لائیو, امریکہ کا آبنائے ہرمز میں حملے روکنے اور راستہ کھلا رکھنے کے لیے ایران کو الٹی میٹم، محمد بن سلمان کا صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے تین امریکی عہدے داروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ سنیچر تک عوامی سطح پر یہ اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلا ہے اور وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کر دے گا۔ دوسری جانب سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے سنیچر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

لائیو کوریج

  1. طوفان ’باوی‘ کی تباہ کاریاں، فلپائن میں لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 15 افراد ہلاک

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گزشتہ کئی دہائیوں کے طاقتور ترین سمندری طوفانوں میں سے ایک طوفان باوی کے باعث جنوبی فلپائن میں لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے بھی اس طاقتور طوفان کی زد میں آنے کا خطرہ ہے۔

    تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کے علاقے پر بننے والا یہ طوفان بحرالکاہل سے ہوتا ہوا تائیوان کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان سے قبل تائیوان کے شمالی اور مشرقی علاقوں، جاپان کے دور دراز جزیروں پر موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے جس کے بعد سنیچر کے روز یعنی آج اس کے جنوب مشرقی چین کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کی توقع ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طوفان کے پیشِ نظر خطے بھر میں درجنوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ ممکنہ ہنگامی صورتحال کے باعث شہریوں نے ضروری اشیائے خور و نوش اور دیگر سامان ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی سپر مارکیٹس خالی ہو گئی ہیں۔

    فلپائن کے جزیرے منڈاناؤ میں رات کے دوران لینڈ سلائیڈنگ سے کئی خاندان ملبے تلے دب گئے، جبکہ امدادی ٹیمیں اب بھی لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر اور اتوار کے دوران بھی ملک کے مختلف علاقوں میں درمیانی سے شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مزید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  2. ایران کا مفاہمتی یادداشت پر قائم رہنے کا دعویٰ، امریکہ پر اس کی خلاف ورزی کا الزام

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب بھی اس یادداشت پر قائم ہے۔

    سنیچر کو ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرِ خزانہ مفاہمتی یادداشت کی شق نو کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ خلاف ورزی امریکہ کی جانب سے دیگر خلاف ورزیوں اور غلطیوں کا تسلسل ہے۔

    خیال رہے کہ گذشہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر نو کے تحت امریکہ ایران کی تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور متعلقہ خدمات، جیسے بینکاری لین دین اور نقل و حمل، کی برآمد کے لیے چھوٹ جاری کرے گا اور کوئی نئی پابندی عائد نہیں کرے گا۔

    لیکن چند روز قبل ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے کے بعد امریکی وزیرِ خزانہ نے ایران کی بعض کرنسی ایکسچینجز اور کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

  3. امریکہ کا آبنائے ہرمز میں حملے روکنے اور راستہ کھلا رکھنے کے لیے ایران کو الٹی میٹم: امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے تین امریکی عہدے داروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ سنیچر تک عوامی سطح پر یہ اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلا ہے اور وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کر دے گا۔

    عہدیداروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے یہ پیغام براہِ راست تہران تک پہنچایا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں پر حالیہ حملے اُس مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں جس پر تین ہفتے قبل دونوں فریقین نے دستخط کیے تھے، اور اس بحران نے اس نازک معاہدے کو ٹوٹنے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سنیچر کے روز مسقط میں عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی سے ملاقات کریں گے تاکہ آبنائے ہرمز کے بحران اور سمندری تحفظ پر بات چیت کی جا سکے۔

    امریکی عہدیداروں کو توقع ہے کہ ملاقات کے بعد ایران حملے روکنے اور جہاز رانی کے راستے کھلے رکھنے کے حوالے سے عوامی بیان جاری کرے گا۔

    ایک امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے ایسا اقدام کرنے سے انکار کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

    اس کے برعکس ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آمدورفت کو معمول پر لانے کی مخصوص ذمہ داری قبول کر لی ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے عمان کے ساتھ تعاون کرے گا، تاہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

