یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
نو نومبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیمی مسودے کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 کو ختم ہو جائے گا۔ چیف آف آرمی سٹاف جو چیف آف ڈیفینس فورسز بھی ہوں گے، وزیر اعظم کی مشاورت سے نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ مقرر کریں گے اور نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ کا تعلق پاکستانی فوج سے ہو گا۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
نو نومبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

،تصویر کا ذریعہPMO
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باکو میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس ملاقات میں پاکستان کے چیف آف دی آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم محمد شہبازشریف نے آج(سنیچر کو) باکو میں یوم فتح کی پریڈ کے موقع پر صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے ترکی کے یوم جمہوریہ کے موقع پر صدر اردوغان اور ترکی کے عوام کو مبارکباد پیش کی اور پاکستان ترکی دوستی کے ایک طویل پرجوش تقریبات کو سراہا جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور پائیدار تعلقات کی مضبوطی کی عکاسی کرتی ہیں۔
وزیراعظم نے ترکی کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو سیاسی، دفاعی، اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری اور عوام سے عوام کے روابط پر مشتمل ایک وسیع شراکت داری میں تبدیل کرنے کے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔
اس حوالے سے یہ طے پایا کہ ترکی کا ایک وزارتی وفد جلد ہی پاکستان کا دورہ کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تشویش کے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور خطے اور وسیع تر مسلم دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اپنی مشترکہ خواہش کا اعادہ کیا۔

بلوچستان کے ضلع قلات اور پنجگور میں تشدد کے مختلف واقعات میں سات افراد ہلاک ہوگئےہیں۔
سینیچر کے روز ضلع قلات کے علاقے منگیچر میں چار افراد مارے گئے۔ مرنے والوں میں ایک قبائلی شخصیت بھی شامل ہے۔
منگیچر میں لیویز فورس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے منگیچر کے علاقے سربند میں زڑد غلام جان کے علاقے میں حملہ کرکے قبائلی رہنما شاکر سعداللہ سمیت چار افراد کو ہلاک کیا۔
انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں قبائلی رہنما کا بھائی خیراللہ بھی شامل ہے۔
انھوں نے بتایا کہ واقعے کے محرکات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں تاہم انھوں نے اس سلسلے میں ٹارگٹڈ کلنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
دوسری جانب ضلع قلات ہی کے علاقے محمد تاوہ سے ایک شخص کی تشدد زدہ لاش بھی ملی۔
قلات میں پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لاش کی شناخت سمیع اللہ نیچاری کے نام سے ہوئی جنھیں نامعلوم افراد نے فائرنگ کے ہلاک کیا تھا۔
ادھر گزشتہ شب ضلع پنجگور کے علاقے شاپاتان میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد مارے گئے۔ دونوں افراد کی شناخت محمد ظفر اور نعیم کے ناموں سے ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ڈیلیوری کمپنیوں یو پی ایس اور فیڈ ایکس نے کینٹکی میں طیارہ حادثے کے بعد اپنی کچھ کارگو پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
منگل کو کینٹکی میں پیش آنے والے اس حادثے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق ٹیک آف کے دوران یو پی ایس کا طیارہ رن وے سے پھسل کر قریبی عمارتوں سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔
حادثے میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں جبکہ لوئس وِل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
یو پی ایس کا کہنا ہے کہ ایم ڈی الیون طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کی ہدایات کے بعد کیا گیا۔
دوسری جانب یو پی ایس کی حریف کمپنی فیڈ ایکس نے بھی اسی نوعیت کے حفاظتی اقدام کی تصدیق کی ہے۔
حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آئیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
27 ویں ترمیم کا مسودہ سینیٹ آف پاکستان میں پیش کر دیا گیا ہے جس کے بعد چیئرمین سینیٹ نے اسے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کر دیا ہے۔
سنیچر کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ ایوان میں پیش کیا۔
