یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
دو ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
اسرائیل کی ٹریڈ یونین ’ہستادروت‘ نے پیر کو عام ہڑتال کی کال دے دی ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے وزیر دفاع یاہو گیلنٹ نے اپنے وزیر اعظم نتن یاہو سے مغویوں کی رہائی کے لیے معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں لکھا کہ ’پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اور اس دوران بے دردی سے مغویوں کا قتل بھی ہوا ہے۔‘
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
دو ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل کی ٹریڈ یونین ’ہستادروت‘ نے پیر کو عام ہڑتال کی کال دے دی ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے وزیر دفاع یاہو گیلنٹ نے اپنے وزیر اعظم نتن یاہو سے مغویوں کی رہائی کے لیے معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں لکھا کہ ’پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے اور اس دوران بے دردی سے مغویوں کا قتل بھی ہوا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ مغوی جو ابھی بھی حراست میں ہیں انھیں ہر صورت واپس گھر لانا چاہیے۔ اس سے قبل اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے بھی عوام سے عام ہڑتال میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے تا کہ اسرائیلی حکومت پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ آج بھی اسرائیل میں مغوی کی رہائی کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اُدھر لیبر فیڈریشن کے چیئرمین آرنن بر ڈیوڈ نے تل ابیب میں واقع اپنی تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں اسرائیل کے مقامی وقت کے مطابق ان مغویوں کے خاندان والوں سے چار بجے ملاقات کی اور ہڑتال میں اپنی یونین کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
مغوی بنائے جانے والے افراد کی رہائی کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے عام عوام سے درخواست کرنے کے بعد اسرائیل کی طاقتور سمجھے جانے والی یونین سے اس احتجاج میں شریک ہونے کی اپیل کی تھی۔
حماس کی طرف سے مغوی بنائے جانے والوں کے رشتہ داروں نے ایک فورم بنا رکھا ہے جس کے پلیٹ فارم پر اب انھوں نے ملک بھر میں عام ہڑتال کی کال دی ہے۔ اس ہڑتال کا مقصد اسرائیل کی حکومت کو غزہ میں مغویوں کی رہائی کے لیے مذاکرات پر مجبور کرنا ہے۔
یہ خاندان اسرائیل کی حکومت یہ مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ ان مغویوں کی رہائی کے لیے جلد سے جلد حماس سے ڈیل کی جائے۔ اب انھوں نے ملک بھر میں نظام زندگی مفلوج کر کے حکومت کو ایسا کرنے پر مجبور کرنے کے لیے احتجاج کا رستہ چنا ہے۔
واضح رہے کہ یہ ہڑتال کی کال ایک ایسے وقت پر دی گئی ہے جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی سے حماس کے زیر حراست چھ یرغمالیوں کی لاشیں ملنے کی تصدیق کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق یرغمالیوں کی لاشیں سنیچر کے روز رفح کے علاقے میں زیر زمین سرنگ میں سے بازیاب ہوئیں۔ ان میں دو خواتین یرغمالیوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جن یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں ان میں کارمل گیٹ، ایڈن یروشلمی، ہرش گولڈ برگ پولن، الیگزینڈر لوبانوف، الموگ ساروسی اور سارجنٹ اوری ڈینینو ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈم ڈینیئل ہگاری نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق حماس کے جنگججوں نے ان کے پہنچنے سے کچھ دیر قبل ہی ان چھ یرغمالیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یرغمالیوں میں امریکی شہری گولڈ برگ پولن کی ڈیڈ باڈی ملنے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اس خبر نے انھیں دلی رنج اور غصے کی کیفیات سے دوچار کیا ہے۔
اتوار کی صبح اپنے بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل بھیج دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ ان یرغمالیوں کو سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اغوا گیا تھا اور انھیں غزہ کی پٹی میں عسکریت پسند تنظیم حماس نے قتل کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بیان میں مزید کہا گیا کہ یرغمالیوں کے اہل خانہ کو ان کی ہلاکتوں کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب صدر بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ گولڈ برگ ہرش ان بے گناہوں میں شامل تھے جنھیں سات اکتوبر کو اسرائیل میں ا اس وقت وحشیانہ حملے میں نشانہ بنا کر یرغمالی بنایا گیا جب وہ وہاں امن کے لیے جانے والے موسیقی کے میلے میں شرکت کے لیے گئے تھے۔
’ گولڈ برگ نے حماس کے وحشیانہ قتل عام کے دوران دوستوں اور اجنبیوں کی مدد کرتے ہوئے اپنا بازو کھو دیا۔ ابھی وہ 23 سال کے تھے اور اس عمر میں وہ دنیا سے چلے گئے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر نے کہا کہ ان کے والدین، جون اور ریچل بہادر، عقلمند اور ثابت قدم رہے ہیں یہاں تک کہ انھوں نے ناقابل تصور حالات کو بھی برداشت کیا ہے۔
یاد رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے غزہ میں 40,530 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ، مصری اور قطری ثالث جنگ بندی کے معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے معاہدے کے تحت حماس اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں 97 یرغمالیوں کو رہا کرے گی ۔ ان قیدیوں میں سے اب تک کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ میں بیرون ملک سے آنے والے 47 برس کے مریض میں ایم پاکس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ یوں اس صوبے میں چوتھے مریض میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے۔
باہر سے آنے والے مریض کا تعلق ضلع پشاور سے ہے۔ ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ خیبر پختونخواہ پشاور کے ڈاکٹر ارشاد علی نے کہا کہ ایئر پورٹ پر میڈیکل ٹیم نے سکریننگ کے دوران علامات ظاہر ہونے پر مریض کو پولیس سروسز ہسپتال منتقل کیا۔ ریپڈ ریسپانس ٹیم نے مریض سے پولیس ہسپتال میں زخم سے نمٹنے لے کر لیبارٹری بھجوا دیے۔
