی دنیا کے درمیان قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روس نے 16 قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ ان میں امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے رپورٹر ایوان گرشکووچ بھی شامل ہیں۔
ان قیدیوں کے بدلے میں امریکہ، ناروے، جرمنی، پولینڈ اور سلووینیا کی جیلوں میں قید آٹھ روسی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔
رہا کیے جانے والے روسی قیدیوں میں انٹیلی جنس سرگرمیوں میں ملوث افراد بھی شامل ہیں۔
قیدیوں کا تبادلہ جمعرات کو ترکی کے شہر انقرہ کے ہوائی اڈے کے رن وے پر ہوا تھا۔
رہا کیے جانے والوں میں تین امریکی شہری ایوان گرشکووچ، پال وہیلان، السو کرماشیوا شامل ہیں۔ ان تینوں کو واپس امریکہ لایا جا رہا ہے۔
ولادیمیر کارا مرزا برطانوی اور روسی شہریت کے حامل ہیں جبکہ ان کے پاس امریکہ کا ورک ویزا بھی ہے۔ انھیں جرمنی بھیجا رہا ہے۔
اس کے علاوہ بارہ جرمن اور روسی سیاسی قیدی جرمنی جا رہے ہیں۔
دوسری جانب آٹھ روسی شہریوں کو امریکا، جرمنی، سلووینیا، ناروے اور پولینڈ سے رہائی کے بعد واپس ماسکو لے جایا جا رہا ہے۔
’ایوان کی رہائی کے لیے 491 دن انتظار کیا‘
جب اس بات کی تصدیق ہوئی کہ روسی قید سے رہائی پانے والوں میں وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ایوان گیرشکووچ بھی شامل ہیں تو ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’ایوان کی رہائی کے لیے 491 دن انتظار کیا ہے۔‘
ایوان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ انھیں ’گلے لگانے اور ان کی مسکراہٹ کو قریب سے دیکھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER/BALOCHYAKJEHTIC
بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد گوادر میں پانچ روز سے جاری دھرنا ختم کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔
بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام گوادر میں میرین ڈرائیو پر جاری دھرنا ختم کر دیا جائے گا اور آج سے صوبے بھر کی تمام قومی شاہراہیں کھول دی جائیں گی۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ موبائل نیٹ ورک جلد بحال کر دیے جائیں گے جبکہ تمام راستوں سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی جائیں گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دھرنا ختم کیے جانے کے بعد بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار کیے جانے والے تمام گرفتار افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں 28 جولائی کو ہونے والے جلسے کو میرین ڈرائیور پر دو مطالبات تسلیم ہونے تک دھرنے میں تبدیل کر دیا تھا۔
ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا کہ گوادر میں بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور راستوں میں روکے جانے والے افراد کو گوادر آنے دیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فلسطین کے ایشو پر ہونے والے اجلاس میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کے روز ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فلسطین کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ کے اراکین کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فلسطینیوں سے یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف کل ملک بھر میں یوم سوگ منایا جائے گا۔
یاد رہے کہ فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں بدھ کے روز ایک حملے میں مارے گئے تھے۔
حماس کے مطابق، ہنیہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے جہاں انھیں نشانہ بنایا گیا۔
اعلامیے کےمطابق فلسطینی متاثرین کی طبی امداد کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی طلبا کو تعلیم جاری رکھنے کے لیے پاکستان کے میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا جائے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ میں فلسطین سے مکمل اظہار یکجہتی کے لیے خصوصی قرارداد پیش کی جائے گی۔
اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ میں کل بعد نماز جمعہ پورے ملک میں اسماعیل ہنیہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔
اجلاس میں بدھ کے روزتہران میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ تہران کا واقعہ خطے میں قیام امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ سازش ہے اور ایسے واقعات امن کو تباہ اور خطے میں کشیدگی کی فضا کو ہوا دیتے ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری خاموشی توڑے اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکے۔
