یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
17 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی تحصیل سالارزئی کے علاقے تنگی میں انسداد پولیو مہم کی ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیو مہم کسی صورت متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
17 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے مغربی حکومتوں سے مطالبہ کیے ہے کہ وہ ’یہود مخالفت‘ سے نمٹنے کے لیے ’جو ضروری ہے وہ کریں۔‘
انھوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں بونڈائی حملے کا ذکر تو نہیں کیا، تاہم انھوں نے مغربی ممالک سے گزارش کی کہ وہ ’یہودی کمیونٹی کو سکیورٹی اور حفاظت فراہم کریں جس کی انھیں ضرورت ہے۔‘
’ان کے لیے ہماری وارننگز پر توجہ دینے بہتر رہے گا۔ میں فوری ایکشن کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘
بونڈائی بیچ پر حملے کے بعد نتن یاہو نے یہود مخالفت کو ’کینسر‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’رہنماؤں کی خاموشی کے سبب پھیلتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلین فیڈریشن آف اسلامک کونسلز (اے ایف آئی سی) کے صدر راعتب جنید نے بونڈائی بیچ پر حملے کو ’تمام آسٹریلوی شہریوں کے لیے ایک سانحہ‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ پوری مسلم کمیونٹی ’بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس تشدد کی مذمت‘ کرتی ہے اور وہ درخواست کرتے ہیں کہ ’یہ سانحہ نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہیں‘ ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب کوئی مسلمان (ایسے کسی واقعے کا) ذمہ دار ہوتا ہے تو کمیونٹی کی طرف سے ایسے عمل کے خلاف آواز اٹھائے جانے کے باوجود بھی اکثر فیصلہ سنانے میں جلدی کی جاتی ہے اور پورے گروہ کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔‘
راعتب جنید نے مزید کہا کہ کچھ لوگ چند افراد کی سرگرمیوں کا ’الزام اب بھی مسلمانوں پر لگا رہے ہیں۔‘
’اس سے نہ صرف کمیونٹیز کی تکلیف میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ قومی اتحاد کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب ہمیں متحد ہونا چاہیے۔‘
’ہم پوری قوم کے ساتھ دکھ منا رہے ہیں۔ یہ ایک نا سمجھ آنے والا پُرتشدد عمل تھا، جس سے پوری کمیونٹی کو دھچکہ پہنچا ہے۔‘
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے شہناز خیل تھانہ کی حدود میں پولیس اہلکار اور ان کے بھائی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔
ضلعی پولیس افسر نذیر خان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شام پانچ بجے کے قریب پیش آیا اور کانسٹیبل امیر نواز چوارخیل اور ان کے بھائی خانہ گل کی لاشیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔
ان کے مطابق دونوں پر حیات خیل کے قریب فائرنگ کی گئی تھی۔ وہ سابق ضلع کونسلر علی گل چیئرمین کے بھائی ہیں۔
پولیس کے مطابق بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ نظر آتا ہے تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPTI
سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ انھیں آج بھی ان کے بھائی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان صحت مند ہیں، اب انھیں ذہنی تشدد کے لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے جو غیرآئینی اور غیرقانونی ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ ’ہم آئین اور قانون کے مطابق چل رہے ہیں، حکومت والے چوری شدہ مینڈیٹ والے بیٹھے ہیں، یہ آئین بھی توڑ رہے ہیں اور قانون بھی توڑ رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہماری حکمت عملی تیار ہے، واپس نہیں جائیں گے، واٹر کینن کا استعمال ہوا تو گلیوں میں گھس جائیں گے۔‘
جب عمران خان کہتے ہیں کہ ذمہ دار عاصم منیر ہوں گے تو اس میں برا کیا ہے، وہی ملک کے اصل حکمران ہیں: علیمہ خان
سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ اگر عمران خان یہ کہتے ہیں کہ انھیں یا بشریٰ بی بی کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر عائد ہوگی تو اس میں برا کیا ہے، وہی اس ملک کے اصل حکمران ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں قانون کے مطابق عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دیں تو پھر یہاں احتجاج ختم ہو جائے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر آئی ایس آئی ہم پر نظر رکھے گی تو پھر دہشتگردوں کی سرگرمیوں پر نظر کون رکھے گا۔‘
