عمران خان کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کے لیے وفاق نہیں پنجاب سے رجوع کرنا ہوگا: وزیر قانون

پاکستان کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے سے وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کو اس مقصد کے لیے پنجاب کی پراسیکیوشن سے رجوع کرنا پڑے گا۔‘

خلاصہ

  • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پشاور سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں جمعرات کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • محکمہ موسمیات نے صوبہ سندھ کی ساحلی پٹی پر طوفان کا الرٹ جاری کرتے ہوئے کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کی ساحلی پٹی پر موسلا دھار بارشوں کی بھی پیش گوئی کی ہے۔
  • افغانستان میں برسرِ اقتدار افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اب تک تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افغانستان میں موجودگی کے ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں۔
  • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر نے کوئٹہ پریس کلب میں پیشگی اجازت کے بغیر کانفرنسوں اور سیمیناروں کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کا فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے وفاق نہیں حکومت پنجاب سے رجوع کرنا ہوگا: وزیر قانون, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے سے وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کو اس مقصد کے لیے پنجاب کی پراسیکیوشن سے رجوع کرنا پڑے گا۔‘

    ایوان صدر میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم نہیں ہوسکتی۔

    انھوں نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں آئینی ترمیم ہوسکتی ہے نہ ہی براہ راست کسی بِل کومتعارف کرایا جا سکتا ہے تاہم پہلے سے زیرغور بل منظور یا اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔

    کیا عمران خان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے؟

    پاکستان میں سابق وزرائے اعظم کا جیل جانا کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے خلاف مقدمات، وہ بھی نئی بات نہیں لیکن جو بات نئی ہے وہ کسی وزیراعظم کا اقتدار سے نکالے جانے کے بعد گلے کی ہڈی بن جانا ہے۔

    ایک سال جیل اور پارٹی کے خلاف بظاہر ایک مستقل مہم بھی اُن کی عوام میں پسندیدگی کو کم نہیں کر سکی۔ اب اس بازی میں ایک اور بڑے کردار، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی بھی شامل ہو گئی ہے اور جنرل فیض حمید اور عمران خان کے گرد بھی شاید گھیرا تنگ ہوتا نظر آرہا ہے۔

  2. چیف جسٹس کے قتل سے متعلق فتوے کو غیرآئینی اور غیرآئینی شرعی قرار دیا تو چار سے پانچ سو دھمکی آمیز پیغامات ملے: چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل, اعظم خان، بی بی سی اردو

    CII

    اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ مبارک ثانی کیس میں انھوں نے جب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک مذہبی جماعت کی طرف سے قتل سے متعلق فتوے کو غیرآئینی اور غیرشرعی قرار دیا تو اس کے بعد انھیں چار سے پانچ سو دھمکی آمیز پیغامات ملے۔

    اسلام آباد میں جمعرات کو میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ توہین رسالت کے معاملے پر شدت پسندی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ملک میں قوانین کی بھی پرواہ نہیں کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی نے توہین کی بھی ہو تو اس کی سزا دینا ریاست یا حکومت کا کام ہے۔

    Religion

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ قانون میں ہجوم کے ذریعے تشدد کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق توہینِ مذہب کے قوانین میں سزائے موت سمیت چار مختلف سزائیں ہیں مگر ’عام طور پر چاروں جرائم کے ارتکاب کی سزا ایک ہی سمجھ لی جاتی ہے۔‘

    ان کے مطابق ’گستاخی رسالت‘ کے مرتکب شخص کی قانون میں سزا تو سزائے موت ہے مگر ’قرآنِ کی بے حرمتی‘ کی سزا عمر قید ہے۔ اسی طرح ’امتناع قادیانیت آرڈیننس‘ کی خلاف ورزی کی سزا تین سال قید ہے۔ انبیا، صحابہ و اہل بیت کی شان میں گستاخی کی سزا سات برس قید ہے۔

    ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ توہینِ رسالت کے معاملے پر کسی کو قتل کا فتویٰ دینے کا اختیار نہیں ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ ’قتل کا فتویٰ دینا یا قانون ہاتھ میں لے کر خود انصاف کی کوشش غیر شرعی اور غیر آئینی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’عدم برداشت کے باعث لوگ مذہبی معاملات میں کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ مگر یہ بات واضح ہے کہ شریعت کسی شخص کو دوسرے کی جان لینے کا اختیار نہیں دیتی۔‘

