یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات اور سکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں!
افغانستان سے متصل پاکستان کے شہر چمن میں افغانستان کی سرحد پر آمدورفت کے مسئلے پر تقریباً دس ماہ سے جاری دھرنا منتظمین کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے سیاسی و معاشی حالات اور سکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں!

،تصویر کا ذریعہX
پولیس نے 20 جولائی کو لاپتہ ہونے والے پاکستان تحریکِ انصاف کے کوارڈینیٹر احمد جنجوعہ کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج ہے اور مختصر سماعت کے بعد عدالت نے انھیں سات دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
احمد جنجوعہ پی ٹی آئی کی جانب سے بین الاقوامی میڈیا کے لیے معاون کے طور پر کام کرتے ہیں۔
احمد کی اہلیہ نے ان کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جو درخواست دائر کی تھی اس کے مطابق پولیس کی وردی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ان کے شوہر کو سنیچر 20 جولائی کی صبح گھر سے زبردستی اٹھا کر لے گئے تھے۔
پیر کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس ارباب محمد طاہر کا کہنا تھا کہ ’لوگ لاپتا ہو جاتے ہیں، ریاست کو کچھ پتا نہیں ہوتا۔۔۔ بلوچستان، کے پی میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا اب اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے‘۔
عدالت کو بتایا گیا کہ تھانہ ہمک میں احمد جنجوعہ کے ’اغوا‘ کے حوالے سے ایک ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کو طلب کرتے ہوئے معاملے میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بارہ بجے تک رپورٹ مانگ لی۔
تاہم ایک طرف اسلام آباد ہائیکورٹ نے احمد جنجوعہ کی بازیابی کے معاملے میں رپورٹ طلب کی تو دوسری طرف احمد وقاص جنجوعہ کو اسی دوران انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
انھیں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سماعت کے دوران تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ملزم سے گرفتاری کے وقت دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا اور کالعدم تنظیموں سے تعلقات اور مزید تفتیش اور برآمدگی کے لیے ملزم کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
تاہم جج طاہر سپرا نے احمد جنجوعہ کا سات دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انھیں 29 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
خیال رہے کہ احمد جنجوعہ کی گمشدگی کے بعد تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ تحریکِ انصاف کے میڈیا سیل سے منسلک پانچ افراد کو اغوا کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ٹیم کو کام کرنے اور عالمی میڈیا کو رپورٹنگ سے روکنے کی کوشش ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہABDUL BASIT ACHAKZAI
افغانستان سے متصل پاکستان کے شہر چمن میں افغانستان کی سرحد پر آمدورفت کے مسئلے پر تقریباً دس ماہ سے جاری دھرنا منتظمین کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ بلوچستان کے سابق نگران وزیر داخلہ ملک عنایت اللہ کاسی کے خطاب کے بعد کیا گیا جس میں انھوں نے اعلان کیا کہ دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات کو تسلیم کیا گیا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب چمن سے آمدورفت شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ کی بنیاد پر ہو گی اور اگر کسی کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ہو گا تو وہ شناختی کارڈ کے ٹوکن پر سفر کر سکے گا۔
انھوں نے بتایا کہ جن نوجوانوں کے شناختی کارڈ نہیں بنے ہیں ان کے شناختی کارڈ بنانے کے لیے نادرا کی دس موبائل گاڑیاں بھی چمن لائی گئی ہیں۔
ملک عنایت کاسی کے دعووں کے برعکس جہاں اس بارے میں تاحال حکومتِ پاکستان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے وہیں گورنر بلوچستان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان چمن سرحد کا مسئلہ حکومت کی کاوشوں اور وفاقی حکومت سے رابطوں کے نتیجے میں حل ہو گیا ہے۔
ادھر افغان سرحدی علاقے سپین بولدک کے حکام نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ خبر کہ شناختی کارڈ اور تذکرہ کی بنیاد پر سرحد کو کھول دیا گیا ہے حقائق سے دور ہے۔
چمن کے سینیئر صحافی نعمت اللہ سرحدی کے مطابق طالبان حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے رسمی اعلان تک کوئی بھی سرحد سے آمدورفت کی کوشش نہ کرے۔
اس دھرنے کا آغاز گذشتہ برس نگران حکومت کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط لاگو کرنے کے بعد ہوا تھا۔
اس پابندی کے نفاذ سے قبل چمن کی سرحد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان لوگوں کی آمدورفت پاکستانی قومی شناختی کارڈ یا افغان تذکرہ کی بنیاد پر ہوتا تھا اور مظاہرین اسی نظام کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
جب یہ دھرنا شروع ہوا تو اسے نہ صرف چمن کی سطح پر تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی بلکہ بلوچستان کی اکثر سیاسی جماعتیں بھی دھرنے کے مطالبے کی حمایت کرتی رہیں۔