ڈاکٹر ارشاد علی کے مطابق مریض کی حالت بہتر ہے اور پولیس سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ ان کے مطابق ’ابھی تک کوئی بھی مقامی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔‘
ڈاکٹر ارشاد علی کے مطابق محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے ایم پاکس کے لیے سرویلنس اور رسپانس کا مربوط نظام تشکیل دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ایک حملے میں دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ حملہ چمن پھاٹک پر واقع ایف سی کے چیک پوسٹ پر کیا گیا۔ ڈی ایس پی سول لائنز مالک درانی نے فون پر بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے ایک دستی بم پھینکا جو کہ زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں دو راہگیر زخمی ہوئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سول ہسپتال کوئٹی منتقل کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے دونوں افراد سویلین ہیں۔ محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے افراد کی شناخت اسامہ اور غلام حسین کے ناموں سے ہوئی ہے۔
چمن پھاٹک ایف سی کے میس کے علاوہ گورنر ہائوس کوئٹہ کے قریب واقع ہے۔ چمن پھاٹک پر ایف سی کا یہ چیک پوسٹ ریلویز لائن کے ساتھ ریلوے کراسنگ کے ساتھ واقع ہے۔ اس علاقے میں پہلے کوئی چیک پوسٹ نہیں تھا تاہم سنہ 2006 کے بعد کوئٹہ شہر میں حالات زیادہ خراب ہونے کے بعد چمن پھاٹک سمیت شہر کے متعدد علاقوں میں ایف سی اور پولیس کے مستقل چیک پوسٹ قائم کی گئیں۔ گذشتہ حکومت میں ایف سی کی متعدد چیک پوسٹوں کو ختم کیا گیا لیکن چمن پھاٹک اور بعض دیگر علاقوں میں یہ ابھی تک قائم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHandout
اسرائیل نے غزہ کی پٹی سے حماس کے زیر حراست چھ یرغمالیوں کی لاشیں ملنے کرنے کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق یرغمالیوں کی لاشیں سنیچر کے روز رفح کے علاقے میں زیر زمین سرنگ میں سے بازیاب ہوئیں۔ ان میں دو خواتین یرغمالیوں کی لاشیں بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جن یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں ان میں کارمل گیٹ، ایڈن یروشلمی، ہرش گولڈ برگ پولن، الیگزینڈر لوبانوف، الموگ ساروسی اور سارجنٹ اوری ڈینینو ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈم ڈینیئل ہگاری نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق حماس کے جنگججوں نے ان کے پہنچنے سے کچھ دیر قبل ہی ان چھ یرغمالیوں کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔
یرغمالیوں میں امریکی شہری گولڈ برگ پولن کی ڈیڈ باڈی ملنے کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اس خبر نے انھیں دلی رنج اور غصے کی کیفیات سے دوچار کیا ہے۔
اتوار کی صبح اپنے بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل بھیج دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ ان یرغمالیوں کو سات اکتوبر 2023 کو حماس نے اغوا گیا تھا اور انھیں غزہ کی پٹی میں عسکریت پسند تنظیم حماس نے قتل کر دیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یرغمالیوں کے اہل خانہ کو ان کی ہلاکتوں کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب صدر بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ گولڈ برگ ہرش ان بے گناہوں میں شامل تھے جنھیں سات اکتوبر کو اسرائیل میں ا اس وقت وحشیانہ حملے میں نشانہ بنا کر یرغمالی بنایا گیا جب وہ وہاں امن کے لیے جانے والے موسیقی کے میلے میں شرکت کے لیے گئے تھے۔
’ گولڈ برگ نے حماس کے وحشیانہ قتل عام کے دوران دوستوں اور اجنبیوں کی مدد کرتے ہوئے اپنا بازو کھو دیا۔ ابھی وہ 23 سال کے تھے اور اس عمر میں وہ دنیا سے چلے گئے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ ان کے والدین، جون اور ریچل بہادر، عقلمند اور ثابت قدم رہے ہیں یہاں تک کہ انھوں نے ناقابل تصور حالات کو بھی برداشت کیا ہے۔
یاد رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے غزہ میں 40,530 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ، مصری اور قطری ثالث جنگ بندی کے معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے معاہدے کے تحت حماس اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں 97 یرغمالیوں کو رہا کرے گی ۔ ان قیدیوں میں سے اب تک کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 1.86 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے اور اس کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 259 روپے 10 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3.32 روپے کمی کے بعد 262.75 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 2.15 روپے فی لیٹر کمی اورلائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2.97 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے۔
اس کمی کے بعد ان کی نئی قیمتیں علی الترتیب 169.62 روپے فی لیٹر اور 154.05 روپے فی لیٹر ہو گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگ سے متاثرہ غزہ کی پٹی پر آج سے پولیو مہم کا آغاز ہو رہا ہے جہاں اقوام متحدہ کے ادارے صحت کے مقامی حکام کے ساتھ چھ لاکھ 40 ہزار بچوں کو پولیو کی ویکسینیشن کی مہم کا آغاز ہو رہا ہے۔
پولیو کی اس مہم کا دارومدار اسرائیلی افواج اور حماس کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں مقامی وقفوں کی ایک سیریز پر ہے جس کا پہلا مرحلہ اتوار(آج) سے شروع ہونے والا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 10 سال سے کم عمر کے کم از کم 90 فیصد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین دی جائے گی۔
