لائیو, امریکہ کے ایران پر مسلسل 12ویں روز بھی حملے، یمن کے حوثیوں کا دو سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکی فوج نے ایران پر مزید حملے کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ برطانوی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے سعودی عرب اور یمن کے قریب سمندری حدود میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔ اس کے چند منٹ بعد حوثیوں نے دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کا دعویٰ کیا۔
خلاصہ
امریکی فوج کی جانب سے ایران پر مسلسل 12ویں روز حملوں کا سلسلہ جاری
آبنائے ہرمز میں ایک جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا اور دیگر دو جہاز واپس مڑ گئے: پاسداران انقلاب کا دعویٰ
اگر ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا: باقر قالیباف
لائیو کوریج
حملوں میں ایران کے عسکری اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی فوج
،تصویر کا ذریعہCENTCOM
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران پر
مسلسل 12ویں رات حملوں میں بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات،
ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاع کے اثاثوں کو نشانہ بنایا۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام نے
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سویلین ملاحوں اور تجارتی
جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت مزید کم ہوئی ہے۔
سینٹکام کے مطابق امریکی فوج نے اس
ماہ خشکی پر موجود ایران کے درجنوں عسکری مقامات کو نشانہ بنایا ہے جبکہ سمندر میں
ایران کے خلاف ناکہ بندی کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’آج تک سینٹکام
نے نو تجارتی جہازوں کا رخ موڑا ہے اور ایک جہاز کو ناکارہ بنایا ہے تاکہ جہازوں
کو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے یا وہاں سے روانہ ہونے سے روکا جا سکے۔‘
سینٹکام
کا کہنا ہے کہ 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار پورے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات
ہیں اور اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے ہر وقت چوکس اور تیار ہیں۔
پنجاب: دریائے چناب میں خانکی اور قادرآباد کے مقام پر بلند درجے کا سیلاب
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پنجاب میں محکمہ آبپاشی کے ترجمان کے
مطابق خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر دریائے چناب میں بلند درجے کا سیلاب ہے، جبکہ
صوبے کے مختلف دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی
ہے۔
ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں خانکی
بیراج پر دو لاکھ 61 ہزار 463 کیوسک پانی کی آمد اور دو لاکھ 56 ہزار 63 کیوسک
اخراج ریکارڈ کیا گیا، یہاں بلند درجے کا سیلاب ہے۔
قادرآباد بیراج پر دو لاکھ 67 ہزار
159 کیوسک پانی کی آمد اور دو لاکھ 52 ہزار 159 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق کیو بی لنک نہر میں 15 ہزار کیوسک پانی چھوڑا جا رہا ہے جبکہ یہاں
بھی بلند درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ بیراج پر ایک
لاکھ 94 ہزار 452 کیوسک پانی کی آمد اور ایک لاکھ 74 ہزار 452 کیوسک اخراج ریکارڈ
کیا گیا ہے، جہاں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے راوی میں کوٹ نینا کے مقام پر
17 ہزار 500 کیوسک بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے اور پانی میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا
ہے۔ جسڑ پر 24 ہزار 940 کیوسک، راوی سائفن پر 32 ہزار 577 کیوسک اور شاہدرہ کے
مقام پر 32 ہزار 138 کیوسک بہاؤ ریکارڈ کیا گیا، جہاں صورتحال معمول کے مطابق اور
پانی کی سطح مستحکم ہے۔
ترجمان کے مطابق دریائے راوی میں بلوکی
ہیڈورکس پر 73 ہزار 625 کیوسک پانی کی آمد اور 50 ہزار 725 کیوسک اخراج ریکارڈ کیا
گیا ہے، جہاں کم درجے کا سیلاب ہے تاہم صورتحال مستحکم ہے۔
دریائے
راوی پر سدھنائی بیراج میں 19 ہزار 607 کیوسک پانی کی آمد اور 3 ہزار 607 کیوسک
اخراج ریکارڈ کیا گیا، جبکہ وہاں بھی صورتحال معمول کے مطابق اور پانی کی سطح مستحکم
ہے۔
ایران میں مزید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران پر مسلسل 12ویں روز امریکی
فضائی حملوں کے دوران ایرانی ذرائع ابلاغ نے مزید دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جاسک اور بوشہر
امریکی جنگی طیاروں اور میزائلوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ تاہم ان حملوں کے
