یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
سپین میں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 158 تک پہنچ گئی ہے جبکہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan
حکومتِ پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہو گا۔
پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 35 پیسے فی لیٹر کے اضافے کے بعد نئی قیمت 248 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 85 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 255 روپے 14 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک روپے 48 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 161 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں دو روپے 61 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 147 روپے 51 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے دو الگ الگ راکٹ حملوں میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسراییلی حکام کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حزب اللہ کا جمعرات ہو ہونے والا یہ حالیہ حملہ کئی مہینوں سے جاری اس جنگ کے خطرناک ترین حملوں میں سے ایک تھا۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ کاٹز نے کہا ہے کہ لبنان کی سرحد پر واقع ایک قصبے میٹولا کے قریب راکٹ گرنے سے ایک اسرائیلی کسان اور چار غیر ملکی زرعی کارکن ہلاک ہوئے۔
بعد ازاں ساحلی شہر حیفہ کے مضافات میں کبتز افیک کے قریب زیتون کے ایک باغ میں ایک اسرائیلی خاتون اور اس کا بیٹا راکٹ حملے میں ہلاک ہوئے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اُنھوں نے حیفہ کے شمال میں کریوت کے علاقے اور لبنانی قصبے خیام کے جنوب میں اسرائیلی افواج کو نشانہ بنایا اور متعدد راکٹ داغے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’دوپہر کے وقت مغربی گلیل کے علاقے، جہاں کبوتز واقع ہے، کے علاوہ وسطی گلیل اور بالائی گلیل کی طرف کل 55 میزائل داغے گئے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’کچھ میزائلوں کو تو روکا گیا تاہم کُچھ دیگر علاقوں میں گرے۔‘
لبنانی حکام کے مطابق اس جاری جنگ میں اب تک لبنان میں 2800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 2200 گزشتہ پانچ ہفتوں میں ہلاک ہوئے ہیں اور 12 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔
تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں حزب اللہ کے راکٹ، ڈرون اور میزائل حملوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAsad Baloch
بلوچستان کے شہر پنجگور میں نواب اکبر بگٹی کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پنجگور پولیس کے ایس ایچ او ظہور بلوچ نے بتایا کہ مجسمے کا مقدمہ پنجگور پولیس سٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
اونٹ پر بیٹھے نواب اکبر بگٹی کا یہ مجسمہ دوسری مرتبہ ایک بڑے چبوترے پر نصب کیا گیا تھا جس کا افتتاح چند روز قبل بی این پی عوامی کے صدر اور رکن بلوچستان اسمبلی میر اسداللہ بلوچ نے کیا تھا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ مقدمے کے اندراج کے بعد واقعے کے محرکات اور ملزمان کی نشاندہی کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
’نواب اکبر بگٹی کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کی دوسری کوشش‘
ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع پنجگور کے صدر مقام میں نواب اکبر بگٹی کا مجسمہ دوسری مرتبہ بھی بی این پی عوامی کے سربراہ اور رکن بلوچستان اسمبلی اسد بلوچ نے ایئر پورٹ روڈ پر نصب کروایا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسد بلوچ نے بتایا کہ ’اس مجسمے کو پہلی مرتبہ انھوں نے سنہ 2007 میں بنوایا تھا جسے نامعلوم افراد نے سنہ 2022 میں گرا دیا تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس مجسمے کو دوبارہ بنوایا اور اسے پہلے والے والے مقام سے کچھ فاصلے پر ایک چبوترے پر نصب کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہ مجسمہ سٹیل سے بنوایا گیا تھا جس کے باعث اس کا وزن 7 ٹن سے زائد تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہAsad Baloch
اسد بلوچ نے کہا کہ ’ایئرپورٹ روڈ پر دوسری مرتبہ مجسمے کی تنصیب کے بعد انھوں چند روز پہلے اس کا افتتاح کیا تھا لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ اسے دوبارہ نقصان پہنچایا گیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’29 اور 30 اکتوبر کی درمیانی شب زنجیر ڈال کر مجسمے کو گاڑی کے ذریعے کھینچ کر گرانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ ایسا مُمکن نہ ہوسکا اور یہ ٹیڑھا ہوگیا۔‘
