یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
بی بی سی اردو کا لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازتہ ترین خبروں اور اہم تجزیوں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے آج آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ سینٹ کام نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں بظاہر ان کشتیوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران پر ایک بار پھر حملے شروع کر دیے ہیں اور لبنان کے دارالحکومت بیروت پر بھی نئی فضائی کارروائی کی گئی ہے۔
بی بی سی اردو کا لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
تازتہ ترین خبروں اور اہم تجزیوں کے لیے آپ اس لنک پر کلک کریں۔
اسرائیلی فوج نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر نئی فضائی کارروائی کی ہے۔
فوج کے مطابق یہ حملے جنوبی بیروت میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے آج آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی 16 بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ سینٹ کام نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں بظاہر ان کشتیوں کو نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ افواج نے ایران کی 10 غیر فعال کشتیوں کو تباہ کیا ہے اور وعدہ کیا تھا کہ ان کشتیوں سے "جلدی اور سختی" سے نمٹا جائے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں بُدھ کو جی سیون رہنماؤں کی ایک ملاقات کی صدارت کریں گے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے اثرات پر بات کی جا سکے۔
یہ ملاقات اس وقت طے کی گئی ہے جب ایمانوئل میخواں نے منگل کو کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی سے جنگ اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات کے بارے میں گفتگو کی۔
مارک کارنی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے ’جی سیون شراکت داروں کے درمیان تعاون بڑھانے‘ پر اتفاق کیا۔
اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایرانی عوام کے نام ایک پیغام جاری کیا ہے، جس میں انھیں آیت اللہ حکومت کو گرانے اور ’اپنی آزادی حاصل کرنے‘ کی اپیل کی گئی ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’آیت اللہ اب نہیں رہے، اور میں جانتا ہوں کہ آپ نہیں چاہتے کہ ان کی جگہ کوئی اور جابر آئے۔ اس لیے آپ کو عمل کرنا ہوگا۔ ہم آپ کے لیے حالات پیدا کر رہے ہیں تاکہ آپ ایسا کر سکیں۔‘
وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ وہ ایرانی عوام کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اقدام کریں، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل اقتدار میں موجود افراد کو ہٹانے کے لیے کوشاں ہیں۔
انھوں نے لکھا کہ ’آنے والے دنوں میں ہم ایسے حالات پیدا کریں گے کہ آپ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکیں۔ جب وقت درست ہوگا، اور وہ وقت قریب ہے، ہم یہ مشعل آپ کو تھما دیں گے۔‘
نیتن یاہو نے اس سے پہلے 8 مارچ کو بھی اسی نوعیت کا پیغام جاری کیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ ’فضائی دفاعی نظام اس وقت میزائل خطرے کا جواب دے رہا ہے۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری تازہ بیان میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقام پر رہیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
اسرائیل کی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران میں اہداف پر ’اضافی حملوں کی لہر‘ شروع کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کی 10 کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے جو بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان ابھی سوشل میڈیا پر کیا۔
انھوں نے لکھا کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر ہم نے 10 غیر فعال بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں اور/یا جہازوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، اور مزید بھی ہوں گے!‘
صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے سوشل میڈیا بیان میں ترمیم کرتے ہوئے دو جملے شامل کیے، جن میں انھوں نے وعدہ کیا کہ ایسی کشتیوں کو ’شدید طاقت کے ساتھ‘ ختم کیا جائے گا۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہم وہی ٹیکنالوجی اور میزائل صلاحیتیں استعمال کر رہے ہیں جو منشیات اسمگل کرنے والوں کے خلاف تعینات کی گئی تھیں، تاکہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کسی بھی کشتی یا جہاز کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے۔ انہیں تیزی اور شدت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ خبردار!‘