بارے میں مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
بوشہر کے نائب گورنر برائے سیاسی و
سکیورٹی امور، احسان جہانیان نے کہا ہے کہ بوشہر پر حملوں میں ’جانی نقصان‘ نہیں
ہوا۔
ادھر
ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں کویت کے السالم
اڈے پر ’دھوئیں اور آگ کے بادل‘ دیکھے گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایک جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا اور دیگر دو جہاز واپس مڑ گئے: پاسداران انقلاب کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے پاسداران انقلاب نے جمعرات
کی صبح اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تین تیل بردار بحری جہازوں نے امریکی فوج کے
’ترغیب دلانے پر آبنائے ہرمز کے جنوب میں بارودی سرنگوں سے بھرے راستے سے گزرنے کی
کوشش کی، لیکن ان میں سے ایک میں دھماکے اور شدید آگ لگنے کے بعد، دیگر دو ٹینکر
تیزی سے رخ موڑ کر واپس لوٹ گئے۔‘
گذشتہ
چند گھنٹوں کے دوران دیگر ذرائع سے ایسی اطلاع نہیں ملی کہ کوئی جہاز بحری بارودی
سرنگ سے ٹکرایا ہو اور اس میں آگ لگ گئی ہو۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا پاسداران
انقلاب کے بیان میں مذکور واقعہ یمن کے حوثیوں کے اس دعوے سے مطابقت رکھتا ہے یا
نہیں جس میں انھوں نے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
سعودی عرب کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر میزائل حملہ، یمن کے حوثیوں کا دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
برطانیہ کی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ
آپریشنز نے اعلان کیا ہے کہ اسے سعودی عرب کے ساحلی شہر الشقیق کے جنوب مغرب میں 70 بحری
میل کے فاصلے پر ایک حملے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، ایک تیل بردار
بحری جہاز کے کپتان نے بتایا کہ اس ٹینکر کو ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا ہے جس
سے جہاز میں آگ لگ گئی ہے اور عملہ آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس برطانوی تنظیم کے مطابق، اب تک
کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
ادھر ایران کی مقامی خبر رساں
ایجنسیوں نے یمن کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے دو سعودی آئل
ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔
چند روز قبل، سعودی عرب کی جانب سے
صنعا کے ہوائی اڈے پر بمباری کے بعد، حوثیوں نے اس ملک کی بحری ناکہ بندی شروع
کرنے کا اعلان کیا تھا، اور اگر دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے
تو یہ سعودی جہازوں کی آمد و رفت کے خلاف ناکہ بندی برقرار رکھنے کے لیے ان کی
پہلی کارروائی ہو گی۔
خبر
رساں ایجنسی فارس، جو ایران کے پاسداران انقلاب کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے جمعرات
کی صبح حوثیوں کے حوالے سے رپورٹ کیا: ’ہم نے ایک خصوصی فوجی کارروائی کرتے ہوئے دو
سعودی آئل ٹینکروں، اینسیلا اور لیلیا کو نشانہ بنایا کیوں کہ وہ سعودی جہازوں کی
آمد و رفت پر پابندی کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔‘
امریکی فوج کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ
امریکی فوج کی
مرکزی کمان سینٹکام نے ایران پر مزید حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
سینٹکام نے پاکستانی
وقت کے مطابق بدھ کی صبح تین بجے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کیا۔
بیان میں کہا
گیا کہ حملے کمانڈر اِن چیف (یعنی صدر ٹرمپ) کی ہدایت پر کیے گئے اور ’یہ کارروائی ایران کی اس صلاحیت کو
مزید کم کرنے کے لیے جاری رہے گی جس کے ذریعے وہ علاقائی پانیوں سے گزرنے والے
سویلین ملاحوں اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔‘
اہم ایرانی تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا: عباس عراقچی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’اگر امریکہ نے ایران میں مُلک کی اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو تہران اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دے گا۔‘
ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے لکھا کہ ’ہمارا دفاعی نظریہ واضح ہے ’آنکھ کے بدلے آنکھ۔ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت، بشمول ہمارے بنیادی ڈھانچے پر حملے، کا مضبوط اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘
عراقچی نے مزید کہا کہ ’ایسی جارحیت میں شریک یا کسی بھی نوعیت کی معاونت فراہم کرنے والے تمام فریق بھی جائز اہداف تصور کیے جائیں گے۔‘
عراقچی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ذریعے سے حملہ کرتا ہے تو امریکہ جواباً ایران کے پلوں، بجلی گھروں یا دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا۔‘
اگر ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا: باقر قالیباف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی۔‘
ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے تیل کی فروخت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’اس جنگ کا اصول واضح ہے، یا سب یا کوئی نہیں، اگر ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا۔‘
باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ’جس خطے میں ہم تیل فروخت نہیں کریں گے، وہاں کوئی اور بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ اگر ہماری سلامتی یقینی نہیں بنائی جاتی تو کسی کی بھی سلامتی محفوظ نہیں رہے گی اور آبنائے ہرمز کا تحفظ امریکی افواج کی عدم موجودگی سے وابستہ ہے۔‘
انھوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی دہرایا کہ ’ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔‘
قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ 22 جولائی تک ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج نے نو تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا جبکہ ایک بحری جہاز کو ناکارہ بنا دیا۔
ضلع مستونگ کی سب تحصیل کھڈکوچہ میں تاحکم ثانی کرفیو نافذ، علاقے میں آپریشن اور گھر گھر تلاشی جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلوچستان کے ضلع مستونگ کی سب تحصیل کھڈکوچہ میں تاحکم
ثانی کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
اس علاقے میں آج ایک مسافر بس پر فائرنگ سے کم ازکم
تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے جبکہ اس علاقے میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر دھماکہ
خیز مواد سے ایک پُل کو بھی نقصان پہنچا۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر
یوسفزئی کا کہنا ہے کہ کھڈکوچہ میں کرفیو بدھ
کی شب نو بجے سے تاحکمِ ثانی نافذ رہے گا۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ کرفیو کے دوران شہریوں
کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ عوام امن و امان کی صورتحال کے پیش
نظر انتظامیہ کے احکامات پر مکمل عمل کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کے
خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ محکمہ داخلہ بلوچستان نے امن
وامان کی صورتحال کے پیش نظر یہ قدم اُٹھایا ہے۔
کھڈکوچہ کے علاقے انجیری میں نامعلوم مسلح افراد نے
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک پل کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔
بدھ کو علی الصبح دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے پُل کو
نقصان پہنچا جس کے باعث اس اہم شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہوگئی تھی۔
تاہم بعد میں پہلے چھوٹی اور بعد بڑی گاڑیوں کے لیے
ٹریفک کو بحال کردیا گیا۔
اسی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے کوئٹہ
سے کراچی جانے والی ایک بس میں سفر کرنے والے تین افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔
ایک سرکاری اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ
حملے کا نشانہ بننے والی بس اور بعض دیگر گاڑیاں کانوائے میں جارہی میں جارہے تھیں۔
سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ کھڈکوچہ سے آگے منگیچر میں بھی ایک بس پر فائرنگ ہوئی
تھی۔
اس علاقے میں بھی بس پر فائرنگ سے ایک شخص کی ہلاکت
کی اطلاع ہے۔
کھڈکوچہ کہاں واقع ہے؟
کھڈکوچہ ضلع کوئٹہ سے ملحقہ ضلع مستونگ کی ایک سب تحصیل
ہے۔ کھڈکوچہ شورش سے زیادہ متاثرہ ضلع مستونگ کے ہیڈکوارٹر مستونگ شہر سے اندازاً جنوب
مغرب میں 35کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ ایک زرعی علاقہ ہے اور یہاں مختلف پھلوں کے باغات
ہیں۔ کھڈکوچہ میں چند روز قبل کوئٹہ سے کراچی کی جانب جانے والی سکیورٹی فورسز کے ایک
کانوائے پر بھی بڑا حملہ ہوا تھا۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل
اے نے قبول کی تھی۔
سرکاری اہلکار کے مطابق کرفیو کے نفاذ کے ساتھ اس علاقے
میں آپریشن اور گھر گھر تلاشی کا بھی سلسلہ جاری ہے۔