مشاورتی اجلاس میں نہتے فلسطینیوں کی امداد تک رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطین کو امدادی سامان کی ترسیل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ 31 جولائی کو تہران میں ہلاک کیے جانے والے رہنما اسماعیل ہنیہ کی تدفین دو اگست کو قطر میں ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
پاکستان کا اسماعیل ہنیہ کی موت پر اظہار تعزیت: ’ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں‘
پاکستان نے فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ہلاکت کی مذمت کی ہے۔
بدھ کے روز پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان میں اسماعیل ہنیہ کے اہل خانہ اور فلسطینی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی تمام اقسام کی بھرپور مذمت کرتا ہے جس میں ماورائے عدالت قتل بھی شامل ہے۔
بیان کے مطابق ’ہمیں اس حملے کے وقت پر شدید دھچکا اور صدمہ پہنچا ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایران کے نئے صدر نے حلف اٹھایا، اس تقریب میں غیر ملکی وفود بشمول پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم موجود تھے۔‘
بیان کے مطابق پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، اسرائیل کی تازہ ترین کارروائیاں پہلے سے ہی عدم استحکام کے شکار خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ کررہی ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچارہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے مختلف علاقوں میں مون سون کے زیر اثر بارشوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم پنجاب کے شہر لاہور میں بارشوں کا 44 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے جہاں یکم اگست کو 360 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارش کے باعث نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں میں بارشوں کے باعث کم از کم تین افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کے گرنے کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک مرد اور دو بچے شامل ہیں۔
ادارے کے مطابق طوفانی بارشوں سے چھ گھروں کو جزوی طورپر نقصان بھی پہنچا ہے۔ شہریوں سے التماس ہے کہ پرانی اور بوسیدہ عمارتوں سے دور رہیں۔
مہانڈری منور نالہ میں سیلابی ریلے سے بحالی کے کام میں تعطلل

،تصویر کا ذریعہDistrict Admin Mansehra
خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقام کاغان اور ناران کے درمیان سڑک پر موجود مہانڈری منور نالہ میں دوبارہ سیلاب امڈ آیا ہے جس کے بعد پل کی بحالی پر مامور اہلکار محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے۔
درحائے کنہار میں دو روز قبل بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث مہانڈری بازار کے مقام پر رابطہ پل بہہ گیا جس سے ناران اور کاغان کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
اس پل کی بحالی کے لیے بچھائے گئے پائپ جمعرات کے روز سیلابی ریلہ بہا کر لے گیا جس کے بعد سڑک بحالی کا کام پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
بارشوں سے ہونے والے حادثات میں تین روز میں 24 افراد ہلاک : پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا
پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پچھلے تین روز کے دوران آندھی، تیز بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مختلف حادثات کے نتیجے میں پچھلے تین روز کے دوران 24 افراد ہلاک جبکہ 17 افراد زخمی ہوئے.
پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چھ مرد چھ خواتین اور 12 بچے شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے متنبہ کیا ہے کہ جب تک حالات معمول کے مطابق نہ ہوں سیاح سیاحتی مقامات کی جانب سفر کرنے سے گریز کریں اور سفر سے قبل موسمی صورتحال ، سٹرکوں کی بندش کے بارے میں آگاہی لیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محکمہ موسمیات کی اگست میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات نے مون سون کے حوالے سے تفصیلات جاری کی ہیں جس کے مطابق جولائی کے بعد اب اگست میں بھی بارشوں کے سلسلے متوقع ہیں جس میں ندی نالوں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈ،دریاوں میں پانی کی سطح بڑھنے اور سیلابی صورت حال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یکم سے چھ اگست تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، سندھ اور بلوچستان میں وقفے وقفے سے بارشیں ہوں گی جس میں بعض علاقوں میں طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
