شیخ حسینہ واجد ’مختصر نوٹس‘ پر انڈیا آئیں: وزیر خارجہ ایس جے شنکر
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ پیر کو بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بہت مختصر نوٹس پر انڈیا آنے کی درخواست کی۔ وزیر خارجہ نے پہلی بار یہ بتایا ہے کہ استعفیٰ دینے کے بعد شیخ حسینہ واجد گذشتہ روز انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی آئیں۔
خلاصہ
- امریکی حکام کا الزام ہے کہ ایک پاکستانی شہری، جن کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں، نے امریکی سرزمین پر ’ایک سیاستدان یا حکومتی عہدیدار کے قتل کی منصوبہ بندی‘ کی تھی
- بنگلہ دیش کے صدر نے کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے الٹی میٹم دیے جانے کے بعد ملک کی پارلیمان تحلیل کی ہے
- بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے ایوان صدر میں مشاورتی اجلاس، طلبہ سمیت تینوں افواج کے سربراہان کی شرکت
لائیو کوریج
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
7 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
نوبل انعام یافتہ محمد یونس بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ مقرر
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دیرینہ سیاسی حریف نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو بنگلہ دیش کا عبوری سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ 84 سالہ محمد یونس کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کے طور پر تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل حسینہ واجد کئی ہفتوں سے جاری بدامنی کے بعد ملک چھوڑ کر روانہ ہو گئی تھیں۔
اگرچہ پروفیسر یونس کو مائیکرو لونز کے استعمال پر سراہا جاتا رہا ہے، لیکن حسینہ واجد نے انھیں عوام دشمن قرار دیا اور حال ہی میں ایک مقامی عدالت نے انھیں سیاسی محرکات پر مبنی کیس میں قید کی سزا سنائی۔
امریکہ میں ’سیاستدان یا حکومتی اہلکار‘ کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں پاکستانی شہری گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے آصف مرچنٹ نامی ایک پاکستانی شہری کو امریکی سرزمین پر ’ایک سیاستدان یا حکومتی عہدیدار کے قتل کی منصوبہ بندی‘ کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ وہ اس وقت نیو یارک میں امریکی حکام کی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
ایک بیان میں امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا تھا کہ 46 سالہ آصف رضا مرچنٹ نے مبینہ طور پر امریکی سرزمین پر ایک سیاستدان یا حکومتی عہدیدار کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے نیو یارک میں ایک ’ہِٹ مین‘ یعنی کرائے کے قاتل کو بھرتی کرنے کی بھی کوشش کی۔
بروکلن کی وفاقی عدالت میں استغاثہ کی طرف سے جمع کرائی دستاویزات منگل کو منظر عام پر لائی گئیں جن میں امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آصف مرچنٹ کی جانب سے قتل کی اس منصوبہ بندی کو ناکام بنایا اور ایسا کوئی حملہ ہونے سے روکا ہے۔
محکمہ انصاف کی جانب سے پیش کیے جانے والے دستاویزات میں مبینہ اہداف کے نام نہیں دیے گئے۔ تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کی خبروں میں ایف بی آئی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان اہداف میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام شامل ہے کیونکہ انھوں نے سنہ 2020 کے دوران ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملے کی منظوری دی تھی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق اپریل 2024 کے دوران آصف مرچنٹ نے ایران میں کچھ وقت گزارا اور اس کے بعد وہ پاکستان سے امریکہ آئے۔ آصف مرچنٹ نے مبینہ طور پر جس شخص سے رابطہ کیا اس نے نیو یارک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی اطلاع دی تھی۔
عدالتی دستاویزات میں آصف مرچنٹ پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے جون کے اوائل میں اس مخبر سے نیو یارک میں ملاقات کی جس دوران انھوں نے اس شخص کو قتل کے منصوبے کی تفصیلات بتائی تھیں۔
مرچنٹ پر الزام ہے کہ اس منصوبے کے تحت ہدف کے گھر سے دستاویزات چُرائی جانی تھیں، مظاہرہ کیا جانا تھا اور ایک سیاستدان یا حکومتی عہدیدار کا قتل کروایا جانا تھا۔
ان پر الزام ہے کہ انھوں نے جون کے دوران ایک ہِٹ مین سے ملاقات کی جو دراصل انڈر کور آفیسر تھے اور انھیں قتل کے لیے پانچ ہزار ڈالر کی ایڈوانس ادائیگی کی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق آصف مرچنٹ مبینہ طور پر قتل کے منصوبے کی تکمیل سے قبل 12 جولائی کو امریکہ چھوڑنا چاہتے تھے اور انھوں نے اس سلسلے میں پرواز کی بُکنگ بھی کر رکھی تھی۔ مگر اسی روز امریکی حکام نے انھیں گرفتار کیا تاکہ وہ ملک نہ چھوڑ سکیں۔
