یہ صفحہ اب مزید اب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ اب مزید اب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
نو اگست کی تازہ خبریں جاننے کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔
جمعرات کو ڈھاکہ پہنچنے کے بعد 84 سالہ محمد یونس نے کہا کہ ’لوگ پرجوش ہیں اور ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔‘ واضح رہے کہ پروفیسر یونس کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر نامزد کرنے کا فیصلہ صدر محمد شہاب الدین، فوجی رہنماؤں اور طلبہ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
یہ صفحہ اب مزید اب ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
نو اگست کی تازہ خبریں جاننے کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش کے صدر محمد صحاب الدین نے جمعرات کی شب ڈھاکہ میں مُلک کے عبوری سربراہ محمد یونس سے حلف لیا۔
اس کے بعد 16 ایڈوائزری کونسلرز کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔ پروفیسر محمد یونس کی کابینہ میں ڈاکٹر صالح الدین احمد، ڈاکٹر آصف نذرل، عادل الرحمن خان، حسن عارف، توحید حسین، سیدہ رضوانہ حسن، شرمین مرشد، فاروقی اعظم، بریگیڈیئر جنرل (ر) ایم سخاوت حسین، سپردیپ چکما، بیدھن رنجن رائے، اے ایف ایم خالد حسن اور فریدہ اختر شامل ہیں۔
تاہم محمد یونس کی کابینہ میں شامل ان 16 افراد میں سے حلف بردادی تقریب میں 13 نے حلف اُٹھایا تاہم تین ممبران ایسے تھے کہ جو شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے حلف بردادی کی تقریب میں شامل نہیں ہو سکے۔
پروفیسر محمد یونس کی کابینہ میں طلبہ تنظم کے رہنما ناہید اسلام بھی شامل ہیں کہ جن کی سربراہی میں بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف اُس احتجاج کا آغاز ہوا تھا کہ جس نے مُلک کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے اور مُلک چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد کوٹہ مخالف طلبہ تحریک کے مطالبے پر ملک کے عبوری سربراہ بننے والے 84 سالہ معیشت دان پروفیسر محمد یونس کو ان کی قسمت چھ ماہ میں قید خانے سے اقتدار کی دہلیز پر لے تو آئی ہے لیکن ساتھ ہی ان کے کندھوں پر ہی ملک میں امن و امان کے قیام اور استحکام لانے کی ذمہ داری آن پڑی ہے
پروفیسر محمد یونس کون ہیں؟ اُن کی زندگی اور سیاسی سفر کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ کے طور پر حلف اُٹھا لیا ہے۔
انھوں نے بنگلہ دیش پہنچتے ہی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بہت کام کرنا باقی ہے۔‘
جمعرات کو فرانس سے دارالحکومت ڈھاکہ پہنچنے کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 84 سالہ عبوری سربراہ نے کہا کہ ’لوگ پرجوش ہیں۔‘
بنگلہ دیش پر 15 سال تک حکمرانی کرنے والی شیخ حسینہ واجد نے کئی ہفتوں تک طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پروفیسر یونس کو عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر نامزد کرنے کا فیصلہ صدر محمد شہاب الدین، فوجی رہنماؤں اور طلبہ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
طالب علموں نے واضح کر دیا تھا کہ وہ فوج کی قیادت والی حکومت کو قبول نہیں کریں گے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پروفیسر یونس چیف ایڈوائزر کے طور پر سامنے آئیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ’جیل سے بیٹھ کر پیش گوئی کر رہا ہوں کہ حکومت کے پاس دو مہینے کا وقت ہے اور حکومت دلدل میں پھنستی جارہی ہے۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کی اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے پاس بہت وقت ہے مگر ان کے پاس وقت ختم ہورہا ہے یہ بیوقوف ہیں انھیں سمجھ نہیں آرہی۔‘
کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق بانی پاکستان تحریکِ انصاف نے آج ایک مرتبہ پھر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سانحہ 9 مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں پی ٹی آئی کے لوگ سامنے لائے جائیں تو معافی مانگ لوں گا۔‘
بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’القادر ٹرسٹ کیس میں اپنے دفاع میں گواہ پیش کروں گا شناخت نہیں بتا سکتا ورنہ ویگو ڈالا پہنچ جائے گا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ میں نے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ میں صرف اور صرف پاکستان کے لیے بات کرنے کا کہہ رہا ہوں۔ جتنے مقدمات بنانے ہیں بنا لیں کوئی ڈیل نہیں کروں گا۔‘
بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر موجودہ حکومت کی زیرِ نگرانی دوبارہ الیکشن ہوئے تو ہم انھیں تسلیم نہیں کریں گے۔
کمرہ عدالت میں موجود جیل اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’مجھے جیل میں جتنی دیر رکھنا ہے رکھ لیں میں ڈیل کرنے کو تیار نہیں۔ ڈیل وہ کرتا ہے جس نے کوئی جرم کیا ہو۔ میرا کوئی پیسہ باہر نہیں پڑا نہ کوئی جائیداد۔ میں نے سارے کیسز لڑے ہیں مزید بھی لڑوں گا۔‘
بانی پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھ پر اور میری اہلیہ پر کیسز کرنے کا مقصد پی ٹی ائی کو توڑنا تھا۔ میں کیا پاگل ہوں اپنے لوگوں کو فوج پر حملہ کرنے کا کہوں گا۔ نیب نے میرے خلاف ایک توشہ خانہ میں چار کیسز بنائے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں ہونے والی 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران صحافی کے سوال پر کہ ’استغاثہ نے اپنی شہادتیں عدالت کے سامنے پیش کیں آپ نے اپنی طرف سے کوئی گواہ پیش نہیں کیا جو آپ کی بے گناہی ثابت کر سکے، کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میرے حق میں گواہ آئیں گے گواہوں کا نام وقت سے پہلے لیا تو ان کے پیچھے ویگو ڈالا لگ جائے گا۔‘