حالیہ امریکی حملوں میں 53 افراد ہلاک: ایرانی وزارتِ صحت
ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق ایران پر حالیہ امریکی حملوں کی لہر کے دوران اب تک 53 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وزارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ ہلاکتیں 27 جون سے 22 جولائی کی صبح تک کے عرصے پر مشتمل ہیں۔
ایرانی وزیرِ صحت حسین کرمان پور نے ایکس پر اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں 592 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
تاہم، انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہلاک ہونے والوں میں کتنے افراد فوجی تھے اور کتنے عام شہری۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال مارچ میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 18 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ نے 17 جولائی کی شام تصدیق کی تھی کہ اردن میں موجود اس کے ایک فوجی اڈے کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق جمعے کے روز اردن کے موافقت السلطی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ایک اور امریکی فوجی اتوار کے روز عراق کے اربیل میں ڈرون حملے سے متعلق ایک کنٹرولڈ دھماکے میں ہلاک ہوا۔
بلغاریہ نے امریکی فوج کو اپنا اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلغاریہ کی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز حکومت کی اس تجویز کی منظوری دے دی جس کے تحت امریکی فوج کو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی کارروائیوں کی معاونت کے لیے اپنے ایک فضائی اڈے کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
تاہم، بعض ارکانِ پارلیمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے بلغاریہ ایران جنگ میں ملوث ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو یورپی یونین کے بعض دیگر ممالک کی جانب سے بھی ایران کے خلاف جنگ سے متعلق کارروائیوں کے لیے فضائی اڈوں کے استعمال پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں بڑھانے کی دھمکی دی ہے۔
امریکی حکومت نے جمعے کے روز بلغاریہ سے فوجی اڈے کے استعمال کے حوالے سے یہ درخواست کی تھی، جسے پارلیمنٹ نے 136 ووٹوں کی حمایت، 13 مخالفت اور 2 ارکان کی غیرحاضری کے ساتھ منظور کر لیا۔
یہ معاہدہ اس وقت طے پایا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ممالک کو ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
معاہدے کے تحت بلغاریہ نے امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں آپریشنز کی معاونت کے لیے زیادہ سے زیادہ آٹھ کے سی-135 ٹینکر طیارے اور 250 فوجی اہلکار تعینات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا اردن میں امریکی اڈوں پر حملے کا دعویٰ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ’آپریشن نصر 2 کی 25ویں لہر‘ کے دوران اردن میں موجود امریکی کنگ فیصل اور پرنس حسن فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں امریکی فوجی سازوسامان اور تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا۔
بی بی سی فارسی پر سامنے آنے والے پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق ’حملے میں ایف-15 لڑاکا طیاروں کے ایک شیڈ، آٹھ ایم کیو-9 ڈرونز اور دو ہیلی کاپٹرز کو تباہ یا نقصان پہنچایا گیا ہے۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ’امریکی فوج کے رہائشی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔‘
تاہم بی بی سی پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی یا اردنی حکام کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ایرانی جوہری تنصیبات سے متعلق امریکی دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں: اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات کے خلاف امریکہ کے بار بار حملے اور دھمکیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘
ایکس پر جاری بیان میں ترجمان نے الزام عائد کیا کہ ’یہ اقدامات ایران کی سائنسی ترقی اور تکنیکی پیش رفت کے خلاف امریکہ کی گہری مخالفت کو ظاہر کرتے ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’ایران کی جوہری سرگرمیاں آئی اے ای اے کے حفاظتی معاہدوں کے تحت مکمل طور پر ظاہر کی جا چکی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن کی کولانگ کوہ کے مقام پر غیر معمولی توجہ، جہاں کوئی جوہری سرگرمی جاری نہیں، صرف جارحیت، تباہی اور تخریب کاری کے لیے ایک من گھڑت جواز ہے۔