گرفتار کیے گئے پاکستانی شہری پر ایران سے تعلقات کا الزام
اس موقع پر امریکی اٹارنی جنرل میرک بی گارلینڈ کا کہنا تھا کہ ’ایران کئی برسوں سے ایرانی جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد انتقام کی کوششیں کر رہا ہے جسے محکمۂ انصاف کی جانب سے جارحانہ انداز میں ناکام بنایا جا رہا ہے۔ ’محکمہ انصاف ہر ممکن وسائل استعمال کرے گا تاکہ ایران کے مہلک منصوبوں کو ناکام بنایا جا سکے اور امریکی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔‘
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار کیے گئے پاکستانی شہری آصف مرچنٹ کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں اور یہ منصوبہ ایران کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ ’کسی بھی امریکی شہری یا سرکاری اہلکار کو قتل کرنے کی کوشش ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ایف بی آئی تمام وسائل کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گی۔‘
امریکی اٹارنی بریون پیس نے اس حوالے سے ایف بی آئی کے علاوہ نیو یارک کی پولیس، اٹارنی کے دفتر، امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کا شکریہ ادا کیا ہے۔
جبکہ نیو یارک میں ایف بی آئی کے قائم مقام اسسٹنٹ ڈائریکٹر کرسٹی کرٹس نے کہا کہ ’خوش قسمتی سے مرچنٹ نے جن قاتلوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی، وہ خفیہ ایف بی آئی ایجنٹس تھے۔
’اس کیس نے نیو یارک، ہیوسٹن، اور ڈلاس میں ہمارے ایجنٹس، تجزیہ کاروں اور وکلا کی محنت اور عزم کو اجاگر کیا ہے۔‘
آج کے دن بنگلہ دیش میں کیا کچھ ہوا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- بنگلہ دیش کے صدر نے کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے الٹی میٹم دیے جانے کے بعد ملک کی پارلیمان تحلیل کر دی ہے۔
- بنگلہ دیش کے کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے 13 رہنماؤں کا ایک گروپ صدر محمد صحاب الدین سے ملاقات کے لیے ایوان صدر میں موجود ہے، جہاں موجودہ صورتحال اور عبوری حکومت کے قیام پر مشاورت جاری ہے۔ طلبہ کے علاوہ تینوں فورسز کے سربراہان بھی صدر سے مشاورت کے لیے ایوان صدر میں اس مشاورتی اجلاس میں شریک ہیں۔
- بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کا نوبیل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات پروفیسر یونس کی زیرِ نگرانی عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ
- بنگلہ دیش میں جاری احتجاج کے دوران پیر سب سے زیادہ ہلاکت خیز دن رہا: مقامی میڈیا
- شیخ حسینہ کابینہ کے دو وزرا کو ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا
- انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ شیخ حسینہ واجد نے بہت مختصر نوٹس پر انڈیا آنے کی درخواست کی۔
- بنگلہ دیش پولیس سروس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پولیس کے اہلکاروں کو بنگلہ دیش میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔
- بنگلہ دیش میں انصار یعنی نیم فوجی دستوں کو ڈھاکہ میں تھانے، ٹریفک اور ایئرپورٹ کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک کی ٹریفک کا انتطام طلبہ تحریک نے سنبھال لیا ہے۔
بنگلہ دیش کی سڑکوں کے آج کے مناظر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے بعد عبوری حکومت کے قیام پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولیس نے تحفظ کی ضمانت ملنے تک ہڑتال پر چلی گئی ہے جبکہ کوٹہ مخالف طلبہ نے ٹریفک کا انتظام سنبھال لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنشیخ حسینہ واجد حکومت کے خاتمے پر بنگلہ دیش میں لوگ جشن منا رہے ہیں احتجاج کے دوران مظاہرین نے بانی بنگلہ دیش شیخ محیب الرحمان کے مجسموں کو توڑ کر سڑک پر پھینک دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کے متعدد دفاتر بھی نذر آتش کر دیے گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شیخ حسینہ کابینہ کے دو وزرا کو ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا
سابق وزیر خارجہ اور عوامی لیگ کے جوائنٹ جنرل سیکریٹری حسن محمود کو ملک سے باہر جانے کی کوشش کے دوران حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بی بی سی بنگلہ نے ہوائی اڈے کے ذرائع سے تصدیق کی ہے کہ انھیں منگل کی سہ پہر امیگریشن پولیس نے حراست میں لیا تھا۔
ہوائی اڈے پر ڈیوٹی پر موجود ’بیمان‘ بنگلہ دیش ایئر لائنز کے ایک اہلکار نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ وہ دوپہر کے قریب ملک سے باہر جانے کے لیے ہوائی اڈے پر گئے تھے جب انھیں وہاں سے حراست میں لیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب حسن محمود کو فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل سابق وزیر مملکت برائے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی جنید احمد پالک کو بھی ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا تھا۔
