یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
5 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان اتوار کو ہونے والی حالیہ تازہ ترین جھڑپوں میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ کئی مقامات پر سرکاری عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم حسینہ واجد اپنے عہدے سے فوری مستعفی ہوں۔
بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
5 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بنگلہ دیش میں اتوار کے روز پرتشدد ہنگاموں میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت 80 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ملک کی وزیر اعظم حسینہ واجد کے مستعفی ہونے سمیت تمام مطالبات کی منظوری کے لیے مظاہرین نے سوموار کے روز ’لانگ مارچ ٹو ڈھاکہ‘ کے نام سے ایک احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو لوگ اب تخریب کاری کررہے ہیں، وہ طالب علم نہیں، دہشت گرد ہیں۔
مظاہرین کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان کے بعد طلبہ تحریک کی رہنما ناہید اسلام نے پیر کے روز لانگ مارچ ٹو ڈھاکہ کے نام سے احتجاج کو مزید آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے اس پروگرام کے انعقاد کے لیے چھ اگست کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اتوار کے روز اسے ایک دن پیچھے کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اسی دن ڈھاکہ کے شاہ باغ میں صبح 11 بجے کارکنوں کا جلسہ اور شام پانچ بجے مرکزی شہید مینار پر خواتین کا جلسہ بلایا گیا ہے۔ مظاہرین نے تمام مکتبہ فکر کے لوگوں سے اس میں شرکت کے لیے ڈھاکہ آنے کی اپیل کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہkamal Das
انتشار پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
امتیازی سلوک کے خلاف طلبا کی تحریک کے پر تشدد مظاہروں میں اتوار کی شام تک مختلف مقامات پر حکومت کے حامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔
کئی مقامات پر گھروں اور گاڑیوں میں توڑ پھوڑ اور آگ لگا دی گئی۔ متاثرین میں سے کئی افراد گولیاں لگنے کے باعث زخمی ہوئے۔ جبکہ بعض افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ بی بی سی بنگلہ کے مطابق مشتعل مظاہرین نے ملک بھر میں احتجاجی تحریک اور عوامی دھرنا پروگرام جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اگر کوئی رابطہ کار گرفتاری یا کسی اور وجہ سے اگلے پروگرام کا اعلان نہیں کر سکتا تو موجودہ حکومت کے خاتمے کے مطالبات پورے ہونے تک سڑکوں پر قبضہ جما کر پرامن عدم تعاون کی تحریک حلائئ جائے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے کہا کہ جو لوگ اب تخریب کاری کر رہے ہیں، وہ طالب علم نہیں بلکہ دہشت گرد ہیں۔ انھوں نے عوام سے اس سازش کو دبانے کی پرزور اپیل کی۔

وزیراعظم شیخ حسینہ نے یہ بات اتوار کو قومی سلامتی امور کی کمیٹی کے اجلاس میں کہی۔
بنگلہ دیش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی باس (BASS) کے مطابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے انتشار پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔
وزیر اعظم شیخ حسینہ کے پریس ونگ کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم کے سیکیورٹی ایڈوائزر، آرمی چیف، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہ، مختلف وزارتوں پر مشتمل کمیٹی کے تمام ارکان، کابینہ سیکریٹری، وزیراعظم آفس کے چیف سیکریٹری نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ 2023 کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش میں تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے کہ اب تک پرتشدد مظاہروں کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 76 ہو گئی ہے اور ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق سراج گنج سے ہے۔
اس کے علاوہ آج ملک کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر سابق آرمی چیفس اور آرمی افسران نے ملک کی مسلح افواج سے عام طلبہ کے ہجوم کا سامنا نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
سابق فوجی افسران نے اتوار کی سہ پہر ڈھاکہ میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا جس کا مقصد ملک کی موجودہ صورتحال میں بحران کو حل کرنے کے حوالے سے تجاویز دینا تھا۔ ایک تحریری بیان میں سابق آرمی چیف اقبال کریم بھویاں نے کہا کہ ’فوری طور پر مسلح افواج کو واپس آرمی کیمپ میں لانا اور انھیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے پہل کریں۔ محب وطن مسلح افواج کو طلبہ کے ہجوم کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش کے شہر سراج گنج کے تھانے پر مظاہرین نے حملہ کردیا جس کے باعث کم از کم 13 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
راج شاہی رینج کے ایڈیشنل ڈی آئی ڈی وجے باسک نے ابتدا میں بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ سراج گنج کے عنایت پور تھانے پر حملے میں 11 پولیس اہلکار مارے گئے۔
تاہم بعد میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ وہاں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی صحافیوں کے مطابق دوپہر کے قریب سراج گنج کے عنایت پور پولیس سٹیشن پر ہزاروں مظاہرین نے حملہ کیا۔
بی بی سی بنگلہ کے مطابق اتوار کی دوپہر کو یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ کومیلا میں ایک اور پولیس اہلکار کو مظاہرین نے تشدد کر کے جان سے مار ڈالا۔
اس وقت تک حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں میں 60 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے ہیں تاہم ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش میں حکومت نے پر تشدد مظاہروں کے بعد پیر سے تین روزہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔
حکومت کے اعلان کے مطابق عام تعطیل اگلے بدھ تک نافذ رہے گی۔ منسٹری آف پبلیڈمنسٹریشن کے حکام نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ اس تعطیل کا اعلان ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں مظاہرین نے اتوار سے شروع ہونے والی ملک گیر سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا اورو شہریوں پر زور دیا کہ وہ ٹیکس یا کوئی یوٹیلیٹی بل ادا نہ کریں۔