بیان میں اسماعیل بقائی نے مزید کہا گیا کہ ’ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں آئی اے ای اے کو تمام معلومات فراہم کر رکھی ہیں۔‘ ترجمان نے کہا کہ ’کولانگ کوہ کے مقام کو نشانہ بنانے کی امریکی باتیں بے بنیاد ہیں، کیونکہ وہاں کوئی جوہری سرگرمی نہیں ہو رہی۔‘
ان کے مطابق امریکہ اس معاملے کو ایران کے خلاف کارروائی کے جواز کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے ایکس پر جاری اپنے بیان کے آخر پر کہا کہ ’ایرانی عوام امریکہ کی جانب سے کسی بھی دشمنانہ اقدام یا ایران کی خودمختاری اور قومی سلامتی کی خلاف ورزی کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ مزاحمت کریں گے۔‘
ٹرمپ کی ایران کو دھمکی: ’آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے کی صورت میں پل یا بجلی گھر کو نشانہ بنائیں گے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی بحری جہاز کو نشانہ بناتا ہے تو امریکہ اس کے جواب میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ’اب سے جب بھی اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بحری جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی دوسرے ذریعے یا ہتھیار سے حملہ کرے گا تو امریکہ ایک پل یا بجلی گھر پر بمباری کر کے اسے تباہ کر دے گا۔‘
انھوں نے ممکنہ امریکی کارروائی کے مقامات کے حوالے سے کہا کہ ’ان میں وہ تنصیبات بھی شامل ہوں گی جو دارالحکومت تہران کے قریب یا تہران شہر کے اندر واقع ہیں۔‘
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری پر شہباز شریف کا خیر مقدم: ’اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی نے
بدھ کے روز پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ’مائنس بی‘ سے بڑھا
کر ’بی‘ کر دی، جس کی وجہ ادارہ جاتی استحکام میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام
کے تحت اصلاحات کے مؤثر نفاذ کو قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایس اینڈ پی
گلوبل کی جانب سے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ’مائنس بی‘ سے بڑھا
کر اسے ’بی‘ کیے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس پیش رفت کو ملکی معیشت کے لیے ایک
اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ حکومت کی معاشی پالیسیوں، مالیاتی نظم و
ضبط، اصلاحاتی اقدامات اور معیشت کو مستحکم بنانے کی کوششوں پر عالمی اعتماد کا
اظہار ہے۔‘
واضح رہے کہ ’ایس اینڈ پی‘ ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ہے
جو حکومتوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیتی
ہے۔
ایس اینڈ پی کے مطابق پاکستان کی مالی صورتحال فی
الحال مستحکم ہے۔ بیرونی مالی معاونت کی بدولت ملک اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی
جاری رکھ سکے گا اور آئندہ ایک سال تک موجودہ تجارتی قرضوں کو نئی مدت کے لیے
تجدید بھی کروا سکے گا۔
ایس اینڈ پی کا کہنا ہے کہ ’حکومت کی جانب سے ٹیکس
نیٹ کو وسعت دینے کی کوششوں کے نتیجے میں محصولات کی وصولی میں بہتری آئی ہے اور
مالیاتی خسارے پر قابو پانے کا عمل تیز ہوا ہے، جس سے ملک پر قرضوں کے بوجھ میں
بتدریج کمی کی توقع ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق ’آئی ایم ایف کی حمایت سے نافذ کی
جانے والی اصلاحات نے پاکستان میں معاشی استحکام کی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں
اضافہ اور مالیاتی و بیرونی شعبوں پر موجود دباؤ میں کمی لانے میں اہم کردار ادا
کیا ہے۔‘
ایس اینڈ پی نے اسی رپورٹ میں یہ پیش گوئی کی ہے کہ
’مالی سال 2027 میں پاکستان کی معیشت تین
اعشاریہ پانچ فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔‘
ایجنسی کے مطابق ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث
توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے باوجود پاکستان میں مہنگائی پر اس کے اثرات
محدود رہنے کی توقع ہے۔‘
تاہم پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق ’اس
پیش رفت سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، سرمایہ کاری کے
نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معاشی ترقی کو مزید تقویت ملے گی۔‘
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حملے میں پولیس اہلکار ہلاک، حملہ آور فرار, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سرینگر
،تصویر کا ذریعہNadeem Gulzar