امریکی افواج ستمبر سے ان جہازوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں جن پر شبہ ہے کہ وہ کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل کے راستے منشیات سمگل کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں اب تک 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جنھیں بعض قانونی ماہرین بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
ایران کے اقوامِ متحدہ میں سفیر امیر سعید ایراوانی نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اتوار کو بیروت کے رمادا ہوٹل پر حملے میں چار ایرانی سفارتکاروں کو ہلاک کیا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں امیر ایراوانی نے کہا کہ یہ حملے ’جان بوجھ کر‘ اور ’ہدف بنا کر‘ کیے گئے، جب سفارتکار اپنے سرکاری رہائش گاہوں سے ہوٹل منتقل ہوئے تھے۔
خط میں کہا گیا ’چار ایرانی سفارتکاروں کو اس وقت نشانہ بنا کر قتل کرنا جب وہ ایک خودمختار رکن ریاست کے سرکاری نمائندے کی حیثیت سے کسی دوسری خودمختار ریاست کی سرزمین پر خدمات انجام دے رہے تھے، ایک سنگین دہشت گردانہ کارروائی اور بین الاقوامی قانون کی شدید خلاف ورزی ہے۔‘
یہ حملہ بیروت کے مرکزی علاقے میں واقع ہوٹل کی چوتھی منزل پر ہوا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اندر ایرانی اہلکاروں کی ایک خفیہ میٹنگ جاری تھی۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد ایران کی ایلیٹ قدس فورس سے تعلق رکھتے تھے، جو پاسدارانِ انقلاب کی بیرونِ ملک کارروائیوں کا شعبہ ہے۔
لبنانی وزارتِ صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں چار افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ’ایران نے آبنائے ہرمز میں کوئی بارودی سرنگیں بچھائی ہیں‘ تو اس کے نتائج ’ایسے ہوں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے‘، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے پاس اس بارے میں ’کوئی رپورٹ موجود نہیں‘۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں کوئی بارودی سرنگیں بچھائی ہیں، اور ہمارے پاس اس کی کوئی رپورٹ نہیں ہے، تو ہم چاہتے ہیں کہ انھیں فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔ اگر کسی وجہ سے سرنگیں بچھائی گئی ہیں اور انھیں فوراً نہ ہٹایا گیا تو ایران کے لیے فوجی نتائج ایسے ہوں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر دوسری طرف وہ جو کچھ بھی بچھایا گیا ہے اسے ہٹا دیتے ہیں تو یہ درست سمت میں ایک بڑا قدم ہوگا۔‘
گذشتہ دنوں تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے کیونکہ اس اہم تجارتی راستے سے تیل کی ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا ماننا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں بچھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز کے مطابق ایران چھوٹی کشتیوں کا استعمال کر رہا ہے جو دو سے تین بارودی سرنگیں لے جا سکتی ہیں۔
روس نے کہا ہے کہ ایران کے شہر اصفہان میں اس کا قونصل خانہ ہفتے کے آخر میں اس وقت متاثر ہوا جب قریب واقع گورنر کے دفتر پر حملے کیے گئے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے اس واقعے کو بین الاقوامی قانون کی ’کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا، تاہم کسی مخصوص ملک پر الزام نہیں لگایا۔
انھوں نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زیادہ سے زیادہ ریاستوں اور ان کے شہریوں کے مفادات کو متاثر کر رہا ہے۔‘
ماریا زاخارووا کے مطابق اس واقعے میں کوئی ہلاکت یا سنگین زخمی نہیں ہوا۔
منگل کو ایران کی جانب سے سب سے بڑا حملہ ابو ظہبی کے رواِیس انڈسٹریل کمپلیکس پر ڈرون حملہ تھا، جو مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی ریفائنری ہے۔
ابو ظہبی میڈیا آفس نے بتایا کہ وہاں آگ بھڑک اٹھی تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔ مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز اور اے ایف پی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ احتیاطی طور پر ریفائنری نے کام روک دیا ہے۔ یہ سائٹ ابو ظہبی کی سرکاری تیل کمپنی ’اے ڈی این او سی‘ چلاتی ہے، جو روزانہ نو لاکھ 22 ہزار بیرل تیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دفاعی وزارت کے مطابق منگل کو آٹھ بیلسٹک میزائل اور 26 ڈرون ناکام بنا دیے گئے، جبکہ نو ڈرون فضائی دفاع سے گزرنے میں کامیاب ہوئے۔
ملک نے اب اپنا قومی ابتدائی وارننگ سسٹم تبدیل کر دیا ہے تاکہ رات کے وقت موبائل فون پر بھیجے جانے والے الرٹس زیادہ خاموش ہوں۔