  3. فیض حمید کو نواز شریف کے مطالبے پر ہٹایا گیا تو افغان طالبان سے مذاکرات کا پلان بھی ختم ہوا: عمران خان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے الزام عائد کیا کہ نواز شریف کے مطالبے پر اکتوبر 2021 میں جنرل فیض حمید کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹایا گیا اس کے بعد افغان حکومت سے مذاکرات کا پلان ختم ہوگیا۔

    اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’اگست میں امریکہ افغانستان سے گیا تو ستمبر میں ہم نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خاتمے کے لیے افغان حکومت سے بات کی۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’افغان حکومت ہمارے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار تھی۔ جنرل فیض حمید نے اپوزیشن کو بریفنگ بھی دی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ اب آسانی سے ’حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ دہشت گردی پی ٹی آئی کی وجہ سے ہو رہی ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی سے ملک تباہ ہو رہا ہے میں ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات، کچے میں ڈاکوؤں کے حملے اور سٹریٹ کرائم کا سارا نزلہ اسٹیبلشمنٹ پر گر رہا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے دور میں خفیہ ادارے دہشت گردی روکنے میں مصروف تھے۔ آج یہی خفیہ ادارے پی ٹی آئی کے پیچھے لگے ہیں جس کی وجہ سے اختلافات اور نفرتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

    ’قاضی فائز عیسیٰ کے جاتے ہی چار حلقے کھلیں گے تو حکومت اپنے آپ گر جائے گی‘

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کرنے کے لیے حکومت قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ مل کر سازش کررہی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کے جاتے ہی چار حلقے کھلیں گے تو حکومت اپنے آپ گر جائے گی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے لوگ ساتھ 70 ہزار ووٹوں سے جیتے ہیں، حیرانی ہے عون چوہدری نے ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے۔‘ عمران خان نے کہا کہ ’ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے، لوگ حکمرانوں پر اعتماد نہیں کرتے۔‘

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان نے کسی ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’آپ نے پتلے بٹھا دیے، ان کی جڑیں ہی نہیں ہیں یہ پیسے بنا رہے ہیں۔ عمران خان نے ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو مینڈیٹ واپس کرنا ہوگا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’دنیا میں امن شفاف الیکشن کے ذریعے آتا ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم کے مطابق انڈیا میں 70 کروڑ لوگوں نے ووٹ ڈالا، کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ انڈیا میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین تھی، میں بھی پاکستان میں ای وی ایم لانا چاہتا تھا۔ تاہم جنرل باجوہ، الیکشن کمیشن اور پیپلز پارٹی نے ای وی ایم نہیں آنے دی۔‘

    سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا ’8 فروری کو انھوں نے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا اب 8 ستمبر کو اسلام آباد میں ہر صورت جلسہ ہوگا۔ پوری قوم کو کہہ رہا ہوں 8 ستمبر کو باہر نکلیں۔‘

    ’روپوش رہنما ابھی باہر نہ نکلیں‘

    عمران خان نے اپنی جماعت کے روپوش رہنماؤں سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کسی روپوش رہنما کو باہر آنے کا نہیں کہا ہے۔ ہمارے جو لوگ روپوش ہیں، باہر آئیں گے تو ان کو اٹھا لیا جائے گا۔

    روپوش رہنماوں کو ہدایت ہے وہ ابھی باہر نہ نکلیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں جیل سے ڈر نہیں لگتا مسئلہ یہ ہے ہمارے لوگوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔‘ کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے لاہور کے صدر سمیت اظہر مشوانی کے دو بھائیوں کو اغوا کیا گیا۔ جیل سے ڈپٹی سپرینڈنٹ کو بھی اغوا کیا گیا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم کو کہا ہے کہ وہ اغوا شدہ لوگوں کا معاملہ کیوں نہیں دیکھتے۔ اگر ان کا پلان بی بن گیا اور وزیراعظم عہدے سے اتر گئے تو وہ بھی اغوا ہوسکتا ہے۔‘

  4. مُلک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا اور جنھوں نے قربانیاں دی ہیں ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا: شہباز شریف, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    PM

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے مل کر مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ بلوچستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے اور مُلک کے لیے جنھوں نے قربانیاں دی ہیں ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزرا اور پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر اور دیگر سویلین اور فوجی حکام نے شرکت کی۔

    انھوں نے کہا کہ 26 اگست کو بلوچستان میں جو انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا اس سے پورے ملک میں تشویش کی ایک شدید لہر دوڑ گئی اور اس نے پورے ملک کو غمزدہ کردیا۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک اہم اور خوبصورت صوبہ ہے ہمیں اس کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد تنظیموں، پاکستان کے خارجی دشمنوں اور جو اندر ’گھس بیٹھیے‘ ہیں انھوں نے مل کر یہ اس مُلک کے امن و امان کو خراب کرنے کے لیے منصوبہ بنایا جس میں معصوم پاکستانی ہلاک ہوئے۔ ان میں ایف سی اور لیویز کے جوانوں کے علاوہ سویلین شامل تھے۔

