فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے کے غزہ میں کام کرنے پر پابندی: ’ہم آٹے کے بغیر کیسے زندہ رہیں گے؟‘

اقوامِ متحدہ کے فلسظینی پناہ گزینوں کے ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لگائی جانے والے پابندی کی مثال نہیں ملتی اور یہ ایک خطرناک نظیر قائم کرتی ہے۔

خلاصہ

  • آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان سے اسرائیل پر 50 راکٹ داغے گئے ہیں۔
  • لبنان اور غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 120 ہو گئی۔
  • حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ کے کمال ادوان ہسپتال میں اسرائیلی فوجی کی کارروائی کے بعد ہسپتال میں اب بس ایک ہی ڈاکٹر باقی رہ گئے ہیں۔
  • اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کی تنظیم پر پابندی کا فیصلہ
  • پاکستان تحریک انصاف نے پیر کے روز مخصوص نشستوں کے فیصلے میں عمل درآمد نہ ہونے پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔
  • سوموار کے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 201 پوائنٹس اضافے کے بعد 90 ہزار 195 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
  • اسرائیل کے شہر تل ابیب کے مضافات میں فوجی اڈے کے نزدیک ایک ٹرک کے بس سٹاپ سے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے چھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کی اپڈیٹس کے لیے اس لنک پر کلک کیجیئے

  2. اسرایلی فوج کی جنوبی لبنان میں پیش قدمی

    فائل فوٹو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں نے جنوبی لبنان کے گاؤں خیام کے مضافات میں حملہ کیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جنوبی لبنان کا سب سے اندرونی مقام ہے جہاں گذشتہ ماہ اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی ٹینکوں نے حملہ کیا ہے۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں خیام کے مشرقی مضافات میں ’بڑی تعداد میں اسرائیلی فوج کے ٹینکوں‘ کی آمد کی اطلاع دی ہے تاہم اسرائیل نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    لبنان کی حزب اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج اس نے خیام کے جنوب اور جنوب مغرب میں اسرائیلی فورسز کو راکٹ اور توپ خانے سے نشانہ بنایا اور کہا کہ اسرائیلی فورسز ابھی تک لبنان کے کسی بھی گاؤں پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکی ہیں۔

  3. انروا کے آپریشن پر پابندی سے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے: انتونیو گوتریس

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اہم امدادی ادارے انروا کے آپریشن پر پابندی کے اسرائیل کے نئے قانون سے فلسطینیوں کی انسانی صورتحال پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو لکھے گئے خط میں انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ یہ قانون فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) کو معذور کر سکتا ہے۔

    واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ انروا غزہ میں منفرد کردار ادا کرتی ہے اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

    قبل ازیں غزہ میں یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر اسرائیل پابندی پر مکمل عمل درآمد کرتا ہے تو غزہ میں آپریشن جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے اس پابندی کے نفاذ میں تاخیر کا امکان ظاہر کیا ہے۔

  4. اسلام آباد میں ایک دن میں دو بینک ڈکیتیاں، ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی

    پولیس

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

    اسلام آباد میں منگل کے روز دو مختلف بینکوں میں ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران ایک شخص ہلاک اور پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    پہلا واقعہ اسلام آباد کے علاقے جی نائن میں پیش آیا جہاں موٹر سائیکل پر سوار مسلح شخص نے سرکاری بینک میں پیسے جمع کروانے آنے والی کیش وین کو لوٹ لیا۔

    مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک راہگیر ہلاک جبکہ بینک کے سکیورٹی گارڈ سمیت تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ڈاکو موقع سے پیسوں سے بھرا بیگ لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

    منگل کے روز پیش آنے والے دوسرے واقعے میں مسلح موٹر سائیکل سوار اسلام آباد کے علاقے جی 14 میں ایک نجی بینک سے 16 لاکھ روپے سے زیادہ نقدی لوٹ کر فرار ہو گیا۔

    ملزم کی فائرنگ سے بینک کے دو سیکورٹی گارڈز زخمی ہوگئے جنھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز دو اور آج بھی ڈکیتی کی دو وارداتیں ہوئی ہیں۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ڈکیتیوں ایک ہی طریقے سے کی گئی ہیں۔

