ایران نے اسرائیل پر حملے سے باز رہنے کے مغربی مطالبے کو مسترد کر دیا

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر نے پیر کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان پر زور دیا کہ وہ ’فوجی حملے کی دھمکیوں سے گریز کریں۔‘ تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جوابی کارروائی ’جرائم کو روکنے کا ایک طریقہ‘ اور ایران کا ’قانونی حق‘ ہے۔

خلاصہ

  • ایران نے برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے گذشتہ ماہ تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل پر اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی سے باز رہنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
  • برطانیہ میں تین بچیوں کے قتل کے بعد ہنگاموں میں ملوث متعدد افراد کو سزاؤں کا سامنا
  • بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مُلک میں بدامنی کے دوران پولیس کے ہاتھوں ایک عام شہری کی ہلاکت کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
  • یوکرین کی فوج کے اعلیٰ کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی فوج نے روس کے ایک ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    بی بی سی کی تازہ ترین خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  2. کوئٹہ: متعدد بم دھماکوں میں تین افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم دھماکوں کے مختلف واقعات میں ایک خاتون سمیت کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔

    ان میں سے تین دھماکے پیر کی شب اس وقت ہوئے جب 14 اگست کی مناسبت سے ایوب سٹڈیم کوئٹہ میں ایک تقریب منعقد ہو رہی تھی جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔

    ایک پولیس آفیسر نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے تین گرینیڈ فائر کیے جن میں سے دو کلی دیبہ کے علاقے میں گھروں پر گرے جبکہ ایک نجی پارکنگ میں گِر گیا۔ تینوں گرینیڈز زوردار دھماکوں سے پھٹ گئے۔ گھروں پر گرنے والے گرینیڈز سے ایک خاتون سمیت دو افراد ہلاک ہوگئے جبکہ تین زخمی ہوگئے۔

    نجی پارکنگ میں گرینیڈ سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    جب اس سلسلے میں ایس ایس پی آپریشنز محمد بلوچ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے کہا کہ اس کے کارندوں کی جانب سے گھروں پر فائر کیے گئے جس سے عام شہریوں کا نقصان ہوا۔

    اس سے قبل ایک دھماکہ دن کو شہر کے مصروف ترین کاروباری مرکز لیاقت بازار میں نجیب سٹریٹ میں ان دکانوں کے ساتھ ہوا جو کہ سجاوٹی اشیا فروخت کرتی ہیں۔

    سٹی پولیس سٹیشن کے ڈی ایس پی مالک درانی نے بتایا کہ اس دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جن کو طبیّ امداد کی فراہمی کے لیے سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے بتایا کہ اس دھماکے کے بعد سات افراد کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔ ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت عرفان اللہ کے نام سے ہوئی۔

    ڈی ایس پی سٹی پولیس سَٹیشن نے بتایا کہ دھماکے میں دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

  3. ایران نے اسرائیل پر حملے سے باز رہنے کے مغربی مطالبے کو مسترد کر دیا

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران نے برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے گذشتہ ماہ تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل پر اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی سے باز رہنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

    ایران اور بیرونی دُنیا کے درمیان اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اسی دوران برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر نے پیر کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان پر زور دیا کہ وہ ’فوجی حملے کی دھمکیوں سے گریز کریں۔‘

    تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جوابی کارروائی ’جرائم کو روکنے کا ایک طریقہ‘ اور ایران کا ’قانونی حق‘ ہے۔

    تاہم اسرائیل کی جانب سے تاحال اسماعیل ہنیہ کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی، لیکن اس کے باوجود اُس نے اپنی فوج کو ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ کر رکھا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران اس ہفتے کے اوائل میں ’حملوں‘ کی تیاری کر رہا ہے، اور اُس (امریکہ) نے اسرائیل کے دفاع میں مدد کے لئے مشرق وسطی میں اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

    لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے بھی بیروت میں ایک فضائی حملے میں اسرائیل کی جانب سے اپنے ایک اعلی کمانڈر کی ہلاکت پر جوابی کارروائی کی دھمکی دے رکھے ہے۔

    واضح رہے کہ فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود تھے جب وہ ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔ حماس اور ایرانی حکام نے فوری طور پر اس حملے کا الزام اسرائیل پر لگایا۔

    تاہم جب اسماعیل ہنیہ کی نمازِ جنازہ تہران یونیورسٹی میں ادا کی گئی تو اس میں ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان بھی شریک تھے۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس حملے پر اسرائیل کو سخت سبق سکھانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ چونکہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ایران میں ہوا ہے اس لیے وہ ان کے خون کا بدلہ لینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

  4. برطانیہ میں تین بچیوں کے قتل کے بعد ہنگاموں میں ملوث متعدد افراد کو سزاؤں کا سامنا

    UK

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانوی شہر ساؤتھ پورٹ میں تین بچیوں کے قتل کے بعد ملک کے متعدد شہروں میں پھوٹ پڑنے والے فسادات میں ملوث افراد پر فردِ جُرم عائد کر دی گئی ہیں۔

    30 جولائی کو برطانیہ کے علاقے ساؤتھ پورٹ میں پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت کی جانب سے کئی افراد کو سزائیں سنائی جا رہی ہیں۔

    سزا پانے والوں میں پٹنہ پلیس کے رہائشی 51 سالہ کین کو تین سال قید، 41 سالہ بیلی کو 30 ماہ قید، نارتھ ویسٹ روڈ سے تعلق رکھنے والے 51 سالہ ہارکنس کو 12 ماہ قید، سینٹرل پارک ٹاورز سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ ولید کو 20 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    تاہم ایک 13 سالہ لڑکی نے 31 جولائی کو الڈرشاٹ میں ایک ہوٹل کے باہر احتجاج کے دوران دھمکی دینے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

    روٹ لینڈ کے شہر اوکھم کے علاقے کیسٹرل روڈ سے تعلق رکھنے والے مارک ہیتھ نے ایکس پر تحریری مواد شائع کرنے کے الزام سے انکار کیا ہے، اُن پر ایکس پر مبینہ طور پر توہین آمیز مواد شائع کرنے کا الزام تھا اور جس کا مقصد نسلی منافرت کو ہوا دینا تھا۔ وہ ایچ ایم پی لیسٹر سے ایک لنک کے ذریعے لیسٹر کراؤن کورٹ میں پیش ہوئے اور 22 جولائی سے 6 اگست کے درمیان کی مدت سے متعلق الزامات کی تردید کی۔