طلبا کی جانب سے تمام فیکٹریوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
بنگلہ دیش میں اس سے قبل رواں سال جولائی میں حکومتی ملازمتوں میں کوٹے کے خلاف ہونے والے مظاہرے پرتشدد ہو گئے تھے اور کئی دنوں سے جاری مظاہروں میں 200 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں۔
پورا شہر میدان جنگ میں تبدیل
دوسری جانب اتوار کی صورت حال پر ایک پولیس افسر نے نام نہہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پورا شہر میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔
پولیس افسر کے مطابق کئی ہزار مظاہرین کے ہجوم نے ایک ہسپتال کے باہر کاروں اور موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی ہے۔
دوسری جانب حکومتی جماعت عوامی لیگ نے بھی اتوار کو ملک بھر میں ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
بعض جگہوں پر عوامی لیگ کے حامیوں اور حکومت مخالف مظاہرین سے تصادم کی بھی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور اگلے چند دنوں کو دونوں کیمپوں کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سنیچر کے روز طلبہ تحریک کے رہنماؤں میں شامل ناہید اسلام نے ڈھاکہ میں ہزاروں کے اجتماع میں خطاب کے دوران کہا کہ ’شیخ حسینہ کو صرف استعفیٰ ہی نہیں دینا چاہیے بلکہ ان پر قتل و غارت، لوٹ مار اور بدعنوانی کا مقدمہ ہونا چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان اتوار کو ہونے والی حالیہ جھڑپوں میں کم از کم 59 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 13 پولیس والوں کو بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم حسینہ واجد اپنے عہدے سے فوری مستعفی ہوں۔
بنگلہ دیش میں کشیدگی کی تازہ ترین لہر طلبہ رہنماؤں کی جانب سے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی مہم کے اعلان کے بعد شروع ہوئی ہے۔
بنگلہ دیش کے کئی حصوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا ہے جس میں 200 کے قریب افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
دارالحکومت ڈھاکہ میں اس وقت موبائل فونز پر انٹرنیٹ کی سہولت معطل کر دی گئی ہے۔
انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والی بعض کمپنیوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے احکامات موصول ہونے پر انھوں نے سروسز معطل کی ہیں۔
بنگلہ دیش ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن (بی ٹی آر سی) کے ایک اہلکار نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا ہے کہ ڈھاکہ کے علاقے میں فور جی انٹرنیٹ سروس فی الحال بند ہو گئی ہے، لیکن براڈ بینڈ سروس جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ انٹرنیٹ کی فور جی اور تھری جی سروسز کے بغیر لوگ اپنے موبائل آلات پر انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے رابطہ نہیں کر سکتے۔
تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ انٹرنیٹ خدمات کب تک معمول پر آئیں گی۔
اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے سے کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرفیو غیر معینہ مدت تک نافذ رہے گا۔

،تصویر کا ذریعہ@MahrangBaloch5
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام دھرنوں اور احتجاج کا سلسلہ اتوار کو آٹھویں روز بھی جاری رہا۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں سے مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔
اُدھر نوشکی میں فائرنگ سے ایک نوجوان کی ہلاکت اور دو کو زخمی کرنے کے خلاف شاہراہ پر دھرنے کی وجہ سے کوئٹہ اور ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان کے درمیان شاہراہ تیسرے روز بھی بند رہی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے کہ وہ گوادر میں ہزاروں افراد کے ہمراہ موجود ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے خلاف کریک ڈاؤن کا جواز فراہم کرنے کے لیے ریاستی مشنری کا استعمال کیا جارہا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ڈیڈلاک کے خاتمے میں پیش رفت نہ ہونے کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اول تو حکومت نے پُرامن احتجاج پر تشدد کیا جبکہ اب ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہیں کررہی ہے۔ تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ حکومت نے دھرنے کے شرکا کے ساتھ حد سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا لیکن بلوچ یکجہتی کمیٹی احتجاج کو طول دینے کے لیے مطالبات پر مطالبات پیش کررہی ہے۔
’آج صبح دوبارہ مذاکرات کے لیے رابطہ ہوا‘
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بلوچستان کے سینیئر وزیر میر ظہور بلیدی نے نیشنل پارٹی کے رہنما اشرف حسین کے ذریعے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے دوبارہ رابطہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس رابطے کے بعد میر ظہور بلیدی کی قیادت میں حکومتی جبکہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے وفود کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ تاحال ان مذاکرات کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
موبائل فون سروس کی بندش کی وجہ سے گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں سے ان مذاکرات کے حوالے سے رابطہ نہیں ہوسکا تاہم سماجی رابطوں کی میڈیا ایکس پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا ایک پیغام سامنے آیا ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کیا کہا ہے؟
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا ہے کہ وہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دیگر رہنما ہزاروں افراد کے ہمراہ گوادر میں موجود ہیں۔ رستوں اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے گوادر شہر کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کنٹرولڈ‘ میڈیا نے ہمیشہ اس طرح ہمیں پیش کیا کہ ہم متشدد ہیں اور مذاکرات نہیں چاہتے ہیں لیکن مبینہ ریاستی تشدد کے باوجود ہم شروع دن سے پر امن رہے ہیں۔
