بلوچستان کے ضلع مستونگ کی سب تحصیل کھڈکوچہ میں تاحکم
ثانی کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
اس علاقے میں آج ایک مسافر بس پر فائرنگ سے کم ازکم
تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے جبکہ اس علاقے میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھماکہ
خیز مواد سے ایک پُل کو بھی نقصان پہنچا۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر
یوسفزئی کا کہنا ہے کہ کھڈکوچہ میں کرفیو بدھ
کی شب نو بجے سے تاحکمِ ثانی نافذ رہے گا۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ کرفیو کے دوران شہریوں
کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ عوام امن و امان کی صورتحال کے پیش
نظر انتظامیہ کے احکامات پر مکمل عمل کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے
خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ محکمہ داخلہ بلوچستان نے امن
وامان کی صورتحال کے پیش نظر یہ قدم اُٹھایا ہے۔
کھڈکوچہ کے علاقے انجیری میں نامعلوم مسلح افراد نے
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک پل کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔
بدھ کو علی الصبح دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے پُل کو
نقصان پہنچا جس کے باعث اس اہم شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہوگئی تھی۔
تاہم بعد میں پہلے چھوٹی اور بعد بڑی گاڑیوں کے لیے
ٹریفک کو بحال کردیا گیا۔
اسی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کوئٹہ
سے کراچی جانے والی ایک بس میں سفر کرنے والے تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔
ایک سرکاری اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ
حملے کا نشانہ بننے والی بس اور بعض دیگر گاڑیاں کانوائے میں جارہی میں جارہے تھیں۔
سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ کھڈکوچہ سے آگے منگیچر میں بھی ایک بس پر فائرنگ ہوئی
تھی۔
اس علاقے میں بھی بس پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت
کی اطلاع ہے۔
کھڈکوچہ ضلع کوئٹہ سے ملحقہ ضلع مستونگ کی ایک سب تحصیل
ہے۔ کھڈکوچہ شورش سے زیادہ متاثرہ ضلع مستونگ کے ہیڈکوارٹر مستونگ شہر سے اندازاً جنوب
مغرب میں 35کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ ایک زرعی علاقہ ہے اور یہاں مختلف پھلوں کے باغات
ہیں۔ کھڈکوچہ میں چند روز قبل کوئٹہ سے کراچی کی جانب جانے والی سکیورٹی فورسز کے ایک
کانوائے پر بھی بڑا حملہ ہوا تھا۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل
اے نے قبول کی تھی۔
سرکاری اہلکار کے مطابق کرفیو کے نفاذ کے ساتھ اس علاقے
میں آپریشن اور گھر گھر تلاشی کا بھی سلسلہ جاری ہے۔