یاد رہے کہ غزہ میں 25 سالوں میں پولیو کے پہلے تصدیق شدہ کیس کے سامنے آنے کے بعد یہ مہم شروع کی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک حکام کے مطابق اگر اس وائرس پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف وہاں مزید بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ وسیع پیمانے پر علاقائی وبا پھیلنے کا خدشہ ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں پولیو مہم کے دوران تین روز کے لیے جنگ میں وقفے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسرائیل ان تین روز میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ سے دوپہر تین بجے تک کے وقفے پر راضی ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’میرا بیٹا دوسرے بچوں کی طرح جینا اور چلنا چاہتا ہے۔‘
چند ماہ قبل بنائی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ غزہ کی پٹی پر عبدالرحمان ابو جودیان نامی بچہ چند ماہ میں گھٹنوں کے بل چلنا شروع ہو گیا تھا تاہم اب ایک سال کی عمر کو پہنچنے پر وہ چلنے سے قاصر ہے۔
وسطی غزہ میں ایک پرہجوم کیمپ میں مقیم ان کی والدہ ان کی والدہ نوین پریشان ہیں کہ ان کا بچہ شاید اب کبھی نہ چل پائے۔
یہ بہت چونکا دینے والا معاملہ ہے۔ نوین نےاپنے بیٹے کی پولیو کی حالیہ تشخیص کو یاد کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا بیٹا اب جزوی طور پر ایک ٹانگ سے مفلوج ہو گیا ہے۔
’میں اس کی توقع نہیں کر رہی تھی۔ اب وہ چلنے کے قابل نہیں ہوسکتا کیونکہ بچے کو مناسب طبی دیکھ بھال کے بغیر چھوڑ دیا گیا تھا۔
سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے زیرقیادت ایک غیر متوقع اوربڑے حملے میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
ان دنوں نوزائیدہ عبدالرحمان کو پولیو سے بچاو کے معمول کے ٹیکے لگوائے جانے تھے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔
اس کے بعد ہونے والی جنگ کے دوران، غزہ کے بالکل شمال سے ابو جودیان کا خاندان پانچ مرتبہ مختلف علاقوں میں منتقل ہوا ہے جنمیں پہلے غزہ شہر، پھر مرکز میں مختلف مقامات، بہت دور جنوب میں رفح اور واپس دیر البلاح کی طرف کیمپوں میں وہ مقیم رہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً 90 فیصد غزہ کے باشندے بے گھر ہو چکے ہیں اور وہاں صحت کی شعبے بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔
جنگ کی صورت حال میں زیادہ تر بچے باقاعدہ حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ گئے اور عبدالرحمان کی طرح وہ انفیکشن کا شکار ہو گئے ہیں۔
عبدالرحمان کی والدہ نوین نے مزید بتایا،
’میں اپنے بیٹے کی ویکسینیشن نہیں کرانے پر خود کو مجرم محسوس کرتی ہوں لیکن میں اپنے حالات کی وجہ سے مجبور رہی۔ ‘
نوین کو امید ہے کہ ان کے بیٹے کو علاج کے لیے غزہ سے باہر لے جایا جائے گا۔
’میرا بیٹا دوسرے بچوں کی طرح جینا اور چلنا چاہتا ہے۔‘
نوین جنگ کے بعد سے مسلسل پریشانیوں میں گھری ہوئی ہیں۔ انھیں اپنے نو بچوں کے لیے پینے کا صاف پانی تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہوتی ہے۔
عارضی خیمے کے قریب، جہاں وہ رہتے ہیں، گلی سے سیوریج کا پانی بہتا ہے اور یہ حالات بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے مثالی ہیں خاص طور پر پولیو جو کہ انتہائی متعدی مرض ہے۔
جون میں لیے گئے گندے پانی کے نمونوں میں وائرس کی دریافت کے بعد سے اقوام متحدہ کی ایجنسیاں ہنگامی طور پر بڑے پیمانے پر ویکسینیشن پروگرام قائم کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ غزہ میں پانچ روز پہلے ایک 10 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی نشاندہی ہوئی تھی، یہ غزہ میں 25 سال بعد رپورٹ ہونے والا پہلا پولیو کیس ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے چھ لاکھ 40 ہزار سے زیادہ بچوں کو پولیو ویکسینیشن کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق غزہ میں پولیو ویکسینیشن مہم یکم ستمبر سے شروع کی جائے گی اور پولیو ویکسینیشن کے دوران غزہ جنگ میں انسانی بنیادوں پر وقفہ ہوگا۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی پولیو ویکسینیشن مہم کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ میں انسانی بنیادوں پر وقفےکی درخواست کا خیر مقدم کیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے کا کہنا ہے اس مہم میں تین الگ الگ مراحل میں، پٹی کے وسطی، جنوبی اور شمالی حصوں میں پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
ڈبلیو ایچ او کا مقصد پوری پٹی میں ویکسین کی 90 فیصد کوریج حاصل کرنا ہے، جو غزہ کے اندر وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

چین اور فلپائن نے بحیرہ جنوبی چین کے متنازعہ علاقے میں ایک دوسرے پر کوسٹ گارڈ کے جہازوں کو ٹکرانے کا الزام عائد کیا ہے۔
فلپائن نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی جہاز ’براہ راست اور جان بوجھ‘ کر اس کے جہاز سے ٹکرایا جبکہ بیجنگ نے فلپائن پر ’جان بوجھ کر‘ چینی جہاز سے ٹکرانے کا الزام لگایا ہے۔
بحیرہ جنوبی چین میں سنیچر کے روز سبینا شوئل کے مقام پر ہونے والا یہ تصادم دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازعے میں تازہ ترین واقعہ ہے۔
گذشتہ دو ہفتے کے دوران اس علاقے میں کم از کم تین ایسے واقعات ہوئے، جس میں دونوں ملکوں کے بحری جہاز شامل ہیں۔
واضح رہے کہ چین کا بحیرہ جنوبی چین کے وسیع علاقے پر ملکیت کا دعویٰ ہے، جس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔
اس میں سپارٹلی جزائر بھی شامل ہیں جن کے کچھ حصوں پر فلپائن کا بھی دعوی ہے۔ ملائشیا، ویتنام، برونائی اور تائیوان کی جانب سے بھی اسی طرح کے دعوے جاتے ہیں۔
بحیرہ جنوبی چین پر مختلف ممالک کے دعوؤں نے اسے دنیا کے سب سے بڑے فلیش پوائنٹس میں سے ایک بنا دیا ہے، خاص طور پر جب امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
پہلی بات یہ کہ ان پانیوں تک رسائی تائیوان کے دفاع کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے جس پر چین کے دعوے شدت اختیار کر چکے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ ان آبی گزرگاہوں سے ہر سال پانچ ٹریلین ڈالر کی عالمی تجارت ہوتی ہے جس سے یہ خدشات پیدا ہو جاتے ہیں کہ بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے تجارت محدود ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے اور ریلی نکالنے پر جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو رہا کر دیا ہے۔