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والے 35 سالہ عاشق حسین انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام کے رہائشی تھے
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی ضلع اننت ناگ کے مصروف علاقے لال چوک میں بدھ کے روز نامعلوم مسلح شخص کی فائرنگ سے جموں و کشمیر پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز دوپہر کے وقت پیش آیا جب علاقے میں تعینات پولیس پارٹی پر اچانک گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔
سرکاری ذرائع نے ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت 35 سالہ عاشق حسین قریشی کے نام سے کی ہے، جو وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے رہائشی تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل عاشق حسین سالانہ امرناتھ یاترا کی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھے۔
حملے کے فوراً بعد انھیں شدید زخمی حالت میں گورنمنٹ میڈیکل کا ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ موٹر سائیکل پر سوار ایک حملہ آور نے انتہائی قریب سے گولی چلائی اور فرار ہو گیا۔
ایک اعلیٰ پولیس اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’یہ ایک 'شوٹ اینڈ ایسکیپ (گولی مارو اور بھاگو) طرز کا بزدلانہ حملہ تھا۔
سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے اور حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔‘
دوسری جانب، مقامی ذرائع کے مطابق ایک مسلح گروہ نے سوشل میڈیا پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جموں و کشمیر پولیس کے جوان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور اس جرم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔‘
وادی میں جاری سالانہ یاترا کے پیش نظر سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا جمعرات سے ایک روزہ علامتی ہڑتال کا اعلان, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے ملک بھر میں 24 گھنٹے کی علامتی ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس کے تحت جمعرات کی صبح چھ بجے سے جمعہ کی صبح چھ بجے تک ملک بھر کے پٹرول پمپ بند رکھے جائیں گے۔
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کے تعین کے لیے 30 روزہ طریقۂ کار برقرار رکھا جائے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک روزہ ہڑتال کے باوجود حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
بدھ کو پی پی ڈی اے کے چیف ایڈوائزر ملک خدا بخش نے دیگر عہدے داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہر 24 گھنٹے بعد ازسرِنو تعین کرنے کا فیصلہ قابلِ قبول نہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب سے سات روز کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا۔
ملک خدا بخش نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل ماہانہ بنیادوں پر ہونا چاہیے نہ کہ ہر 24 گھنٹے بعد۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس سے ڈیلرز کے منافع کے مارجن میں اضافہ نہیں کیا گیا، لہٰذا ڈیلرز کے لیے مستقل طور پر 8 فیصد کمیشن مقرر کیا جائے۔
انھوں نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی الاٹمنٹ پالیسی ختم کرنے اور پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔
ملک خدا بخش نے مزید کہا کہ کارڈ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر بینکوں اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم کے تحت عائد ہونے والے اخراجات صارفین سے وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ او ایم سیز کی موجودہ ایندھن الاٹمنٹ پالیسی غیر منصفانہ ہے، جسے ختم کر کے ایندھن کی فراہمی کا نظام بہتر بنایا جائے۔
اس موقع پر تنظیم کے سندھ کے صدر حاجی امیر خان نے کہا کہ ڈیلرز گزشتہ دو برس سے اپنے مارجن میں اضافے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر آٹھ فیصد ڈیلر مارجن سے متعلق اپنا وعدہ پورا کرے۔
نائب چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے حکومت کے سامنے پانچ مطالبات رکھے ہیں اور پی پی ڈی اے ان میں سے کسی بھی مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی۔
پٹرولیم ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو وہ جلد اپنے آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے۔
کویت اور اُردن کا ایرانی ڈرون و میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ: ایشیائی منڈیوں میں تیل کی فی بیرل قیمت 92 ڈالر سے تجاوز کر گئی