اس دھرنے اور احتجاج کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی بری طرح سے متاثر ہوئی۔
چمن پولیس کے سربراہ شاہد جمیل کاکڑ نے دھرنے کے خاتمے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ احتجاج میں شامل افراد نے تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا ہے۔
دھرنے کے خاتمے سے قبل حکام نے اس احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے ان رہنماؤں کو بھی رہا کر دیا ہے جنھیں رواں برس جون کے اوائل میں احتجاج میں شدت آنے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان رہنماؤں میں لغڑی اتحاد کے صدر غوث اللہ اور دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی کے علاوہ لغڑی اتحاد کے بعض دیگر عہدیدار شامل تھے۔
اتوار کو یہ رہنما سابق نگراں وزیر ملک عنایت کاسی کے ہمراہ دھرنے کے مقام پر پہنچے جہاں دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ احتجاج میں شامل افراد سے خطاب کرتے ہوئے ملک عنایت کاسی نے یہ بھی کہا کہ ’دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں اور آئندہ سرحد کے حوالے سے جو معاہدہ ہو گا وہ کسی ملک یا خان کے لیے نہیں بلکہ لغڑیوں کے لیے ہوگا اور اس حوالے سے معاہدے لغڑی اتحاد کے ساتھ ہوں گے۔‘
دھرنے کے شرکا کے مطالبات پر طے پانے والے معاہدے کے حوالے سے دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تاہم دھرنا کمیٹی کے سربراہ مولوی عبدالمنان نے بی بی سی کو بتایا کہ معاہدے اور دھرنے کے خاتمے کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جو بھی مذاکرات ہوئے وہ گزشتہ دس روز کے دوران گرفتار رہنماؤں کے ساتھ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم معاہدے کو دیکھیں گے اور اگر یہ چمن کے لوگوں کے مفاد میں نہیں ہوا تو ہم اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بھی واضح نہیں کہ طے پانے والا معاہدہ افغان حکومت کے لیے قابل قبول ہو گا یا نہیں کیونکہ پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ افغان سرحدی علاقےسپین بولدک کے لوگوں کو تذکرہ کی بنیاد پر چمن سے پاکستانی حدود میں صرف ایک کلومیٹر تک اندر آنے کی اجازت ہو گی اور اس شرط پر افغان حکام معترض تھے۔
دھرنے کے خاتمے کے بعد گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرحدی تجارت کی دوبارہ بحالی اور فعالیت کے لیے شعوری کوششیں کی گئیں. ان کا کہنا ہے کہ 'پاک افغان چمن سرحد کی تقریباً پچھلے ایک سال سے مسلسل بندش کے باعث قلعہ عبداللہ کے عوام خاص طور پر تاجر اور کاروباری حضرات مشکلات سے دوچار ہوئے.
’چھوٹے اور بڑے تاجروں کے ہونے والے نقصانات کا ہمیں خوب احساس ہے تاہم اب موجود حکومت سرحدی تجارت کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں کی فعالیت کے لیے مزید اقدامات اٹھا رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہRoofan Khan
صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع بنوں میں امن مارچ اور دھرنے کے قائدین نے حکومت سے مذاکرات کے پہلے دور میں دس مطالبات پیش کیے ہیں جن میں طالبان کے مراکز کے مکمل خاتمے اور فوجی آپریشن کی بجائے پولیس کو بااختیار بنانے اور سی ٹی ڈی کو انسدادِ دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی کمان سونپنے کی بات کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف شہر کی تاجر برادری کی اپیل پر جمعے کے روز ہونے والے ’امن مارچ‘ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے اور اس دوران فائرنگ اور بھگدڑ مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد یہ مارچ دھرنے میں تبدیل ہو گیا تھا۔
اتوار کو دھرنے کے دوسرے روز مشران بنوں نے متفقہ طور پر امن دھرنے کو آگے بڑھانے کے لیے 45 رکنی امن کمیٹی منتخب کی جس میں مقامی ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کے علاوہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی نمائندگی شامل ہے۔
اس امن کمیٹی کا سربراہ چیمبر آف کامرس بنوں کے صدر ناصر خان بنگش کو منتخب کیا گیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے مذاکراتی ٹیم میں کمشنر بنوں ڈویژن، ڈی آئی جی بنوں ڈویژن اور ڈسڑکٹ پولیس افسر بنوں ڈویژن شامل ہیں۔
مظاہرین کی امن کمیٹی کے رہنماؤں کی پیر کو وزیراعلیٰ علی امین سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہFARHAT ULLAH
مطالبات کے چیدہ چیدہ نکات
امن کمیٹی کے صدر ناصر خان بنگش نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں واضح کیا ہے کہ وہ بنوں میں امن چاہتے ہیں۔ ناصر خان بنگش کا کہنا تھا کہ پیر دس بجے تک ہمیں بتایا جائے کہ مطالبات کا کیا بنا اور کیا ہوا ہے۔
’ہمارے ساتھ انتظامیہ نے رابطہ قائم کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ حالات بہتر ہوں اور اس کے لیے وہ پل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں اور یقین دہانی کروائی گئی کہ وہ مثبت کردار ادا کریں گے۔ ‘
ناصر خان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بنوں میں کوئی بھی فوجی آپریشن نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف ہر کارروائی سی ٹی ڈی کرے گی اور پولیس ان کی معاونت کے لیے موجود ہوگی۔ اگر سی ٹی ڈی کسی فرد کو لے کر جائے گی تو ہر صورت میں اس کا اندراج مقامی چوکی اور تھانے میں ہو گا۔
