وزیراعظم اور آرمی چیف کا دورہ کوئٹہ، شہباز شریف کا بلوچستان کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

جمعرات کو اپنے دورہ کوئٹہ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبے کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے ساتھ وفاقی وزرا اور فوج کے سربراہ بھی کوئٹہ میں موجود ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی فوج کی جانب سے کیے جانے والا کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے پر بازیاب کروائے گئے تمام مسافر کوئٹہ پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی میتیں کوئٹہ پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔

خلاصہ

  • پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملوں میں ملوث شدت پسندوں کے افغانستان میں ٹیلی فون کالیں کرنے کے ثبوت ملے ہیں۔
  • وزیراعظم نے کوئٹہ دورے کے موقع پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا تو پاکستان کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
  • جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد آپریشن میں پاکستانی فوج نے تمام 33 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ 'سکیورٹی فورسز کا آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی دہشتگردوں نے 21 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
  • کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے بعد کوئٹہ ہسپتال میں 15 زخمیوں کا علاج جاری، رہائی پانے والے دیگر مغوی مسافر اپنے گھروں کو روانہ کر دیا گیا جبکہ کوئٹہ میں میتوں کو پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔
  • بلوچستان کے ضلع کچھی میں مسلح افراد نے سات مزدوروں کو اغوا کر لیا۔
  • برطانیہ میں 10 سالہ سارہ شریف کے قتل کیس میں والد، سوتیلی والدہ اور چچا کی سزاؤں میں کمی کی اپیل مسترد کر دی گئی۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔ تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے آپ بی بی سی اردو کے اس لنک پر کلک کیجئے۔

  2. جنڈولہ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ: فورسز کا دس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    فوج کے محکمہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا دعویٰ ہے کہ شدت پسندوں نے جنڈولہ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں جوابی کارروائی میں فورسز نے دس شدت پسندوں جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل تھے کو ہلاک کر دیا۔

    جنڈولہ ضلع جنوبی وزیرستان اور ضلع ٹانک کا درمیانی علاقہ ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے چیک پوسٹ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تاہم وہاں موجود سکیورٹی فورسز نے تمام دس شدت پسندوں اور خودکش حملہ آور کو نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کر دیا۔

  3. بلوچستان کے ضلع کچھی میں مسلح افراد نے سات مزدوروں کو اغوا کر لیا

    بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے شوران سے نامعلوم مسلح افراد نے سات مزدوروں کو اغوا کرلیا ہے۔

    مقامی لیویز فورس کے ایس ایچ او عبدالحئی نے بی بی سی کو بتایا کہ مغوی مزدور شوران کے مقام پر ایک ڈیم پر کام کررہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ شب وہاں نامعلوم امسلح افراد آئے اور وہاں ایک ڈمپر گاڑی کو نذرآتش کرنے کے علاوہ کھدائی کرنے والی مشین سمیت دو گاڑیوں پر فائرنگ کرکے ان کو نقصان پہنچایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اغوا کار فرار ہوتے ہوئے ڈیم پر کام کرنے والے سات مزدوروں کو اغوا کر کے لے گئے۔

    لیویز فورس کے سینِئر اہلکار نے بتایا کہ اغوا کیے لیے جانے والے مزدور مقامی ہیں اور ان کا تعلق شوران سے ہے۔

  4. وزیراعظم اور آرمی چیف کوئٹہ میں، شہباز شریف کا بلوچستان کے مسئلے پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان

    quetta, PM

    ،تصویر کا ذریعہPM House

    آج پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اپنے وزرا اور فوج کے سربراہ سمیت کوئٹہ میں موجود ہیں۔

    شہباز شریف نے کوئٹہ میں امن وامان کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبے کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو ترقی کا سفر رک جائے گا۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’ہمیں ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا تو پھر پاکستان کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘

    دورہ کوئٹہ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ہمراہ ہسپتال میں متاثرین کی عیادت کی۔ اس دورے کے دوران وزیراعظم کو امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

    تاہم انھوں نے بلوچستان میں موجود لیویز فورسز کو دستیاب ناکافی سہولیات پر بات کی ۔

    ان کا کہنا تھا ’پورے ملک کا اتنا بڑا صوبہ اور 33 ہزا لیویز جس کے پاس سازو سامان ہی نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم ایسے کسی دوسرے حادثے کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہم سب کو اس میں مل کر حصہ ڈالنا ہوگا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان میں اور سیف سٹی بننے چاہیے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ افواج کے ساتھ مل کر بیٹھیں گے اور بات کریں گے کہ کیا کیا چیلنجز ہیں، میری نظر میں ہمیں مکمل اتفاق ہونا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے اس کا فقدان ہے، چھ مہینے پہلے جب کے پی میں زیادہ واقعات ہوئے تو ہماری کابینہ نے ایک پلان دیا تھا لیکن اس کی بھرپور مخالفت ہوئی۔‘