ایک اور صحافی نے عمران خان سے سوال کیا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا گیا بے نظیر بھٹو شہید ہوئی نواز شریف کو اقتدار سے نکالا گیا لیکن ان جماعتوں نے جی ایچ کیو کے سامنے احتجاجی کال نہیں دی اپ نے کیوں دی؟‘
جس کے جواب میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کہا تھا جب مجھے پکڑیں تو آپ نے جی ایچ کیو کے سامنے پرامن احتجاج کرنا ہے۔ ظاہر ہے ہمیں جہاں سے مسئلہ ہوگا وہیں احتجاج کریں گے یہ ہمارا آئینی حق ہے۔ ہمارے پرامن احتجاج پر ہمیں دہشت گرد بنا دیا گیا۔‘
بانی پی ٹی آئی سے ایک اور سوال ہوا کہ ’آپ کے خلاف جتنے بھی کیسز کے فیصلے ہوئے اپ کو عدالتوں سے ریلیف مل گیا اب اپ کے اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ایک ہی ایشو ہے وہ نو مئی کا ہے وہ بھی اپنے موقف پہ قائم ہے اپ بھی اپنے موقع پہ قائم ہیں کوئی تیسرا راستہ بتائیں تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔‘
اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں بھی چاہتا ہوں امن ہو ملک میں استحکام ہو نو مئی پر ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔‘
نون لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی کہہ رہے ہیں کہ آپ سے بات کرنے کا وقت ختم ہو چکا ہے‘ جب یہ سوال عمران خان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میرے پاس بہت وقت ہے وقت ان کے لیے ختم ہو رہا ہے۔ ان کو سمجھ نہیں آرہی اس حکومت کے پاس دو ماہ سے زائد کا وقت نہیں ہے۔ ملک میں بنگلہ دیش سے برے حالات ہیں۔ اسی لیے کہہ رہا ہوں ان کے نام ای سی ایل پر ڈالے جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
نوبیل امن انعام یافتہ ماہر معاشیات اور بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد تشکیل پانے والی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے کہا ہے کہ انھیں وطن واپس پہنچ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طلبہ نے بنگلہ دیش کو بچایا ہے اور اب ہمیں ملک میں امن اور استحکام کے لیے کام کرنا ہے۔
ڈاکٹر محمد یونس کا کہنا تھا کہ سازش کے تحت بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملے کیے گئے اور ہمیں اب اپنی آزادی کی حفاظت کرنی ہے۔
ڈاکٹر یونس نے یہ بھی کہا کہ بنگلہ دیش کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے اور ہم سب مل کر بنگلہ دیش کو مالی مشکلات سے نکالیں گے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کو تین روز گزر چکے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج بنگلہ دیش کی عبوری حکومت حلف اٹھا لے گی۔
اس سے قبل بدھ کے روز بنگلہ دیش کے آرمی چیف نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ عبوری حکومت کے ارکان کی تعداد 15 تک ہو سکتی ہے۔


بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے نامزد سربراہ ڈاکٹر محمد یونس فرانس سے بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس سے پرواز انھیں لے کر جمعرات کو ڈھاکہ کے شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری۔
بنگلہ دیش کی مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔
ہوائی اڈے پر اعلیٰ حکام، سول سوسائٹی کے حکام کےعلاوہ ناہید اسلام، ام فاطمہ سمیت امتیازی سلوک مخالف طلبہ تحریک کے بہت سے رہنما بھی موجود تھے جن سے ڈاکٹر یونس ملے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کو تین روز گزر گئے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج بنگلہ دیش کی عبوری حکومت حلف اٹھا لے گی۔

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں دھرنا کمیٹی نے دوبارہ اپنا احتجاج شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن بارڈر سے شناختی کارڈ اور تذکرہ کی بنیاد پر نقل و حرکت کے حوالے سے ان کے ساتھ کیے گئے وعدے کا احترام نہیں کیا۔
چمن میں لغڑی (محنت کش) اتحاد اور لغڑی تاجر اتحاد نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف دوبارہ اس احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاجر رہنما صادق اچکزئی نے لغڑی اتحاد کے سربراہ غوث اللہ اور دیگر رہنماوں کے ہمراہ چمن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ان کے ساتھ اسیری کے دوران مذاکرات میں آمد ورفت کی بحالی کے لیے پرانے طریقے کی بحالی کے حوالے سے جو وعدے کیے گئے ان پر عمل نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ 18روز قبل اس طویل دھرنے کو ختم کیا گیا تھا۔
چمن شہر سے روزانہ ہزاروں محنت کش اور چھوٹے تاجر افغانستان کی سرحدی منڈیوں تک جانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پرآمدورفت کرتے تھے۔
چمن سے لوگ پاکستانی شناختی کارڈ جبکہ چمن سے متصل افغانستان کے سرحدی علاقوں کے لوگ افغان تذکرے پر آمدورفت کرتے تھے لیکن گزشتہ سال اکتوبر میں سابق نگراں حکومت نے چمن بارڈر سے بھی آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کو لاگو کیا۔