دوسری جانب صوبائی وزیر یار خان نے بی بی سی سے بات کر کرتے ہوئے کہا کہ کہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں اور مشران نے مطالبے پیش کر دیے ہیں۔
ان کے مطابق سوموار کا دن بہت اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم حکومت ہیں مگر کچھ چیزیں ہم پر مسلط کی جا رہی ہیں جن کو ہم قبول نہیں کریں گے۔ سوموار کو جو کچھ بھی ہوگا وہ سب کچھ مشران اور عوام کے سامنے ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہFarhat Ullah
وفاقی وزیر اطلاعات کا پی ٹی آئی پر ’فائرنگ اور بھگدڑ مچانے‘ کا الزام
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنوں میں تاجروں کے ایک امن مارچ میں چند سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہوئے جن میں پی ٹی آئی کے لوگ مسلح جتھوں کی شکل میں شامل تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تحریکِ انصاف کے ان مسلح افراد نے اس موقع پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بگھدڑ مچی اور انتشار پھیلایا جس سے ایک شخص ہلاک اور 22 زخمی ہوئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’تشدد کی سیاست پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ ہے۔ پی ٹی آئی لاشوں کی سیاست کرنا اور ملک کی معیشیت تباہ کرنا چاہتی ہے۔‘
بی بی سی وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا۔
یہاں یہ بتاتے چلیں کہ وفاقی وزیر نے بنوں واقعے کی تحقیقات کے لیے کسی قسم کا کمیشن بنانے کے متعلق بھی بات نہیں کی۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بنوں میں امن کے قیام کے لیے احتجاج کی قیادت کرنے والے عمائدین پیر کو ان کے ساتھ پشاور میں مذاکرات کریں گے۔
اتوار کو جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بنوں میں ’مشران نے (مذاکرات کے لیے) ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور یہ کمیٹی کل آ کر مجھ سے بات کرے گی۔‘
یاد رہے کہ بنوں میں امن کی بحالی کے لیے جمعے کے روز شروع ہونے والا احتجاج آج تیسرے روز بھی جاری رہا۔
جمعے کو بنوں میں ’امن مارچ‘ کے دوران فائرنگ اور بھگدڑ مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس مارچ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔
خیال رہے کہ امن مارچ کے شرکا کے مطابق فائرنگ اور بھگدڑ کا واقعہ سپورٹس کمپلیکس کے راستے پر پیش آیا جہاں شرکا جلسے کے لیے جمع ہونے جا رہے تھے۔
خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے وڈیو بیان میں مزید کہا کہ ان کی حکومت بننے کے بعد ایپکس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں یہ واضح کردیا تھا کہ خود کو سرکاری اداروں کا اہلکار ظاہر کرکے سڑکوں پر گھومنے والے مسلح افراد پر صوبائی حکومت اور پولیس کو تحفظات ہیں۔
’میں نے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے میٹنگ میں بھی یہ بات واضح کی تھی اور آج میں یہ اعلان کر رہا ہوں اور پولیس کو حکم دے رہا ہوں کہ ایسا کوئی بھی شخص یا عناصر شہر میں کہیں بھی مسلح پائے جاتے ہیں انھیں گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ان کے ٹھکانے موجود ہیں تو پولیس ان ٹھکانوں پر بھی جا کر کارروائی کرے اور انھیں خالی کروائے۔‘
دوسری جانب پاکستان کی مرکزی حکومت نے بنوں میں ہونے والے مظاہرے اور پُرتشدد واقعات پر صوبے کی حکمراں جماعت کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔
اتوار کی شام میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنوں میں تاجروں کے ایک ’امن مارچ‘ میں چند سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہوئے جن میں پی ٹی آئی کے لوگ مسلح جتھوں کی شکل میں شامل تھے۔
انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے ان مسلح افراد نے اس موقع پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچی اور انتشار پھیلایا، جس سے ایک شخص ہلاک اور 22 زخمی ہوئے۔
بی بی سی وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ’تشدد کی سیاست پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ ہے۔ پی ٹی آئی لاشوں کی سیاست کرنا اور ملک کی معیشیت تباہ کرنا چاہتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہgettyimages
امتیازی سلوک مخالف طلبہ تحریک کے بعض منتظمین نے کوٹہ اصلاحات پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
بی بی سی نے جن منتظمین سے رابطہ کیا ان میں سے کچھ نے کہا کہ وہ اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک پرامن احتجاج میں مارے جانے والے طلبہ کو انصاف نہیں مل جاتا۔
بی بی سی بنگلہ نے جن چار منتظمین سے رابطہ کیا ہے انھوں نے الزام لگایا کہ طلبہ کی تحریک کو دبانے کے لیے بہت سے مظاہرین کو مارا گیا، دو کوآرڈینیٹر غائب ہیں اور حکومت نے اصل واقعہ چھپانے کے لیے انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے۔
کوٹہ تحریک کے کوآرڈینیٹر نصرت تبسم نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا ’ہم عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن ہمارا بنیادی مطالبہ ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ سے ہے۔ جب تک ان مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا، ملک گیر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری رہے گی۔‘
