سری لنکن کرکٹ بورڈ کی ٹیم کو دورہِ پاکستان جاری رکھنے کی ہدایت: ’چند کھلاڑیوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث وطن واپسی کی درخواست کی تھی‘

سری لنکن کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے دورے پر موجود قومی ٹیم کے چند کھلاڑیوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث وطن واپسی کی درخواست کی تھی۔ تاہم بورڈ نے ٹیم کو دورہِ پاکستان جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

خلاصہ

  • مجھ پر ذمہ داری بنتی ہے کہ تقریر کی ایڈیٹنگ پر بی بی سی کے خلاف مقدمہ کروں: ڈونلڈ ٹرمپ
  • حالیہ حملوں کے بعد پاکستان کی افغانستان میں کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا: خواجہ آصف
  • جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل غزہ میں 1500 سے زائد عمارتیں تباہ کر چکا ہے: بی بی سی ویریفائی
  • پاکستان کی روس سے دفاعی ساز و سامان کی معلومات سمگل کرنے سے متعلق انڈین ذرائع ابلاغ کی خبروں کی تردید
  • طالبان کا خواتین کو ہسپتال جانے کے لیے برقعہ پہننے کا حکم، خیراتی ادارے کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کا الزام: امریکہ کی انڈیا سمیت دیگر ممالک کے 32 اداروں اور افراد پر پابندیاں

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    امریکہ نے انڈیا، ایران، چین، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات، ترکی اور دیگر ممالک میں موجود 32 کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون (یو اے وی) پروگرام کے لیے پرزے اور آلات حاصل کرنے میں مدد کر رہے تھے، جن میں کچھ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی ان پابندیوں کی حمایت میں کیا گیا ہے جو 27 ستمبر کو ایران پر دوبارہ عائد کی گئیں۔ یہ پابندیاں ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کے بعد لگائی گئی تھیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی یہ پابندیاں ایران کے جوہری، بیلسٹک میزائل اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کے ساتھ ساتھ اس کی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے ہیں۔

    امریکہ نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی ان پابندیوں پر مکمل عمل کریں اور ایران کو ہتھیاروں اور میزائل سازی میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی یا سامان فراہم نہ کریں۔

    محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ایران کے جارحانہ میزائل پروگرام کو روکنا اور پاسدارانِ انقلاب کو ایسے وسائل تک رسائی سے محروم کرنا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ تیسرے ممالک میں موجود اداروں پر بھی پابندیاں لگاتا رہے گا تاکہ ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے سامان حاصل کرنے والے نیٹ ورکس کو روکا جا سکے، کیونکہ یہ سرگرمیاں عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ پابندیاں ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت لگائی گئی ہیں، جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث عناصر کو نشانہ بناتا ہے اور ایگزیکٹو آرڈر 13224 (ترمیم شدہ شکل میں) کے تحت، جو دہشت گرد گروہوں اور ان کے حمایتیوں پر پابندیوں سے متعلق ہے۔

  2. سری لنکن ٹیم کے دورہِ پاکستان جاری رکھنے کے فیصلے پر شکر گزار ہوں: محسن نقوی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ اور کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ وہ سری لنکن ٹیم کے دورہِ پاکستان جاری رکھنے کے فیصلے پر ان کے شکر گزار ہیں۔

    انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’یہی ہے اصل سپورٹس مین سپرٹ اور باہمی یکجہتی کی خوبصورت مثال۔‘

    محسن نقوی کے مطابق پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے میچز 14 اور 16 نومبر کو راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے۔

  3. سری لنکن کرکٹ بورڈ کی ٹیم کو دورہِ پاکستان جاری رکھنے کی ہدایت

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    سری لنکن کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے دورے پر موجود قومی ٹیم کے چند کھلاڑیوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث وطن واپسی کی درخواست کی تھی۔ تاہم بورڈ نے ٹیم کو دورہِ پاکستان جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

    بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بدھ کی صبح ٹیم مینجمنٹ نے بورڈ کو آگاہ کیا کہ کھلاڑیوں کے ایک گروپ نے پاکستان میں قیام کے دوران اپنی حفاظت کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس اطلاع کے بعد سری لنکا کرکٹ نے فوری طور پر کھلاڑیوں سے رابطہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور تمام حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ دورہ کرنے والے ہر رکن کی مکمل سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    بیان کے مطابق، سری لنکا کرکٹ نے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں، سپورٹ سٹاف اور مینجمنٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ دورہ پاکستان کو طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری رکھیں۔

    البتہ اگر کوئی کھلاڑی یا ٹیم کا رکن بورڈ کی ہدایت کے باوجود وطن واپس جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو سری لنکا کرکٹ فوری طور پر متبادل کھلاڑی پاکستان بھیجے گا تاکہ سیریز کا تسلسل متاثر نہ ہو۔

