یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات ہو سکتے ہیں مگر ایجنڈا این آر او یا کسی کی سزائیں معافی نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو اڈیالہ سے نکالنے اور عدالتوں سے متعلق بات نہیں ہو سکتی۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
ایران کے وزیر ِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر یورپ واقعی ایک اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تو اسے اپنی آزادی اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
جوہری مذاکرات میں ایران کی واپسی میں مدد کرنے کے لیے یورپ کی آمادگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرانسیسی اخبار لی موڈے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس غیر جانبداری کی ایک علامت اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرنا ہے- ‘
ایرانی وزیر خارجہ نے بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے جاری رہنے کے بارے میں امریکی حکام کی خبروں اور بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لی مونڈے کو بتایا کہ ’فی الحال کچھ دوست یا ثالثی ممالک کے ذریعے سفارتی تبادلے جاری ہیں۔ ان مذاکرات کی شکل پہلے بیان کی گئی شرائط کی بنیاد پر تبدیل ہو سکتی ہے۔‘
جمعرات کو اس فرانسیسی اشاعت کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔
تاہم، ایرانی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کی حالیہ قرارداد نے این پی ٹی کے خصوصی ونگ کے طور پر اقوام متحدہ کے اس ادارے کی نگرانی کے امکان کو ختم کر دیا ہے۔
12 روزہ جنگ کے دوران، امریکہ اور اسرائیل نے نتنز، فردو اور اصفہان میں ایرانی یورینیم افزودگی کی تین بڑی تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ ایران یا بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی طرف سے ابھی تک ان مراکز کو پہنچنے والے نقصان کی کوئی رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے۔ دریں اثنا، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ایران کے تقریباً 9 ٹن افزودہ یورینیم کی کیا حیثیت ہے، خاص طور پر 400 کلوگرام سے زیادہ افزودہ یورینیم 60 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران ایک ارب 77 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی زر مبادلہ ذخائر 20 ارب ڈالر ہیں جن میں سٹیٹ بینک کی تحویل میں زر مبادلہ ذخائر کی مالیت 14.5 ارب ہے۔
کمرشل بینکوں کی تحویل میں زرِمبادلہ کے خالص ذخائر کی مالیت 5.54 ارب ڈالر ہے مرکزی بینک کے مطابق ہفتے کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 1.77 ارب ڈالر کے اضافے سے 14.50 ارب ڈالر ہو گئے۔
سٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر میں اس اضافے کی وجہ سرکاری رقوم کی وصولی ہے۔
بلوچستان میں نامعلوم مسلح افراد نے ضلع ژوب کے علاقے میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کر دیا ہے۔ ان مسافروں کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے پنجاب جانے والی دو مسافر بسوں سے اتارا گیا تھا۔
اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے نو مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قتل کیے جانے والے افراد کی لاشوں کو پنجاب بھجوانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بسوں سے مسافروں کو اتارنے اور قتل کا واقعہ جمعرات کی شام اس علاقے میں پیش آیا جہاں سرکاری حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے ناکہ بندی کر رکھی تھی۔
فون پر رابطہ کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ نو مسافروں کی لاشوں کو برآمد کرلیا گیا ہے جن کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے سرہ ڈھاکئی میں ناکہ بندی کی تھی جہاں مجموعی طور پردو بسوں سے نو مسافروں کو اتارا گیا۔