    ’جب تک کے پی اور بلوچستان میں مکمل طور پر دہشت گردی ختم نہیں ہو گی پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی جب تک باقی صوبوں کے ہم پلہ نہیں ہوگی، میں بلاخوف تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستان کی ترقی نہیں ہوگی، پاکستان کی خوشحالی نہیں ہوگی۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دوبارہ اس ناسور نے سر کیوں اٹھایا؟

    ان کا کہنا تھا کہ ’اس (دہشت گردی) کا سر کچلا جا چکا تھا، یہ وہ سوال ہے جو کئی بار اٹھا ہے، کسی پوائنٹ اسکورنگ میں جائے بغیر، اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں کہ جو طالبان سے اپنا دل کا رشتہ جوڑتے اور بتانے میں تھکتے نہیں، انھوں نے ہزاروں طالبان کو دوبارہ چھوڑا۔‘

    وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر سانحہ جعفر ایکسپریس کے بعد کی گئی تنقید پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’بدقسمتی سے اس واقعہ میں جس طرح کی گفتگو کی گئی وہ زبان پر نہیں لائی جاسکتی۔‘

    وزیراعظم نے انڈیا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشرقی دشمن زہر اگل رہا ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈکا کریڈٹ آصف علی زرداری ، محمد نواز شریف سمیت تمام قیادت کو جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کےلیے خیبرپختونخوا کو 600 ارب روپے دیے گئے، دیکھنا ہوگا کہ خطیر رقم کہاں خرچ ہوئی؟

  5. امریکی ٹیم ماسکو میں مذاکرات کے لیے موجود، جبکہ روس نے اہم قصبے کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا

    putin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ سیز فائر پر بات کرنے کے لیے امریکی حکام ماسکو میں موجود ہیں۔

    امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف جمعرات کو ماسکو پہنچے تاکہ وہ روس کو 30 روزہ سیز فائر کے لیے آمادہ کر سکیں جس کے لیے یوکرین نے رواں ہفتے امریکہ کو رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

    کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ مذاکرات پرسکون انداز میں ہو رہے ہیں لیکن انھوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ یوکرین کی فوج کے لیے عارضی مہلت اور اس کے دوبارہ منظم ہونے کے ایک موقع سے زیادہ اور کچھ نہیں ہو گا۔

    امریکی حکام کا ماسکو کا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روسی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کرسک کے علاقے کے ایک اہم قصبے سڈزا پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

    یہ وہی قصبہ ہے جس پر یوکرین نے گذشتہ سال اچانک حملہ کیا تھا۔

  6. پی آئی اے کی پرواز کی لینڈنگ پر ایک پہیہ کم ملنے کا معاملہ

    پی آئی اے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پی آئی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات کراچی سے روانہ ہونے والی پرواز پی کے 306 پر لاہور لینڈنگ کے بعد ایک پہیہ کم ملا تھا اور اس معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    پی آئی اے کی جانب سے جاری میڈیا بیان میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی مشاہدے کے مطابق کراچی رن وے پر ممکنہ فاڈ یا کسی اور بیرونی عمل سے پہیہ متاثر ہوا تاہم جہاز نے لاہور بحفاظت اور انتہائی ہموار لینڈنگ کی۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فضائی ضوابط کے مطابق پی ائی اے فلائیٹ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ اور سول ایوایشن نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی تھیں حتمی رپورٹ آنے پر اصل وجہ سامنے آئے گی۔

    پی آئی اے انتظامیہ کے بیان میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ جہاز کے ڈیزائن میں اس صورتحال میں حادثے سے بچنے کے لیے گنجائش رکھی جاتی ہے۔

  7. جعفر ایکسپریس حملہ: شدت پسندوں کے افغانستان میں ٹیلی فون کالیں کرنے کے ثبوت ملے ہیں، دفتر خارجہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملوں میں ملوث شدت پسندوں کے افغانستان میں ٹیلی فون کالیں کرنے کے ثبوت ملے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے ابھی اس واقعہ کے حوالے سے مذید شواہد اکھٹے کیے جارہے ہیں، ابھی حکومت کا فوکس ریسکیو آپریشن مکمل کرنے پر ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے د وران پاکستان میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات سے متعلق تفصیلات افغانستان کے ساتھ شیئر کرتے رہے ہیں۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ماضی میں پاکستان میں جب بھی کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا تھا تو دفتر خارجہ اور پاکستان کے سکیورٹی ادارے انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ پر الزام عائد کرتے رہے ہیں جبکہ جعفر ایکسپریس حملے کے واقعہ کے حوالے سے بی ایل اے اور افغانستان پر عائد کیے جارہے ہیں تو کیا پہ پالیسی میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟

    اس پر ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کو سپانسر کرتا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان مخالف قوتین علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی اور دوست ممالک کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر تعاون موجود ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے کیونکہ دونوں ملکوں کی ثقافت اور رسم و رواج تقریباً ایک جیسے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان طورخم سرحد کو کھلا رکھنا چاہتا ہے اور یہ پروپیگنڈا ہے کہ پاکستان طورخم سرحد کو کھلنے نہیں دے رہا جبکہ افغانستان کی جانب سے پاکستانی سرحد کے اندر چوکی بنانے کی کوشیش کی جا رہی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت افغان حکام کو اجازت نہیں دے گی کہ وہ کوئی بھی تعمیرات کریں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان پر ہماری بنیادی ترجیح دوستانہ و قریبی تعلقات کا فروغ ہے۔

  8. یہ نام نہاد بلوچ دہشت گرد آزادی اور اپنے حقوق نہیں چاہتے ہیں: بلاول بھٹو

    bilawal

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس وقت ہم ماضی سے زیادہ خطرناک دور سے گزر رہے ہیں اور ہم میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے ہماری کمزوریوں کا فائدہ پاکستان کے دشمن، پاکستان کے عوام کے دشمن اور بین الاقوامی طاقتیں اٹھا رہی ہیں۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ نہ وہ مذہبی دہشت گرد اسلام چاہتا ہے نہ یہ نام نہاد بلوچ دہشت گرد آزادی یا اپنے حقوق چاہتے ہیں، وہ خون خرابہ کرتے ہیں اور پاکستان کی ترقی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔‘

    بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ان کے پیچھے بین الاقوامی قوتیں کھڑی ہیں اور انھیں مالی اور لاجیسٹک مدد فراہم کرتے، ان کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ چاہے مذہبی دہشت گردی ہو یا نام نہاد علیحدگی پسندوں کی دہشت گردی ہو یا سیاسی تشدد کا طریقہ کار ہو اس کی پیپلز پارٹی مذمت کرتی ہے اور اس سے ہم نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔

    خیال رہے کہ جمعرات کی سہ پہر پاکستان کی قومی اسمبلی میں جعفر ایکسپریس پر حملے اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے آپریشن پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اظہار خیال کیا۔ تاہم اس دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابا بھی کیا گیا۔

    قومی اسمبلی میں جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کرنے پر مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

    قرارداد پر اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان کے دستخط موجود ہیں۔

    پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس حملے کے نتیجے میں زیادہ اموات ہو سکتی تھیں۔

    انھوں نے فوج کی جانب سے یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے آپریشن میں تمام شدت پسندوں کی ہلاکت کو اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

    پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ صوبائیت کی بنیاد پر مسافروں کو الگ گیا وہ افسوسناک ہے تاہم انھوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جعفر ایکسپریس کے واقعے پر دیے جانے والے ردعمل پر تنقید کی۔

    انھوں نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف بیان دیتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے سے انکاری ہے۔

  9. جعفر ایکسپریس حملہ: میتوں کی کوئٹہ آمد کا سلسلہ شروع

    ambulances

    جعفر ایکسپریس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی میتوں کی کوئٹہ آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سات میتوں کو جمعرات کو ایمولینسز کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا گیا۔

    سات میں سے تین میتیں ریلوے ملآزمین کی ہیں جنھیں ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا جبکہ چار میتیں پنجاب سے تعلق رکھنے والے مسافروں کی ہیں۔

    یہ بھی بتایا گیا سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں وہاں موجود تمام 33 شدت پسندوں کو مار دیا گیا۔

    خیال رہے کہ منگل کی دوپہر بلوچستان کے علاقے بولان پاس کے قریب ’جعفر ایکسپریس‘ پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے لگ بھگ 36 گھنٹوں بعد پاکستانی فوج کی جانب سے بدھ کو رات گئے یرغمالی مسافروں کو بازیاب کروانے کی غرض سے کیے گئے آپریشن کے مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا تھا۔

  10. یرغمالیوں اور خودکُش حملہ آوروں کی موجودگی میں پیچیدہ فوجی آپریشنز کیسے اور کن بنیادوں پر کیے جاتے ہیں؟