    7 اگست کو برائٹن میں ہونے والے مظاہرے کے بعد ایک شخص کو تین الزامات کا اعتراف کرنے پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ 53 سالہ ایان وارڈ پر غداری، امدادی کارکُن پر حملہ کرنے اور جان سے مارنے کی کوشش کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انھیں ہوو کراؤن کورٹ میں 16 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    UK

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ساؤتھ پورٹ میں 30 جولائی کو کیا ہوا تھا؟

    واضح رہے کہ 30 جولائی کو برطانیہ کے علاقے ساؤتھ پورٹ کے ایک مقامی ڈانس سکول میں بچوں کی ڈانس پرفارمنس کے دوران چھری سے لیس ایک شخص نے اچانک نمودار ہو کر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں تین بچیاں ہلاک ہو گئی تھیں۔

    برطانوی شہر ساؤتھ پورٹ میں تین بچیوں کے قتل کے بعد ملک کے متعدد شہروں اور قصبوں میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروہوں کے پُرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور 150 کے قریب افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

    دوسری جانب تین بچیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار 17 سالہ ملزم پر قتل کا الزام عائد کر دیا گیا۔ ان پر قتل کی کوشش کے 10 الزامات عائد کیے گئے۔ اس کے علاوہ ان پر تیز دھار آلہ رکھنے کا بھی الزام لگا۔ ملزم کی کم عمری کے باعث ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

    تین بچیوں کے قتل کے الزام میں ملزم کی گرفتای کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے اور اس دوران کچھ مظاہرین سکیورٹی اہلکاروں سے لڑتے ہوئے بھی نظر آئے۔

  5. بابِ دوستی پر تاجروں کی جانب سے مطالبات پورنے نہ ہونے پر دوبارہ دھرنے کا اعلان, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان چمن

    ،تصویر کا ذریعہSadiq Achakzai

    بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے پاسپورٹ کی شرط کے خلاف منگل سے دوبارہ دھرنے کا آغاز کردیا گیا۔

    آل پارٹیز، تاجر اور لغڑی (محنت کش) اتحاد کے زیرِ اہتمام اس دھرنے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    پاسپورٹ کی شرط کے خلاف چمن شہر میں دھرنے کا آغاز گزشتہ سال اکتوبر سے کیا گیا تھا لیکن چمن کی تاریخ کا طویل دھرنا رواں سال 21 جولائی کو ختم کیا گیا تھا۔

    یہ دھرنا بلوچستان کے سابق نگراں وزیرِ داخلہ ملک عنایت اللہ خان کاسی کے اس اعلان پر ختم کیا گیا تھا کہ چمن سے دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت کے لیے پرانے طریقے کی بحالی کے مطالبے کو تسلیم کیا گیا ہے۔

    تاہم تاجر رہنما اور دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی کا کہنا ہے کہ چونکہ آمد ورفت کے پرانے طریقے کو اس کی صحیح حالت میں بحال نہیں کیا گیا اس لیے منگل سے دوبارہ دھرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    اب دوبارہ دھرنا کہاں دیا جارہا ہے؟

    یہ دھرنا چمن شہر میں دوبارہ اس مقام پر دیا جارہا ہے جہاں سے یہ گزشتہ سال اکتوبر میں شروع کیا گیا تھا۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان شاہراہ پر دھرنے کی جگہ شہر کے مرکز سے پانچ کلومیٹر جبکہ سرحد سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    صادق خان اچکزئی نے بتایا کہ گزشتہ روز آل پارٹیز، تاجر اور لغڑی اتحاد کے درمیان ہونے والے اجلاس میں یہ طے پایا کہ دھرنے کو پرانے مقام پر سے ہی دوبارہ شروع کیا جائے کیا جائے۔

    انھوں نے کہا اس لیے شاہراہ پر پرانے مقام پر کنٹینر لگا کر سٹیج بنادیا گیا اور صبح دس بجے سے دھرنا شروع کردیا گیا۔

    بلوچستان، چمن

    ،تصویر کا ذریعہSadiq Achakzai

    چمن کے لوگ پاسپورٹ کی شرط کو تسلیم کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں؟

    بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں باب دوستی اور اس کے قرب و جوار میں دیگر کراسنگ پوائنٹ سے پہلے لوگ پاکستانی شناختی کارڈ جبکہ چمن سے متصل افغانستان کے سرحدی علاقوں کے لوگ افغان تذکرے پر آیا جائا کرتے تھے۔

    چمن شہر میں روزگار اور معاش کے متبادل ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار افغانستان کی سرحدی منڈیوں پر ہے۔

    سرحد کی دوسری جانب افغانستان میں سرحدی منڈیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جہاں چمن شہر سے روزانہ ہزاروں محنت کش اور چھوٹے تاجر روزانہ کی بنیاد پر آتے جاتے رہے ہیں۔

    لیکن گزشتہ سال اکتوبر میں سابق نگراں حکومت نے چمن بارڈر سے بھی آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط کو لاگو کیا۔

    ’ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا گیا اس پر عمل نہیں ہوا‘

    صادق اچکزئی نے کہا کہ جب ہم قید تھے تو وہاں سرکاری حکام نے ہم سے مذاکرات کیئے اور ہمیں یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ پہلے کی طرح چمن سرحد سے پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان تزکرے کی بنیاد پر آمدورفت ہوگی۔

    انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں سابق نگراں وزیر داخلہ ملک عنایت کاسی اور کمانڈر حاجی لالو اچکزئی ضامن تھے۔

    ان کا کہنا مذاکرات میں حونے والے وعدے کے برعکس اب یہ کہا جارہا ہے کہ افغان تذکرے پر آنے والوں کو صرف باب دوستی سے پارکنگ تک جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ مطالبہ تھا کہ چمن اور قلعہ عبداللہ کے لوگ قومی شناختی کارڈ پر افغانستان جائیں گے جبکہ افغانستان کے صوبہ قندہار کے تختہ پل تک کے علاقے لوگ افغان تذکرے پر چمن سے متصل قلعہ عبداللہ تک آمدورفت کرسکیں گے۔

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان چمن سے پاسپورٹ کی شرط لاگو کرتے وقت پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ پاکستان کی سیکورٹی اور اس کی معاشی استحکام کے لیے پاسپورٹ پر آمدورفت ناگزیر ہے۔