    مزید یہ کہ اگر کوئی کھلاڑی یا سپورٹ سٹاف بورڈ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے واپس جاتا ہے، تو ان کے عمل کا باضابطہ جائزہ لیا جائے گا اور اس جائزے کے بعد مناسب کارروائی کی جائے گی۔

  4. خیبرپختونخوا اسمبلی کے امن جرگے کا اعلامیہ، ’وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ کم کیا جائے، افغان پالیسی پر مشاورت کی جائے‘

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہونے والے امن جرگے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی خارجہ پالیسی میں وفاق صوبائی حکومت سے مشاورت کرے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جرگہ یہ تجویزکرتا ہے صوبائی حکومت اوراسمبلی صوبائی ایکشن پلان مرتب کرے اور پاک افغان بارڈر کو تجارت کے لیے فی الفور کھولا جائے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’امن جرگہ متفقہ طورپرضم اضلاع سمیت صوبے میں جاری دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے کر ہر قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔‘

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امن وامان سے متعلق صوبائی اسمبلی کی متفقہ قراردادوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔

    بدھ کو ہونے والے خیبرپختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ ہوا جس میں پاکستان تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی سمیت مختلف جماعتوں کے وفود نے شرکت کی۔

    جرگے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت سیاسی قائدین نے خطاب کیا۔

    سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے امن جرگہ کا اعلامیہ پڑھا اور کہا کہ ’امن سے متعلق آج تمام پارٹیاں یک آواز ہیں، تجاویز پررات کو بھی بیٹھے تھے اور آج بھی لائحہ عمل تیار کیا، آپ سب نے ہمارے دست و بازو مضبوط کیے۔‘

    اعلامیے کے مطابق صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی داخلی سلامتی کی قیادت کریں گی، پولیس ضرورت کے مطابق آئینی طور پرباقی اداروں سے معاونت طلب کرسکتی ہے۔

    جرگے کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق حکومت صوبے میں امن وامان کی مخدوش صورتحال میں پولیس اور سی ٹی ڈی کوخصوصی مالی معاونت فراہم کرے گی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھتہ خوری اور غیر قانونی محصولات کے خاتمے کے لیے ایک مربوط پالیسی بنائی جائے۔ ’صوبائی سطح پرامن کے فورم قائم کیے جائیں جن میں اکثریت غیرسرکاری اراکین کی ہو۔‘

    جرگے کے اعلامیے کے مطابق مقامی حکومتوں کے استحکام اور مالی تحفظ کے لیے آئینی ترمیم کی جائے اور صوبائی فنانس کمیشن کو قومی فنانس کمیشن کے ساتھ منسلک کیا جائے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امن جرگہ یہ تجویز کرتا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ کو کم کیا جائے اور مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس آئینی مدت کے مطابق بلایا جائے۔

  5. دہلی دھماکہ ’دہشتگردی‘ قرار، انڈین کابینہ نے ’ملوث افراد، سہولت کاروں اور سپانسرز‘ کی شناخت کا حکم دے دیا

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی وفاقی کابینہ نے 10 نومبر کو نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار دھماکے کو ’دہشتگردی کا واقعہ‘ قرار دے دیا ہے۔

    انڈیا کے پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق بدھ کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں دہلی میں ہونے والے ’دہشتگردی کے واقعے‘ کے خلاف قرارداد منظور کی گئی ہے۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ’ملک مخالف قوتوں‘ کی جانب سے ایک کار کا استعمال کرتے ہوئے ’دہشتگردی کا ایک گھناؤنا‘ حملہ کیا گیا ہے۔

    خیال رہے 10 نومبر کو لعل قلعہ میٹرو سٹیشن کے قریب ایک کار بم دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

    پریس انفارمیشن بیورو پر موجود قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’کابینہ نے واقعے کی فوری پیشہ وارانہ تحقیقات کی ہدایت دی ہیں تاکہ اس میں ملوث افراد، ان کے سہولت کاروں اور سپانسرز کی شناخت کی جا سکے اور انھیں بلاتاخیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘

    بیورو کے مطابق وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بدھ کو نئی دہلی دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد سے ایل این جے پی ہسپتال میں ملاقات بھی کی ہے۔

  6. 19 سال بعد آئینی عدالت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، یحییٰ آفریدی نے آئین کے دائرے میں رہ کر ہماری بھرپور معاونت کی: وزیراعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’19 سال بعد آئینی عدالت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، آج بینظیر کی روح کو تسکین مل رہی ہو گی۔‘

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’آج نواز شریف سرخرو ہوئے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہ چارٹر آف ڈیموکریسی کا عروج ہے۔‘

    وزیر اعظم نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’یحییٰ آفریدی نے آئین کے دائرے میں رہ کر ہماری بھرپور معاونت کی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں خود ان کے پاس حاضر ہوا کہ دس دس سال تک مقدمات زیر التوا ہیں۔‘