اس فیصلے کے خلاف گزشتہ سال اکتوبر سے چمن شہر میں دھرنے کا آغاز کیا گیا جو کہ رواں سال 21 جولائی تک جاری رہا تھا۔
یہ دھرنا نہ صرف چمن کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا تھا بلکہ چمن کے لوگوں کی حمایت کی وجہ سے روزانہ اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی تھی۔
تاجر رہنما صادق اچکزئی نے کہا کہ وہ نہ صرف دوبارہ دھرنا شروع کریں گے بلکہ وہ پہلے کے مقابلے میں احتجاج میں شدت لائیں گے۔
ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا اس لیے دوبارہ دھرنے کا اعلان کر رہے ہیں: صادق اچکزئی
چمن میں سابق دھرنے کے مقام پر لغڑی اتحاد کے رہنمائوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاجر رہنما صادق اچکزئی نے کہا کہ انھیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ پہلے کی طرح چمن سرحد سے پاکستان کے شناختی کارڈ اور افغان تذکرے کی بنیاد پر آمدورفت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب یہ کہا جارہا ہے کہ افغان تذکرے پر آنے والوں کو صرف باب دوستی سے پارکنگ کی حدود تک چھوڑا جائے گا۔

صادق اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’ہمارا یہ مطالبہ تھا کہ چمن اور قلعہ عبداللہ کے لوگ قومی شناختی کارڈ پر افغانستان جائیں گے جبکہ افغانستان کے صوبہ قندھار کے تختہ پل تک کے علاقے لوگ افغان تذکرے پر چمن سے متصل قلعہ عبداللہ تک آمدورفت کرسکیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا اس لیے وہ دوبارہ دھرنے کو شروع کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کررہے ہیں کہ دھرنے کو اس کی پرانی جگہ پر شروع کیا جائے یا اس کو کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ جن حکام نے ان سے مذاکرات کیے ان کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے پہلے کی طرح پاکستانی پاسپورٹ اور افغان تذکرے پر لوگوں کو آمدورفت کی اجازت دیں ورنہ وہ دھرنے کو مطالبات تسلیم ہونے تک نہ صرف جاری رکھیں گے بلکہ اس میں شدت بھی لائیں گے۔
صرف رجسڑڈ لغڑیوں کو ویش منڈی(سرحد پر بنی منڈی) جانے کی اجازت ہے
دوسری جانب سیکورٹی کے اداروں سے تعلق رکھنے والے حکام کا کہنا ہے کہ چمن میں پاکستان افغان باڈر پر ون ڈاکیومنٹ رجیم (پاسپورٹ) منسوخ نہیں ہوا۔
سکیورٹی سے متعلق اداروں کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کے ساتھ مزاکرات میں طے شدہ نکات کے تحت صرف چمن کے مقامی رجسٹرڈ محنت کشوں (لغڑیوں) کو شناختی کارڈ پر باب دوستی سے افغانستان جانے کی اجازت ہو گی اور رجسٹرڈ افغان محنت کشوں (لغڑیوں) کو باب دوستی پر صرف ٹیکسی سٹینڈ تک آنے کی اجازت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ چمن باڈر پر لغڑی پیکج میں افغان باڈر حکام رکاوٹ بن گئے اور چمن کے مقامی محنت کشوں کو شناختی کارڈ پر باب دوستی سے افغانستان داخلے سے انکار کر دیا۔
چمن باڈر سے صرف رجسڑڈ لغڑیوں کو ویش منڈی(سرحد پر بنی منڈی) جانے کی اجازت ہے۔ رجسڑڈ افغان لغڑی تذکرے پر صرف ٹیکسی سٹینڈ تک آنے کی اجازت ہے. باقی تمام لوگ پاسپورٹ پر سفر کریں گے۔

واضح رہے کہ چمن سے متصل افغانستان کے سرحدی علاقے میں بڑی تعداد میں منڈیا ں ہیں جن پر جانے کے لیے روزانہ کی بنیاد سے چمن سے ہزاروں افراد آمدورفت کرتےتھے۔
بین الاقوامی شاہراہ کو بند کرنے کی وجہ کیا بنی تھی؟
اس دھرنے کی وجہ سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تجارت بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بری طرح سے متاثر ہوئی تھی جبکہ مئی کے آخر میں تشدد کے باعث لغڑی اتحاد اور لغڑی تاجر اتحاد کے متعدد رہنماوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کو کرائمز برانچ پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔
اسیری کے دوران انھی رہنماؤں سے مذاکرات کا دعویٰ سامنے آیا جس کے نتیجے میں اسیر رہنماوں کو رہا کیا گیا تھا۔
21جولائی کو ثالثی کا کردار ادا کرنے والے سابق نگراں وزیر داخلہ ملک عنایت اللہ کاسی کے ہمراہ رہائی پانے والے رہنما دھرناگاہ پہنچے تھے اور وہاں یہ کہہ کر دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا کہ دھرنے کے تمام مطالبات کو تسلیم کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کو تین روز گزر گئے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آج بنگلہ دیش کی عبوری حکومت حلف اٹھا لے گی۔
بی بی سی بنگلہ کے مطابق نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت جمعرات کی شام آٹھ بجے حلف اٹھا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں کئی روز سے جاری پرتشدد مظاہروں اور سول نافرمانی کی تحریک کے بعد سوموار کے دن ملک میں 16 سال سے برسراقتدار رہنے والی طاقتور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو گئی تھی اور انھیں ملک سے فرار ہونا پڑا تھا۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے استعفے کے بعد ملک کی فوج کے سربراہ جنرل وقار الزماں نے قوم سے خطاب میں ملک میں عبوری حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
محمد یونس جمعرات کو فرانس کے دارالحکومت پیرس سے ڈھاکہ کے لیے حلف کی تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ اور وہ دوپہر تک بنگلہ دیش پہنچ جائیں گے۔
اس سے پہلے ڈاکٹر محمد یونس نے ہم وطنوں کے نام ایک پیغام میں سب پر زور دیا کہ وہ تشدد سے گریز کریں۔