  6. شیخ حسینہ واجد کے خلاف قتل کی تحقیقات کا اعلان

    Bangladesh

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف مُلک میں بدامنی کے دوران پولیس کے ہاتھوں ایک عام شہری کی ہلاکت کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    دارالحکومت ڈھاکہ میں کئی ہفتوں سے جاری ہلاکت خیز بدامنی کے بعد گزشتہ حکومت کی چھ دیگر اعلیٰ شخصیات کے خلاف بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    بنگلہ دیش کے ایک شہری کے وکیل مامون میا نے کہا کہ ڈھاکہ کی عدالت نے پولیس کو ’ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ‘ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    حسینہ واجد نے رواں ماہ کے آغاز پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور سیاسی بدامنی کے بعد انڈیا روانہ ہو گئی تھیں۔

    ابو سعید نامی ایک عام شہری فسادات کے دوران سڑک پار کرتے ہوئے سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد ایک مقامی تاجر عامر حمزہ نے جولائی میں قتل کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی۔

    بی بی سی بنگلہ کے مطابق عامر حمزہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ 19 جولائی کو طلبہ پرامن احتجاج کر رہے تھے تاہم پولیس کی جانب سے ہجوم پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔

    حمزہ نے کہا کہ ان کا سعید سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن انھوں نے عدالت سے رجوع کیا کیونکہ سعید کے خاندان کے پاس مقدمہ دائر کرنے اور انصاف کے حصول کے لیے وسائل نہیں تھے۔

    انھوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’میں بنگلہ دیش کا پہلا فرد ہوں جس نے شیخ حسینہ کے خلاف ان کے جرائم پر یہ قانونی قدم اٹھانے کی ہمت اور فیصلہ کیا ہے اور میں اس کیس کو ہر حد تک لے کر جاؤں گا۔‘

    شیخ حسینہ واجد کے خلاف اُن کے استعفے کے بعد سامنے آنے والے اس پہلے مقدمے سے متعلق مجسٹریٹ راجیش چودھری نے پولیس کو اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

    سابق وزیر ٹرانسپورٹ وپل عبیدالقادر بھی ان افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    حسینہ واجد کی حکومت، جو 15 سال تک برسراقتدار رہی، پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

    Bangladesh

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شیخ حسینہ واجد کے خلاف شروع ہونے والا طلبہ کا احتجاج

    واضح رہے کہ طلبہ کا حالیہ احتجاج جولائی کے اوائل میں شروع ہوا تھا۔ جس کا آغاز یونیورسٹی کے طالب علموں کی جانب سے سول سروس کی ملازمتوں میں کوٹہ ختم کرنے کے پرامن مطالبے کے طور پر سامنے آیا۔ جس کے بعد یہ حکومت کے خاتمے کے لیے ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔

    حسینہ واجد نے پولیس پر زور دیا کہ ’وہ مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرے اور انھوں نے طلبہ کو ’طالب علم نہیں بلکہ دہشت گرد قرار دیا‘ جو ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔‘

    حال ہی میں تشکیل پانے والی نئی حکومت میں طلبہ تنظیم کے اراکین بھی شامل ہیں اور اس کی قیادت نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب حسینہ واجد کے بیٹے سجیب واجد جوئے نے کہا ہے کہ انتخابات کے اعلان کے بعد حسینہ واجد وطن واپس آئیں گی۔

  7. یوکرین کا روس کے ایک ہزار مربع میل علاقے پر قبضے کا دعویٰ، روسی صدر کا فوج کو ’دشمن کو باہر نکالنے‘ کا حکم

    ukraine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یوکرین کی فوج کے اعلیٰ کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی فوج نے روس کے ایک ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

    یہ یوکرین کی جانب سے روسی علاقے میں گذشتہ دو برس کی جنگ کے دوران سب سے بڑی پیش قدمی ہے۔ کمانڈر الیکسینڈر سرسکی کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج ’کرسک خطے میں ایک آپریشن کر رہی ہے‘۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کا کہنا تھا کہ روس جنگ دوسرے ممالک کی دہلیز تک لایا اب یہ واپس روس کی دہلیز پر آ رہی ہے۔

    تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے اس حملے کو ایک ’بڑی دراندازی‘ کہا ہے اور روسی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ ’دشمن کو اپنے علاقے سے باہر نکالیں۔‘

    روس کے مغربی خطے سے ہزاروں افراد پہلے ہی نقل مکانی کر چکے ہیں اور مزید 59 ہزار کو علاقہ چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

    کرسک خطے کے قائم مقام گورنر الیکسی سمرنوو نے صدر پوتن کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا ہے کہ علاقے میں 28 گاؤں یوکرینی فورسز کے قبضے میں ہیں اور 12 شہری اب تک ہلاک ہو چکے ہیں اور ’صورتحال بدستور مشکل ہے۔‘

    یوکرین کی فوج نے گذشتہ منگل کو روس پر ایک ’سرپرائز حملہ‘ کیا تھا جس کے بعد وہ روس میں 30 کلومیٹر تک داخل ہو گئی تھی۔

    یوکرین کے کمانڈر ان چیف کے اس دعوے کے حوالے سے اب بھی کچھ شکوک پائے جاتے ہیں کہ انھوں نے روسی علاقے کے ایک ہزار مربع کلومیٹر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ امریکہ میں موجود ایک ’سٹڈی آف وار‘ نامی تھنک ٹینک کا ماننا ہے کہ تاحال یہ سارا علاقہ یوکرین کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

    اس کارروائی کے باعث یہ کہا جا رہا ہے کہ یوکرینی فوج کے مورال میں اضافہ ہوا لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکمتِ عملی یوکرین کے لیے مزید خطرات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

    برطانیہ کی فوج میں ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ ماسکو اس دراندازی کے باعث مشتعل ہو کر یوکرین کی شہری آبادی پر اپنے حملوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔

  8. فیض حمید آخری لمحے تک فوج کے سربراہ بننے کی دوڑ دھوپ کرتے رہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید

    ،تصویر کا ذریعہDG ISPR

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ ریٹائرمنٹ لینے سے قبل سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید فوج کے سربراہ بننے کے خواہاں تھے اور انھوں نے اس حوالے سے بہت کوششیں بھی کیں۔

    خواجہ آصف کے مطابق فوج کے سابق سربراہ قمر جاوید باجوہ بھی جنرل فیض کے لیے ان سے اور ان کی پارٹی کی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہے اور تعاون کی درخواست کرتے رہے۔

    جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ فیض حمید یہ کہتے تھے کہ ’میرے سر پر ہاتھ رکھیں۔‘ ان کے مطابق جنرل باجوہ کے سسر سابق جنرل اعجاز احمد اور جنرل فیض کے سسر ریٹائرڈ برگیڈیئر فاروق اعوان کے بھی آپس میں گہرے تعلقات تھے۔ ان کے مطابق ’دونوں داماد (جنرل باجوہ اور جنرل فیض) اور دونوں سسر (ریٹائرڈ جنرل اعجاز احمد اور بریگیڈیئر فاروق اعوان) کی آخری لمحے تک کوشش تھی کہ جنرل فیض آرمی چیف بن جائیں۔‘

    ان کے مطابق تعیناتی کے مشکل 24 گھنٹے پہلے جنرل باجوہ نے کہا کہ ’چلیں ٹھیک ہے پھر جو آپ کہتے ہیں کر لیتے ہیں مگر آرمی چیف عاصم منیر کو نہیں بلکہ اس بندے کو لگا دیں۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ کہنا درست ہے کہ جنرل باجوہ نے یہ کہا تھا کہ فیض حمید کے نام سے وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور عاصم منیر کے نام سے نواز شریف اور شہباز شریف پیچھے ہٹ جائیں۔

    خواجہ آصف کے مطابق جنرل باجوہ نے جنرل فیض حمید کے لیے کوششیں آخری تین چار دن پہلے ترک کر دیں تھیں۔ وزیر دفاع کے مطابق جنرل باجوہ نے یہ کہا تھا کہ ’آپ (مسلم لیگ ن کی قیادت) بھی اپنی ضد چھوڑیں، فلاں بندے کو تعینات کر دیں۔‘

    وزیر دفاع کے مطابق وہ ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر ان ملاقاتوں کے لیے جاتے تھے اور ان کے گواہ اس وقت پنجاب اسمبلی کے سپیکر احمد علی خان ہیں جو ان کے ساتھ جنرل باجوہ سے ہونے والی ملاقاتوں میں موجود ہوتے تھے۔

    ان کے مطابق ’نواز شریف کو ’انفلوئنس‘ کرنے کے لیے بہت کوششں کی گئیں۔‘

    ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل فیض کا سیاسی منظرنامے میں کردار تھا: وزیر دفاع

    Faiz Hameed

    ،تصویر کا ذریعہX/Lindsey Hilsum

    خواجہ آصف نے کہا کہ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی افق پر جو واقعات ہوئے، اس میں جنرل فیض کا ضرور ہاتھ ہے، وہ باز نہیں آ سکتے تھے کیونکہ جس شخص نے اتنی لامحدود اختیارات استعمال کی ہوں، اسے بیک سیٹ لینی پڑے تو اسے یہ ہضم نہیں ہوتا۔‘

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ سب کام ’جنرل فیض اکیلے کا نہیں ہو گا۔ جنرل فیض اپنی سازشوں کا تجربہ ضرور شیئر کیا ہوگا، ہدف دیے ہوں گے، سٹریٹجک ایڈوائزر کے طور پر رول رہا ہو گا، حالات واقعات ان کی طرف اشارہ بھی کرتے ہیں۔‘

    خواجہ آصف کے مطابق فوج میں قانون کا نفاذ بہت مؤثر ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے تسلیم کیا کہ جنرل فیض کی سنہ 2017 سے ’سیاست میں جو مداخلت رہی ہے تو یہ بات ہے ککہ سیاسی سٹریٹجی میں پھر چیزیں اس طرح ’بلیک اینڈ وائٹ‘ نہیں رہتیں۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل باجوہ کے گھر پر ان کی جو جنرل فیض اور جنرل باجوہ سے ملاقاتیں ہوتی تھیں ان میں سے ایک ملاقات میں خود ’جنرل فیض نے کہا کہ ہم اس وزیر اعظم (عمران خان) سے تنگ آ چکے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ انھوں نے جنرل فیض کو بتایا کہ مسلم لیگ ن جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے پارلیمنٹ میں بلامشروط ووٹ دے گی۔ تاہم وزیر دفاع کے مطابق جنرل فیض حمید نے انھیں بتایا کہ ’چلیں جون تک آپ کو پنجاب دیں گے، دسمبر تک ان (عمران خان) سے بھی جان چھڑا لیں گے۔‘

  9. مستونگ: نامعلوم افراد کے حملے میں ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ ہلاک، دو افراد زخمی, محمد کاظم، کوئٹہ

    social media

    ،تصویر کا ذریعہsocial media

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ ہلاک جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    زخمیوں میں پنجگور کے ضلعی چیئرمین اور نیشنل پارٹی کے رہنماعبدالمالک بلوچ بھی شامل ہیں جو ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ تھے۔

    ان کی گاڑی کو نامعلوم افراد نے پیر کی شب ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں نشانہ بنایا۔

    مستونگ کے اسسٹنٹ کمشنر اکرم حریفال نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ کوئٹہ سے پنجگور جارہے تھے جب ان کی گاڑی کھڈکوچہ کے علاقے میں پہنچی تو نامعلوم مسلح افراد نے اس پر حملہ کر دیا۔

    کمشنر قلات ڈویژن نعیم بازئی کے مطابق اس حملے میں ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ اور ضلعی چیئرمین پنجگور عبدالمالک بلوچ سمیت تین افراد زخمی ہو گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو طبیّ امداد کی فراہمی کے لیے مستونگ میں نواب غوث بخش شہید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی ہلاکت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پنجگور ذاکر بلوچ کی ہلاکت اور دیگر افراد کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ذاکر بلوچ حکومت بلوچستان کے ایک باصلاحیت افسر تھے جنھوں نے مختلف ذمہ داریاں بطریق احسن نبھائیں۔

    وزیر اعلیٰ نے اس واقعے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے ۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ واقعہ میں ملوث دہشت گرد عناصر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کا آخری حد تک پیچھا کریں گے اور ان کے خلاف لڑائی میں سب کو متحد ہوکر جواب دینا ہو گا۔

    درایں اثنا نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور مرکزی سکریٹری جنرل سینیٹر جان محمد بلیدی نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے یہ واقعات کسی طور قابل قبول نہیں ہیں۔

    مستونگ کوئٹہ سے تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس علاقے میں ماضی میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

    گذشتہ سال 12ربیع الاول کے جلوس پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں 60 سے زائد افراد ہلاک اور جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

    اس سے قبل 2018 میں اس ضلع کے درینگڑھ کے علاقے میں ایک خود کش حملے میں 120سے زائد افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