بی این پی عوامی کے سربراہ نے کہا کہ ’وہ دوبارہ اس کی مرمت کرواکر اسے اسی مقام پر نصب کروائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’نواب اکبر بگٹی اب ایک سوچ اور نظریے کا نام ہے۔ ان کے مجسمے کو گرانے یا نقصان پہنچانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایسے اقدامات سے نفرتوں میں اضافہ ضرور ہوگا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
سپین میں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 158 تک پہنچ گئی ہے جبکہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً تمام اموات سپین میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ویلنسیا میں ہوئی ہیں۔
سپین کے صدر نے فوج پر زور دیا ہے کہ وہ امداد کی تقسیم اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے ملبے کو ہٹانے میں اپنی خدمات فراہم کریں۔
لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سینکڑوں فوجی بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
ہسپانوی پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سیلاب سے متاثرہ تجارتی علاقوں میں لوٹ مار کے بھی واقعات سامنے آرہے ہیں اور ایسے میں انتظامیہ کی جانب سے اب تک 39 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد اپنا گھر بار چھوڑ کر پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ متاثرہ علاقے کا سپین کے دیگر شہروں سے رابطہ محدود اور بعض مقامات پر تو کٹ چُکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا ذریعہEuropa Press

،تصویر کا ذریعہPresident Office
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا گذشتہ رات دبئی ایئر پورٹ پر جہاز سے اترتے ہوئے پاؤں فریکچر ہوگیا۔
ایوانِ صدر سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صدر زرداری کو فوری طور پر ابتدائی طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد ان کے پاؤں پر پلاستر کردیا۔ بعد ازاں انھیں گھر منتقل کر دیا گیا۔
بیان کے مطابق صدر زرداری کے پاؤں پر پلاستر چار ہفتوں کے لیے کیا گیا ہے اور ڈاکٹروں نے انھیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدارتی انتخاب میں محض پانچ دن رہ گئے ہیں اور ایسے میں صدارتی امیدوار ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے حریف کو پیچھے چھوڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ ایسے میں بدھ کے روز جب ریپبلیکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ریاست وسکونسن کے شہر گرین بے میں اپنے حمایتیوں سے خطاب کرنے سٹیج پر آئے تو انھوں نے نارنجی رنگ کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی جو امریکہ میں عموماً خاکروب پہنتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں لوگ جنھوں نے انھیں پچھلے دو انتخابات میں ووٹ دیے ہیں وہ کچرا نہیں۔ ’25 کروڑ امریکی کچرا نہیں ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا اشارہ صدر جو بائیڈن کی اس تقریر کی جانب تھا جس میں انھوں نے ٹرمپ کے حمایتیوں کو کچرے سے تشبیہ دی تھی۔
اس کے بعد ٹرمپ نے نارنجی جیکٹ پہنے ایک کچرا اٹھانے والے ٹرک میں بیٹھ کر ویڈیو بھی بنوائی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن کا ایسی بات کہنا شرمناک ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جو بائیڈن نے کہا کیا تھا؟
امریکی صدر جو بائیڈن اس الیکشن میں خود تو حصہ نہیں لے رہے لیکن ڈیموکریٹ امیدوار اور اپنی نائب کملا ہیرس کی کیمپین ضرور چلا رہے ہیں۔ منگل کے روز انھوں لاطینی ووٹروں کے ایک گروپ سے آن لائن بات کرتے ہوئے کہا کہ پورٹو ریکنز ’اچھے، مہذب، معزز لوگ ہیں۔‘ اس کے بعد صدر بائیڈن نے ریپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف کچرا جو مجھے وہاں تیرتا ہوا دکھ رہا ہے وہ اس کے حامی ہیں... اس کی، اس کی لاطینیوں کو برا دکھانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔‘
کملا ہیرس نے بھی خود کو بائیڈن کے اس بیان سے دور کر لیا ہے۔ جب رپورٹرز نے ان سے بائیڈن کے بیان پر رائے جاننے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کی اس بنیاد پر تنقید کی سخت مخالف ہیں کہ وہ کس کو ووٹ دیتے ہیں۔