اس سے قبل بدھ کے روز بنگلہ دیش کے آرمی چیف نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ عبوری حکومت کے ارکان کی تعداد 15 تک ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ جنوری 2024 کا پہلا ہی دن تھا جب 84 سالہ نوبل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات محمد یونس کو بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
اس کے چھ ہی دن بعد 76 سالہ شیخ حسینہ واجد چوتھی بار انتخابات جیت کر جب ملک کی وزیراعظم بنیں تو انھیں جنوبی ایشیا کی سب سے طاقتور خاتون کہا گیا۔
لیکن بنگلہ دیش میں سیاسی بساط اگلے سات ماہ میں یوں پلٹی کہ آج وہی محمد یونس عبوری حکومت کے نگران سربراہ بنائے جا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے غزہ پر اسرائیلی بمباری اور جارحیت کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل سیز فائر کے قانونی مطالبے کو رد کرتا ہے تو او آئی سی ممالک جواباً اسرائیل پر تیل اور تجارت پر پابندیاں عائد کردیں۔
جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ مشرق وسطیٰ اور مسلمانوں کی تاریخ کی اہم جنگ ہے جہاں اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی خطے میں جاری جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
یاد رہے کہ سات اگست کو اسرائیل غزہ جنگ کو 10 ماہ کا عرصہ مکمل ہو چکا ہے اور اس دوران غزہ کی وزارت صحت کے مطابق خواتین اور بچوں سمیت 40 ہزار کے قریب فلسطینی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ میں 1200 اسرائیلی شہری ہلاک اور 250 افراد کو یرغمال ببنایا گیا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سات اگست کو او آئی سی کے اجلاس میں ایرانی صدر کی تقریب حلف میں موجود اسماعیل ہنیہ کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قتل سے خطے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، اگر آج ایران پر حملہ ہوا ہے تو کل اسلامی تعاون تنظیم کے کسی اور ملک کو اپنی سرزمین پر اس طرح کی بین الاقوامی دہشت گردی اور سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے حامل قتل جیسے کے اقدامات کا سامنا کرنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسرائیل غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے، اس نے عالمی قوانین اور اقدار و روایات کو مذاق بنا دیا ہے جہاں اس نے گھروں، سکولوں، ہسپتالوں اور پناہ گزینوں کے کیمپ کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال بگڑ رہی ہے اور ہمارے لوگ بالخصوص نوجوان سوال کررہے ہیں جنہیں اسلامی تعاون تنظیم سے بے پناہ توقعات ہیں، وہ جنگ کے نہیں بلکہ امن و استحکام اور خوشحالی کے مستحق ہیں۔
اانھوں نے کہا کہ ہمیں اسرائیل کو روکنے کے لیے سیاسی عزم، مکمل اتحاد اور ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے دو اگست کو حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل اوراسرائیلی جارحیت کے خلاف قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی تھی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اورحماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔
اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ جس میں محرکات سے قطع نظر ماورائے عدالت اور ماورائے عدالت قتل، اور خطے میں بڑھتی ہوئی مہم جوئی پر شدید تشویش کے ساتھ خیالات شامل ہیں۔‘
یہ قرارداد ایوان نے متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy PTI
گذشتہ سال نو مئی کو ہونے والے مظاہروں سے متعلق مقدمات میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کی رہنما عالیہ حمزہ کو سینٹرل جیل گوجرانوالہ سے رہا کر دیا گیا ہے۔
گوجرانوالہ کی مقامی عدالت کے ایک جج نے 31 جولائی کو عالیہ حمزہ کی ضمانت منظور کی تھی۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے عالیہ حمزہ کو 29 اگست تک کسی بھی نئے مقدمے میں گرفتار کرنے سے روکا ہوا ہے۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ کوئی بھی ایجنسی عالیہ حمزہ کو ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کرے گی۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس نو مئی کو عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھے جس میں فوجی، سول اور نجی املاک کو نذر آتش کرنے کے علاوہ سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔
اس کے بعد ملک بھر میں مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔
ان مقدمات میں عالیہ حمزہ، یاسمین راشد، خدیجہ شاہ اور صنم جاوید سمیت متعدد خواتین پارٹی ورکرز کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں پرتشدد واقعات کے سلسلے کو روکنے کے پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں تین افراد کو فوری طور پر جیل بھی بھیج دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ میں رواں ہفتے دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کو سنگین جرائم کے الزام میں کراؤن کورٹ کی جانب سے دی جانے والی یہ پہلی سزائیں ہیں۔
برطانیہ میں فسادات اور پر تشدد مظاہروں کا حالیہ سلسلہ تب شروع ہوا جب 29 جولائی کو برطانیہ کے شمال مغرب ميں واقع شہر ساؤتھ پورٹ ميں چاقو سے کیے گئے ایک حملے میں تین بچیاں ہلاک ہو گئیں تھیں۔
گزشتہ ہفتے ساؤتھ پورٹ کے ایک مقامی ڈانس سکول میں بچوں کی ڈانس پرفارمنس کے دوران چھری سے لیس ایک شخص نے اچانک نمودار ہو کر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں تین بچیاں ہلاک ہو گئی تھیں۔