دریں اثنا، حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شدت پسندوں نے قلات، مستونگ اور ژوب کے علاقے سرہ ڈھاکئی میں حملے کیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تینوں مقامات پر سکیورٹی فورسز نے فوری اور بھرپور رسپانس دیا، عوام کی جان، مال اور املاک کی حفاظت کے لیے فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر سٹامر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایک نئی پائلٹ سکیم کے تحت چھوٹی کشتیوں میں فرانس پہنچنے والے تارکین وطن کو چند ہفتوں کے اندر واپس کرنا شروع کر دے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ون ان، ون آؤٹ‘ معاہدے کے تحت کچھ آنے والوں کو حراست میں لے کر فرانس واپس بھیج دیا جائے گا۔ اس کے بدلے میں برطانیہ پناہ کے متلاشیوں کی مساوی تعداد کو قبول کرے گا، جو سکیورٹی چیک کے ساتھ مشروط ہے اور بشرطیکہ انھوں نے غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے کی کوشش نہ کی ہو۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ اس منصوبے سے یہ بات ظاہر ہو جائے گی کہ چھوٹی کشتیوں میں چینل کو عبور کرنے کی کوششیں ’بے سود‘ ہوں گی۔
انھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پائلٹ سکیم کے دوران کتنے لوگوں کو واپس کیا جائے گا یا قبول کیا جائے گا۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ پائلٹ سکیم سمگلروں کے ’ماڈل کو توڑنے‘ میں مدد کرے گی اور اگر یہ کامیاب ہوئی تو اسے مزید وسعت دی جائے گی۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ اس سکیم کا زیادہ اثر یہ ہوگا کہ لوگ ایسا کرنے سے ڈریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’بریگزٹ نے برطانیہ کے لیے غیرقانونی تارکین وطن سے نمٹنے کے لیے مشکل تر بنا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’برطانوی عوام کو جھوٹ بیچا گیا کہ مسئلہ یورپ تھا۔‘
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات ہو سکتے ہیں مگر ایجنڈا این آر او یا کسی کی سزائیں معافی نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کسی کو اڈیالہ سے نکالنے اور عدالتوں سے متعلق بات نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کو دوبارہ اسی میز پر آنا ہوگا جہاں سے گذشتہ برس وہ چلے گئے تھے۔ مگر بات عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ہوگی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’حکومت احتجاج کی اجازت دے گی مگر انتشار کی نہیں۔‘
نجی وی ٹی وی جیو سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ اچھی بات ہے کہ عمران خان کے بچے بھی آ رہے ہیں اور قانون کے اندر رہ کر وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’فون پر بات کرنے کے لیے جیل مینوئل موجود ہے۔ کئی بار بات ہوتی ہے۔ کئی پابندیاں بھی ہیں کہ کس طرح اور کیسے بات کر سکتے ہیں۔‘
طلال چوہدری نے کہا کہ ان (عمران خان) کے بیٹے اگر ملنا چاہیں، بات کرنا چاہیں تو کسی کو کیا اعتراض ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی کے پاس شہریت نہیں ہے تو کیا اسے سیاست کرنے اور سیاسی تحریک لیڈ کرنے کی اجازت ہے۔۔ اگر قانون اجازت دیتا ہے تو سو بار وہ کریں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ ’ان کے والد کہتے تھے کہ پاکستان سب سے پہلے مگر انھیں شہریت نہیں دلوائی۔ یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ عمران خان نے اپنے بچوں کو پاکستان کی شہریت کیوں نہیں دلوائی؟‘
بلوچستان کے علاقے دُکی میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملنے والی تشدد زدہ لاشوں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔ ان میں سے ایک لاش جمعرات کو برآمد ہوئی جس کو شناخت کے لیے ہسپتال متقل کیا گیا۔
دُکی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار صفی اللہ نے بتایا کہ تاحال لاش کی شناخت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے شخص کو سر پر کان کے ساتھ ایک گولی مارنے کے علاوہ ان کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی ہیں جبکہ ان کا چہرہ اور جسم کا ایک طرف جلا ہوا تھا۔
گذشتہ روز دُکی میں غڑواس کے قریب ندی سے تین افراد کی لاشیں ملی تھیں جن کو گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ لاشیں پولیس کے زیر انتظام علاقے سے برآمد ہوئی تھیں۔
دُکی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ تینوں افراد کی لاشوں کی شناخت ہوئی تھی جن کا تعلق دُکی کے کلی سفرعلی خان بلوچ سے تھا۔ ان افراد کی لاشوں کے ہمراہ ان کی خواتین رشتہ داروں نے رباط کے مقام پر قومی شاہراہ پر احتجاج کیا تھا۔