  5. کرم کا اٹھارویں روز بھی پاکستان کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کا ملک کے بیشتر حصوں سے رابطہ اٹھارویں روز بھی بحال نہیں ہو سکا، جس کے باعث ڈسٹرکٹ ہسپتال پاڑہ چنار سے پشاور ریفر کیے جانے والے چھ مریض مر چکے ہیں۔ مرنے والوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاڑہ چنار کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر میر حسن خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ہسپتال میں مکمل طبی سہولیات موجود نہیں، جس کی وجہ سے ایسے مریض جن کی حالت زیادہ خراب ہوتی ہے انھیں پشاور ریفر کر دیا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر میر حسن کا کہنا تھا گذشتہ دنوں ان کے ہسپتال میں پانچ بچے لائے گئے تھے جن کی پیدائش وقت سے پہلے ہوگئی تھی اور اس کے علاوہ کچھ بچے ایسے تھے جنھیں مختلف بیماریاں لاحق تھیں۔ مرنے والے بچوں میں جڑواں بچے بھی شامل تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے سے کوئی تشویشناک مریض ان کے ہسپتال نہیں لایا گیا۔

    جب ڈاکٹر میر حسن سے جب پوچھا گیا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ علاج میسر نہ ہونے کی وجہ سے مرنے والے بچوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے، تو ان کا کہنا تھا علاقے کے دیگر ہسپتالوں اور نجی کلینکس سے بھی مریض پشاور ریفر کیے جاتے ہیں اس لیے ممکن ہے کہ مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو۔

    ڈاکٹر میر حسن کے مطابق چھ ایسے مریضوں کی تصدیق ہوئی جنھیں ان کے ہسپتال سے پشاور ریفر کیا گیا تھا تاہم سڑکوں کی بندش کی وجہ سے وہ ہسپتال نہیں پہنچ سکے۔

    ضلع کُرم میں 12 اکتوبر کو اپر کرم کے علاقے کونج علیزئی میں ہوئے مسافر وین قافلے پر حملے کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہلاکت کے بعد سے پاڑہ چنار، پشاور روڈ ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔

    یاد رہے کہ اس مسافر وین قافلے پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوئے ہوئے تھے۔

    کوہاٹ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق پیر کے روز سڑک کھلوانے کی کوشش کے لیے بم ڈسپوزل سکواڈ کی مدد بھی حاصل کی گئی کہ اسی دوران شدت پسندوں کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں دو ایف سی اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی۔

    پاڑہ چنار کا نواحی علاقہ بوشہرہ بظاہر خیبر پختونخوا کے کسی عام پہاڑی علاقے جیسا ہی ہے لیکن یہاں واقع زمین کا ایک ٹکڑا ایسا ہے جس پر ہونے والے تنازع میں اب تک درجنوں افراد کی جان جا چُکی ہے۔

    اندازاً 100 کنال زمین کی ملکیت کا تنازع بوشہرہ کے دو دیہات میں مقیم قبائل کے درمیان ہے۔ اس علاقے میں رواں برس ہونے والے پُرتشدد واقعات کے باعث زمین کا یہ علاقہ کم از کم 43 افراد کی جان لے چُکا ہے اور متعدد افراد ان جھڑپوں میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کے اقتدار میں آنے اور سرحد پر باڑ لگنے سے پہلے لوگ متبادل راستے کے طور پر افغانستان سے ہو کر پاکستان کے دوسرے علاقوں میں میں داخل ہوتے تھے لیکن اب وہ متبادل راستے بند ہو چکے ہیں۔

    جہاں شاہراؤں کی بندش کی وجہ سے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں اور مریض علاج معالجے کے لیے پشاور یا کوہاٹ کے ہسپتال نہیں پہنچ پا رہے ہیں وہیں بیرونِ ملک جانے والے افراد بھی ایئر پورٹ نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔

    دوسری جانب علاقے میں پیٹرول اور اشیا خوردونوش کی قلت بھی پیدا ہونے لگی جس سے روزمرہ کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