تنقید کی زد میں آنے کے بعد بائیڈن کا کہنا تھا کہ ان کی بات غلط مطلب نکالا گیا ہے۔ بائیڈن کا کہنا تھا کہ ان کا اشارہ اس کامیڈین کی جانب تھا جس نے اتوار کو ٹرمپ کی ریلی کے دوران بات کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کے نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ’دنوں میں جنگ بندی کا معاہدہ ممکن ہے۔‘
بدھ کو رات گئے دیے گئے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان ’گھنٹوں یا دنوں کے اندر‘ کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل اسرائیل کے پبلک براڈکاسٹر کی جانب سے شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی سے متعلق جنگ بندی کے معاہدے کا ایک مسودہ تھا جس میں ابتدائی طور پر 60 دن کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
لبنان کے الجدید ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے، نگراں وزیر اعظم میقاتی نے کہا کہ حزب اللہ نے ’لبنانی محاذ کو غزہ کے محاذ سے الگ کرنے میں تاخیر کی۔‘ حزب اللہ نے دونوں محاذوں سے علیحدگی کا اعلان نہیں کیا تاہم تنظیم کے عہدیداروں کی طرف سے جاری کردہ حالیہ بیانات جنگ بندی کے لیے ان کی تیاری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس دستاویز کو جسے اسرائیلی براڈکاسٹر نے ’لیک ہونے والا مسودہ‘قرار دیا تھا میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل 60 روزہ جنگ بندی کے پہلے ہفتے کے اندر لبنان سے اپنی فوجیں نکال لے گا، اور یہ بڑی حد تک روئٹرز کی رپورٹ کردہ تفصیلات سے مطابقت رکھتا ہے۔
لبنان کے نگراں وزیر اعظم میقاتی کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ جنگ بندی کا یہ معاہدہ پانچ نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے ممکن ہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ لبنان کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیر آموس ہوچسٹین سے بات کرنے کے بعد اس متعلق ’زیادہ پر امید ہیں۔‘
آموس جمعرات کو اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیو نے اس معاہدے کے مسودے کے متعلق تفصیلات رپورٹ کی ہیں جن کے مطابق ’اسرائیل اور لبنانی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کے مکمل نفاذ کے لیے اقدامات کرنے کا عزم شامل ہے، جس نے لبنان میں 2006 کی جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔‘
جنگ بندی کے اس ابتدائی مسودے کے مطابق لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی انفل أفواج کے صرف دو مسلح یونٹ جنوبی لبنان میں تعینات ہوں گے، اور ’اسلحے اور متعلقہ مواد کی فروخت یا فراہمی کی اجازت صرف لبنانی فوج کو ہو گی، اور لبنان میں ہتھیاروں کی پیداوار لبنانی حکومت کے کنٹرول میں ہو گی‘
مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ لبنانی فوج کو بھی ان شرائط کی نگرانی اور ان پر عمل درآمد کرنا چاہیے، اور لبنانی حکومت کے کنٹرول میں نہ ہونے والے کسی بھی فوجی ڈھانچے کو ختم کرنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جمعرات کی صبح خیام قصبے کے مشرق میں راکٹوں اور بھاری توپ خانے سے اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اس سے قبل حزب اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بدھ کو کیے گئے حملوں میں حیفا کے جنوب اور تل ابیب کے مشرق میں اسرائیلی فوجی اڈوں اور تربیتی کیمپوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
حزب اللہ کا اب بھی اپنے بیانات میں کہنا ہےکہ یہ کارروائیاں ’غزہ کی پٹی میں ثابت قدم فلسطینی عوام کی حمایت میں، اور لبنان اور اس کے عوام کے دفاع میں‘ ہیں۔
تنظیم کی جانب سے جاری سلسلہ وار بیانات میں کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے ’12 اسرائیلی فوجیوں کے ایک دستے کو نشانہ بنایا، اور حدیرہ کے مشرق میں میزائلوں اورڈرونز کی مدد سے اسرائیل کی ’این شیمر فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
اس کے علاوہ حیفا کے جنوب میں الیاکیم کیمپ اور مقبوضہ شہر ایکر کے شمال میں شراگا فوجی اڈے میں اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ تل ابیب کے جنوب مشرق میں قائم اسرائیلی فوجیوں کے خصوصی تربیتی مرکز آدم کیمپ پر بھی میزائل حملے کیے گئے ہیں۔ ‘