تاہم ڈپٹی کمشنر دُکی محمد نعیم خان نے ان سے مذاکرات کیے جس پر انھوں نے احتجاج ختم کیا۔ رابطہ کرنے پر ڈپٹی کمشنر نے مذاکرات کی تصدیق کی تاہم انھوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ کلی سفر علی خان سے کچھ عرصہ قبل متعدد افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا جن میں محمد یونس بھی شامل تھا جس کی لاش گذشتہ روز برآمد ہوئی تھی۔ انھوں نے بتایا گذشتہ تین، چار ماہ کے دوران دُکی، ہرنائی اور ان سے ملحقہ دیگر علاقوں سے متعدد افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں جن میں سے بعض کو ان کے بقول جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ تاحال حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
پنجاب کے حکام نے صوبے بھر میں مون سون بارشوں کے تیسرے سپیل کا الرٹ جاری کیا ہے جس کے تحت 11 سے 17 جولائی کے دوران بیشتر اضلاع میں تیز آندھی اور بارش کی پیشگوئی ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں سے پنجاب کے دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں پانی میں اضافے کے خدشات ہیں۔ ’برساتی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کے پیش نظر انتظامیہ پیشگی الرٹ رہے۔ ’محکمہ صحت آبپاشی تعمیر و مواصلات لوکل گورنمنٹ اور لائیو سٹاک کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔‘
’شہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔‘
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ انڈیا کی طرف سے دو طرفہ فوجی کشیدگی میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنا انڈیا کی بلاک پولیٹکس کو فروغ دینے کی بے بنیاد کوشش ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ’پہلگام واقعے میں واضح شکست کے بعد اب انڈیا فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی پراکسیز کے ذریعے اپنے مذموم ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
کور کمانڈرز کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ ’انڈین حمایت یافتہ اور سپانسرڈ پراکسیز کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اور جامع کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔‘
کانفرنس میں فیلڈ مارشل نے وزیر اعظم پاکستان کے ہمراہ ایران، ترکی، آذربائیجان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حالیہ کامیاب دوروں پر پاکستان کے فعال سفارتی کردار کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا جبکہ دورہ امریکہ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور ایران کی حالیہ پیشرفت کے تناظر میں، داخلی و خارجی سلامتی کے اُمور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں طاقت کے استعمال کے بڑھتے عالمی رجحان کو بحثیت ایک ترجیحی پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
باجوڑ میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سکریٹری برائے امورِ علما مولانا خانزیب کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔
باجوڑ کے ڈی پی او وقاص رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا خانزیب اپنی گاڑی پر جا رہے تھے کہ اچانک دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق انھیں جسم پر متعدد گولیاں لگیں۔
مقامی صحافی بلال یاسر کے مطابق خانزیب اہم شخصیت تھے جنھوں نے سیاسی، قبائلی اور علمی سطح پر خدمات سرانجام دی تھیں۔ ان کے مطابق خانزیب کے گھر پر پہلے بھی حملہ ہو چکا تھا۔
واضح رہے کہ باجوڑ میں پُرتشدد واقعات کے خلاف 13 جولائی کو ایک امن ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور اطلاعات کے مطابق مولانا خان زیب بھی اسی سلسلے میں متحرک تھے۔
باجوڑ میں لغڑئی بازار اور گرد و نواح میں عوام نے سڑکوں پر بدامنی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے باجوڑ میں اسسٹنٹ کمشنر ایک آئی ای ڈی دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔
عوامی نیشنل پارٹی نے مولانا خانزیب کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیس پر پابندیاں عائد کر رہی ہے، جو غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی بڑی ناقد ہیں۔
امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے اس اقدام کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی فرانسسکا البانیس کے لیے حمایت سے جوڑا ہے۔ واضح رہے کہ آئی سی سی کے کچھ ججوں پر امریکہ نے پہلے ہی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے یہ اقدام فرانسسکا البانیس کے امریکی یا اسرائیلی شہریوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوششوں میں براہ راست آئی سی سی کے ساتھ شامل ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا۔
انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ فرانسسکا البانیس اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے طور پر خدمات سر انجام دینے کے لیے نا اہل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کے بعد البانیس پر امریکہ کا سفر کرنے پر پابندی لگ سکتی ہے جبکہ ملک میں موجود ان کے تمام اثاثوں کو بھی منجمد کیا جا سکتا ہے۔
ایکس پر اپنے پیغام میں فرانسسکا البانیس نے ان پابندیوں پر براہ راست تو تبصرہ نہیں کیا تاہم انھوں نے لکھا کہ ’میں اب بھی بہت مضبوطی اور یقین کے ساتھ انصاف کے لیے کھڑی ہوں، جیسا کہ میں نے ہمیشہ کیا۔‘
بی بی سی نے اس بارے میں تبصرے کے لیے فرانسسکا البانیس سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے انکار کر دیا تاہم الجزیرہ نے ان کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے، جس میں انھوں نے ان پابندیوں کو ’مافیا طرز کی دھمکیوں کی تکنیک‘ کے طور پر بیان کیا۔
کراچی میں لیاری کے علاقے بغدادی میں پانچ منزلہ عمارت گرنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
کراچی کے ضلع وسطی کے ایس ایس پی عارف عزیز نے بتایا کہ اس مقدمے میں عمارت کے مالک اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کو نامزد کیا گیا اور ان میں سے مالک سمیت سات افراد کو پولیس نے حراست میں بھی لے لیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ جمعے کو بغدادی میں گرنے والی اس عمارت میں 27 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد آس پاس کی عمارتوں کو بھی خالی کروا دیا گیا ہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق انسپیکشن افسر حماد اللہ کی مدعیت میں یہ ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ پلاٹ نمبر 136 پر سنہ 1986 میں مالک نے دو حصوں میں پانچ منزلیں تعمیر کی تھیں جس کا ایک حصہ گر کر مکمل طور پر زمین بوس ہو گیا، اس حصے میں بیس فلیٹس تھے اور 27 افراد ہلاک ہوئے۔
ریاض سہیل کے مطابق یہ مقدمہ اقدام قتل، لوگوں کو زخمی کرنے، مالی نقصان پہچانے کے الزام میں درج کیا گیا ہے۔
مدعی کے مطابق سال 2022 میں مذکورہ بلڈنگ کی خستہ حالی کے متعلق سندھ بلنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران اور ملازمین کو معلومات تھیں لیکن انھوں نے اپنے اختیارات استعمال نہیں کیے۔
لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع تجارتی مرکز حفیظ سینٹر میں آگ لگ گئی ہے، جس کے بعد وہاں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ڈپٹی کمشنر لاہور سید موسیٰ رضا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سول ڈیفنس کو ریسکیو 1122 عملے کے ساتھ مل کر آگ پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق آگ کی وجوہات کا پتہ لگایا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔
یاد رہے کہ حفیظ سینٹر میں سنہ 2020 میں لگنے والی آگ نے بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچایا تھا۔ دوسری منزل پر لگی یہ آگ چوتھی منزل تک پھیل گئی تھی لیکن اسے فائر فائٹرز مخصوص حصوں تک محدود کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے تاہم آگ بجھانے میں تقریباً نو گھنٹے لگے تھے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ’ہمیں مکمل طور پر اس بات کا علم ہے کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف، اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر کو نشانہ بنانے والی مذموم مہم کے پیچھے کون ہے؟‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’میں واضح طور پر کہہ چکا ہوں کہ نہ تو اس بارے میں کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی صدر سے استعفیٰ لینے یا چیف آف آرمی سٹاف کے صدر بننے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’صدرِ پاکستان آصف زرداری کو مسلح افواج کی قیادت کے ساتھ ایک مضبوط اور باوقار تعلق حاصل ہے، انھوں نے صاف الفاظ میں کہا ہے ’مجھے معلوم ہے یہ جھوٹ کون پھیلا رہا ہے، وہ ایسا کیوں کر رہا ہے اور اس پروپیگنڈے سے کسے فائدہ پہنچے گا۔‘
