فیض حمید کے کورٹ مارشل کی کارروائی کے سلسلے میں مزید تین ریٹائرڈ فوجی افسران تحویل میں ہیں: آئی ایس پی آر

جمعرات کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں افسران پر فوج کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر مبنی اقدامات کے الزامات ہیں۔ فوج نے حراست میں لیے جانے والے ان ریٹائرڈ افسران کے نام اور عہدوں کے بارے میں معلومات نہیں دی ہیں۔

خلاصہ

  • انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
  • حماس کا کہنا ہے وہ جمعرات کو دوحہ میں شروع ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی
  • ایم پوکس کے سبب کانگو میں اب تک 450 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
  • یوکرین کی فوج کے اعلیٰ فوجی کمانڈر اولیکسنڈر سیرسکی نے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو یہ خبر دی ہے کہ آج کے دن روس افواج کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران انھوں نے 100 روسی فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
  • یوکرین کی فوج کی طرف سے مسلسل دو ہفتوں سے روس کے خلاف جاری فوجی پیش قدمی کے بعد اب روس کے ایک اور خطے نے بھی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کی سکیورٹی پر تعینات اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت تین اہلکار سکیورٹی اداروں کی تحویل میں, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اڈیالہ جیل

    سکیورٹی اداروں نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی سکیورٹی پر تعینات سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے علاوہ دیگر تین اہلکاروں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ ان افسران پر سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے سہولت کاری کا الزام ہے۔

    پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے دیگر افراد میں ایک ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اور ایک اسسنٹ سپرینّینڈنٹ شامل ہیں۔

    محکمہ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق اڈیالہ جیل سے ہٹائے گئے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے حاصل ہونے والی ابتدائی معلومات کی بنیاد پر مزید 6 ملازمین سے پوچھ گچھ کی جائے گی جس میں مزکورہ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کے 2 اردلی، 3 وارڈر اور ہیڈ وارڈز بھی شامل ہیں۔

    ان افراد کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے نہ صرف قریبیساتھی تصور کیے جاتے ہیں بلکہ مبینہ طور پر مالی معاملات میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔

    محکمہ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق ان افراد کے زیرِ استعمال موبائل فونز کو بھی تحویل میں لیکر انھیں فرنزک کے لیے لیبارٹری میں بھجوا دیا گیا ہے اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے گئے تین افراد کے موبائل سے کچھ یورپی ممالک کے نمبروں پر بنائے گئے واٹس ایپ نمبروں کا بھی معلوم ہوا ہے۔ جن میں سے کچھ موبائل نمبروں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ نمبر پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنماوں کے بھی ہیں جو اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں۔

    محکمہ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق حراست میں لیے جانے والے افراد کے پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت میں رہنے والے سابق وزرا سے بھی قریبی تعلق رہا ہے۔

    اہلکار کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ گزشتہ چار سال سے اڈیالہ جیل میں ہی تعینات تھے جبکہ مجموعی طور پر اپنی سروس کے 15 سال ان کی تعیناتی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہی رہی ہے۔

    سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کے بعد ان کی سیکورٹی پر تعینات کیا گیا تھا۔

    اڈیالہ جیل میں مختلف مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں عمران خان کو کمرہ عدالت میں پیش کرنے اور انھیں بیرک تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ ہی کی ہوا کرتی تھی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کو اس سال کے آغاز میں سائفر کیس میں جب سزا سنائی جانی تھی تو عمران خان کمرہ عدالت سے اٹھ کر اپنی بیرک میں چلے گئے کیونکہ عمران خان کے بقول عدالت نے ان کا 342 کا بیان نہیں لیا تھا۔ عدالت کے حکم پر ڈپٹی سپرینٹینڈنٹ سابق وزیر اعظم کے پاس گئے اور عمران خان کے بقول مزکورہ افسر نے انھیں یہ کہہ کر عدالت میں واپس لانے کے لیے امادہ کیا کہ عدالت ان (عمران خان) کا بیان لینے کے لیے تیار ہے تاہم عمران خان جب کمرہ عدالت میں آئے تو عدالت نے انھیں اس مقدمے میں دس سال قید کی سزا سنا دی جس پر عمران خان نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں کو مسکرا کر بتایا کہ ’ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے دھوکا دے دیا۔‘

    اڈیالہ جیل کے اہلکار کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کو چند ہفتے قبل ان کے عہدے سے ہٹا کر آفیسر ان سپیشل ڈیوٹی تعینات کیا گیا تھا۔

    پنجاب کے محکمانہ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار کے مطابق سکیورٹی اداروں نے اس معاملے میں کی جانے والی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں متعقلہ حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

    اہلکار کے مطابق سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سے تحقیقات جاری ہیں اور قصور وار پائے جانے کی صورت میں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

    واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران یہ الزام عائد کیا تھا کہ اڈیالہ جیل میں سکیورٹی اور ان سے ملاقاتوں کا شیڈول فوج کے ایک حاضر سروس کرنل کرتے ہیں۔

  2. بریکنگ, فیض حمید کے کورٹ مارشل کی کارروائی کے سلسلے میں مزید تین ریٹائرڈ فوجی افسران فوجی تحویل میں ہیں: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کارروائی کے معاملے میں پاکستانی فوج کے مزید تین ریٹائرڈ فوجی افسران بھی فوج کی تحویل میں ہیں۔