  10. بلوچ یکجہتی کمیٹی کا کوئٹہ میں جلسہ: ’ہم ایک جتھہ نہیں، بلوچ عوام ہمارے ساتھ ہیں‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    کوئٹہ

    ،تصویر کا ذریعہBYC

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں دھرنے کے خاتمے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام 72 گھنٹوں میں 8 مقامات پر بہت بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔

    پیر کے روز ان میں سے آخری دو اجتماعات میں سے پہلا افغانستان سے متصل سرحدی ضلع نوشکی کے ہیڈکوارٹر نوشکی اور جبکہ دوسرا شام کو کوئٹہ میں منعقد ہوا۔

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما صبغت اللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ’یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام 28 جولائی کو گوادر میں بلوچ راجی مچی (بلوچ قومی اجتماع) نے صرف 6 سے 7 گھنٹے کے لیے منعقد ہونا تھا لیکن ریاستی اداروں کے مبینہ ظلم اور تشدد کی وجہ سے آج بلوچستان کے بلوچ آبادی والے ہر علاقے میں راجی مچی منعقد ہورہا ہے۔‘

    کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیرِ اہتمام اجتماع سریاب کے علاقے شاہوانی سٹیڈیم میں ہوا جس میں خواتین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

    سٹیج پر ان زخمی افراد میں سے بھی بعض موجود تھے جو کہ کوئٹہ سے گوادر جانے والے قافلے پر مستونگ کے مقام پر فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے۔

    کوئٹہ اور نوشکی میں ان اجتماعات سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، وہاب بلوچ، صبغت اللہ شاہ، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ اور بیبرگ بلوچ نے خطاب کیا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ نے کہا کہ انگریزوں کے دور سے لیکر اب تک ایک منصوبے کے تحت بلوچوں کو مختلف حوالوں سے تقسیم کرکے ان کو کمزور کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک نہ ہونے کی وجہ سے بلوچ آج مختلف مظالم کا شکار ہیں اور اگر انھیں ان مظالم سے نجات حاصل کرنا ہے تو انھیں قبائلیت کے خول سے نکل کر متحد ہونا پڑے گا۔‘

    صبغت اللہ شاہ نے کہا کہ ’ریاست اور ریاستی ادارے ابھی تک بلوچوں کی نفسیات سے بے خبر ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ ایک گولی چلائیں گے تو یہ بھاگ جائیں گے لیکن انھیں معلوم نہیں کہ بلوچ مقابلہ کرتے ہیں جس کا ایک اظہار یہ بڑے بڑے اجتماعات ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ریاستی اداروں نے گوادر میں راجی مچی کو ناکام بنانے کے لیے تشدد کرکے ایک خوف کا ماحول بنایا لیکن نہ صرف گوادر میں راجی مچی منعقد ہوا بلکہ اس کے بعد اب ہر شہر میں راجی مچی منعقد ہورہا ہے۔‘

    بیبرگ بلوچ نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ’بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک جتھہ ہے وہ آج آکر یہاں دیکھیں کہ بلوچ عوام بلوچ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

  11. سوشل میڈیا پر فیض حمید کے فیلڈ کورٹ مارشل پر ردِ عمل: ’قانون کے ہاتھ آپ تک بھلے تاخیر سے پہنچیں مگر پہنچیں گے ضرور‘

    پاکستانی فوج نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی تحقیقات کے بعد تحویل میں لیے جانے اور ان کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس بڑی خبر پر ردِ عمل سامنے آرہا ہے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے کورٹ مارشل کے خبر سامنے آنے کے بعد نیویارک ٹائمز سے منسلک صحافی سلمان مسعود نے ایکس پر لکھا ’لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید جو کبھی انتہائی طاقتور ہوا کرتے تھے اور جو 2017-2021 کے سیاسی سیٹ اپ کے نافذ کرنے والے تھے، جنھوں نے اپنے عزائم کا استعمال فوج میں رہتے ہوئے اور اس کے بعد سیاست میں مداخلت کے طور پر کیا، مگر اب جب وہ ملٹری کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے ہیں تو اس سب کے بعد دو جانب ایک سخت پیغام جاتا ہے ایک ریٹائرڈ فوجی افسران اور دوسرے عمران خان۔‘

    تاہم صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی گرفتاری پر ایکس پر لکھا کہ ’یہ اقدام آنے والے وقت اور حالات کی واضح انداز میں نشان دہی کر رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کا دوسرا پیرا پہلے سے زیادہ اہم ہے۔ جس میں واضح انداز میں کہا گیا ہے کہ ’قانون کے ہاتھ آپ تک بھلے تاخیر سے پہنچیں مگر پہنچیں گے ضرور۔‘

    جیو نیوز سے منسلک صحافی حامد میر نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی، ایک دفعہ پھر وہ تمام صحافی اور تجزیہ نگار بے نقاب ہو گئے جو کہتے تھے یا اللہ یا رسول جنرل فیض بے قصور۔‘

    اُنھوں نے ایکس پر مزید کہا کہ ’جنرل فیض کی گرفتاری کا سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف کو ہو گا کیونکہ وہ تحریک انصاف کو اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کرتے تھے اور تحریک انصاف ان سے ڈکٹیشن نہیں لے رہی تھی کیونکہ وہ اپنے ذاتی انتقام کے لئے ایک پارٹی کو استعمال کر رہے تھے۔‘

  12. فیض حمید کے بھائی کو چکوال میں ’اراکین اسمبلی سے بھی زیادہ طاقتور‘ کیوں کہا جاتا تھا؟

    نجف حمید

    ،تصویر کا ذریعہFACEBOOK

    ’نائب تحصیلدار سڑکوں اور پارکوں کا افتتاح کر رہے ہوتے تھے۔ پیچھے علاقے سے منتخب ہونے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے۔‘

    یہ الفاظ ہیں پنجاب کے ضلع چکوال کے مقامی صحافی نبیل انور ڈھکو کے تھے جنھوں نے بلکسر کے نائب تحصیلدار نجف حمید کے کریئر کو قریب سے دیکھا۔

    نجف حمید پاکستانی میڈیا چینلز میں اس وقت خبروں کی زینت بنے جب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے بدعنوانی کے ایک مقدمے میں انھیں شریک ملزم نامزد کیا گیا۔

    نجف حمید کو انسداد کرپشن کی عدالت کے باہر سے گرفتار بھی کیا گیا تھا لیکن اُسی روز انھیں ضمانت مل گئی اور انھیں رہا کردیا گیا۔