  4. محمد بن سلمان اور ٹرمپ کے درمیان علاقائی صورتحال پر ٹیلیفونک رابطہ

    سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے سنیچر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال، بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کا جائزہ لیا۔

    اس موقع پر بحری جہاز رانی کے تحفظ، سمندری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

  5. مصر اور قطر کا فریقین سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ

    مصر اور قطر کے وزرائے خارجہ نے جمعے کے روز امریکہ اور ایران سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مصری وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور قطری وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران ’تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دیں اور مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔‘

    مصری وزیر خارجہ نے اپنے کویتی، بحرینی اور اردنی ہم منصبوں کے ساتھ بھی خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

    قطری وزارتِ خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ شیخ محمد نے ’تمام فریقوں کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر کاربند رہنے کی ضرورت‘ پر زور دیا اور امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کی طے شدہ شقوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا، جن میں ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا‘ بھی شامل ہے تاکہ خطے میں ’سلامتی اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔‘

    اس سے قبل خبر رساں اداروں نے بتایا تھا کہ قطری مذاکرات کاروں کا ایک وفد تناؤ میں کمی کے لیے ایران پہنچ چکا ہے۔

  6. تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو

    شہباز شریف، مسعود پزشکیان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے ثالث پاکستان نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاکستان کے وزیر اعظم آفس کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعے کی شب ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ٹیلیفوک گفتگو کی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دورانِ گفتگو وزیراعظم نے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔

    ’وزیراعظم (شہباز شریف) نے ایران اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل و بردباری کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو گزشتہ چند ماہ کے دوران امن کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔‘

    شہباز شریف نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے باہمی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خطے اور اس سے باہر باہمی افہام و تفہیم، احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک پائیدار بنیاد فراہم کرتی ہے۔‘

    پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ’علاقائی امن و استحکام کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے مخلصانہ اور دیانتدارانہ کردار ادا کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔‘

    وزیر اعظم آفس کے مطابق ’دونوں رہنماؤں نے گذشتہ ماہ صدر پزشکیان کے دورۂ اسلام آباد کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ان پر تیزی سے عملدرآمد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔‘

  7. ایران نے ہم سے ’مذاکرات‘ جاری رکھنے کی درخواست کی ہے جسے ہم نے قبول کر لیا، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنامریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے واضح طور پر ایران کو بتادیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ترمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ’مذاکرات‘ جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔

    اپنے سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران نے ہم سے ’مذاکرات‘ جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ہم نے اسے جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘

    تاہم امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے واضح طور پر ایران کو بتادیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے خبر دی تھی کہ قطری مذاکرات کار ایران میں موجود ہیں جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

    روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کوششوں کا ایران اور امریکہ کے درمیان مقصد کشیدگی میں کمی اور وسیع تر مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

  8. ایرانی میڈیا نے علی خامنہ ای کی قبر کی تصاویر جاری کر دی

    علی خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہx/FarsNews_Agency

    ایرانی میڈیا نے ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی قبر کی تصاویر اور ویڈیوز شائع کر دی ہے۔ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار دیگر افراد کی تدفین گذشتہ روز مشہد میں حرم امام رضا میں کی گئی تھی۔

    علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی اُس وقت مارے گئے تھے جب اُن کی رہائش گاہ اور دفتر پر مشتمل کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ان کے ساتھ ان کے خاندان کے چار دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے تھے جن میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، نواسی زہرا محمدی گلپایگانی، ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ اور علی خامنہ کی بہو زہرا حداد عادل اور داماد مصباح الہدیٰ باقری کنی شامل تھے۔

    اپنے والد کی ہلاکت کے بعد ایران کے رہبرِ اعلیٰ بننے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے جنازے میں شرکت نہیں کی تھی۔

    علی خامنی ای

    ،تصویر کا ذریعہx/Tasnimnews_Fa

  9. قطری مذاکرات کار ایران پہنچ گئے: روئٹرز

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ قطری مذاکرات کار ایران میں موجود ہیں جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