گزشتہ روزسابق سینیٹر مشتاق احمد ، ان کی اہلیہ سمیت دیگر افراد کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر ایکسپریس چوک سے گرفتار کیا گیا تھا۔
جماعت اسلامی کی قیادت کے پولیس سے رابطے کے بعد گرفتار افراد کو رہا کیا گیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد کو اسلام آباد میں فلسطین کے حق میں منعقد کردہ ’غزہ بچاؤ مہم‘ کی احتجاجی ریلی سے حراست میں لیا گیا تھا۔
اس احتجاجی ریلی کے منتظمین نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر مطالبہ کیا تھا کہ گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔
منتظمین نے مزید لکھا تھا کہ ’پر امن احتجاج ہمارا حق ہے اور فلسطین کے لیے احتجاج سے ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
اس احتجاجی ریلی کے پیش نظر جناح ایونیو میں ایکسپریس چوک کی طرف جانے والا راستہ بند کیا گیا تھا جبکہ کشمیر ہائی وے سے پاک سیکرٹریٹ تک میٹروبس سروس بھی معطل کر دی گئی۔
اسلام آباد پولیس نے بیان جاری کیا تھا کہ ایکسپریس چوک میں احتجاج کرنے دیا جائے گا نہ کسی کو کھڑا ہونے کی اجازت ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل رواں سال جون میں سینیٹر مشتاق کی سربراہی میں اسلام آباد میں41 روز تک سیو دی غزہ دھرنا جاری رہا تھا جو بعد میں وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات اور یقین دہانی کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی اور عراقی سکیورٹی فورسز نے ایک مشترکہ آپریشن میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے 15 ’کارندوں‘ کو ہلاک کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ یہ مشترکہ آپریشن جمعرات کی صبح مغربی عراق میں کیا گیا تھا۔
بیان کے مطابق امریکی اور عراقی فوجی اہلکاروں کا نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے اراکین سے سامنا ہوا جو کہ ’متعدد ہتھیاروں، گرینیڈز اور دھماکہ خیز خودکش جیکٹس‘ سے لیس تھے۔
سینٹکام کے مطابق آپریشن کے دوران عام شہریوں کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کو محکمہ دفاع کے افسران نے بتایا ہے کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف آپریشن میں سات امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ سینٹکام نے اس حوالے سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اس سے قبل عراقی فوج نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی جانب سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے اور بعد میں زمینی آپریشن کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ آپریشن صحرا اور غاروں میں قائم ٹھکانوں پر کیا گیا تھا۔
عراقی فوج کے مطابق آپریشن کے دوران شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور وہاں سے ملنے والے ہتھیاروں کو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ وہاں سے اہم دستاویزات بشمول شناختی پیپرز اور مواصلاتی ڈیوائسز بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی نیشنل سکیورٹی کونسل اور امریکی محکمہ دفاع نے بی بی سی کو مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے سینٹکام سے رابطہ کرنے کو کہا تھا۔
سینٹاکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی قیادت میں شامل افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ اس گروپ کی خطے میں اور اس سے باہر امریکیوں اور عراقی اتحادیوں پر حملے کرنے کی صلاحیتوں کو ختم کیا جا سکے۔
امریکہ نے دسمبر 2021 میں عراق میں اپنے فوجی آپریشنز کو ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا اور اس وقت وہاں صرف تقریباً ڈھائی ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن کا کام عراقی اتحادیوں کو ’معاونت‘ فراہم کرنا ہے۔
پاکستان کے شہر کراچی میں پولیس نے 19 اگست کو تیز رفتار گاڑی سے دو افراد کو کُچلنے والی ڈرائیور نتاشہ کے خلاف منشیات کے استعمال پر ایک اور مقدمہ درج کر لیا ہے اور عدالت نے ملزمہ کو نئے مقدمے میں گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
پولیس نے بہادر آباد تھانے میں منشیات کے استعمال پر نتاشہ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق حادثے کے وقت ملزمہ ’میتھم فیٹامین (آئس) کے نشے کی حالت میں تھی۔‘
ایف آئی آر کے مطابق ملزمہ کے خلاف مقدمہ ’امتناع منشیات پروہبیشن انفورسمنٹ آف حد 1979‘ کے تحت میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے ملزمہ نتاشا کو نئے مقدمے میں گرفتار کرنے کی اجازت دیتے ہوئے سنئیر سپرٹینڈنٹ وویمن جیل کو احکامات جاری کیے ہیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ سے تصدیق ہوئی ہے کہ ملزمہ کے سسٹم میں آئس پائی گئی ہے۔ لہذا میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں ملزمہ کے خلاف نیا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزمہ سے انوسٹی گیشن کی اجازت بھی دی ہے۔
خیال رہے پولیس نے خاتون ڈرائیور کے خلاف پہلا مقدمہ دفعہ 322 کے تحت قتل بالسبب کا درج کیا تھا۔ اس حادثے میں 60 سالہ عمران عارف اور ان کی 22 سالہ بیٹی آمنہ ہلاک ہوئی تھی۔
خیال رہے کراچی کی ایک مقامی عدالت نے گذشتہ دنوں ملزمہ کو 14 دنوں کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
بحیرہ عرب میں ہوا کے کم دباؤ کے باعث بننے والا سمندری طوفان ’اسنیٰ‘ کراچی کی ساحلی پٹی سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر چلا گیا ہے تاہم کراچی میں آج بھی وقفے وقفے سے بارش اور مطلع ابر آلود رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے بی بی سی کی نامہ نگار آسیہ انصر سے بات چیت میں بتایا کہ اس وقت سمندری طوفان کراچی کی ساحلی پٹی سے دور ہٹ رہا ہے جبکہ گوادر سے اس کا فاصلہ 380 کلو میٹر کے فاصلے پر آ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں جانے سے روک دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے دوران سمندر میں شدید طغیانی رہ سکتی ہے، سمندر میں ہوائیں 60 سے 70 اور جھکڑ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کو چھو سکتے ہیں، کراچی اور سندھ کی ساحلی پٹی پر ماہی گیر 31 اگست تک گہرے سمندرمیں نہ جائیں۔