اس پیغام میں انھوں نے تشدد کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پہلے دن سے پرامن تھے لیکن ریاست کی جانب سے شاہراہوں اورانٹرنیٹ کو بند کیا گیا اورپر امن مظاہرین پربراہ راست گولیاں چلائی گئیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے مطالبات واضح ہیں جن میں سے ایک ان فورسز کے خلاف مقدمات کا اندراج ہے جنھوں نے مستونگ، گوادر، تلار اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ’بلاکیڈ‘ کا خاتمہ کیا جائے اور یہ ضمانت دی جائے کہ ریاستی فورسز مزید طاقت اور تشدد کا استعمال نہیں کریں گے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں، ہمدردوں اور گوادر کے رہائشیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت یہ اعتراف کرے کہ اس نے ایک پرامن تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان تمام افراد کو رہا کیا جائے جو کہ بلوچ قومی اجتماع کے انعقاد سے پہلے یا بعد میں گرفتار کیے گئے اور فورسز نے جن لوگوں کی گاڑیوں اور املاک کو جو نقصان پہنچایا اس کا ازالہ کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے ریاستی ادارے مزید طاقت کا استعمال کر رہے ہیں اور مجھے اور ’بی وائی سی‘ کی قیادت کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو خطرہ ہے کیونکہ اب ہمارے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے جواز فراہم کرنے کے لیے ریاستی مشینری کو استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب حالات نواب بگٹی کے دور کے مشابہ ہیں جب ایک طرف مذاکرات کا دعویٰ کیا جا رہا تھا جبکہ دوسری جانب طاقت کا استعمال کیا گیا۔
ادھر کوئٹہ میں یونیورسٹی آف بلوچستان کے سامنے دھرنے میں شریک بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ گوادر، کوئٹہ ، تربت اور نوشکی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے سامنے دھرنے میں آج شام کو ایک قومی سیمنار منعقد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے پر امن مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ نوشکی میں پر امن مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں جس میں ایک ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ براہ راست گولیاں چلانے کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج میں شریک لوگ پر امن رہے اور مطالبات تسلیم ہونے تک پر امن احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
’بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنوں کے شرکا کے ساتھ حد سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کیا گیا‘
بی بی سی بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیا اللہ لانگو نے کہا کہ وہ خود کئی روز تک گوادر میں اس لیے مقیم رہے تا کہ کوئی ایسا کام نہ ہو جس کی وجہ سے حالات خراب ہوں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ’ایف سی، پولیس اور لیویز فورس کو شاباش دیتے ہیں کہ مظاہرین کی جانب سے تمام تر تشدد کے باوجود انھوں نے صبر اور برداشت سے کام لیا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور معاہدے پر دستخط کے بعد انھوں نے اعلان بھی کیا کہ جمعہ کو 11 بجے دھرنے کو ختم کیا جائے گا۔
ان کے مطابق ’ریاست نے حقیقی معنوں میں ماں جیسا سلوک کیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے بہت سارے مطالبات تسلیم کیے گئے تا کہ معاملات پر امن طریقے سے حل ہوں۔ ہم نے راستے کھلوا دیے اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے متعلقہ حکام کو موبائل فون سروس کھولنے کے لیے چِھٹی بھی تحریر کی‘۔
انھوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد وہ گوادر سے نکل گئے لیکن بیسمیہ پہنچنے پر جب انھوں نے گوادر رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے دھرنے کو ختم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی اینڈ ڈی کے وزیر میر ظہور بلیدی سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ انھوں نے مزید مطالبات پیش کیے ہیں اور ’ایسا لگتا ہے ان کے مطالبات ہر روز بچے دے رہے ہیں‘۔
انھوں نے کہا کہ بہت زیادہ لچک کا مظاہرہ کرنے کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی نے احتجاج کو ختم نہیں کیا جس سے یہ لگتا ہے کہ وہ دھرنے ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان کو مختلف حیلوں بہانوں سے طول دینا چاہتے ہیں۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور اردن نے اپنے شہریوں کو جلد از جلد لبنان چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی انخلا میں مدد کے لیے اضافی فوجی اہلکار، قونصلیٹ کا عملہ اور سرحدی فورس کے اہلکاروں کو بھیج رہا ہے۔
دو برطانوی فوجی جہاز پہلے ہی خطے میں موجود ہیں اور رائل ایئر فورس نے ٹرانسپورٹ والے ہیلی کاپٹروں کو سٹینڈ بائی پر رکھا ہوا ہے۔
یاد رہے اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایرانی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر اسرائیل کی حفاظت کے لیے امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اضافی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے تعینات کرے گا۔
ایران میں رواں ہفتے حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے ایک کمانڈر کی ہلاکت کے بعد خطے میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔
حزب اللہ نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے بارہ بجے شمالی اسرائیل کے قصبے بیت الہلیل پر درجنوں راکٹ داغے لہیں۔ تاہم ان حملوں میں کسی بھی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم کو میزائلوں کو روکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
جوابی کارروائی میں اسرائیل کی فضائیہ نے جنوبی لبنان میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس دوران غزہ میں ایک سکول پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سکول میں جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ غزہ شہر کے شیخ رضوان محلے میں حمامہ سکول کو عسکریت پسندوں کے کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ حماس نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