    جمعرات کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں افسران پر فوج کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر مبنی اقدامات کے الزامات ہیں۔

    فوج نے حراست میں لیے جانے والے ان ریٹائرڈ افسران کے نام اور عہدوں کے بارے میں معلومات نہیں دی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ کُچھ دیگر ریٹائرڈ فوجی افسران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سیاسی مفادات رکھنے اور اُس کے لیے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے الزام کے تحت مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  3. جنرل فیض حمید ہمارا اثاثہ تھے جنھیں ضائع کر دیا گیا: عمران خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان فیض حمید

    ،تصویر کا ذریعہGOVERNMENT OF PAKISTAN

    سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق ڈائیریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید ہمارا اثاثہ تھے جنھیں ضائع کر دیا گیا۔

    جمعرات کے روز اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنرل فیض سے تفتیش فوج کررہی ہے۔ ’یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، مجھے اس سے کیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر جنرل فیض حمید کا احتساب ہو رہا ہے تو سب کا احتساب ہونا چاہیے۔

    خیال رہے کہ سوموار کے روز پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ ملک کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور وہ فوجی تحویل میں ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے فیض حمید کے خلاف ایک تفصیلی ’کورٹ آف انکوائری‘ کے نتیجے میں پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت فیض حمید کے خلاف ’مناسب تادیبی کارروائی شروع کرنے اور فیض حمید کے ’ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کے خلاف ورزی‘ کی بات کی گئی تھی۔

    سابق وزیرِ اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلیجنس بیورو کی رپورٹس تھیں کہ موجودہ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان ہر وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کے پاس بیٹھے رہتے تھے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کہنے پر جنرل فیض کو ہٹایا تھا۔

    عمران خان کا کہنا ہے کہ جنرل فیض حمید کو ہٹانے پر ان کی جنرل باجوہ سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔

    غمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ اپنے دورِ حکومت میں جنرل فیض کو بطور ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے نہیں ہٹانا چاہتے تھے کیونکہ افغانستان اور طالبان کا مسئلہ درپیش تھا۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق ایک سوال کے جواب میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ’وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے جنرل فیض کا نو مئی کے ساتھ براہ راست تعلق ہے میں کہہ رہا ہوں اگر جنرل فیض کا نو مئی کے واقعات سے کوئی تعلق ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیئے اور جوڈیشل کمیشن کے ذریعے سارے ثبوت سامنے لائے جائیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ دفاع نے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی بات کر کے میرے موقف کی تائید کی ہے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’مخصوص نشستوں کے فیصلہ پر عمل نہ کر کے یہ آئین کی تیسری مرتبہ خلاف ورزی کریں گے اور پی ٹی ائی کو مخصوص نشستیں نہ دینے اور آئین کی خلاف ورزی پر میں پارٹی کو ابھی سے تیار کر رہا ہوں۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود جیل کے ایک اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان صحافیوں سے گفتگو کرنے لگے تو وہاں پر موجود جیل کے عملے نے انھیں ایسا کرنے سے روکا جس کی وجہ سے عمران خان اور کمرہ عدالت میں موجود جیل کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

    سابق وزیر اعظم نے جیل کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اوپن کورٹ ہے اور وہ میڈیا سے ضرور بات کریں گے جس کے بعد سابق وزیر اعظم نے میڈیا کے نمائندوں کے چند مزید سوالوں کے جواب بھی دیے۔

    دوسری جانب 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت 17 اگست تک ملتوی کردی گئی۔ نیب کے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم پر آج پانچویں مرتبہ بھی جرح نہ ہوسکی۔ ملزمان کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہمارے متعدد کیسز لگے ہیں سماعت ملتوی کی جائے۔

    سماعت کے دوران بشریٰ بی بی روسٹرم پر آگئیں اور عدالت کو بتایا کہ نیب نے نئے توشہ خانہ کیس میں مجھے سوال نامہ دیا تھا جیل حکام میرے کمرے سے سارے کاغذات اٹھا کر لے گئے ہیں اور وہ نیب کے سوال نامے کا جواب تیار کررہی تھیں۔

    جس کے بعد عدالت نے ڈپٹی سپرینڈنٹ کو نیب کے کاغذات بشریٰ بی بی کو واپس کرنے کی ہدایت کردی۔

  4. پاک افغان سرحد پر کشیدگی: طورخم بارڈر تین روز بعد کھول دیا گیا, عزیز اللہ خان, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    طورخم بارڈر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی کے باعث بند طورخم بارڈر کو تین روز بعد کھول دیا گیا ہے جس کے بعد تجارتی گاڑیوں اور مسافروں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    سرحد پر موجود کسٹم اور ضلع خیبر کے پولیس حکام نے سرحدی کراسنگ کھولے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    طورخم سرحد پر موجود کسٹم حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پر گاڑیوں کی کلیرنس کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس کے بعد آج صبح ٹرک اور کنٹینرز افغانستان کی جانب روانہ ہو گئے ہیں۔

    اسی طرح افغانستان سے پاکستان آنے والے ٹرک بھی دستاویزی کارروائی کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کی آمد و رفت بھی شروع ہو گئی ہے۔