محکمہ موسمیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلوچستان کے ماہی گیریکم ستمبر تک گہرے سمندر میں نہ جائیں۔
یاد رہے کہ یکم ستمبر تک بلوچستان کےمختلف اضلاع میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
48 سال بعد اگست کے مہینے میں سمندری طوفان بنا ہے
محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ بحیرہ عرب میں 48 سال بعد اگست کے مہینے میں سمندری طوفان بنا ہے اس سے پہلے یہ طوفان 1946 میں بنا تھا۔
ان کے مطابق مون سون کے عروج کے سیزن میں عام طور پر سمندری طوفان نہیں بنتا بلکہ یہ ےپریل سے جون یا اگست کے بعد بننے کے چانسز ہوتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج اور اتوار کے روز بلوچستان کی ساحلی پٹی پر تیز اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو گی اس لیے شہری تمام احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برازیل میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر سپریم کورٹ کے جج کی طرف سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن کو پورا کرنے میں ناکامی کے بعد پابندی لگا دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے ایکس پر پابندی کا فیصلہ ملک میں نئے قانونی نمائندے کی تعیناتی کےعدالتی احکامات پرعمل درآمد میں ناکامی کے بعد کیا ہے۔
برازیل کی سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر ڈی موریس نے اپنے فیصلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی فوری طور پر مکمل معطلی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایکس پر پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وہ جرمانے کی ادائیگی سمیت تمام عدالتی احکامات کی تکمیل نہیں کرتا۔
جسٹس موریس نے ایپل اور گوگل کو اپنی ایپلیکیشن سٹورز سے ایکس کو ہٹانے اور موبائل فونز پر اس کے استعمال کو روکنے کے لیے پانچ دن کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ پلیٹ فارم تک رسائی کے لیے وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) جیسے ذرائع استعمال کرنے والے افراد یا کاروبار پر 50 ہزار ڈالرز تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
ایلون مسک کا عدالتی حکم پر رد عمل
یہ معاملہ اپریل میں اس وقت سامنے آیا جب جج نے مبینہ طور پر غلط معلومات پھیلانے کے الزام میں درجنوں ایکس اکاؤنٹس کو معطل کرنے کا حکم دیا۔
اس فیصلے پر ردعمل میں ایکس کے مالک ایلون مسک نے کہا ’آزادی تقریر جمہوریت کی بنیاد ہے اور برازیل میں ایک غیر منتخب اور خودساختہ جج اسے سیاسی مقاصد کے لیے تباہ کر رہا ہے۔
ایلون مسک پر حالیہ پابندی کا فیصلہ یک دم سامنے نہیں آیا بلکہ یہ ماضی قریب میں ایکس کے ضابطوں کے حوالے سے یورپی یونین کے ساتھ ان کے کئی تصادم سامنے آ چکے ہیں اور اس ماہ کے آغاز میں برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر سٹارمر کے ساتھ لفظی جنگ میں الجھ گئے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برازیل کی ٹیلی کمیونیکیشن ایجنسی کو اس حکم کی تکمیل کا زہ سونپا گیا ہے اور ادارے کے مطابق ایسا کرنے کے لیے انھوں نے اقدامات لینا شروع کر دیے ہیں۔
خدشہ ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں اس پلیٹ فارم کی سروسز ملک میں دستیاب نہیں ہوں گی۔ جج کے حکم کے مطابق، پابندی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک کہ ایکس ملک میں کسی نئے قانونی نمائندے کا نام نہیں لیتا اور برازیل کے قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ ادا نہیں کرتا۔
اپنے ایک سرکاری اکاؤنٹ سے پچھلی پوسٹ میں ایکس نے ان احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان مطالبات پر عمل نہیں کرے گا۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کیونکہ ہم جج الیگزینڈر ڈی موریس کے سیاسی مخالفین کو سنسر کرنے کے ان کے غیر قانونی احکامات کی تعمیل نہیں کریں گے اور ہمیں خدشہ ہے کہ جلد ہی ایکس کو برازیل میں بند کرنے کا حکم دیں گے۔
’اس معاملے میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جج ڈی موریس ہم سے برازیل کے اپنے قوانین کو توڑنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’غلط معلومات پھیلانے والوں کو زیر تفتیش ہونے تک بلاک رکھا جائے‘
یاد رہے کہ جسٹس موریس نے حکم دیا تھا کہ غلط معلومات پھیلانے والوں اور اور سابق دائیں بازو کے صدر جیر بولسونارو کے بہت سے حامی اکاؤنٹس کو اس وقت بلاک کیا جانا چاہیے جب وہ زیر تفتیش ہیں۔
عدالت نے حکم دیا تھا کہ اگر کوئی اکاؤنٹ دوبارہ فعال ہوا تو کمپنی کے قانونی نمائندے ذمہ دار ہوں گے۔
دوسری جانب برازیل میں ایلون مسک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ فرم سٹار لنک کے بینک اکاؤنٹس کو ملک کی سپریم کورٹ کے ایک پہلے حکم کے بعد منجمد کیا جا چکا ہے۔
سٹار لنک نے نے ایکس کی پوسٹ میں جواب میں کہا ہے کہ عدالت کا حکم ایک بے بنیاد اور غیر آئینی اقدام کی عکاسی کر رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سٹار لنک ایکس کے خلاف کیے گیے جرمانے کی ادائیگی کے لیے ذمہ دار ہونا چاہیے۔
ایلون مسک نے ایکس پر یہ بھی کہا کہ سپیس ایکس اور ایکس مکمل طور پر دومختلف کمپنیاں ہیں جن کے مختلف شیئر ہولڈرز ہیں۔‘
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہونے کی بجائے ہر آنے والے دن جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جمعہ کی شام لاپتہ افراد کے کیمپ میں ماما قدیر بلوچ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ 2000 میں شروع ہوا جو کہ ابھی تک جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جو بھی حکومت برسراقتدار آتی ہے وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے اور جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو ملکی قوانین کے تحت حل کرانے کا اعلان کرتی ہے لیکن بعد میں وہ لاپتہ افراد کے حوالے سے بے بسی کا اظہار کرتی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے میں ملک کے طاقتور ادارے ملوث ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کے ساتھ ساتھ دوران حراست قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشوں کو پھینکنے سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ گذشتہ روز خضدار ہسپتال میں ایسے چار افراد کی لاشیں لائی گئیں جن کو رواں سال جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