    روئٹرز نے ذرائع کا حولہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کوششوں کا مقصد کشیدگی میں کمی اور وسیع تر مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ خبر کے مطابق یہ بات چیت امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی میں کی جا رہی ہے۔

    اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز نے خبر دی تھی کہ قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کو کم کرنے اور جوہری معاہدے پر مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ایگزیوز کا کہنا ہے کہ اس نے یہ خبریں ثالث ممالک کے دو ذرائع کے ساتھ ساتھ ایک امریکی اہلکار سے حاصل کی ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت اور جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے اور انھوں نے ایران پر سلسلہ وار حملوں کا حکم دیا ہے، تاہم ان کی توجہ اب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے پر مرکوز ہے۔

    ایگزیوز نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ مکمل جنگ میں واپس جانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

  10. ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے کا جواب دیا جائے گا اور اس سے اسرائیل بھی محفوظ نہیں رہے گا: سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں اس کے انفراسٹرکچر پر کسی بھی قسم کے حملے کا بھرپور جواب دیا جائے اور اس سے اسرائیل بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

    ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر کا ایک بیان جاری کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جیسا کہ ہم نے پہلے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی انفراسٹرکچر پر حملے کا جواب دیا جائے گا اور ان برائیوں کے پیچھے جو مجرم صیہونی حکومت ہے وہ جنگجوؤں کے جواب سے محفوظ نہیں رہے گی۔‘

  11. چین کا دوبارہ استعمال کے قابل خلائی راکٹ کو کامیابی سے زمین پر اتارنے کا دعویٰ

    راکٹ

    ،تصویر کا ذریعہCNS

    چین کے سرکاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک نے پہلی بار دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ کو کامیابی سے زمین پر اتارا ہے۔ اسے چین کے خلائی پروگرام کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

    چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ 10 بی راکٹ کو جمعے کو جنوبی چین کے جزیرے ہائنان سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12:15 بجے چھوڑا گیا تھا۔

    راکٹ کے بالائی حصے سے علیحدہ ہونے کے تقریباً چھ منٹ بعد اس کا بوسٹر عمودی انداز میں سمندر میں موجود ایک تیرتے ہوئے پلیٹ فارم پر لینڈ کر گیا۔

    یہ کامیاب تجربہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ چین اب دوبارہ استعمال کے قابل راکٹوں کے میدان میں امریکہ کی برتری کو چیلنج کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ اس سے قبل ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس اور ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی بلیو اوریجن بھی ایسے راکٹوں کی کامیاب لینڈنگ کر چکی ہیں۔

    عام طور پر راکٹوں کو ایک بار استعمال ہونے والا سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کے مختلف حصے پرواز کے دوران الگ ہو کر تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس کے باعث خلائی جہازوں کی روانگی کا عمل مہنگا پڑتا ہے۔

    بوسٹرز جنھیں عموماً راکٹ کا سب سے قیمتی حصہ سمجھا جاتا ہے کو دوبارہ استعمال کرنے سے سیٹلائٹ لانچ کرنے اور خلائی تحقیق کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

    دسمبر 2015 میں سپیس ایکس نے پہلی بار خلائی پرواز سے واپس آنے والے دوبارہ قابلِ استعمال فالکن 9 راکٹ کو کامیابی سے اتارا تھا۔ نومبر 2025 میں بلیو اوریجن نے اپنے نیو گلین راکٹ کی کامیاب لینڈنگ کی تھی۔

  12. ترکی کی جانب سے ایس-400 میزائل دفاعی نظام تیسرے ملک کو فروخت کرنے کا معاملہ: ہم ترک حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں، کریملن

    ایس 400

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    روس کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کی جانب سے روسی ساختہ ایس-400 میزائل دفاعی نظام کسی تیسرے ملک کو فروخت کرنے کے معاملے پر ترک حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    ماسکو کی جانب سے یہ اعلان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انقرہ امریکی ایف-35 لڑاکا طیاروں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے یہ میزائل نظام کسی دوسرے ملک کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’یہ ایک حساس معاملہ ہے، اس معاملے پر ہم ترک حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس پر رابطہ جاری رکھیں گے۔‘