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ حزب اللہ نے جنوبی حیفا میں اسرائیلی فوج کے تیرہ کارمل فوجی اڈے پر ڈرونز حملہ کیا اور اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں بھی متعدد علاقوں پر راکٹ حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر اسرائیلی براڈ کاسٹنگ کارپوریش نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے ڈرونز کی نگرانی اور ممکنہ ڈرونز حملے کی اطلاع کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپناتے ہوئے لبنان کی سرحد کے ساتھ فوجیوں کو تعینات کیا ہے تاکہ وہ ممکنہ ڈرون حملوں کی نگرانی اور پیشگی اطلاع دے سکیں۔
ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ اس نے لبنان کے تاریخی شہر بعلبیک اور نبطیہ پر حملہ کرتے ہوئے حزب اللہ کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔‘
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ’حزب اللہ منصوبے کے تحت لبنان میں مختلف شہری تنصیبات اور علاقوں کو استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسند کارروائیاں کرتی ہے اور جان بوجھ کر شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتی ہے۔‘
فوج نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اس نے اپنے تازہ حملوں میں حزب اللہ کے تیل کے ذخائر کو بھی تباہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/PTI
اڈیالہ جیل حکام نے وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کی عمران خان سے ملاقات کی حامی بھرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر ملاقات کے لیے کوئی پابندی نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں علی امین گنڈا پور کی عمران خان سے ملاقات سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کی عمران خان سے ملاقات پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ آپ اسکو دیکھ لیں آئیندہ کوئی درخواست ایسے یہاں نہ آئے۔
جس پر ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کی بانی کی جانب سے ملاقات کے لیے کوآرڈینیٹر مقرر کیے گئے ہیں۔
جسٹس ارباب نے ریمارکس دیے کہ مقرر کردہ کوارڈینیٹر انتظار حسین پنجوتھہ تو اغوا ہو چکے ہیں جس پر ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ ان کے علاوہ دیگر کوارڈینیٹر بھی ہیں جن میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ شامل ہیں۔
ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مقرر کردہ کوآرڈینیٹرز پہلے ملاقاتیوں کے نام طے کر لیتے فہرست آجاتی ہے اور ہم ان کی عمران خان سے ملاقات کروا دیتے ہیں۔ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کا کہنا تھا کہ جیل ملاقات بھی اب ہو رہی ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ عمران خان سے ملاقات پر پابندی کیوں لگاتے ہیں جس پر ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل نے بتایا کہ سیکورٹی خدشات کے باعث محمکہ داخلہ پابندی عائد کرتا ہے۔
عدالت نے علی امین گنڈا پور کی ملاقات پر پابندی نہ ہونے پر درخواست نمٹا دی۔س

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں امریکہ کے ملوث ہونے کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں اور عمران خان کے خلاف قانونی مقدمات کا فیصلہ پاکستان کی عدالتوں نے کرنا ہے۔
بدھ کو امریکی محکمہ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما لطیف کھوسہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بن جاتے ہیں تو عمران خان کی رہائی ممکن ہے۔ اور اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب جیت جاتے ہیں تو سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو کر عمران خان کے حق میں جا سکتا ہے۔ صحافی نے یہ بھی کہا کہ امریکی سفیر ڈونلڈ لو عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش میں شریک تھے؟
جس کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم میں یہ کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قانونی مقدمات کا فیصلہ کرنا پاکستان کی عدالتوں نے کرنا ہے۔ اور یہ الزامات کے امریکہ نے ان کی حکومت گرانے میں کوئی کردار ادا کیا، ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس متعلق متعدد بار جواب دیا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔‘
اور پاکستانی سیاست کا تعلق پاکستان کے عوام سے ہے اور وہ ہی اپنے قانون و آئین کے مطابق اس کا فیصلہ کریں گے۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں انڈیا کے وزیر داخلہ کے ملوث ہونے کے کینیڈا کے الزامات پر امریکہ کا ردعمل سامنے آیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ کینیڈا کی حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات تشویشناک ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کینیڈا کی حکومت کے ساتھ مشاورت جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل کینیڈین نائب وزیر خارجہ ڈیوڈ موریسن نے کہا تھا کہ انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے کینیڈین شہریوں کے خلاف انٹیلی جنس آپریشن کا حکم دیا تھا۔