نصراللہ بلوچ نے الزام عائد کیا کہ افغانستان سے محمود لانگو اور ایران سے استاد کمبر بلوچ کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج لاپتہ افراد کے عالمی دن کی مناسبت سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز حکومت پاکستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے اور جبری گمشدگیوں کی روک تھام کا مطالبہ کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لاپتہ افراد پر الزام ہے انھیں منظر عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے اور اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو عدالتیں ان کو سزا دیں گی۔ انھوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔
دوسری جانب سرکاری حکام نے سرکاری ریاستی اداروں پر لوگوں کو جبری طور لاپتہ کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر ریاستی اداروں کوبدنام کرنے کے لیے جبری گمشدگی کے معاملے کو پروپگینڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

بلوچستان میں 2023 کے دوران سکیورٹی کے مسائل، انسانی حقوق کی پامالیاں اور سیاسی بدنظمی عروج پر رہی: ایچ آر سی پی
پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن (ایچ آر سی پی) کی سالانہ رپورٹ میں ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر جاری کردہ ’رپورٹ برائے 2023‘ میں بلوچستان میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق صوبے میں 2023 میں عسکریت پسندوں کی جانب سے 110 حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مارچ 2023 میں بولان میں ایک پولیس قافلے پر خودکش حملے میں نو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ستمبر میں مستونگ میں ایک مسجد کے قریب خودکش حملے میں عام شہریوں سمیت 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ نومبر میں تربت میں نامعلوم افراد نے چھ پنجابی مزدوروں کو گولی مار کر قتل کر دیا۔
ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ گذشتہ سالوں کی طرح بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات تشویش کا باعث رہے اور ان واقعات میں مجرموں کو سزا نہ ملنا اور حکومتی بے حسی کا عنصر نمایاں رہا۔
ایچ آر سی پی کا مزید کہنا ہے کہ اس عرصے میں صوبے میں اظہار رائے کی آزادی محدود رہی، صحافی سکیورٹی فورسز، علیحدگی پسند گروہوں اور قبائلی رہنماؤں سمیت مختلف عناصر کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کے خوف کے باعث پریس پر پابندیوں کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچاتے رہے اور صوبے میں قانون کی حکمرانی کمزور رہی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ اگر ولادیمیر پوتن اگلے ہفتے منگولیا کا دورہ کرتے ہیں تو منگول حکام کی ’ذمہ داری ہے‘ کہ وہ انھیں گرفتار کریں۔
یہ دورہ منگل کو متوقع ہے۔
مارچ 2023 میں عدالت نے پوتن کی گرفتاری کا حکم دیا تھا جس کے بعد روسی رہنما پہلی مرتبہ آئی سی سی کے کسی رکن ملک کا دورہ کریں گے۔
عدالت نے پوتن پر جنگی جرائم کے ذمہ دار ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے صدر پوتن اور بچوں کے حقوق کے لیے روس کی کمشنر ماریا لیووا بیلووا کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
آئی سی سی کا الزام ہے کہ فروری 2022 میں روس کے حملے کے بعد یوکرین سے بچوں کو غیر قانونی طور پر روس بھیجنے کے لیے یہ دونوں افراد ذاتی طور پر ذمہ دار ہیں۔
یوکرینی حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ منگولیا پوتن کو ملک پہنچنے پر گرفتار کر لے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ وہ اس دورے کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ماسکو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہمارے منگولیا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر کے دورے کے تمام پہلوؤں کا احتیاط سے جائزہ لیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کا بڑھنا خراب معیشت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ فراڈ الیکشن کی وجہ سے ہم سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں جبکہ دوسری جانب دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔
کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران پہلے ہم پر ڈال رہے تھے کہ دہشت گردی ہمارے طالبان کو سیٹلمنٹ پلان کی وجہ سے ہو رہی ہے اب کہہ رہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی دہشت گرد، کچے کی دہشت گردی، بلوچستان میں دہشت گردی اور بڑھتے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایسے حالات میں کون ملک میں سرمایہ کاری کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ پہلے سنا تھا 50 سال میں سب سے کم سرمایہ کاری ملک میں آئی اور اب پتہ چلا ہے کہ اس سال تاریخ کی سب سے کم سرمایہ کاری ملک میں آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملکی آمدن نہیں ہے، قرض بڑھ رہے ہیں اور ملک تباہی کی جانب جا رہا ہے۔
سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ ملک کے خفیہ اداروں کو پی ٹی آئی ختم کرنے پر لگا دیا گیا ہے اور پی ٹی آئی واحد فیڈرل جماعت ہے جبکہ باقی ریجنل پارٹیاں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں عوام کو اکٹھا کر سکتی ہیں، فوج نہیں اگر ایسا ہوتا تو مشرقی پاکستان نہ ٹوٹتا۔ عمران خان نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ملک میں صوبائیت کا بہت بڑا خطرہ ہے اور بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ پر پنجاب میں احتجاج کروایا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے اس وقت جو حالات ہیں ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ بلوچوں کو ساتھ لے کر چلیں۔
ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ برے وقت میں جو پارٹی چھوڑ کر گئے ان کے لیے پی ٹی آئی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے برے وقت میں کون سے لوگ چھوڑ کر گئے اور بہت کم ایسے لوگ ہیں جنھوں نے بہت مشکل وقت میں پارٹی کو مجبوری میں چھوڑا۔
