آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’مناسب وقت‘ پر ایران پر عائد پابندیاں ہٹانا چاہوں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کیا جا رہا ہے اور وہ ’مناسب وقت‘ پر ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

خلاصہ

  • اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی اور انھیں نوبیل امن انعام کے لیے نوبیل کمیٹی کو بھجوایا گیا مراسلہ دکھایا
  • ملزم کا پولیس افسر کی تحویل میں میڈیا کے ذریعے اعتراف جرم اس کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا : سپریم کورٹ
  • ٹیکساس میں سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 104 ہو گئی، درجنوں اب بھی لاپتہ
  • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کاروبار کے دوران انڈیکس انڈیکس 133862 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا
  • اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے یمن کی تین بندرگاہوں بشمول حدیدہ، راس عیسیٰ اور سیف میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔
  • کراچی میں گِرنے والی عمارت کے ملبے سے 27 لاشیں نکال لی گئیں۔ حکام کی جانب سے ریسکیو آپریشن ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    09 جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. کراچی میں نوجوان اداکارہ کی کئی روز پرانی لاش برآمد, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کراچی سے ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر علی کی لاش ملی ہے پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کئی ہفتے پرانی ہے۔

    ایس ایس پی جنوبی محذور علی کا کہنا ہے کہ حمیرا علی لاہور کی رہائشی تھیں اور اتحاد کمرشل میں 2018 سے فلیٹ میں رہتی تھیں تاہم 2024 سے انہوں نے کرایہ دینا بند کردیا تھا جس کے خلاف مکان مالک نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

    ایس ایس پی کے مطابق پولیس عدالت کے بیلف کے ساتھ منگل کو متعلقہ فلیٹ پر پہنچی تو دروازہ اندر سے بند تھا جب آہنی گیٹ اور لکڑی کا دروازہ توڑ کر پولیس اندر داخل ہوئی تو حمیرا علی کی لاش زمین پر موجود تھی جو کئی روز پرانی تھی۔

    حمیرا علی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انھوں نے کالج کے زمانے سے رفیع پیر تھیٹر میں کام کیا جس کے بعد انھوں نے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا انھوں نے کئی برانڈز کے لیے ماڈلنگ کی۔

    ٹک ٹاک پر 2022 میں ان کی ایک وڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ان کے پس منظر میں جنگل میں آگ لگی ہوئی تھی اور وہ کہہ رہی تھیں کہ ’ہیلو گائیز یہ دیکھیں ہم یہاں جنگل آئے ہوئے ہیں اور یہاں آگ لگی ہوئی ہے‘ اس ویڈیو پر انھیں لوگوں کی شدید تنقید اور ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    یاد رہے کہ یہ حال ہی میں کراچی میں ایسا دوسرا واقعہ ہے جہاں اکیلی رہنے والی ادکارہ کی لاش ملی ہو اور وہ کئی روز پرانی ہو۔

    اگرچہ اداکارہ کی موت کی وجوہات نامعلوم ہیں تاہم اس سے پہلے عائشہ حان نامی سینئیر اداکارہ کی موت پر بھی سوشل میڈیا شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

  3. توہین رسالت کے الزام میں چکوال کے رہائشی کے خلاف پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقدمہ درج, نصیر چوہدری، صحافی

    مبینہ طور پر توہین رسالت کے مرتکب ہونے والے چکوال کے رہائشی کے خلاف پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ملز کے خلاف باقاعدہ تھانہ پانجگراں میں مقامی امام مسجد نے درخواست دائر کی درخواست دی اور موقف اختیار کیا کہ ’چکوال سے تعلق رکھنے والی مذہنی شخصیت نے دوران گفتگو کرتے ہوئے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے جس کا ثبوت ویڈیو کی صورت میں موجود ہے۔‘

    درخواست مںی موقف اپنایا گیا ہے کہ ’اس شخص نے دو مسالک کے درمیان تصادم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے لہٰذا اس کے خلاف قانون کاروائی کی جائے۔‘

    واقعے کے بعد متعلقہ علاقوں پہٹکہ کہوڑی شاہرہ نیلم میں عوام نے سڑک بند کر کے احتجاج کی جس کے بعد ملزم کو گرفتارکر لیا گیا۔

    دو دن تک مذکرات جاری رہنے کے بعد جب باقاعدہ ایف آئی نہ ہو سکی تو منگل کی شام مظفرآباد نیلم کی تمام سڑکیں بند کر کے مختلف مقامات پر احتجاج ہوئے۔ تین گھنٹے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد پولیس نے ملزم کے خلاف 295C کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

  4. ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت چھ افراد کی تین ماہ بعد مختلف مقدمات میں گرفتاری ظاہر, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے پانچ رہنمائوں سمیت چھ افراد کی تین ماہ سے زائد کے عرصے بعد منگل کے روز مختلف مقدمات میں گرفتاری ظاہر کی گئی اور ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی کوئٹہ کی عدالت نے ان کو دس روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

    ان کی گرفتاری کوئٹہ کے دو تھانوں سول لائنز اور بروری روڈ پولیس سٹیشنز میں درج مقدمات میں ظاہر کی گئی ہے۔

    اس سے قبل ان کو 3 ماہ کے زائد کے عرصے سے تھری ایم پی او کے تحت زیر حراست رکھا گیا تھا۔