ہردیپ سنگھ نجر قتل کیس میں قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں ڈیوڈ موریسن کا کہنا تھا کہ میں نے ہی امریکی اخبار میں انڈین وزیر داخلہ امت شاہ کے نام کی تصدیق کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAP
سپین کو ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے، ملک کے مشرقی صوبے ویلنشیا اور دیگر علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث 95 افراد ہلاک جبکہ درجنوں لاپتا ہو گئے ہیں۔
منگل کو ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال نے پلوں اور عمارتوں کو بہا دیا اور لوگوں کو جان بچانے کے لیے چھتوں یا درختوں پر چڑھنے پر مجبور کر دیا۔
وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے کیونکہ ملک میں سنگین صورتحال جاری ہے جس کے باعث کچھ امدادی کوششوں بھی محدود ہو گئی ہیں اور امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت کا کہنا ہےکہ ’ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ بہت سے لوگ لاپتا ہیں۔‘
سپین کے صوبہ ویلنشیا میں کم از کم 92 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ دیگر دو ہلاکتیں ویلنشیا کے مغرب میں واقع کاسٹیلا لا منچا کے علاقے جبکہ ایک ملاگا میں ہوئی ہے۔
حالیہ سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1973 کے بعد سے ملک میں سب سے زیادہ ہیں۔ سنہ 1973 میں جنوب مشرق میں ملک کے اب تک کے بدترین سیلاب میں کم از کم 150 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔
بدھ کے روز اپنے خطاب میں سپین کے وزیر اعظم سانچیز نے شہریوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی اور متاثرین کو یہ کہتے ہوئے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا کہ ’ پورا سپین آپ کے ساتھ رو رہا ہے۔۔۔ ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock
قومی موسمیاتی ایجنسی ایمیٹ کے مطابق، ویلینشیا کے قریب متاثر ہونے والے پہلے قصبوں میں سے ایک، چیوا میں منگل کو صرف آٹھ گھنٹے ہونے والی بارش ایک سال کی بارش کے برابر تھی۔
سپین میں بڑے پیمانے پر الزامات ہیں کہ بہت سے معاملات میں ڈیزاسٹر ریلیف حکام سیلاب سے متعلق انتباہ کے بارے میں وقت پر کارروائی کرنے میں سست رہے یعنی لوگ سیلاب میں سڑکوں میں پھنسے رہے اور کسی اونچی جگہ تلاش نہیں کر سکے۔
قومی آفات کے دوران تعینات شہری تحفظ کے ادارے نے منگل کی شام مقامی وقت کے مطابق 20:15 تک کوئی الرٹ جاری نہیں کیا، لیکن تب تک شیوا اور کئی دیگر قصبے کم از کم دو گھنٹے تک سیلاب کی زد میں آ چکے تھے۔
سپین نے بدھ کے روز امداد اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد کے لیے 1,000 سے زیادہ فوجیوں کو تعینات کیا، لیکن بہت سا عملہ سیلاب زدہ سڑکوں اور کمیونیکیشن اور بجلی کی لائنوں کے گرنے کی وجہ سے شہروں سے منقطع ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
لبنان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ لبنان کے مشرقی شہر بعلبیک اور آس پاس کے علاقوں پر اسرائیلی حملوں میں آٹھ خواتین سمیت 19 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ حملے اسرائیلی فوج کی طرف سے بعلبیک اور ارد گرد کے علاقوں سے انخلا کی ہدایات کے چند گھنٹے بعد کیے گئے۔ اسرائیلی حملوں سے قبل دسیوں ہزار افراد نے انخلا کی ہدایات کے بعد علاقے کو چھوڑ دیا تھا۔
بعلبیک کے میئر مصطفیٰ الشیل نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی دوپہر بعلبیک کے علاقے میں تقریباً 20 حملے کیے گئے جن میں سے پانچ شہر کے اندر کیے گئے تھے جہاں اقوام متحدہ کی جانب سے ورثہ قرار دیے جانے والا قدیم یونانی مندر بھی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے علاقوں بعلبیک اور نبطیہ میں حزب اللہ کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور انفراسٹریکچر کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کا مزید کہنا ہے کہ اس نے وادی بقاع میں حزب اللہ کے تیل کے ذخیروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس نے مزید کوئی تفصیلات نہیں بتائی ہیں تاہم لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ دوریس کے علاقے میں تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مئیر مصطفیٰ الشیل کا کہنا ہے کہ تصاویر میں وہاں سے کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب حزب اللہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ ان کی قیادت میں اسرائیل کے خلاف اپنا جنگی منصوبہ جاری رکھے گا اور یہ کہ وہ جنگ بندی کے لیے ’شور‘ نہیں مچائیں گے۔