    خیال رہے کہ پاک افغان سرحد طورخم کے مقام پر تین روز پہلے اچانک دونوں جانب سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد بند کردی گئی تھی۔

    سرحد پر موجود ذرائع کے مطابق افغان حکام ممنوعہ علاقے میں تعمیرات کرنا چاہتے تھے جس پر انھیں منع کیا گیا تو اس دوران کشیدگی بڑھ گئی اور دونوں جانب سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ پاک افغان سرحد پر دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان کشیدگی یا فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

    افغانستان میں دو سال قبل قائم ہونے والی طالبان حکومت اور اس سے سابق صدر اشرف غنی کے دور میں بھی سرحد پر کشیدگی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

    سرحدی کشیدگیوں کے باث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

  5. ایک وقت تھا دہشت گرد ملک پر حملہ کرتے تھے اب فوج سرجیکل سٹرائیک کرتی ہے: نریندر مودی

    انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے 78ویں یومِ آزادی کے موقع پر دہلی میں خطاب کرتے ہوئے انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’ایک وقت تھا جب دہشت گرد آکر ملک پر حملہ کرتے تھے لیکن اب فوج سرجیکل سٹرائیک کرتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ملک کے نوجوان اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

    ’بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے‘

    بنگلہ دیش میں سابق وزیرِ اعظم سیخ حسینہ واجد کے استعفے اور اقتدار کی تبدیلی کے بعد ہندو شہریوں پر ہونے والے حملوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا، ’بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے پڑوسیوں کی خوشی اور امن کے خواہاں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کی صورتحال تشویشناک ہے۔

    بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم مخالف تحریک کے نتیجے میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ایسی متعدد رپورٹیں سامنے آئیں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ ملک میں اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں کے لیے حالات سازگار نہیں اور انہیں بڑے پیمانے پر پرتشدد واقعات کا سامنا ہے۔

  6. پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر فرحت عباس مستعفی

    پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی لیڈر حافظ فرحت عباس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان کو لکھے خط میں فرحت عباس کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف نو مئی کے واقعات سے متعلق درج کیسز میں ان کی ضمانتیں خارج ہوگئی ہیں جس کے بعد ان کے لیے بطور پارلیمانی لیڈر اپنے فرائض سر انجام دینا ممکن نہیں ہوگا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں فرحت عباس کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی تھی جس کے بعد وہ عدالت سے فرار ہوگئے تھے۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ضمانت خارج ہونے پر فرحت عباس کا کہنا تھا کہ ’میں اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ جاؤں گا۔‘

    پولیس کا کہنا تھا کہ عدالت کے فیصلے کے بعد فرحت عباس اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے چلے گئے تھے۔

  7. ’حماس غزہ جنگ بندی مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی‘

    غزہ، فلسطین

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حماس کے ایک سینئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی تنظیم غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جمعرات کو دوحہ میں شروع ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ حماس امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایک لائحہ عمل چاہتی ہے اور کسی ’مذاکرات برائے مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی جس سے اسرائیل کو اپنی جنگ جاری رکھنے میں مدد ملے۔‘

    اسرائیل پر معاہدے کے لیے ’نئی شرائط‘ عائد کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حماس چاہتی ہے کہ امن معاہدے کا روڈ میپ رواں سال مئی کے آخر میں امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے تجویز کردہ معاہدے پر مبنی ہو۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ دراصل حماس معاہدے میں تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    تاہم حماس کے بغیر اب بھی مذاکرات متوقع ہے۔ امریکہ، مصر اور قطر جو اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اس موقع کو ایک ایسا منصوبہ تیار کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں جس سے امن معاہدے کے واستے میں حائل بقیہ مسائل حل کیے جا سکیں۔

    گزشتہ ماہ امن کی کوششوں کو کئی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا اور حماس کے سیاسی رہنما اور چیف مذاکرات کار اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل کے بعد سے مذاکرات معطل ہیں۔

    امریکہ کو امید ہے کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے سے ایران کو اسرائیل کے خلاف اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے سے روکنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    اسرائیل نے تاحال اس قتل میں ملوث ہونے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے-

  8. ڈبلیو ایچ او نے ایم پوکس کو عالمی صحتِ عامہ کے لیے خطرہ قرار دے دیا

    ایم پوکس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے افریقہ کے متعدد حصوں میں پھیلنے والی وبا ایم پوکس کو عالمی صحتِ عامہ کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

    ایم پوکس (ماضی میں اسے منکی پوکس کہا جاتا تھا) کے سبب کانگو میں اب تک 450 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اب یہ وبا وسطی اور مشرقی ایشیا تک بھی پھیل چکی ہے۔ سائنسدان اس وبا کے نئے ویریئنٹ کے اتنی تیزی سے پھیلنے اور جان لیوا ہونے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ تدروس ادھانوم کا کہنا ہے کہ یہ وبا افریقہ کے باہر بھی پھیل سکتی ہے اور ’یہ انتہائی پریشان کُن‘ بات ہے۔

    ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس وبا کو روکنے اور جانیں بچانے کے لیے ایک مشترکہ عالمی ردِعمل ضروری ہے۔‘