اس ہفتے کے اختتام پر اسرائیل میں مواصلاتی سسٹم پر حملے کے خطرے کے پیشِ نظر اسرائیلی وزرا کو سیٹلائٹ فون کے ساتھ گھر بھیجا گیا۔
یاد رہے رواں برس اپریل میں ایران نے اسرائیل پر 170 ڈرونز، 30 کروز میزائلوں اور کم از کم 110 بیلسٹک میزائلوں سے فضائی حملہ کیا تھا۔
اسماعیل ہنیہ کو حماس کا سربراہ تصور کیا جاتا تھا اور وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔
ان کی موت سے کچھ گھنٹوں قبل اسرائیل نے حزب اللہ کے بااثر کمانڈر فواد شکُر کو مارنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔
اس صورتحال سے متعلق ایک بیان میں امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی تعیناتیاں اسرائیل کے دفاع کو بہتر بنائیں گی۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق خطے میں ایسے اضافی جہاز بھی تعینات کیے جا رہے ہیں جو کہ بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کی براہِ راست ذمہ داری تو قبول نہیں کی ہے لیکن وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے حالیہ دنوں میں دشمنوں کو ’منہ توڑ‘ جواب دیے ہیں، جس میں بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر فواد شُکر کی ہلاکت بھی شامل ہے۔
انھوں نے اسرائیلوں کو خبردار کیا تھا کہ ’آنے والا وقت مشکل ہوگا، ہم نے تمام اطراف سے دھمکیاں سُنی ہیں اور ہم ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بیروت میں امریکی سفارتخانے نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب اپنے شہریوں سے جلد از جلد لبنان چھوڑنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ’کوئی بھی دستیاب ٹکٹ‘ خرید کر فوری ملک چھوڑ دیں۔
اس سے قبل برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی بھی وارننگ جاری کر چکے ہیں کہ خطے میں صورتحال ’تیزی سے خراب‘ ہو سکتی ہے۔
حزب اللہ نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے بارہ بجے شمالی اسرائیل کے قصبے بیت الہلیل پر درجنوں راکٹ داغے لہیں۔ تاہم ان حملوں میں کسی بھی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم کو میزائلوں کو روکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
واضح رہے رواں ہفتے حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ تہران میں مارے گئے تھے اور ایران نے اس کے بعد اسرائیل کے خلاف ’سخت‘ جوابی کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی۔
اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم اسرائیل نے بدھ کو بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لبنان میں موجود ایرانی حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی انتقامی کارروائی میں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
ان حالات میں اردن نے بھی اپنے شہریوں کو لبنان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ دوسری جانب کینیڈا نے اپنے شہریوں کو اسرائیل یا لبنان کی طرف سفر کرنے سے گریز کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ کی جانب سے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں دینے کا فیصلے کرنے والے 13 رکنی بینچ کے دو ارکان نے فیصلے کے خلاف اپنا تفصیلی اختلافی نوٹ جاری کر دیا ہے۔
جسٹس امین الدین خان اور جسٹس نعیم اختر افغان ان پانچ ججوں میں شامل ہیں جنھوں نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔
29 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے فیصلے کو 15 دن گزرنے کے باوجود تفصیلی فیصلہ تاحال جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دونوں ججوں کا کہنا ہے کہ تفصیلی فیصلے میں تاخیر کے باعث وہ مختصر حکمنامے پر ہی اپنی فائنڈنگ دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تفصیلی فیصلے کے اجرا میں تاخیر سے عدالتی حکم کے خلاف نظرثانی کی درخواست غیر موثر ہو سکتی ہے۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اس کیس میں فریق نہیں تھی اور اس کو ریلیف دینے کیلئے آئین کے آرٹیکل 175 اور 185 میں تفویض دائرہ اختیار سے باہر جانا ہو گا۔
خیال رہے کہ اس مقدمے میں درخواست گزار پی ٹی آئی نہیں بلکہ سنی اتحاد کونسل تھی۔
ججز کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کیلئے آئین کے آرٹیکل 51، 63 اور 106 کو معطل کرنا ہو گا۔
سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ نے بارہ جولائی کو آٹھ پانچ کے اکثریتی فیصلے میں مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے سنیچر کے روز جاری اپنے ایک بیان میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسماعیل ہنیہ کے قتل کا کرار کا جواب دیا جائے گا۔
’دہشت گرد صیہونی حکومت کو مناسب وقت اور جگہ پر سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
اسماعیل ہنیہ نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود تھے جب وہ بدھ کو ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔ حماس اور ایرانی حکام نے فوری طور پر اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔
اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی رہائش گاہ پر شارٹ رینج پرجیکٹائل فائر کیا گیا جس پر تقریباً 7 کلو گرام وزنی وار ہیڈ نصب تھا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ پر ’حملے کا منصوبہ اور اس پر عمل درآمد اسرائیلی حکومت نے کیا جبکہ امریکہ کی حکومت نے اس کی حمایت کی تھی۔‘
اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ کسی بھی ایرانی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر اسرائیل کی حفاظت کے لیے امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اضافی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے تعینات کرے گا۔
ایران میں رواں ہفتے حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے ایک کمانڈر کی ہلاکت کے بعد خطے میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام دھرنوں اور احتجاج کا سلسلہ سنیچر کو بھی جاری ہے۔