بچیوں کے قتل کے بعد ملک کے متعدد شہروں اور قصبوں میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروہوں کے پُرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔
حکومت کے مطابق بدھ کے روز ممکنہ مظاہروں اور کشیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے چھ ہزارخصوصی پولیس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ اب تک متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔

کراؤن کورٹ سے دی جانے والی سزا کے بعد جن تین افراد کو جیل منتقل کیا گیا ان میں ایک مجرم کو اس ہنگامہ آرائی میں ملوث ہونے اور ایک پولیس افسر پر تشدد کے جرم میں تین سال کی قید ہوئی ہے۔
جبکہ دیگر دو کو 20 ماہ سے ڈھائی سال تک کی سزا سنائی گئی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر نے اس حوالے سے اپنے کہا ہے کہ تشدد پھیلانے والوں کے خلاف یہ تیز ترین کارروائی کا ثبوت ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کے بیان کے مطابق مطابق ’اگر آپ ہماری سڑکوں پر یا آن لائن پرتشدد انتشار پھیلاتے ہیں، تو آپ کو قانون کی بھرپوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

’لندن کی سڑکوں پر تشدد اور بدامنی کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘
لندن کے میئر صادق خان نے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروہوں کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے قانون کی زرا بھی خلاف ورزی کی تو ان کو نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کیے گئے بیان میں صادق خان نے کہا ہے کہ وہ انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کے لندن میں مختلف مقامات کو ٹارگٹ کرنے منصوبوں سے آگاہ ہیں اور وہ پولیس کے ساتھ مل کر ان عمارات کو محفوبظ رکھنے پر کام کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ لندن کی سڑکوں پر تشدد اور بدامنی کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر آپ ایسے کسی بھی جرم میں ملوث پائے گئے تو اس پر قانون فوری حرکت میں آئے گا۔‘ مئیر صادق خان نے اعتراف کیا کہ مسلم اور اقلیتی برادریاں اان حالات متں خوفزدہ اور لندن والوں سے کہتی ہیں کہ وہ اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کو چیک کریں۔

کشیدہ صورت حال کے تناظر میں کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو برطانیہ سفر کرنے سے متعلق خطرات کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
انگلینڈ بھر سے ایسی تصاویر بھی سامنے آ رہی ہیں جہاں کاروبار بند ہیں، دکانوں کے شٹر گرے ہوئے ہیں اور پولیس افسران سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔
یہ مناظراس وقت دیکھنے کو ملے ہیں جب انگلینڈ اور ویلز میں پولیس فورس کو آج 30 سے زائد مقامات پر احتجاج اور مظاہروں کی منصوبہ بندی کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
گزشتہ رات بیلفاسٹ میں ایک نوجوان لڑکے پر حملہ کیا گیا جس سے اس کے چہرے پر معمولی چوٹیں آئی ہیں پولیس کے مطابق حملہ نفرت انگیز اور نسلی فسادات کے جرم کی کڑی ہے۔
پولیس سروس آف ناردرن آئرلینڈ نے کہا کہ حملہ منگل کی شام فالس روڈ پر ہوا جب ایک سپر مارکیٹ میں نوجوانوں کے ایک بڑے گروپ نے انڈے پھینکنا شروع کر دیے۔ پولیس نے اس واقعے کے بعد متعدد گرفتاریاں کی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPTI
سابق وزیر اعظم عمران خان نے نو مئی کے حوالے سے مشروط معافی مانگنے کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ تب معافی مانگیں گے جب نو مئی کے واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائی جائیں گی۔
اڈیالہ جیل راولپنڈی میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ نو مئی کے واقعات پر معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ پہلے سی سی ٹی وی فوٹیجز لائی جائیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اگر پی ٹی آئی کے لوگ نو مئی واقعات میں ملوث پائے گئے تو معافی مانگوں گا۔‘
یاد رہے کہ پانچ اگست کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ نومئی سے متعلق فوج کے مؤقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے، نہ آئے گی۔ رواں سال سات مئی کو اپنا مؤقف بیان کر چکے ہیں۔
جبکہ سات مئی 2024 کو پریس کانفرنس میں آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے لیے واپسی کا راستہ صرف یہ ہے کہ وہ معافی مانگے۔ نو مئی پر جوڈیشل کمیشن بنانے سے اتفاق کرتے ہیں۔‘
دوسری جانب یہ پہلا موقع ہے جب عمران خان نے مشروط معافی مانگنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
اس سے قبل ماضی میں جب جب ان سے معافی مانگنے سے متعلق پوچھا گیا تو عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ وہ کس بات کی معافی مانگیں۔
اس سے قبل ہمیشہ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ معافی تو(اداروں کو) ان سے مانگنی چاہیے کیونکہ انھیں اغوا کیا گیا، تشدد کیا گیا اور ان کی جماعت کو نشانہ بنایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
صحافی بابر ملک کے مطابق بدھ کے روز عمران خان نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں مزید کہا کہ ’اگر نو مئی میں پی ٹی آئی کے لوگ ملوث پائے گئے ان کو پارٹی سے نکالوں گا اور سزا بھی دلواؤں گا۔‘