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے تین ماہ سے زائد کے عرصے تک انھیں ایم پی او کے تحت زیر حراست رکھنے کے بعد مقدمات میں ان کی گرفتاری کو ظاہر کرنے کے اقدام کو حکومت کی بدنیّتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’انھیں انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے قانون کو پامال کیا گیا۔‘

    سخت سکیورٹی میں ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر افراد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی

    ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے پانچ رہنمائوں سمیت چھ افراد کو سخت سکیورٹی میں سیشن کورٹس میں واقع سعادت بازئی پر مشتمل انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    ان میں بی وائی سی کی دیگر رہنمائوں میں بیبو بلوچ ، گلزادی بلوچ ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ کے علاوہ نیشنل پارٹی کے سینیئر کارکن اور بیبو بلوچ کے والد غفار بلوچ شامل تھے۔

    ان میں سے مردوں کو ہتھکڑی لگا کر عدالت لایا گیا تھا جن میں سے بیبرگ بلوچ بھی شامل تھے جو کہ دو پیروں سے معزور ہونے کے باعث وہیل چیئر پر ہیں۔

    نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے عدالت کی توجہ بیبرگ بلوچ کی جانب دلاتے ہوئے کہا کہ ’جسمانی طور پر ایک معذور شخص جو کہ اپنے پیروں پر چل نہیں سکتے کو بھی ہتھکڑیاں لگانے سے گریز نہیں کیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بیبرگ بلوچ کو ہتھکڑیاں نہیں لگائی جائیں۔‘

    نادیہ بلوچ نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد کو ریمانڈ کے لیے دو تھانوں میں درج ایف آئی آرز میں عدالت میں پیش کیا گیا جن میں سول لائنز پولیس اسٹیشن اور بروری روڈ پولیس اسٹیشن شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’نیشنل پارٹی کے رہنما غفار بلوچ کا نام کسی بھی ایف آئی آر میں درج نہیں ہے جس پر ہم نے عدالت میں اعتراض اٹھایا کہ جب وہ کسی ایف آئی آر میں نامزد نہیں ہے تو ان کو رہا کیا جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے اعتراض پر بروری پولیس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ جن لوگوں کا نام ایف آئی آر میں نہیں ہے تو وہ ’وغیرہ‘ (یعنی نامعلوم ملزمان) میں شامل ہیں اس لیے وہ بھی ان مقدمات میں نامزد ہیں۔‘

    نادیہ بلوچ نے بتایا کہ ’دونوں تھانوں میں درج ایف آئی آرز میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بی وائی سی کے رہنمائوں سمیت چھ افراد کو دس روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔ انتقامی کاروائی کے لیے قانون پامال کیا گیا۔‘نادیہ بلوچ نے بتایا کہ ’ریمانڈ کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ خواتین کو سول لائنز پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا ہے جبکہ مردوں کو بروری سٹیشن منتقل کرنا چاہیے تھا لیکن ان کے بقول انھیں وہاں منتقل کرنے کی بجائے کینٹ پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا۔‘

    انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ مردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ ہائیکورٹ کا ریویو بورڈ کا اجلاس ساڑھے بارہ بجے ہوگا جس میں ایم پی او کے بارے فیصلہ ہونا تھا لیکن ان کے بقول اس سے قبل ہی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں گرفتار افراد کو پیش کرکے ان کا ریمانڈ حاصل کیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر گرفتار افراد کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اس لیے پہلے ان کو بدنیتی کی بنیاد پر ایم پی او کے تحت زیر حراست رکھا گیا اور اب ان کی گرفتاری کو مختلف مقدمات میں ظاہر کیا گیا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’بیک وقت ایم پی او اور کسی مقدے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا لیکن بی وائی سی کے رہنمائوں کے حوالے سے قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے حکومت اور پولیس کی جانب سے قانون کی پامالی کا نوٹس نہیں لیا گیا۔‘

  5. حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کا انتباہ: ’غزہ میں فوج رکھنے کا فیصلہ نیتن یاہو کی سب سے بڑی ’بیوقوفی‘ ہو گی‘

    حماس کی عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کو دوبارہ قید کیا جا سکتا ہے، جبکہ قطر کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں ابھی وقت لگے گا۔

    ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ ’غزہ میں فوج رکھنے کا فیصلہ نیتن یاہو کی سب سے بڑی ’بیوقوفی‘ ہو گی‘۔

    انھوں نے ٹیلیگرام پر ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ’بیت حنون میں جو حملہ کیا گیا وہ ہمارے بہادر مجاہدین کی طرف سے اسرائیلی فوج اور اس کی خطرناک یونٹس کو ایک اور زوردار جھٹکا ہے۔ دشمن یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ یہ علاقہ محفوظ ہو چکا ہے۔‘

    ابو عبیدہ نے دعویٰ کیا کہ حماس کے جنگجو غزہ کے شمال سے جنوب تک اسرائیلی فوج کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں اور یہ لڑائی روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فوج کو مزید کمزور کرے گی۔