    ترک اخبار حریت نے جمعے کے روز اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ترکی ممکنہ طور پر آج ہی ایس-400 میزائل نظام خلیجی ممالک میں سے کسی ایک کو دوبارہ فروخت کرنے کا اعلان کر سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق اس کا مقصد امریکہ کو انقرہ کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔

    ترکی نے 2017 میں روس کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی چار ڈویژنیں خریدی تھیں۔ اس کے بعد امریکہ نے ترکی کو ایف-35 طیارے کے پروگرام سے نکال دیا تھا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حال ہی میں انقرہ کے اپنے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ روسی میزائل دفاعی نظام خریدنے پر ترکی کے خلاف عائد امریکی پابندیاں ختم کر دیں گے۔ انھوں نے ترکی کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اشارہ بھی دیا۔

    تاہم ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔

  13. کوٹ رادھا کشن کیس: مسیحی جوڑے کو بھٹے میں زندہ جلا کر مارنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے تینوں ملزمان بری

    کوٹ رادھا کشن

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو بھٹے میں جلا کر مارنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے تین ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

    چار نومبر 2014 کو توہین مزہب کے الزام میں شہزاد مسیح اور ان کی حاملہ بیوی شمع بی بی کو مشتعل ہجوم نے تشدد کے بعد اینٹوں کے بھٹے میں زندہ جلا دیا تھا۔

    پولیس نے مسیحی جوڑے کے قتل کے الزام میں سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

    نومبر 2016 میں لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پانچ ملزمان کو سزائے موت اور نو دیگر ملزموں کو دو، دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    عدالت نے مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے 92 دیگر ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا تھا۔

    بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت پانے والے پانچ میں سے دو ملزمان کو بری کر دیا تھا جبکہ تین کی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔

    جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔

    اس دوران عدالت نے مسیحی جوڑے کو بھٹے میں زندہ جلا کر مارنے کے الزم میں سزائے موت پانے والے تینوں ملزمان عرفان، مہدی اور ریاض کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

    اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے 102 ملزمان کی بریت کے خلاف پنجاب حکومت کی درخواست بھی خارج کر دی۔

  14. شمالی کوریا کا اپنی جوہری صلاحیت کو مضبوط بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا

    ،تصویر کا ذریعہBBC / Andro Saini

    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اعلان کیا کہ ملک اپنی جوہری صلاحیت کو ’معیاری اور مقداری طور پر‘ مضبوط کرنے اور اپنی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کے کردار کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے، جو جنوبی کوریا سے متعلق سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔

    شمالی کوریا کی سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے بھی اطلاع دی ہے کہ جمعرات کو حکمراں جماعت کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے اجلاس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پیانگ یانگ اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے وسیع بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے اور دونوں کوریا قانونی طور پر حالت جنگ میں ہیں کیونکہ 1950-53 کی کوریائی جنگ بغیر کسی امن معاہدے کے ختم ہوئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق، اجلاس کے ارکان نے ’جوہری صلاحیت کو قابلیت اور مقداری طور پر مضبوط بنانے‘ سمیت اقدامات کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے جنوبی کوریا سے متعلق کارروائیوں کے لیے ذمہ دار شمالی کوریا کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریکونیسنس اینڈ انٹیلی جنس کے فرائض اور مشن کو بڑھانے پر بھی زور دیا۔

    کوریا انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل یونیفیکیشن کے ایک سینیئر محقق ہانگ من نے کہا کہ شمالی کوریا کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیانگ یانگ اب دونوں کوریاؤں کو زیادہ ’دشمن‘ ممالک کے طور پر دیکھتا ہے، ایک ایسا نقطہ نظر جو جنگ بندی پر مبنی موجودہ صورتحال کی جگہ لے سکتا ہے۔

  15. کوئٹہ: مغوی افراد کی بازیابی کے بعد ہنہ اوڑک دھرنا ختم، مقتول پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا احتجاج جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Balochistan

