27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور، قومی اسمبلی کا اجلاس کل ہو گا

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بل کو منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

خلاصہ

  • 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور، منگل کو قومی اسمبلی سے منظوری کا امکان
  • پاکستان کے آئین میں 27ویں ترمیم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت سے منظور ہو گئی ہے
  • پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں اور سماجی کارکنوں نے 27ویں آئینی ترمیم کی بعض شقوں کی مذمت کی ہے۔ ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ حکومت کی جلد بازی سے ’ترمیم کے پیچھے موجود نیت پر سوال اٹھتا ہے‘
  • وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے کی کوشش، دو شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

لائیو کوریج

  1. بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    11 نومبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. وانا میں کیڈٹ کالج پر حملے کی کوشش، دو شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    https://www.ccw.edu.pk/

    ،تصویر کا ذریعہhttps://www.ccw.edu.pk/

    پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ 10 نومبر کو ایک گھناؤنی اور ’بزدلانہ دہشت گردی‘ کی کارروائی میں شدت پسندوں نے جنوبی وزیرستان ضلع کے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے اندر آنے کی کوشش کی۔ تاہم ان کے مذموم عزائم کو فوجیوں کے چوکس اور پرعزم ردعمل نے تیزی سے ناکام بنا دیا۔

    بیان کے مطابق حملہ آوروں نے اپنی مایوسی میں دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو مین گیٹ پر ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں مین گیٹ منہدم ہو گیا اور ملحقہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

    فوج کے مطابق غیر متزلزل ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ہمارے فوجیوں نے دراندازوں کو درستگی کے ساتھ مشغول کیا، جس سے دو شدت پسندوں ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تاہم تین شدت پسند کالج کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے جنھیں کالج کے انتظامی بلاک میں گھیرے لیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ان شدت پسندوں نے ایک بار پھر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی کو دہرانے کی کوشش کی ہے۔

    ان کے مطابق ’اس کا مقصد سابقہ قبائلی علاقوں کی نوجوان نسل میں خوف پیدا کرنا ہے جو زندگی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور نہ صرف اپنے اور اپنے خاندانوں بلکہ اپنی برادریوں کے لیے بھی بہتر مستقبل حاصل کرنے کے لیے اپنی دہلیز پر معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ اس کالج کے احاطے میں چھپے شدت پسند افغانستان میں اپنے ’آقاؤں‘ اور ’ہینڈلرز‘ سے رابطے میں ہیں اور ہدایات حاصل کر رہے ہیں۔

    فوج کے مطابق ’افغانستان سے خوارج کی طرف سے کی جانے والی بربریت کی یہ کھلی کارروائییہ افغان طالبان حکومت کے ان دعووں کے برعکس ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان دہشت گرد گروہوں کی اپنی سرزمین پر ان کی موجودگی نہیں ہے۔‘

    آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں موجود شدت پسندوں اور ان کی قیادت کے خلاف جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ’انڈیا کی سرپرستی میں بچ جانے والے شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن کیا جا رہا ہے۔‘

  3. 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے: تحریک انصاف

    پاکستان کے سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بارے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف ’آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔‘

    ایکس پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور عمران خان کا ’اجتماعی اتفاق ہے کہ ہم 27ویں آئینی ترمیم کے نام نہاد آئینی عمل میں کوئی حصہ نہیں لیں گے۔‘

    پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’ہم اس ترمیم کے خلاف آئینی، قانونی اور جمہوری ذرائع سے اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔‘

  4. بریکنگ, دلی میں کار دھماکے میں کم از کم آٹھ ہلاکتیں

    اطلاعات کے مطابق کم از کم آٹھ افراد ہلاک خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق دھماکہ لال قلعہ کے گنجان آباد علاقے میں ایک کار میں ہوا۔ انڈین ٹی وی چینلز کے مطابق دارالحکومت کے ساتھ ساتھ ممبئی میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق ایل این جے پی ہسپتال کے میڈیکل سپرینٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد ہسپتال لائے گئے آٹھ افراد دم توڑ چکے تھے۔

    India

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق 18:52 بجے پیش آیا جب ایک سست رفتار گاڑی پھٹنے سے پہلے ریڈ سگنل پر رک گئی جس سے قریبی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس دھماکے میں مر گئے ہیں اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم انھوں نے ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجوہات کی تفصیلات کا ابھی تک پتہ نہیں چلا ہے۔