طلبہ کی جانب سے جو مطالبات کیے گئے ہیں ان میں گذشتہ دنوں مظاہرین کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت، وزیر اعظم کی تقریر واپس لینا، روڈ ٹرانسپورٹ وزیر اور وزیر داخلہ کا استعفیٰ، امتیازی سلوک مخالف طلبہ تحریک کے کوآرڈینیٹرز کی رہائی، تیز رفتار انٹرنیٹ کی واپسی اور یونیورسٹی کیمپس میں عوامی لیگ کے طلبہ ونگ (جسے بنگلہ دیش چھاترا لیگ بھی کہا جاتا ہے) کی سیاست پر پابندی شامل ہیں۔
بعض منتظمین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مطالبات نہ مانے گئے تو وہ تحریک جاری رکھیں گے۔
کوٹہ تحریک کے کوآرڈینیٹر اسد اللہ الغالب نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا ’ہمارے مطالبے کا عدالت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کوٹہ کے بحران کو ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔‘
ایک اور کوآرڈینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر واضح ہے۔ تمام کوٹوں کا کوئی واضح حل نہیں ہے۔
ایک اور کوآرڈینیٹر عارف سہیل نے کہا ’گرفتار افراد کو رہائی اور ملک میں انٹرنیٹ واپس آنا چاہیے۔ تب ہی ہم بات چیت کر سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPMLN
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنوں میں تاجروں کے ایک امن مارچ میں چند سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہوئے جن میں پی ٹی آئی کے لوگ مسلح جتھوں کی شکل میں شامل تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تحریکِ انصاف کے ان مسلح افراد نے اس موقع پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بگھدڑ مچی اور انتشار پھیلایا جس سے ایک شخص ہلاک اور 22 زخمی ہوئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’تشدد کی سیاست پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ ہے۔ پی ٹی آئی لاشوں کی سیاست کرنا اور ملک کی معیشیت تباہ کرنا چاہتی ہے۔‘
بی بی سی وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا۔
یہاں یہ بتاتے چلیں کہ وفاقی وزیر نے بنوں واقعے کی تحقیقات کے لیے کسی قسم کا کمیشن بنانے کے متعلق بھی بات نہیں کی۔
یاد رہے بنوں میں ’امن مارچ‘ کے دوران فائرنگ اور بھگڈر مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہFARHAT ULLAH
اس سے قبل گذشتہ روز ڈپٹی کمشنر بنوں شاہ سعود نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’امن مارچ‘ کے مظاہرین سنیچر کی سہ پہر تین بجے تک دھرنا دیے رہے جس کے بعد ان کے عمائدین کا اجلاس منعقد ہونا ہے۔ تاہم تاحال انھوں نے اپنے مطالبات سامنے نہیں رکھے۔
جمعے کے روز بنوں شہر کے خلیفہ گل نواز ہسپتال کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس واقعے کے بعد ایک شخص کی لاش جبکہ 23 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے زیادہ تر کو بھگدڑ کی وجہ سے چوٹ لگی ہے تاہم کچھ گولی لگنے سے بھی زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ احتجاجی مارچ کے شرکا کے مطابق فائرنگ اور بھگدڑ کا واقعہ سپورٹس کمپلیکس کے راستے پر پیش آیا جہاں مارچ کے شرکا جلسے کے لیے جمع ہونے جا رہے تھے۔
فائرنگ کے واقعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے بنوں انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’گذشتہ ہفتے خود کش دھماکے کے سبب چھاؤنی کی ایک دیوار ٹوٹ گَئی تھی اور وہاں فوجی اہلکاروں نے سڑک پر رکاوٹیں لگائی ہوئیں تھیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہاں اہلکاروں نے ایک ٹینٹ بھی لگایا ہوا تھا۔ لوگ اس طرف آگے بڑھ رہے تھے اور پتھراؤ بھی کر رہے تھے۔ مظاہرے کے قائدین کہہ رہے ہیں کہ پتھراؤ کرنے والے لوگ ان میں سے نہیں تھے، ہوائی فائرنگ کرنے سے پہلے پولیس اور فوجی اہکاروں نے لاؤڈ سپیکر پر اعلان بھی کیے کہ سب پیچھے ہٹ جائیں۔‘
ان کے مطابق ’چھاؤنی میں گولہ بارود بھی تھا اور راشن بھی، اسی سبب مظاہرین کو اندر داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بنگلہ دیش میں سپریم کورٹ نے کوٹہ سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ بحال کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت چیف جسٹس عبید الحسن کی سربراہی میں اتوار کی صبح تقریباً ساڑھے دس بجے اپیلٹ ڈویژن کے فل بنچ نے شروع کی اور دوپہر ڈیڑھ بجے فیصلہ سنایا۔
کوٹہ بحال کرنے کے ہائی کورٹ کے حکم کو مسترد کرتے ہوئے اپیلٹ ڈویژن نے کہا ہے کہ اب سے سرکاری ملازمتوں میں 93 فیصد بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی۔ باقی سات فیصد میں سے پانچ فیصد آزادی پسند کوٹہ، ایک فیصد اقلیتی کوٹہ اور ایک فیصد معذور یا تیسری جنس کا کوٹہ ہوگا۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے حکومت اگر چاہے تو اس کوٹہ کی شرح میں اضافہ یا کمی کر سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے حکومت سے اس سلسلے میں فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کا بھی کہا ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت نے کوٹہ سے متعلق اپیلٹ ڈویژن کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