    انھوں نے کہا کہ مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ ہم افواج پاکستان کے سربراہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں وفاقی حکومت کے پورے تعاون سے اس مرحلے کو ہم عبور کریں گے۔

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہDGPR Balochistan

    ،تصویر کا کیپشنجمعرات کے روز جب وزیراعظم کوئٹہ پہنچے تو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اُن کا استقبال کیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نہ صرف بلوچستان اور خیبر پشتونخوا بلکہ پورے ملک میں دہشت گردی نے 2018 کے بعد دوبارہ جو سراٹھایا ہے اس کو کچلا جائے گا۔ پاکستان ضرور اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرے گا اور ہم مل کر ترقی اور خوشحالی کی راہ پر رواں دواں ہوں گے۔

    انھوں نے کہا ہماری سیکورٹی فورسز اور لوگوں نے جو قربانیاں دی ہیں ان کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا بلکہ جس طرح پہلے دہشت گردی کا خاتمہ ہوا تھا۔ اسی طرح آج پھر ہم اسی ارادے کے ساتھ یہاں جمع ہیں کہ ہم اپنی اجتماعی کاوشوں سے مُلک سے دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے۔

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 25 اگست کی شب شروع ہونے والے حملوں میں 10 فوجی اہلکاروں سمیت چار درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ ’معصوم شہریوں کے قاتلوں سے بدلہ لیا جائے گا۔‘

    تاہم بعد ازاں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بلوچستان میں ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

  5. بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جماعتِ اسلامی پر عائد پابندی اٹھا لی

    جماعتِ اسلامی

    ،تصویر کا ذریعہBangladesh Jamaat-e-Islami/x

    بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے بدھ کے روز جماعت اسلامی پر عائد پابندی اٹھالی ہے۔

    28 اگست کو بنگلہ دیش کی وزارتِ داخلہ نے اس بارے میں ایک نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’جماعت اسلامی بنگلہ دیش، اس کے طلبہ ونگ اسلامی چھاترا شبیر اور اس سے منسلک دیگر تنظیموں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔‘

    نوٹیفیکیشن کے مطابق جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ اسلامی چھاترا شبیر اور اس کی دیگر تنظیموں پر سے بھی پابندی اٹھا لی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ 2013 میں بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے جماعتِ اسلامی کی رجسٹریشن کو منسوخ کرتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تب سے جماعت الیکشن میں بھی حصہ نہیں لے سکی ہے۔

    گزشتہ سال بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے بھی جماعت اسلامی پر الیکشن لڑنے پر پابندی کی توثیق کر دی تھی۔

    جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مذہبی جماعت تصور کی جاتی ہے۔ اس کے ملک بھر میں لاکھوں حامی ہیں۔

    حکومت کی جانب سے پابندی ہٹائے جانے کے بعد جماعت اسلامی کے لیے بنگلہ دیش کی سیاست میں آپشن کھل گئے ہیں اور وہ ملک کے انتخابات میں اپنا کردار ادا کر سکے گی۔

  6. اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.4 ریکارڈ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں جمعرات کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.4 ریکارڈ کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندو کش ریجن افغانستان تھا اور اس کی گہرائی 215 کلومیٹر تھی۔

    ادارے کے مطابق زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر 57 منٹ پر محسوس کئے گئے جو چند سیکنڈ تک جاری رہے۔

    ان زلزلوں سے کسی قسم کے نقصان کی تاحال اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

    پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے علاقے مردان، ملاکنڈ، ہنگو، بونیر، شانگلہ، دیر، چارسدہ بھی زلزلے کے جھٹکوں کی اطلاعات ہیں۔

    اس کے علاوہ مانسہرہ صوابی، اپردیر، ایبٹ آباد، ہری پور، مانسہرہ، مردان میں بھی زلزلہ آیا۔

  7. کراچی، حیدرآباد میں موسلا دھار بارشوں اور سندھ کی ساحلی پٹی پر طوفان کا خدشہ: محکمہ موسمیات

    کراچی سمیت سندھ کی ساحلی پٹی پر موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    محکمہ موسمیات نے صوبہ سندھ کی ساحلی پٹی پر طوفان کا الرٹ جاری کرتے ہوئے کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کی ساحلی پٹی پر موسلا دھار بارشوں کی بھی پیش گوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب میں رن آف کچ کے علاقے کے اوپر ہواؤں کا شدید دباؤ موجود ہے، ہواؤں کا یہ سلسلہ سندھ کی ساحلی پٹی کی جانب آج رات یا کل تک پہنچ سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے اعلامیے کے مطابق رن آف کچھ انڈیا اور تھرپارکر کے قریب موجود مون سون کا مضبوط نظام آج کراچی اور حیدرآباد پہنچے گا۔