    پاکستانی فوج نے بلوچستان کے علاقے بولان پاس کے قریب ’جعفر ایکسپریس‘ پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے لگ بھگ 36 گھنٹوں بعد یرغمالی مسافروں کو بازیاب کروانے کی غرض سے کیے گئے آپریشن کے مکمل ہونے کا اعلان کیا ہے۔

  11. جعفر ایکسپریس کے مسافروں کی بازیابی کے بعد کوئٹہ آمد

    جعفر ایکسپریس پر حملے اور اُس کے بعد پاکستانی فوج کی جانب سے کیے جانے والا کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے پر رہا ہونے والے مسافر کوئٹہ پہنچ چکے ہیں۔ مسافروں کے پیاروں نے خوشی اور آنسوؤں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ کچھ مسافر زخمی ہونے کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جبکہ دیگر اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے ہیں۔ ویڈیو: سعد سہیل اور خیر محمد

  12. جعفر ایکسپریس حملہ: ’شدت پسندوں نے بلوچستان والوں کو واپس جانے جبکہ دیگر کو ٹرین میں جانے کا کہا‘

    Train Attack
    ،تصویر کا کیپشنجعفر ایکسپرس کے مسافر وسیم مشتاق

    جعفر ایکسپریس حملے میں بچ جانے والے 33 سالہ مسافر وسیم مشتاق جو کوئٹہ سے لاہور جا رہے تھے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حملے کے وقت اور اس کے بعد کی صورتحال کے بارے میں بتایا کہ ’کوئٹہ سے ٹرین نے سفر صبح نو بج دس منٹ پر شروع کیا تھا، سفر اچھا گزر رہا تھا اچانک مجھے لگا کہ ٹرین کسی مقام پر رک گئی ہے۔‘

    وہ بتاتے ہیں کہ ’پھر یوں لگا کہ کہیں دور سے چھوٹے چھوٹے پٹاخوں کی آوازیں آ رہی ہیں مگر جب ٹرین سے باہر جھانکا تو پتا چلا کہ سرنگ کی دوسری جانب دھماکے ہو رہے تھے۔ ہمارے ٹرین کیبن کے ساتھ ہی سکیورٹی فورسز کا کیبن تھا۔ انھوں نے ہم سے کہا کہ سب لوگ نیچے بیٹھ جائیں حملہ ہو گیا ہے اور آپ سب اپنے اپنے کیبن کی کنڈیاں لگا لیں۔‘

    وسیم مشتاق نے بتایا کہ اس کے فوراً بعد شدت پسندوں نے بہت زیادہ دھماکے شروع کر دیے۔ کچھ مسلح افراد ٹرین کے اطراف میں آ کر کچھ لگاتے اور دھماکے سے ٹرین ایک دم جھٹکے سے اچھلتی۔ پھر انھوں نے فائرنگ شروع کر دی اور تقریبا ایک گھنٹے تک فائرنگ کرتے رہے۔ اس کے بعد سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ اب شدت پسند ٹرین کے اندر داخل ہو رہے ہیں لہذا سب کیبنوں کی کنڈی لگا لیں اور خدا سے دعا کریں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’اس کے بعد شدت پسند ٹرین میں داخل ہوئے اور کہا ہمارا آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہم کسی کو نہیں ماریں گے سب باہر آجائیں۔‘

    وسیم مشتاق نے بتایا کہ جب وہ کیبن سے باہر آئے تو انھیں ٹرین سے اتر کر میدان میں جانے کا کہا، جہاں وہ لوگوں کے شناختی کارڈ دیکھ کر انھیں لسانی بنیادوں الگ الگ ٹولیوں میں بٹھا رہے تھے۔

    ’میدان میں بہت سارے لوگ بٹھائے ہوئے تھے۔ وہ شناختی کارڈ دیکھتے اور جو لوگ سندھ، کے پی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تھے ان کو ایک طرف کرتے اور جو پنجاب، فوج یا گورنمنٹ سروس کے لوگ تھے ان کو دوسری طرف بٹھایا۔‘

    وہ بتاتے ہیں کہ ’تمام شدت پسندوں کے پاس واکی ٹاکی تھے اور وہ کپتان کے ماتحت کام کر رہے تھے اور وہ کپتان کسی سے ہدایات لے رہا تھا۔ ان مسلح افراد کے پاس بہت جدید ہتھیار تھے۔‘

    وسیم مشتاق نے بتایا کہ شدت پسندوں کو اگرچہ اردو آتی تھی لیکن وہ بلوچی میں بات کر رہے تھے اور اس کارروائی پر ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ سارا دن مسافروں کو میدان میں بٹھائے رکھنے کے بعد شام کو ان میں سے چند مسلح افراد وہاں سے چلے گئے۔