سات سے 15 اگست کے دوران بھی ملک کے با لائی علاقوں، مشرق بلوچستان اور جنوب مشرق سندھ میں وقفے وقفے سے با رشوں کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یکم سے پانچ اگست کے دوران شدید بارشوں کے باعث مری گلیات، مانسہرہ، کوہستان، چترال، شانگلہ، بونیر، سوات، بنوں ڈ یرہ اسماعیل خان خیبر، مہمند، نوشہرہ، صوا بی، اسلام آباد راولپنڈی، کشمیر سمیت دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔
اس دوران مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ہیں۔
ادارے نے قلات، خضدار، با رکھان ،لسبیلہ ، ژوب ،لورالائی سبی، ،آواران، کوہلو، ڈ ی جھل مگسی، نصیر آبا د ،موسی خٰیل اور جعفر آبا دمیں بھی بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یکم جولائی سے یکم اگست تک مون سون بارشوں سے 104 ہلاکتیں: این ڈی ایم اے
این ڈی ایم اے پاکستان کے مطابق یکم جولائی سے لے کر یکم اگست ایک ماہ بارشوں سے پاکستان بھر میں ممجوعی طور پر104 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جس میں 31 مرد اور بیس خواتین شامل ہیں۔
صحافی زبیر خان کے مطابق این ڈی ایم اے نے مون سون کے بارشوں کے دوران ایک ماہ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں پنجاب میں 39 رپورٹ کی ہیں۔
ادارے کے مطابق بلوچستان میں پانچ، خیبرپختونخواہ میں 34، پنجاب میں 39، سندھ میں بائیس، گلگت بلتستان میں ایک، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تین ہلاکتیں ہیں جبکہ مجموعی طور پر 216 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف خیبر پختونخواہ میں پانچ ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں دو اپر چترال، دو مانسہرہ اور مہمند میں ہوئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق مجموعی طور پر ایک ماہ میں دس پلوں کو نقصاں پہنچا ہے۔ جس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تین، گلگت بلتستان میں دو، بلوچستان میں تین اور خیبر پختون خواہ میں دو پل شامل ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ گھروں کو نقصان خیبر پختونخوا میں پہنچا ہے۔

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بلوچ یک جہتی کمیٹی کے دھرنے کے شرکا اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاہم گوادر میں دھرنے اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جاری احتجاج کو تاحال ختم نہیں کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک اہلکار کے مطابق حکومت مذاکرات کے ٹی او آر میں آئین کا آرٹیکل 16ڈالنا چاہتی ہے جس کو تاحال بلوچ یکجہتی کمیٹی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کو مطالبات تسلیم کرنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے نوٹیفیکیشن کا انتظار ہے۔
یاد رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا احتجاج پچھلے چند روز سے گوادر سمیت بلوچستان کے محتلف حصوں میں گزشتہ پانچ روزسے جاری ہے۔
27 جولائی سے جاری احتجاج کے باعث مکران ڈویژن میں لوگوں کا کہنا ہے کہ شاہراہوں کی بندش سے گوادر سمیت ڈویژن کے دیگر علاقوں میں خوراک کی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
مذاکرات کے بارے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں اور سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟
گزشتہ شب گوادر میں ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی منتظم ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
ان مذاکرات کے بعد محکمہ داخلہ کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران مزاکرت میں حق دو تحریک کے چیئرمین حسین واڈیلا،بی این پی مینگل کے ماجد سہرابی،جے یوآئی کے مولاناعبدالحمید سمیت دیگر رہنماء ثالثی کا کردار ادا کررہے ہیں۔
ان کے مطابق خود بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو بھی گزشتہ چار روز سے گوادر میں ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے وزیر داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ مظاہرین نے جو مطالبات سامنے رکھے ہیں آئین اور قانون کے تحت ان پر عمل درآمد کیا جائے گا اور ہر مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے لوگ ہمارے ہی لوگ ہیں حکومت کو انکی مشکلات اورمسائل کا بخوبی ادراک ہے۔
انھوں نے کہا کہ گوادر کے مسائل کے حل کے لیے حکومت سنجیدگی سے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ویڈیو بیان میں مذاکرات کے بارے میں کیا کہا؟