    بارش کے اس نظام کے باعث جمعرات کی شام کراچی، حیدرآباد اور دیگر اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔

    ادارے کے خبردار کیا ہے کہ ہواؤں کے اس دباؤ سے سائیکلون طوفان آنے کا خدشہ ہے جب کہ ہواؤں کے اس دباؤ کے وجہ سے سندھ کے علاقوں تھر پارکر، بدین، حیدر آباد، کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔

    ادارے کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ محکمہ موسمیات کا سائیکلون وارننگ سسٹم اس تمام صورتحال پر نظر رکھ رہا ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کےکئی مقامات پر 31 اگست تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار اور کہیں شدید موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔

    حکام کے مطابق پیشن گوئی کی مدت کے دوران 30-40 کے ٹی ایس کی تیز ہوائیں چلنے کے ساتھ ساتھ سمندری حالات انتہائی خراب رہنے کا امکان ہے، ماہی گیروں کو 30 اگست تک کھلے سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے موسم کی مخدوش صورت حال کے باعث ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے بھی متنبہ کیا ہے کہ اس دوران وہ سمندر میں کشتیاں لے کر نہ نکلیں۔

  8. غزہ: اسرائیلی فوج کی چوکی کے قریب فائرنگ کی زد میں آنے کے بعد عالمی ادارہ خوراک کا عملے کی نقل و حرکت روکنے کا اعلان

    عالمی ادارہ خوراک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج کی ایک چوکی کے نزدیک عالمی ادارہ خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کی ٹیم کے فائرنگ کی زد میں آنے کے بعد ادارے نے غزہ کی پٹی میں اپنے عملے کی نقل و حرکت روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ منگل کی شام وادی غزہ پل پر اس وقت پیش آیا جب ان کی دو بکتر بند گاڑیاں امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کے قافلے کو لے جا رہی تھیں۔

    عالمی ادارہ خوراک کا کہنا ہے کہ ان کی ایک گاڑی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔

    ڈبلیو ایف او کے مطابق عملے کی نقل و حرکت روکنے کے فیصلے کا اطلاق تا حکم ثانی رہے گا۔

    ادارے کا مزید کہنا ہے کہ ’قافلے کو اسرائیل کی طرف سے متعدد بار کلیئر کیا جا چکا تھا۔‘

    بی بی سی نے اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا ہے تاہم تاحال جواب موصول نہ ہو سکا۔

    بدھ کے روز جاری بیان میں عالمی ادارہ خوراک کا کہنا تھا کہ واقعیہ اس وقت پیش آیا جب ان کا عملہ غزہ کریم شالوم کی جانب واپس آ رہی تھا

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ایف پی کی گاڑیوں میں سے ایک کو اس وقت ’براہ راست‘ نشانہ بنایا گیا جب وہ اسرائیلی فوج کی چیک پوسٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔

    عالمی ادارہ خوراک کے مطابق گاڑی کو کم از کم 10 گولیاں لگیں جن میں پانچ ڈرائیور کی طرف، دو مسافروں کی نشت کی جانب اور تین گاڑی کے دیگر حصوں پر۔

    ڈبلیو ایف پی کا مزید کہنا تھا کہ غزہ جنگ کے دوران پیش آنے والا یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تاہم یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ضروری کلیئرنس حاصل ہونے باوجود ان کی گاڑی کو کسی چوکی کے قریب براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایجنسی نے مزید کہا ’یہ واقعہ غزہ کی پٹی میں تیزی سے کم ہوتی انسانی آبادی اور اس کو درپیش خطرات کی ایک واضح مثال ہے۔ یہاں تک کے بڑھتے ہوئے تشدد کے دوران ہمیں اپنی جان بچانے والی امداد فراہم کرنے کی صلاحیت پرسمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔‘

    ڈبلیو ایف پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سنڈی میک کین نے اس واقعے کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا۔

    انھوں نے مزید کہا، ’میں اسرائیلی حکام اور تنازعے کے تمام فریقوں سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ غزہ میں تمام امدادی کارکنوں کی حفاظت اوران کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں۔‘

  9. پاکستان نے اب تک ٹی ٹی پی کے افغانستان میں موجودگی کے ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں: افغان طالبان