نوشکی میں گذشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنان پر فائرنگ کے نیتجے میں ایک نوجوان کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کے خلاف دھرنے کی وجہ سے کوئٹہ اور ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان کے درمیان شاہراہ بند ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی کے دعوؤں اور 80 کے قریب گرفتار افراد کی رہائی کے باوجود ساحلی شہر گوادر میں 28 جولائی سے جاری دھرنے کو بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تاحال ختم نہیں کیا۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطالبات کو تسلیم کیا، جس کے بعد یکجہتی کمیٹی کو معاہدے کے مطابق گوادر سمیت دیگر علاقوں میں دھرنوں کو ختم کرنا چاہیے تھا۔
تاہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ کا کہنا ہے کہ گوادر میں بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کی رہائی تک ان کا پُرامن احتجاج جاری رہے گا۔
احتجاج اور دھرنے کہاں کہاں ہو رہے ہیں؟
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام دھرنا یونیورسٹی آف بلوچستان کے سامنے جاری ہے۔
کوئٹہ شہر میں ریڈ زون کے راستوں کو بند کرنے کے لیے 27 جولائی کو جو کنٹینرز لگائے گئے تھے ان کو گذشتہ روز شام کو ہٹا دیا گیا تھا۔ تاہم چند گھنٹے بعد ان کو دوبارہ لگا دیا گیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق نوشکی میں ایک شخص کی ہلاکت اور دو افراد کے زخمی ہونے کے بعد مظاہرین نے ایک بار پھر ریڈ زون کی طرف پیش قدمی کی تھی اور اسی لیے راستوں پر کنٹینرز دوبارہ لگائے گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے نوشکی میں گذشتہ روز یکجہتی کمیٹی کے دھرنے پر فائرنگ کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج پر فائرنگ کا کوئی جواز نہیں تھا۔
تاہم ڈپٹی کمشنر نوشکی امجد سومرو کے مطابق مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے باعث فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔
کوئٹہ میں بلوچ کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ اس واقعہ کے خلاف نوشکی میں کوئٹہ تفتان ہائی وے پر دھرنا جاری ہے۔
بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ گوادر میں میرین ڈرائیو اور تربت شہر میں فدا شہید چوک پراحتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ نوشکی اور رخشاں ڈویژن کے بعض علاقوں میں شٹرڈاؤن ہڑتال بھی ہو رہی ہے۔
’کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنوں کا کوئی جواز نہیں ہے‘
موبائل فون سروس کی بندش کے باعث گوادر میں تاحال دھرنے کے ختم نہ ہونے کی وجوہات سے متعلق گوادر میں انتظامیہ سے براہ راست رابطہ نہیں ہو سکا۔
تاہم محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت نے مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطالبات کو تسلیم کیا تھا۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ گوادر سے گرفتار ہونے والے 80 کے قریب افراد کو رہا بھی کر دیا گیا ہے۔
اہلکار نے دعویٰ کیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ جمعے کو 11 بجے تک گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں دھرنے ختم کیے جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہBaloch Yakjehti Committee/WhatsApp
اہلکار کے مطابق انتظامیہ نے شدید دباؤ کے باوجود بلوچ یکجہتی کمیٹی سے مذاکرات کیے اور ٹرمز آف ریفرینس پر دستخط کیے لیکن تاحال گوادر میں دھرنے کو ختم نہیں کیا گیا۔
انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ کسی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کی صورت میں حالات دوبارہ خراب ہو سکتے ہیں۔
ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ مطالبات تسلیم ہونے کے باوجود یکجہتی کمیٹی دھرنے اور احتجاج کیوں ختم نہیں کر رہی، لیکن ’مذاکرات کی کامیابی کے بعد ان کا کوئی جواز نہیں۔‘
دوسری جانب جمعے کو محکمہ تعلقات عامہ بلوچستان کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو گئے تھے۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حکومت کے سامنے سخت موقف رکھا، لیکن صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے بلوچستان کے عوامی مفاد اور گوادر کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے نرمی کا مظاہرہ کیا۔
’مذاکرات میں طے پایا کہ تمام گرفتار شدہ افراد کی رہائی کے لیے سندھ حکومت سے بھی بات چیت کی جائے گی۔ جن افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے وہ عدالتی عمل کے بعد پانچ اگست تک رہا ہوں گے۔‘
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’راجی مچی کے شرکا کو احتجاج ختم کرنے کے بعد محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا، پولیس دوران احتجاج ضبط کردہ اشیا واپس کرے گی، انٹرنیٹ اور موبائل سگنل بحال کر دیے جائیں گے اور دھرنے کے بعد کسی شہری کو ہراساں یا انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔‘
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کیا کہنا ہے؟
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی قیادت اس وقت گوادر میں موجود ہے۔
موبائل فون سروس کی بندش کے باعث گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ تاہم کوئٹہ میں یونیورسٹی آف بلوچستان کے سامنے دھرنے میں شریک بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پُرامن دھرنے اور احتجاج جاری ہیں۔
بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ گوادر میں بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف کوئٹہ اور مستونگ کے اضلاع سے ساڑھے تین سو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک گرفتار ہونے والے تمام افراد کو رہا نہیں کیا جاتا اس وقت تک پُرامن احتجاجی دھرنے جاری رہیں گے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 28 جولائی کو گوادر میں بلوچ قومی اجتماع کے نام سے ایک جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیاتھا۔
اس میں افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے بلوچوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اس اجتماع کے اغراض بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت بلوچوں کی مبینہ نسل کشی کے علاوہ ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے علاوہ ان کے وسائل پر قبضہ کیا جارہا ہے۔