    ایم پوکس ایک ایسی بیماری ہے جو کہ قریبی رابطوں جیسے کہ سیکس، مریض کو چھونے یا متاثر فرد کے قریب بیٹھ کر سانس لینے سے بھی لگ جاتی ہے۔

    اس بیماری کے دوران نزلے اور جسم پر خراش جیسی علامات دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ محققین کے مطابق اس بیماری کے سبب 100 میں سے تقریباً چار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    ایم پوکس کی دو قسمیں ہیں: کلیڈ ون اور کلیڈ ٹو۔

    سنہ 2022 میں بھی ایم پوکس کو عالمی صحت کے لیے ایک خطرہ قرار دیا گیا تھا، جب کلیڈ ٹو ویریئنٹ کے سبب لوگ متاثر ہوئے تھے۔

    تاہم اس مرتبہ لوگ کلیڈ ون ویریئنٹ سے متاثر ہو رہے ہیں جو کہ زیادہ خطرناک ہے۔ اب تک اس سے متاثر ہونے والے مریضوں کی تقریباً 10 فیصد تعداد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکی ہے۔

    ایم پوکس کے اس نئے ویریئنٹ کو کلیڈ ون بی کا نام دیا گیا ہے۔ ایک سائنسدان نے اسے ایم پوکس کا اب تک کا ’سب سے خطرناک‘ ویریئنٹ قرار دیا ہے۔

    کانگو میں اس وائرس سے تقریباً 13 ہزار 700 لوگ متاثر ہو چکے ہیں، جن میں سے 450 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    کانگو کے علاوہ ایم پوکس کی یہ نیا ویریئنٹ برونڈی، سینٹرل افریقن رپبلک، کینیا اور روانڈا میں بھی لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔

  9. کوئٹہ میں دستی بم دھماکوں میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور سات زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ریلوے سٹیشن کے قریب ہونے والے بم دھماکوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔

    یہ دھماکے ریلوے اسٹیشن کے قریب ہوئے۔ مقامی صحافی حماد علی نے جو کہ ان دھماکوں سے پہلے یوم آزادی کی تقریبات کی کوریج کے حوالے سے ریلوے سٹیشن پر موجود تھے بتایا کہ انھیں ریلوے سٹیشن کے گرد و نواح میں تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکوں کی وجہ سے متعدد لوگ زخمی ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔ سول لائنز پولیس سٹیشن کے ڈی ایس پی مالک درانی نے فون پر رابطہ کرنے پر بتایا کہ نامعلوم افراد نے ریلوے سٹیشن کے حدود میں دو دستی بم پھینکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دستی بموں کے حملے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے جن کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

    کوئٹہ میں گذشتہ روز بھی متعدد دھماکے ہوئے تھے جن میں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ گذشتہ روز ہونے والے بم حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ بلوچستان کے بعض دیگر علاقوں میں بھی گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے۔

  10. ’یوکرین کے پاس حق ہے کہ وہ روس کے خلاف اپنے دفاع میں نیٹو کے فراہم کردہ ہتھیار استعمال کرے‘

    Latvian FM

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    لٹویا کی وزیرِ خارجہ بیبا براز نے روس میں یوکرین کی دراندازی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کیئو کو نیٹو کی جانب سے فراہم کردہ ہتھیار استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

    لٹویا یوکرین کے سب سے مضبوط نیٹو اتحادیوں میں سے ایک ہے اور ہر سال فوجی امداد میں اپنے جی ڈی پی کا 0.25 فیصد یوکرین کو دیتا ہے۔

    بیبا براز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس سے قبل روسی سرزمین پر نیٹو ہتھیاروں کے استعمال کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا تھا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بیبا براز کا کہنا تھا کہ ’یہ یوکرین کے ہتھیار ہیں‘ اور ’نیٹو ممالک کے اندر قانونی ماہرین کے درمیان مشاورت‘ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ’اپنے دفاع کا حق جوابی حملے کے حق کا بھی احاطہ کرتا ہے۔‘

    بیبا براز نے روسی حکام کے ملک میں یوکرین کی فوج کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کے دعووں کو مسترد کیا ہے۔

    PM

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    دوسری جانب روس کے سابق وزیر اعظم اور پوتن کے ناقدین میں سے ایک میخائل کاسیانوف نے بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’یوکرین کے حملے کے بعد صدر پوتن ’مکمل طور پر صدمے کی حالت میں ہیں۔‘

    میخائل کاسیانوف کا کہنا ہے کہ یہ پوتن کے لیے ’ایک سنگین نفسیاتی دھچکا‘ ہے۔

    کاسیانوف نے 2000 سے 2004 کے درمیان خدمات انجام دیں جب پوتن صدر تھے اور اب وہ لٹویا سے حزب اختلاف کی پیپلز فریڈم پارٹی کے سربراہ ہیں۔

    کاسیانوف کا کہنا ہے کہ پوتن اس کے جواب میں ’کسی نہ کسی شہر پر بمباری کر سکتے ہیں یا کُچھ بھی ایسا کہ جو یوکرین کے لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔‘

  11. یوکرین کی روس میں پیش قدمی جاری، 100 روسی فوجوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ

    یوکرین روس جنگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یورکین کی فوج کے اعلیٰ فوجی کمانڈر اولیکسنڈر سیرسکی نے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو یہ خبر دی ہے کہ آج کے دن روس افواج کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں کے دوران انھوں نے 100 روسی فوجیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ویڈیو لنک کے پر یوکرین کے صدر سے بات کرتے ہوئے فوجی کمانڈر سیرسکی نے صدر کو بتایا کہ یوکرین کی افواج نے آج روس کے کرسک علاقے میں فوجی کارروائی کے دوران بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میں اپنی فوج کے اس آپریشن اور کارروائی میں شامل ہر شخص کا شکر گزار ہوں، اب اس موجودہ صورتحال میں ہمارے لوگوں کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوگی۔‘

    صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کی افواج روس کے کرسک کے علاقے میں مزید پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں یوکرین کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ فورسز آج مختلف سمتوں میں ایک سے دو کلومیٹر آگے بڑھ چکی ہیں۔

    بی بی سی آزادانہ طور پر یوکرین کے صدر کے اس بیان اور دعوی کی تصدیق نہیں کر سکی اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یوکرین کی فوج نے کتنے روسی علاقے پر قبضہ کیا ہے۔

    Ukraine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ خطے کی صورتحال کا دارومدار اب اس بات پر ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین کی ان حالیہ کارروائیوں کا جواب کس انداز میں دیا جاتا ہے۔

    فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ ’جب اس جنگ میں ماسکو کے لیے حالات خراب ہوئے، یا جب بھی مغربی دُنیا نے یوکرین کو زیادہ طاقتور ہتھیار فراہم کرنے پر غور کیا، تو صدر ولادیمر پوتن سب کو یہ بات یاد دلایا کرتے تھے کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو کنٹرول کرتے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’یوکرین کی روس میں اچانک دراندازی 1941 کے بعد پہلی بار ہے جب کسی غیر ملکی فوج نے اس ملک پر حملہ کیا ہے لیکن یہ ماسکو پر پیش قدمی نہیں ہے۔ یوکرین نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف ایک عارضی اقدام ہے۔‘

    فرینک کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ صدر زیلنسکی کی ایک چال ہے جس کا مقصد جنگ اور جنگی حالات کو روسیوں کے سامنے لانا اور امن معاہدے پر بات چیت کا وقت آنے پر اپنے ملک کو بہتر پوزیشن میں لانا ہے۔

    پوتن نے ’مناسب وقت پر جواب‘ دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن وہ جانتے ہیں کہ نیٹو کی ریڈ لائنز کیا ہیں اور فی الحال وہ ممکنہ طور پر یوکرین کو سزا یا جواب دینے اور ممکنہ طور پر اس کے مغربی اتحادیوں پر سائبر حملے تیز کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

  12. تھائی عدالت نے وزیر اعظم کو کابینہ میں سزا یافتہ وکیل کی تقرری پر برطرف کر دیا

    Thailand

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    تھائی لینڈ کی ایک عدالت نے وزیر اعظم سریتھا تھاویسن کو اپنی کابینہ میں ایک سزا یافتہ سابق وکیل کی تقرری پر برطرف کر دیا ہے۔

    عدالت نے فیصلہ سنایا کہ وزیر اعظم سریتھا نے ’اخلاقی اقدار‘ اور مُلکی قوانین سے انحراف کیا ہے۔

    ایک سال سے بھی کم عرصے سے اقتدار میں رہنے والی 62 سالہ سریتھا 16 سال میں تیسری مدت کے لیے وزیر اعظم بنے جنھیں اب عدالت نے اُن کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔

    جب تک تھائی لینڈ کی پارلیمنٹ نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے اجلاس نہیں بلاتی اس وقت تک ان کی جگہ عبوری رہنما مقرر کیا جائے گا۔

    عدالتی فیصلے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سزا یافتہ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی ایمانداری پر اور جو قدم میں نے اُٹھایا اُس پر پورا اعتماد ہے۔۔۔تاہم اُن کا کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہے لیکن میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں اس فیصلے سے متفق نہیں ہوں۔ عدالت کا فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔

    سابق وزیر اعظم سریتھا کی برطرفی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب تھائی لینڈ میں بہت سی دوسری جماعتوں اور انتظامیہ کی راہ پر چل پڑے ہیں جو ملک کی آئینی عدالت کے غیر متناسب اختیارات کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔

    تھائی لینڈ کی سیاست اخلاقیات کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ تھائی لینڈ میں رشوت خوری عام ہے اور ماضی میں زیادہ اس سے بھی زیادہ سنگین سزاؤں والے سیاستدانوں اور وزرا حکومتی امور سر انجام دیتے رہے ہیں۔

    تھائی لینڈ کے وزیر اعظم کے خلاف عدالتی فیصلے کو زیادہ تر تھائی لوگ ایک سیاسی فیصلے قرار دے رہے ہیں۔

    مئی میں عدالت نے تقریبا 40 سینیٹرز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست منظور کی تھی جس میں وزیر اعظم کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    بدھ کے روز نو ججوں میں سے پانچ ججوں نے فیصلہ سنایا کہ وزیر اعظم سریتھا نے اپنی کابینہ میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث اور ایک سزا یافتہ وکیل کی تقرری کرکے اپنے عہدے کی اخلاقیات کی خلاف ورزی کی ہے، حالانکہ انھوں نے صرف 19 دن بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