    افغان آرمی چیف فصیح الدین فطرت

    ،تصویر کا ذریعہMOD/AFGHANISTAN

    افغانستان میں برسرِ اقتدار افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اب تک تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افغانستان میں موجودگی کے ثبوت فراہم نہیں کیے ہیں۔

    بدھ کے روز کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طالبان حکومت کے چیف آف آرمی سٹاف فصیح الدین فطرت کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی سکیورٹی کی کمزوریوں کا الزام افغانستان پر نہیں لگانا چاہیے۔

    فصیح الدین فطرت نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سب ہی جانتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانے پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں موجود ہیں اور وہ وہیں سے پاکستانی فوج اور حکومت کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کوئی یہ بات ثابت نہیں کر سکتا کہ ٹی ٹی پی کے افغانستان میں ٹھکانے ہیں۔امارت اسلامیہ نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان سے کسی دوسرے ملک پر حملہ نہیں کیا جائے گا، اور وہ اس وعدے پر قائم ہے۔‘

    واضح رہے کہ افغان آرمی چیف کا بیان پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغانستان سے کام کررہی ہے۔

    منگل کے روز کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان حکومت کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیاں کی تھیں۔

    پاکستان کے اعلیٰ سول اور فوجی حکام بارہا ایسے بیانات دے چکے ہیں جبکہ طالبان انھیں مسترد کرتے آئے ہیں۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

  10. کوئٹہ پریس کلب میں انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کانفرنس اور سیمینار پر پابندی عائد, محمد کاظم، بی بی سی ارد، کوئٹہ

    Quetta

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر نے کوئٹہ پریس کلب میں پیشگی اجازت کے بغیر کانفرنسوں اور سیمیناروں کے انعقاد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    پریس کلب کے صدر کے نام ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اس نوٹیفیکیشن کو انتہائی اہم سمجھا جائے۔ پریس کلب کے انتطامیہ کی جانب سے نوٹس بورڈ پر آویزاں کیے جانے والے اس نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کی موجودہ صورتحال میں ضلعی انتظامیہ سے پیشگی اجازت کے بغیر کسی تنظیم یا جماعت کو پریس کلب میں کانفرنس یا سیمنار منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    نوٹفیکیشن میں پریس کلب کے صدر کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ آپ انتظامیہ سے این او سی کے بغیر کسی کو بھی کانفرنس اور سیمینار کی اجازت نہ دیں۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پہلے سے آزادی کے ساتھ صحافت کرنا مشکل ہے لیکن کوئٹہ کے موجودہ ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کے بعد نت نئی پابندیوں کے احکامات اور ہدایات سامنے آ رہے ہیں۔

    اس سے قبل ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک سیمینار کے موقع پر پریس کلب کو تالا بھی لگادیا گیا تھا جس کے خلاف صحافتی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا۔

    بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام بُدھ کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر ’یوم شہدائے صحافت‘ کے موقع پر ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے یونین کے صدر خلیل احمد نے ڈپٹی کمشنر کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آزادی صحافت کے منافی قراردیا۔

    انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں آزادی صحافت کے منافی جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ کسی مارشل لا میں نہیں کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں بڑی تعداد میں صحافیوں کو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے دوران ہلاک کیا گیا لیکن ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا۔

    Quetta

    ،تصویر کا ذریعہQuetta Press Club

  11. آئی ایم ایف سے سات بلین ڈالر کے پروگرام کی منظوری کے لیے اچھی پیشرفت ہو رہی ہے: وزیر خزانہ, اعظم خان، بی بی سی اردو

    محمد اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ کی طرف سے پاکستان کے لیے سات بلین ڈالر کے پروگرام کی منظوری ستمبر میں ہو جائے گی۔ اسلام آباد سے متعلق آئی ایم ایف بورڈ میٹنگ پیشگی شرائط پوری ہونے کے بعد بلائے جانے کا امکان ہے۔

    دوست ممالک سے قرضوں میں مہلت سے متعلق ایک سوال پر وزیر خزانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس معاملے میں اس وقت پیشرفت درست سمت میں ہو رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس پروگرام کی منظوری کا ’ٹائم فریم‘ ابھی بھی ستمبر ہی ہے۔