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گذشتہ اتوار سے جاری احتجاجی دھرنا مغوی افراد کی بازیابی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ زیارت میں 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف جاری دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔

    ہنہ اوڑک کے علاقے ببری میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے خلاف شروع کیے گئے اس دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 11 افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

    کوئٹہ کی ایئرپورٹ روڈ پر بی اے مال کے سامنے جاری دھرنے کے تین اہم مطالبات تھے: علاقے کو مسلح افراد سے پاک کرنا، مغوی افراد کی بحفاظت بازیابی اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی۔

    گذشتہ شب اس وقت اہم پیش رفت سامنے آئی جب اغوا کیے گئے تمام افراد کو رہا کر دیا گیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ تمام مغوی افراد بازیاب کر لیے گئے ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق مغویوں کی رہائی میں قبائلی اور مذہبی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور انھوں نے اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے۔

    Balochistan

    اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کرتی رہی جس میں مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں اور وہ خود کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو قرار دیتے ہیں۔ تاہم بی بی سی اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

    مغوی افراد کی رہائی کے بعد وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی رات گئے دھرنے کے مقام پر پہنچے اور متاثرہ خاندانوں اور دھرنا کمیٹی کے ارکان سے تفصیلی بات چیت کی۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق دھرنا کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد کمیٹی نے وزیرِ اعلیٰ کی درخواست پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    Balochistan

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    اس موقع پر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کسی بھی سطح پر کوئی کوتاہی یا غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرین کو ممکنہ داد رسی فراہم کی جائے گی۔

    وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں، جس میں وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف بگٹی وہ متاثرہ خاندانوں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرنے کے پابند ہیں۔

    میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو مالی معاوضہ دیا جائے گا، اہلِ خانہ کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی اور متاثرہ بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔

    دوسری جانب، اگرچہ ہنہ اوڑک کے واقعے کے خلاف دھرنا ختم ہو گیا ہے، تاہم کوئلہ پھاٹک کے مقام پر زیارت کے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج بدستور جاری ہے۔

    یہ دھرنا جمعرات کے روز بعض مقتول پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ شروع کیا گیا تھا اور تازہ اطلاعات کے مطابق احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔

  16. 10 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم، افغان پناہ گزینوں کی واپسی جاری، غیر یقینی صورتحال برقرار

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لیے ملک چھوڑنے کی مقررہ 10 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے۔

    حکام کے مطابق اس نوٹیفیکیشن کے بعد افغانستان واپس جانے والے افغان شہریوں کی تعداد میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

    پشاور میں پولیس افسر فرحان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ان کے مطابق مختلف علاقوں میں ایسے افغان شہریوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کے پاس پاکستان میں قیام کے قانونی دستاویزات موجود نہیں ہوتے، اور انھیں طے شدہ طریقۂ کار کے تحت واپس افغانستان بھیجا جاتا ہے۔

    پشاور کے مختلف علاقوں، جن میں حیات آباد، بورڈ بازار، ناصر باغ روڈ اور ٹاؤن شامل ہیں، میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے درمیان اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ بعض افغان شہریوں کا خیال ہے کہ حکومت اس مدت میں ایک بار پھر توسیع کر سکتی ہے، اسی لیے وہ واپسی کے فیصلے میں تاخیر کر رہے ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کا عمل بدستور جاری ہے اور ڈیڈ لائن کے بعد کے مرحلے کے لیے حکمتِ عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت ترجیحی طور پر افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی چاہتی ہے، اس لیے پہلے انھیں زبانی طور پر وطن واپس جانے کی ہدایت دی جائے گی۔ اگر اس کے باوجود غیر قانونی طور پر مقیم افراد واپس نہ گئے تو پھر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں افغانستان واپس جانے والوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی تھی، تاہم اب دوبارہ واپسی کے عمل میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب پاک افغان سرحد پر طورخم کے رجسٹریشن مرکز میں بھی افغانستان واپس جانے والے افراد کی تعداد میں نسبتاً اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ادھر بعض افغان پناہ گزینوں نے، جو پاکستان میں مقیم پاکستانی شہریوں سے شادی کر چکے ہیں یا جو افغانستان واپسی کی صورت میں اپنی جان کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں، عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں اب تک ایسے تقریباً 140 افراد درخواستیں دائر کر چکے ہیں۔