اپنی تقرری کے اعلان کے ایک دن بعد گفتگو کرتے ہوئے، نعیم قاسم نے کہا کہ وہ اپنے پیشرو حسن نصر اللہ کے ایجنڈے پر عمل کریں گے، جو گذشتہ ماہ بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے یہ تقریر نامعلوم مقام سے کی، ان کے متعلق یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ وہ ایران فرار ہو گئے ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اسرائیل کی جانب لبنان کے تاریخی شہر بعلبیک پر حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہیں تاہم انھیں ایسی کارروائیوں میں شہری انفراسٹریکچر اور اہم ثقافتی ورثے کا تحفظ کرے۔
امریکی محمکہ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تاریخی شہر پر حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کے حزب اللہ کے جائز اہداف کے پیچھے جانے کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے وقت یہ ضروری ہے کہ وہ ایسا اس طرح کریں جس سے شہریوں کی جان کو خطرہ نہ ہو۔ خاص طور پر بعلبیک جیسے گنجان آباد علاقوں میں یہ ضروری ہے کہ وہ صحافیوں، اقوام متحدہ کے امن دستوں، لبنانی مسلح افواج کے ارکان کی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں، اور یہ بھی اہم ہے کہ شہری انفراسٹرکچر اور اہم ثقافتی ورثے کی جگہوں کا تحفظ کیا جائے۔‘
جنوبی لبنان کے بڑے حصوں اور بیروت کے جنوبی مضافات میں تباہی پھیلانے والے ہفتوں کے فضائی حملے کے بعد اسرائیلی فوج ملک کے مشرق میں حزب اللہ کے خلاف اپنے حملوں کو تیز کر رہی ہے۔ یہ ایک اور علاقہ ہے جہاں اس تنظیم کی مضبوط موجودگی اور حمایت ہے۔
بعلبیک وادی البقاع کا ایک مرکزی شہر ہے جو شام کی سرحد کے ساتھ واقع ہے۔ یہ ایک دیہی اور لبنان کا غریب ترین علاقہ ہے۔
حزب اللہ نے یہاں اپنی انفراسٹریکچر قائم کر رکھا ہے اور یہاں سے بہت سے جنگجوؤں کو شامل کیا ہے۔
یہ علاقہ حزب اللہ کے لیے سٹریٹیجک طور پر بھی اہم ہے، کیونکہ یہ اس راستے کا حصہ ہے جو اس تنظیم کی رسائی شام اور عراق میں اپنے اتحادیوں اور ایران تک دیتی ہے۔
بدھ کی صبح، اسرائیلی فوج نے پورے بعلبیک اور آس پاس کے قصبوں عین بوردے اور دوریس کے لیے انخلا کی ہدایات جاری کی تھی اور خبردار کیا کہ وہ ’حزب اللہ کے مفادات کے خلاف کارروائی کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپین کے مقامی میڈیا اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملک میں سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے۔
ایک مقامی اخبار نے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 70 افراد ویلنسیا میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ای ایف پی کے مطابق دیگر دو اموات ویلنسیا کے نزدیکی علاقے سے رپورٹ ہوئی ہیں۔
ویلنسیا سے موصول ہونے والی تصاویر میں سیلاب کے بعد شہر میں جگہ جگہ سڑکوں پر گاڑیوں کا ڈھیر لگا دیکھا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویلنسیا کے ایک قصبے کی میئر نے دعویٰ کیا ہے کہ سیلاب آنے سے محض آدھے گھنٹے قبل انھیں اس متعلق پہلی وارننگ موصول ہوئی تھی۔ کونسیلو ٹرازون کا کہنا تھا کہ جب دوسرا انتباہی پیغام موصول ہوا تب تک پانی ڈیڑھ میٹر اونچا ہو چکا تھا۔
دوسری جانب حکومت نے ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حزب اللہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم نے اپنی پہلی تقریر میں کہا ہے کہ حزب اللہ کسی اور کی جنگ نہیں لڑ رہی اور ’ایران ہماری حمایت ضرور کرتا ہے لیکن بدلے میں کچھ نہیں مانگتا۔‘
نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ ’ہم سے کسی نے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی ہم سے کسی چیز کا وعدہ کیا گیا۔‘
حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’ہم پہلے بھی کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔‘
نعیم قاسم نے مزید کہا کہ حسن نصر اللہ بھی کسی کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے تھے لیکن اگر جنگ ہو گی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اپنے پہلے بیان میں نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ وہ تنظیم کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے اور غزہ کی مدد کرتے رہیں گے۔
نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کو غزہ کی حمایت کرنے پر موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو غزہ یا لبنان پر حملہ کرنے کے لیے کسی جواز کی ضرورت نہیں تھی۔
انھوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل اس جنگ میں اکیلا نہیں بلکہ امریکہ اور یورپی یونین بھی اس کے ساتھ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ حزب اللہ نے منگل کے روز نعیم قاسم کو لبنانی عسکری تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا۔ وہ طویل عرصے سے حزب اللہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کے طور پر کام کر رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے نئی احتجاجی کمیٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔
عمران خان سے ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مروت کا کہنا تھا کہ انھوں نے عمران خان کو بتایا ہے کہ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج ٹھیک نہیں تھے اور وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حکمت عملی بھی صحیح نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے نئی کمیٹی بنانے کا کہا اور وہ بھی اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ ’آگے سردیاں بھی آرہی ہیں تو اس حوالے سے حکمت عملی بنائیں گے۔‘
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ایسی حکمت عملی بنائی جائی گی کہ اگر ایک رہنما پکڑا جائے تو دوسرا احتجاج کو لیڈ کر سکے۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی کو بتایا گیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی وجہ سے ملٹری کورٹس نہیں بنے۔ انھوں نے بتایا کہ ’عمران خان نے کہا اگر ملٹری کورٹس بن جاتیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے کچھ فیصلے لیے ہیں جن کا اعلان سلمان اکرم راجہ کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپین میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 62 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں بتانا ممکن نہیں۔
سپین کے قصبے چیوا کی مقامی انتظامیہ کے مطابق آٹھ گھنٹوں کے دوران سال بھر جتنی بارش ہوئی ہے۔
موسم کی پیش گوئی کرنے والے سرکاری ادارے کے مطابق چیوا میں آتھ گھنٹوں کے دوران 491 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
سوشل میڈیا پر دستیاب فوٹیج میں سیلاب کے باعث متعدد پل گرتے اور گاڑیوں کو پانی میں بہتے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ کئی ویڈیوز میں لوگ اپنی جان بچانے کے لیے درختوں سے لٹکے نظر آرہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپین کا بیشتر حصہ موسلا دھار بارشوں اور ژالہ باری سے بری طرح متاثر ہے۔
امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ایک ہزار فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
سینکڑوں افراد ہنگامی امداد اور اپنوں کی تلاش میں مدد کے لیے ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں پر کال کر رہے ہیں۔
سیلاب سے متاثر علاقے لیٹر میں حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں ڈرونز استعمال کر رہی ہیں۔
سپین کی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز کا کہنا ہے کہ خطے میں اس پیمانے کے سیلاب کی مثال نہیں ملتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پشاور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نو مئی مقدمے میں نامزد خیبر پختونخوا کے وزیر مینا خان اور تین اراکینِ صوبائی اسمبلی سمیت 27 ملزمان کو بری کر دیا۔
بدھ کے روز مقدمے کی سماعت اے ٹی سی جج محمد اقبال نے کی۔
استغاثہ کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ ملزمان نے نو مئی 2023 کو پشاور میں تھانہ خان رازق شہید کے حدود میں احتجاج کیا تھا جس کے دوران نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان کے خلاف تھانہ خان رازق شہید میں مقدمہ درج کیا گیا اور تحقیقات مکمل کرکے ٹرائل شروع کیا گیا۔
تاہم مقدمے کے دوران ملزمان پر جرم ثابت نہ ہوسکا۔
نو مئی کیس سے بری کیے جانے والوں میں صوبائی وزیر مینا خان اور اراکینِ صوبائی اسمبلی ارباب شیر علی، فضل الہی اور محمد آصف بری شامل ہیں۔