واٹر کینن سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’زیادہ سے زیادہ ہم بھیگ جائیں گے، گر جائیں گے، تھوڑی چوٹیں لگیں تو کیا ہوگا۔‘
علیمہ خان نے کہا کہ ’ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے یہ گولیاں مار دیں، اگر عمران خان کے لیے جان دینی پڑی تو ہم جان دیں گے۔‘
رہنماؤں نے الزام لگایا کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ ان کے مطابق ’ہم احتجاج کر کے کوئی قانون نہیں توڑ رہے، مگر یہ لوگ مقامی اور عالمی قوانین توڑ رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ عمران خان کا پیغام باہر آنے سے روکا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ ’عاصم لا‘ کے تحت ہو رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک جعلی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر گردش کر رہی ہے جس میں ایک شخص کو خون آلود چہرے کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر حملے کو من گھڑت ثابت کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے اور اب تک 10 ملین سے زائد بار دیکھی جا چکی ہے۔
تصویر میں دکھایا گیا شخص اسرائیلی وکیل آرسن اوسٹرووسکی سے مشابہت رکھتا ہے، جو حملے میں سر پر گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے اور اپنی اصل تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔
ماہرین کے مطابق اس تصویر میں واضح نشانات ہیں کہ یہ اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔
مثال کے طور پر اوسٹرووسکی کی شرٹ پر ’یونائیٹڈ سٹیٹس میرینز‘ کا لوگو تھا جو انٹرویو میں صاف نظر آتا ہے، لیکن جعلی تصویر میں یہ ڈیزائن تھوڑا مختلف نظر آتا ہے۔ اسی طرح اصل فوٹیج میں وہ شارٹس پہنے ہوئے تھے جبکہ جعلی تصویر میں جینز دکھائی گئی ہے۔
تصویر کے اوپری حصے میں مبینہ عملے کے ہاتھ بگڑی ہوئی حالت میں اور گاڑی کی ساخت بھی غیر حقیقی نظر آتی ہے، جسے کئی سوشل میڈیا پوسٹس میں کاٹ کر چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہCMO KPK
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے کی تمام جیلوں میں موجود قیدیوں کی سزا میں دو ماہ کی خصوصی معافی کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے یہ اعلان منگل کو سنٹرل جیل پشاور کے دورے کے موقع پر کیا۔ انھوں نے جیل میں قائم میڈیکل وارڈ، ای وزٹ سسٹم اور جدید سکیورٹی منصوبے کا افتتاح کیا۔ یہ منصوبہ 44 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے قیدیوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور موقع پر فوری احکامات جاری کیے۔ انھوں نے منشیات کے عادی قیدیوں کی بحالی کے مرکز اور ماڈل انٹرویو روم کا بھی افتتاح کیا۔
سہیل آفریدی نے صوبے بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی سزا میں دو ماہ کی خصوصی معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جرمانوں کی عدم ادائیگی کے باعث قید افراد کے جرمانے صوبائی حکومت ادا کرے گی۔ انھوں نے قیدیوں کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے دو کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا اور ڈیجیٹل کمپلینٹ سیل قائم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے صوبے کی تمام جیلوں کی سولرائزیشن کا اعلان کیا اور کہا کہ جیل میں ہسپتال، کم عمر لڑکوں اور خواتین کے لیے علیحدہ خصوصی سیلز قائم کیے جائیں گے۔ انھوں نے فیملی کوارٹرز میں مزید بہتری کی ہدایت کی اور دیگر صوبوں میں قید خیبر پختونخوا کے قیدیوں کو واپس لانے کے لیے متعلقہ صوبوں کو خط ارسال کرنے کا فیصلہ کیا۔
سہیل آفریدی نے آئندہ ہفتے قیدیوں کے مسائل سننے کے لیے دربار یعنی کھلی کچہری منعقد کرنے کا اعلان کیا اور پیرول اینڈ پروبیشن ایکٹ 2022 پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت دی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ جیل کا مقصد سزا نہیں بلکہ اصلاح ہے تاکہ قیدی بہتر اور مفید شہری بن کر معاشرے میں واپس آئیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت انسانوں پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اداروں کو مضبوط اور اصلاحی بنایا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہGoFundMe
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈائی ساحل پر حملے کے دوران میاں بیوی نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی لیکن خود جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
گاڑی سے بنائی گئی ڈیش کیم ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ 69 سالہ بورس گرمن اور ان کی اہلیہ 61 سالہ صوفیہ نے حملہ آور سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی۔
ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ بورس گرمن حملہ آور سے گن چھین کر زمین پر گر جاتے ہیں اور پھر اٹھ کر حملہ آور کو اسی ہتھیار سے مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم حملہ آور نے دوسری بندوق نکالی اور دونوں کو گولی مار دی۔
گرمن خاندان نے بیان میں کہا کہ ’اگرچہ بورس اور صوفیہ کی موت کا درد کم نہیں ہو سکتا، لیکن ہمیں ان کی بہادری اور قربانی پر فخر ہے۔ یہ ان کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھتے تھے۔‘
بورس ایک ریٹائرڈ مکینک تھے جو اپنی سخاوت اور خاموش قوت کے لیے جانے جاتے تھے، جبکہ صوفیہ آسٹریلیا پوسٹ میں ملازم تھیں اور اپنے ساتھیوں اور کمیونٹی میں جانی پہچانی شخیصت کی مالک تھیں۔ دونوں 34 سال سے رشتہ ازدواج میں منسلک تھے اور مقامی لوگوں کے درمیان ایک محنتی اور نیک دل جوڑے کے طور پر جانے جاتے تھے۔
عینی شاہدین نے بورس گرمن کو ’ہیرو‘ قرار دیا۔ ایک خاتون، جن کے پاس ڈیش کیم فوٹیج موجود ہے، نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’انھوں نے بھاگنے کے بجائے خطرے کا مقابلہ کیا، اپنی پوری طاقت سے بندوق چھیننے کی کوشش کی اور آخر تک لڑتے رہے۔‘
پولیس نے اس حملے کو یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے والا دہشتگردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک 10 سالہ بچی، برطانوی نژاد ربی، ایک ریٹائرڈ پولیس افسر اور ایک ہولوکاسٹ سے بچ جانے والا شخص بھی شامل ہیں۔ متاثرین کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان ہیں۔
مزید 22 افراد ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے نو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
اس سے قبل ایک اور شخص احمد الاحمد کو بھی ’ہیرو‘ قرار دیا گیا تھا، جنھوں نے حملہ آور سے بندوق چھیننے کی کوشش کی۔ وہ کئی گولیاں لگنے کے باوجود زندہ بچ گئے اور ان کا آپریشن کیا گیا۔ ان کے والد نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ بیٹے نے ’ضمیر کی آواز‘ پر ہہ اقدام کیا کیونکہ انھوں نے خواتین اور بچوں کو خون میں لت پت دیکھا اور فوراً انسانیت کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ نے افغان شہری کی پاکستانی شہریت حاصل کرنے اور افغانستان ڈی پورٹ نہ کرنے سے متعلق درخواست پر وزارت سیفران کو حکم دیا ہے کہ درخواست گزار کی پی او آر کارڈ منسوخی کی درخواست پر ایک ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے۔
عدالت نے وزارت سیفران کے فیصلے تک متعلقہ اداروں کو درخواست گزار کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے سے روک دیا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق نادرا کو پی او آر کارڈ سے متعلق فیصلہ کرنا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سول کورٹ شہریت دینے کا حکم نہیں دے سکتی، یہ حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کو حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ ان کے والدین پاکستانی ہیں، لہٰذا انھیں پہلے اپنا پی او آر کارڈ منسوخ کرانا ہوگا اور اس کے بعد شہریت کے لیے درخواست دینا ہوگی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل نے وزارت سیفران اور نادرا میں درخواست دی ہے لیکن اس پر فیصلہ نہیں کیا جا رہا۔ عدالت نے وزارت سیفران کو ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا اور سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

،تصویر کا ذریعہX
اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس میں ان کے دو اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی ڈویژن بنچ نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کیا۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی اختیار کے تحت دو رکنی بینچ تشکیل دیا گیا، جبکہ بینچز کی تشکیل چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار ہے۔
تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے ایک جج کی ڈگری سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، اور خصوصی بینچ کی تشکیل کوئی پہلی مثال نہیں ہے۔ جسٹس طارق جہانگیری کے چیف جسٹس پر تعصب کے اعتراض کو بھی قانونی جواز سے خالی قرار دیا گیا۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ 1966 سے 2023 تک کے فیصلوں میں جج پر اعتراض کے اصول واضح کر چکی ہے، اور جسٹس جہانگیری کے چیف جسٹس پر اعتراض کی کوئی قانونی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
عدالت نے جسٹس جہانگیری کو درخواست کا مکمل ریکارڈ اور یونیورسٹی کا جمع کرایا گیا جواب فراہم کرنے کا حکم دیا۔ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کو فریق بنانے کی استدعا مسترد کر دی گئی، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل کو لازمی سنا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہX
اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے 19 نومبر کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس اعظم خان نے سماعت کے بعد تین دن کے اندر گواہوں کے بیانات ریکارڈ کروانے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ تین دن کے اندر گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ کرائے جائیں۔ جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ حقائق کو دیکھے بغیر کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج دیتے ہیں، لہٰذا گواہوں کے بیانات دوبارہ ریکارڈ ہونا ضروری ہیں۔
سماعت کے دوران ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ فیصل صدیقی نے کیس میں وکالت نامہ دیا ہے لیکن وہ لاہور میں دیگر مقدمات میں مصروف ہیں، اس لیے چھٹیوں کے بعد سماعت کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے مگر کوئی وقت متعین نہیں کیا۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تمام ریکارڈ موجود ہے۔ ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 10 اے کے تحت ملزمان کو پورے حقوق ملنے چاہئیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ریکارڈ فراہم نہیں کرنا تو ان کے موکل موجود ہیں، عدالت چاہے تو انھیں گرفتار کر لے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس پٹیشن میں فیصلہ کیا چاہتے ہیں؟
ریاست علی آزاد نے کہا کہ ہماری موجودگی میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔ جسٹس اعظم خان نے سوال اٹھایا کہ کیا چار گواہوں کے بیانات ایک ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ ہوئے؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان کے رویے کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
ریاست علی آزاد نے مزید وقت دینے کی استدعا کی اور کہا کہ سوموار تک مہلت دی جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images/CMO KPK
پاکستان کے وزیراعظم نے باجوڑ کے علاقے میں انسدادِ پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت کی ہے۔ اس واقعے میں پولیو ٹیم کے تحفظ پر مامور ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری بھی مارے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے مرنے والوں کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔
انھوں نے ہدایت دی کہ تخریب کاروں کی جلد از جلد شناخت کر کے انھیں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قوم کے لیے انسدادِ پولیو کی اہم خدمت سرانجام دینے والوں پر حملہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ ان کے مطابق ملک سے پولیو کے خاتمے تک یہ مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔
معصوم بچوں کے تحفظ کے لیے پولیو مہم کسی صورت متاثر نہیں ہونے دی جائے گی: سہیل آفریدی
وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پولیو ورکرز اور ان کی سکیورٹی پر مامور اہلکار قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، ان کی قربانیاں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔‘
وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’معصوم بچوں کے تحفظ کے لیے پولیو مہم کسی صورت متاثر نہیں ہونے دی جائے گی‘۔