  6. لبنان میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج پر حملہ، آسٹریا کے آٹھ فوجی زخمی

    آسٹریا کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایک حملے میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے تحت لبنان میں تعینات اس کے آٹھ فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔

    آسٹریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان مائیکل باؤر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیلی سرحد کے قریب کیمپ نقورہ پر حملے میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) کے سپاہی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ بتانا ممکن نہیں کہ حملہ کس جانب سے ہوا تھا۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ آسٹریا کی وزیرِ دفاع کلاؤڈیا ٹینر اس حملے کی مذمت کرتی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ اقوام متحدہ کے مشن سائٹ کے نزدیک کارروائیاں بند کی جائیں۔

  7. فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے پر پابندی سے غزہ میں بچوں کی اموات میں اضافہ ہوگا: یویسیف

    بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) پر پابندی سے غزہ میں بچوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو گا۔

    یونیسیف کے کمیونیکیشن منیجر رکارڈو پائرس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس پابندی سے یونیسیف کی بچوں کی جان بچانے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس پابندی کے باعث غزہ میں بچوں میں بیماریوں اور بھوک سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہوگا۔

    پائرس کا کہنا تھا کہ یونیسیف سمیت کوئی بھی تنظیم انروا کی جگہ نہیں لے سکتی ہے اور اس کے بغیر غزہ میں امدادی کارروائیاں رکنے کا خدشہ ہے۔

    یونیسیف سے قبل عالمی ادارہ صحت سمیت کئی عالمی تنظیمیں اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر چکی ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے انروا پر پابندی کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

    سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ڈاکٹر ٹیڈروس اذانوم گیبریئس کا کہنا تھا کہ یہ اقدام اسرائیل پر عائد ذمہ داریوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ان تمام لوگوں کی زندگیاں خطرہ میں پڑ سکتی ہیں جن کا انحصار انروا پر ہے۔

  8. گذشتہ سال سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 43 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں: فلسطینی وزارتِ صحت

    شمالی غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال سات اکتوبر کے بعد شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 43 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ وزارتِ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    شمالی غزہ کے شہر بیت لہیا پر آج ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بارے میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں ہلاک اور لاپتہ افراد کی تعداد 93 ہو گئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اب بھی متعدد افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور امدادی کارکنان ان کی تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب غزہ کی سول ڈیفینس ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 93 تک پہنچ گئی ہے۔

  9. بین الاقوامی دباؤ پر فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے سے پابندی نہیں ہٹائیں گے: اسرائیل

    انروا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے ایک اتحادی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) پر پابندی لگانے کے اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

    بوز بسمتھ اسرائیلی پارلیمان میں انروا کی اسرائیل کی حدود میں سرگرمیوں پر پابندی کا بل پیش کرنے والوں میں سے ہیں۔ اس بل میں اسرائیلی حکام پر بھی پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ انروا سے کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھیں گے۔

    جب بسمتھ سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ بین الاقوامی دباؤ پر بل واپس لیں گے تو ان کہنا تھا، ’ہرگز نہیں کیوں کہ ہم بل پر یقین رکھتے ہیں اور کیونکہ یہ انصاف پر مبنی بل ہے۔‘

    امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سے اس فیصلے کی مذمت کی گئی ہے۔

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اسے ’مکمل طور پر غلط اور غیر مناسب‘ قرار دیا جبکہ وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’ان قوانین سے فلسطینیوں کے لیے انروا کی امدادی کارروائیوں میں خلل پڑے گا، جس سے غزہ میں بین الاقوامی سطح پر آنے والی امداد اور اس کی متاثریں تک رسائی خطرے میں پڑ جائے گی۔‘

    امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انروا نے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی تقسیم میں ’اہم‘ کردار ادا کیا ہے۔ 20 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل علاقے کی تقریباً تمام آبادی کا انحصار ایجنسی کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد پر ہے۔‘

    انروا کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون لاگو ہو جاتا ہے تو اس سے غزہ کو بھیجی جانے والی امداد کی ترسیل بند ہو جائے گی۔