    انھوں نے وضاحت کی کہ ’یحییٰ آفرید بدستور چیف جسٹس رہیں گے اور آئینی اداروں کی رہنمائی کرتے رہیں گے اور ان کی مدد ہمارے شامل حال رہے گی۔‘

  7. 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظور

    پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی نے بھی 27ویں آئینی ترمیمم کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل سینیٹ نے اس بل کی منظوری دی تھی۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں 27 آئینی ترمیم کی منظوری دی گئی۔

    اپوزیشن نے آج بھی قومی اسمبلی اجلاس کے دوران 27ویں ترمیم کے حوالے سے احتجاج کیا اور ترمیم کے خلاف نعرے لگائے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ایوان نے یکجہتی اور قومی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے اس ترمیم کے منظور ہونے پر پورے ایوان کو مبارکباد بھی دی۔

    وزیر قانون نے آج کے اجلاس میں یہ وضاحت بھی کی کہ آئینی ترمیم کے باوجود جسٹس یحییٰ آفریدی ہی ملک کے چیف جسٹس رہیں گے تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یا ان کے عہدے خالی کرنے کی صورت میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں سے جو سینیئر چیف جسٹس ہوں گے وہی ملک کے چیف جسٹس کہلائیں گے۔

    انھوں نے اس حوالے سے ترمیم بھی پیش کر دی جسے قومی اسمبلی نے منظور کر لیا ہے۔

  8. قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا عمل جاری، ’یحیٰی آفریدی ہی چیف جسٹس آف پاکستان ہوں گے‘: وزیر قانون

    پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا عمل جاری ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا یہ اجلاس ہو رہا ہے۔

    اپوزیشن نے آج بھی قومی اسمبلی اجلاس کے دوران27 ویں ترمیم کے حوالے سے احتجاج کیا اور ترمیم کے خلاف نعرے لگائے۔

    وزیر قانون نے آج کے اجلاس میں یہ وضاحت بھی کہ آئینی ترمیم کے باوجود جسٹس یحیٰی آفریدی ہی ملک کے چیف جسٹس رہیں گے تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یا ان کے عہدے خالی کرنے کی صورت میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں سے جو سینیئر چیف جسٹس ہوں گے وہی ملک کے چیف جسٹس کہلائیں گے۔

    انھوں نے اس حوالے سے منظوری کے لیے ترمیم بھی پیش کی۔

  9. ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دے رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری کا قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خظاب میں کہا ہے کہ ’ہم نے انڈیا کو عبرتناک شکست دی اور فیلڈ مارشل کی کارکردگی کو پوری دنیا میں سراہا جارہا ہے۔ اب ہم فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دے رہے ہیں۔‘

    بلاول بھٹو نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں کیے وعدے پورے کر رہے ہیں اور میثاق جمہوریت کے نامکمل وعدوں کی تکمیل یقینی بنا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ن لیگ، اور پی پی نے افتخار چوہدری کے از خود نوٹسز کو بھگتا، آج ہم ماضی کی غلطی کو درست کرنے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد اب کوئی ازخود نوٹس نہیں ہوگا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری تجویزماننے پر ہم حکومت کے شکرگزار ہیں، 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والے بھی مانیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہوگی۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ہم جو آئینی ترمیم لا رہے ہیں، ہمارے پاس اکثریت ہے، کسی کا باپ بھی 18 ویں ترمیم کو ختم نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری کثرت رائے سے نہیں بلکہ اتفاق رائے سے ہوتی ہے، 26ویں آئینی ترمیم بھی اتفاق رائے سے منظور کرائی تھی اور 18 ویں ترمیم بھی تمام جماعتوں نے اتفاق رائے سے منظورکرائی۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو حقوق دیے گئے۔

  10. پاکستان پر تجارت کے لیے انحصار کم کیا جائے: نائب افغان وزیر اعظم ملا عبدالغنی برادر, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    ملا عبدالغنی برادر

    ،تصویر کا ذریعہ@FDPM_AFG

    افغانستان کے نائب وزیر اعظم مولوی عبدالغنی برادر نے افغان صنعتکاروں اور تاجروں سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی بجائے دیگر ممالک سے تجارت کے راستے تلاش کریں اور اگر کوئی تاجر اس پر عمل درآمد نہیں کرتا تو اس کے لیے پھر افغان حکومت کسی قسم کی مدد نہیں کر سکے گی۔

    یہ اعلان انھوں نے افغانستان میں ایک کانفرنس سے خطاب میں کیا ہے اور یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور دونوں حالات بحال کرنے کے لیے دیگر ممالک جیسے ترکی اور قطر کی کوششیں جاری ہیں۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد ہر قسم کی تجارت کے لیے 32 روز سے بند ہے اور اس وقت سرحد پر بڑی تعداد میں تجارتی سامان سے لدی ہوئی گاڑیاں کھڑی ہیں۔

    ملا برادر نے کہا کہ اب افغانستان پاکستان کے ساتھ تجارتی لین دین بند کرے گا اور تاجر برادری کو ہدایت دیں کہ وہ متبادل راستے تلاش کریں۔