    دلی کے ڈپٹی فائر چیف کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آگ میں کم از کم چھ گاڑیاں اور تین آٹو رکشہ پھنس گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  5. دلی میں دھماکے کے بعد کے مناظر

    دلی میں دھماکے کے بعد کے مناظر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دلی میں دھماکے کے بعد کے مناظر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    دلی میں دھماکے کے بعد کے مناظر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  6. دلی میں دھماکہ، متعدد ہلاکتوں کا خدشہ

    دلی، دھماکہ

    ،تصویر کا ذریعہANI

    انڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ دلی میں لال قلعے کے قریب کار میں دھماکے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ جبکہ نیوز ایجنسی اے این آئی کا کہنا ہے کہ کچھ زخمیوں کو ایل این جے پی ہسپتال لایا گیا ہے۔

    اس دھماکے سے متعدد ہلاکتوں کا خدشتہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب کار میں دھماکے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’حکومت کو اس واقعے کی مکمل اور فوری تحقیقات کو یقینی بنانا چاہیے۔‘

    عینی شاہد راجدھر پانڈے نے اے این آئی کو بتایا کہ ’ہم نے آگ کے شعلے دیکھے۔۔۔ میں نے اسے اپنی چھت سے دیکھا۔ اس کے بعد میں یہ دیکھنے کے لیے نیچے آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک بہت زوردار آواز آئی۔ عمارت کی کھڑکیاں لرڑ اُٹھیں۔ میرا گھر گرودوارے کے قریب ہے۔‘

    ولی الرحمان نامی ایک مقامی دکاندار نے اے این آئی کو بتایا کہ ’جب دھماکہ ہوا تو میں دکان میں بیٹھا ہوا تھا۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا، ایسا میں نے کبھی نہیں سنا۔

    ’دھماکے کی آواز سن کر میں تین بار گِر پڑا۔ اس کے بعد آس پاس کے سبھی لوگ بھاگنے لگے۔‘

  7. دلی میں لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب کار میں دھماکہ

    Car

    ،تصویر کا ذریعہANI

    دلی فائر سروس نے بی بی سی ہندی کو بتایا ہے کہ لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب ایک کار میں دھماکہ ہوا ہے۔

    دلی فائر سروس نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ اسے شام چھ بج کر 55 منٹ پر کال موصول ہوئی۔ دلی فائر سروس نے کہا کہ اسے ایک کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ لال قلعہ میٹرو سٹیشن کے گیٹ نمبر ایک کے قریب ایک کار میں دھماکہ ہوا ہے۔

    دھماکے کے بعد لگ بھگ چھ گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور قریبی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    دہلی فائر سروس کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع کے بعد سات آگ بجھانے والی گاڑیاں لال قلعہ میٹرو سٹیشن پر بھیجی گئی ہیں۔ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ دھماکے سے تقریباً چھ گاڑیاں متاثر ہوئیں۔

    خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

  8. امریکی صدر ٹرمپ کی بی بی سی کو قانونی کارروائی کی دھمکی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بی بی سی کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

    بی بی سی نے تصدیق کی ہے اس ٹرمپ کا خط موصول ہو چکا ہے اور اب مناسب وقت کے اندر اس کا جواب دیا جائے گا۔

  9. 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور، منگل کو قومی اسمبلی سے منظوری کا امکان

    Senate of Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے۔

    چئیرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اس ترمیم کے خلاف کوئی ووٹ نہیں آیا۔ واضح رہے کہ اپوزیشن نے اس ترمیمی بل پر ووٹنگ کی مخالفت کی تھی اور اجلاس میں احتجاج کیا تھا۔

    امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بل کو منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

  10. بی بی سی ’بطور ادارہ متعصب‘ نہیں ہے: وزیر اعظم ہاؤس

    بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل اور ہیڈ آف نیوز کے استعفوں کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے دفتر سے یہ بیان جاری ہوا ہے کہ بی بی سی ’ادارہ جاتی طور پر متعصب‘ نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبورا ٹرنَس اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہو گئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر بننے والی بی بی سی پینوراما کی ایک دستاویزی فلم کے متعلق انھیں اِس تنقید کا سامنا تھا کہ ڈاکیومینٹری میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر میں ایڈیٹنگ کر کے ناظرین کو گمراہ کیا گیا۔