    سریتھا گزشتہ برس اگست میں تھائی لینڈ کے وزیر اعظم بنے تھے جس کے بعد تھائی لینڈ میں نو سال سے جاری فوجی حکومتوں کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

  13. روس کے ایک اور خطے میں بھی ایمرجنسی نافذ: ’یوکرین حملے کے بعد مشکل صورتحال کا سامنا ہے‘

    Ukrain

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کی فوج کی طرف سے مسلسل دو ہفتوں سے روس کے خلاف جاری فوجی پیشقدمی کے بعد اب روس کے ایک اور خطے نے بھی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔

    روس کے سرحدی علاقے بیلگوروڈ کے گورنر نے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ یوں یہ روس کا دوسرا خطہ ہے جہاں یوکرین کے خطے کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔

    یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کے فوجی دستے روس کے کرسک خطے میں داخل ہونے کے بعد مزید پیشقدمی کا سلسلہ جاری ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے منگل کو کہا تھا کہ اب تک ان کی فوج روس کے 74 قصبوں اور گاؤں پر قبضہ کر چکی ہے۔ صدر کے فوجی ترجمان کے مطابق یوکرین نے روس کے کل 1000 سکوائر کلومیٹر رقبے پر قبضہ کر لیا ہے۔

    روس کا کہنا ہے کہ اس نے رات کو یوکرین کے اپنی سرزمین پر اڑنے والے 117 ڈرونز مار گرائے ہیں۔

    روس کے ایک سینیئر فوجی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں یوکرین کی پیشقدمی روک دی ہے۔ میجر جنرل ایپتی الیدینوف کا کہنا ہے کہ یوکرین کا پلان ناکام ہو چکا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے روس کے خلاف حملے سے متعلق اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اس حملے نے روس کے صدر ولادیممیر پوتن کے لیے مشکل صورتحال کھڑی کر دی ہے جنھوں نے خود سنہ 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا۔

    بیلگوروڈ کہاں واقع ہے؟

    بیلگوروڈ مغربی روس کا حصہ ہے جو کہ روس-یوکرین سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ کرسک کے قریب کا علاقہ بنتا ہے جہاں سب سے پہلے یوکرین کے فوجی روس کی حدود میں داخل ہوئے اور پھر آگے بڑھتے چلے گئے۔

    روس نے اس علاقے سے شہریوں کا انخلا شروع کر رکھا ہے۔ انھوں نے سرحد پر ’دشمن ملک کے حملے‘ کو اس کا جواز بتایا ہے۔

    اس متعلق ابھی تک کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں کہ بلیگورڈ میں یوکرین کی افواج داخل ہو چکی ہیں یا نہیں۔

    بیلگوروڈ کے گورنر نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ اس خطے میں صورتحال بہت مشکل اور تناؤ والی ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کے حملے میں مکان تباہ ہوئے ہیں جبکہ ان حملوں میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور متعدد لوگ زخمی بھی ہیں۔

  14. قوم سے جلد خطاب میں معاشی پلان دوں گا، بجلی کی قیمتوں میں کمی سے متعلق خوشخبری ملے گی: وزیراعظم شہباز شریف

    Shehbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہScreenshot

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مہنگائی میں کمی، بجلی کی قیمتوں میں کمی، معیشیت کو ابھارنے اور ملکی ترقی کے لیے اپنی جان لڑا دوں گا۔

    اسلام آباد میں یوم آزادی سے متعلق منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’چند دنوں میں قوم سے خطاب کر کے ایک پانچ سال معاشی پروگرام پیش کروں گا جو ماضی کے پروگرام سے مختلف ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مہنگائی، بیروزگاری اور بجلی کے بلوں سے عوام پریشان ہیں، مجھے اس کا پورا احساس ہے، ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ اس حال تک کیسے پہنچے۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ’بجلی کے بلوں میں کمی کے بغیر پاکستان کی صنعت، زراعت اور ایکسپورٹ میں بہتری ممکن نہیں ہے اور اس کے بغیر گھریلو صارفین کو تسکین نہیں مل سکتی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ’پوری حکومت پاکستان اس پر پوری طرح یکسوئی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے آپ کو خوشخبری ملے گی۔ اس کے بغیر پاکستان کی معیشیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔‘

  15. پاکستان کے لیے خدمات: 104 پاکستانی اور غیر ملکی افراد کو اعزازات عطا کرنے کی منظوری

    Zardari

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم آزادی کے موقع پر پاکستان کے لیے خدمات کے اعتراف میں 104 پاکستانی اور غیر ملکی افراد کو اعزازات عطا کرنے کی منظوری دے دی۔ اعزازات 23 مارچ 2025 کو خصوصی تقریب تقسیم اعزازات میں عطا کیے جائیں گے۔

    خدمات عامہ کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نشان پاکستان عطا کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

    کھیل کے شعبے میں پیرس اولمپکس میں جیولن تھرو کے مقابلے میں طلائی تمغہ جیتنے والے ایتھلیٹ ارشد ندیم کو ہلال امتیاز دینے کی منظوری دی ہے۔ اور قراقرام سلسلے کی چوٹی براڈ پیک پر ریسکیو آپریشن میں میں مرنے والے مراد سدپارہ کو ستارہ امتیاز عطا کرنے کی منظوری دی ہے۔