    ملا برادر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کے ساتھ تجارت کا بڑا حصہ ادویات کی درآمد پر مشتمل ہے، اور پاکستانی ادویات درآمد کرنے والے تاجروں کو تین ماہ کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مالی معاملات مکمل کر لیں۔

    تین ماہ بعد افغان وزارتِ خزانہ پاکستان سے ادویات کی درآمد پر نہ محصول لے گی اور نہ ہی اجازت دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان سے درآمد کی جانے والی ادویات غیر مؤثر رہی ہیں۔

    انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ کوئی بھی ملک انفرادی طور پر اپنی تمام ضروریات پوری نہیں کر سکتا اس لیے ایک دوسرے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے بعض ممالک سے تجارت میں رکاوٹیں اور اقتصادی بندش اور سیاسی طور پر دباؤ کی وجہ سے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔

    پاک-افغان مشترکہ چیمبر کے رہنما خان جان الکوزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس اجلاس میں شریک تھے اور اس میں انھوں نے کہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کا مؤقف یہ تھا کہ پاک افغان سرحد سال میں اکثر بند کر دی جاتی ہے جس سے تاجروں کا نقصان ہو رہا ہے اور اس نقصان سے بچانے کے لیے انھوں نے تجویز دی ہے کہ تجارت کے متبادل راستے تلاش کریں جو مشکل ضرور ہوں گے لیکن ناممکن کچھ نہیں ہے۔

    انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان سے تجارت میں آسانیاں ہیں، کم خرچ ہے اور مال وقت پر پہنچ جاتا ہے جیسے اگر لاہور سے ٹرک صبح کے وقت روانہ ہو تو شام تک جلال آباد میں ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک کے ساتھ اگر تجارت ہوگی تو اس میں مشکل یہ ہے کہ ایک تو اس پر خرچہ زیادہ آئے گا اور دوسرا اس میں وقت زیادہ لگ سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کے چین کا سامان قازقستان کے راستے پہنچ رہا ہے لیکن اس میں وقت زیادہ لگ جاتا ہے۔

    پاکستان میں چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اور پاک افغان چیمر کے رکن فیض محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سے افغانستان میں نئی حکومت آئی ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم کافی حد تک کم ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ تجارت کی بندش سے دونوں ممالک کے تاجروں کو نقصان ہوگا کیونکہ پاکستان سے سیمنٹ، چاول، ادویات موسمی سبزیاں اور پھلوں کے علاوہ چکن وغیرہ افغانستان جاتا ہے اسی طرح افغانستان سے پھل اور سبزیاں پاکستان آتی ہیں اور اس سے تجارت سے وابستہ ہر طبقے کا فائدہ ہوتا ہے۔

    خان جان الکوزئی نے کہا کہ افغانستان میں تاجروں کا مشکل وقت تو گزر گیا ہے کیونکہ انار، انگور اور سیب کا موسم لگ بھگ ختم ہو گیا ہے اور اب پاکستان کے پھلوں کی باری ہے جیسے کیلا، امرود، مالٹا، کینو اور دیگر پھل آئیں گے اور سرحد کی بندش سے پاکستان کے کسانوں اور تاجروں کا نقصان ہو سکتا ہے۔

    طورخم سرحد پر موجود کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ ایسوسی ایشن کے رہنما مجیب شنواری کا کہنا تھا کہ اس بندش سے زیادہ نقصان افغانستان کا ہوگا کیونکہ باقی کوئی ایسے متبادل راستے نہیں ہیں جہاں سے افغانستان تجارت کر سکے، مثال کے طور پر ایران پر پہلے سے عالمی سطح پر پابندیاں ہیں۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیائی مالک افغانستان سے دور پڑتے ہیں اور وہاں سے تجارت پر زیادہ اخراجات آ سکتے ہیں جس سے مقامی سطح پر مہنگائی ہوگی یا قلت ہو سکتی ہے۔

  11. دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بند کمروں سے نکل کر سیاستدانوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسی بنانی ہو گی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    Sohail Afridi

    بدھ کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر آپ سیاستدانوں کو بھی عقل اور شعو والا سمجھتے ہیں تو پھر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو بٹھائیں اور بند کمروں سے نکل کر پالیسی بنائیں۔ ان کی رائے میں ایسی مشاورت کے نتیجے میں ’حل نکلے گا اور وہ سب کو قابل قبول ہوگا۔‘

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگہ جاری ہے جس میں صوبائی گورنر سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے اہم رہنما شریک ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پہلی مرتبہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں اور انھیں امن جرگہ میں شرکت کی باقاعدہ دعوت دی گئی تھی۔