اپنے پیغام میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’چیف آف آرمی سٹاف کی واحد توجہ پاکستان کی طاقت اور استحکام پر ہے اور کسی اور چیز پر نہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو لوگ اس بیانیے کا حصہ ہیں، وہ چاہیں تو دشمن غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر جو کرنا ہے کر لیں، ہم انشا اللہ پاکستان کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے جو بھی ضروری ہوا، وہ کریں گے۔‘
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور پاکستان کے دوسرے صوبوں کے درمیان جمعرات کو ٹرین سروس معطل رہے گی۔
ریلویز کوئٹہ ڈویژن کے ترجمان محمد کاشف کی جانب سے میڈیا کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق جمعرات کو کوئٹہ اور پشاور کے درمیان چلنے والی جعفر ایکسپریس جبکہ کوئٹہ اور کراچی کے درمیان چلنے بولان میل کوئٹہ سے روانہ نہیں ہوئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسی طرح پشاور سے چلنے والی جعفر ایکسپریس بھی کوئٹہ نہیں آئے گی۔
اگرچہ ریلویز کوئٹہ ڈویژن کے ترجمان نے آج ٹرین سروس کی معطلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی تاہم جب اس سلسلے میں ریلویز کوئٹہ کنٹرول کے ایک سینیئر اہلکار سے رابطہ کیا گیا تو انھوں بتایا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹرین سروس معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تاہم ریلویز کوئٹہ ڈویژن کے ترجمان کے مطابق جمعہ سے شیڈول کے مطابق ٹرینوں کی آمدورفت شرو ہو جائے گی۔
خیال رہے کہ کوئٹہ اور پاکستان کے دیگر شہروں کے درمیان ٹرینوں کو ضلع کچھی کے دشوار گزار علاقے بولان سے گزرنا پڑتا ہے جہاں ان پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ سبی اور جیکب آباد کے درمیان بھی ماضی میں ٹرینوں پر حملے ہوئے ہیں۔
تاہم ٹرینوں کی آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مون سون کی جاری بارشوں کی وجہ سے اب تک چھ افراد ہلاک اور چھ ہی زخمی ہوئے ہیں۔
مُلکی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق 26 جون سے نو جولائی تک مُلک بھر میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے 87 افراد ہلاک جبکہ 149 زخمی ہوئے ہیں۔
مون سون کی بارشوں کی وجہ سے 26 جون سے نو جولائی تک صوبہ خیبر پختونخوا میں اب تک مختلف واقعات میں سب سے زیادہ 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس طرح صوبہ پنجاب میں 29، سندھ میں 16، بلوچستان میں 11 جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کی رات موسلادھار بارش کے باعث مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان،ایبٹ آباد، بونیر، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، نوشہرہ، صوابی، مردان، اسلام آباد/راولپنڈی، ڈی جی خان، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان (بارکھان، کوہلو، موسی خیل، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، سبی، لورالائی، ژوب، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، پنجگور، تربت) کے مقامی برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ۔ تاہم شدید بارشوں کے باعث متعدد پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ بھی ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں ایک تازہ ترین روسی ڈرون حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ہیں۔
کیئو میں مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں وسطی شیوچنکیوسکی ضلع میں ایک رہائشی عمارت پر روسی ڈرون کا ملبہ گرا۔
سوشل میڈیا پر جاری فوٹیج، جس کی بی بی سی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے، میں رات کے وقت دھماکوں کی وجہ سے آسمان پر سُرخ بادل اُٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس وقت کے بارے میں گُمان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسا تب دیکھنے میں آیا کہ جب ایئر ڈیفنس سسٹم نے حملے کو پسپا کرنے کی کوشش کی۔