موبائل فون سروس کی بندش کی وجہ سے گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں سے ان مذاکرات کے بارے میں رابطہ نہیں ہوسکا تاہم مذاکرات کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی منتظم ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا۔
اس بیان کے مطابق
بلوچ یکجہتی کمیٹی ٹی او آر میں آئین کے آرٹیکل 16کو شامل کرنے ماننے کے لیے تیار نہیں۔
گزشتہ شب جب گوادر میں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور دھرنا ختم کیا جائے گا۔ تاہم ابھی تک دھرنا ختم نہیں ہوا ہے جبکہ کوئٹہ، تربت اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ’بلوچ قومی اجتماع‘ ساحلی شہر گوادر میں منعقد کیے جانے کے اعلان پر حکومت کی جانب سے اجازت نہ مل سکی تھی اور جس کے بعد سے احتجاج اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
گوادر شہر کو جانے والی تمام شاہراہوں بند ہونے کے علاوہ گوادر میں موبائل فون سروس کے علاوہ پی ٹی سی ایل کے فون بھی کام نہیں کر رہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور دیگر حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پر امن احتجاج حکومت کا حق ہے تاہم احتجاج جگہ کہاں ہوگا اس کا تعین حکومت کا حق ہے اور شہریوں کو حکومت کا یہ حق تسلیم کرنا ہوگا۔
کھانے پینے کی اشیا کی قلت
ایران سے متصل پنجگور کے سینیئر صحافی برکت مری نے بتایا کہ مسلسل پانچ روز کی ہڑتال اور راستوں کی بندش کی وجہ سے پنجگور میں خوراکی اشیاء کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کے تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے وہاں بھی خوراکی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
انھوں نے گوادر میں لوگوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف بطور احتجاج سرفراز بگٹی کی حکومت کی حمایت ترک کرکے بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا۔
اگرچہ انتظامیہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان گوادر میں مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے تاہم دوسری جانب کوئٹہ اور بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
’بلوچ قومی اجتماع‘ کے انعقاد کے کیا مقاصد ہیں؟
’بلوچی قومی اجتماع‘ کے انعقاد کا اعلان کئی ہفتوں پہلے یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ عرف شاہ جی نے کیا تھا۔
اس میں افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والےبلوچوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ بلوچوں کی نسل کشی کے علاوہ ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے علاوہ ان کے وسائل پر بھی قبضہ کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس پُرامن اجتماع کے انعقاد کا مقصد ان اقدامات کی روک تھام کے لیے ایک لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن اور دیگر کارکنان کو پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے 50،50 ہزار روپے مچلکوں کے عوض رؤف حسن سمیت دیگر کی ضمانتیں منظور کی ہیں۔
عدالتح حکم کے باوجود پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں ضمانت ملنے کے باوجود رؤف حسن کی آج رہائی ممکن نہیں کیونکہ وہ انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے دو روزکے ریمانڈ پراسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔
یاد رہے کہ ترجمان تحریک انصاف رؤف حسن کی گرفتاری پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمےکے بعد بدھ کے روز احمد جنجوعہ کے خلاف درج دہشتگردی کے مقدمہ میں بھی ڈالی گئی تھی۔
پراسیکیوٹر نے گزشتہ روز عدالت کے روبرو بتایا تھا کہ سی ٹی ڈی نے آج رؤف حسن کو گرفتار کیا ہے تاہم انھیں شامل تفتیش منگل کے روز کرلیا گیا تھا۔
اسلام آباد کی پیکا ایکٹ عدالت کے جج عباس شاہ نےجمعرات کے روز رؤف حسن کے خلاف انٹرنیٹ پر دہشتگردی سے متعلق انفارمیشن بنانے، پھیلانےاور دھماکے کے کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی اور انھیں پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں رہا کرنے کا حکم دیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ 22 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے سیکرٹریٹ پر چھاپہ مار کر سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن کو گرفتار کر لیا تھا۔
جس کے بعد اگلے ہی روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے رؤف حسن کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا۔