انھوں نے کہا کہ جو اچھے وقت میں فل ٹائم چارلیز تھے برے وقت میں پارٹی چھوڑ گئے، ان کے لیے ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ میں کسی کا نام نہیں لیتا جو سیدھا سادا پارٹی کو چھوڑ کر گئے ہیں ان کو واپس نہیں لوں گا اور وہ تمام لوگ جو سخت حالات میں انڈر گراؤنڈ چلے گئے سختیاں اور تشدد برداشت کیا ان کے لیے بہتر فیصلہ ہو گا۔
کمرہ عدالت میں موجود اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق عمران خان کی میڈیا ٹاک کے دوران صحافیوں کے سوال کرنے پر ڈپٹی سپرٹینڈنٹ جیل نے میڈیا نمائندوں کو سوال کرنے سے روکا اور سابق وزیر اعظم کے ڈپٹی سپرٹینڈنٹ کو منع کرنے کے باوجود جیل انتظامیہ نے صحافیوں کو سوالات کی اجازت نہ دی۔
ڈیوٹی پر تعینات جیل کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم ہے کہ آپ پریس کانفرنس اور میڈیا سوال نہیں کر سکتے جس پر عمران خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فیئر ٹرائل میرا حق ہے اور یہاں فیئر ٹرائل کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ جتنے حالات خراب ہو رہے ہیں اتنی سختیاں بڑھائی جارہی ہیں اور ان سے پارٹی لیڈرز اور وکلا کو ملنے نہیں دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسرا ہفتہ ہے بچوں سے بھی فون پر بات نہیں کروائی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں 26 اگست کو ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کی پوری پلاننگ کی گئی اور ان میں ایک دہشت گروہ ملوث نہیں بلکہ دہشت گرد تنظیموں نے مل کر یہ کارروائیاں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو واضح علم ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کون ہے اور دہشتگردوں کو اب چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
سینیٹ میں بلوچستان میں ہونے والے حملوں کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دشمن نے شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) کانفرنس کو خراب کرنے کی سازش کی ہے۔
یاد رہے پاکستان اکتوبر میں ایس سی او کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے جس میں شرکت کے لیے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی دعوت دی گئی ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بہت سے عناصر کو ایس سی او کانفرنس پاکستان میں ہونے کی تکلیف ہے۔ اور دشمن نہیں چاہتا کہ ایس سی او کانفرنس پاکستان میں ہو اور یہ واقعات کانفرنس کے خلاف سازش ہے۔
خیال رہے بلوچستان میں کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے 26 اگست کو صوبے بھر میں آپریشن ’ھیروف‘ کا اعلان کیا تھا۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بُگٹی کے مطابق ان حملوں میں 38 شہری ہلاک ہوئے۔ پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ ان کی جوابی کارروائی میں21 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ اس آپریشن کے دوران 14 فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
اس کے علاوہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے 30 اگست کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 26 اگست کو ہونے والے حملوں میں ملوث افراد کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز صوبے میں وسیع پیمانے پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی اوز) کر رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 29/30 اگست کی رات ضلع کیچ، پنجگور اور ژوب میں تین الگ الگ آئی بی اوز میں پانچ شدت پسند ہلاک ہوئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں تین شدت پسند زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ان حملوں میں ملوث تمام مجرموں، سہولت کاروں اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی کارروائیاں تقریباً دو دہائیوں سے جاری ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں ان میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محسن نقوی نے سینیٹ کو بتایا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے وزیراعظم نے گذشتہ روز سیٹک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے سیاسی جماعتوں، ڈاکٹر عبدالملک سمیت دیگر لوگوں سے تفصیلی مشاورت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو نہ ماننے والے اور بندوق اٹھانے والے دہشتگرد ہیں۔ ہمارا پیغام واضح ہے کہ بندوق اٹھانے والوں کا پورا بندوبست ہو گا۔
محسن نقوی نے سینیٹ کو بتایا کہ پاکستان اور ریاست کو ماننے والے ہمارے لیے محترم ہیں اور انھیں سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ماننے والوں کے اختلافات ہو سکتے ہیں جنھیں حل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست مخالفین کے خلاف سب کو اکٹھا ہونا چاہیے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ وزیراعظم نے بلوچستان کی سی ٹی ڈی کے لیے پانچ ارب مختص کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ ارب روپے بلوچستان کے ڈویژنز میں عوامی مسائل کے حل کے رکھے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بلوچستان میں وفاق کے افسروں کی کمی پورا کرنے کے لیے بھی پالیسی کا اعلان کیا ہے اور تقریباً 40 افسر فوری طور پر بلوچستان جا رہے ہیں۔
محسن نقوی نے سینیٹ کو مزید بتایا کہ گذشتہ روز ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں 12 سے زائد فیصلے ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے خود چار روز میں دو بار بلوچستان کا دورہ کیا اور مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial media
بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طوفانی بارشوں سے ضلع کچھی، جھل مگسی اور لورالائی میں املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
بلوچستان کے مختلف حصوں میں بھی مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ضلع کچھی میں درہ بولان سے سیلابی ریلوں کی وجہ سے ایک گیس پائپ لائن کو نقصان پہنچا ہے جس سے متعدد علاقوں کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔
این ایچ اے کے مطابق درہ بولان میں سیلابی ریلے مختلف علاقوں میں شاہراہ کے اوپر سے گزرنے کے باعث شاہراہ پر ٹریفک کئی گھنٹوں تک معطل رہی۔
سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق سیلابی ریلوں سے بولان میں 18 انچ قطر کی گیس پائپ لائن کو نقصان پہنچنے سے کوئٹہ شہرمستونگ، قلات، کولپور، مچھ، پشین اور ملحقہ علاقوں کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
کمپنی کے ترجمان کے مطابق بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اب تک گیس پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع نہیں ہو سکا۔
ان کے مطابق ’سکیورٹی کلیئرنس کے بعد تباہ شدہ 18 انچ قطر پائپ لائن کی مرمت کے کام کے لیے ٹیم کو متحرک کیا جائے گا۔‘
جھل مگسی کے حکام کے مطابق بارشوں کے باعث ضلع میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جبکہ ضلع لورالائی میں سنجاوی کے علاقے میں گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کی بارشوں سے 20 جولائی سے اب تک 29 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 9 ہزار کی آبادی متاثر ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہPID
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچ نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں نفرت کے بیچ بونے کی کوشش کی گئی ہے۔
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمنوں سے بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پاکستان کے دشمنوں کوعبرت کا مقام بنایا جائے گا محب وطن لوگ چاہتے ہیں کہ بلوچستان ترقی کرے، وہاں امن ہو۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ کل کوئٹہ کے دورے میں امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا، مرنے والوں کے لواحقین سے ملاقات کی جن کے اندر بہت حوصلہ موجود تھا۔ کورکمانڈر کوئٹہ نے صوبے کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں جوکچھ ہوا وہ دہشتگردی کی انتہا تھی، جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
ان کے مطابق دہشت گرد اورخارجی عناصر مل کر بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ دہشت گردوں کو باہر سے مدد مل رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ 26 اگست کو ایسا ماحول پیدا کیا گیا جیسے بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہو۔ ’بلوچستان کے لوگ محبت وطن ہیں وہ چاہتے ہیں ترقی کا پہیہ تیزی سے چلے، ہم نے دورے کے دوران تمام لوگوں کے مشوروں کو سنا ہے۔‘
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دشمن پاک چین دوستی میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہیں، چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور سے بلوچستان بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دہشت گرد سی پیک کو عوام کی ترقی کیلئے پروموٹ نہیں کرنا چاہتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان کا ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کا خطرہ ٹل گیا ہے تاہم اس کے زیر اثر بارشیں اور آندھی کا امکان ہے۔
چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہوا کا کم دباؤ کراچی کے قریب پہنچ چکا ہے جو اس وقت کراچی سے190 کلومیٹر دور مشرق میں واقع ہے۔
ان کے مطابق زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ آج یہ کسی بھی وقت سمندری طوفان کی شکل اختیار کر لے گا۔ تاہم اس کا رخ و حرکت عمان کی طرف ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے کسی ساحل کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اگلے دو دن بارشیں ہوں گی اور آندھی چلے گی جبکہ سمندر میں تغیانی رہے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی سمیت ٹھٹہ، بدین اور تھر،جو سمندر کے قریبی علاقے ہیں اور جہاں پہلے سے بارشیں جاری ہیں اور تھرپارکر میں 250 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ میرپورخاص اور بدین میں دو سو ملی میٹر بارش رکارڈ کی گئی ہے وہاں بھی بارشیں جاری ہیں اور اگلے دو دن یہ سلسلہ جاری رہے گا اس کے بعد یہ عمان کی طرف نکلے گا جس سے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں بارشیں ہوں گی اور آندھی چلے گی۔
کیا اس موسم میں یہ سمندری طوفان معمول کی بات ہے؟
اس سوال کے جواب میں سردار سرفراز کا کہنا تھا کہ ان دنوں کے حساب سے یہ غیرمعمولی بات ہے۔ مون سون کے دنوں میں طوفان عام طور پر نہیں بنتے ہیں یا پھرمون سون سے پہلے یا بعد میں طوفان بنتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ’اس سے پہلے بھی ایسے طوفان بن چکے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔ بقول ان کے پچھلا جتنا ڈیٹا ہے اس میں ایسے تین کیسز ملتے ہیں۔ آخری مرتبہ 1976 میں اس کا ریکارڈ ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہوا کا کم دباؤ اس وقت ، ٹھٹہ اور سجاول کی طرف بنا ہے اور ویسٹ کی طرف بڑھے گا۔ مئی اور جون میں جو طوفان بنتے ہیں وہ شمالی انڈیا کے آس پاس بنتے ہیں اس وقت ویسٹ اور ایسٹ کی طرف ہوا دھکیلتی ہے اس کے بعد نارتھ ایسٹ کی طرف مڑ جاتا ہے جیسے 2023 میں ہوا تھا ۔
دوسری جانب گزشتہ تین دنوں سے مسلسل بارشوں کی وجہ سے میرپورخاص ، بدین ، سجاول اضلاع کے شہروں اور قصبوں میں اس وقت بارش کا پانی جمع ہوگیا ہے ، بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے انتظامیہ کو بارش کے پانی کی نکاسی میں مشکلات ہو رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ برساتی نالے پانی کی نکاسی کر رہے ہیں۔ ایل بی اور ڈی کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ جو قدرتی راستے بحال کیے گئے تھے اس کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں صورتحال کافی بہتر ہے۔
یاد رہے کہ کراچی سمیت سندھ کے ساحلی اضلاع میں تعلیمی اداروں میں عام تعطیل کی گئی ہے۔
اس صورت حال کے باعث ماہی گیروں کے سمندر میں جانے پر بھی پابند ہے۔ صوبائی حکومت نے تمام اضلاع میں فوکل پرسن مقرر کئے ہیں جو صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