جب بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 27 جولائی کو گوادر کے لیے قافلے روانہ ہوئے تو حکومت کی جانب سے گوادر جانے والی تمام شاہراہوں کو بند کیا گیا تھا۔
یہ پہلا موقع تھا جب حکومت کی جانب سے نہ صرف متعدد شاہراہوں کو بند کیا گیا بلکہ گوادر میں موبائل فون سروس کو معطل کرنے کے علاوہ پی ٹی سی ایل نیٹ ورک کو بھی بند کیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ نہ صرف گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کو دھرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ انہیں مبینہ طور پر تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا جس سے گوادر میں ایک شخص ہلاک اور مستونگ میں سیکورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے 21 افراد زخمی ہوئے ۔
گوادر میں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور وہاں آنے والے قافلوں کو روکنے کے خلاف بلوچ قومی اجتماع کو دھرنے میں تبدیل کردیا گیا تھا۔
جہاں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے سیکورٹی فورسز پر تشدد کا الزام عائد کیا ہے، وہیں حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کی فائرنگ سے ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک آفیسر سمیت 16 افراد زخمی ہوئے تھے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ فوج سے بات کرنے سے متعلق اپنی بات پر اب بھی قائم ہیں اور یہ بات چیت آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہوگی۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق سنیچر کو 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انھوں نے محمود خان اچکزئی کو سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کا ضرور کہا ہے لیکن سیاسی جماعت کے پاس کچھ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جن کے پاس طاقت ہے ان سے ہی بات کروں گا۔‘
کمرہ عدالت میں موجود ایک جیل اہلکار کے مطابق ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’مجھے کہا گیا کہ جی ایچ کیو کے سامنے پُرامن احتجاج کی کال دے کر آپ نے غلط کیا۔ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کرنا جُرم ہے؟‘
صحافی بابر ملک کے مطابق کمرہ عدالت میں گفتگو کے دوران عمران خان سے شیر افضل مروت کی پارٹی کی رُکنیت منسوخ کیے جانے کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے، جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر بعد میں بات کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب نے جس ہار کی بنیاد پر ان کے خلاف ریفرنس بنایا ہے وہ ہار اب بھی ان کے پاس موجود ہے۔
’18 مارچ کو بنی گالہ رہائش گاہ پر چھاپے سے قبل تمام قیمتی اشیا وہاں سے محفوظ جگہ منتقل کر دی تھیں۔‘
صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ نیب نے توشہ خانہ کا نیا ریفرنس دائر کرکے اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا کہ ہار کی قیمت کم درج کروائی گئی اور دوسرے ریفرنس میں بھی یہی الزام ہے۔
کمرہ عدالت میں موجود جیل اہلکار نے بی بی سی اردو کو تصدیق کی کہ دورانِ گفتگو عمران خان نے کہا کہ وہ توشہ خانہ ریفرنس ختم ہوتے ہی وزیر داخلہ محسن نقوی، چیئرمین نیب، تفتیشی افسران اور گواہان کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔
اس سے قبل آج صبح اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کرنے والے جج محمد علی وڑائچ کو تبدیل کردیا گیا تھا اور ان کی جگہ مقدمے کی سماعت جج ناصر جاوید رانا نے کی۔
وزارتِ قانون نے نئے ججز کی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سفارش پر کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر شیر افضل مروت کی پارٹی کی رُکنیت کی منسوخی پر ایک بحث چھڑ چکی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اس معاملے پر جماعت میں تقسیم بڑھتی جا رہی ہے۔
شیر افضل مروت کی پارٹی رُکنیت کی منسوخی سے متعلق نوٹیفکیشن جمعے کو پہلے پی ٹی آئی کے واٹس ایپ گروپ اور رہنماؤں کی طرف سے سامنے آیا۔
بعد میں اس نوٹیفکیشن کو پی ٹی آئی کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ کی جانب سے بھی شیئر کیا گیا لیکن اب بھی یہی لگتا ہے کہ پارٹی میں اس حوالے ابہام موجود ہے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بار بار منع کرنے کے باوجود بھی شیر افضل مروت کی جانب سے ایسے بیانات دیے گئے جو جماعت کی پالیسی سے تضاد رکھتے تھے۔
جماعت میں تقسیم کی تاثر اس وقت مزید بڑھ گیا جب پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے۔‘
جبکہ پارٹی کے وکیل نعیم پنجوتھہ نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ ’پارٹی کی جانب سے جاری ہونے والا اعلامیہ اور شیر افضل مروت کی جماعت کی رُکنیت کی منسوخی کی خبر درست ہے۔‘
تاہم کچھ دیر بعد شیر افضل مروت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ پارٹی کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ وہ ’عمران خان کے سپاہی تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین عمران خان تقریباً ایک برس سے جیل میں ہیں اور اس دوران پارٹی کا تنظیمی ڈھانچے بھی متاثر ہوا ہے جس کےسبب مبینہ دھڑے بننے کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ کسی بھی ایرانی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر اسرائیل کی حفاظت کے لیے امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اضافی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے تعینات کرے گا۔
ایران میں رواں ہفتے حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ کے ایک کمانڈر کی ہلاکت کے بعد خطے میں شدید کشیدگی برقرار ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کی میزائل ڈیفنس فورسز بھی کسی بھی خطرے کی صورت میں تعیناتی کے لیے تیار ہیں اور وہ اسرائیل کے دفاع کے لیے پُرعزم ہیں۔
خیال رہے اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے اسرائیل کو سخت سبق سکھانے کا اعادہ کیا تھا۔
اسماعیل ہنیہ نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود تھے جب وہ بدھ کو ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔ حماس اور ایرانی حکام نے فوری طور پر اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔
اسماعیل ہنیہ کو حماس کا سربراہ تصور کیا جاتا تھا اور وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔
ان کی موت سے کچھ گھنٹوں قبل اسرائیل نے حزب اللہ کے بااثر کمانڈر فواد شکُر کو مارنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔
اس صورتحال سے متعلق ایک بیان میں امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اضافی تعیناتیاں اسرائیل کے دفاع کو بہتر بنائیں گی۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق خطے میں ایسے اضافی جہاز بھی تعینات کیے جا رہے ہیں جو کہ بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیل نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کی براہِ راست ذمہ داری تو قبول نہیں کی ہے لیکن وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے حالیہ دنوں میں دشمنوں کو ’منہ توڑ‘ جواب دیے ہیں، جس میں بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر فواد شُکر کی ہلاکت بھی شامل ہے۔
انھوں نے اسرائیلوں کو خبردار کیا تھا کہ ’آنے والا وقت مشکل ہوگا، ہم نے تمام اطراف سے دھمکیاں سُنی ہیں اور ہم ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں۔‘
اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع کی ترجمان سبرینا سنگھ کا کہنا تھا کہ امریکہ نہیں سمجھتا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ ناگزیر ہے۔
بلوچستان کے علاقے نوشکی میں سیکورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے میں شریک ایک نوجوان ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔
ڈپٹی کمشنر نوشکی امجد سومرو نے بتایا کہ ’یہ واقعہ ریلوے سٹیشن کے قریب آرسی ڈی شاہراہ پر مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے باعث پیش آیا۔‘
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ ’گوادر میں بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کے لیے جانے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف نوشکی میں ایک پرامن ریلی نکالی گئی جس میں خواتین بھی شریک تھیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ریلی کے شرکا شہر سے پر امن طور پر ہائی وے پر پہنچے اور وہاں مقررین نے ان سے خطاب کررہے تھے کہ ایف سی کے اہلکار وہاں آئے اور مبینہ طور پر پر امن مظاہرین پر فائرنگ کی۔‘
ان کے مطابق ’فائرنگ سے مظاہرے میں شریک ہمدان بلوچ نامی نوجوان ہلاک اور دو افراد زخمی ہوگئے۔‘
بیبرگ بلوچ نے کہا کہ ’ریلی کے شرکا پرامن تھے لیکن ان پر بلاجواز فائرنگ کی گئی۔‘
نوشکی میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔
نوشکی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام ریلی اور دھرنے کے حوالے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ویڈیوز گردش کررہی ہیں جن میں نوشکی شہر سے ریلی میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد میں شرکت کو دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک اور ویڈیو جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی میں بڑے پیمانے فائرنگ کی آوازیں سُنائی دے رہی ہیں۔
ویڈیو میں خواتین اور دیگر افراد محفوظ مقامات کی جانب جاتے ہوئے دکھائی دینے کے علاوہ جھک کر فائرنگ سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔
جب اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر نوشکی امجد سومرو سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ریلوے سٹیشن کے قریب مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی جہاں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران گرفتار کی گئی خواتین کارکنان کو پولیس نے رہا کردیا ہے تاہم مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تمام افراد رہا نہیں کیے جائیں گے تب تک ان کا دھرنا جاری رہے گا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے وائس چیئرمین وہاب بلوچ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سماجی کارکن ندا کرمانی سمیت گرفتار کی گئی تمام خواتین کو پولیس نے رہا کردیا ہے تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ 18 نوجوانوں کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا اور وہ تاحال پولیس کی حراست میں ہیں۔
وہاب بلوچ کے مطابق جب تک تمام گرفتار افراد کو رہا نہیں کا جائے گا تب تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
اس سے قبل پولیس نے مظاہرین کو آرٹس کونسل سے پریس کلب تک ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی تھی جس کے بعد مظاہرین دس دس کی ٹولیوں کی صورت میں کراچی پریس کلب پہنچے۔
دوسری جانب ندا کرمانی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’میں بالکل ٹھیک ہوں. ان تمام لوگوں کا شکریہ جنھوں نے اپنی آواز میرے لیے بلند کی۔ برائے مہربانی ان لوگوں کے لئے آواز اٹھاتے رہیں جو لاپتہ ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ندا کرمانی کا کہنا ہے کہ ’پریس کلب پر مذہبی جماعتوں کا احتجاج جاری رہا بلوچوں کو کہا گیا کہ دفعہ 144 نافذ ہے اس کا مطلب ہے کہ بلوچوں کو احتجاج کا بھی حق نہیں ہے۔‘
یاد رہے کہ ندا کرمانی دوسری مرتبہ گرفتار ہوئیں ہیں اس سے قبل 2022 میں انھیں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

پاکستان کے شہر کراچی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کو ریلی نکالنے نہیں دی گئی اور کریک ڈاؤن کے دوران کراچی پولیس نے درجن بھر کے قریب مرد و خواتین کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے آج کراچی آرٹس کونسل سے پریس کلب تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
کراچی میں بارش کے باوجود بلوچ یکجہتی کے کارکنان دھرنا ختم کرنے کو تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے گرفتار کیے جانے والے ساتھیوں کو رہا نہیں کیا جاتا تب تک وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔
دوسری جانب پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے اور قیدیوں والی وین بھی دھرنے کے مقام پر بلا لی گئی ہے۔

پرامن ریلی دھرنے میں کیسے تبدیل ہوئی
کراچی آرٹس کونسل سے پریس کلب تک ریلی کی صورت میں جانے والے بلوچ کمیٹی کے احتجاج میں سول سوسائٹی کے کارکن بھی شریک تھے۔