    اسرائیل الزام لگاتا آیا ہے کہ انروا میں حماس کے کارکنان شامل ہو گئے ہیں اور فلسطینی پناہ گزینوں کی تنظیم کے کچھ ارکان سات اکتوبر کے حملے میں بھی ملوث تھے۔

    بسمتھ کہتے ہیں انروا کی بے دخلی کے بعد اسرائیل کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد میں اضافہ کیا جائے گا۔

  10. انروا پر اسرائیلی پابندی: ’ہم آٹے کے بغیر کیسے زندہ رہیں گے؟‘

    انروا آٹا غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) پر پابندی لگانے کے فیصلے کے بعد بی بی سی عربی نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں سے ان کا ردِ عمل جاننے کے لیے بات کی ہے۔

    اوم یوسف

    ’انروا پر پابندی کا فیصلہ بالکل غلط ہے کیونکہ ہمارا علاج ان کے ذریعے ہوتا ہے اور ہمارے بچے ان کے سکولوں میں پڑھتے ہیں۔‘

    ’تعلیم سب سے اہم چیز ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ بالکل غلط فیصلہ ہے۔‘

    اوم سوہے

    ’یہ ایک غلط فیصلہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمیں تیل اور آٹا ملنا بند ہو جائے گا۔‘

    ’بہت مشکل ہو جائے گی۔ ہم آٹے کے بغیر کیسے زندہ رہیں گے، یہی تو ایک چیز ہے جو یہاں دستیاب ہے۔ آٹے کے ایک تھیلے کی قیمت 200 شیکل (54 امریکی ڈالرز) ہے اور ہم یہ خرید نہیں سکتے ہیں۔ تیل کی ایک بوتل تقریباً 35 شیکل (9 امریکی ڈالرز) کی ہے۔‘

    ’جو بھی ہو رہا ہے بہت برا ہے۔ ہمارے پاس انروا کی طرف سے مہیا کیے گئے آٹے کے علاوہ اس ملک میں کچھ بھی نہیں ہے۔ امید ہے کہ یہ فیصلہ روک دیا جائے گا کیونکہ بہت مشکل ہو جائے گی۔‘

    محمد

    ’میرا نام محمد ہے، میں خان یونس میں بے گھر ہوں۔ یہ کہ رہے ہیں کہ انروا کو [کام کرنے سے] روک دیں گے، اور اس ایجنسی کو روک دیں گے جو آٹا، تیل، چینی اور دیگر ضرورتِ زندگی کی چیزیں لاتی ہے۔‘

    ’اگر اس کو روک دیا گیا تو ہمیں آتا نہیں ملے گا اور وہ ہمارے بچوں کو پڑھانا بھی بند کر دیں گے۔‘

    ’دنیا میں سب سے ضروری چیز آٹا، تیل اور چینی ہے جو ہم کھاتے ہیں۔ ہم امید کر رہے ہیں کہ فیصلہ منسوخ ہو جائے گا۔‘

  11. لبنان سے اسرائیل پر 50 راکٹ داغے گئے ہیں، آئی ڈی ایف کا دعویٰ

    اسرائیل ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان سے بالائی گلیلی اور مغربی گلیلی کی جانب 50 کے قریب راکٹ داغے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے ہے کہ کچھ راکٹوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔

  12. شمالی غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک افراد کی تعداد 60 ہو گئی

    شمالی غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے شہر بیت لہیا پر اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 60 ہو گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 17 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں زمین پر کمبل سے ڈھکی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

    قریبی واقع کمال اڈوان ہسپتال کے ڈائیریکٹر حسام ابو صفیہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے بچے ان کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے اس حملے کے متعلق اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی اس پانچ منزلہ عمارت میں تقریبا 150 بے گھر افراد رہائش پذیر تھے۔

  13. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان، انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے دوران انڈیکس ایک موقع پر 11 ہزار پوائنٹس اضافے کے بعد پہلی مرتبہ 91 ہزار 350 پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    دن کے اختتام پر انڈیکس میں 670 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مارکیٹ انڈیکس 90 ہزار 864 پوائنٹس پر بند ہوا جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