اس سے پہلے دبئی میں لوگوں کو تازہ حملے کی اطلاع ایک عام ٹیکسٹ میسج کے ذریعے دی گئی تھی۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ سے جب صحافیوں نے پوچھا کہ ایران میں جاری جنگ کب تک چلے گی تو انھوں نے جواب دیا کہ ’ابتدائی منصوبہ چار سے چھ ہفتوں کا تھا، جس میں ایران کے میزائل اور بحریہ کو تباہ کرنا، اس کی جوہری صلاحیت ختم کرنا اور اس کے اتحادی گروہوں کو مٹانا شامل تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن مقررہ وقت سے آگے بڑھ رہا ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا، لیکنجنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک ایران ’مکمل اور غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈال دے، چاہے وہ اس کا اعلان کرے یا نہ کرے۔‘
پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے مزید کہا کہ یہ صدر ٹرمپ ہوں گے جو فیصلہ کریں گے کہ ایران اب براہِ راست خطرہ نہیں رہا۔
جنگ کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتیں کم ہوں گی: امریکی پریس سیکریٹری
کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ’تیل اور گیس کی حالیہ قیمتوں میں اضافہ عارضی ہے، اور یہ آپریشن طویل مدت میں قیمتوں کو کم کرے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ امریکی فوج صدر ٹرمپ کی ہدایت پر آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اضافی آپشنز تیار کر رہی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ آپشنز کیا ہیں، صرف اتنا کہا کہ ’صدر انھیں استعمال کرنے سے نہیں گھبرائیں گے۔‘
آپریشن ایپک فیوری کی کامیابیاں
وائٹ ہاؤس میں کیرولین لیوٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری آپریشن ایپک فیوری کی ’کامیابیوں‘ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل حملے 90 فیصد سے زیادہ کم ہو گئے ہیں جبکہ ڈرون حملے تقریباً 85 فیصد کم ہوئے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے ایران کے 50 سے زیادہ بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں۔
کیرولین لیوٹ کے مطابق صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آزادانہ ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اچھی بات ہے کہ ان دہشت گردوں کو ختم کیا جائے جو شہریوں کو بلا امتیاز نشانہ بناتے ہیں اور عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
پینٹاگون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز سے اب تک تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ ’ان میں سے زیادہ تر زخم معمولی نوعیت کے ہیں‘ اور 108 فوجی دوبارہ ڈیوٹی پر واپس جا چکے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’آٹھ فوجی شدید زخمی ہیں اور انھیں اعلیٰ ترین سطح کی طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔‘
امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن کسی سفارتی حل کی کوئی علامت نظر نہیں آتی۔
سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ’ایران کی خطے کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش الٹا اثر ڈال رہی ہے‘ اور اس کے بجائے ’لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا رہی ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک نے امریکہ سے رابطہ کیا ہے ’جو ابراہام پیس اکارڈ کا حصہ بننا چاہتے ہیں‘۔
سٹیو وٹکوف نے پیر کو ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ٹیلی فونک گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوتن نے ٹرمپ کو بتایا کہ روس ایران کے ساتھ امریکی اثاثوں کے بارے میں کوئی انٹیلیجنس شیئر نہیں کر رہا۔
واضح رہے کہ سٹیو وٹکوف ٹرمپ کی طرف سے ایران سے مذاکرات بھی کر رہے تھے۔ یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں ہو رہے تھے۔ ان مذاکرات کے دوران ہی امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا۔
ایران کا الزام ہے کہ یہ دوسری بار امریکہ اور اسرائیل نے ایسا کیا کہ جب سفارتی عمل شروع ہوا تو جنگ چھیڑ دی گئی۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ کچھ دیر پہلے ایران کی جانب سے اس کی سرحدوں کی طرف میزائل فائر کیے گئے۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اسرائیل ڈیفنس فورسز نے کہا کہ وہ اس خطرے کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور ان علاقوں میں لوگوں کو موبائل فون الرٹس کے ذریعے آگاہ کیا جا رہا ہے جہاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ’الرٹ موصول ہونے پر عوام کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ محفوظ جگہ میں داخل ہو جائیں اور تاحکم ثانی وہیں رہیں۔‘