فیصلے کے بعد ردعمل میں وزیر قانون انیس الحق نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپیلٹ ڈویژن کا یہ فیصلہ انتہائی دانشمندانہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم کے مطابق جلد از جلد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
گذشتہ چند روز سے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم میں اصلاحات پر ملک بھر میں شدید احتجاج جاری ہے جس سے نمٹنے کے لیے جمعہ کی رات سے ہی کرفیو نافذ ہے اور فوج تعینات ہے۔ ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں سینکڑوں لوگ مارے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
یہ سماعت 7 اگست کو ہونا تھی لیکن ملک میں جاری پُرتشدد احتجاج کو دیکھتے ہوئے عدالت نے اتوار کے روز سماعت کا فیصلہ کیا اور کرفیو کے دوران سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اتوار کی صبح اس معاملے پر سماعت شروع کی۔
دوارنِ سماعت اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی۔
عدالت نے طلبا کی جانب سے پانچ وکلا کو بھی بولنے کی اجازت دی۔
سپریم کورٹ کی سماعت میں حصہ لینے والے نو وکلا میں سے آٹھ ہائی کورٹ کے حکم کو کالعدم کرنے کے حق میں تھے جبکہ ایک وکیل کوٹہ اصلاحات کے حامی تھے۔
واضح رہے کہ 2018 تک 56 فیصد سرکاری ملازمتوں پر کوٹہ کی بنیاد پر تقرر کیا جاتا تھا۔
بعد ازاں 2018 میں حکومت نے طلبا کے بڑے احتجاج کے پیش نظر پہلی اور دوسری جماعت کی سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کو منسوخ کرنے کا سرکلر جاری کیا لیکن جب متاثرہ فریقین نے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کی تو ہائی کورٹ نے رواں سال 5 جون کو کوٹہ منسوخ کرنے کے حکومتی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔
اور اس واقعے کے اگلے ہی دن سے ڈھاکہ یونیورسٹی سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ نے دوبارہ احتجاج شروع کر دیا۔
اس کے بعد ریاستی فریق کی درخواست پر اپیلٹ ڈویژن نے گذشتہ 10 جولائی کو ہائی کورٹ کے فیصلے پر چار ہفتوں کے لیے سٹے جاری کرتے ہوئے 7 اگست کو سماعت کی تاریخ مقرر کی تھی۔ تاہم تب تک طلبا کا احتجاج پرتشدد مظاہروں میں تبدل ہو چکا تھا اور پورے ملک میں پھیل گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPakistan Consulate General
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مظاہرین کی جانب سے پاکستانی قونصل خانے کی عمارت پر پتھراؤ اور پاکستانی پرچم اتارنے کے واقعے کے بعد جرمنی میں پاکستانی سفارتخانے نے ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے۔
ایک بیان میں پاکستانی سفارتخانے نے کہا ہے کہ ’ہم شر پسندوں کی جانب سے 20 جولائی 2024 کو فرینکفرٹ میں ہمارے قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔‘
’ہم جرمن حکام سے رابطہ میں ہیں تاکہ دوبارہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اور تاکہ شر پسندوں کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔ ہم اپنی کمیونٹی سے پُرامن رہنے کی اپیل کرتے ہیں۔‘
اطلاعات کے مطابق سنیچر کو فرینکفرٹ میں درجنوں مظاہرین پاکستانی قونصل خانے کے باہر جمع ہوئے تھے۔ اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
اب تک جرمن حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مظاہرین کی جانب سے پاکستانی قونصل خانے کی عمارت پر پتھراؤ اور پاکستانی پرچم اتارنے کے واقعے کے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ انھوں نے پاکستانی سفارت خانے اور جرمن حکام سے سکیورٹی میں ناکامی اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن کی درخواست کی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے چیئرمین نادرا سے درخواست کی ہے کہ وہ ویڈیو میں نظر آنے والے شہریوں کی شناخت کریں اور اگر اس واقعے میں پاکستانی شہری بھی ملوث تھے تو ان کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ منسوخ کیے جائیں گے اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
بنوں میں امن جرگے کا دھرنا ’بنوں امن پاسون‘ دوسرے روز بھی جاری ہے مگر انٹرنیٹ اور موبائل سروسز محدو ہونے کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق شہر میں صورتحال معمول پر ہے تاہم معلومات تک رسائی میں رکاوٹیں ہیں۔ تاحال مقامی انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات میں کسی پیشرفت کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔
دریں اثنا تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بنوں آمد پر دھرنے کے شرکا سے ملاقات کی ہے۔
گذشتہ شب پریس کانفرنس کے دوران ایک بیان میں شہریار آفریدی نے کہا کہ ’تحریک انصاف کے سات ایم این ایز اور صوبائی ارکان اسمبلی یہاں موجود ہیں۔‘ انھوں نے بنوں امن جرگے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
شاندانہ گلزار کا کہنا تھا کہ ’عوام جو بھی کر رہی تھی، انھیں حق تھا۔ آپ کا کام انھیں معاف کرنا تھا، آپ کا کام یہ نہیں تھا کہ آپ ان پر بندوق اٹھاتے۔‘
’سکیورٹی فورسز اور عوام دونوں ریاست ہیں۔ ریاست، ریاست پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتی۔ اگر ریاست عوام پر ہاتھ اٹھائے گی تو ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے کیونکہ ان کو غلطی کرنے کی اجازت ہے۔‘