اس موقع پر پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹرعلی ظفر نے کہا ہے لگتا ہے کہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کو بل منظور کروانے کی جلدی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے بغیر 27 ویں ترمیم پر بحث میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُنھیں اس ترمیم کا مسودہ ابھی ملا ہے جس پڑھنے کے بعد ہی اس معاملے پر کوئی بات کر سکتے ہیں۔
سینیٹر علی ظفر نے پورے ایوان کو قائمہ کمیٹی ڈکلیئر کرنے کی رائے دی جسے منظور نہیں کیا گیا۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس سنیچر کو ہی طلب کرلیا گیا ہے اور 27 ویں آئینی ترمیم کے بل پر غور ہو گا۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت پاکستان پیپلز پاڑٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کریں گے۔ قائمہ کمیٹی کے اس اجلاس میں مخلتف جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کو مدعو کیا جائے گا جو اس کمیٹی کے رکن نہیں ہیں اور ان سے بھی اس بل پر رائے لی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ منظور کر لیا ہے جسے منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔ اس ترمیمی مسودے کے تحت مسلح افواج کے سربراہان سے متعلق آئین کے آرٹیکل 243 میں بھی ترامیم کی بھی تجاویز ہیں۔
ترمیمی مسودے کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورس کو مقرر کریں گے۔
آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیمی مسودے کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 کو ختم ہو جائے گا۔
چیف آف آرمی سٹاف جو چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے، وزیر اعظم کی مشاورت سے نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ کے سربراہ مقرر کریں گے اور نیشنل سٹرٹیجک کمانڈ کے سربراہ کا تعلق پاکستانی فوج سے ہو گا۔
حکومت مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے افراد کو فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدے پر ترقی دے سکے گی۔ فیلڈ مارشل کا رینک اور مراعات تاحیات ہوں گی یعنی فیلڈ مارشل تاحیات فیلڈ مارشل رہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اسے سنیچر کو سینیٹ آف پاکستان میں پیش کیا جائے گا۔
سنیچر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کے قیام سمیت دیگر معاملات پر پیپلزپارٹی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 243 میں دفاعی اُمور سے متعلق ترامیم کی تجویز دی گئی ہے جس میں فیلڈ مارشل، نیول اور ایئر چیف کے اعزازی عہدوں کا آئین میں ذکر شامل کرنے کی بھی تجویز ہے۔ جبکہ عسکری کمانڈ کے معاملات قانون کے مطابق ریگولیٹ ہوں گے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ حالیہ پاکستان اور انڈیا کشیدگی سے اہم اسباق سیکھے گئے، اس لیے فیلڈ مارشل، نیول اور اِیئر چیف کے اعزازی عہدوں کو آئین میں شامل کرنے اور قومی ہیروز کو اعزازی ٹائٹلز دینے کی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت میں بھی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا ذکر تھا، لہذا اس پر اب عمل درآمد کیا جائے گا۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ان ترامیم پر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا جبکہ خواہش یہ ہے کہ سینیٹ میں اس بل کو پیش کرنے کے بعد اسے مشترکہ کمیٹی میں بھیجا جائے تاکہ ہر شق پر تفصیلی بحث ہو سکے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بل میں سینیٹ انتخابات ایک ہی روز میں کروانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ ہی یہ آئینی ترامیم منظور کرائی جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ (ق) نے مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی کے سینئر نائب صدر چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم ملک میں آئینی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور قومی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ پارٹی نے ہمیشہ قومی مفاہمت اور اداروں کی مضبوطی کو ترجیح دی ہے، اسی جذبے کے تحت مسلم لیگ حکومت کے ساتھ آئینی اصلاحات کے عمل میں بھرپور تعاون کرے گی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کی سینڑل ورکنگ کمیٹی کا مشاورتی اجلاس سینئر نائب صدر چوہدری سالک حسین کی صدرات میں منعقد ہوا۔
چوہدری سالک حسین نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت ترمیم کے حوالے سے مکمل رابطے میں تھی۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سکریٹری اطلاعات مصطفیٰ ملک نے بتایا کہ مسلم لیگ نے آئینی ترمیم میں بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے اور ایجوکیشن کو فیڈرل سبجیکٹ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان میں طالبان حکومت نے استنبول مذاکرات میں ناکامی کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ استنبول مذاکرات میں پاکستانی وفد نے پاکستان کی سکیورٹی تمام ذمے داری افغانستان پر ڈالنے کی کوشش کی۔
افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی وفد کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے نتیجے میں، اسلامی امارت کی نیک نیتی اور ثالثوں کی تمام کوششوں کے باوجود، یہ بات چیت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ ’اسلامی امارت ایک بار پھر اپنے اصولی مؤقف پر زور دیتی ہے کہ کسی کو بھی افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور نہ ہی کسی ملک کو اجازت دی جائے گی کہ وہ اپنی سرزمین سے افغانستان کی قومی خودمختاری، آزادی اور سلامتی کے خلاف اقدامات کرے یا ان کی حمایت کرے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے، پاکستانی فریق نے مذاکرات کے دوران اپنے ملک کے تحفظ سے متعلق تمام ذمہ داریاں افغانستان کی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی جبکہ اپنی جانب سے نہ افغانستان کی سلامتی اور نہ ہی اپنے ملک کے امن کے بارے میں کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے مسلمان عوام افغان عوام کے بھائی ہیں، اسلامی امارت ان کے لیے خیر خواہی اور امن کی دعا کرتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں اور صلاحیتوں کی حد تک ان کے ساتھ تعاون کرتی رہے گی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ افغان عوام کا دفاع افغان طالبان کی شرعی اور قومی ذمے داری ہے اور ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہMOHAMMED SABER/EPA/Shutterstock
اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ایک تابوت ملا ہے جس کے بارے میں حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ اس میں ایک اسرائیلی یرغمال کی لاش ہے۔
حماس کے مسلح ونگ نے کہا کہ یہ لاش جمعے کو جنوبی غزہ کے خان یونس سے ملی تھی۔ لاش کو شناخت کے لیے ریڈ کراس کے ذریعے اسرائیل پہنچا دیا گیا ہے۔
حماس نے 10 اکتوبر کو شروع ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت تمام 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کر دیا تھا جبکہ 28 مقتولین میں سے 22 کی لاشیں بھی اسرائیل بھجوا دی گئی تھیں۔ اب بھی چھ لاشیں غزہ میں ہیں جن میں چھ اسرائیلی اور ایک تھائی باشندہ شامل ہے۔
اسرائیل نے ابھی تک تمام لاشیں واپس نہ کرنے پر حماس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ ملبے تلے اُنھیں تلاش کرنا مشکل ہے۔
امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران، اسرائیل نے اپنی جیلوں میں بند 250 فلسطینی قیدیوں اور غزہ سے 1,718 قیدیوں کو رہا کیا۔
حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں کم از کم 241 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں جاری شٹ ڈاؤن کی وجہ سے جمعے کو پانچ ہزار سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو گئی ہیں۔
امریکہ کے 40 مصروف ترین ہوائی اڈوں پر سینکڑوں ڈومیسٹک پروازیں متاثر ہوئیں، حالانکہ حکام ایئر ٹریفک کنٹرولرز پر دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہوائی اڈوں کو ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ وہ یا تو بیماری کی چھٹی لے رہے ہیں یا کہیں اور کام کر رہے ہیں، کیونکہ وفاقی حکومت کے شٹ ڈاؤن نے انہیں بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے کہا ہے کہ ملک میں اندرون ملک پروازوں میں اگلے ہفتے کے آخر تک 20 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔
ایئر ٹریفک کنٹرولرز سے لے کر پارک وارڈنز تک تقریبا 14 لاکھ وفاقی کارکن بغیر تنخواہ کے کام کر رہے ہیں یا جبری چھٹی پر ہیں کیونکہ امریکی کانگریس نے فنڈنگ بجٹ پر اتفاق نہیں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی نے غزہ میں مبینہ ’نسل کشی‘ کے الزامات پر اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو اور دیگر حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جمعے کو ترکی کی حکومت نے اس اقدام کا اعلان کیا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز، بارڈر سکیورٹی کی وزیر تمارا بین گویر، چیف آف جنرل سٹاف ایال ضمیر اور نیول فورسز کے کمانڈر ڈیوڈ سار سلامہ سمیت مجموعی طور پر 37 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
ترکی کی جانب سے اس اقدام پر اسرائیل کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ ان کا ملک ان الزامات کی شدید مذمت کرتا ہے اور اُنھیں مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
اُنھوں نے الزام لگایا کہ ’یہ ترک صدر کا بطور ڈکٹیٹر ایک نیا پبلسٹی سٹنٹ ہے۔‘