    مارکیٹ میں ملکی وغیر ملکی سرمایہ کار خریداری کر رہے ہیں جس کی وجہ مارکیٹ میں حصص کی پرکشش قیمتیں ہیں۔

    تجزیہ کار نوید ندیم کے مطابق شرح سود میں کمی کے امکان کے ساتھ ساتھ کمپنیوں کی جانب سے مالی نتائج کے اعلانات نے مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔

  14. انروا پر پابندی اسرائیل کی فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے کی جانب بڑھتی دشمنی کا نتیجہ ہے, سیبسٹیین اشر، بی بی سی کے تجزیہ کار برائے مشرقِ وسطیٰ

    انروا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) پر پابندی اسرائیلی حکومت اور سیاستدانوں کی انروا اور اقوامِ متحدہ کے لیے بڑھتی ہوئی دشمنی کا نتیجہ ہے۔

    اسرائیلی حکومت اور سیاستدان اقوامِ متحدہ اور انروا پر جانبداری کا الزام لگاتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ افراد انروا پر حماس کی حمایت کا بھی الزام لگاتے ہیں۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ انروا کے کچھ ملازمین سات اکتوبر کے حملے میں ملوث تھے۔ رواں سال اگست میں اقوامِ متحدہ نے تفتیش کے بعد نو ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیا تھا۔

    شیرین ہاسکل ان اسرائیلی سیاستدانوں میں سے ہیں جنھوں نے انروا پر پابندی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انروا کو مزید کام کرنے نہیں دیا جا سکتا ہے۔

    ’بین القوامی برادری کی ناکامی کے بعد اسرائیل کو مکمل حق ہے کہ وہ انروا کے خلاف کارروائی کرے۔‘

    کئی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    غزہ کی دن بدن ابتر ہوتی صورتحال کے تناظر میں انروا کو ایک لائف لائن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

    بی بی سی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں انروا کے کمیونیکیشن ڈائیریکٹر جولیٹ ٹوما کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لگائی جانے والے پابندی کی مثال نہیں ملتی ہے اور یہ ایک خطرناک نظیر قائم کرتی ہے۔

  15. شمالی غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں 55 افراد ہلاک

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے شہر بیت لہیا میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 55 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    وفا کے مطابق اس پانچ منزلہ عمارت میں تقریبا 150 بے گھر افراد رہائش پذیر تھے۔

    اسرائیل نے ابھی تک اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  16. بلوچستان: پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پانچ افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان

    بلوچستان کے ضلع پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ دو زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے افراد ایک ڈیم کی نگرانی پر مامور تھے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے تین کے علاوہ زخمی ہونے والے دونوں افراد کا تعلق ضلع پنجگور کے مختلف علاقوں سے ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن و ترقی دشمن کی آنکھ میں کھٹک رہی ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو مذموم مقاصد میں کبھی کامیابی نہیں مل سکتی۔

    پنجگور میں یہ حملہ کہاں کیا گیا؟

    پنجگور انتظامیہ کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ گزشتہ شب پروم میں دزگٹ کے مقام پر کیا گیا۔ اس حملے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    انتطامیہ کے اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے علاوہ زخمی افراد کو علاج کے لیے ٹیچنگ ہسپتال پنجگور منتقل کیا گیا۔ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ہوگئی ہے جن میں ظاہر علی بلوچ، حسین علی شاہ، محمد حیات، امین اللہ اور علی نواز شامل ہیں۔

    ہلاک ہونے والے تین افراد کا تعلق پنجگور سے ہی ہے جبکہ امین اللہ کا تعلق کوئٹہ اور علی نواز کا تعلق سندھ کے علاقے نوشہرہ سے ہے۔

    ترجمان حکومت بلوچستان نے اس حوالے سے متعلق جو بیان جاری کیا ہے اس کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے افراد اس علاقے میں ایک ڈیم کی دیکھ بھال پر مامور تھے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اس واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

    پنگجور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجگور کہاں واقع ہے؟

    پنجگور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً ساڑھے پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے۔ پنجگور کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔

    اس ضلع کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔ گزشتہ ماہ کی 29 تاریخ کو پنجگور شہر کے قریب خدابادان کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7 مزدور مارے گئے تھے۔