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
امریکی فوج کی جانب سے ایران پر مسلسل گیارہویں روز حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے جوابی کارروائیوں میں کویت اور اردن میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اردن کے میڈیا کے مطابق اسرائیلی شہر ایلات کے قریب واقع اردنی شہر عقبہ میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جبکہ خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
اردن کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے چھ میزائلوں کو روکا جو اس کی سرزمین کی جانب بڑھ رہے تھے۔
فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے چار میزائل مار گرائے جبکہ دو دیگر دور دراز غیر آباد علاقوں میں گرے جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
اردن کی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران سے آنے والے چار ڈرون بھی مار گرائے گئے جنھوں نے اردنی علاقے کو نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب کویت کی فوج نے بدھ کو کہا کہ اس کا فضائی دفاع ایران سے آنے والے ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے جبکہ بحرین کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ایرانی حملوں کو ناکام بنایا۔
یاد رہے کہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور انتظامی عمارتیں شامل تھیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران میں امریکی حملوں کے باعث دھماکوں کی آوازیں
ایران میں مقامی میڈیا نے بدھ کی صبح ایران کے جنوبی شہروں بوشہر، مہشہر، امیدیہ اور سرک اور شمال مغربی شہر تبریز سے امریکی حملوں کے نتیجے میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔
ایران کے صوبے بوشہر کےنائب گورنر نے نے امریکی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بوشہر کے نائب سیاسی و سکیورٹی گورنر احسان جہانیاں کے مطابق بدھ کی صبح یہ حملے دشتی کاؤنٹی کے مرکزی شہر خرموج کے نواحی علاقوں میں کیے گئے۔ جبکہ بوشہر کو بیک وقت دو مراحل میں امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بوشہر جوہری بجلی گھر کے قریب واقع ایک بجلی کے سب سٹیشن پر امریکی میزائل حملے کے باعث بندرگاہی علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی، تاہم حملے کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر بجلی کا نظام مکمل طور پر بحال کر دیا گیا۔
ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سرک کے قریب کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے سرک ان مقامات میں شامل رہا ہے جنھیں امریکی حملوں کا اہم ہدف قرار دیا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر امریکہ اب تک تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جو مئی میں دیے گئے گذشتہ تخمینے سے تقریباً آٹھ ارب ڈالر زیادہ ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کو بتایا کہ کانگریس کی جانب سے پینٹاگون کے لیے مزید 87 ارب ڈالر کی منظوری انتہائی ضروری ہے، جن میں سے 67 ارب ڈالر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔
بنوں میں شدت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن: فون اور انٹرنیٹ سروس معطل، شہریوں کے معمولات زندگی متاثر, عزیر اللہ خان، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، پشاور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ’انٹیلیجنس کی بنیاد‘ پر شدت پسندوں کے خلاف جاری سکیورٹی آپریشن کے باعث گذشتہ چھ روز سے ٹیلیفون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران کی گئی سکیورٹی کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم اس کی مکمل تفصیلات تاحال فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
اس سکیورٹی آپریشن کے پہلے روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 23 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔
اس کے بعد بنوں پولیس کی جانب سے بھی کارروائیوں سے متعلق متعدد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بنوں کے ضلعی پولیس افسر فرقان بلال کی جانب سے 21 جولائی کو ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں وہ ایک جاری کارروائی کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ اِس وقت وہ اُس مقام پر موجود ہیں جہاں اس سے قبل پولیس کی رسائی نہیں تھی۔