عمران خان نے صحافی کے سوال پر کہا کہ ’ہم بھی نو مئی کو معاف نہیں کریں گے۔ ہمارے لوگوں پر تشدد کیا گیا پارٹی کوالیکشن نہیں لڑنے دیا گیا۔ نو مئی کے متاثرین ہم ہیں، ہمیں انصاف چاہیے۔ نو مئی سے ڈرتا تو جوڈیشل کمیشن کا جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ نہ کرتا۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’قاضی فائز عیسی نے ہمیں کرش کرنے کا پورا موقع دیا۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے میرے اغوا کو غیر قانونی کہا کیا۔ صرف ائی ایس پی ار کی عزت ہے اور ایک پارٹی ہیڈ کی کوئی عزت نہیں۔ میرے اغوا پر مجھ سے معافی مانگی جائے۔‘
صحافی بابر ملک کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’ثبوت آپ کے پاس پڑے ہیں اپ انہیں کیوں چھپا رہے ہیں ثبوت چھپانا جرم ہے،پرامن احتجاج ہمارا حق ہے۔‘
صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ نو مئی کے واقعات میں پی ٹی آئی کے لوگوں کو دیکھا گیا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ ’اسی لیے کہہ رہا ہوں سی سی ٹی وی فٹویجز نکالیں اور دیکھیں اس میں کون لوگ ہیں۔
صحافی نے پوچھا کہ نو مئی کے دن آپ کے لوگوں کے ہاتھوں میں پیٹرول بم دیکھے گئے۔ جس پرعمران خان نے کہا کہ پیٹرول بم ہم نے زمان پاک لاہور میں استعمال کیے تھے اور کہیں نہیں۔
صحافی کا سوال تھا کہ ’بہت ساری فوٹیجز موجود ہیں کہ پی ٹی آئی راولپنڈی کے کچھ مقامی تنظیمی عہدیداران پٹرول بم حساس عمارتوں پر پھینک رہے تھے۔‘
اس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’اگر کوئی تنظیمی عہدے دار حساس عمارتوں پر پٹرول بند پھینکنے میں ملوث ہے تو اسے کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’نو مئی کو ہمارے 16 لوگ مر گئے۔ تین لوگوں کی ٹانگیں کٹیں، ایک کارکن مفلوج ہوا؟
صحافی نے سوال کیا کہ ’آپ کہہ رہے ہیں نو مئی کو آپ کے 16 لوگ ہلاک ہوئے اور کئی کارکن مفلوج ہو گئے لیکن اس کی تفصیل ابھی تک پی ٹی آئی نے جاری نہیں کی تو عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے ان کارکنوں کی مالی امداد کی، پولیس نے ان پر دباو ڈالا کہ وہ اس حوالے سے کوئی بات نہ کریں۔
شیر افضل مروت کا پی ٹی آئی میں اس وقت کیا سٹیٹس ہے؟ صحافی نے جب یہ سوال کیا تو بانی پی ٹی آئی صحافی کے سوال پر جواب دیے بغیر روانہ ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہge
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس میں سپریم کورٹ سے 12جولائی کا فیصلہ واپس لینے کی استدعا کی ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق انتخابات میں آزاد حیثیت سے جیتنے والے امیدوار سیاسی جماعت میں تین دن میں ہی شامل ہو سکتے ہیں۔
درخواست کے مطابق سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر دیے جانے والے اپنے اکثریتی فیصلے میں عدالت نے آزاد امیدواروں کو 15 دن کا وقت دیا جو قانون کے خلاف ہے۔
یاد رہے کہ 12 جولائی کو مخصوص نشستوں کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ایک فیصلے میں لکھا تھا کہ پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں لینے کی حقدار ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔
مخصوص نشستیں اسی جماعت کو دی جا سکتی ہیں جو پارلیمان میں موجود ہو: الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن کی نطرثانی کی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے انتخابی قوانین اور آرٹیکل 51 کا درست جائزہ نہیں لیا اور جن ارکان کو پاکستان تحریک انصاف کا رکن اسمبلی قرار دیا گیا وہ قانون کے مطابق نہیں۔
اس درخواست میں الیکشن کمیشن نے موقف اختیار کیا ہے کہ انتخابی وابستگی اور پارٹی ٹکٹ کا ایک ہی جماعت کا ہونا ضروری ہے اور ملکی قانون میں پارٹی وابستگی اور ٹکٹ الگ جماعت کا نہیں ہوسکتا۔
نظرثانی کی اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مخصوص نشستیں اسی جماعت کو دی جا سکتی ہیں جو پارلیمان میں موجود ہو اور پارلیمان میں موجودگی کے لیے عام انتخابات میں کم سے کم ایک نشست جیتنا لازمی ہے۔
درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی عدالتی فیصلے کی غلط تشریح نہیں کی اور جس جماعت کے پاس انتخابی نشان نہ ہو وہ الیکشن کے لیے اہل نہیں رہتی۔
درخواست کے مطابق کسی سیاسی جماعت کا انتخابی نشان آزاد امیدوار کو الاٹ نہیں کیا جا سکتا اور سپریم کورٹ کے 12 جولائی فیصلے میں عدالتی دائرہ اختیار سے تجاویز کیا گیا ہے۔۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ رہنما تحریک انصاف کنول شوذب سنی اتحاد کونسل سے مخصوص نشست کیلئے سپریم کورٹ آئیں اور سنی اتحاد کونسل کو دو کیٹیگری میں تقسیم بھی غلط کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص 77 نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دینے کا فیصلہ کیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس اپیل میں فریق ہی نہیں تھی۔
یاد رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ کے آٹھ ججز نے جو اکثریتی فیصلہ دیا تھا اس کا تفصیلی فیصلہ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا جبکہ اس فیصلے سے اختلاف کرنے والے دو ججز کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا ہے۔
وفاق نے بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار ہونے کے باعث سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر اعلیٰ بلوچستان اورسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کیا ہے۔