    ٹم ڈیوی جو کہ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر پانچ سال سے فائز تھے انھیں بی بی سی پر متعصبانہ رویے کے الزامات اور کئی تنازعات کی وجہ سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا تھا۔

    کیئر سٹارمر کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیر اعظم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بی بی سی ’ادارہ جاتی طور پر متعصب‘ نہیں ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ ضروری ہے کہ بی بی سی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے کام کرے اور غلطیوں کو فوری طور پر درست کرے-

    10 ڈاؤننگ کا کہنا ہے کہ کسی بھی پبلک سروس براڈکاسٹر کے لیے احتساب بہت ضروری ہے۔ وزیر اعظم کے ترجمان نے بی بی سی کے ’بدعنوان‘ ہونے کی بھی تردید کی-

    یہ لفظ صدر ٹرمپ نے بی بی سی کے کچھ صحافیوں سے متعلق استعمال کیا تھا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ غلطیاں ہوئیں اور بی بی سی نیوز کے ڈائریکٹر جنرل اور سی ای او نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ لائسنس فیس ادا کرنے والے جو کچھ دیکھتے ہیں اس پر اعتماد کر سکتے ہیں- لیکن یہ بھی کہا کہ غلط معلومات کے دور میں ’یہ درست ہے کہ ہم بی بی سی کی حمایت جاری رکھیں گے‘۔

    وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ بی بی سی کس طرح ’پائیدار فنڈنگ ماڈل‘ کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے ہم مقررہ وقت پر چارٹر ریویو شروع کریں گے۔

  11. پاکستانی فوج کا شمالی وزیرستان اور درہ آدم خیل میں 20 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آٹھ اور نو نومبر کو صوبہ خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ مقامات پر کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 20 شدت پسند مارے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔

    فوج کے مطابق ’آپریشن کے دوران ہمارے فوجیوں نے خوارج کے مقام پر مؤثر طریقے سے حملہ کیا۔ آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

    انٹیلیجنس بیسڈ پر ایک اور آپریشن ضلع درہ آدم خیل میں کیا گیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید بارہ شدت پسندوں کو مؤثر طریقے سے بے اثر کر دیا گیا۔

  12. پاکستان میں سونے کی قیمت فی تولہ 7,500 روپے اضافے سے 429,862 روپے ہو گئی, تنویر ملک، صحافی

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان میں پیر کے روز سونے کی قیمت فی تولہ 7,400 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں اضافے رہا۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی قیمت بڑھ کر فی تولہ 429,862 روپے ہو گئی۔

    اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 6,337 روپے اضافے کے بعد 368,530 روپے تک پہنچ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 74 ڈالر بڑھ کر 4,075 ڈالر فی اونس ہو گئی۔

    مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے نرخوں کے مقابلے میں 20 ڈالر پریمیم کے ساتھ مقرر کی جاتی ہیں۔

    چاندی کی قیمت بھی 115 روپے بڑھ کر فی تولہ 5,209 روپے ہوگئی۔ اسی طرح 10 گرام چاندی کی قیمت 98 روپے اضافے کے ساتھ 4,465 روپے تک پہنچ گئی۔

  13. سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم پر شق وار ووٹنگ کا عمل جاری، اپوزیشن کا احتجاج

    Senate of Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس وقت سینیٹ میں 27ویں ترمیم پر شق وار ووٹنگ کا عمل جاری ہے۔ یہ ترمیمی بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پیش کر رہے ہیں۔

    حزب اختلاف کے اراکین اس ترمیم کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں اور وہ چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے زیر صدارت ہو رہا ہے۔

  14. سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کے نام خط، ’اس ترمیم پر اعلیٰ عدلیہ سے مشاورت نہیں کی گئی‘

    جسٹس منصور علی شاہ

    ،تصویر کا ذریعہSUPREME COURT OF PAKISTAN

    پارلیمنٹ میں زیر بحث 27ویں آئینی ترمیم پر جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر درخواست کی کہ آپ بطور عدلیہ سربراہ فوری انتظامیہ سے رابطہ کریں اور واضح کریں کہ آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی۔