عبوری حکومت کے قیام پر ایوان صدر میں مشاورتی اجلاس، طلبہ سمیت تینوں افواج کے سربراہان بھی شریک
بنگلہ دیش کے کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے 13 رہنماؤں کا ایک گروپ صدر محمد صحاب الدین سے ملاقات کے لیے ایوان صدر میں موجود ہے، جہاں موجودہ صورتحال اور عبوری حکومت کے قیام پر مشاورت جاری ہے۔ مقامی میڈیا پوتھوم نے بھی یہ خبر شائع کی کہ یہ اجلاس منگل کی شام کو ہوا ہے۔
طلبہ کے علاوہ تینوں فورسز کے سربراہان بھی صدر سے مشاورت کے لیے ایوان صدر میں اس مشاورتی اجلاس میں شریک ہیں۔
اس اجلاس میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر آصف نذر اور پروفیسر تنظم الدین بھی موجود ہیں۔ اس سے قبل طلبہ نے عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کی حیثیت سے پروفیسر ایم اس نے یونس کا نام تجویز کیا تھا۔ ڈاکٹر یونس نے طلبہ کی تجویز پر ذمہ داری لینے کے لیے حامی بھی بھر لی ہے۔
واضح رہے کہ صدر نے آج ہی بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ بھی تحلیل کی ہے تا کہ نگران حکومت کی راہ ہموار کی جا سکے۔
بنگلہ دیشی فوج کے اعلیٰ عہدوں میں ردوبدل، میجر جنرل ضیاالاحسن برطرف
بنگلہ دیشی فوج کے بعض اعلیٰ عہدوں پر ردوبدل کر دیا گیا ہے۔ یہ تفصیلات ڈائریکٹوریٹ آف انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی ایک پریس ریلیز میں بتائی گئی۔
پریس ریلیز کے مطابق میجر جنرل ضیاالاحسن کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل محمد سیف عالم کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمان کو آرمی ٹریننگ اینڈ ڈاکٹرائن کمانڈ کا جی او سی تعینات کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد تبریز شمس چودھری کو فوج کا کوارٹر ماسٹر جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل میزان الرحمن شمیم کو آرمی چیف آف جنرل سٹاف، لیفٹیننٹ جنرل محمد شاہین الحق کو کمانڈنٹ این ڈی سی اور میجر جنرل اے ایس ایم رضوان الرحمن کو این ٹی ایم سی کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
حسینہ واجد کے بعد انڈیا کے لیے نیا چیلنج، بارڈر پر حفاظتی انتظامات مزید سخت، ڈھاکہ پر گہری نظر, شکیل اختر بی بی سی اردو داٹ کام، دلی

بنگلہ دیش کی معذول وزیر اعظم شیخ حسینہ ڈھاکہ سے فرار ہونے کے بعد ابھی بھی دلی میں ہیں۔ وہ یہاں دلی کے نواح میں ہینڈن کے فضائی اڈے پر اتری تھیں۔ وہ کل سے وہیں فضائیہ کے گیسٹ ہاؤس میں مقیم ہیں۔
شیخ حسینہ کے کئی قریبی رشتے دار لندن میں مقیم ہیں۔ یہاں دلی میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ یہاں سے لندن جانے کی کوشش کریں گی۔ لیکن اس عمل میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے اگلے قدم کے بارے میں تجسس بدستور برقرار ہے۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش کی صورتحال پر غور کرنے کے لیے کل شام قومی سلامتی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کے ارکان کی میٹنک کی جس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول بھی شریک ہوئے۔
اجیت دوول نے اس سے قبل فضائیہ کے اڈے پر بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم سے تفصیلی بات چیت کی تھی۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کی صبح حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کو بریف کیا۔ بعد میں انھوں نے راجیہ سبھا یعنی پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حسینہ یہاں کچھ وقت کے لیے مقیم ہیں۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیر اعظم نے بہت مختصر نوٹس پر انڈیا آنے کی در خواست کی تھی۔ ان کے اس بیان سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا اس صورتحال کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جنوری میں ہونے والے انتخابات کے بعد ہی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اور طلبہ کی تحریک کے بعد صورتحال یکلخت بدل گئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا ڈھاکہ میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
انڈیا طلبہ کے احتجاج اور سیکڑوں طلبہ کی ہلاکتوں پر حاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ ایس جے شنکر نےاپنے مختصر بیان مین یہ بھی کہا کہ حکومت شیح حسینہ کی حکومت کو تحمل سے کام لینے اور بات چیت شروع کرنے کا مشورہ دیتی رہی تھی۔