جمعے کو بنوں میں ’امن مارچ‘ کے دوران فائرنگ اور بھگڈر مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے فائرنگ کے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر پختون یار خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انھوں نے ’وزیر اعلیٰ سے درخواست کی ہے کہ انکوائری شروع کریں میں خود گواہ ہوں گا۔ میرے اوپر سٹیج پر فائرنگ ہوئی۔ جس کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی، اگر عوام میں سے بھی کوئی تھا انھیں بھی سزا دی جائے گی۔‘
’جو کوئی ملوث ہے اسے سزا دی جانی چاہیے، چاہے وہ ادارے میں سے ہے، غیر ریاستی عناصر ہے یا عوام میں سے کوئی ہے۔‘
عوامی نیشنل پارٹی کا وفد بھی میاں افتخار حسین کی سربراہی میں بنوں میں موجود ہے۔ انھوں نے گذشتہ روز زخمیوں کی عیادت کی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول بحیرہ احمر کی بندرگاہ الحدیدہ پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایک دن قبل اس گروپ کی طرف سے داغے گئے ایک ڈرون نے تل ابیب کو نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے کہا کہ ان کے ملک کا مقصد حوثی تحریک کو ایک پیغام دینا ہے۔
انھوں نے کہا کہ الحدیدہ میں اس وقت جو آگ جل رہی ہے وہ پورے مشرق وسطیٰ میں نظر آتی ہے اور اس کی اہمیت واضح ہے۔
حوثیوں سے منسلک ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں تین افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
حوثی عہدیدار محمد عبدالسلام نے اسے ’یمن کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ان حملوں کا مقصد حوثیوں پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت بند کردیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں اس کی سرزمین پر یمنی ڈرون اور میزائل حملوں کا براہ راست جواب دیا ہے۔
صنعا میں حوثیوں کے زیر انتظام حکومت نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ساحل کے قریب تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور قریبی پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا ’یمن میں حوثیوں کی طرف سے اسرائیل کی طرف نو ماہ کے مسلسل فضائی حملوں کے بعد سرائیلی فضائیہکے لڑاکا طیاروں نے الحدیدہ کی بندرگاہ کے علاقے میں حوثی دہشت گردوں کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف آپریشنل حملہ کیا
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ڈی ایف جہاں بھی ضرورت ہو کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اسرائیلیوں کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی فورس پر حملہ کرے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے مشیگن کے شہر گرینڈ ریپڈز میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیموکریٹس اکثر ان پر جمہوریت کے لیے خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ ہفتے میں نے جمہوریت کے لیے گولی کھائی۔ میں نے جمہوریت کے خلاف کیا کیا‘۔
یاد رہے کہ گذشتہ سنیچر کو ریلی کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے میں ایک مجمعے میں شامل شخص ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے تھے۔
پینسلوانیا میں ریلی کے برعکس گرینڈ ریپڈز کی تقریب ایک عمارت کے اندر منعقد کی گئی جہاں سکیورٹی اہلکاروں نے کڑی نگرانی کی تاکہ ریلی میں ممکنہ خطرات کو محدود کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ان ’ہزاروں‘ لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو قاتلانہ حملے کے ایک ہفتے بعد ان سے ملنے آئے تھے۔ انھوں نے اپنے اس یقین کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں صرف خدا کے فضل سے آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔‘
ڈاکٹرز کے مطابق گولی کی وجہ سے ٹرمپ کے کان پر دو سینٹی میٹر چوڑا زخم ہوا تاہم اس پر ٹانکے لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے یا ممکنہ استعفوں سے متعلق بات چیت کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے بیان میں بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے ان معاملات پر مولانا فضل الرحمان سے کوئی مشاورت نہیں کی۔
بیرسٹر گوہرکا کہنا تھا کہ ’ہم نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل یا پارلیمنٹ سے استعفوں سے متعلق کسی فیصلے کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں کی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ یہ وضاحت مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان کے جواب میں سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر نئے انتخابات کرائے جاتے ہیں تو پی ٹی آئی خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا تھا کہ’بانی پی ٹی آئی سمیت سیاستدانوں پر مقدمات نہیں بننے چاہیں، الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ عمران خان کے ساتھ مقابلہ میدان میں ہے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے ساتھ مثبت پیشرفت آگے بڑھ سکتی ہے، پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے تعلقات ماضی میں تلخ رہے ہیں اور پہلے یہ معاملات نارمل ہونا لازمی ہیں۔‘