    انھوں نے لکھا کہ آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے۔ جسٹس منصور نے لکھا کہ ’آپ اس ادارے کے اینڈمنسٹریٹر نہیں گارڈین بھی ہیں۔‘

    انھوں نے خط میں لکھا کہ ’یہ لمحہ آپ سے لیڈرشپ دکھانے کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ اس ترمیم پر اعلیٰ عدلیہ سے مشاورت نہیں کی گئی۔

    جسٹس منصور نے لکھا کہ ’تمام جمہوری نظاموں میں عدلیہ سے متعلق قانون سازی کے وقت عدلیہ سے مشاورت کی جاتی ہے۔‘

    خط میں کہا گیا کہ ’کیا ایک نئی آئینی ترمیم کی جاسکتی ہے جبکہ گذشتہ آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج زدہ ہو؟‘

    انھوں نے لکھا کہ جب تک 26ویں آئینی ترمیم پر سوالات باقی ہیں، نئی آئینی ترمیم مناسب نہیں۔ جسٹس منصور شاہ کی رائے میں ’وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی دلیل نظام انصاف میں زیر التوا مقدمات کو بنایا جا رہا ہے۔‘

    جسٹنس منصور نے لکھا کہ کہا جا رہا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے زیر التوا مقدمات میں کمی آئے گی جبکہ زیادہ تر زیر التوا مقدمات ضلعی عدالیہ کی سطح پر ہیں، سپریم کورٹ کی سطح پر نہیں۔

    سپریم کورٹ کے جج نے لکھا کہ ’یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ ایک الگ آئینی عدالت انتہائی ناگزیر ہے۔‘

    جسٹس منصور نے لکھا کہ ’امریکہ، کنیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور برطانیہ میں ایک ہی سپریم کورٹ ہے۔ میثاق جمہوریت میں محدود وقت یعنی صرف چھ سال کے لیے آئینی عدالت کے قیام کا کہا گیا تھا۔

    جسٹس منصور شاہ نے لکھا کہ ’میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کا مطالبہ ایک خاص سیاسی پس منظر کے تحت تھا۔‘

  15. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 1900 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز تیزی کا رججان ریکارڈ کیا گیا ہے اور مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز کے پہلے چند منٹوں میں انڈیکس 1100 پوائنٹس تک بڑھ گیا۔

    پورے دن کاروبار کے دوران انڈیکس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 1945 پوائنٹس اضافے کے بعد 161538 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے انڈیکس بڑھ گیا۔

    سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا اس کی سیاسی اور معاشی وجوہات ہیں جن میں سب سے نمایاں 27ویں ترمیم اور فرٹیلائزر شعبے کی کمپنیوں کے لیے حکومت کی جانب سے منظور کی جانے والی پالیسی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی ہے۔

    جبران سرفراز نے اس سلسلے میں کہا کہ 27ویں ترمیم کی پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد پارلیمان سے بھی اس کی منظوری کی توقع ہے جس کا مطلب کہ موجودہ سسٹم میں تسلسل قائم رہے گا جس کی وجہ سے مارکیٹ مثبت رجحان پیدا ہوا ہے اور مارکیٹ بڑھی ہے۔

    انھوں نے کہا اسی طرح حکومت کی جانب سے منظور کی جانے والی گیس پالیسی سے فرٹیلائزر شعبے کی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا جس سے مارکیٹ میں کاروبارو کو فروغ ملا ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے متعلق سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ سیاسی استحکام ہو گا جس کا کاروبار کا مثبت اثر ہوا۔ اسی طرح تیل و گیس کے شعبے میں کچھ مثبت خبریں آئی ہیں اور فرٹیلائزر شعبے کو گیس کی پالیسی بھی ایک مثبت پیش رفت ہے اور بینکاری شعبے میں اچھے مالیاتی نتائج آرہے ہیں جس کی وجہ سے مارکیٹ میں ایک مثبت رجحان پیدا ہوا۔

  16. پاکستان کے پارلیمان کے ایوان بالا میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل پیش

    Pakistan's parliament

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا کا اجلاس اس وقت جاری ہے، جہاں سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کی 27ویں ترمیم پر رپورٹ پیش کی ہے۔

    اس رپورٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کا بل شامل ہے۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جانا ہے۔

    سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مسودہ میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آئینی ترمیم تھی کہ آئینی عدالت قائم کی جائے، کمیٹی نے آئینی کورٹ بنانے کو متفقہ طور پر منظور کیا تاہم اس میں کچھ ترامیم کیں ہیں۔

    فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئینی ترامیم میں تمام صوبوں کی کورٹ شامل ہیں۔ ان کے مطابق ہائیکورٹ کا بھی آئینی کورٹ میں حصہ ہو گا، ہائیکورٹ کا جج آئینی عدالت کے لیے نامزد ہوگا، جس کے لیے کمیٹی نے کہا ہے اس کی اہلیت سات کے بجائے پانچ سال ہوگی۔

    سربراہ قائمہ کمیٹی نے مزید بتایا کہ ’صدر کو تاحیات استثنیٰ دینے کی شق میں ترمیم کی گئی ہے، اگر وہ پبلک آفس ہولڈر بنتے ہیں تو استثنیٰ ختم ہوجائے گا، پبلک آفس ختم ہونے کے بعد استثنیٰ دوبارہ حاصل ہوگا۔‘

  17. معروف ماہرِ تعلیم، محقق اور ادیبہ پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا وفات پا گئیں

    Dr Syeda Arfa

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    پاکستان کی نامور ماہرِ تعلیم، محقق اور ادیبہ پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا لاہور میں وفات پا گئی ہیں۔

    ڈاکٹر عارفہ عارفہ سیدہ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو اور امریکہ کی یونیورسٹی آف ہوائی سے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ وہ فارمن کرسچن کالج میں پروفیسر اور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی پرنسپل رہ چکی تھیں۔

    ڈاکٹر عارفہ نے نہ صرف تدریس بلکہ سماجی اور ثقافتی شعبوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن اور پنجاب کی نگران صوبائی وزیر بھی رہیں۔

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے معروف ماہرِ تعلیم، دانشور اور ادیبہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

    صدرِ مملکت نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کی وفات پاکستان کے علمی و ادبی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

    انھوں نے کہا کہ مرحومہ نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق، تدریس اور خدمتِ انسانیت کے لیے وقف کر کے ایک روشن مثال قائم کی۔

    صدر زرداری نے کہا کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کی علمی خدمات اور قومی زبان کے فروغ کے لیے ان کی کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انھوں نے مرحومہ کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور علمی برادری سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

  18. لکی مروت میں دو خواجہ سراؤں کا قتل: ’دونوں ایک پروگرام میں شرکت کے لیے تیار ہو رہے تھے جب فائرنگ کی گئی‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں دو خواجہ سراؤں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    یہ واقعہ کل رات لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں پیش آیا ہے۔

    تھانہ نورنگ میں درج ایف آئی آر کے مطابق ذاکر اور شہاب عرف ڈالر نامی خواجہ سرا نورنگ میں سبزی منڈی کے ایک پلازہ میں مقیم تھے۔ رپورٹ کے مطابق، نامعلوم افراد نے دونوں افراد کو اسلحہ آتشیں سے قتل کیا ہے۔ دونوں کی لاش تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال نورنگ پہنچا دی گئی۔

    خواجہ سرا ذاکر کے بھائی رفیع اللہ نے پولیس کی دی گئی درخواست میں کہا ہے کہ انھیں فون پر اطلاع دی گئی کہ ان کے بھائی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے جس پر وہ ہسپتال پہنچے تو ان کے بھائی اور ان کے ساتھی خواجہ سرا کی لاشیں وہاں موجود تھیں۔

    لکی مروت کے ضلعی پولیس افسر نذیر خان نے بتایا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دونوں افراد کو کس نے اور کیوں قتل کیا۔

    پاکستان میں خواجہ سراؤں پر حملوں کے واقعات آئے روز پیش آتے ہیں۔ اس سال کے اب تک خیبرپختونخوا میں 15 خواجہ سراؤں کو قتل کیا جا چکا ہے جبکہ 12 ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جن میں خواجہ سراؤں پر تشدد کیا گیا۔