شیخ حسینہ مودی حکوت سے بہت قریب تھیں۔ ان کی اچانک معذولی نے انڈیا میں گہری تشویش پیدا کردی ہے۔ ڈھاکہ میں انڈیا کے سابق ہائی کمشنر پیناک رنجن چکرورتی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ابھی بنگلہ دیش میں صورتحال مستحکم نہیں ہے۔ ایک بار وہاں امن وامان قائم ہو جائے اور صورتحال نارملسی کی طرف جانے لگے تو دونوں ملکوں کے رابطے دوبارہ بحال ہونے لگیں گے۔
انھوں نے نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیا کی بی این پی اور جماعت اسلامی کا دور اقتدار انڈیا کے لیے اچھا نہیں تھا۔ بقول ان کے نہ صرف ان دونوں جماعتوں نے بنگلہ دیش کے اندر مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا اور ہندو اقلیت کو نشانہ بنایا بلکہ انڈیا کے اندر بھی شدت پسندوں کی مدد کی۔
شیخ حسینہ نے اقتدار میں آنے کے بعد انڈیا کی اس طرح کی تشویش کو دور کیا تھا۔ یہاں انڈین میڈیا کی خبروں میں یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شیخ حسینہ کی معذولی کے بعد بنگلہ دیش اب مذہبی انتہا پرستوں کی گرفت میں چلا گیا ہے اور احتجاجی طلبہ وہاں پورے ملک میں اقلیتی ہندوؤں کے گھروں اور ان کے مندروں پر حملے کر رہے ہیں۔
اس طرح کی خبریں بنگلہ دیش سے آئی بھی ہیں کہ بعض مقامات پر ہندو مندروں کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ اقیلتی ہندوؤں کو شیح حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کا حامی تصور کیاجاتا ہے۔ یہاں میڈیا کی خبروں میں ہندوؤں پر حملوں کے واقعات پر فوکس کیا جا رہا ہے۔ جبکہ وہاں مشتعل ہجوم نے عوامی لیگ کے کئی ارکان پالیمان کے مکان، عوامی لیگ کے دفاتر، پارٹی سے قریب مانے جانے والے کاروباریوں کے ہوٹل اور دوکانیں اور ایک معروف کرکٹر کے مکان بھی جلائے ہیں۔
بعض خبروں میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ شیخ حسینہ کے خلاف ماحول بنانے میں چین اور پاکستان کی خفیہ سروس نے خالدہ ضیا کی مدد کی ہے۔
تحقیقی ادارے ’آبزرور گروپ‘ کے تجزیہ کار سوشانت سرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کے چونکہ انڈین گورنمنٹ سے تعلقات بہت قریبی تھے اس لیے وہ اگریہاں سے برطانیہ یا کسی اور ملک میں سیاسی پناہ لے لیں تو بہتر ہو گا لیکن اگر وہ یہاں رکنا چاہیں گی تو حکومت ان سے یہاں سے جانے کے لیےنہیں کہے گی۔
سوشانت کہتے ہیں کہ شیخ حسینہ کا بنگلہ دیش سے جانا انڈیا کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ انڈیا اب اپوزیشن بی این پی اور جماعت اسلامی سے بھی مذاکرات شروع کرے گی۔ ایسا نہیں ہے صرف انڈیا کو بنگلہ دیش کی ضرورت ہے۔ اتنی ہی ضرورت انھیں بھی ہے۔
انڈیا اپنے تعلقات بہتر ہی رکھنا چاہے گا ۔ لیکن اگر مستقبل میں صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو انڈیا بھی اسی کی مناسبت سے اس کا جواب دے گا۔
فی الحال انڈیا نے بنگلہ دیش کی سرحد پر نگرانی اور سلامتی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ حکومت بنگلہ دیش کی صورت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ کسی طرح کی بد امنی کی صورت میں لوگ وہاں سے بھاگ کر انڈیا میں داخل ہو تے ہیں۔
حکومت یہی امید کر رہی ہے کہ وہاں جلد ہی امن قانون کی صورتحال نارمل ہو گی اور ایک غیر جانبدار عبوری حکومت ملک کے نظم و نسق پر کنٹرول حاصل کر لے گی۔ عبوری حکومت کے قیام کے بعد ہی وہاں کے سیاسی مستقبل کی سمت کا اندازہ ہو سکے گا۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے آج جو بیان دیا ہے وہ عمومی نوعیت کا ہے۔ حکومت کا رویہ بہت محتاط ہے۔ بنگلہ دیش کے ماہر اقتصادیات اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کے قیام کی خبریں ہیں۔ انھوں نے گذشتہ دنوں ایک انٹرویو میں بنگلہ دیش میں طلبہ کے وسیع احتجاج اور بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں پر انڈیا کی خاموشی پر انڈین قیادت پر نکتہ چینی کی تھی اور کہا تھا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو انڈیا بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
’اگر یہاں جمہوریت ہے تو کسی وزیر کی جگہ فوجی ترجمان کیوں پریس کانفرنس کرتے ہیں‘, محمد کاظم، بی بی سی ارد، کوئٹہ
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر اور دارالحکومت کوئٹہ سمیت پانچ علاقوں میں دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔
گوادر شہر میں 27 جولائی سے موبائل فون سروس بند ہے تاہم پسنی سمیت ضلع کے بعض دیگر علاقوں میں موبائل فون سروس کو بحال کردیا گیا ہے۔
پسنی کے مقامی صحافیوں کے مطابق شاہراہوں کی بندش سے پسنی میں بھی آٹے اور دیگر خوراکی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی تھی لیکن کل سے شہر میں آٹے کے ٹرک آنا شروع ہو گئے ہیں۔