    اس جرگے سے اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا ’ہم بار بار امن کی بات کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں کو برا لگتا ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلے ہم پر مسلط ہوتے آئے ہیں، ان فیصلوں سے ابھی تک دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ’ہمیں بند کمروں سے نکل کر سیاستدانوں کے ساتھ مل کر فیصلے کرنے ہوں گے اور دہشتگردی کے خلاف طویل المدتی پالیسی اپنانی ہوگی۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’ہماری کوشش امن کے لیے ہے، دہشتگردی کے ناسور کے خلاف آج کے جرگے میں پائیدار حل نکلے گا، امن تب قائم ہوگا جب دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا۔‘

    ان کا کہنا تھا ’ہم چاہتے تھے کہ اس پالیسی میں شفٹ آنا چاہیے، وہ شفٹ بند کمروں سے نکل کر آئے گا، سیاستدانوں، سیکیورٹی فورسز اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو ساتھ بیٹھا کر پالیسی بنائی جائے، اگر پھر اس پالیسی پر عملدرآمد ہوگا تو کوئی حل نکلے گا، وہ پالیسی پھر تمام لوگوں کو قابل قبول ہوگی اور خیبر پختونخوا سے دہشتگردی کا ناسور مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سب نے قربانیاں دی ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام نے قربانیاں دی ہیں، تمام سیاسی لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، کسی نے بیٹے، کسی نے شوہر اور کسی نے والد کو کھویا ہے۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’یہ عوام ہمارے ہیں، سیاست ہر ایک کی اپنی اپنی ہے لیکن امن ہمارا مشترکہ ہے، جب یہاں بم پھٹتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ مرنے والا پی ٹی آئی کا ہے یا پیپلز پارٹی کا، یہاں بیٹھے ہر فرد نے قربانی دی ہے، دہشت گردی کے خلاف عوام، سیاستدان اورسکیورٹی فورسز سب نے قربانیاں دی ہیں، سب نے قربانیاں دیں تو 2018 میں امن قائم ہوا تھا، ابھی ایک دفعہ پھر دہشتگردی سر اٹھا رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا ’پاک-افغان مذاکرات کو ہم نے خوش آئند قرار دیا ہے، ہماری کوشش امن کے لیے ہے، جنگ آخری آپشن ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’این ایف سی شئیر 400 ارب روپے بنتا ہے، ہمیں نہیں مل رہا ہے، اگر ایک فیصد دہشتگردی کے باعث ملتا ہے تو کسی کو اس کا پوچھنے کا حق نہیں ہے۔‘

  12. مجھ پر ذمہ داری بنتی ہے کہ تقریر کی ایڈیٹنگ پر بی بی سی کے خلاف مقدمہ کروں: ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پینوراما کی دستاویزی فلم میں اپنی تقریر کی ایڈینٹگ کے معاملے پر بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

    فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے ان کی چھ جنوری کی تقریر کو پیش کیا گیا اس سے ناظرین کو دھوکہ ہوا۔

    امریکی صدر کی جانب سے پینوراما کی دستاویزی فلم کی ایڈینٹگ کے معاملے پر بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انھوں نے اس بارے میں عوامی سطح پر بات کی ہے۔

    صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے بی بی سی کو ڈاکیومنٹری سے ’مکمل اور شفاف لاتعلقی کے اظہار‘ کے لیے 14 نومبر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ بصورت دیگر بی بی سی کے خلاف ایک ارب ڈالر مالیت ہرجانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

    بی بی سی کے چیئر سمیر شاہ نے ڈاکیومنٹری پرغلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی بی سی اس غلطی پر معذرت خواہ ہے۔

    فاکس نیوز کے پروگرام ’دی انگراہم اینگل‘ کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مقدمہ کریں گے تو ان کا جواب تھا، ’مجھے لگتا ہے کہ مجھے کرنا پڑے گا، آپ جانتے ہیں، کیوں نہیں، انھوں نے عوام کو دھوکہ دیا، اور انھوں نے اس کا اعتراف کیا ہے۔‘

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دراصل انھوں میری چھ جنوری کی تقریر ’جو کہ بہت خوبصورت، بہت پرسکون تقریر تھی‘ کو بدل کر اسے انتہا پسند بیانیہ بنا دیا۔

    جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا وہ قانونی چارہ جوئی کریں گے تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ان کے خیال میں ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسا کریں کیونکہ ’آپ لوگوں کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

  13. ترکی کا استنبول کے مقبول میئر کو دو ہزار سال سے زیادہ قید کی سزا کا مطالبہ

    امام وغلو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے پراسیکیوٹر نے مقبول میئر اکرم امام وغلو پر بدعنوانی کے 142 جرائم کے ارتکاب کا الزام لگایا ہے جس کے لیے انھیں کل 828 سے 2,352 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مخالف سمجھے جانے والے اکرم امام وغلو کو بدعنوانی کے شبے میں رواں سال مارچ میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    استنبول کے میئر اور ان کی ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے صدر اردوغان اور ان کے اتحادیوں نے صدر اردوغان کی مقبولیت میں کمی کے جواب میں کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔

    تاہم، شہر کے چیف پراسیکیوٹر نے امام وغلو اور 400 سے زائد افراد کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ یہ تمام افراد بدعنوانی کے ایک مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ اور میئر اس نیٹ ورک کے ’بانی اور رہنما‘ کے ہیں۔

    پراسیکیوٹر اکین گرلیک کا کہنا ہے کہ آٹھ ماہ کی انکوائری میں سامنے آیا ہے مشتبہ افراد نے ایک بہت بڑی مجرمانہ تنظیم بنائی تھی جو رشوت لینے کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ میں بھی ملوث تھی۔ ان میں سے 105 حراست میں تھے۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ نے ترک ریاست کو 3.8 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچایا ہے۔

  14. پاکستان کی روس سے دفاعی ساز و سامان کی معلومات سمگل کرنے سے متعلق انڈین ذرائع ابلاغ کی خبروں کی تردید

    روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان نے انڈیا کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے اُن خبروں کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس کے دفاعی سازوسامان کی معلومات پاکستان سمگل کرنے سے متعلق ایک منصوبے بے نقاب ہو گیا ہے۔

    ماسکو میں پاکستان کے سفارتخانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایسی بے بنیاد خبریں پاکستان اور روس کے درمیان دیرینہ اور دوستی پر مبنی تعاون کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

    انڈیا کے متعدد ذرائع ابلاغ نے اس نوعیت کی خبریں شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سے روس کی دفاعی ٹیکنالوجی چوری کرنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

    ابتدائی طور پر یہ خبر انڈیا کے اخبار اکنامک ٹائمز میں شائع ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے روس کے ایئر ڈیفنس سسٹم اور ہیلی کاپٹروں سے متعلق معلومات چرانے کی کوشش کی جسے روسی حکام نے ناکام بنا دیا اور اس سلسلے میں روس کے شہر سینیٹ پیٹرزبرگ سے ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    پاکستان نے انڈین ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ان خبروں کی یکسر تردید کی ہے اور ماسکو میں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مبینہ کوششوں کے برعکس پاکستان اور روس کے تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ مفاد پر مبنی ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کی وزرات اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے بھی اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کچھ وضاحتیں پیش کی ہیں۔

    سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر پاکستان کے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے اپنی تفصیلی پوسٹ میں کہا ہے کہ آئی ایس آئی کی جانب سے روس کی حساس دفاعی معلومات حاصل کرنا اور اسے انڈیا کے ’نام نہاد آپریشن سندور‘ سے منسلک کرنے کی خبر اکنامک ٹائمز سمیت انڈیا کے متعدد ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی ہے۔

    پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام انڈین ذرائع ابلاغ نے یہ خبر ’نامعلوم ذرائع‘ کے حوالے سے دی ہے اور خبر میں کوئی بین الاقوامی ذرائع یا روس کا حوالہ نہیں دیا گیا اور ان خبروں میں کسی سرکاری اعلامیے، روس کی عدالتی دستاویز یا پریس ریلیز کا بھی حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔

    فیکٹ چیک پوسٹ کے مطابق اگر انڈیا کے دعوؤں کے مطابق اس مبینہ منصوبے کو بے نقاب کیا گیا ہے تو پھر روس کے کسی بھی میڈیا جیسے تاس نیوز یا آر ٹی نے اس خبر کو نشر کیوں نہیں کیا ہے؟

    پاکستان کا کہنا ہے کہ واحد اور گمنام دعوے پر مبنی یہ خبر تصدیق کے معیارات پر پورا نہیں اُترتی ہے۔

    یاد رہے کہ اکنامک ٹائمز میں اس خبر کی اشاعت کے بعد دیگر میڈیا آؤٹ لیٹس جیسا کہ فرسٹ پوسٹ اور ریپبلک ورلڈ نے اکنامک ٹائمز کے حوالے سے اس خبر کو شائع کیا ہے۔

    انڈیا کے اخبار اکنامک ٹائمز نے اپنی اس خبر میں اسلام آباد میں روس کے سفارتخانے کے اس حالیہ بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں روسی سفارتخانے نے انگریزی روزنامہ ’فرنٹیئر پوسٹ‘ پر روس مخالف بیانیے کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

    اس ضمن میں روس میں پاکستان کے سفارتخانے نے کہا ہے کہ اسی میڈیا آؤٹ لیٹ (اکنامک ٹائمز) نے اسلام آباد میں روسی سفارت خانے کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے اسے پاکستان اور روس کے تعلقات کو توڑنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

  15. طالبان کا خواتین کو ہسپتال جانے کے لیے برقعہ پہننے کا حکم، خیراتی ادارے کا دعویٰ

    افغانستان خواتین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طبی خیراتی ادارے میڈیسنز سان فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان حکام نے افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں خواتین مریضوں، ان کی تیمارداروں اور عملے کو حکم دیا ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں میں آتے ہوئے برقع پہن کر آئیں۔

    ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ یہ احکامات 5 نومبر سے نافذ العمل ہیں۔

    افغانستان میں ایم ایس ایف کی پروگرام مینیجر سارہ چیٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پابندیوں سے خواتین کی زندگیاں مزید متاثر ہو رہی ہیں اور صحت کی دیکھ بھال تک خواتین کی رسائی محدود ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس حکم سے ’فوری طبی نگہداشت کی ضرورت‘ والے مریض بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

    سارہ چیٹو کا کہنا ہے کہ طالبان ارکان صحت کے مراکز کے باہر پر کھڑے ہو کر ان خواتین کو اندر آنے سے روک رہے ہیں جو برقعہ نہیں پہنی ہوتی ہیں۔

    طالبان حکومت کی وزارتِ امر بالمعروف کے ترجمان سیف الاسلام خیبر نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے کہ خواتین کو برقع نہ پہننے پر طبی مراکز میں جانے نہیں دیا جا رہا۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ اس بارے میں تفظات کے اظہار کے بعد ان پابندیوں میں جزوی طور پر نرمی کر دی گئی ہے۔

  16. جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل غزہ میں 1500 سے زائد عمارتیں تباہ کر چکا ہے: بی بی سی ویریفائی

    غزہ

    غزہ کی سٹیلائٹ تصاویر کے جائزے کے بعد بی بی سی ویریفائی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے 10 اکتوبر کو حماس کے ساتھ جنگ بندی کے بعد سے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں 1500 سے زائد عمارتوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    ان سیٹلائت تصاویر میں سے تازہ ترین تصاویر 8 نومبر کو لی گئی ہیں۔ یہ تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول علاقوں میں پورے پورے محلے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں مسمار کر دیے گئے ہیں۔ ان عمارتوں کو بظاہر بارودی مواد لگا کر تباہ کیا گیا ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کچھ علاقوں کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل نہیں کر سکا جس کے باعث اس بات کا بھی امکان ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

    بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ عمارتوں کی تباہی امریکہ، مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کی ویریفائی کو بتایا کہ وہ ’جنگ بندی کے فریم ورک کے مطابق‘ کام کر رہے ہیں۔

  17. حالیہ حملوں کے بعد پاکستان کی افغانستان میں کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کچہری میں خودکش حملے اور وانا میں کیڈٹ کالج پر شدت پسنوں کے حملے کے بعد پاکستان افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے۔

    منگل کی شب جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں جب اُن سے سوال پوچھا گیا کہ کیا حالیہ حملوں کے بعد پاکستان افغانستان میں کارروائی کر سکتا ہے؟ اس پر وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’جی بالکل کر سکتا ہے، اس امکان کو رد نہیں کرنا چاہیے۔‘

    میزبان کی جانب سے سوال کیا گیا کہ افغانستان نے وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد میں حملوں کی مذمت کی ہے، جس پر خواجہ آصف کا کہنا تھا ’مذمت کرنا یا افسوس کرنا سچائی کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’وانا میں بچوں کو شہید کرنے کی سازش تھی، وہ دوبارہ اسی طرح کی قیامت برپا ہونی تھی، جیسی آج سے کئی برس قبل آرمی پبلک سکول پشاور میں ہوئی تھی۔‘

    خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ فوج نے کیڈٹ کالج کے طالبعلموں، اساتذہ اور عملے کے دیگر ارکان سمیت 635 افراد کو بچا لیا ہے۔ ’اسلام آباد میں حملہ ایک عندیہ ہے کہ وہ ہمیں یہ بتا رہے ہیں کہ ہم یہاں تک پہنچ سکتے ہیں اور یہاں بھی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔‘

    ’ہمیں خود کو ایسے بیوقوف نہیں بنانا چاہیے کہ طالبان مخلص ہیں اور وہ امن چاہتے ہیں، یا بات چیت چاہتے ہیں۔‘

    اسلام آباد کچہر خودکش حملہ

    پیر اور منگل کے روز ہونے والے حملوں کے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ان حملوں کو افغانستان کی جانب سے مستقبل میں ہونے والی جارحیت کا آغاز سمجھا جا سکتا ہے اور یہ جارحیت دراصل انڈیا کی ہو گی جو افغانستان کے راستے ہمارے ملک میں کی جا رہی ہے۔

    ’اس میں کسی کو غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے کہ ہمارے ہمسائے کا دشمنی کا رویہ سامنے آ چکا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے تینوں ادوار میں پاکستان نے صرف ایک مطالبہ کیا تھا افغان طالبان اپنی سر زمین سے دہشتگردی نہ ہونے دیں۔

    ’یہ تمام دہشتگرد وہاں سے آئے ہوئے ہیں۔۔۔۔ گذشتہ کئی ماہ کے دوران وہ یہاں داخل ہو چکے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 2500 سے 3000 افراد پاکستان میں داخل ہوئے ہیں جو مختلف علاقوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک مارے جانے والے شدت پسندوں مِں سے تقریباً 55 فیصد افغان شہری تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل اس حقیقت کو کیسے جھٹلا سکتا ہے۔