اتوار کو بونڈائی ساحل پر حملے کے وقت ہنوکا کی تقریبات میں شریک عینی شاہد امیت موس نے بتایا کہ وہ اپنی ساتھی زوئی کے ساتھ پارک کی طرف جا رہے تھے جب انھوں نے فائرنگ کی آواز سنی۔
امیت موس اسرائیلی افواج کا حصہ رہ چکے ہیں اور گذشتہ 40 برس سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ انھوں نے بی بی سی نیوز چینل کو بتایا کہ ’میں فوج میں رہا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ یہ آواز کس چیز کی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ جب انھوں نے پل پر دو حملہ آوروں کو دیکھا تو وہ واپس مُڑ گئے اور دوسرے طرف ایک ٹوائلٹ میں جا کر چھپ گئے۔ ان کی ساتھی زوئی اپنی بیٹی سے علیحدہ ہو گئیں اور خوفزدہ ہو کر چلانے لگیں۔
امیت موس نے کہا کہ ’یہ ناقابلِ یقین منظر تھا۔ بونڈائی ساحل آسٹریلیا کا دل ہے، اس کی روح ہے۔ (وہاں جو ہوا) یہ سب کچھ غیر حقیقی لگ رہا تھا۔‘


،تصویر کا ذریعہAustralian PM
آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے یہودی کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ملک نفرت اور تشدد کے ذریعے تقسیم نہیں ہوگا۔ اس ملاقات میں گورنر جنرل سیم موسٹن بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAustralian PM
انتھونی البانیز نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ ملاقات ’یہودی آسٹریلوی شہریوں اور بونڈائی میں دہشت گردی سے متاثر ہر شہری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار‘ کے لیے کی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’آسٹریلیا زخمی ہے، لیکن ہم نفرت یا تشدد سے تقسیم نہیں ہوں گے۔ ہم متحد ہو کر تاریکی کا مقابلہ روشنی سے کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہABC News
بونڈائی ساحل پر گولی لگنے سے اپنی موت سے قبل ایک شخص نے حملہ آور پر اینٹیں پھینکیں۔ ان کی بیٹی نے بی بی سی کے پارٹنر امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ان کے والد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچانے کی کوشش کی تھی۔
شینا گٹ نِک نے کہا کہ ان کے والد روون موریسن نے فائرنگ شروع ہوتے ہی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق 62 برس کے ان کے والد نے حملہ آور سے چھینی گئی بندوق کو چلانے کی کوشش بھی کی تاکہ حملہ آور کو روکا جا سکے اور انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔
شینا گٹ نِک نے بتایا کہ وہ اتوار کو میلبورن میں ہنوکا کی تقریبات میں شریک تھیں جب انھیں سڈنی میں فائرنگ کی اطلاع ملی۔ انھوں نے فوراً اپنے والدین کو فون کیا جو اس وقت بونڈائی ساحل پر موجود تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے والد نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنی یہودی کمیونٹی کے افراد کو بچانے کی کوشش کی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی تحصیل سالارزئی کے علاقے تنگی میں انسداد پولیو مہم کی ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
ضلعی پولیس افسر وقاص رفیق کے مطابق تین نقاب پوش مسلح افراد نے ٹیم پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں انسداد پولیو ٹیم کے کارکن محفوظ رہے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔
آسٹریلوی پولیس کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ دونوں حملہ آور باپ بیٹا گذشتہ ماہ فلپائن گئے تھے، فلپائنی حکام نے کہا ہے کہ ان کی سرگرمیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
نیشنل سکیورٹی کونسل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل اور ترجمان کورنیلیو ویلینسیا نے بتایا کہ کونسل ان مشتبہ افراد کے ممکنہ روابط فلپائن میں دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تحقیقات کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکام اس بات کی بھی چھان بین کر رہے ہیں کہ وہ ملک میں کن سرگرمیوں میں ملوث رہے۔
ویلینسیا کے مطابق فلپائنی حکام اس معاملے پر اپنے آسٹریلوی ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے بونڈائی بیچ پر ہونے والے حملے میں ملوث حملہ آوروں نے مبینہ طور پر نام نہاد دولت اسلامیہ سے وفاداری کا عہد کیا تھا۔
ایک حملہ آور کی گاڑی سے دھماکہ خیز مواد بر آمد ہوا ہے۔ آسٹریلیا میں پولیس نے سڈنی کے قریب ایک پراپرٹی پر چھاپہ مارا ہے اور اس کا خیال ہے کہ دو مسلح افراد نے اس حملے کی تیاری کے لیے اسے کرائے پر لیا اور دو ہفتے پہلے وہاں منتقل ہوئے تھے۔