    پروم میں گزشتہ شب ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں ایسے واقعات کی ذمہ داری زیادہ تر کالعدم عسکریت پسند تنظیموں بی ایل اے اور اور بی ایل ایف کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

  17. مشرقی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملے میں 60 افراد ہلاک

    Lebanon

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق مشرقی وادی بیکا میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 60 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    لبنان کی وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ بالبیک کے علاقے میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں 16 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے 60 افراد میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

    وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 60 افراد کے ہلاک ہونے کے ساتھ ساتھ 58 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور وادی میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ واضح رہے کہ لبنان میں بالبیک نامی اس علاقے کو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

    تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے اب تک اس حملے سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے گذشتہ پانچ ہفتوں کے دوران لبنان بھر میں ہزاروں فضائی حملے کیے ہیں جن میں حزب اللہ کے عسکریت پسندوں اُن کے بنیادی ڈھانچے اور ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بالبیک کے گورنر باچی خضر نے گذشتہ ماہ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف کشیدگی میں اضافے کے بعد سے جاری حملوں میں اس حالیہ کارروائی کو ’سب سے زیادہ پرتشدد‘ قرار دیا ہے۔

    اس سے قبل پیر کے روز لبنان کے ساحلی شہر سور پر اسرائیلی فضائی حملوں میں سات افراد ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے تھے۔ اسرائیل نے لوگوں کو شہر کے مرکز سے نکلنے کی وارننگ جاری کی ہے۔

    Lebanon

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ پیر کے روز لبنان کی جنوبی سرحد کے قریب اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ شدید جھڑپ ہوئی اور حیفہ کے قریب اسرائیل کے اندر ایک بحری اڈے پر راکٹ داغے گئے۔

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ اُس وقت شروع ہوئی کہ جب مسلح لبنانی گروپ نے 8 اکتوبر 2023 کو فلسطینیوں کی حمایت میں شمالی اسرائیل اور اس کے آس پاس راکٹ داغنے شروع کیے۔

    لبنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اب تک لبنان میں 2700 سے زائد افراد ہلاک اور 12 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کے نتیجے میں اب تک 13 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہی۔

  18. اپر اورکزئی میں پولیو ٹیم پر حملہ، دو پولیس اہلکار ہلاک, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی کے علاقے ڈبوری بادان کلے میں مسلح افراد کی جانب سے پولیو ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ضلع اورکزئی کے پولیس ترجمان محمد موسی نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ تاہم اُن کے مطابق پولیس اور ایف سی کی جوابی کارروائی میں تین حملہ آور بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    ڈی ایس پی محمد رحیم کے مطابق پولیس اور فرنٹئیر کور کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

  19. ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف دہشت گردی کے مقدمہ کی سماعت، تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی پر اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں دہشت گردی سمیت پانچ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ تاہم منگل کے روز انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔

    ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی کے خلاف دوج ہونے والے مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی نے غیر ملکی کرکٹ ٹیم کے حفاظت کی غرض سے لگائے جانے والے روٹ کو کھولنے اور بیرئیر ہٹانے اور عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کی۔

    ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ کو منگل کے روز انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس کی جانب سے اُن کے 30 دن کے ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

    انسداد دِہشتگردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے اس مقدمے کی سماعت کی۔ تاہم ایمان مزاری کی جانب سے زینب جنجوعہ ایڈوکیٹ اور احسن پیرزادہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

    دورانِ سماعت جج ابو الحسنات محمد ذولقرنین نے پراسیکوٹر سے استفسار کیا کہ ’آپ 30 دن کا ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں؟ آپ بتائیں ریمانڈ کس بنیاد پر چاہیے؟‘

    جس پر پراسیکیوٹر کی جانب سے کہا گیا کہ ’ویڈیو کی فرانزک کرانی ہے اس لیے ریمانڈ کی درخواست کر رہے ہیں۔‘

    جس پر عدالی کی جانب سے 30 دن کی بجائے تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی سابق رہنما شیریں مزاری کی بیٹی اور انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو اسلام آباد سے گزشتہ روز گرفتار کر لیا گیا تھا۔