تاہم یوکرین کی فوج کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے اور اس حوالے سے لوگوں کو خبردار بھی کیا ہے۔
یوکرین میں منگل کی رات روس کی جانب سے اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا گیا جس کے بعد 728 ڈرونز اور 13 کروز یا بیلسٹک میزائلوں نے ملک بھر کے متعدد شہروں کو نشانہ بنایا۔
جمعرات کی علی الصبح کیئو کی فوجی انتظامیہ نے چھ شہروں کے مختلف اضلاع میں روسی ڈرون حملوں کی اطلاع دی۔
انتظامیہ کے سربراہ تیمور ٹکاچینکو نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’رہائشی عمارتیں، گاڑیاں، گودام، دفتر اور غیر رہائشی عمارتیں ان حملوں میں شدد نقصان پہنچا ہے۔‘
انھوں نے بعد میں کہا کہ ’بدقسمتی سے ان حالیہ روسی حملوں میں اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے۔‘
مُلک کے مختلف شہروں کی طرح لاہور میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق اب تک پنجاب بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور آندھی سے 04 افراد ہلاک جبکہ 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
واسا کے مطابق اب تک لاہور میں اوسطاً 121 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے صوبے بھر میں مسلسل بارشوں کے پیش نظر اربن فلڈنگ کے لئے پیشگی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعلی کا ہر شہر کی مرکزی اور اندرونی شاہراہوں کو جلد از جلد آمدورفت کے قابل بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
واسا کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جیل روڈ پر 109 ملی میٹر، ایئرپورٹ 56 ملی میٹر ہیڈ آفس گلبرگ 139, لکشمی چوک 125, اپر مال 110, مغلپورہ 113, تاجپورہ 107, نشتر ٹاون 162, چوک نا خدا 121, ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری ککا کہنا ہے کہ ’لاہور میں گزشتہ پانچ سے چھ گھنٹوں سے مسلسل بارش جاری ہے جس کے پیشِ نظر واسا اور ضلعی انتظامیہ کی تمام ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں۔
مُلک بھر میں جاری بارشوں سے متعلق پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ صوبہ پنجاب کے علاوہ صوبہ سندھ میں دادو وہ شہر ہے کہ جہاں اب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اب تک 35 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمے کے مطابق بلوچستان میں سبی میں سب سے زیادہ بارش 24 ملی میٹر جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے برنالہ میں 24 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
تاہم محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں چیرات میں سب سے زیادہ بارش 20 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کی رات موسلادھار بارش کے باعث مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان،ایبٹ آباد، بونیر، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، نوشہرہ، صوابی، مردان، اسلام آباد/راولپنڈی، ڈی جی خان، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان (بارکھان، کوہلو، موسی خیل، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، سبی، لورالائی، ژوب، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، پنجگور، تربت) کے مقامی برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ۔ تاہم شدید بارشوں کے باعث متعدد پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہونے کا خطرہ بھی ہے۔
یورپی بحری مشن کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثی جنگجوؤں نے ایک مال بردار بحری جہاز پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں عملے کے چھ ارکان کو بچا لیا گیا جبکہ کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں یہ بحری جہاز ڈوب گیا ہے۔
یوکے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) ایجنسی کے مطابق لائبیریا کے پرچم بردار اور یونان کے زیر انتظام کام کرنے والے بحری جہاز ’ایٹرنٹی سی‘ میں عملے کے 25 افراد سوار تھے جب اسے پیر کے روز حوثی جنگجوؤں کی جانب سے چھوٹی کشتیوں کی مدد سے راکٹ اور دستی بموں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کی وجہ سے اس بحری جہاز کو شدید نقصان پہنچا کی زد میں آنے کے بعد کافی نقصان پہنچا۔