اس ویڈیو پیغام میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ منگل (21 جولائی) کو چھ اہم شدت پسند کمانڈروں ہلاک کیا گیا جبکہ 50 سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
بنوں پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میریان کے مختلف علاقوں میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن جاری ہے جس کے دوران گھر گھر تلاشی لی گئی، شہریوں کے شناختی کارڈز کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی۔
21 جولائی کو ہی خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہے اور اسی لیے سکیورٹی آپریشن جاری ہے جس میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں ان کارروائیوں سے متعلق تمام تفصیل اور ڈیٹا جاری کیا جائے گا۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار لحاظ علی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں صوبائی حکومت اور دیگر ادارے ایک پیج پر نظر آ رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی کہ بنوں میں امن قائم کیا جا سکے۔
بدھ کی صبح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے بھی بنوں کا دورہ کیا۔
اس موقع اجلاس کے دوران آپریشن سے متاثرہ خاندانوں کو درپیش مشکلات اور ان کی فوری امداد سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنضلع بنوں میں رواں سال سکیورٹی صورتحال مسلسل خراب رہی ہے (فائل فوٹو)
بنوں کے حالات
ضلع بنوں میں رواں سال سکیورٹی صورتحال مسلسل خراب رہی ہے اور یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کارروائیاں جاری رہی ہیں۔
رواں سال اپریل میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک پولیس تھانے پر بڑا حملہ کیا گیا جس میں پولیس کے علاوہ عام شہریوں کا بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔
اسی طرح 10 مئی کو بنوں کے علاقے فتح خیل میں ہوئے حملے میں شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی پولیس چوکی سے ٹکرا دی تھی اس میں کم سے کم 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے میں شدت پسندوں نے کواڈ کاپٹر کا استعمال بھی کیا تھا۔ اسی طرح 20 جون کو بنوں میں دو مختلف مقامات پر حملے ہوئے جس میں سات افراد ہلاک ہوئے جبکہ جولائی میں تھانہ میریان پر بارود سے بھری گاڑی سے حملے کی کوشش کی گئی تھی۔
اس نوعیت کے چھوٹے بڑے واقعات بنوں میں تواتر سے پیش آتے رہے ہیں۔ معمولات زندگی متاثر ان جاری ٹارگٹڈ کارروائیوں کی وجہ سے بنوں شہر میں معمول کی زندگی بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔
بنوں سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار فدا عدیل نے بتایا کہ بنوں میں کرفیو جیسی صورتحال ہے اور چند علاقوں میں لوگوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ہے۔ ان علاقوں میں بکا خیل، میریان، جانی خئل ہوید نورڑ کے علاوہ لنک روڈ وغیرہ شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کے مطابق لگ بھگ 600 خاندان ایسے ہیں جن تک راشن پہنچانے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح بنوں میں رہنے والے ایسے افراد جو ملک کے دیگر علاقوں یا بیرون ممالک مقیم ہیں انھیں اپنے گھر والوں کی رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس طرح بنوں کے چند علاقوں میں تجاری سرگرمیاں متاثر ہیں۔
بلوچستان میں مختلف کارروائیوں میں 10 مبینہ شدت پسند ہلاک، دو خواتین خودکش بمبار اور ایک سہولت کار گرفتار: آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں میں 10 مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ دو خواتین خودکش بمباروں اور ایک سہولت کار کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں ان گروہوں کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ ہیں۔
آئی ایس پی آرنے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے ضلع سوراب اور ضلع مستونگ میں انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’ضلع مستونگ میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو خواتین خودکش بمباروں اور ان کے ایک سہولت کار کو گرفتار کیا گیا۔‘
بدھ کے روز آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق ضلع سوراب میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں سات مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
فوج کے مطابق کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ علاقے میں مزید مبینہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہیں۔