    ان درخواست گزاروں میں سابق افغان سرکاری افسران، وہ افراد جو ماضی میں افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں، سابق جج اور موسیقی کے شعبے سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ افغانستان واپسی کی صورت میں انھیں سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کی پالیسی کسی ایک قومیت کے لیے نہیں بلکہ تمام غیر قانونی غیر ملکیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد امیگریشن قوانین پر عمل درآمد اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

    تاہم اس پالیسی کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں پر پڑے ہیں، جن میں سے بہت سے افراد ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد اپنی آئندہ صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی اور خدشات کا شکار ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک 24 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں تقریباً دو لاکھ افراد کو ملک بدر کیا گیا جبکہ باقی افراد رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس گئے۔

  17. متحدہ عرب امارات امریکہ کے ساتھ تعاون کی قیمت ادا کرے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ

    IRAN, UAE

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے رکن اسماعیل کوثری نے ایران پر حالیہ حملوں کے پیچھے متحدہ عرب امارات کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ ملک ’واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی قیمت ادا کرے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان اقدامات سے متحدہ عرب امارات نے خود کو ایران کے دشمنوں کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے اور اسے جان لینا چاہیے کہ اس حمایت کی قیمت بہت بھاری ہوگی۔‘

    اسماعیل کوثری نے نشاندہی کی کہ مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی سابقہ ​​وارننگ کے مطابق، ’جارح‘ افواج کی کسی بھی حمایت کا ایرانی جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس لیے، ’متحدہ عرب امارات کا بحری، ریل اور ہوائی نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ، نیز تیل اور گیس کی تنصیبات، خطے میں امریکی اڈوں کی حمایت میں ان کے کردار کی وجہ سے، کسی بھی کارروائی کی صورت میں ایرانی مسلح افواج کے حتمی اہداف میں شامل ہوں گی۔‘

  18. سپین: جنگلاتی آگ میں 11 افراد ہلاک، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ, ہیلن سلیوان، بی بی سی نیوز

    Spain

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سپین کے جنوبی علاقے اندلوسیا میں لگنے والی ہولناک جنگلاتی آگ کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 19 دیگر لاپتا ہو گئے ہیں۔

    اندلوسیا کے علاقائی صدر خوانما مورینو نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    مقامی حکام کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں چار افراد برطانوی شہری ہو سکتے ہیں۔

    یہ آگ صوبہ المیریا کے علاقے لوس گایاردوس کے قریب بھڑکی، جہاں حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ایک بجلی کی تار گرنے کے باعث آگ لگی، جو بعد ازاں قریبی جنگلاتی علاقے تک پھیل گئی۔

    حکام کے مطابق 11 افراد کی لاشیں بیدار نامی چھوٹے گاؤں اور اس کے اطراف سے ملی ہیں، جو لوس گایاردوس کے قریب واقع ہے۔

    اندلوسیا کے وزیر صحت و ہنگامی امور انتونیو سانز نے کہا کہ آگ غیر معمولی طور پر تیزی سے پھیلی اور صورتحال انتہائی پیچیدہ رہی۔ ان کے بقول زیادہ تر یا تمام ہلاک ہونے والے افراد غیر ملکی شہری ہو سکتے ہیں۔

    سانز کے مطابق چار افراد ایک گاڑی میں پھنسے ہوئے پائے گئے، جبکہ دیگر متاثرین مختلف مقامات پر ملے جہاں وہ بظاہر آگ سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی میں موجود چار افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ’برطانوی نژاد‘ تھے کیونکہ گاڑی کا سٹیئرنگ دائیں جانب تھا۔

    Spain

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    درجنوں اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف

    آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 150 فائر فائٹرز کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق ایک شخص کو دھوئیں سے متاثر ہونے کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ایک اور شخص جھلسنے کے باعث زخمی ہوا۔ چار افراد کو معمولی جلنے اور دھوئیں کے اثرات کی وجہ سے موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    آگ کے باعث متعدد سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ ہنگامی اداروں کے مطابق تقریباً ایک ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ملک رواں سال موسم گرما کے دوران جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ہنگامی ردعمل نافذ کرے گا۔

    سپین کی فوجی ہنگامی یونٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ لوس گایاردوس میں امدادی اور آگ بجھانے کی کارروائیوں میں شامل ہو گی۔

    شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے جنگلاتی آتشزدگی کے واقعات

    اس موسم گرما میں جنوبی یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    فرانس، پرتگال اور اسپین میں سینکڑوں فائر فائٹرز مختلف مقامات پر بڑی آگوں سے نبرد آزما ہیں جبکہ ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

    سپین نے جون میں 1950 کے بعد اپنی بلند ترین اوسط یومیہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا، جبکہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

    یورپی جنگلاتی آگ کی نگرانی کے ادارے کے مطابق گذشتہ سال سپین میں تقریباً تین لاکھ 93 ہزار ہیکٹر رقبہ آگ سے متاثر ہوا، جو 2006 سے 2024 کے دوران قومی اوسط سے چھ گنا زیادہ تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے، جبکہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے۔

    ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی گرمی، طویل ہیٹ ویوز اور خشک موسم کے نتیجے میں یورپ میں جنگلاتی آگ کے واقعات زیادہ شدید اور بار بار پیش آنے کا امکان ہے۔ گذشتہ برس یورپی یونین میں جنگلاتی آگ کا سیزن ریکارڈ پر بدترین ثابت ہوا، جس میں 10 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو گیا۔

  19. امریکہ، ایران کشیدگی کے باوجود تیل کی قیمتوں میں دو فیصد کمی

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل دو راتوں تک جاری رہنے والی کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد جمعرات کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں دو فیصد کمی آئی، جس کے بعد قیمت تقریباً 76 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

    اس ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو پہلے تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کے روز یہ کہنے کے بعد کہ ’ایران کے ساتھ معاہدہ ختم ہو چکا ہے‘، تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

    تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ خدشہ تھا کہ آبنائے ہرمز میں سفر کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد مشرق وسطیٰ سے عالمی توانائی کی فراہمی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی تیل کی قیمت تقریباً 74 ڈالر فی بیرل رہی۔

    یہ قیمتیں جون کے وسط کی سطح کے قریب ہیں، یعنی اس وقت سے پہلے جب ایران اور امریکہ نے اپنے تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر مبنی ایک عارضی معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

  20. اینڈی برنہم کی غزہ کے حوالے سے لیبر پارٹی کے مؤقف پر معذرت، اسرائیل پر سخت پابندیوں کا مطالبہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے ممکنہ اگلے وزیرِاعظم سمجھے جانے والے اینڈی برنہم نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات پر برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی کے ابتدائی مؤقف پر معذرت کی ہے۔

    اینڈی برنہم نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس معاملے میں ان کی جماعت سے غلطی ہوئی تھی۔

    غزہ جنگ کے ابتدائی ہفتوں کے دوران برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا تھا کہ اسرائیل کو ’غزہ کی پانی اور بجلی کی فراہمی بند کرنے کا حق حاصل ہے‘۔ ان کے اس بیان پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

    بعد میں سٹارمر نے وضاحت کی کہ ان کی مراد یہ تھی کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

    اینڈی برنہم بھی برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ قیادت سنبھالتے ہیں تو برطانیہ کا مؤقف اس معاملے پر کہیں زیادہ سخت ہوگا۔

    انھوں نے اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا، جس میں اسرائیلی کابینہ کے انتہائی دائیں بازو کے وزرا پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

    اینڈی برنہم نے مغربی کنارے میں اسرائیلی یہودی بستیوں کے رہائشیوں کے ساتھ تجارتی روابط پر پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