    انھوں نے کہا: ’اگرچہ اسرائیلی فوج نے حال ہی میں اپنے کچھ فوجیوں کو معجزانہ طور پر بچا لیا ہے لیکن آئندہ وہ ناکام ہو سکتی ہے اور ہمارے پاس مزید قیدی آ سکتے ہیں۔‘

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران اس کے پانچ فوجی ہلاک ہو گئے۔

  6. طالبان کی اقوامِ متحدہ کی افغانستان سے متعلق قرارداد پر جزوی تنقید: ’زمینی حقائق کو نظرانداز کیا گیا‘

    افغانستان کی طالبان حکومت نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے افغانستان کے بارے میں منظور کی گئی قرارداد کے بعض نکات پر تنقید کی ہے۔ یہ بیان طالبان کی جانب سے 8 جولائی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا۔

    اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 7 جولائی کو ’افغانستان کی صورتحال‘ کے عنوان سے قرارداد کو 116 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کیا۔

    طالبان کے بیان کی ابتدا قرارداد کے بعض پہلوؤں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کی گئی جن میں افغانستان میں سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور منشیات کے خلاف اقدامات کو ’کامیابیاں‘ قرار دے کر سراہا گیا ہے۔

    بیان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی حمایت، افغانستان کی معاشی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور عالمی برادری سے مثبت روابط کی اپیل جیسے نکات پر بھی قرارداد کی تعریف کی گئی۔

    تاہم اس کے بعد طالبان نے قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ماضی کی قراردادوں کو دہراتی ہے، زمینی حقائق کو نظر انداز کرتی ہے اور طالبان حکومت کے مؤقف کو شامل نہیں کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ:اول: ’اس قرارداد میں ماضی کی اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور فیصلوں کو دہرایا گیا ہے، خاص طور پر سیکیورٹی اور انسانی حقوق کے معاملے میں۔ یہ وہی پرانی سوچ ہے جو کچھ ممالک کے دباؤ پر مبنی ہے اور جو افغانستان کی اصل صورتحال کو نظر انداز کرتی ہے۔‘

    دوم: ’اگرچہ یہ قرارداد افغانستان کی صورتحال کے بارے میں ہے اور اس میں اسلامی امارتِ افغانستان سے مختلف شعبوں میں تعاون کی اپیل کی گئی ہے لیکن نہ تو مسودہ سازی کے دوران اور نہ ہی منظوری کے وقت اسلامی امارت سے کوئی مشاورت کی گئی، جو اس قرارداد کی درستگی اور عملی افادیت پر سوالات اٹھاتی ہے۔‘

    بیان کے آخر میں کہا گیا ہے:’اس کے باوجود اسلامی امارتِ افغانستان اس قرارداد کی سفارشات اور مطالبات کا جائزہ دینِ اسلام اور قومی مفادات کی روشنی میں لے گی اور ممکنہ تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کرے گی۔‘

    واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس قرارداد کے ذریعے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کرے، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔

  7. حماس نے جنسی تشدد کو ’نسلی نسل کشی کی سوچی سمجھی حکمت عملی‘ کے طور پر استعمال کیا: اسرائیل کی خواتین ماہرین کا دعویٰ

    اسرائیلی خواتین ماہرین پر مشتمل ایک قانونی اور صنفی گروپ نے ایک نئی رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران حماس نے جنسی تشدد کو ’نسل کشی کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی‘ کے طور پر استعمال کیا۔ رپورٹ میں انصاف کے مطالبے کے ساتھ قانونی کارروائی کے لیے ایک فریم ورک بھی پیش کیا گیا ہے۔

    ’دینہ پروجیکٹ‘ کے نام سے جاری اس رپورٹ میں ان شواہد کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں ایک خاتون کی عینی گواہی (جن کا دعویٰ ہے کہ وہ جنسی زیادتی کی کوشش سے بچ نکلیں) 15 سابق یرغمالیوں کے بیانات اور جنسی حملوں کے عینی شاہدین کی تفصیلات شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بعض اوقات انفرادی حملہ آوروں کی نشاندہی ممکن نہیں ہوتی لیکن پھر بھی ان جرائم کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    حماس نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی یا خاتون یرغمالیوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا۔

    تاہم اقوامِ متحدہ کے ایک تحقیقی مشن نے مارچ 2024 میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’معقول شواہد موجود ہیں‘ کہ 7 اکتوبر کو مختلف مقامات پر جنسی تشدد، بشمول ریپ اور زیادتی کے واقعات پیش آئے اور یہ کہ یرغمال بنائی گئی خواتین کو بھی جنسی تشدد، ریپ اور جنسی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

    اس کے علاوہ اسرائیل کے حملے میں مارے جانے سے قبل حماس کے تین سینئر رہنماؤں پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر نے انسانیت کے خلاف جرائم، بشمول ریپ، جنسی تشدد، قتل، اذیت اور نسل کشی کے الزامات عائد کیے تھے۔

    خیال رہے 7 اکتوبر کو حماس اور اس سے منسلک فلسطینی گروہوں کے سینکڑوں جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا۔

    اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں ایک بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی جس کے نتیجے میں اب تک 57,500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  8. ’مناسب وقت‘ پر ایران پر عائد پابندیاں ہٹانا چاہوں گا: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کیا جا رہا ہے اور وہ ’مناسب وقت‘ پر ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے امریکہ سے کسی ملاقات کی درخواست نہیں کی۔

    ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ عشائیے کی شروعات پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شام پر امریکی پابندیاں ہٹانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ مستقبل میں ایران کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔

    حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر شام پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں اور کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ جنگ زدہ ملک دوبارہ عالمی معیشت کا حصہ بنے۔

    ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو ٹرمپ نے ’بہت سخت‘ قرار دیا اور کہا ’میں چاہوں گا کہ مناسب وقت پر یہ پابندیاں ہٹا سکوں تاکہ ایران کو دوبارہ تعمیرِنو کا موقع ملے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایران ’امریکہ مردہ باد‘ یا ’اسرائیل مردہ باد‘ جیسے نعروں کے بغیر پرامن طریقے سے اپنی تعمیرِنو کرے۔

  9. پنجاب میں بارشوں کے نتیجے میں حادثات، سات افراد ہلاک, عمر دراز ننگیانہ، نامہ نگار بی بی سی اردو

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مزید دو روز تک بارش کا امکان ہے جبکہ پی ڈی ایم اے کے مطابق مختلف حادثات میں 24 گھنٹوں کے دوران سات افراد ہلاک ہوئے۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے، پی ڈی ایم اے نے مختلف اضلاع میں 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق شدید بارش میں مخدوش و بوسیدہ مکانات گرنے کے باعث نقصانات رپورٹ ہوئے اور مختلف حادثات میں سات افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے راولپنڈی میں عمارت گرنے سے ایک بچہ جبکہ کلرسیداں میں نہاتے ہوئے تین بچے ڈوبنے سے فوت ہو گئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کا دوسرا سلسلہ 10 جولائی تک جاری رہے گا۔

  10. ملزم کا پولیس افسر کی تحویل میں میڈیا کے ذریعے اعتراف جرم اس کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا : سپریم کورٹ, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    سپریم کورٹ نے پولیس کی تحویل میں میڈیا کے ذریعے ملزم کے ریکارڈ کیے گئے اعترافی بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ایک بچے کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کو بری کر دیا ہے۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کراچی میں ایک بچے کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنایا ہے۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے جاری پچیس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کا پولیس افسر کی تحویل میں میڈیا کے ذریعے اعتراف جرم اس کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا جب تک اس کا بیان مجسٹریٹ کی موجودگی میں نہ لیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ کسی رپورٹر کو ملزم کے انٹرویو کیلئے رسائی دی جائے، اسکا بیان ریکارڈ کیا جائے اور پھر اسے عوام میں پھیلایا جائے۔

    خیال رہے کہ اس مقدمے میں متعلقہ تھانے کے انچارج اور تفتیشی افسر نے ایک صحافی کو اس بات کی جازت دی کہ وہ جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس کی تحویل میں موجود ملزم کا انٹرویو کرے۔

    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس بیان کا ترمیم شدہ حصہ بعد میں ایک نجی ٹی وی چینل پر نشر کیا گیا۔

    ’ یہ پہلا کیس نہیں ہے جس میں زیرِ حراست ملزم کے ساتھ اس طرح کا رویہ اپنایا گیا ہو، ایسا رویہ عام ہوتا جا رہا ہے اور بغیر کسی روک ٹوک کے جاری ہے جو نہ صرف ملزم بلکہ متاثرین کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، کسی جرم کی خبریں ہمیشہ لوگوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہوتی ہیں، خاص طور پر جب کیس ہائی پروفائل ہو یا جرم کی نوعیت عام لوگوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہو، ایسے کیسز میں عوام کی غیر معمولی دلچسپی میڈیا ٹرائل کا باعث بن سکتی ہے جس کے نتائج نہ صرف ملزمان بلکہ دیگر متاثرین کے لیے بھی ناقابل تلافی ہو سکتے ہیں۔‘

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کے پاس بیانیہ تخلیق کرنے کی بے پناہ طاقت اور صلاحیت ہے جو سچ یا غلط ہو سکتی ہے، یہ صلاحیت بھی ملزمان اور ان کے خاندان کے افراد کی زندگیوں کو برباد کرنے اور ان کی شہرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتی ہے۔‘

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’میڈیا پر نشر کیا گیا ملزم کا بیان قابلِ قبول نہ تھا کیونکہ یہ نہ تو کسی مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا تھا اور نہ ہی قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے، ایسا اقدام شاید اپنی کارکردگی دکھانے یا عوامی دباؤ سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہو لیکن یہ کسی طور پر عوامی مفاد میں نہیں تھا۔‘

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کی کاپی سیکرٹری وزارت داخلہ، سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات، چیئرمین پیمرا، صوبائی چیف سیکرٹریز کو بجھوائی جائے، فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز کی روشنی میں فوجداری کیسز کے فریقین کے حقوق اور تفتیش و مقدمے کی شفافیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

    عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو بری کردیا۔

    واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو موت کی سزا سنائی تھی، سندھ ہائی کورٹ نے واقعاتی شواہد اور ٹی وی انٹرویو میں اس کے اعتراف جرم کی بنیاد پر اس کی توثیق کی تھی۔