اس حملے میں پندرہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
آسٹریلیا میں گذشتہ دو روز کے دوران لوگ بونڈائی پویلین میں جمع ہو رہے ہیں جہاں پر ’دہشتگردانہ‘ حملے کے متاثرین کی یاد میں پھول رکھے گئے ہیں۔
ان حملوں میں مارے جانے والے شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے لوگوں نے شمعیں روشن کیں۔
یہاں کچھ تازہ ترین مناظر سامنے آئے ہیں جن میں متاثرین کی یاد میں لوگوں کی جانب سے کی جانے والی یہ کاوشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters
آسٹریلوی میڈیا میں یہ تفصیلات سامنے آ رہی ہیں کہ سڈنی کے بونڈائی ساحل حملے میں ملوث مبینہ حملہ آور نوید اکرم اب کوما سے نکل کر ہوش میں آ چکے ہیں۔ سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے بھی اس بارے میں خبر شائع کی ہے۔
نائن زیرو اخبار کے مطابق مطابق نوید اکرم پولیس سے بات چیت کر رہے ہیں۔
ان حملہ آوروں کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور ان کے 24 سالہ بیٹے نوید اکرم کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے دوران ساجد جائے وقوعہ پر ہی مارے گئے تھے جبکہ نوید کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ساجد اور نوید اکرم کی قومیت کے حوالے سے بحث حملے کے فوراً بعد ہی شروع ہو گئی تھی اور منگل کو منیلا میں حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 50 سالہ ساجد اکرم نے حال ہی میں انڈین جبکہ ان کے بیٹے نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا۔
سڈنی کے مشہور بونڈائی ساحل پر منعقد ہونے والی یہودیوں کی تقریب پر ’دہشت گردانہ‘ حملے کو دو دن گزر چکے ہیں تاہم آسٹریلوی حکام بشمول وزیراعظم کی جانب سے تاحال اس پہیلی کا جواب نہیں دیا گیا کہ حملہ آور باپ اور بیٹے کا تعلق کس ملک سے تھا۔
بی بی سی نے پولیس کا مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSindh Police
سندھ پولیس نے کہا ہے کہ گھوٹکی گڈو کشمور لنک روڈ پر مسافر بس پر حملے کے بعد اغوا کیے گئے تمام مسافر بازیاب کرا لیے گئے ہیں۔
ڈی ایس پی اوباڑو عبدالقادر سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ دس مغویوں کو کچے جبکہ تین کو پکے کے علاقے سے بازیاب کرایا گیا ہے۔ پولیس افسر کے مطابق ایک لاش ملی ہے جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ کوچ سروس سے کمپیوٹرائزڈ لسٹ منگوائی گئی تھی تاکہ اس پر سوار مسافروں کی تفصیلات معلوم ہو سکیں۔ ان کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا گیا کہ کل 14 مغوی تھے۔
پولیس کے مطابق ڈاکو اس وقت پنجاب کے کچے علاقے ’کراچی کچہ‘ کی طرف فرار ہوئے ہیں۔ یہاں ایک مثلث بنتی ہے جس میں رحیم یار خان، کشمور اور گھوٹکی کے کچے کا علاقہ شامل ہے اور آگے دریائی علاقے میں جزائر ہیں جہاں یہ چھپ جاتے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک طرف دھند ہے اور دوسری طرف لاکھوں ایکڑوں پر گنے کی کاشت ہے، جس کی وجہ سے ڈاکوؤں کی تلاش میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ پولیس ڈرونز اور پیدل اہلکاروں کی مدد سے ان ڈاکوؤں کو تلاش کر رہی ہے۔
ڈی ایس پی کے اندازے کے مطابق کچھ ڈاکو زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دو زخمیوں کو اوباڑو ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔
کوئٹہ کے رہائشی کریم بخش نے بتایا کہ وہ چھٹیوں پر کوئٹہ سے راجن پور دوستوں کے پاس آئے تھے اور گذشتہ شب واپس جا رہے تھے۔ بس چلنے کے تقریباً بیس پچیس منٹ بعد ڈاکوؤں نے فائرنگ شروع کر دی، جس سے بس کے شیشے ٹوٹ گئے۔
ان کے مطابق اس کے بعد ڈاکو گاڑی میں سوار ہو کر لوگوں سے موبائل فون اور پیسے لے گئے اور تشدد بھی کیا۔ کریم بخش نے کہا کہ ’ڈاکو ہمیں اپنے ساتھ لے گئے اور یہ معلوم نہیں کہ وہ ہمیں کہاں کہاں لے جاتے رہے۔ اس کے بعد پولیس اور رینجرز آگئی اور مقابلہ ہوا جس کے بعد ہمیں رہائی ملی۔‘
ایک دوسرے زخمی عمیر، جو صادق آباد کے رہائشی ہیں، نے بتایا کہ وہ چھٹی ساتویں سیٹ پر بیٹھے تھے جب لوٹ مار کے بعد ڈاکو انھیں ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق پولیس اور رینجرز کے مقابلے کے بعد لوگوں کو بازیاب کرایا گیا۔ ان کے مطابق دو زخمی مسافر ابھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