    وزیر خزانہ نے اس سے قبل پاکستان کی پارلیمان کی ایک قائمہ کمیٹی کو بھی یہ بتایا تھا کہ پاکستان کو ستمبر میں آئی ایم ایف سے منظوری مل جائے گی۔ تاہم انھوں نے کسی خاص ہفتے یا تاریخ کا نہیں بتایا۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ 12 جولائی کو ہوا تھا۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے 30 اگست تک اس پروگرام کی منظوری کی توقع تھی مگر اس میں پاکستان کا نام شامل نہیں ہے۔ فنڈ کے ایگزیکٹیو بورڈ کا نیا شیڈول بھی جاری ہو گیا ہے اور پاکستان کا نام اب بھی بورڈ کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کا چھ ستمبر تک کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے، جس میں ویتنام، یوگنڈا اور ڈنمارک سمیت سات ممالک ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی درخواست کر رکھی ہے اور سات ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی حتمی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں دی جانی ہے۔

    مقامی میڈیا میں وزارت خزانہ کے ذرائع سے متعلق یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ حکومت دو ارب ڈالر کی اضافی ایکسٹرنل فنانسنگ کی شرط جلد پوری کرنے کے لیے پُر امید ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے 12 ارب ڈالر قرض رول اوور کرانے کیلئے کوشاں ہے۔

    وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق پاکستان کے ذمہ سعودی عرب کا 5 ارب ڈالر، چین کا چار ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات کا تین ارب ڈالر کا قرض ہے۔

  12. بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں 22 مسافروں کے قتل کا مقدمہ نامعلوم شدت پسندوں کے خلاف درج, محمد کاظم، بی بی سی ارد، کوئٹہ

    Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں 22 مسافروں کے قتل کا مقدمہ نامعلوم شدت پسندوں کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

    مقدمہ سی ٹی ڈی تھانہ لورالائی میں ایس ایچ او راڑہ ہاشم کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی اور تعزیرات پاکستان کے مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق ایس ایچ او نے کہا کہ 25 اگست کی شب رات ساڑھے دس بجے اچانک شاہراہ پر شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آئیں۔ پولیس اہلکار کے مطابق ’ایس او پیز پرعمل کرتے ہوئے چھت پر چڑھ کر دیکھا تو فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔ فائرنگ رات کو تین بجے تک جاری رہا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایس ایچ او نے کہا کہ انھوں نے اضافی نفری طلب کی ہے اور اضافی نفری آنے پر جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو مسافروں اور ڈرائیوروں کی لاشیں خون میں لت پت بڑی تھیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے اور فائرنگ سے 22 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے تین جبکہ زخمیوں میں ایک ملازم شامل تھا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی اکثریت کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا جبکہ ان میں سے دو افراد کا تعلق بلوچستان کے دو اضلاع دکی اور لورالائی سے تھا۔

    اس واقعے میں مجموعی طور پر مختلف قسم کی 22 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ 25 اور26 اگست کی درمیانی شب بلوچستان کے دس سے زائد اضلاع میں شدت پسندی کے جو واقعات رونما ہوئے ان میں انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے موسیٰ خیل میں رونما ہونے والا واقعہ سب سے بڑا تھا۔

    کوئٹہ کے شمال مشرق میں اندازاً چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ضلع موسیٰ خیل کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔

    25 اور26 اگست کو بلوچستان کے دس سے زائد اضلاع میں شدت پسندوں نے حملے کیے تاہم ان میں سے بڑے حملے موسیٰ خیل کے علاوہ قلات، لسبیلہ، مستونگ اور کچھی میں کیے گئے۔ لسبیلہ میں ایف سی کی کیمپ پر اجتماعی خود کش حملہ کیا گیا جبکہ مستونگ، قلات اور گوادر میں لیویز فورس اور پولیس کے تھانوں پر حملے میں کیے گئے۔

    یہ پہلا موقع تھا کہ بیک وقت بلوچستان کے ایک طویل و عریض علاقے میں حملے کیے گئے اور ان علاقوں میں کئی گھنٹے تک مسلح افراد شاہراہوں پرموجود رہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

    بلوچستان کے سیاسی رہنما نواب اکبربگٹی کی برسی کے موقع پر ہونے والے ان حملوں کو آپریشن ہیروف کا نام دیا گیا تھا۔ ان حملوں کے بعد بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس تھانوں پر حفاظتی انتظامات کو سخت کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

  13. بارش میں کراچی کے نالوں نے اچھا پرفارم کیا ہے، شہری غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں: میئر کراچی

    Karachi rain

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی کے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر بارش میں گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    انھوں نے ایکس پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’گذشتہ 48 گھنٹوں سے کراچی میں مسلسل بارش ہو رہی ہے اور گذشتہ رات سے زیادہ بارش ہو رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس بارش میں شہر کے نالوں نے اچھا پرفارم کیا ہے اور پانی کا بہاؤ درست ہے۔