حملہ منگل کو بھی جاری رہا تاہم رات گئے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایٹرنٹی سی پر اس لیے حملہ کیا کیونکہ یہ اسرائیل کی جانب بڑھ رہا تھا اور وہ عملے کے ارکان کو اپنے ساتھ لے گئے جن کی تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔
یمن میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجوؤں نے عملے کے کئی ارکان کو اغوا کر لیا ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
فلپائن کے حکام کا کہنا ہے کہ عملے کے ارکان میں سے 21 اُن کے شہری تھے۔ ان میں سے ایک روسی شہری ہیں جو حملے میں شدید زخمی ہوئے۔
ایک ہفتے میں یہ دوسرا بحری جہاز ہے جو حوثیوں جنگجوؤں کے حملے کے واجہ سے ڈوبا ہے۔ اس سے قبل اتوار کے روز حوثی باغیوں کی جانب سے لائبیریا کے جھنڈے والے، یونان سے چلنے والے ایک اور مال بردار جہاز میجک سیز پر میزائل اور ڈرون کی مدد سے حملہ کیا گیا تھا۔
حوثی جنگجوؤں کی جانب سے منگل کو جاری کی جانے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح افراد جہاز پر سوار ہو رہے ہیں جس کے بعد اُن کی جانب سے بحری جہاز کے متعدد حصوں کو نشانہ بنایا گیاگ جس کی وجہ سے یہ مال بردار بحری جہاز ڈوب گیا۔
میجک سیز کے عملے کے تمام 22 افراد کو وہاں سے گزرنے والے ایک اور بحری جہاز نے بچا لیا تھا۔
نومبر 2023 سے اب تک حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تقریباً 70 تجارتی بحری جہازوں کو میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں کے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
حوثی جنگجوؤں کے حملوں میں اب تک چار بحری جہاز ڈوب چُکے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں آج پولیس نے مسلح شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے جس میں پولیس کے مطابق مسلح شدت پسندوں کا جانی نقصان ہوا ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ کارروائی بعد دوپہر شروع کی گئی تھی اور بنوں ڈویژن کے پولیس افسر سجاد خان نے اس آپریشن کی قیادت کی ہے۔
پولیس کے مطابق ضلع بنوں میں میران کے علاقے میں نورڑ کے مقام پر کبلئی قبرستان کے پاس شدت پسندوں کا ایک مرکز تھا جہاں سے مسلح افراد پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے تھے۔ شدت پسندوں نے منگل کی رات اور بدھ کی صبح میران تھانے پر دو مرتبہ کواڈ کاپٹر سے حملے کیے ہیں جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
بنوں ڈویژن کے ریجنل پولیس افسر سجاد خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ آج بدھ کے روز پولیس نے مسلح گروہ کے مرکز کا گھیراؤ کیا جس دوران دونوں جانب سے ہلکے اور بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے جن میں راکٹ لانچر شامل تھے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں کواڈ کاپٹرز یا ڈرونز کا بھی استعمال ہوا ہے۔
کواڈ کاپٹر سے کیے گئے دھماکے میں ایک اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں جنھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ فائرنگ کے تبادلے میں مسلح افراد کا بھی جانی نقصان ہوا ہے لیکن اندھیرے کی وجہ سے اس کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔
مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ دھماکے سے پولیس کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا جس کے بعد مسلح افراد نے گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔ مسلح افراد کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں وہ علاقے میں موجود دکھائی دیتے ہیں اور رہائشیوں کو وہاں سے دور جانے کا کہہ رہے ہیں۔
سجاد خان کے مطابق پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر فورسز نے بہادری سے شدت پسندوں کے مرکز کا گھیراؤ کیا ہے اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہ ہو جائے۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں اور دیگر قریبی اضلاع میں حالات کافی کشیدہ ہیں، جہاں ڈرون اور کواڈ کاپٹر کے ذریعے ہونے والے دھماکوں میں اکثر عام شہری، بچے اور خواتین بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ان علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