ترکی نے ان افراد پر’نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا الزام لگایا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس عالمی فوجداری عدالت نے بھی اسرائیلی وزیرِ اعظم اور دیگر حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’یہود مخالف‘ قرار دیا تھا۔ جبکہ یورپی یونین کے نمائندہ برائے سکیورٹی اور خارجہ پالیسی جوزف بوریل نے اس پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں مکمل ڈیڈ لاک ہے اور پاکستانی وفد واپس آ رہا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ مذاکرات کے اگلے دور کا نہ تو کوئی پروگرام ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اُمید ہے۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران ’افغان وفد بھی پاکستان کے موقف کو تسلیم کر رہا تھا، لیکن یہ معاملہ وہ تحریر میں لانے پر راضی نہیں تھے۔ وہ صرف زبانی کلامی کہہ رہے تھے کہ ہم پر اعتماد کیا جائے۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا بین الاقوامی اُصول یہ ہے کہ ہر چیز تحریری صورت میں سامنے لائی جاتی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اب ثالث بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں، کیونکہ اگر اُنھیں اُمید ہوتی کہ کوئی بریک تھرو ہو سکتا ہے تو پھر ہمارا وفد خالی ہاتھ واپس نہ آتا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ثالثوں کو بھی اب افغانوں سے کوئی اُمید نہیں ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ صورتحال خراب ہوئی اور اُن کی سرزمین سے ہمارے ہاں کوئی کارروائی ہوئی تو پاکستان اس کا مناسب اور موثر جواب دے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ سیز فائر فی الحال اسی حد تک ہے کہ وہاں سے کوئی کارروائی نہ ہو اور اگر ایسا ہوا تو پھر پاکستان کارروائی کرے گا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگ، افغان طالبان کے قابو میں نہیں ہیں تو پھر پاکستان کو انھیں قابو کرنے دیں اور اگر پاکستان افغانستان میں کارروائی کرتا ہے تو پھر افغانستان کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان دوحہ امن معاہدے کے تحت اپنے بین الاقوامی، علاقائی اور دو طرفہ وعدوں کی تکمیل میں ناکام رہے ہیں۔
جمعے کو ایک بیان میں عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ ’افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے کی ذمہ داری افغانستان پر ہی عائد ہوتی ہے۔‘
پاکستان متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ افغانستان میں موجود شدت پسند افغان سرزمین کا استعمال کر کے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ افغان طالبان ان دعوؤں کی تردید کرتے آئے ہیں۔
یاد رہے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور استنبول میں جاری ہے۔ گذشتہ مہینے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد پاکستانی حکام اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے دو دور دوحہ اور ترکی میں ہوئے تھے، جن میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
فریقین کی جانب سے استنبول میں جاری مذاکرات کے تیسرے دور کے حوالے سے کوئی واضح پیغام تو سامنے نہیں آیا ہے، تاہم پاکستان کے وزیرِ اطلاعت کے بیان سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فریقین میں سرحدی اور شدت پسندی کے تنازعات پر تاحال اتفاق نہیں ہو پایا ہے۔
عطا اللی تارڑ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ: ’پاکستان طالبان حکومت کے ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گا جو افغان عوام یا پڑوسی ممالک کے مفاد میں نہ ہوں۔‘
’پاکستان اپنے عوام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضرور اقدامات جاری رکھے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہScreenGrab
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اصولی طور پر آئینی عدالت بنانے کے حق میں ہے اور آرٹیکل 243 پر حکومت کی حمایت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں آئینی ترمیم کے تین نکات پراتفاق ہوا ہے۔
ان کے مطابق ’پاکستان پیپلز پارٹی کے ہر منشور کے ساتھ ساتھ اور میثاق جمہوریت میں بھی آئینی عدالتوں کے قیام کا ذکر رہا ہے اور دو روز ہمارے اجلاس میں اسی حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔‘
یاد رہے کہ بلاول بھٹو نے 3 نومبر کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی، جس میں 27ویں ترمیم پر بات ہوئی اور کچھ تجاویز پیش کی گئیں۔ ان کے مطابق ان تجاویز کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت مانگی گئی۔