    ادب کے شعبے میں ناصر کاظمی کو نشان امتیاز بعد از وفات عطا کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر حسین بلوچ کو ستارہ شجاعت عطا کرنے کی منظوری دی ہے۔ دو روز قبل یعنی 12 اگست کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ ہلاک ہوئے۔

  16. ٹی ٹی پی نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، افغانستان اس گروپ کے خلاف ہمارا ساتھ دے: پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر

    COAS

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک کے صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک طالبان پاکستان نے دوبارہ سر اٹھایا ہے۔ انھوں نے افغانستان سے اس گروپ کے خلاف پاکستان کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی کابل سے متعدد بار ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ملک کے اندر ایک آپریشن عزم استحکام شروع کرنے کا اعلان کیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ ’افغانستان ہمارا برادر ہمسایہ ملک ہے جس کے لیے پاکستان اور اس کے عوام نے ان گنت قربانیاں دی ہیں جس کی دور حاضر میں کوئی نوید نہیں ملتی، ہم افغانستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رکھنے کے خواہاں ہیں اور ان کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ فتنہ الخوارج کو اپنے دیرینہ اور خیر خواہ ہمسایہ ملک پر ترجیح نہ دیں اور اس فتنے کا قلع قمع کرنے میں ہمارا ساتھ دیں جیسے پاکستان نے آپ کا ساتھ دیا ہے۔‘

    پاکستان کی 77ویں یوم آزادی کے موقع پر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ’آج ہمارے خیبر پختونخوا میں بالخصوص فتنہ الخوارج المعروف تحریک طالبان پاکستان کی ریاست اور شریعت مخالف کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردی کے فتنے سے دوبارہ سر اٹھایا ہے، جس کی سرکوبی کے لیے افواج پاکستان اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمہ وقت برسرپیکار ہیں۔‘

    آرمی چیف نے کہا کہ ’بدقسمتی سے ہمارے خطے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے عزائم رکھنے والی قوتیں سرگرم عمل ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے مکمل یکسوئی کے ساتھ اختیار کی جانے والی کثیرالجہتی حکمت عملی عزم استحکام کے عزم کا استعارہ سلامتی کا ضامن اور وقت کا اہم تقاضا ہے۔

    جنرل عاصم منیر نے خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہ ’اللہ کی بابرکت ذات اور پوری قوم آپ کے ساتھ ہے اور بہت جلد اللہ تعالیٰ ہم سب کو فتح مبین عطا کرے گا۔‘

    ’چند عناصر بلوچستان کو غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں‘

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ’صوبہ بلوچستان بہادر اور حب الوطن لوگوں کا مسکن اور قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن چند عناصر اسے غیرمستحکم کرنے کے درپے ہیں۔‘

    آرمی چیف نے کہا کہ ’ان کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی اور پاک فوج، حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کے تعاون سے اس صوبے اور اس کے غیور عوام کی سالمیت اور فلاح و بہبود کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔‘

    آرمی چیف نے کہا کہ افواج پاکستان کو کمزور کرنا پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ پچھلے چند سالوں سے ریاست مخالف بیرونی طاقتوں کی سرپرستی میں ڈیجیٹل دہشت گردی کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے جس کا مقصد جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے ذریعے قوم میں نفاق اور مایوسی پھیلانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے کی آئین اجازت تو ضرور دیتا ہے لیکن آئین پاکستان نے اس کی واضح حد بندی بھی کر رکھی ہے۔

  17. پاکستان حکومت کا پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    پاکستان کی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق فی لیٹر پٹرول کی قیمت 08 روپے 47 پیسے کمی کے بعد 260.96 روپے ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب ڈیزل کی قیمت میں 06 روپے 70 پیسے کمی کردی گئی ہے۔

    ڈیزل کی نئی قیمت فی لیٹر 266 روپے 07 پیسے ہوگئی ہے۔ پاکستان میں حکومت ہر 15 دن میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر نظر ثانی کرتی ہے۔

  18. بنگلہ دیش میں 15 اگست کی سرکاری تعطیل منسوخ

    Bangladesh

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے 15 اگست کی سرکاری تعطیل منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس بات کا فیصلہ عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد ڈاکٹر یونس کی زیر صدارت ہونے والے مشاورتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔

    15 اگست 1975 کو بنگلہ دیش کے بانی اور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان کو ان کے خاندان سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔

    سنہ 1996 جب شیخ حسینہ اقتدار میں آئیں تو انھوں اس دن کو قومی یوم سوگ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا اور اس دن عام تعطیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

    بعد ازاں سنہ 2002 میں ان کی مخالف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی حکومت نے یہ چھٹی منسوخ کر دی تھی۔ تاہم 2008 میں دوباری برسرِ اقتدار آنے کے بعد شیخ حسینہ واجد کے حکم پر اس دن کو عام تعطیل کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    عوام 15 اگست کو یوم سوگ منائیں: شیخ حسینہ واجد

    ملک چھوڑ کر جانے کے بعد اپنے پہلے بیان میں عوام سے 15 اگست کو یوم سوگ منانے کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہروں کے نام پر والی ’دہشت گردانہ‘ کاروائیوں میں ملوث افراد کو سزا دی جائے۔