نیشنل پارٹی کے ایک بیان کے مطابق ڈاکٹر مالک بلوچ نے حکومتی عہدیداروں سے ان رابطوں میں معاملات کو مذاکرات کے زریعے حل کرنے پر زور دیا ہے ۔
خیال رہے کہ گوادر میں حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان گوادر میں اب تک مذاکرات کے دو دور ہوئے ہیں لیکن یکجہتی کمیٹی نے تاحال احتجاج کو ختم نہیں کیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اور حکومت مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے حوالے سے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جولائی کے آخری ہفتے میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر میں بلوچ راجی مچی یعنی بلوچ قومی اجتماع کا اعلان کیا تھا تاہم حکومت کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور اجازت نہ ملنے پر یہ احتجاج دھرنے میں تبدیل ہو گیا تھا اور پھر یہ احتجاج گوادر کے علاوہ بلوچستان کے مختلف حصوں میں پھیل گیا۔
کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت مطالبات پر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات نہیں کررہی ہے۔
تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطالبات تسلیم کیے گئے ہیں لیکن دھرنوں کو بلاجواز طول دیا جا رہا ہے۔
گوادر میں حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان جن شخصیات نے ثالث کے طور پر کردار ادا کیا تھا۔
ان میں گوادر سے تعلق رکھنے والے نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما اشرف حسین بھی شامل تھے۔
طاقت کے استعمالُ سے شاید حالات مزید پیچیدہ ہوں گے: نیشنل پارٹی کا بیان
نیشنل پارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میر اشرف حسین بلوچ نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے رابطہ کرکے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور حکومت کی جانب سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک سے آگاہ کیا۔
بیان کے مطابق اشرف حسین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر معاملات مذاکرات سے طے نہیں ہوئے تو طاقت کے استعمال سے شاید حالات مزید پیچیدہ ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے نیشنل پارٹی کے سربراہ وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے رابطہ کرکے اس بات پر زور دیا کہ حکومت صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ تمام معاملات مذاکرات و گفت و شنید کے ذریعے حل کرے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت بامقصد مذاکرات کے ذریعے معاملات کو پرامن طریقے سے حل کریں۔
’بلوچ قومی اجتماع‘ کے انعقاد کےمقاصد
’بلوچی قومی اجتماع‘ کے انعقاد کا اعلان کئی ہفتوں پہلے یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ بلوچ عرف شاہ جی نے کیا تھا۔
اس میں افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والےبلوچوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے الزام عائد کیا تھا کہ بلوچوں کی نسل کشی کے علاوہ ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے علاوہ ان کے وسائل پر بھی قبضہ کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس پُرامن اجتماع کے انعقاد کا مقصد ان اقدامات کی روک تھام کے لیے ایک لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے لوگوں کو ورغلایا جارہا ہے: وزیر داخلہ بلوچستان
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے اپنے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ بیرونی ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے یورپ میں بیٹھے لوگ بلوچستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔
اپنے بیان میں انھوں نے کہ بیرون ملک بیٹھ کرسوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے لوگوں کو ورغلایا جارہا ہے۔
ان لوگوں کو سوشل میڈیا ایکس کے بجائے بلوچستان آکر حالات کا مقابلہ کرنا چائیے۔ باہر بیٹھے عیش و آرام کی زندگی گزارنے والے بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔

سپریم کورٹ سے الیکشن ترمیم ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے سلمان اکرم راجا کی وساطت سے آرٹیکل 184/3 کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی ہے۔
سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کی جانب سے کی جانے والی درخواست میں وفاق اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’الیکشن ترمیم ایکٹ کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا جائے۔ اسی کے ساتھ الیکشن کمیشن کو مخصوص نشستیں دوسری سیاسی جماعتوں کو الاٹ کرنے سے بھی فوری طور پر روکا جائے۔‘
سپریم کورٹ سے کی جانے والی استدعا میں پاکستان تحریکِ انصاف نے یہ بھی کہا ہے کہ ’خواتین و غیر مسلم کی مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو الاٹ کرنے کا حکم بھی دیا جائے۔‘
تحریک انصاف مخصوص نشستوں کی فہرستیں الیکشن کمیشن جمع کرا چکی ہے۔ تاہم 12 جولائی کے فیصلے کے بعد مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا حق ہیں۔
دوسری جانب الیکشن ایکٹ میں ترامیم منظور ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں اس ایکٹ میں ہونے والی قانون سازی کے بعد کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور شور شرابے میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔
جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کو مسترد کرتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
الیکشن ایکٹ ترمیمی بل میں کیا ہے؟
الیکشن ایکٹ 2024 میں دو ترامیم متعارف کروائی گئی ہیں۔
پہلی ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 66 اور دوسری ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 میں متعارف کروائی گئی ہے۔
پہلی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ کوئی رکن اسمبلی اپنی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا پارٹی سرٹیفکیٹ تبدیل نہیں کر سکتا۔
دوسری ترمیم میں کہا گیا ہے مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اس کے لیے کسی جماعت نے وقت پر فہرست جمع کروا رکھی ہو۔
ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق یہ دونوں ترامیم منظوری کے بعد فوری طور پر نافذالعمل ہوں گی۔
ماہرین سمیت خود پی ٹی آئی کا بھی کہنا ہے کہ ان ترامیم کی منظوری کے بعد پارٹی کو مخصوص نشستیں ملنا مشکل ہو گا کیونکہ بل کا اطلاق ’ریٹروسپیکٹو‘ یعنی ماضی سے ہوگا۔
واضح رہے کہ 12 جولائی کو مخصوص نشستوں کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ایک فیصلے میں لکھا تھا کہ پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں لینے کی حقدار ہے۔
دریائے سندھ میں چشمہ اور تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال کا سامنا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق ’دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کے بعد سے متاثرہ نشیبی علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈیرہ غازی خان تونسہ اور تحصیل کوٹ چٹہ کے دریائے سندھ سے ملحقہ گاؤں سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق دریائے سندھ سے ملحقہ پانچ دیہات سیلابی پانی سے زیر آب آگئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے مقدمات کی تفصیلات فراہمی سے متعلق درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 12 اگست تک ملتوی کر دی۔
آج دورانِ سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’سوا سال تک پولیس نے تفتیش نہیں کی تو اب گرفتاری کی کیا ضرورت ہے؟ بشریٰ بی بی گرفتار ہیں پولیس نے اُن سے پھر بھی تفتیش نہیں کی۔‘
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے پر راولپنڈی کے ایس ایس پی آپریشن فلائیٹ لیفٹیننٹ (ر) کامران اصغر اسلام عدالت پیش ہوئے۔
آج ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے نو مئی کے راولپنڈی میں درج مقدمات کی پیش رفت سے متعلق تفصیل جاننے کے لیے ڈی آئی جی کو طلب کیا تھا۔
آج سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ ’ڈی آئی جی آپریشنز راولپنڈی پیش ہوئے ہیں؟ اس عدالتی سوال کے جواب میں اسٹیٹ کونسل عبدالرحمٰن نے کہا کہ ’ایس ایس پی آپریشنز پیش ہوئے ہیں۔‘
جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’کیا بشریٰ بی بی کو نو مئی کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے؟‘ اس پر ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی نے جواب دیا کہ ’ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔‘
ایس ایس پی آپریشنز کے اس جواب پر چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’سوا سال ہو گیا اب کہانی ختم۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک کیس میں نکلے اور دوسرے میں گرفتار ہوں۔ ‘
’اگر آپکو بشریٰ بی بی تفتیش کے لیے مطلوب تھیں تو طلب کیوں نہیں کیا؟ بشریٰ بی بی جب گرفتار نہیں تھیں تب بھی پولیس نے اُنھیں طلب نہیں کیا۔ بشریٰ بی بی کے خلاف کوئی ثبوت ہے، نہیں ہے نا؟‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارک میں مزید کہا کہ ’اگر پولیس نے ابھی تک گرفتار نہیں کیا تو مطلب اب نہیں کرنا۔ سوا سال تک پولیس نے تفتیش نہیں کی تو اب گرفتاری کی کیا ضرورت ہے؟ بشریٰ بی بی گرفتار ہیں پولیس نے اُن سے پھر بھی تفتیش نہیں کی۔‘
اس پر ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی نے جواب دیا کہ ’بشریٰ بی بی نے ان مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری دائر کر رکھی ہے۔‘ جس پر بشریٰ بی بی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’میں اِس حوالے سے معلومات لے لیتا ہوں، وقت دیدیں۔ بشریٰ بی بی کا نو مئی سے کیا تعلق؟ انکا نام ایسے ہی شامل کر دیا گیا۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے مقدمات کی تفصیلات فراہمی سے متعلق درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 12 اگست تک ملتوی کر دی۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی حکومت اور عوام بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ ہر مُشکل وقت میں کھڑے ہیں اور اس بات کے لیے پُر اُمید ہیں کہ بنگلہ دیش میں حالات جلد معمول پر آجائیں گے۔‘
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ بنگلہ دیشی عوام کا جذبہ اور اتحاد انھیں ایک روشن مستقبل کی جانب کے کر جانے والا ہوگا۔‘
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے والی کوٹہ سسٹم مخالف طلبہ تحریک نے نہ صرف انھیں مُلک چھوڑنے پر مجبور کیا بلکہ اب اُن کی جگہ نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس کو مُلک کا عبوری سربراہ بھی مقرر کر لیا ہے۔