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنا دی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی ائی کے رہنما اسد قیصر کا ایکس پر ایک پوسٹ میں کہنا ہے کہ ’تحریک تحفظ آئین پاکستان مخصوص نشستوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین و قانون کی فتح سمجھتی ہے، آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کیلئے عدلیہ کی کوششوں کو سراہتے ہیں،۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ملک میں فوری نئے انتخابات کا مطالبہ بھی کرتے ہیں، عوام کی غیر منتخب اور غیر نمائندہ فارم 47 کی حکومت فوری مستعفی ہو اور ملک میں جلد از جلد نئے عام انتخابات کروائے جائیں۔‘
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک اب مزید کسی ایڈوینچر یا مارشل لا کا متحمل نہیں ہو سکتا، اسٹیبلشمنٹ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے ایسے ملک نہیں چلے گا۔
صحافیوں سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں مارشل لا اور ایمرجنسی سے اب کام نہیں چلے گا، فوج کو صحیح راستے پر مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام لازمی ہے اور غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کے سوا ملک میں امن آئے گا اور نہ معاشی استحکام۔
پی ٹی آئی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’بانی پی ٹی آئی سمیت سیاستدانوں پر مقدمات نہیں بننے چاہیں، الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ عمران خان کے ساتھ مقابلہ میدان میں ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’پی ٹی آئی کے ساتھ مثبت پیشرفت آگے بڑھ سکتی ہے، پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے تعلقات ماضی میں تلخ رہے ہیں اور پہلے یہ معاملات نارمل ہونا لازمی ہیں۔‘
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنا دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFarhat Ullah
خیبرپختونخوا کے شہر بنوں میں امن کے قیام کے لیے احتجاج اور آج ہونے والے دھرنے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر بنوں شاہ سعود نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’امن مارچ‘ کے مظاہرین سنیچر کی سہ پہر تین بجے تک دھرنا دیے رہے جس کے بعد اب ان کے عمائدین کا اجلاس منعقد ہونا ہے۔ تاہم تاحال انھوں نے اپنے مطالبات سامنے نہیں رکھے۔
بنوں میں امن کی بحالی کے لیے جمعے کے روز شروع ہونے والا احتجاج آج دوسرے روز دھرنے میں تبدیل ہو گیا۔
گذشتہ روز بنوں میں ’امن مارچ‘ کے دوران فائرنگ اور بھگڈر مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر بنوں شاہ سعود نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ احتجاجی مظاہرین نے آج صبح آٹھ بجے سے دوپہر تین بجے تک چوک پر دھرنا دیا اور اب وہ چیمبر آف کامرس جا چکے ہیں جہاں ان کے عمائدین کا اجلاس ہو گا۔
مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری ٹیم صبح ان سے مذاکرات کرنے پہنچی تھی لیکن انھوں نے کوئی مطالبات سامنے نہیں رکھے اور کہا کہ وہ اپنے اجلاس میں ایک کمیٹی تشکیل دیں گے جس کے بعد مطالبات سامنے رکھے جائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز ہونے والے پُرتشدد مظاہرے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا اور دیگر 16 افراد گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز بنوں شہر کے خلیفہ گل نواز ہسپتال کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس واقعے کے بعد ایک شخص کی لاش جبکہ 23 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے زیادہ تر کو بھگدڑ کی وجہ سے چوٹ لگی ہے تاہم کچھ گولی لگنے سے بھی زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ احتجاجی مارچ کے شرکا کے مطابق فائرنگ اور بھگدڑ کا واقعہ سپورٹس کمپلیکس کے راستے پر پیش آیا جہاں مارچ کے شرکا جلسے کے لیے جمع ہونے جا رہے تھے۔
’چھاؤنی میں گولہ بارود بھی تھا اور راشن بھی،
فائرنگ کے واقعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے بنوں انتظامیہ کے ایک اور اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’گذشتہ ہفتے خود کش دھماکے کے سبب چھاؤنی کی ایک دیوار ٹوٹ گَئی تھی اور وہاں فوجی اہلکاروں نے سڑک پر رکاوٹیں لگائی ہوئیں تھیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہاں اہلکاروں نے ایک ٹینٹ بھی لگایا ہوا تھا۔ لوگ اس طرف آگے بڑھ رہے تھے اور پتھراؤ بھی کر رہے تھے۔
’مظاہرے کے قائدین کہہ رہے ہیں کہ پتھراؤ کرنے والے لوگ ان میں سے نہیں تھے، ہوائی فائرنگ کرنے سے پہلے پولیس اور فوجی اہکاروں نے لاؤڈ سپیکر پر اعلان بھی کیے کہ سب پیچھے ہٹ جائیں۔‘
ان کے مطابق ’چھاؤنی میں گولہ بارود بھی تھا اور راشن بھی، اسی سبب مظاہرین کو اندر داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہFarhat Ullah
واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا اعلان
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے گذشتہ روز پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔
بیرسٹر سیف کے مطابق کمیشن شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے گا۔
ان کے مطابق رپورٹ کو پبلک کیا جائے گا اور ذمہ داران کے کردار کا تعین کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی۔