    اپنے بیٹے اور سابق سابق آئی ٹی ایڈوائزر سجیب وازید جوئی کے فیس بک اکاؤنٹ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں انھوں نے یکم جولائی سے جاری بنگلہ دیش میں شروع ہونے والی تحریک کے دوران زخمی ہونے والوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

    شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ جولائی سے مظاہروں کے نام پر والی توڑ پھوڑ، آتش زنی اور تشدد کے واقعات نے کئی افراد کی جانیں لی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں طلبا، اساتذہ، پولیس اہلکار بشمول خواتین اہلکار، صحافی، عوامی لیگ اور اتحادی تنظیموں کے قائدین اور کارکنان، سمیت عوام اور اور مختلف اداروں کے کارکنان جاں بحق ہوئے ہیں۔‘ ’میں مطالبہ کرتی ہوں کہ اس قتل اور تخریب کاری میں ملوث افراد کی مناسب تفتیش کی جائے اور مجرموں کی نشاندہی کی جائے اور انھیں سزا دی جائے۔‘ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ 5 اگست کو عوامی احتجاج کے بعد ملک چھوڑ کر انڈیا چلی گئی تھیں۔

  19. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایران نے برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے گذشتہ ماہ تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل پر اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی سے باز رہنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران اور بیرونی دُنیا کے درمیان اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اسی دوران برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر نے پیر کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان پر زور دیا کہ وہ ’فوجی حملے کی دھمکیوں سے گریز کریں۔‘ تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جوابی کارروائی ’جرائم کو روکنے کا ایک طریقہ‘ اور ایران کا ’قانونی حق‘ ہے۔ اسرائیل کی جانب سے تاحال اسماعیل ہنیہ کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی، لیکن اس کے باوجود اُس نے اپنی فوج کو ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ کر رکھا ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران اس ہفتے کے اوائل میں ’حملوں‘ کی تیاری کر رہا ہے، اور اُس (امریکہ) نے اسرائیل کے دفاع میں مدد کے لیے مشرق وسطی میں اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
    • برطانوی شہر ساؤتھ پورٹ میں تین بچیوں کے قتل کے بعد ملک کے متعدد شہروں میں پھوٹ پڑنے والے فسادات میں ملوث افراد پر فردِ جُرم عائد کر دی گئی ہیں۔ 30 جولائی کو برطانیہ کے علاقے ساؤتھ پورٹ میں پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت کی جانب سے کئی افراد کو سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔ سزا پانے والوں میں پٹنہ پلیس کے رہائشی 51 سالہ کین کو تین سال قید، 41 سالہ بیلی کو 30 ماہ قید، نارتھ ویسٹ روڈ سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ ہارکنس کو 12 ماہ قید، سینٹرل پارک ٹاورز سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ ولید کو 20 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تاہم ایک 13 سالہ لڑکی نے 31 جولائی کو الڈرشاٹ میں ایک ہوٹل کے باہر احتجاج کے دوران دھمکی دینے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
    • بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف منگل سے دوبارہ دھرنے کا آغاز کردیا گیا۔ آل پارٹیز، تاجر اور لغڑی (محنت کش) اتحاد کے زیرِ اہتمام اس دھرنے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاسپورٹ کی شرط کے خلاف چمن شہر میں دھرنے کا آغاز گزشتہ سال اکتوبر سے کیا گیا تھا لیکن چمن کی تاریخ کا طویل دھرنا رواں سال 21 جولائی کو ختم کیا گیا تھا۔ یہ دھرنا بلوچستان کے سابق نگراں وزیرِ داخلہ ملک عنایت اللہ خان کاسی کے اس اعلان پر ختم کیا گیا تھا کہ چمن سے دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت کے لیے پرانے طریقے کی بحالی کے مطالبے کو تسلیم کیا گیا ہے۔ تاہم تاجر رہنما اور دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی کا کہنا ہے کہ چونکہ آمد ورفت کے پرانے طریقے کو اس کی صحیح حالت میں بحال نہیں کیا گیا اس لیے منگل سے دوبارہ دھرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ دھرنا چمن شہر میں دوبارہ اس مقام پر دیا جارہا ہے جہاں سے یہ گزشتہ سال اکتوبر میں شروع کیا گیا تھا۔
    • بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مُلک میں بدامنی کے دوران پولیس کے ہاتھوں ایک عام شہری کی ہلاکت کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ میں کئی ہفتوں سے جاری ہلاکت خیز بدامنی کے بعد گزشتہ حکومت کی چھ دیگر اعلیٰ شخصیات کے خلاف بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کے ایک شہری کے وکیل مامون میا نے کہا کہ ڈھاکہ کی عدالت نے پولیس کو ’ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ‘ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ حسینہ واجد نے رواں ماہ کے آغاز پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور سیاسی بدامنی کے بعد انڈیا روانہ ہو گئی تھیں۔ ابو سعید نامی ایک عام شہری فسادات کے دوران سڑک پار کرتے ہوئے سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد ایک مقامی تاجر عامر حمزہ نے جولائی میں قتل کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی۔
  20. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید

    گذشتہ روز کی خبریں جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