  11. اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی ٹرمپ سے ملاقات اور نوبیل امن انعام کے لیے نامزدگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بہت اچھی بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں غزہ میں جنگ روکنے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی اور حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے قیام کے لیے ان کی کوششیں جاری ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بات پیر کی شب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے موقع پر کہی۔

    اسرائیل کے وزیر اعظم نے کہا کہ انھوں نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے اور امن کمیٹی کا ارسال کیا گیا خط بھی انھیں پیش کیا۔

    اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت امن قائم کر رہے ہیں، ایک ملک میں، ایک علاقے کے بعد دوسرے علاقے میں۔

    یاد رہے کہ بینجمن نتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقات صدر ٹرمپ کے دوسری بار وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان تیسری ملاقات ہے۔

    تاہم اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ اور ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر داغے جانے والے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے اور تباہ کرنے میں امریکی مداخلت کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔

    صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حماس غزہ میں 21 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہے،

    ’وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور وہ جنگ بندی کے حق میں ہیں۔‘

    خیال رہے کہ یہ ملاقات قطر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے لیے بلواسطہ طور پر ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دور کے بعد ہوئی ہے جو کہ بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوا تھا۔ تاہم ان مذاکرات کے رواں ہفتے جاری رہنے کا امکان ہے۔

    اس موقع پر صدر ٹرمپ سے ایک صحافی نے پوچھا کہ غزہ میں امن معاہدے میں کیا چیز رکاوٹ بن رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ کوئی رکاوٹ موجود ہے۔ میرا خیال ہے کہ معاملات بہت اچھی طرح چل رہے ہیں۔‘

    دونوں رہنماؤں نے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کے ممکنہ منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تو امریکی صدر نے کہا کہ انھیں اسرائیل کے ہمسایہ ممالک سے تعاون حاصل ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر ایسے ممالک تلاش کر رہا ہے جو ’فلسطینیوں کو ایک بہتر مستقبل دیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر لوگ رہنا چاہتے ہیں تو وہ رہ سکتے ہیں، لیکن اگر وہ چھوڑنا چاہتے ہیں تو انہیں چھوڑنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘

    ’ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے ہفتے شروع ہو سکتے ہیں‘

    اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس میں پیر کی رات ہونے والے عشائیے میں صرف امریکہ اور اسرائیل کے رہنما ہی شرکت کرنے والے تھے لیکن مذاکرات کی میز کے دونوں جانب سینئر امریکی اور اسرائیلی حکام بیٹھے تھے جن میں مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل تھے۔

    مسٹر وٹکوف نے اجلاس میں کہا کہ ایرانی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات اگلے ہفتے کے اندر شروع ہو سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ تہران نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو اس وقت تک بامعنی اور ممکن نہیں سمجھتا جب تک کہ اسے یقین نہیں کرایا جاتا کہ امریکہ کی طرف سے مزید کوئی فوجی حملہ نہیں کیا جائے گا۔

  12. ٹیکساس میں سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 104 ہو گئی، درجنوں اب بھی لاپتہ

    امریکی ریاست ٹیکساس میں سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 104 سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ 41 لاپتہ افراد کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔

    خیال رہے کہ ریاست میں مزید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    جمعے کو آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں کیئر کاؤنٹی میں ہوئیں جن کی تعداد 75 بتائی جاتی ہے۔

    کاؤنٹی میں لڑکیوں کا مسٹک نامی سمر کیمپ متاثر ہوا جس میں طالبات اور عملے کے افراد سمیت 27 ہلاک ہوئے تاہم سیلاب کے وقت علاقے میں اور لوگ کیمپنگ کر رہے تھے اس حوالے سے اب تک کچھ سامنے نہیں آیا۔

    کیمپ انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 10 لڑکیاں اور کیمپ کاؤنسلر اب بھی لاپتہ ہیں۔

    دیگر متاثرہ کاؤنٹیز میں ٹریوس کاؤنٹی، برنیٹ کاؤنٹی، ولیمسن کاؤنٹی، کنڈل کاؤنٹی اور ٹام گرین کاؤنٹی شامل ہیں۔

    علاقے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے ہلاک شدگان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ بہت سی لاشوں کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے یہ تجاویز مسترد کر دیں ہیں کہ قومی سطح پر موسم کی صورتحال کا الرٹ جاری کرنے والے این ڈبلیو ایس میں بجٹ کٹوتیاں ممکنہ طور پر آفت کی امداد میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

    شدید موسم کے باعث امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو پہلے ہی کیچڑ اور ملبے سے گزرتے ہوئے زہریلے سانپوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے اتوار کہا تھا کہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر لاپتہ شخص کی تلاش کو یقینی بنایا جائے۔

  13. صوبہ خیبر پختونخواہ میں 6 ہلاکتیں، بارشوں کا سلسلہ مزید چار روز جاری رہنے کا امکان

    صوبہ خیبرپختونخوا میں دو روز کے دوران ہونے والی تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مختلف حادثات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 6 افراد ہلاک جبکہ 7 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے موجود صوبائی امدادی ادارے، پی ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں ایک مرد اور 2 خواتین اور 3 بچے جبکہ زخمیوں میں 7 بچے شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بارش/فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 8 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 7 کو جزوی نقصان پہنچا اور ایک مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