بلاول بھٹو نے جمعے کے روز پریس کانفرنس میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے عمل کے دوران ہی ہم چاہتے ہیں کہ میثاق جمہوریت کی دیگر شقوں کو بھی آگے بڑھایا جا سکے اور اس پر بھی کام کیا جائے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر آرٹیکل 243 میں ترمیم سے سویلین بالادستی کو نقصان پہنچتا تو وہ خود اس کی مخالفت کرتے۔
’اگر 243 کا نقصان سویلین بالادستی اور جمہوریت کو ہو رہا ہوتا تو میں اس کی خود مخالفت کرتا۔ میں اس لیے اس کی حمایت کر رہا ہوں کہ یہ ان چیزوں کو نقصان نہیں پہنچا رہے۔ جو فیصلہ حکومت نے کیے جنگ جیتنے کے بعد، جو احترام پاکستان کو ملا ہے، اب اسے آئینی و قانونی کوور دیا جا رہا ہے۔ اس کی پیپلز پارٹی کھل کر حمایت کر رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے اور اس پر مزید کن نکات پر اتفاق ہو سکتا ہے اس پر مزید غور کیا جائے گا۔
ان کے مطابق ’جوڈیشل کمیشن بھی ججز کے ٹرانسفر پر مشاورت کرے تاہم پیپلز پارٹی کی تجویز ہے کہ تاہم جس عدالت سے جج کا ٹرانسفر ہو رہا ہے اور جس عدالت میں ٹرانسفر ہو رہا ہے ان دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان کو کمیشن کا ممبر بنا لیا جائے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’جہاں تک دوہری شہریت اور الیکشن کمیشن سے متعلق ترامیم کا تعلق ہے اس پر ہمارا ابھی آپس میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ بلدیاتی نظام میں سب سے زیادہ مالی خودمختاری سندھ میں دی گئی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ این ایف سی کے تحت صوبوں کا شئیر بڑھ سکتا ہے تاہم کم نہیں ہوسکتا، اس کا تحفظ پیپلزپارٹی کرے گی۔
جمیعت علمائے اسلام ف (جے یو آئی ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اب تک 27ویں آئینی ترمیم کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا تاہم اگر ’صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو ہم مخالفت کریں گے۔‘
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ہے۔
انھوں نے یاددہانی کرائی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت حکومت 35 شقوں سے دستبردار ہوئی تھی اور اگر انھی شقوں میں سے کوئی واپس لائی گئی تو وہ اسے آئین کی توہین سمجھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو جو اختیارات دیے گئے تھے، اگر ان میں کمی کی کوشش کی گئی تو وہ مخالفت کریں گے۔ ’ہم صوبوں کو مزید بااختیار بنانے کی بات کرتے ہیں۔‘
آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اگر ملکی سیاست اور جمہوریت کے اوپر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں تو اس کی بھی مخالفت کی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دھماکے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ دھماکہ شمالی جکارتہ کے ضلع کیلاپا گیڈنگ کے مقام پر ایک ہائی سکول کمپلیکس کے اندر واقع مسجد میں ہوا۔
دھماکے سے متعلق سٹی پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ 54 افراد کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔ متعدد افراد جھلسنے کے باعث شدید زخمی ہوئے جبکہ کچھ کو معمولی نوعیت کے زخم بھی آئے۔
17 دیگر کو معمولی زخم آئے جنھیں علاج کر کے گھر بھیج دیا گیا ہے۔
جکارتہ میٹروپولیٹن پولیس دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے جبکہ علاقے میں بم ڈسپوزل ٹیم تلاشی کا عمل مکمل کر رہی ہے۔
جائے وقوع سے لی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی اہلکار سرکاری ہائی سکول کمپلیکس کے داخلی راستے کو گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔
جکارتہ میٹروپولیٹن پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے جائے وقوع پر آتشیں اسلحے سے مشابہہ دو اشیا کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
انڈونیشیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انتارا کی تصاویر سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ سب مشین گن اور پستول سے مشابہہ ہیں۔ یاد رہے کہ انڈونیشیا میں دنیا کے سب سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان سے ہونے والی سرحدی کشیدگی کے معاملے پر پاکستان نے شواہد پر مبنی مطالبات ترکی میں ثالثوں کے حوالے کر دیے ہیں۔ مذاکرات میں ثالثوں نے پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔
جمعے کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ افغانستان کے ساتھ جنگ بندی کے بعد قیام امن کے حوالے سے جاری مذاکرات میں ڈیڈ لاک نہیں۔