    اس سوال پر کہ اب افغانستان کے ساتھ معاملات آگے کیسے بڑھیں گے اور کیا دوبارہ ثالث بیچ میں پڑیں گے؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس صلاحیت ہے کہ ہم باآسانی اس معاملے سے نمٹ سکتے ہیں۔ ’لیکن ہم نہیں چاہتے کہ ہم ایک ایسی جنگ میں الجھ جائیں اور ہماری توجہ معاشی بحالی اور عوام کے مسائل سے ہٹی رہے۔‘

    اس سوال پر کہیں ماضی کی طرح پاکستان میں ایک بار پھر دہشتگرادنہ حملوں میں تیزی تو نہیں آ جائے گی؟ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’اس وقت پاکستان کی افغانستان میں رسائی نہیں تھی، وہاں نیٹو فورسز بیٹھی ہوئی تھیں اور ہمارے قبائلی علاقوں میں وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے جن کی سرپرستی ہم کر رہے تھے، تو یہ ایک مکمل کنفیوژن تھی۔‘

    ’موجودہ صورتحال میں کوئی ابہام نہیں ہے، بڑی واضح صورتحال ہے۔‘

    وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ کسی جگہ جب ہم شدت پسندوں کو سرحد عبور کرتے ہوئے پکڑتے ہیں تو ان پر حملہ کرتے ہیں۔ ’بعض اوقات ہم ان کا پیچھا کرتے ہوئے افغان حدود کے اندر فزیکیلی اور فضائی طور پر بھی کارروائی کرتے ہیں، اور انشا اللہ آنے والے وقتوں میں ہم اس میں اضافہ کریں گے۔‘

  18. پاکستانی قیادت کے بے بنیاد الزامات کی تردید کرتے ہیں: انڈیا

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستانی وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی پاکستانی قیادت کی طرف سے عائد کردہ ’بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔‘

    خیال رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی 10 کچہری میں دھماکے کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف نے الزام عائد کیا تھا کہ اس حملے میں ’انڈیا کی پشت پناہی میں سرگرم‘ گروہ ملوث ہیں۔

    اس کے ردعمل میں رندھیر جیسوال کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا کے خلاف ’جھوٹا بیانیہ‘ بنانے کا پاکستان کا اقدام حیران کن نہیں جس کا مقصد اپنے ملک میں عوام کا دھیان ’فوج سے متاثرہ‘ آئینی ترمیم اور ’اقتدار پر قبضے‘ سے ہٹانا ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’بین الاقوامی برادری حقیقت سے واقف ہے‘ اور وہ پاکستان ’کی مایوس کن چالوں سے گمراہ نہیں ہو گی۔‘

    تاحال یہ واضح نہیں کہ اس خودکش حملے میں کون سا گروہ ملوث ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک جماعت الاحرار نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم دو مقامی صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت نے اس دھماکے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

    انڈیا، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہX/@MEAIndia

  19. اسلام آباد میں خودکش حملے کے بعد پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ

    اسلام آباد میں خودکش حملے کے بعد پنجاب بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ

    ،تصویر کا ذریعہge

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خودکش حملے کے بعد صوبہ پنجاب کے ’حساس، اہم اور گنجان آباد علاقوں‘ میں سکیورٹی بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    محکمہ داخلہ پنجاب نے اسلام آباد کے علاقے جی 11 کچہری میں خودکش دھماکے کے بعد آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی آوز کو ’حساس، اہم اور گنجان آباد علاقوں میں سکیورٹی بڑھانے‘ کی ہدایت دی ہے۔

    پنجاب بھر میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا مراسلہ جاری کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ ’انتہا پسندی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط اور فعال اقدامات اٹھائے جائیں۔‘

  20. اسلام آباد کچہری دھماکے میں آٹھ کلو گرام بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال ہوئے، حملہ آور ایک ہی تھا: آئی جی اسلام آباد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    انسپکٹر جنرل اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ دارالحکومت کی کچہری پر آٹھ کلو گرام تک بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال ہوئے جبکہ حملہ آور ایک ہی تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر اے آئی کی مدد سے 92 فوٹیجز اکٹھی کی گئی ہیں۔

    آئی جی کے مطابق حملہ آوروں کے ہینڈلرز سے متعلق چیزوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ ایک موٹر سائیکل اور گاڑی کو مشکوک تصور کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیمروں سے ملنے والی فوٹیجز سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    آئی جی کے مطابق فارنزک، سی ٹی ڈی، انویسٹی گیشن، سیف سٹی اور حساس ادارے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    انسپکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ افغانیوں کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر آپریشنز جاری ہیں اور ملک بھر میں 45 فیصد افغانیوں کے خلاف آپریشنز صرف اسلام آباد میں ہو رہے ہیں۔