کراچی میں یہ ریلی مظاہرین کے مطابق بلوچستان کے شہر گوادر میں جاری بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے اور احتجاج میں شامل کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکالی جا رہی تھی۔
مظاہرین کے مطابق وہ ریلی کی صورت میں پریس کلب تک جانا چاہ رہے تھے تاہم پولیس نے ریلی کے شرکا کو آرٹس کونسل پر ہی روک دیا اوررکاوٹیں کھڑی کر دیں۔

مظاہرین کے مطابق کچھ لوگ رکاوٹیں ہٹا کر آگے بڑھنا چاہ رہے تھے تو ان کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور جب احتجاج میں موجود خواتین نے ان کو چھڑانے کی کوشش کی تو پولیس نے ان خواتین کو بھی گرفتار کیا جن میں سماجی کارکن ندا کرمانی بھی شامل ہیں۔
سماجی کارکن ندا کرمانی سمیت کئی مظاہرین کو گرفتار کرنے اور پولیس کے کریک ڈاؤن کی وڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک وڈیو پوسٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس ندا کرمانی کو وین میں بٹھا کر لے جا رہی ہے اور اس دوران ایک سوال کے جواب میں ندا کرمانی کہتی سنائی دے رہی ہیں کہ اپنی ڈیمانڈ اور کاز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ندا کرمانی کی اپنی ایک ٹویٹ کے مطابق اس وقت وہ دیگر مظاہرین کے ساتھ کراچی کے آرٹلری تھانے میں موجود ہیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ لوگوں کو لاپتا کرنے میں صرف انٹیلیجنس ایجنسیاں ہی ملوث نہیں بلکہ لوگوں کے لاپتا ہونے کی اور بھی کئی وجوہات ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ٹی وی پر کیے گئے خطاب میں اعظم نزیر تارڑ نے مزید کہا کہ لا پتا افراد کے معاملے پر بنی گئی دو کمیٹیوں کی رپورٹ کابینہ میں پیش کی گئی اور ان کی سفارشات کو کابینہ میں منظور کیا گیا۔
ان کے مطابق لاپتا افراد کے خاندان کی قانونی مدد کے ساتھ ساتھ مالی معاونت کی بھی منظوری دی گئی ہے جس میں ان کے لیے 50 لاکھ کا امدادی پیکج بھی شامل ہے۔
’وفاقی کابینہ نے پانچ سال سے لاپتا افراد کے خاندانوں کے لیے 50 لاکھ روپے فی کس امداد کی منظوری دی، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، اسی سوچ کے تحت متاثرہ افراد کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔‘
یاد رہے کہ لا پتا افراد کے مقدمات کی سماعت کے دوران بارہا عدالت کی جانب سے ان کے لواحقین کی مشکلات اور مالی پریشانیوں کے لیے حکومت کی جانب سے معاونت کی بابت کہا گیا اور اس حوالے سے حکومت کومکینیزم بنانے کی ہدایات دی گئیں تھیں۔
عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے حوالے سے اٹارنی جنرل کی یقین دہانی کے بعد حکومت نے اس کے لیے کمیٹیاں بنائیں تھیں ۔
جمعے کے روز کابینہ کو پیش کی گئی رپورٹس کی تفصیلات وزیر قانون نے اپنے خطاب میں بتائیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ’ماضی میں ہم عالمی طاقتوں کے ہاتھوں استعمال ہوئے، دہشت گردی کی وجہ سے ہمیں بہت سےمسائل کا سامنا ہے۔‘
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ افغان جنگ کے باعث پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا، لاپتا افراد کی بازیابی کے حوالے سے حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔
ان کے مطابق پی ڈی ایم حکومت نے خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی، نگراں حکومت میں بھی کمیٹی کام کرتی رہی۔ کسی بھی فرد کا لاپتا ہو جانا اس کے اہلِ خانہ کے لیے بہت غم کا باعث ہوتا ہے۔
حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کی آخری رسومات آج ادا کی جا رہی ہیں۔
اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ قطر کے دارالحکومت دوحہ کی مسجد امام محمد بن عبدالوہاب میں ادا کردی گئی۔ جہاں ان کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔
ان کے جنازے کی ادائیگی کے دوران سوگواروں نے ان کی تصاویر اور فلسطینی پرچم اٹھا رہے تھے۔
نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد اسماعیل ہنیہ کو قطر میں دفن کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اسماعیل ہنیہ کو ایران کے دارالحکومت تہران میں قتل کیا گیا تھا۔
نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد اسماعیل ہنیہ کو دوحہ کے بالکل واقع ایک قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔
یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل سابق اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا کی گئی تھی جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں 31 جولائی کو ایک حملے میں مارے گئے تھے۔
حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے جہاں انھیں نشانہ بنایا گیا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس حملے پر اسرائیل کو سخت سبق سکھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ چونکہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ایران میں ہوا ہے اس لیے وہ ان کے خون کا بدلہ لینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کا قتل نہ صرف ایران کے لیے شرمندگی کا باعث ہے بلکہ یہ اس کی سکیورٹی ایجنسیوں کی صلاحیتوں پر بھی سوالیہ نشان سمجھا جا رہا ہے۔
پیرس اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی سپرنٹر فائقہ ریاض کھیل کے اگلے راؤنڈ تک کوالیفائی کرنے میں ناکام رہیں۔
خواتین کی 100 میٹر کی سپرنٹ کے ابتدائی مرحلے میں پاکستانی ایتھلیٹ فائقہ ریاض نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سکور بورڈ پر وہ چھٹے نمبر پر آئیں۔
اس مقابلے کے بعد اگرچہ وہ کھیل میں آگے جانے والوں کی فہرست میں تو کامیاب نہیں ہوئیں تاہم یہ ان کی اب تک کی سب سے بہترین پرفارمنس کہی جا رہی ہے۔
فائقہ ریاض کی 100 میٹر دوڑ کے ابتدائی راؤنڈ میں ٹائمنگ 12.49 رہی اور وہ اپنی ہیٹ (ریس) میں چھٹے نمبر پر تھیں۔

،تصویر کا ذریعہ@GhaffarDawnNew
فائقہ ریاض گو کہ کھیل کے اگلے مرحلے میں نہیں جا سکیں گی تاہم ان کے مقابلے کو سوشل میڈیا پر بھی کافی سراہا جا رہا ہے۔
صحافی عبداغفار نے فائقہ کے کھیل کو سراہتے ہوئے لکھا کہ انھیں پاکستانی پرچم اور فائقہ کو ایکشن میں دیکھنے پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