’سوشل میڈیا بالخصوص افغان اکاؤنٹس سے چلنے والی خبروں پر دھیان نہ دیں، یہ محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانے کی کوشش ہے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے بعد مذاکرات کا تیسرا دورترکی کے شہر استنبول میں جاری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مذاکرات ثالثوں کی موجودگی میں استنبول میں جاری ہیں۔ پاکستان کا مذاکراتی وفد استنبول میں موجود ہے جس میں ڈی جی آئی ایس آئی عاصم ملک جبکہ دفتر خارجہ کی نمائندگی کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری علی اسد گیلانی استنبول مذاکراتی وفد میں شامل ہیں۔
واضح ہو کہ استنبول میں مذاکرات کے حالیہ دور میں طالبان کے وفد کی قیادت انٹیلیجنس چیف عبدالحق واثق کر رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرانی کا کہنا تھا کہ استنبول میں پاکستانی مذاکراتی وفد نے ثالثوں کو معلومات شیئر کی ہیں، ثالث افغان طالبان کے ساتھ ہمارے مطالبات پر بات چیت کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہQatar Ministry Of Foreign Affairs
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے ثالثوں کو فراہم کردہ معلومات مصنفانہ اور فتنہ الخوارج سے متعلق ہیں، ہمارے مطالبات نہایت سادہ، واضح، مصنفانہ اور شواہد پر مبنی ہیں، مذاکرات کی تکمیل اور نتائج تک بیان نہیں دیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد نے شواہد پر مبنی مطالبات ثالثوں کو پیش کیے جن کا واحد مقصد یہی ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کو ختم کیا جائے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات سے قبل لفظوں کی جنگ اور آن لائن پروپیگنڈا مہمات شدت اختیار کر گئی ہے جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ آیا بات چیت کا یہ تیسرا راؤنڈ نتیجہ خیز بھی ثابت ہو گا یا نہیں؟

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پاکستان تحریک انصاف نے جہاں جمعے کے روز جلسے کا اعلان کر رکھا ہے وہیں دوسری جانب دارالحکومت کوئٹہ میں نہ صرف موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے بلکہ انتظامیہ کی جانب سے اس مقام (ہاکی گراونڈ) پر پانی بھی چھوڑ دیا گیا ہے جہاں پی ٹی آئی نے جلسے کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف نے سات نومبر کے لیے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون کے ساتھ واقع ہاکی گراؤنڈ میں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نہ صرف تحریک انصاف کو جلسہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ آج ہاکی گراؤنڈ میں پانی بھی چھوڑنے کی خبریں منظر عام پر آئی ہیں۔


موبائل انٹرنیٹ سروس معطل، ریڈ زون جانے والے راستے پر رکاوٹیں
دوسری جانب بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔
ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موبائل فون سروس سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر گزشتہ شب سے معطل کردی گئی ہے جس کے باعث لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا پڑ رہا ہے۔
جہاں شہر میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا ہے وہاں شہر میں ریڈزون کو بھی تحریک انصاف کے جلسہ عام کے پیش نظر سیل کردیا گیا ہے۔

ریڈ زون جانے والے تمام راستوں پر کنٹینرز کھڑے کردیے گئے ہیں جس سے لوگوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہرقسم کی اجتماعات کے انعقاد پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق 30 یوم کے لیے بلوچستان میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع ، دھرنے اور ریلی کے انعقاد اور اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہHAMIDRAZA/X
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کے واقعات میں فیصل آباد میں حساس اداروں پر حملہ کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جن مجرمان کو سزا سنائی تھی ان میں صاحبزادہ حامد رضا بھی شامل ہیں۔
حامد رضا کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اسلام آباد کی مقامی پولیس کے مطابق حکام کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ صاحبزادہ حامد رضا پشاور سے فیصل آباد جارہے ہیں اور اس اطلاع پر راستے میں اسلام آباد پولیس نے انھیں گرفتار کرلیا اور فیصل آباد پولیس کو ان کی گرفتاری کے بارے میں مطلع کیا جس کے بعد فیصل آباد پولیس مجرم کو تحویل میں لینے کے لیے اسلام آباد آئی۔
قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد صاحبزادہ حامد رضا کو فیصل آباد پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قومی اسمبلی میں سابق قاید حزب اختلاف عمر ایوب کو بھی حراست میں لے لیا ہے تاہم اسلام آباد پولیس کے ترجمان آن ریکارڈ اس کی تصدیق نہیں کر رہے۔
عمر ایوب کو بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزا سنائی ہوئی ہے۔