    بتایا گیا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع بونیر، ملاکنڈ، کرک مانسہرہ، مھمند اور چارسدہ میں پیش آئے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے متاثرہ خاندان کو فوری طور پر امداد اور زخمیوں کو بہترین طبّی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ 11 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

    ادارے کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور پیشگی اقدامات اٹھانے کے لیے مراسلہ جاری کیا جا چکا ہے اور عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دینے کو کہا گیا ہے۔

  14. پوتن کے برطرف کردہ وزیر ٹرانسپورٹ مردہ حالت میں پائے گئے

    روس کی تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ سابق روسی وزیرِ ٹرانسپورٹ رومان ستارووائت مردہ حالت میں پائے گئے ہیں اور بظاہر ان کی موت خود کو گولی مارنے سے ہوئی ہے۔

    انھیں پیر کے روز صدر ولادیمیر پوتن نے عہدے سے برطرف کیا تھا اور چند گھنٹوں بعد ان کی لاش ملی۔

    ستارووائت کو برطرف کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور کچھ دیر بعد نائب وزیرِ ٹرانسپورٹ آندرے نکیتن کو ان کا جانشین مقرر کر دیا گیا۔

    تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    ستارووائت کو مئی 2024 میں وزیرِ ٹرانسپورٹ مقرر کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل وہ تقریباً نو سال تک کورسک ریجن کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے اور مئی 2024 میں انھوں نے وہ عہدہ چھوڑ دیا۔

    پیر کو ستارووائت کی موت کی خبر سامنے آنے سے قبل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف سے صحافیوں نے پوچھا کہ آیا برطرفی کا مطلب یہ ہے کہ کورسک کے واقعات کے بعد پوتن نے ستارووائت پر اعتماد کھو دیا ہے؟

    پیسکوف نے جواب دیا: ’اعتماد کے خاتمے کی بات اسی وقت کی جاتی ہے جب واقعی اعتماد ختم ہو جائے۔ کریملن کے اعلامیے میں ایسا کوئی جملہ استعمال نہیں کیا گیا۔‘

  15. ٹیکساس میں سیلاب سے تباہی: ایک ہی کاؤنٹی میں کم از کم 75 ہلاکتیں

    امریکی ریاست ٹیکساس میں سیلاب کے بعد درجنوں افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ریاست میں 80 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ جبکہ کیر کاؤنٹی وہ واحد علاقہ ہے جہاں کم از کم 75 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ریاست میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک مزید طوفان اور سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیر کاؤنٹی میں تباہی کے بعد سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا وہاں سیلاب کے سے متعلق مناسب الرٹس جاری کیے گئے تھے۔

    کاؤنٹی میں لڑکیوں کا ایک سمر کیمپ سیلاب سے متاثر ہوا ہے جہاں اب تک کم از کم 27 لڑکیوں اور عملہ ہلاک ہوا ہے۔

    جمعے کی صبح ایک گھنٹے میں گوادالوپ دریا کا بہاؤ 26 فٹ سے زیادہ بڑھ گیا تھا جس کے بعد تباہی کا سلسلہ شروع ہوا۔

  16. برکس اتحاد کی ’امریکہ مخالف پالیسیوں‘ کا ساتھ دینے والے ممالک کو 10 فیصد اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا: ٹرمپ کی دھمکی

    دس ممالک پر مشتمل برکس اتحاد کے رہنماؤں نے ایران پر عسکری حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    برکس کا پہلا اجلاس 2009 میں ہوا تھا اور ابتدائی طور پر صرف برازیل، روس، انڈیا اور چین اس کے رُکن تھے۔ 2010 میں جنوبی افریقہ بھی اس اتحاد کا رُکن بن گیا۔

    گذشتہ برس انڈونیشیا، مصر، ایتھوپیا، ایران اور متحدہ عرب امارات نے بھی اس گروپ میں شمولیت اختیار کی اور اب برکس اتحاد 10 ممالک پر مشتمل ہے۔

    برازیل میں برکس اتحاد کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں 13 جون کے بعد ایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت کے علاوہ اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی پر بھی ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا گیا ہے۔

    خیال رہے اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر حملہ کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائل حملے کیے تھے جن میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔ جنگ کے نویں روز امریکہ نے بھی ایران کے تین جوہری مقامات پر حملہ کر کے انھیں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    تاہم یہ جنگ امریکہ کی ثالثی میں 24 جون کو جنگ بندی پر ختم ہوئی تھی۔

    برازیل میں اجلاس کے بعد برکس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سویلین انفراسٹرکچر اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی نگرانی میں چلنے والے پُرامن جوہری مراکز پر جان بوجھ کر کیے گئے حملوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔‘

    ’غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں‘ پر بھی ’سخت تشویش‘

    اعلامیے میں ’مقبوضہ فلسطینی علاقے‘ کی صورتحال اور ’غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں‘ پر بھی ’سخت تشویش‘ کا اظہار کیا گیا ہے۔

    اعلامیے میں قریقین سے مذاکرات کے ذریعے مستقل اور غیرمشروط جنگ بندی کی درخواست کی گئی ہے اور اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی اور ’دیگر مقبوضہ فلسطینی علاقوں‘ سے انخلا اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