    @murtazawahab1

    ،تصویر کا ذریعہ@murtazawahab1

    میئر کراچی کے مطابق البتہ نشیبی علاقوں میں پانی کی وجہ سے مشکلات ہیں، جہاں کام فوراً شروع کر دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’بلدیاتی عملے نے اچھا کام کیا ہے جس کا فائدہ کراچی شہر کو ہو گا۔‘

  14. بنگلہ دیش نے جماعت اسلامی پر عائد پابندی ختم کر دی

    ْبنگلہ دیش

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈاکٹر یونس کی بنگلہ دیش میں نگران حکومت نے جماعت اسلامی اور اس کی نظریاتی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ پر پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کے دور میں پابندی کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    بنگلہ دیش کی نگران حکومت نے اپنے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ پر دہشتگردی اور پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔

    شیخ حسینہ واجد نے اپنے استعفے سے قبل یہ پابندی عائد کی تھی مگر پھر طلبہ تحریک کی وجہ سے پانچ اگست کو انھیں حکومت اور ملک چھوڑنا پڑا۔ اس وقت شیخ حسینہ واجد انڈیا میں رہائش پذیر ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں انھیں قتل سمیت متعدد مقدمات کا سامنا ہے۔

  15. پشاور میں بھی تاجر برادری کی ہڑتال کی وجہ سے دکانیں بند اور سڑکیں سنسان نظر آ رہی ہیں, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پشاور

    پاکستان کی تاجر برادری نے حکومت کی جانب سے متعارف کروائی گئی تاجر دوست سکیم اور مہنگی بجلی کے خلاف ملک بھر میں بدھ کے روز شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    حکومت مخالف اس احتجاج میں جماعت اسلامی، جے یو آئی ف سمیت بعض دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان سامنے آیا ہے۔

    تاجر ہڑتال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    16 اگست کو تاجر برادری نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھاری ٹیکسز، مہنگی بجلی اور ’تاجر دوست سکیم‘ کے خلاف 28 اگست کو ملک گیر ہڑتال کریں گے۔

    Peshawar

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  16. انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ سب میرین کیبلز میں خرابی ہے: پی ٹی اے

    internet

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں جاری انٹرنیٹ کی سست روی کی بنیادی وجہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جوڑنے والی سات بین الاقوامی سب میرین کیبلز میں سے دو میں خرابی کا واقع ہونا ہے۔

    پی ٹی اے کے مطابق ایس ایم ڈبلیو 4 سب میرین کیبل میں خرابی اکتوبر 2024 کے اوائل تک ٹھیک ہونے کا امکان ہے جبکہ سب میرین کیبل اے اے ای - 1 کی مرمت کر دی گئی ہے، جس سے انٹرنیٹ کی موجودہ صورتحال میں بہتری آئے گی۔

  17. سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کی جائے: مجوزہ حکومتی ترمیمی بل

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافے لیے قانون سازی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ وزرات قانون کی طرف سے تیار کردہ بل کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23 کی جا رہی ہے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے 26 جولائی کو سپریم کورٹ میں دو ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد ججز کی تعداد 17 سے بڑھ کر 19 ہو گئی تھی۔

    حکومت نے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اس ترمیمی بل کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بل کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں اس وقت زیر التوا مقدمات کو دیکھ کر کیا گیا ہے کیونکہ انصاف میں تاخیر انصاف نہ دینے کے مترادف ہے۔

    ترمیمی بل کے مطابق ججز کی تعداد بڑھانے سے سپریم کورٹ کے زیر التوا کیسز حل کرنے میں مدد ملے گی اور سپریم کورٹ سائلین کو انصاف کی بروقت یقین دہانی کرا سکے گی۔

    اس بل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ججز تعیناتی میں ان کی ماحولیات، بین الاقوامی تجارت اور سائبر کرائم کے قوانین میں مہارت مدنظر رکھی جائے گی۔

    24 جولائی کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے بیشتر ارکان نے اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججوں کی منظور شدہ تعداد میں اضافے کی ضرورت پر اتفاق کیا تاہم اس حوالے سے بل پر غور ان کے اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ججز کی تعداد کا تعین زیر التوا تفصیلات کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہمیں اسے 17 سے بڑھا کر 24 کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

  18. یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کا معاملہ، ملازمین احتجاج کے لیے ڈی چوک روانہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    employee

    حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کا معاملہ سامنے آنے پر ملازمین احتجاج کا دائرہ کار بڑھا کر یوٹیلیٹی سٹورز ہیڈ آفس کے سامنے سے ڈی چوک کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔

    ملازمین کا کہنا ہے کہ ان کا دھرنا اب ڈی چوک میں ہوگا۔

    یاد رہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے ملازمین نے سٹورز کی ممکنہ بندش کے خلاف سوموار کے روز سے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت ملک میں تمام یوٹیلیٹی سٹورز کو بند کرنے پرغور کر رہی ہے۔

    بدھ کے روزیوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن ملازمین کے احتجاج کو آج تیسرا دن ہے جبکہ ان کا مطالبہ ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کا فیصلہ جب تک واپس نہیں لیا جاتا احتجاج تب تک جاری رہے گا اور تمام ملازمین حکومت کے غیر منصفانہ اورغیر قانونی فیصلے کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کریں گے۔

    سیکریٹری وزارت صنعت و پیداوار کے بیان کے بعد سنیچر کے روز وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین نے اس تاثر کو مسترد کیا تھا اور اصرار کیا تھا کہ حکومت کارپوریشن کی تنظیم نو کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

    یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن ملک بھر میں 4,000 سے زیادہ سٹورز چلا رہی ہے جن کا مقصد عوام کو کم نرخوں پر بنیادی اشیا فراہم کرتا ہے۔

    یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن ان وزارتوں اور محکموں کی فہرست میں شامل ہے جن کی حکومت نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے۔

    یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کی بندش کے خلاف ملازمین کے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر اسلام آباد انتظامیہ نے کنٹینرز رکھ کر ڈی چوک سیل کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ رواں سال جون میں قومی اسمبلی کے دوران میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ حکومت 24 ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے جن میں قومی ایئر لائن پی آئی اے، روزویلٹ ہوٹل، فرسٹ وومن بینک، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور دیگر شامل ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ پی ڈبلیو ڈی کی بندش کے خلاف ملازمین کا اسلام آباد میں احتجاج جاری ہے۔

    پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ سری نگر ہائی وے پر آگئے اور ہائی وے پر ٹریفک کو بلاک کردیا۔

    ملازمین کا موقف ہے کہ محکمے کو بند کرکے ملازمین کو بے روزگار کیا جا رہا ہے۔ ملازمین نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔

  19. ’بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کی وجہ سے تاجروں کے لیے کاروبار کرنا مشکل ہے‘

    شٹر ڈاؤن ہڑتال
    ،تصویر کا کیپشنکوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی تاجر برادری کی جانب سے بدھ کے روز شٹرڈاون ہڑتال کی جارہی ہے

    مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کی وجہ سے تاجروں کے لیے کاروبار کرنا مشکل ہے۔ کامیاب ہڑتال نے یہ ثابت کردیا کہ تاجرحکومت کی بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کے فیصلوں کے خلاف ہیں۔

    یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے بھاری ٹیکسوں کے اجرا اور بجلی کے نرخوں کے خلاف تاجر برادری کی شٹر ڈاؤن ہڑتال آج ملک کے مختلف حصوں میں جاری ہے جبکہ حکومت مخالف اس احتجاج میں تاجروں کو مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

    اسی سلسلے میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی تاجر برادری کی جانب سے بھی شٹرڈاون ہڑتال کی جارہی ہے۔

    شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال کی وجہ سے کوئٹہ شہر میں لیاقت بازار، قندھاری بازار،پرنس روڈ اور عبدالستار روڈ سمیت دیگر علاقوں میں تمام دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔ شہر میں تجارتی مراکز کی بندش کے ساتھ ساتھ ٹریفک بھی معمول سے بہت زیادہ کم ہے۔

    مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے میڈیا کے نمائندوں سے بار کرتے ہوئے کہا کہ بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کی وجہ سے تاجروں کے لیے کاروبار کرنا مشکل ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’کامیاب ہڑتال نے یہ ثابت کردیا کہ تاجرحکومت کی بھاری ٹیکسوں اور مہنگی بجلی کے فیصلوں کے خلاف ہیں۔ اب حکومت کو ہوش کا ناخن لیتے ہوئے ٹیکسوں اور بجلی کی قیمت میں کمی کرنی چائیے۔‘

    اسلام آباد میں ہڑتال

    ،تصویر کا ذریعہscreen grab/social media

    ،تصویر کا کیپشنراولپنڈی اوراسلام آباد میں بھی بدھ کے روز چھوٹی بڑی تمام مارکیٹس بند ہیں

    دوسری جانب تاجر دوست سکیم اور بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس کے خلاف آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس سے ملحق (جڑواں شہر) راولپنڈی کے مختلف کاروباری مراکز بھی بند رہے۔

    صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت نے ظالمانہ ٹیکس کا قانون واپس نہ لیا تو اگلے دو دن کی ہڑتال کا اعلان کر دیں گے۔