کچھ دیر قبل تین امریکی بی-1 بمبار طیارے آر اے ایف فیرفورڈ سے روانہ ہوئے ہیں۔ جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع آر اے ایف فیرفورڈ پر امریکی بی-1 اور بی-52 بمبار طیاروں کی آمد نے کئی طیارہ شوقین افراد اور شوقیہ فوٹوگرافروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ان میں سے کئی نے بتایا کہ انھوں نے یہاں 12 بی-1 بمبار گنے ہیں، کیونکہ چار مزید طیارے پہلے ہی لینڈ کر چکے ہیں۔
ہم نے کافی سرگرمی دیکھی ہے۔ کچھ طیاروں کے انجن چل رہے ہیں جبکہ دیگر پر اہلکار معائنہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نہ برطانیہ کی وزارتِ دفاع اور نہ ہی امریکی پینٹاگون نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ آیا ان میں سے کسی طیارے نے ایران پر بمباری مشن میں حصہ لیا ہے یا نہیں۔
ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سربراہ نے متعدد میڈیا اداروں کو بتایا ایران میں جنگ کے آغاز سے اب تک 19 ہزار سے زائد شہری ’یونٹس‘ کو نقصان پہنچا ہے۔
اس سوسائٹی میں امریکی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی بھی شامل ہے۔
ان میں سے 16 ہزار سے زائد رہائشی اور تین ہزار سے زیادہ تجارتی یونٹس ہیں۔ نقصان پہنچنے والی سہولتوں میں 77 دواساز اور طبی مراکز، اور 69 سکول بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران میں شہری ہلاکتوں کے الزامات کی تحقیقات کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا ’دنیا میں کوئی ملک شہریوں کو نشانہ نہ بنانے کے لیے امریکہ سے زیادہ احتیاط نہیں کرتا۔‘
برطانیہ نے قبرص میں اپنے اڈے پر فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ڈرون تباہ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیلی کاپٹرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے بتایا تھا کہ ائر ڈیفینس ڈسٹرائر ایچ ایم اس ڈریگن کو بھی اس خطے میں بھیجا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ ’قبرص کی سکیورٹی اور وہاں تعینات برطانوی فوجی اہلکاروں کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔‘
اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ایچ ایم ایس ڈریگن پورٹسماؤتھ سے روانہ ہو کر قبرص کی طرف بڑھ رہا ہے۔ برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے ایک ہفتہ قبل تصدیق کی تھی کہ یہ ٹائپ 45 ڈسٹرائر بحیرہ روم میں تعینات کیا جائے گا، جب ایک ڈرون نے قبرص میں آر اے ایف اکروتیری بیس کے رن وے کو نشانہ بنایا تھا، جسے وزارتِ دفاع نے ’معمولی نقصان‘ قرار دیا۔
رائل نیوی کے پاس بحیرہ روم میں اس وقت کوئی بڑا جنگی جہاز موجود نہیں ہے۔‘
ایچ ایم ایس ڈریگن: دس سیکنڈ سے بھی کم وقت میں آٹھ میزائل داغنے کی صلاحیت کا حامل جنگی جہاز
وزارتِ دفاع کے مطابق ایچ ایم ایس ڈریگن رائل نیوی کے چھ ٹائپ 45 ڈسٹرائرز میں سے ایک ہے، جو فضائی خطرات جیسے طیاروں، میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بیڑے کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ یہ عام طور پر پورٹسماؤتھ میں تعینات رہتا ہے اور اس پر تقریباً 200 ملاح موجود ہوتے ہیں۔ یہ جہاز قبرص کے رقبے سے پانچ گنا بڑے علاقے کو محفوظ بنا سکتا ہے اور بیک وقت سینکڑوں اہداف کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کا سی وائپر میزائل نظام دس سیکنڈ سے کم وقت میں آٹھ میزائل داغ سکتا ہے اور بیک وقت 16 میزائل اپنے اہداف پر مرکوز کر سکتا ہے، جو آواز کی رفتار سے چار گنا زیادہ تیز ہے۔ گذشتہ سال ایچ ایم ایس ڈریگن پہلا برطانوی جنگی جہاز بنا جس نے سکاٹ لینڈ کے قریب ایک بین الاقوامی مشق کے دوران آواز سے زیادہ رفتار والے میزائل کو تباہ کیا۔
ہم اپنی بحری جہاز رانی کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں: برطانوی حکومت
برطانیہ میں ڈاؤننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ حکومت مشرقِ وسطیٰ میں اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ جہاں ممکن ہو برطانوی جہاز رانی کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کے ترجمان نے کہا کہ حکومت آبنائے ہرمز سے جہازوں کی حفاظت کے لیے مختلف آپشنز پر کام کر رہی ہے۔
توانائی کے وزیر ایڈ ملی بینڈ نے بتایا کہ انھوں نے بی پی اور شیل سمیت کئی کمپنیوں سے بات کی ہے تاکہ انھیں حکومت کی تشویش اور جہازوں و ملازمین کی سلامتی کے بارے میں یقین دہانی کرائی جا سکے۔
ترجمان نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ بھی اس عمل میں شامل ہے اور جہاں ضرورت ہو مشورہ اور رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔ جب حکومت کی فوجی نقل و حرکت اور اس بات پر سوال کیا گیا کہ آیا وہ جہاز رانی کے راستے پر تعینات ہوں گے، تو ترجمان نے کہا کہ حکومت کی ’ترجیح کشیدگی کم کرنا اور سفارت کاری کی طرف واپسی‘ ہے۔