    وسیم کے مطابق شام پانچ بجے کے قریب انھوں نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسافروں سے کہا کہ وہ وہاں سے واپس چلے جائیں جبکہ دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والوں کو ٹرین میں واپس جانے کی ہدایت کی۔

    ’کچھ مسافروں کو ٹرین میں لے جایا گیا جبکہ دیگر کے ہاتھ باندھ کر انھیں باہر ہی رکھا گیا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ شدت پسند ساری رات ٹرین پر فائرنگ کرتے رہے اور وہ کسی سے ہدایات بھی لے رہے تھے کہ آگے کیا کرنا ہے اور جب انھیں کہا جاتا کہ انتظار کریں تو وہ غصے میں ٹرین پر زیادہ فائرنگ کرتے۔

    ’ہمیں ٹرین میں رکھا ہوا تھا، جیسے ہی فائرنگ ہوتی ہم سیٹوں کے نیچے چھپ جاتے۔ انھوں نے ٹرین کا کوئی شیشہ نہیں چھوڑا۔‘

    وسیم نے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے تین ہیلی کاپٹر حملے کے ایک گھنٹے بعد ہی جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے لیکن جب انھوں نے میدان میں لوگوں کو دیکھا تو وہ کچھ کر نہیں پائے۔ سکیورٹی فورسز نے پہلے دور سے چند مارٹر گولے داغے لیکن بعدازاں مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر مارٹر گولے داغنا بند کر دیے۔

    ’انجن کے نیچے دھماکہ ہوا جس سے فیول ٹینک پھٹ گیا‘

    جعفر ایکسپریس کے ڈرائیور امجد یاسین نے اس واقعے کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ ’جب ہم وہاں پہنچے ہیں تو ہمارے انجن کے نیچے دھماکہ ہوا جس سے تیل والی ٹینکی پھٹ گئی، اور پٹری ٹوٹنے کی وجہ سے پچھلی چار بوگیاں ڈی ریل ہو گئیں۔

    میں نے فوراً ایمرجنسی بریک لگائی اور ٹرین رک گئی۔ اتنے میں بی ایل اے کے شدت پسند آئے اور انھوں نے فائرنگ اور راکٹ لانچر وغیرہ فائر کیے۔

    ہم اپنے جان بچانے کے لیے نیچے بیٹھ گئے۔ مجھے شیشے سے اندر آنے والی گولی کندھے کے قریب سے چھو کر گزر گئی جس سے میں زخمی ہوا۔ اس کے بعد سیکورٹی فورسز اور ایس ایس جی کمانڈوز نے موقع پر وہاں پہنچ کر کامیاب آپریشن کیا اور ہماری جان بچائی۔‘

  13. جعفر ایکسپریس ’مرنا تو ویسے بھی تھا تو سوچا بھاگتے ہیں‘

    جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد، جن لوگوں کو یرغمال بنایا گیا ان میں سے کچھ جان ہتھیلی پر رکھ کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ ایسے ہی دو لوگوں سے بی بی سی کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ نے بات کی ہے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  14. جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ: کلیئرنس آپریشن مکمل، کوئٹہ ہسپتال میں 15 زخمیوں کا علاج جاری، رہائی پانے والے دیگر مغوی مسافر اپنے گھروں کو روانہ, خیر محمد، بی بی سی اُردو، کوئٹہ

    تصویر
    ،تصویر کا کیپشنایک زخمی مسافر اپنے اہلخانہ سے بات کر رہا ہے

    حکام کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے اور اُس کے بعد پاکستانی فوج کی جانب سے کیے جانے والا کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے پر بازیاب کروائے گئے لگ بھگ تمام مسافر کوئٹہ پہنچ چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمی ہونے والے 15 مسافر فی الحال کوئٹہ ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہیں جبکہ کوئٹہ پہنچنے والے دیگر مسافر اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے ہیں۔

    فی الحال اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی میتیں کوئٹہ نہیں پہنچائی جا سکی ہیں۔

    گذشتہ رات پاکستانی فوج کے ترجمان نے بتایا تھا کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیا جانے والا کلئیرنس آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور تمام دہشت گردوں کو مار دیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ کلئیرنس آپریشن مکمل ہو چکا ہے تاہم ابھی علاقے میں پروٹوکول کے مطابق جانچ پڑتال کی جا رہی ہے اور کچھ مسافر جو بھاگ کر دائیں بائیں چلے گئے تھے انھیں اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ اس آپریشن کے دوران کسی مسافر کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ فورسز کی جانب سے آپریشن شروع ہونے سے پہلے ’دہشتگردوں نے 21 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔‘

    تصویر
    ،تصویر کا کیپشنرہائی پانے والے مسافر اپنے گھروں میں روانگی سے قبل

    فوج کے ترجمان کے مطابق اس واقعے میں ایف سی کے چار جوان بھی ہلاک ہوئے ہیں جنھیں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی کے پاس شدت پسندوں نے حملہ کر کے ہلاک کیا تھا۔ تاہم فوج کے ترجمان نے دیگر سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

    فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ایس ایس جی کے کمانڈوز، ایف سی اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت پاکستانی فضائیہ نے بھی اس آپریشن میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے آپریشن کے دوران خودکش حملہ آوروں کو مارا گیا۔

  15. جعفر ایکسپریس حملہ: ’وزیرِ اعظم کل کوئٹہ جائیں گے اور اگلی حکمتِ عملی کا اعلان کریں گے‘، عطا تارڑ

    پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد وزیرِ اعظم کل کوئٹہ بھی جائیں گے اور وہاں پر وہ حکمتِ عملی کا اعلان بھی کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ بم ڈسپوزل سکواڈ موقع پر موجود ہے اور اردگرد کے علاقے کو کلیئر کیا جا رہا ہے اور فوج کی جانب سے انتہائی حساس صورتحال میں پیشہ وارانہ مہارت سے کام لیے گیا ہے۔

    انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آپریشن شروع ہونے سے پہلے 21 مسافروں کو ہلاک کیا جا چکا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کل 440 مسافر ٹرین میں سوار تھے جن میں سے بہت ساروں کو مغوی رکھا گیا اور مغوی رکھنے والوں کا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ تین کلسٹرز بنے ہوئے نظر آئیں گے جن میں خودکش جیکٹ پہنے شدت پسندوں نے انھیں یرغمال بنا کر رکھا ہوا تھا، کیونکہ یہ خطرہ تھا کہ اگر یہ خود کو دھماکے سے اڑا دیں گے، تو کئی سو جانوں کا نقصان ہو گا، اس لیے جب پاکستانی فوج کے سنائپرز نے انھیں ہلاک کیا تو بہت سارے مغوی لوگ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔‘

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کے ’یہ آپریشن 36 گھنٹوں طویل اس لیے رہا کیونکہ مغویوں کی صورتحال ہو تو اس میں سے بغیر کسی جانی نقصان کے نکلنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔

    ’یہ ہماری فورسز کی مہارت ہے کہ انھوں نے آپریشن کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہونے دیا۔‘

  16. کلیئرنس آپریشن کے خاتمے پر بازیاب ہونے والے مزید 135 مسافر مچھ ریلوے سٹیشن پہنچ گئے

    mach

    جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد پاکستانی فوج کے کلیئرنس آپریشن کے خاتمے پر بازیاب ہونے والے مزید 135 مسافر ایک ریلیف ٹرین میں مچھ سٹیشن پہنچ گئے ہیں۔

    کوئٹہ ریلویز کنٹرول کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ ٹرین ساڑھے دس بجے کے قریب مچھ پہنچی ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ بازیاب ہونے والے ان مسافروں کے لیے محکمۂ ریلویز نے کوئٹہ سے ایک ٹرین بھی بھیجی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ کے لوگ ان مسافروں کو ٹرین میں کوئٹہ لائیں گے یا گاڑیوں کے ذریعےان کو کوئٹہ پہنچایا جائے گا۔ مچھ میں ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس ٹرین میں سات سے زیادہ زخمی افراد بھی موجود تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’مچھ میں ان کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد ایمبولیسز کے ذریعے مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا جارہا ہے۔‘

    اس سے قبل 11 مسافروں کو گاڑیوں کے ذریعے مچھ سے کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا جن کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔

    کوئٹہ میں اسسٹنٹ کمشنر صدر کیپٹن ریٹائرڈ حمزہ کے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان مسافروں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ آج علی الصبح موقع پاتے ہی مسلح افراد کی تحویل سے فرار ہو گئے تھے تاہم گذشتہ شب جو مسافر کوئٹہ پہنچے تھے انھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو یہ بتایا تھا کہ مسلح افراد نے بعض لوگوں کو الگ کر کے ان کو وہاں سے جانے کا کہا تھا۔

  17. جعفر ایکسپریس پر حملہ: آئی ایس پی آر کا تمام 33 دہشتگردوں کو مارنے کا دعویٰ، ’آپریشن شروع ہونے سے پہلے دہشتگردوں نے 21 افراد کو ہلاک کیا‘

    پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیا جانے والا کلئیرنس آپریشن مکمل ہو گیا ہے اور تمام دہشت گردوں کو مار دیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ اس آپریشن کے دوران کسی مسافر کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم انھوں نے تصدیق کی کہ آپریشن شروع ہونے سے پہلے دہشتگردوں نے 21 افراد کو ہلاک کیا۔

    فوج کے ترجمان نے بتایا کہ بہت احتیاط سے یہ آپریشن کیا گیا تاکہ کسی بھی مسافر کو نقصان نہ ہو۔

    ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ ایف سی کے چار جوان بھی ہلاک ہوئے جنھیں پکٹ کے پاس شدت پسندوں نے حملہ کر کے مارا تاہم انھوں نے دیگر سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان کے حوالے سے کوئی تعداد نہیں بتائی۔

    انھوں نے بتایا کہ کلئیرنس آپریشن مکمل ہو چکا ہے تاہم ابھی علاقے میں پروٹوکول کے مطابق جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کچھ مسافر جو بھاگ کر دائیں بائیں چلے گئے تھے انھیں اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے معصوم مسافروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔

    فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ایس ایس جی کے کمانڈوز، ایف سی اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت پاکستانی فضائیہ نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے آپریشن کے دوران خودکش حملہ آوروں کو مارا گیا۔

  18. جعفر ایکسپریس کے ڈرائیور امجد یاسین کا گھر والوں سے رابطہ، ’میں زندہ ہوں، جلد گھر آ جاؤں گا‘, ملک مدثر، بی بی سی نیوز، کوئٹہ

    Amjad Yasin

    ،تصویر کا ذریعہAamir Yasin

    ،تصویر کا کیپشنامجد یاسین کے بھائی عامر یاسین نے بی بی سی کو اس رابطے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے امجد یاسین کی تازہ تصویر بھی بی بی سی سے شیئر کی ہے

    جعفر ایکسپریس ٹرین کے ڈرائیور امجد یاسین نے اپنے گھر والوں سے فون پر رابطہ کر کے بتایا ہے کہ وہ محفوظ ہیں اور جلد گھر آ جائیں گے۔

    امجد یاسین کے بھائی عامر یاسین نے بی بی سی کو اس رابطے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے امجد یاسین کی تازہ تصویر بھی بی بی سی سے شیئر کی ہے۔

  19. ’فجر کی اذان کے وقت ایف سی کی فائرنگ ہوئی تو ہم شدت پسندوں سے بچ کر بھاگ نکلے‘, عمردرازننگیانہ، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Mehboob Hussain
    ،تصویر کا کیپشنمحبوب حسین کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں سے ہے۔ وہ کوئٹہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں ہیئرڈریسر کا کام کرتے ہیں

    جعفر ایکسپریس ٹرین حملے کے بعد شدت پسندوں سے فرار ہو کر مزید نو افراد کوئٹہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جان ہتھیلی پر رکھ رکھ کر وہاں سے بھاگے۔

    محبوب حسین کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں سے ہے۔ وہ کوئٹہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں ہیئرڈریسر کا کام کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محبوب حسین نے بتایا کہ میں کسی کام سے گھر واپس جا رہا تھا کہ اس ٹرین کا مسافر بنا جو حملے کی زد میں آئی۔

    ان کے مطابق دھماکے کے بعد ایک گھنٹے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور پھر سب مسافروں کو مسلح افراد نے ٹرین سے باہر نکال کر علیحدہ علیحدہ ٹولیوں میں تقسیم کر دیا۔ محبوب حسین کے مطابق یہ تقسیم شناخت کی بنیاد پر کی گئی۔ ایک طرف سندھی، پنجابی، بلوچ اور پشتون تھے جبکہ فوج اور ایف سی کے ملازمین کو علیحدہ ٹولی میں رکھا گیا۔

    ان کے مطابق ’ہم لوگوں کی سرائیکی ٹولی میں 30 سے 40 لوگ تھے۔‘

    محبوب حسین کے مطابق رات بھر فائرنگ ہوتی رہی۔ ان کے مطابق ان کے قریب ایک شخںص کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ اپنی پانچ بیٹیوں کا واسطہ دے رہے تھے۔ ان کے مطابق جب کسی کو آپ کی آنکھوں کے سامنے مار دیا جائے تو پھر کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کریں۔

    محبوب حسین کے مطابق صبح اذان کے وقت ہم لوگ اس وقت بھاگنے میں کامیاب ہو گئے جب ایف سی نے وہاں فائرنگ کی۔ ان کے مطابق جب ہم وہاں سے بھاگ رہے تھے تو ہماری پیچھے فائرنگ ہوتی رہی۔ ان کے مطابق دو ڈھائی کلومیٹر کے بعد ہم بھاگ کر محفوظ جگہ تک پنچنے میں کامیاب ہوئے جہاں ہمیں فوج اور ایف سی نے پناہ دی۔