مقدمے سے بری کیے جانے والے دیگر ملزمان میں سابق صوبائی وزرا کامران بنگش اور تیمور سلیم جھگڑا، پشاور کے سابق ناظم ارباب عاصم بھی شامل ہیں۔
نو مئی کو سابق وزیرِ اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں پی ٹی آئی قائدین سمیت ہزاروں افراد کے خلاف مقدمے درج کیے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPM Office
سعودی عرب کے وزیرِ سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 60 کروڑ ڈالرز کی مالیت کے سات نئے معاہدوں اور یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔
سعودی وزیر بدھ کے روز پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
ریاض میں مشترکہ پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ سعودی وفد کے دورہ پاکستان کے دوران 2.2 ارب ڈالرز کے 27 معاہدوں اور یاد داشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ آج ہونے والے معاہدوں کے بعد ان ماہدوں کی تعداد 34 ہو گئی ہے جن کی کل مالیت تقریباً 2.8 ارب ڈالرز بنتی ہے۔
سعودی وزیر کا مزید کہنا تھا رواں ماہ طے پانے والے سرمایہ کاری کے منصوبوں میں سے پانچ پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ماہ کے وسط میں ان منصوبو٘ں پر بات چیت کے لیے سعودی عرب کا دوبارہ دورہ کریں گے۔
خیال رہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف منگل کے روز فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے متعدد علاقوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کی کال پر شٹڑ ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔بدھ کے روز جاری شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال اسلام آباد میں پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمے کے اندراج اور اسلام آباد پولیس کی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی اختر حسین لانگو اور سردار اختر مینگل کے پرسنل سیکریٹری شفیع مینگل کی گرفتاری کے خلاف دی گئی۔
مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ مرکزی انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ نے بتایا کہ ہم نے ہڑتال کی حمایت کی جس کے باعث کوئٹہ شہر میں اہم تجارتی مراکز بند ہیں۔
خضدار، وڈھ، قلات، مستونگ، نوشکی، خاران، پنجگور سمیت دیگر علاقوں میں بھی ہڑتال کی کال پر کاروباری مراکز بند ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات پارٹی کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم کے پر پارٹی کے خلاف انتقامی کارروائی ہیں۔
سردار اخترمینگل اور پارٹی رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی اور تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ اسلام آباد میں تھانہ سیکریٹریٹ میں درج کیا گیا ہے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر جمیل احمد کی مدعیت میں درج اس مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 22 اکتوبر کو سینٹ کے اجلاس کے دوران غیر مجاز افراد جہانزیب مینگل، شفیع محمد، احمد نواز، اختر حسین لانگو اور شفقت ٹکری اجازت کے بغیر سینیٹ کی گیلریوں اور لابیز میں داخل ہوئے۔ اطلاع کے مطابق سردار اختر مینگل بھی ان کے ہمراہ تھے۔
اس مقدمے کے اندراج کے بعد بی این پی کے سابق رکن اسمبلی اختر حسین لانگو اور شفیع مینگل کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر لیا تھا اور ان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے ان کا ریمانڈ حاصل کیا تھا۔
اختر حیسن لانگو، شفیع مینگل کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے اختر حسین لانگو اور شفیع مینگل کو مزید دو روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
ملزمان کو بدھ کے روز پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
ملزمان کے وکیل سید پرویز ظہور کا کہنا تھا کہ اس کیس کا نا ہی کوئی گواہ ہے نا ہی مدعی سامنے آیا ہے۔
پرویز ظہوز کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہاوس میں کوئی بھی اسلحہ لے کر نہیں جا سکتا اور پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ میں کوئی اسلحہ برآمد نہیں کیا جا سکا ہے۔
پراسیکیوٹر راجہ نوید کا کہنا تھا کہ اس بات کی تفتیش کرنی ہے کہ ملزمان پارلیمنٹ ہاوس جیسی حساس بلڈنگ میں کیوں گھسے۔
پراسیکیوٹر کی جانب سے ملزمان کے بیس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمان کو مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