25 جولائی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن سمیت دیگرنو ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں مزید جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں بدھ کی شب سے جاری بارش چوالیس سال کا ریکارڈ توڑ چکی ہے جس کے دوران کم از کم دو افراد کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
دوسری جانب مون سون کے نیتجے میں چھ اگست تک ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش کے ساتھ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے ہنگامی صورت حال کے لیے تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق مُلک میں بارشوں کی وجہ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مون سون کا سلسلہ ہے جو 31 جولائی کو بالائی علاقوں میں داخل ہو کر 2 تا 5 اگست تک ملک کے وسطی اور جنوبی حصوں میں داخل ہو گا اور اس کے نتیجے میں ملک کے بیشتر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
ادارے کے مطابق طوفانی بارشوں سے مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، چترال، دیر، شانگلہ، بونیر، بنوں، کرم، وزیرستان، ڈی آئی خان، اورکزئی، خیبر، مہمند، نوشہرہ، صوابی، اسلام آباد، راولپنڈی اور شمال مشرقی پنجاب کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے جبکہ ڈی جی خان، راجن پور، سلیمان اور کیرتھر رینج میں ہل تورنٹس سیلابی صورتحال کا باعث بن سکتے ہیں۔
این ڈی ایم اے مطابق 2 اگست سے 5 اگست تک موسلا دھار بارش کا یہ سلسلہ اسلام آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، شیخوپورہ، قصور، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان، ساہیوال، نوشہرہ اور پشاور کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا باعث بھی بن سکتا ہے اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
بالائی خیبر پختونخواہ، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ذیلی اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریا کے کناروں اور نالوں کے قریب مکینوں کو پانی کے بہاؤ میں متوقع اضافے کے بارے میں آگاہ کریں، اور انخلاء کے منصوبوں کے مطابق نشیبی اور سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں بروقت انخلاء میں سہولت فراہم کریں۔
ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بجلی کے کھمبوں اور کمزور تعمیرات سے دور رہیں۔ سیاحوں اور مسافروں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ دوران سفر محتاط رہیں اور سفر کرنے سے پہلے موسم اور راستوں کے حالات کا جائزہ لیں۔

ادھر لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بارش کے پانی کی نکاسی، شہر بھر میں ٹریفک کی روانی اور شہریوں کی اس صورتحال میں مدد کے لیے تمام اداروں کو تمام تو وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم حکومت کے مطابق ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارش کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں لاہور 337 ملی میٹر، گجرانوالہ 123، نارووال 70، قصور 62، حافظ آباد 23 جبکہ سیالکوٹ میں 11 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

لاہور میں جمعرات کو بارش کا 44 سال کا ریکارڈ اس وقت ٹوٹا جب واسا کے مطابق ایئرپورٹ کے علاقے میں 350 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اس موسلا دھار بارش کے باعث لاہور کے مختلف علاقے ایک بار پھر زیرِ آب آ گئے ہیں جس کے بعد سے ایک بار پھر شہر میں اربن فلڈنگ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
اربن فلڈنگ اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جب شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو جائے یعنی کسی شہر کے نکاسی آب اور ندی نالوں میں گنجائش سے زیادہ پانی آ جائے۔
شہروں میں یہ صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب شدید بارشوں کے نتیجے میں شہر کا نکاسیِ آب کا انفراسٹرکچر مزید پانی کا بوجھ سہارنے میں ناکام ہو جائے۔ ہر شہر کی ایک مخصوص صلاحیت ہوتی ہے یعنی وہ کتنے پانی کا بوجھ سہار سکتا ہے۔
عام طور پر پانی کے نکاس کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں ’ڈسپوذل سٹیشنز‘ بنائے جاتے ہیں، جو پمپس کے ذریعے جمع شدہ پانی کو قریبی ندی نالوں یا پھر دریاؤں میں پھینکتے ہیں لیکن جب ڈسپوزل سٹیشن مکمل طور پر کام نہیں کر رہے پوتے یا پھر ان کی گنجائش سے زیادہ پانی آ جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں باقی بچ جانے والا پانی سڑکوں اور گلی محلوں میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔

اور یہ معاملہ پاکستان میں صرف لاہور کی حد تک محدود نہیں بلکہ کراچی اور راولپنڈی جیسے بڑے شہر ماضی میں متعدد مرتبہ اربن فلڈنگ کا شکار ہو چکے ہیں۔
اربن فلڈنگ کی واحد وجہ معمول سے زیادہ بارش نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجوہات میں انتظامی سطح پر لیے گئے فیصلے بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ جیسا کہ لاہور یا کراچی میں بارشوں کے دوران کئی انڈر پاس ایسے ہیں جہاں کئی کئی فٹ بارشی پانی جمع ہو جاتا ہے جس کی وجہ پانی کے نکاس کے نظام کا مکمل طور پر کام نہ کرنا بتائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اربن فلڈنگ کی بہت سے وجوہات میں سے ایک ہو سکتی ہے مگر پاکستان کے بڑے شہروں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ بنیادی وجہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC Persian
حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسماعیل ہنیہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پیزشکیان بھی اُن کے ساتھ موجود تھے۔۔
ایران میں اسماعیل ہنیہ کی نمازِ جنازہ کے بعد دو اگست کو اُن کی تدفین قطر میں کی جائے گی۔
واضح رہے کہ فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک حملے میں گزشتہ روز مارے گئے تھے۔
حماس کے مطابق، ہنیہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے جہاں انھیں اُن کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا۔
بدھ کو حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’اسماعیل ہنیہ تہران میں اپنی رہائش گاہ پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔‘
تاہم اسرائیل کی جانب سے باضابطہ طور پر ہنیہ پر حملے اور اُن کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی گزشتہ روز کہا کہ اسماعیل ہنیہ کی موت کا بدلہ لینا ’تہران کا فرض‘ ہے۔ جبکہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کو ہنیہ کے ’بزدلانہ‘ قتل پر بھرپور جواب دیں گے اور ایران ’اپنی علاقائی سالمیت، وقار اور وقار کا دفاع کرے گا۔‘

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرّم میں دو قبائل کے درمیان زمین کے تنازعہ پر جرگے کے بعد فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔
کرّم میں فریقین نے دو ماہ کیلئے عارضی فائر بندی کے معاہدے پر دستخط کردے ہیں۔ کرم میں ہونے والے اس جرگے سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اگر کسی بھی فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو ایسا کرنے والے پر 12 کروڑ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔
تاہم اہم شاہراہوں کو آمدورفت کیلئے محفوظ بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جھڑپوں میں 43 افراد ہلاک جبکہ 150سے زائد زخمی ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تنازع ہے کیا؟
خیال رہے کہ حالیہ تصادم کی وجہ بننے والا زمین کا وہی ٹکڑا ہے جس پر گذشتہ برس جولائی میں تنازعے کی وجہ سے کرّم میں فرقہ ورانہ تصادم شروع ہوا تھا جس میں نصف درجن سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔
امن کمیٹی کے رکن ملک محمود علی جان کے مطابق 100 کنال زمین کا یہ برسوں پرانا تنازعہ گلاب ملی خیل اور مدگی کلے قبائل کے درمیان ہے اور گلاب ملی خیل کا تعلق اہل تشیع سے ہے جبکہ مدگی کلے اہل سنت ہیں۔ ان کے مطابق ’اس تنازعے پر کئی مرتبہ مسلح تصادم ہوئے، جرگے ہوئے مگر ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔‘
ملک محمود علی خود گذشتہ برس اس معاملے پر ہونے والے جرگے میں شامل تھے۔ انھوں نے بتایا کہ 2023 میں جب مسلح تصادم کے بعد سیز فائر ہوا اور اس کے بعد بڑے جرگے منعقد ہوئے تو ان میں ایک معاہدہ ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ زمین کے اس ٹکڑے کا فیصلہ زمینوں کے تنازعات حل کرنے والی کمیٹی، لینڈ کمیشن، محکمہ مال کے کاغذات کی مدد سے کرے گی جس کو سب تسلیم کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں یہ جرگے چلتے رہے اور آخر میں فیصلہ ہوا کہ ’زمین کے ٹکڑے کی ملکیت گلاب ملی خیل کی ہے اور اس فیصلے کے بعد معاملے کا حل نکالنے کے لیے ایک اور تحریری معاہدہ ہوا کہ ایک سال تک گلاب ملی خیل اس زمین کے ٹکڑے کو استعمال نہیں کریں گے اور اس دوران ایک تیسرا فریق اسے استعمال کرے گا اور لگان گلاب ملی خیل کو دے گا جبکہ ایک سال کے بعد گلاب ملی خیل قبائل کی مرضی ہو گی کہ وہ دوبارہ اس کو ٹھیکے پر دیتے ہیں یا خود استعمال کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملک محمود جان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے علاقے میں یہ رواج ہے کہ جب دو فریقوں کے درمیاں ایسا تنازع ہو جسے حل کیا جانا ہو تو وہ چیز، زمین کے اصل حقدار کو براہ راست نہیں دی جاتی بلکہ تیسرے فریق کو ٹھیکے پر دی جاتی ہے اور وہ تیسرا فریق حقدار کو حق دیتا ہے۔‘