    ضلع چکوال کے علاقے لطیفال میں پیدا ہونے والے محکمہ ریونیو کے ملازم نجف حمید کی وجہ شہرت ایک اور بھی ہے۔

    ان کے بھائی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا شمار تقریباً ڈھائی برس قبل تک پاکستان کی سب سے طاقتور شخصیات میں ہوتا تھا کیونکہ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں ملک کے خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ رہے تھے۔

  13. فیض حمید کے خلاف کارروائی سے فوج پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگا: رانا ثنا

    Rana

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’اس عمل کی وجہ سے فوج پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔‘

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بڑا غیر معمولی واقعہ ہے اور اس سے قبل اس کی کوئی مثال نہیں ملتی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سیاسی معاملات میں بڑے واضح اور کُھلے انداز میں مداخلت کیا کرتے تھے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے علم میں یہ تو تھا کہ ٹاپ سٹی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم پر ایک انکوائری ان کے خلاف ہو رہی تھی۔ اور باقی بھی مختلف حوالوں سے ان کا نام آتا رہا ہے اور یقیناً وہ چیزیں بھی اس میں اثر انداز ہوئی ہوں گی لیکن انکوائری کے حوالے سے سب کو ہی علم تھا کہ یہ سلسلہ چل رہا ہے۔‘

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’لیکن اس بات کا اندازہ بہت کم تھا لوگوں کو یہ اُمید کم تھی کہ اس لیول پر کوئی ایکشن ہوگا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایکشن ایک سنگِ میل ہے کہ فوج اور اس ادارے میں احتساب کا اتنا سخت نظام موجود ہے، اور اس عمل کی وجہ سے فوج پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔‘

    مُسلم لیگ ن کے ساتھ بھی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا رابطہ تھا اس سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ساتھ اُن کا تعلق یا رابطہ یہی تھا کہ پی ٹی آئی کے دور میں ہم پر جو مقدمات بنے اُن کا تعلق یا تانا بانا انھیں سے ملتا تھا اور اُس کے پیچھے وہی (فیض حمید) ہوتے تھے۔ اکثر پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنے اور دیگر اقدامات میں اس بات کے شواہد ملتے تھے کہ ان سب میں فیض حمید کا ہاتھ ہوا کرتا تھا۔‘

    ریٹائرمنٹ کے بعد فیض حمید کے اقدامات کی وجہ سے پاکستان مُسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کو مُشکلات کا سامنا تھا کیا اس بات کا علم پی ایم ایل این کو تھا؟ اس کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’جو اقدامات پی ٹی آئی کی جانب سے نو مئی سے قبل اور اس کے بعد کیے گئے اور آج کل بھی جو اُن کی حکمتِ عملی ہے اب اس کی تفصیل میں جانا تو اس وقت ممکن نہیں مگر یہ بات اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اُن کا عمل دخل اس سب میں تھا۔ تاہم اس بارے میں پاکستان مُسلم لیگ ن نے کوئی انکوائری نہیں کی کہ میں یہ کہوں کہ یہ چیز ثابت ہو گئی ہے، تاہم یہ بات کوئی عام سی بات نہیں اس میں وزن ضرور ہے۔‘

    تاہم اب حکومت کی جانب سے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی اس کے جواب میں پاکستان مُسلم لیگ ن کے سنئیر رہنما رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’میری اس بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں، میں یہ کہ سکتا ہوں کہ یہ جو (فیض حمید) کو فوجی تحویل میں لیا جانا ہے اور جو چیزیں بھی اُن کے خلاف تھیں، سب الزامات ثابت ہو چُکے ہوں گے، کیونکہ اُن پر یہ سب باتیں ثابت ہونے کے بعد ہی اتنا بڑا قدم فوج کی جانب سے اُٹھایا گیا ہے۔ یہ ایسا نہیں ہے کہ حراست میں لینے کے بعد اب تحقیقات ہوں گی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کی فوج نے اس فیصلے کے بعد ایک مثال قائم کی ہے کہ فوج میں خود احتسابی کا ایک انتہائی سخت نظام موجود ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    کیا جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے ساتھ اور لوگ بھی اس معاملے میں شامل تھے؟ اس سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ وہ اکیلے تھے اس سب میں اُن کے ساتھ اور لوگ بھی شامل تھے کیونکہ ایک فردِ واحد اکیلا تو کُچھ بھی نہیں کر سکتا اور یہ سب باتیں بھی اس انکوائری میں سامنے آئی ہوں گی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی سیاسی معاملات میں حاضر سروس ہوتے ہوئے بھی خاصی دلچسپی ہوا کرتی تھی اور وہ بڑے واضح انداز میں کُھل کر سیاسی معاملات میں دخل دیتے تھے اور کوئی بات چھپاتے بھی نہیں تھے۔ اب اس سب میں آپ کے سامنے فیض آباد دھرنے کی مثال موجود ہے جس میں ہونے والے معاہدہ پر انھوں نے خود دستخط کیے۔‘

  14. آئی ایس آئی کے سابق سربراہ پاکستانی فوج کی حراست میں: ٹاپ سٹی کیس ہے کیا؟

    پاکستانی فوج نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی تحقیقات کے بعد تحویل میں لیا ہے اور ان کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    فوج کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹاپ سٹی کیس کی انکوائری کے بعد ’نتیجتاً پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف سخت تادیبی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔‘

    آئیے جانتے ہیں کہ ٹاپ سٹی کیس کیا ہے۔

    ٹاپ سٹی کیس کیا ہے؟

    اسلام آباد میں واقع ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کنور معیز احمد خان نے نومبر 2023 میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں فیض حمید پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    معیز احمد خان کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ 12 مئی 2017 کو پاکستان رینجرز اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے دہشت گردی کے ایک مبینہ مقدمے کے سلسلے میں ٹاپ سٹی کے دفتر اور معیز احمد خان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور اس دوران ان کے گھر سے سونا، ہیرے، اور نقدی سمیت متعدد قیمتی اشیا قبضے میں لی گئی تھیں۔

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے ثالثی کی اور مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور بریت کے بعد جنرل (ر) فیض حمید نے معیز خان کے ایک رشتہ دار کے ذریعے ان سے ملاقات کا بندوبست کرنے کے لیے بھی رابطہ کیا۔