    پولیس کے مطابق ’ایمان مزاری اور ان کے شوہر نے روٹ کی خلاف ورزی کی۔ ایمان مزاری کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو دھکے بھی دیے گئے۔ دونوں میاں بیوی بیرئیرز ہٹاتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے تھے ایمان مزاری کے شوہر کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو گالیاں بھی دی گئیں۔‘

    اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی۔

    سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا گیا کہ اسلام آباد کی ایک شاہراہ پر پولیس نے رکاوٹیں لگا کر ٹریفک کو روک رکھا تھا۔ جس کے بعد ایمان مزاری اور ان کے شوہر رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پولیس اہلکاروں کے منع کرنے پر وہ ان سے کہتی ہیں کہ ’ہمیں کورٹ پہنچنا ہے ہمیں جانے دو۔ راستے کھولو‘۔

    اس پر پولیس اہلکار انھیں بتاتے ہیں کہ غیر ملکی کرکٹ ٹیم نے وہاں سے گزرنا ہے جس کی وجہ سے روٹ لگایا گیا ہے اور کچھ دیر میں راستہ کھول دیا جائے گا۔

  20. غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی فوج کی کارروائی، 100 دہشت گردوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ کے کمال ادوان ہسپتال میں اسرائیلی فوجی کی کارروائی کے بعد ہسپتال میں اب بس ایک ہی ڈاکٹر باقی رہ گئے ہیں۔

    ایک ویڈیو بیان میں ڈاکٹر خلیل دقران نے بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ پٹی کے شمال میں واقع ہسپتال میں طبی عملہ بھیجیں اور کہا کہ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے وہاں مریضوں کو شدید مُشکلات کا سامنا ہے، اور ہسپتال میں طبی امداد کے فقدان کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافہ کا بھی خدشہ ہے۔

    پیر کے روز اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ آئی ڈی ایف نے ہسپتال سے تقریبا 100 ’دہشت گردوں‘ کو حراست میں لیا ہے۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا مزید کہنا ہے کہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے اندر واقع ہسپتال کو حماس اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

    ڈاکٹر خلیل دقران کا کہنا تھا کہ ’دو روز قبل فوج نے کمال ادواں ہسپتال پر دھاوا بولا تھا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، بڑے حصے میں آگ لگا دی گئی تھی، ہسپتال کے داخلی دروازے تباہ کر دیے گئے تھے اور چار دیواری کو منہدم کر دیا گیا تھا۔

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مریضوں اور طبی عملے پر حملہ کیا گیا، بہت سے مریضوں اور اُن کے ساتھ آنے والے لواحقین کو بھی معاف نہیں کیا گیا اور ہسپتال کے عملے کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔‘

    ’حراست میں لیے جانے والے ہسپتال کے طبی عملے کے 30 ارکان کے بارے میں تاحال کسی کو کُچھ بھی معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔‘

    HOSPITAL

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنغزہ کے کمال ادوان ہسپتال کو اسرائیلی افواج کی جانب سے گزشتہ سال دسمبر میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا

    ڈاکٹر خلیل دقران کا مزید کہنا ہے کہ ’اسرائیلی فوج کے ہسپتال پر کارروائی کے بعد نظام بُری طرح سے متاثر ہوا ہے اور اب ہسپتال میں ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت ہے۔‘

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ہسپتال میں حماس کے دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہسپتال سے انخلا کی انتباہ جاری کی گئی تھی جس کے بعد کارروائی کا آغاز کیا گیا۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’فوجیوں کو چھاپے کے دوران حماس سے تعلق رکھنے والے اہلکار، ہتھیار، نقدی اور اہم دستاویزات ملی ہیں۔‘

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ ’ہسپتال کی انتظامیہ اور عملے میں ایسے لوگ بھی شامل تھے کہ جن کا تعلق اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملوں سے تھا۔‘

    غزہ میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی فوج کے ہسپتال پر حملے میں طبی عملے کے متعدد اراکین کو حراست میں لیا گیا اور متعدد زخمی ہویے تاہم اس کارروائی کے دوران چند مریضوں کی بھی ہلاکت ہوئی۔‘