گوادر سے متصل ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر میں بھی تاحال موبائل فون سروس بحال نہیں ہوئی جس کی وجہ سے لوگوں کو رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے حکام کے مطابق اگرچہ گوادر کو کراچی اور تربت سے ملانے والی شاہراہیں کھول دی گئی ہیں تاہم ان پر گاڑیوں کی ریگولیٹڈ موومنٹ ہورہی ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت مطالبات پر عملدرآمد میں پیش رفت نہیں کر رہی ہے جس کی وجہ سے انھوں نے تاحال گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں سے دھرنوں کو ختم نہیں کیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا ’پراکسیز‘ یعنی کارندہ قرار دیا تھا۔ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ کا کہنا ہے کہ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے ڈی جی آئی ایس پی آر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہاں جمہوریت ہے تو کسی وزیر کی جگہ ڈی جی آئی ایس پی آر کیوں پریس کانفرنس کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ بیرونی فنڈنگ کے حوالے سے الزام لگانے کی بجائے ثبوت پیش کیے جائیں۔
گوادر اور ضلع کے دیگرعلاقوں میں کیا صورتحال ہے؟
موبائل فون سروس بند ہونے کے باعث گوادر شہر اور ضلع گوادر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ڈپٹی کمشنر گوادر سے موبائل فون پر رابطہ نہیں ہوسکا تاہم جب ان کے دفتر کے فون پر رابطہ کیا گیا تو وہ اس وقت دفتر میں موجود نہیں تھے۔ تاہم محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گوادر میں میرین ڈرائیو پر دھرنا جاری ہے اور تاحال اسے ختم نہیں کیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ جہاں تک گوادر شہر کی بات ہے تو گذشتہ تین دن سے شہر میں صورتحال معمول پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ گوادر کراچی اور گوادر تربت روڈ پر ٹریفک کو کھول دیا گیا ہے لیکن اس پر گاڑیوں کی ریگولیٹڈ نقل و حمل ہورہی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ جن گاڑیوں کی نمبر فرنٹیئر کور کو انتظامیہ کی جانب سے دی جاتی ہے ان کو ان شاہراہوں پر نقل و حمل کی اجازت دی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر آنے والی مسافر گاڑیاں گوادر سے تعلق رکھنے والے مسافروں کی تفصیل فراہم کرتی ہیں۔ اگرچہ گوادر شہر میں تاحال موبائل فون سروس بند ہے لیکن پسنی اور ضلع کے دیگر متعدد شہروں میں موبائل فون سروس بحال کردی گئی ہے۔
رابطہ کرنے پر پسنی کے سینیئر صحافی ساجد نور نے بتایا کہ پسنی میں گذشتہ رات موبائل فون سروس کو بحال کردیا گیا تاہم اس سے قبل لوگوں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر اور کراچی کے درمیان ساحلی شاہراہ ابھی کھل گئی ہے تاہم اس پر ٹریفک انتہائی کم ہے۔
انھوں نے کہا کہ سننے میں یہ آرہا ہے کہ کراچی سے گوادر آنے والی جن مسافر بسوں میں 20 سے زائد مسافر ہوتے ہیں ان کو نہیں چھوڑا جا رہا ہے حالانکہ ان مسافر بسوں میں 40 سے زائدافراد کی نشستیں ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر کے دیگر علاقوں کی طرح پسنی میں آٹے اور خوراکی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی تھی تاہم گذشتہ روز آٹے کے دو ٹرک آگئے تھے جبکہ آج مزید دو ٹرک آگئے ہیں۔
گوادر کی طرح اس سے متصل ضلع کیچ میں بھی موبائل فون سروس اور دیگر پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
خیال رہے کہ گوادر جانے والی اہم شاہراہوں کو بلوچستان حکومت نے بند کیا تھا اور سرکاری حکام نے یہ بتایا تھا کہ یہ قدم لوگوں کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں پیٹرول کی بھی قلت پیدا ہوگئی تھی تاہم منگل سے کوئٹہ شہر میں پیٹرول کی فراہمی شروع ہوگئی ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے طول عرض میں سستا ہونے کی وجہ سے لوگ زیادہ تر ایران سے آنے والا پیٹرول استعمال کرتے ہیں لیکن شاہراہوں کی بندش سے نہ صرف ایرانی پیٹرول کی قلت پیدا ہوگئی ہے بلکہ بعض مقامات پر اس کی قیمت پاکستانی پیٹرول پمپس پر ملنے والے پیٹرول سے بہت زیادہ ہوگئی ہے۔
’مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے دھرنے جاری ہیں‘
کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ حکومت سے مذاکرات ہو رہے ہیں تاہم جن مطالبات کو تسلیم کیا گیا ہے ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو مطالبات عام عوام کو درپیش مشکلات کے حوالے سے ہیں ان پر بھی عمل نہیں ہورہا ہے جن میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی بحالی کے علاوہ شاہراہوں کو کھولنے کے مطالبات شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کی مناسبت سے بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کرنے کے علاوہ اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس اس وقت گرفتار افراد میں سے ساڑھے چار سو افراد کی فہرست ہے جن میں سے کسی کو بھی رہا نہیں کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ہمارے جائز مطالبات پر عملی طور پر پیش رفت نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے دھرنے ختم نہیں کیے گئے۔ انھوں نے ڈی جی آئی ایس آر کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس وقت بلوچ عوام بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ ہے اس لیے حکمرانوں کو پریشانی ہے اور وہ بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا سیاسی جماعتوں نے عوام کے ساتھ جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے اس لیے اب بلوچ عوام یکجہتی کمیٹی کی حمایت کررہی ہے کیونکہ ہم اخلاص کے ساتھ ان کے مسائل کو اجاگر کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم کسی کے پراکسیز نہیں بلکہ ہم اپنے عوام کے ساتھ اس ظلم کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں جو کہ مبینہ طور پر ریاستی اداروں کی جانب سے ان کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔
بیبرگ بلوچ نے کہا کہ بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے اگر حکمرانوں کے ساتھ کوئی ثبوت ہیں تو وہ پیش کریں اور پھر ہمیں اپنے قوانین کے مطابق گرفتار کریں۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہمیں معلوم نہیں کہ آئی ایس پی آر کو کیوں ایسی پریس کانفرنسیں کرنی پڑتی ہیں۔ اگریہاں جمہوریت ہے تو پھر کسی حکومتی وزیر کو آنا چاہیے تھا۔ دوسری جانب سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پاس دھرنے جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے حکومت نے وہ مطالبات بھی تسلیم کیے جو ماننے والے نہیں تھے اور ہم نے دھرنے والوں کے مطالبے پر تمام گرفتار افراد کو رہا کر دیا اور شاہراہیں بھی کھول دیں لیکن تحریری معاہدہ ہونے کے باوجود دھرنا ختم نہیں کیا گیا۔
وزیر داخلہ نے بلوچستان اور گوادر کے عوام سے اپیل کی کہ احتجاجی اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کو مسترد کرتے ہوئے بلوچستان کی ترقی کا سوچیں۔
وزیر داخلہ کے مطابق ’جانے انجانے میں کچھ لوگ بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں۔ سی پیک کے منصوبے ہماری ترقی کے ضامن منصوبے ہیں۔ انڈیا سی پیک کی تکمیل میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں مل کر بیرونی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔‘
پولیس کی ہڑتال: بنگلہ دیش میں ٹریفک اور ایئرپورٹ کی سکیورٹی نیم فوجی دستوں کے حوالے
بنگلہ دیش میں انصار یعنی نیم فوجی دستوں کو ڈھاکہ میں تھانے، ٹریفک اور ایئرپورٹ کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک کی ٹریفک کا انتطام طلبہ تحریک نے سنبھال لیا ہے۔ میڈیا نے ڈھاکہ کے مختلف سڑکوں سے ان طلبہ کی تصاویر بھی شائع کی ہیں۔
پولیس کی غیر موجودگی میں انصار اور ولیج ڈیفنس فورسز کو ان مقامات کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جہاں وہ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ انصار کے ہیڈکوارٹر سے اس خبر کی تصدیق کی گئی ہے۔
منگل کو دارالحکومت میں عملی طور پر کہیں بھی پولیس کی سرگرمی یا موجودگی نظر نہیں آئی۔ پولیس سروس ایسوسی ایشن جو کہ کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک کے پولیس اہلکاروں کی ایک تنظیم ہے نے اعلان کیا ہے کہ جب تک پولیس اہلکاروں کی زندگیوں کو یقینی نہیں بنایا جاتا وہ ہڑتال پر رہیں گے، جس کی وجہ سے تھانے اور سڑکیں عملاً غیر محفوظ ہیں۔
ایسے میں انصار اور ’ولیج ڈیفنس‘ فورسز کو ٹریفک مینجمنٹ، تھانے اور یہاں تک کہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کے فرائض انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش انصار کے تعلقات عامہ کے افسر ایم ڈی روبیل حسین نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ انصار پہلے ہی ڈھاکہ شہر کے ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر تعیناتی کا عمل بھی جاری ہے۔
ہمیں مظاہرین پر گولیاں چلانے پر مجبور کیا گیا، ہم نے معصوم طلبہ کے ساتھ جو کیا اس پر معافی مانگتے ہیں: پولیس یونین

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش پولیس سروس ایسوسی ایشن (بی پی ایس اے) کا کہنا ہے کہ پولیس کے اہلکاروں کو بنگلہ دیش میں جاری احتجاج کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ ایسا کرنے کے لیے رضامند نہیں تھی۔
پولیس نے حکام بالا پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے پولیس کو عوام کی نظروں میں ولن بنایا۔
پولیس کے مطابق ریاست قانون سازی کرتی ہے جبکہ ہمارا کام ان قوانین پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں اعلی حکام اور سیاسی رہنماؤں کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے چاہے وہ قانونی ہوں یا غیر قانونی ہوں۔