    درخواست گزار کا دعویٰ تھا کہ ملاقات کے دوران جنرل (ر) فیض حمید نے چھاپے کے دوران چھینا گیا 400 تولہ سونا اور نقدی کے سوا چیزیں واپس کرنے کی پیشکش کی تھی۔

    کنور معیز نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر (ر) نعیم فخر اور بریگیڈیئر (ر) غفار نے انھیں چار کروڑ روپے نقد ادا کرنے اور نجی چینل ’آپ ٹی وی‘ کو سپانسر کرنے پر بھی مجبور کیا۔

    سپریم کورٹ میں ٹاپ سٹی کیس کی سماعت کے دوران کیا ہوا تھا؟

    اس درخواست پر سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین پر متشمل بینچ نے کی تھی۔ اسی بینچ نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا، جس کے بعد پاکستانی فوج نے اپریل 2024 میں تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی۔

    ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک معیز احمد خان کی درخواست پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رُکنی بینچ نے سماعت کی تھی اور نو نومبر کو درخواست گزار کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی اور ان کے معاونین کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے وزارت دفاع سمیت متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عدالت نے یہ بھی نشان دہی کی تھی کہ درخواست گزار بدنیتی پر مبنی مقدمہ چلانے پر جنرل (ر) فیض حمید اور دیگر ریٹائرڈ افسران کے خلاف سول یا فوجداری عدالت میں کیس دائر کر سکتا ہے۔

  15. بریکنگ, فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل کیسے ہوتا ہے؟, فرحت جاوید، بی بی سی اردو

    پاکستانی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کے تحقیقات کے بعد مناسب تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ فیض حمید کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے بھی متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

    فوج کا کہنا ہے کہ فیض حمید کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

    فوج میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا طریقہ کار تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اس افسر کے رینک کی مناسبت سے ایک مجاز اتھارٹی سزا کا فیصلہ کرتی ہے۔

    اس عمل میں سب سے پہلے کسی بھی حاضر سروس یا ریٹائرڈ افسر کے خلاف کورٹ آف انکوائری ہوتی ہے۔ دوسرے حصے میں ’سمری آف ایویڈنس‘ ریکارڈ کی جاتی ہے اور اگر ثبوت اور شواہد موجود ہوں اور جرم ثابت ہو رہا ہو تو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا جاتا ہے۔

    یہ جرم کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے کہ افسر کو کیا سزا دی جائے گی اور سزاؤں میں رینک واپس لینا، سہولیات وغیرہ کی واپسی کے علاوہ قید بامشقت اور موت کی سزا تک شامل ہیں۔

  16. بریکنگ, فیض حمید: وہ ’متحرک جرنیل‘ جن کا کریئر تنازعات میں گھرا رہا

    فیض حمید اور عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGOP

    ’پریشان نہ ہوں، سب کچھ ٹھیک ہو جائےگا۔۔۔‘

    تین سال قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسکراتے ہوئے یہ فقرہ ادا کرنے والے سابق آئی ایس آئی ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

  17. ٹاپ سٹی کیس: سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید فوجی تحویل میں، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع

    پاکستانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کرتے ہوئے انھیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    پیر کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے ٹاپ سٹی کیس میں درج شکایات کی تحقیقات کی گئیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹاپ سٹی کیس کی انکوائری کے بعد ’نتیجتاً پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف سخت تادیبی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔‘

    پاکستانی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیض حمید کے حوالے سے ’ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کے خلاف ورزی کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔‘

    ادارے کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) فیض حمید کے ’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔‘

  18. ’پاکستان کے حالات بنگلہ دیش سے زیادہ بُرے ہیں‘: عمران خان کا سڑکوں پر تحریک چلانے کا عندیہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں نہیں دیں تو ان کی جماعت سڑکوں پر تحریک چلانے کو تیار ہے۔

    پیر کو اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے اگر مخصوص نشستوں کا فیصلہ نہیں مانا اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایکسٹینشن دینے کی کوشش کی تو ہم احتجاج کریں گے۔‘

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کبھی پی ٹی آئی کو سڑکوں پر تحریک چلانے کی کال نہیں دی۔

    اڈیالہ جیل میں موجود ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمران خان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اگر مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانا گیا تو وہ اپنی جماعت کو سڑکوں کر احتجاج کرنے کی ہدایات جاری کریں گے۔

    ’میں سمجھ رہا تھا کہ ملکی معیشت خراب ہے، ہمیں احتجاج نہیں کرنا چاہیے۔‘

    صحافی بابر ملک کے مطابق پی ٹی آئی کے بانی نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد آئین میں تبدیلی کرنا چاہتی ہے تاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کر سکے۔

    خیال رہے اس سے قبل احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے خلاف سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواست خارج کردی تھی۔

    مقدمے کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی تھی۔ سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 23 اپریل 2020 کو نیب نے 190 پاؤنڈ ریفرنس کو شکایت کی تصدیق ہونے تک آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔

    درخواست میں عدالت سے مزید استدعا کی گئی تھی کہ اُس نیب میٹنگ کا ریکارڈ دورانِ سماعت پیش کیا جائے۔

    نیب حکام نے عدالت میں موقف اپنایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف ریفرنس نئے شواہد کی بنیاد پر فائل کیا گیا تھا اور اس کا 2020 میں ہونے والی میٹنگ سے کوئی تعلق نہیں۔

    بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان موازنہ

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے حالات بنگلہ دیش سے زیادہ برے ہیں۔‘

    پی ٹی آئی کے بانی نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش میں مستعفی ہونے والی وزیراعظم شیخ حسینہ نے بھی اپنی مرضی سے آرمی چیف، چیف جسٹس اور پولیس چیف لگائےہوئےتھے۔

    واضح رہے بنگلہ دیش میں ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کے بعد شیخ حسینہ نے بطور وزیراعظم استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ انڈیا روانہ ہوگئیں تھیں۔

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    عمران خان نے پڑوسی ملک کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو دیوار سے لگایا تھا۔

    ’یہ ساری چیزیں پاکستان میں بھی ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔‘

    پی ٹی آئی کے بانی کے مطابق بنگلہ دیش میں جب عوام اپنے گھروں سے باہر نکلے تو فوج نے ان پر گولیاں چلانے سے انکار کر دیا۔

    عمران خان نے پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’قوم انتظار کر رہی ہے، لاوا پک چکا ہے، صرف ایک تیلی کی ضرورت ہے اور سب تباہ ہو جائے گا۔‘

    انھوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جو مرضی کر لیں پاکستانی فوج عوام پر گولی نہیں چلائے گی۔‘

    ’اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں‘

    جیل اہلکار کے مطابق کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا ان کے فوج کے کسی افسر یا اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ہیں؟

    اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ: ’ان (حکومت) کو جب معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ہے تو ان کی ٹانگیں کانپ جاتی ہیں، حالانکہ میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور نہ کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے اتحادی سیاستدان محمود خان اچکزئی کو ملک کے دیگر سیاستدانوں سے مذاکرات کرنے کا اختیار دیا ہے۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ان کی اپنی جماعت پی ٹی آئی کسی سے مذاکرات نہیں کرے گی۔

    ’اگر ہم سیاست دانوں سے مذاکرات کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے موجودہ حکومت کو تسلیم کر لیا ہے۔‘

    اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے اور اگر کسی نے بات نہیں کرنی تو نہ کرے کیونکہ انھیں کوئی جلدی نہیں۔

    ’جنرل عاصم منیر کو سوچنا چاہیے کہ قوم کیا فیصلہ کر رہی ہے، کدھر کھڑی ہےاور فوجکہاں کھڑی ہے۔‘

  19. احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے خلاف عمران خان کی درخواست خارج کردی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو اسلام آباد

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کے خلاف سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواست خارج کردی ہے۔

    پیر کو مقدمے کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔ سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 23 اپریل 2020 کو نیب نے 190 پاؤنڈ ریفرنس کو شکایت کی تصدیق ہونے تک آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔

    درخواست میں عدالت سے مزید استدعا کی گئی تھی کہ اُس نیب میٹنگ کا ریکارڈ دورانِ سماعت پیش کیا جائے۔

    نیب حکام نے عدالت میں موقف اپنایا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف ریفرنس نئے شواہد کی بنیاد پر فائل کیا گیا تھا اور اس کا 2020 میں ہونے والی میٹنگ سے کوئی تعلق نہیں۔

    عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواست خارج کردی ہے۔

    سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کو عدالت میں پیش کیا گیا اور وہاں ان کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان گُل اور ظہیر عباس چودھری بھی موجود تھے۔

    دوسری جانب عدالت میں نیب کی جانب سے عدالت میں پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اور امجد پرویز پیش ہوئے۔

    عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کردی ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس ہے کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو ملک ریاض کی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔

    پی ڈی ایم کی سابق حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ ’بحریہ ٹاؤن کی جو 190ملین پاؤنڈ یا 60 ارب روپے کی رقم برطانیہ میں منجمد ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے حوالے کی گئی وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک ریاض کے ذمے واجب الادا 460 ارب روپے کی رقم میں ایڈجسٹ کر دی گئی تھی۔‘

    پے ڈی ایم کی حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نے مارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔

    جس ٹرسٹ کو یہ زمین دی گئی تھی اس کے ٹرسٹیز میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے علاوہ تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری اور بابر اعوان شامل تھے تاہم بعدازاں یہ دونوں رہنما اس ٹرسٹ سے علیحدہ ہو گئے تھے۔

    جون 2022 میں پاکستان کی اتحادی حکومت نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بحریہ ٹاؤن کے ساتھ معاہدے کے بدلے اربوں روپے کی اراضی سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے نام منتقل کی۔

    اس وقت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اس خفیہ معاہدے سے متعلق کچھ تفصیلات بھی منظرعام پر لائی گئی تھیں۔ ان دستاویزات پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بطور ٹرسٹی القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ٹرسٹ کی جانب سے دستخط موجود تھے۔

    قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کے نام پر سینکڑوں کنال اراضی سے متعلق انکوائری کو باقاعدہ تحقیقات میں تبدیل کیا ہے۔

    نیب کے حکام اس سے قبل اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور برطانیہ سے موصول ہونے والے جرائم کی رقم کی وصولی کے عمل کی انکوائری کر رہا تھا۔

  20. براڈ پیک پر پاکستانی کوہ پیما مراد سدپارہ کی موت، لاش کی منتقلی کا عمل جاری

    پاکستان میں قراقرم سلسلے کی چوٹی براڈ پیک پر زخمی ہونے والے پاکستانی کوہ پیما مراد سدپارہ کی موت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    مراد سدپارہ پاکستان کے نامور کوہ پیما تھے۔ وہ پرتگال سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کوہ پیما کے ہمراہ بطور گائیڈ براڈ پیک سر کرنے کے مشن پر تھے۔

    الپائن کلب کے نائب صدر ایاز شگری کے مطابق اس دوران دس اگست کو وہ کیمپ ون پر لینڈ سلائیڈنگ کے دوران مبینہ طور پر پتھر لگنے سے ان کے سر پر چوٹیں آئیں اور وہ شدید زخمی ہو گئے تھے۔

    11 اگست کو انھیں براڈ پیک سے نکالنے کے لیے ریسکیو مشن بھیجا گیا تھا لیکن مراد اپنی چوٹوں سے جانبر نہ ہو سکے۔

    بی بی سی کی فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے الپائن کلب کے نائب صدر ایاز شگری نے بتایا ہے کہ ان کی لاش بیس کیمپ تک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کے بعد ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے سکردو لایا جائے گا۔

    @PTVNewsOfficial

    ،تصویر کا ذریعہ@PTVNewsOfficial

    مراد سدپارہ نے جہاں حال ہی میں کے ٹو کلین مشن مکمل کیا وہیں وہ کے ٹو سمیت دیگر چوٹیوں پر ریسکیو مشنز کا بھی حصہ رہے ہیں۔ حال ہی میں وہ کے ٹو کے ڈیتھ زون میں واقع مقام بوٹل نیک سے ایک بظاہر ناممکن مشن میں حسن شگری کی میت واپس لانے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے اور اس سے قبل سات ہزار میٹر کی بلندی سے ایک افغان کوہ پیما کی لاش واپس لائے تھے۔

    مراد سدپارہ کی عمر 33 برس تھی جبکہ انھوں نے سوگواران میں چار بچے چھوڑے ہیں۔

    8047 میٹر بلند براڈ پیک قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے اور اس کا شمار آٹھ ہزار میٹر سے بلند ان چوٹیوں میں ہوتا ہے جو نسبتاً آسان سمجھی جاتی ہیں۔ دنیا میں آٹھ ہزار میٹر سے بلند 14 پہاڑ ہیں جن میں سے پانچ پاکستان میں واقع ہیں۔