ملک محمود کے مطابق اس تنازعے میں بھی تیسرے فریق نے ایک برس تک وہ زمین استعمال کی اور اس کا لگان گلاب ملی خیل قبائل کو دیا اور اب ایک برس کی تکمیل کے بعد یہ زمین گلاب ملی خیل کو ملنا تھی مگر جب گلاب ملی خیل نے زمین کا مطالبہ کیا تو پھر تصادم ہو گیا۔ ’پہلے ان دونوں فریقوں کے درمیاں جنگ شروع ہوئی مگر بات بڑھتے بڑھتے بڑھتے قبائل سے بھی نکل کر فرقہ وارانہ کشیدگی بن گئی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ صرف ایک زمین کے ٹکڑے کا تنازعہ نہیں ہے بلکہ پانچ، چھ اور بڑے تنازعات بھی ہیں جو جب بھی سر اٹھاتے ہیں تو یہ قبائل یا خاندانوں سے نکل کر فرقہ وارانہ تصادم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ خود خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے اعلامیے کے مطابق ’ضلع کرم میں 08 مختلف زمینی تنازعات چل رہے ہیں جن میں سے بیشتر آزادی سے پہلے کے زمانے کے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق بدھ کی رات دلی میں شدید بارش کی وجہ سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق دہلی کے دریا گنج علاقے میں بارش کی وجہ سے ایک نجی سکول کی دیوار بھی گر گئی۔ دہلی میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کے پیش نظر سکولوں کو بند رکھنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
دہلی حکومت کے وزیرآتشی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں لکھا ہے کہ دلی میں بدھ کی شام سے جاری بارش کے پیش نظر یکم اگست یعنی آج دلی کے تمام سرکاری اور نجی سکول بند رہیں گے۔
سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی ویڈیوز میں بارش کی وجہ سے دلی میں کئی مقامات پر پانی بھی جمع دیکھا جا سکتا ہے تاہم اے این آئی کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایک مقام پر دیوار کو گاڑیوں کے اوپر گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل دہلی کے راجندر نگر علاقے میں ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے تہہ خانے میں پانی بھر جانے سے سول سروسز کی تیاری کرنے والے تین طلبا کی موت ہو گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا یہ سپیل 6 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کی جانب سے صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنرزکو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری مکمل رکھیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبائی کنٹرول روم سمیت تمام ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کنٹرول روم میں صورتحال کی مانیٹرنگ دن رات کی جاتی رہے گی۔ تاہم ریسکیو 1122 سمیت دیگر ریسکیو ادارے دستیاب مشینری سمیت اپنے عملے کے ساتھ حالات کی نگرانی کرتے رہیں گے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے یہ بھی کہا ہے کہ ’نشینی علاقوں سے پانی کی نکاسی کو جلد از جلد ممکن بنائیں۔ شہری احتیاط کریں بجلی کے کھمبوں اور لٹکتی بجلی کی تاروں، کچے مکانات اور بوسیدہ عمارتوں سے دور رہیں۔ اسی کے ساتھ بچوں کا خاص خیال رکھیں انھیں نشیبی علاقوں میں جمع پانی کے قریب ہرگز نہ جانے دی۔‘
تاہم کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر کال کر یں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی منظوری دی ہے۔ حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں چھ روپے 17 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے 86 پیسے کی کمی کردی۔
پیٹرول کی قیمت اب 275 روپے 60 پیسے سے کم ہو کر 269 روپے 43 پیسے ہو گئی ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی چھ روپے 32 پیسے کی کمی کی گئی ہے جبکہ لائٹ سپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی پانچ روپے 72 پیسے فی لیٹر کم کردی گئی ہے۔
وزیر اعظم کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ نے قیمتوں میں کمی کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

،تصویر کا ذریعہFinance Division