پولیس کا یہ اتحاد ہزاروں پولیس والوں کا نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔
پولیس کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے استعفے کے بعد پیر کو احتجاج کے دوران 450 سے زائد تھانوں پر حملے کیے گئے اور متعدد پولیس افسران کو بھی ہلاک کیا گیا۔
پولیس یونین نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ پولیس نے جو معصوم طلبہ کے ساتھ کیا ہے اس پر معافی مانگتی ہے۔ مگر بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک ہر پولیس والے کی حفاظت کی ضمانت نہیں مل جاتی اس وقت تک کے لیے پولیس ہڑتال کرے گی۔
’حسینہ دونوں آپشن کھلے رکھنا چاہتی تھیں‘: پیر کی صبح بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم ہاؤس میں کیا ہوا؟, اکبر حسین، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش میں پیر سے قبل بہت سے لوگ شاید سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ساڑھے 15 برس برسرِاقتدار رہنے والی وزیراعظم اس طرح ملک سے چلی جائیں گی اور وزیراعظم بھی وہ جسے ایک دور میں لوگ ’خاتونِ آہن‘ کہا کرتے تھے۔
پیر کو بنگلہ دیش کے وزیراعظم ہاؤس سے شیخ حسینہ اور ان کی بہن شیخ ریحانہ کی فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے انڈیا روانگی سے قبل اتوار کی رات اور پیر کی صبح بھی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوتی رہی۔
شیخ حسینہ کے بنگلہ دیش سے ’فرار‘ کے دن کی کہانی جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
شیخ حسینہ واجد ’مختصر نوٹس‘ پر انڈیا آئیں: وزیر خارجہ ایس جے شنکر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ پیر کو بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بہت مختصر نوٹس پر انڈیا آنے کی درخواست کی۔ وزیر خارجہ نے پہلی بار یہ بتایا ہے کہ استعفیٰ دینے کے بعد شیخ حسینہ واجد گذشتہ روز انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی آئیں۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ شیخ حسینہ نے صحیح کس وقت پر انڈیا آنے کی درخواست کی تھی۔ وزیر خارجہ نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ اب اگلا مرحلہ کون سا ہوگا اور یہ کہ شیخ حسینہ واجد کتنے وقت تک انڈیا میں رکی رہیں گی۔ انھوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ وقتی طور پر انڈیا میں ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ انڈیا کو بنگلہ دیش میں امن عامہ کی بحالی سے متعلق گہری تشویش ہے۔انھوں نے کہا اس پیچیدہ صورتحال کے تناظر میں ہم نے اپنی سرحد پر موجود فورسز کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایات دی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں کی صورتحال سے متعلق ہم ڈھاکہ میں موجود حکام سے رابطے میں رہے۔‘
بریکنگ, ایک دن میں 450 تھانوں پر حملے، بنگلہ دیش میں پولیس اہلکار ہڑتال پر چلے گئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش میں پولیس سروس ایسوسی ایشن نے پولیس اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنائے جانے تک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پولیس سروس ایسوسی ایشن ملک میں کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک تک کے اہلکاروں کی نمائندہ تنظیم ہے۔
تنظیم کی جانب سے ہڑتال کا اعلان شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد تھانوں اور پولیس کے سپاہیوں پر حملوں میں شدت کے بعد کیا گیا ہے۔
پیر کو شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور ملک سے روانگی کے بعد ڈھاکہ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں کئی تھانوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
ان حملوں میں مظاہرین کی جانب سے پولیس اسٹیشن کو نذر آتش کرنے سے لے کر توڑ پھوڑ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
بنگلہ دیش پولیس ایسوسی ایشن کے بیان کے مطابق پانچ اگست کی رات 450 سے زیادہ تھانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ایسوسی ایشن نے ایک بیان یہ بھی کہا ہے کہ پولیس فورس کے طور پر، وہ ’معصوم طلبہ کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر معذرت خواہ ہیں۔‘
پولیس اہلکاروں کی ایسوسی ایشن کا یہ بھی کہا ہے کہ ’حقیقت یہی ہے کہ بھرتی کے آغاز سے ہی، سارجنٹس/سب انسپکٹرز سمیت نچلے درجے کے افسران کو سینیئر افسران یا سیاسی رہنماؤں کے مفادات کے لیے کام کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔
’اگرچہ ہم موجودہ کوٹہ اصلاحات کی تحریک سمیت کسی بھی تحریک میں کسی عام آدمی کو براہ راست گولی نہیں مارنا چاہتے لیکن پارٹی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مجبوری میں ایسا کرنا پڑتا ہے.‘
بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جو پولیس افسران غلط اقدامات میں ملوث ہیں انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بنگلہ دیش میں جاری احتجاج کے دوران پیر سب سے زیادہ ہلاکت خیز دن رہا: مقامی میڈیا
بنگلہ دیش کے مقامی میڈیا نے ہسپتال کے ذرائع سے یہ خبر دی ہے کہ بنگلہ دیش بھر میں جاری احتجاج میں پیر کے روز سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
یوں جب سے بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا ہے یہ ہلاکتوں کے حساب سے سب سے زیادہ برا دن ثابت ہوا۔
تاہم پولیس حکام نے پیر کے روز ہونے والی اموات کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مجموعی طور 400 سے زیادہ لوگ بنگلہ دیش میں جاری کشیدگی میں ہلاک ہوئے ہیں۔
پیر کے روز بھی متعدد پولیس سٹیشنوں کو نذر آتش کیا گیا اور دارالحکومت ڈھاکہ میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بولا گیا اور وہاں لوٹ مار کی گئی۔ ان کے والد شیخ مجیب الرحمان کے مجسموں کو بھی توڑ دیا گیا۔
بنگلہ دیش کا انڈیا کے ساتھ مواصلات اور تجارت میں خلل
بنگلہ دیش کا انڈیا کے ساتھ ریل رابطہ پیر سے معطل ہے۔ ’ایئر انڈیا‘ اور ’انڈیگو‘ جیسی بڑی انڈین ایئر لائنز نے بنگلہ دیش کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جب تک سرحد پر سے حفاظت سے گزرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی تب تک ریل ٹریفک شروع نہیں ہوگی۔
حکام نے یہ فیصلہ میتری ایکسپریس، بندھن ایکسپریس اور متھالی ایکسپریس کے سفر میں گذشتہ کچھ ہفتوں سے خلل پڑنے کے بعد کیا ہے۔
اس سے قبل ان ٹرینوں کا یومیہ سفر 21 جولائی سے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ انڈیا کی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ آئندہ ہدایات تک بنگلہ دیش کا سفر نہ کریں۔
بریکنگ, طلبہ تحریک کے الٹی میٹم کے بعد بنگلہ دیش کی پارلیمان تحلیل کر دی گئی
بنگلہ دیش کے صدر نے کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے الٹی میٹم دیے جانے کے بعد ملک کی پارلیمان تحلیل کر دی ہے۔
منگل کو صدر کے دفتر کے پریس ونگ سے بھیجے گئے ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ صدر محمد صحاب الدین کے ساتھ تینوں فورسز کے سربراہان، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور کوٹہ سسٹم مخالف طلبہ تحریک کے رہنماؤں کی ملاقات کے فیصلے کے بعد ملکی پارلیمنٹ تحلیل کر دی گئی ہے۔
پی این پی کی سربراہ خالدہ ضیا کو رہا کر دیا گیا
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی مخالف اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی سربراہ خالدہ ضیا کو رہا کر دیا گیا ہے۔
ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر محمد شہاب الدین نے خالدہ ضیا کی سزا معاف کر دی ہے جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی ہے۔
صدر شہاب الدین نے پیر کو قوم سے خطاب میں خالدہ ضیا کی رہائی کا اعلان کیا تھا۔
خالدہ ضیا کو 8 فروری 2018 کو بدعنوانی اور رشوت ستانی کے مقدمے میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔
بعد ازاں انھیں چھ ماہ کے لیے اندرون ملک علاج کرانے اور بیرون ملک نہ جانے کی شرط پر رہائی ملی تھی۔
بعد میں اس مدت میں کئی بار توسیع بھی کی گئی تھی۔
بریکنگ, ڈاکٹر یونس عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر بننے پر رضامند: روئٹرز
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، نوبیل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات محمد یونس نے بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کا مرکزی مشیر بننے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ملک میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ نے منگل کی صبح مطالبہ کیا تھا کہ شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کے بعد بننے والی عبوری حکومت پروفیسر یونس کی زیرِ نگرانی کام کرے اور انھیں اس حکومت کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا جائے۔
پروفیسر یونس کے ترجمان کے مطابق وہ اس وقت علاج کے لیے پیرس میں موجود ہیں اورمعمولی طبی عمل کے بعد ’فوری طور پر‘ بنگلہ دیش واپس آ جائیں گے۔
منگل کی صبح طلبہ تحریک کے رابطہ کار ناہید اسلام نے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی پروفیسر یونس سے عبوری حکومت کا سربراہ بننے کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’ڈاکٹر محمد یونس سے بھی بات ہوئی ہے۔ انھوں نے طلبہ کی کال پر بنگلہ دیش کی حفاظت کے لیے یہ اہم ذمہ داری سنبھالنے پر اتفاق کیا ہے۔‘