    برکس کے اعلامیے میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں رواں برس 22 اپریل کو ہونے والے حملے کی ’سخت الفاظ میں مذمت‘ کی گئی ہے۔ انڈیا کے سیاحتی مقام پر ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    برکس کے حامی ممالک پر 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کرنے کی دھمکی

    برکس کے اعلامیے میں امریکہ یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر ٹیرف میں کیے جانے والے اضافے پر بھی ’سخت تشویش‘ کا اظہار کیا گیا ہے۔

    ٹیرف ایک اندورن ملک عائد کیے جانے والا ٹیکس ہے جو بیرون ممالک سے امریکہ پہنچنے والے سامان تجارت پر عائد کیا جاتا ہے۔

    برکس اتحاد کے مشترکہ اعلامیے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ ’جو بھی ملک برکس کی امریکہ مخالف پالیسیوں کا ساتھ دے گا اسے 10 فیصد اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

  17. مبینہ توہین مذہب کے کیسز کی تحقیقات کا معاملہ: عدالت کا ’ایمان‘ نامی خاتون کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم, شہزاد ملک/بی بی سی اردو، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مبینہ توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل نام ’کومل اسماعیل‘ ہے جو کہ مبینہ توہین مذہب کے متعدد مقدمات میں درخواست گزار ہیں۔

    پیر کے روز نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ کومل اسماعیل عرف ایمان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ سہالہ میں قتل کا مقدمہ درج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل کے اس مقدمے میں مذکورہ خاتون کا شوہر اور بھائی بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ مبینہ توہین مذہب کے متعدد مقدمات کومل اسماعیل عرف ایمان کی مدعیت میں درج کیے گیے ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے نینشل سائبر کرائم ایجنسی کے حکام سے کہا کہ انھوں نے ایمان کو عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا تو حکام نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے مذکورہ خاتون کے شناختی کارڈ پر دیے گئے ایڈریس پر چھاپہ مارا تھا لیکن اس ایڈریس پر کومل اسماعیل کے بھانجھے نے بتایا کہ وہ نیول اینکریج اپنے سسرال کے گھر منتقل ہوگئی ہے۔

    سائبر کرائم ایجنسی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ان کی مذکورہ خاتون کے سسر سے ملاقات ہوئی تھی جنھوں نے بتایا کہ کومل اسماعیل 2021 میں اپنے شوہر کو چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔

    حکام نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے کومل اسماعیل کا نکاح نامہ حاصل کر لیا ہے جس میں ان کے گھر کا ایڈریس پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر کا ہے۔

    یہ بھی پڑھیے

    عدالت نے نینشل کرائم ایجنسی کے حکام کو کومل اسماعیل کا شناختی کارڈ سمیت دیگر دستاویزات کو اس وقت تک بلاک کرنے کا حکم دیا جب تک مذکورہ خاتون عدالت میں پیش نہیں ہو جاتیں۔

    عدالت نے اسلام آباد پولیس کے حکام کو حکم دیا کہ تھانہ شالیمار کی حدود میں قتل ہونے والے شخص عبداللہ شاہ کی ایک سی سی ٹی وی فوٹیج نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے حکام کو دیں جو کہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال کے باہر سے لی گئی تھی جس میں ایک خاتون گاڑی میں بیٹھی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

    عدالت نے سائبر کرائم ایجنسی کے حکام کو حکم دیا کہ وہ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے اس خاتون کی شناخت کے بارے میں معلومات لیں اور اس ضمن میں بند لفافے میں معلومات عدالت میں جمع کروائی جائیں۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے اسلام آباد پولیس کے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ عبداللہ شاہ قتل کے معاملے پر تحقیقات کریں کہ کیسے عدالت نے پولیس کی بجائے مدعی اور مقتول کے والد کی تفتیش کو تسلیم کر لیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ راؤ رحیم عبداللہ شاہ کے قتل کے مقدمے میں عبوری ضمانت پر تھے اور اس کے ساتھ ساتھ مقتول عبداللہ شاہ سمیت دیگر دو افراد کے خلاف مئی 2022 میں مبینہ توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور یہ مقدمہ راؤ عبدالرحیم کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

    عبداللہ شاہ کی سرکٹی لاش اسی سال اسلام آباد کے جنگلوں سے ملی تھی۔

    سماعت کے دوران راؤ عبدالرحیم نے موقف اختیار کیا کہ ان کو سنے بغیر عدالت نے قتل کے مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا ہے جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے قتل کے مقدمے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم نہیں دیا بلکہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ سے اس ضمن میں رپورٹ طلب کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ اگر کوئی معلومات عدالت کے سامنے لائی جائیں تو ان کی چھان بین کیے بغیر درخواست کی کارروائی کو آگے بڑھا دے۔

    متعدد درخواست گزاروں کی وکیل ایمان مزاری نے مبینہ توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن کی تشکیل کے حق میں دلائل دیے۔

    عدالت نے نیشنل کمیشن فور ہیومن رائٹس کے وکیل سے کہا کہ وہ منگل کو اپنے دلائل دیں اور ایک دن میں ہی اپنے دلائل ختم کریں۔

  18. آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پاکستان کو بیرونی مدد کے دعوے غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی ہیں: آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر

    پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پاکستان کو بیرونی مدد کے دعوے غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی ہیں۔

    وہ اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں نیشنل سکیورٹی اینڈ وار کورس کے فارغ التحصیل افسران سے خطاب کر رہے تھے۔

    فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے اس قسم کے بیانات آپریشن بنیان المرصوص میں پاکستان کی کامیابی کو تسلیم کرنے میں روایتی ہچکچاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔

    آرمی چیف کا کہنا تھا کہ خالصتاً دوطرفہ فوجی تصادم میں دیگر ریاستوں کا نام لینا انڈیا کی جانب سے کیمپ کی سیاست کھیلنے کی ایک ناقص کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے اس طرح کے بیانات کا مقصد خطے میں نام نہاد ’نیٹ سیکیورٹی پروائڈر‘ کے خود ساختہ کردار ادا کرنے کی ناکام کوشش ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے انڈیا کے ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی چار روزہ لڑائی کے دوران اسے ایک سرحد پر پاکستان کے علاوہ چین اور ترکی کا بھی سامنا تھا اور چین پاکستان کو انڈیا کی عسکری تنصیبات کے حوالے سے لائیو معلومات فراہم کر رہا تھا۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا آپریشن سندور کے دوران اپنے مقرر کردہ فوجی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے آپریشن سندور میں ناکامی کی غیر منطقی توجیہات پیش کرنا ،دراصل انڈیا کی آپریشنل تیاری اور تزویراتی دور اندیشی کے فقدان کو ثابت کرتا ہے۔

    جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ کسی بھی مہم جوئی، پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش یا اس کی خلاف ورزی کا بغیر کسی ہچکچکاہٹ کے فوری اور منہ توڑجواب دیا جائے گا۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ ہماری آبادی کے مراکز، فوجی اڈوں، اقتصادی مراکز اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا تکلیف دہ اور سوچ سے بڑھ کر سخت جواب دیا جائے گا۔

  19. دبئی میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ سیکس کرنے کے جرم میں قید برطانوی نوجوان رہا

    دبئی میں 17 سالہ لڑکی سے سیکس کرنے کے جرم میں قید برطانوی نوجوان کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ واپس برطانیہ پہنچ گیا ہے۔

    ٹوٹنہم کے رہائشی 19 سالہ مارکس فاکانا کو دسمبر میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد انھوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

    مارکس فاکانا گذشتہ سال ستمبر میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دبئی میں چھٹیوں پر تھے جب ان کا لندن کی ایک شہری کے ساتھ خفیہ رومانس شروع ہوا۔ لڑکی بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ دبئی آئی ہوئی تھی۔

    برطانیہ لوٹنے کے بعد جب لڑکی کی ماں نے مارکس اور اپنی بیٹی کی تصاویر اور ان کے درمیان ہونے والی بات چیت دیکھی تو انھوں نے اس بارے میں دبئی پولیس کو اطلاع دے دی۔

    دبئی میں 18 سال سے کم عمر فرد کے ساتھ سیکس قانوناً جرم ہے۔

    دبئی میں پھنسے افراد کی مدد کے لیے قائم برطانوی خیراتی ادارے ’ڈیٹینڈ ان دبئی‘ کے مطابق مارکس کی رہائی دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم سے شاہی معافی ملنے کے بعد ہوئی ہے۔

    فکانا نے حال ہی میں العویر جیل سے شیخ محمد بن راشد المکتوم کو خط لکھ کر قبل از وقت رہائی کی درخواست کی تھی۔

    برطانیہ کے فارن اینڈ کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کے ترجمان کے مطابق، مارکس کو عید کے موقع پر ملنے والی معافی کے بعد گذشتہ ہفتے رہا کیا گیا ہے۔

  20. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 133862 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح عبور کر گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور کاروبار کے دوران انڈیکس میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔

    ہفتے کے پہلے کاروباری روز انڈیکس میں 1800 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور مارکیٹ انڈیکس 133862 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے بھی انڈیکس میں اضافہ دیکھا گیا تھا اور جمعے کے روز کاروبار کا اختتام مثبت انداز میں ہوا تھا۔

    مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق۔ سوموار کے روز کاروبار کے آغاز سے ہی خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سے کو بتایا کہ آج مارکیٹ میں تیزی کہ وجہ پاکستان کے معاشی فرنٹ پر ہونے والی پیش رفت ہے جس میں سب سے نمایاں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹیرف پر ہونے والی مثبت پیش رفت ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے پاکستانی مصنوعات کی امریکہ برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف لگنا تھا تاہم اس معاملے میں دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

    جبران سرفراز کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ آذربائیجان کی جانب سے پاکستان میں دو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے اعلان کے بھی مارکیٹ میں سرمایہ کاری پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے دس سالہ صعنتی پالیسی کی منظوری نے بھی مارکیٹ میں کاروبار کو فروغ دیا۔

    جبران سرفراز کے مطابق، نیشنل سیونگ سکیم کے منافع ریٹ میں کمی اور بینکوں میں پیسہ رکھنے پر منافع پر ٹیکس کی شرح میں اضافے کی وجہ سے پیسہ اب سٹاک مارکیٹ میں آرہا ہے اور تیزی کی وجہ بن رہا ہے۔