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن اور قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی سے متعلق مذاکرات میں ایک اہم شخصیت کے طور پرپہچانے جانے والے امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے کہا کہ جنگ بندی کا حصول ضروری ہے اور اس کی اہمیت سب کے لیے واضح ہے۔
واضح رہے کہ قطر حماس اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کی ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
قطر نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل سے مذاکرات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل قطر کے وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ جب ایک فریق دوسری طرف کے مذاکرات کار کو قتل کر دے تو ثالثی کیسے کامیاب ہو سکتی ہے؟‘
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے مذاکرات کے لیے پرعزم ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کا معاہدہ کامیاب ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی نمازہ جنازہ اور ان کی آخری رسومات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
حماس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسماعیل ہنیہ کی سرکاری اور عوامی سطح پر نماز جنازہ کی تقریب جمعرات کے روز ایران کے شہر تہران میں ادا کی جائے گی۔
حماس کے مطابق اس کے بعد اسماعیل ہنیہ کی لاش قطر کے دارالحکومت دوحہ منتقل کی جائے گی جہاں وہ ایک طویل عرصے سے قیام پذیر تھے۔
ان کی آخری رسومات دو اگست کو ادا کی جائیں گی جس کے بعد انھیں قطر کے شہر لوسیل کے قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی موت کے بعد ان کا جانشین مقرر کرنا آسان نہیں اس کا فیصلہ جلدی ہوتا دکھائی بھی نہیں دیتا۔
جانشینی کے مراحل میں حماس کی قیادت کرنے والی ایران نواز شخصیات کے لیے راہ مزید ہموار ہو سکتی ہے۔ اس قطار میں شامل لوگوں میں سے سب سے آگے یحییٰ سنوار ہیں جو اس وقت غزہ کی پٹی کے گروپ کے موجودہ سربراہ ہیں۔
یحییٰ سنوارسات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے مہلک حملے کے ماسٹر مائنڈ سمجھے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ حماس کے کم از کم دو ایسے سینئر عہدیدار بھی ہیں جو ہنیہ کی جگہ لینے کے لیے قدم بڑھا سکتے ہیں۔
انھی میں سے ایک خالد مشعل ہیں جنھیں کم انتہا پسند سمجھا جاتا ہے۔ خالد مشعل قیادت کا چیلنج شروع کرنے کی تیاری میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اسماعیل ہنیہ سے پہلے کئی برس تک حماس کی قیادت بھی انھوں نے کی تھی تاہم خالد مشعل کے ایران کے ساتھ ہمیشہ تعلقات مشکل ہی رہے ہیں۔
جانشینی کی دوڑ میں ایک اور ممکنہ امیدوار ظہیر جبرین ہیں جو اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کے ذمہ دار ہیں۔
وہ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر جاری مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حماس کے یہ تینوں رہنما ہنیہ کے موجودہ نائبین ہیں۔

اسماعیل ہنیہ کی موت کی خبر کے بعد اپنے غم و غصے کے اظہار کے لیے رام اللہ میں رہنے والے فلسطینی شہریوں نے سورج ڈھلنے کے بعد دکانیں بند کیں اور شہر کی سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کا شہر رام اللہ گو کہ قطعی طور پر حماس کا گڑھ نہیں شاید اس لیے یہ مظاہرہ بہت بڑا نہیں تھا اور اس میں زیادہ سے زیادہ چند سو لوگ شامل تھے۔
تاہم اسماعیل ہنیہ کے قتل سے پیدا ہونے والے دکھ، صدمے اور غصے کا احساس بخوبی نمایاں تھا۔
ان مظاہروں میں حماس کے سبز بینرز جہاں سربلند تھے وہیں سیاہ، سفید، سبز اور سرخ رنگوں والے فلسطینی پرچم بھی بڑی تعداد میں دیکھے جا سکتے تھے۔
بہت سے بچے کھلونا مشین گنیں اٹھائے اپنے باپ کے کندھوں پر سوار اس احتجاج میں شامل تھے۔ سڑکوں پر نعروں کی گونج نمایاں تھی لیکن اس شور کے پس منظر میں پریشانی بھی چھپی ہے۔
فلسطینیوں کو لگتا ہے کہ موجودہ صورت حال ایک وسیع تر تنازع کا آغاز ہو سکتا ہے جو مغربی کنارے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
انھیں لگتا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت بھی یہی چاہتی ہے۔ اعتدال پسند فلسطینی سیاست دان اور سابق صدارتی امیدوار مصطفیٰ برغوتی نے مظاہرین کے ساتھ چلنے کی تیاری کے دوران مجھے اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔
’میرے خیال میں اسرائیلی حکومت نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ ایک سیاسی، مجرمانہ فعل ہے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس قتل سے فلسطینی مزاحمت کو توڑا جا سکے گا تو وہ سراسر غلط ہیں۔‘