    محبوب حسین کے مطابق کھانے کو وہاں کچھ نہیں تھا۔ ایک کھجور کو پانچ پانچ لوگوں نے کھایا۔

    Quetta
    ،تصویر کا کیپشناللہ دتہ

    ٹرین حملے کی جگہ سے بھاگ کر کوئٹہ پہنچنے والوں میں فوج کے سابق حوالدار اللہ دتہ بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سنیاروں سے سکریپ خریدنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ اللہ دتہ کا تعلق لاہور کے علاقے شاہدرہ سے ہے۔

    وہ یہاں کاروباری سلسلے میں آٹھ تاریخ کو آئے تھے۔

    انھوں نے بھی تصدیق کی کہ وہ صبح نماز کے وقت یہ فیصلہ کیا کہ بھاگتے ہیں دیکھی جائے گی مر گئے تو مر گئے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے سامنے ان کے پھپھی زاد بھائی کو ہلاک کر دیا گیا۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی بچیوں کا حوالہ دے رہے تھے کہ نہ مارو مگر ان کی جان بخشی نہ ہو سکی۔

    اللہ دتہ نے بتایا کہ انھوں نے گھر والوں کو بھی اس کی اطلاع کر دی۔ اللہ دتہ نے کہا کہ شدت پسندوں نے جیکٹ پہنی ہوئی تھیں اور ان کے پاس اسلحہ تھا۔

  20. ’قیامت کا منظر تھا، میں پسینہ پسینہ ہو گئی تھی، مسلح افراد سے کہا بچو ایسا نہ کرو‘، اہلیہ نور محمد, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    Quetta
    ،تصویر کا کیپشنٹرین حملے میں بچ کر گھر تک پہنچے والے میاں بیوی نے بی بی سی کو کیا بتایا؟

    جعفر ایکسپریس ٹرین حملے سے بچ کر گھر پہنچنے والے نور محمد اور ان کی اہلیہ اس وقت صدقات اور خیرات کی تقسیم میں مصروف ہیں۔

    بی بی سی نے جب ان سے اس حملے سے متعلق تفصیلات پوچھیں تو انھوں نے اپنی روداد کچھ اس طرح سنائی۔

    نور محمد کی اہلیہ نے بتایا کہ جب یہ سب ہوا تو، دل گھبرا گیا تھا۔ پسینہ پسینہ ہو گئے تھے۔ دو بندے ادھر ہی بے ہوش ہو گئے پھر ان پر پانی ڈالا۔

    نور محمد کا کہنا ہے کہ جب ایک گھنٹے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ رک گیا تو پھر مسلح افراد زور سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ نکلو ورنہ گولی مار دیں گے۔

    ان کے مطابق مجھے جب وہ باہر لے گئے تو میں نے کہا میری اہلیہ بھی پیچھے گاڑی میں ہی ہیں اور تھوڑی دیر بعد وہ میری اہلیہ کو بھی لے آئے اور ہمیں کہا کہ سیدھے چلے جاؤ پیچھے نہیں دیکھنا۔

    نور محمد کی اہلیہ نے بتایا کہ انھوں نے مسلح افراد سے کہا کہ ’بچے ایسے نہ کرو۔‘ نور محمد نے کہا کہ ’وہ (شدت پسند) پڑھے لکھے لگ رہے تھے۔‘

    نور محمد کی اہلیہ کے مطابق ہ ایک گھنٹہ تک چلتی رہیں اور تھک ہار کر ایک جگہ پہنچیں جہاں فوج تھی۔ ’انھوں نے مجھے کہا کہ اماں آپ ہمارے ساتھ اندر آ جائیں، ہم آپ کو بحفاظت گھر پہنچائیں گے، انھوں نے پھر ہمیں مچھ تک پہنچایا اور پھر ہم کوئٹہ اپنے بچوں کے پاس پہنچ گئے جو ہمارا انتطار کر رہے تھے۔‘

    نور محمد کے مطابق ٹرین سے اتر کر ہم چلتے رہے اور اہلیہ کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے، ان کو بڑی مشکل سے لایا ہوں۔‘ ان کے مطابق ’ہم نے سات بجے تک پنیر پہنچ کر وہاں کچھ آرام کیا۔‘

    انھوں نے سارے واقعے کو بتا کر کہا کہ ’اللہ پاک کا کرم ہوا، اس نے ہمیں بچایا۔‘