    پشاور میں ٹرانسجینڈر کمیونٹی الائنس کی رہنما فرزانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کل رات دونوں خواجہ سرا ایک پروگرام میں شرکت کے لیے تیار ہو رہے تھے جب ان پر فائرنگ کی گئی۔ فرزانہ کے مطابق، فائرنگ کے وقت دونوں خواجہ سراؤں کا ایک گرو بھی فلیٹ میں موجود تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کرنے والے کے بارے اب تک معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ خواجہ سراؤں پر آئے روز حملے ہو رہے ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے پولیس اور اعلی حکام سے بارہا اپیل کی گئی لیکن اب تک کوئی ایسے اقدامات نظر نہیں آتے کہ ٹرانسجینڈر کمیونٹی اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکے۔

  19. سربراہِ ریاست کو استثنیٰ دینے میں کوئی حرج نہیں: عطااللہ تارڑ

    عطااللہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ امریکہ سمیت پوری دنیا میں سربراہِ ریاست کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے اور ریاست کے سربراہ کو استثنیٰ دینے میں کوئی حرج نہیں۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا استثنیٰ نہ لینے کا فیصلہ احسن قدم تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر یہ شق کمیٹی سے واپس لے لی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی ڈیڈلاک نہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ترامیم گڈ گورننس، وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط رشتوں کے لیے ہے۔

    27ویں آئینی ترمیم کے تحت آئینی عدالتوں کے قیام کے متعلق بات کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں آئینی عدالتوں کا تصور موجود ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ میثاق جمہوریت کے وقت سے یہ بحث چل رہی تھی کہ آئینی عدالتیں ہونی چاہیے اور آئینی عدالتیں کا قیام پی پی پی، مسلم لیگ ن اور اے این پی کا مشترکہ مطالبہ تھا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جو بحث دہائیوں سے چل رہی تھی وہ اپنے منطقی انجام تک پہنچی ہے۔

    عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ 26ویں ترمیم کے بعد عدلیہ میں کیسز کا لوڈ کم ہوا اور سائل کا وقت بھی بچا۔

    ان کا کہنا تھا کہ آئینی کیسز کم ہوتے ہیں لیکن ان پر پچاس فیصد سے زیادہ وقت صرف ہوتا ہے۔

    وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمان سے آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے درکار ووٹ پورے ہیں، اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے۔

    انھوں نے 27ویں آئینی ترمیم کو ایک مثبت ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنے معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے ترمیم کی جا رہی ہے۔

    وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ آئین ایک زندہ ڈاکومنٹ ہے جس میں ارتقا کا مرحلہ چلتا رہتا ہے۔

    خیال رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا بل آج سینیٹ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے 27ویں آئینی ترمیم کے بنیادی مسودہ کی منظور دے دی تھی۔

  20. تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی سرحد کے قریب غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی کو حادثہ، سات افراد ہلاک

    ملائیشیا کی میری ٹائم اتھارٹی کے مطابق تلاش کا عمل سات دن تک جاری رہے گا۔

    ،تصویر کا ذریعہMalaysia Coast Guard

    تھائی لینڈ اور ملائیشیا کی سرحد کے قریب غیر قانونی تارکین وطن کو لے جانے والی کشتی کو حادثہ پیش آیا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے۔

    ملائیشیا کی بحریہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ تیرہ افراد کو بچا لیا گیا ہے تاہم سینکڑوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ بچ جانے والے 13 میں سے 11 افراد روہنگیا جبکہ دو بنگلہ دیشی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ 300 افراد کے اس گروپ میں شامل تھے جو دو ہفتے قبل میانمار کی راکھین ریاست سے ایک بڑء جہاز پر روانہ ہوئے تھے اور بعد ازاں چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر تقسیم ہو گئے تھے۔

    ملائیشیا کے کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جہاز لنگکاوی کے جزیرے کے قریب ڈوبا ہے۔

    ریسکیو کی کوششیں دوسرے روز دن میں داخل ہو گئی ہیں اور تلاش کے علاقے کو 170 سے 256 مربع سمندری میل تک پھیلایا جا چکا ہے۔ ملائیشیا کی میری ٹائم اتھارٹی کے مطابق تلاش کا عمل سات دن تک جاری رہے گا۔

    ملائیشیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی برناما کے مطابق، اتوار کو پانی میں ملنے والی لاش ایک روہنگیا خاتون کی تھی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والی کشتی میں تقریباً 70 افراد سوار تھے، جبکہ بقیہ تارکین وطن کو لے جانے والی کشتیوں کے بارے میں کوئی واضح اطلاع نہیں۔