خیبرپختونخوا حکومت کے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جس جماعت کی وہاں حکومت ہے، اس کے اپنے لوگ اس سب میں شامل تھے۔
جیو نیوز سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ’انھیں (خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت) تو یہ حق بالکل حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس کی انکوائری کریں۔
عطا اللہ تارڑ نے عمران خان اور پی ٹی آئی پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’آج بانی پی ٹی آئی کا بیان دیکھ کر افسسوس ہوا جب انھوں نے کہا کہ عوام پر سیدھی فائرنگ کی گئی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتے، جس میں ہمارے جوان مارے گئے۔‘
وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ ’اس مارچ کو کچھ قوتوں نے سیاست کی نذر کیا، اس مارچ کو ہائی جیک کیا گیا اور ایسا لگتا ہے کہ یہ شازش کی گئی جس کے تحت قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ حقائق کو سامنے لاتے ہوئے وفاقی حکومت اس پر اپنا مزید مؤقف بھی دے گی اور سرکاری طور پر اسے عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔
بنوں میں برے پیمانے پر احتجاج کی نوبت کیوں آئی ؟
بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف شہر کی تاجر برادری کی درخواست پر جمعے کے روز امن مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں اس وقت ہزاروں افراد شریک تھے۔
خیبرپختونخوا میں گزشتہ چند ماہ میں یوں تو شدت پسندی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ سامنے آیا ہے تاہم حالیہ دنوں میں بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث اس احتجاج کا اعلان کیا گیا۔
دو روز قبل بنوں کینٹ پر اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقے میں مرکز صحت پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد اس امن مارچ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اس مارچ میں حکومت سے شہریوں کو جان و مال اور عزت کا تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس امن مارچ میں بنوں اور گرد و نواح سے لوگ قافلوں کی صورت میں شامل ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہPMLNDigital
مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے لاہور میں اجلاس سے خطاب کے دوران بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، یہ غریب لوگوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہر ایک کے لیے مصیبت بن چکا ہے۔ ملک کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا۔
نواز شریف نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہم نے اپنے دور میں لوڈ شیڈنگ ختم کی اور بجلی کا نرخ بھی کنٹرول میں رکھا تھا۔ 2017 تک بجلی کے بل کم اور ڈالر کا نرخ نیچے تھا، 2018 سے نظر لگی اور غریب پس کررہ گیا۔
یاد رہے کہ پاکستان او آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے ہونے کے دو روز بعد ملک میں گھریلو صارفین کے لیے ایک بار پھر بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7.12 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔
14 جولائی کو پاور ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف میں سات روپے 12 پیسے تک اضافے کے بعد اب گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت 48 روپے 84 تک پہنچ چکی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں لگ بھگ دو گنا اضافہ ہو چکا ہے اور اس اضافے نے عام آدمی کی جیب پر بھی اسی حساب سے بوجھ ڈالا ہے۔
دوسری جانب وزیر توانائی اویس لغاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بجلی کی قیمت میں حالیہ اضافے اور آئی ایم ایف کے معاہدے کا آپس میں تعلق ہونے کی نہ صرف نفی کی بلکہ ان کے اندازے کے مطابق چھ ماہ بعد بجلی کی موجودہ قیمت میں تین گنا تک کمی بھی ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنیچر کے روز وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے سولر پینل فنانسنگ سکیم سے متعلق امور کے جائزہ اجلاس کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف نے کسی کا بھی نام لیے بغیر حالیہ عدالتی فیصلوں پر تنقید کی اور کہا کہ ’سڑک پر پھرتے شخص کو کہا گیا آؤ ہم تمہیں انصاف دیں گے، پوچھتا ہوں اس ملک کے ساتھ ظلم کرنے کی ضرورت کیا ہے، ہم نے آئی ایم ایف کو واپس بھیج دیا تھا بعد میں کون لایا تھا؟ سب کو پتا ہے۔‘
نواز شریف نے کہا کہ ملک کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا۔ ترقی کرتا ہوا ملک گڑھے میں گرا دیا، فیصلے دینے والوں کو اب سوچنا ہو گا۔ عوام کی پروا کریں، ریلیف کے لیے جو بھی کرنا پڑتا ہے وہ کیا جائے۔
دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب نے پہلے فیز میں ایک لاکھ سے زائد صارفین کو قرعہ اندازی کے ذریعے سولرپینل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی چوری، ایک سے زائد میٹر، خراب یا ٹیمپرڈ میٹر اور بل ادائیگی نہ کرنے والے صارفین سولر سکیم کے اہل نہیں ہوں گے۔
وزیراعلی پنجاب کے مطابق ’آٹا او ر بجلی کے نرخ لوگو ں کی معاشی حالت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ پنجاب کے ہر شہری کو بجلی کے بل میں ریلیف دینا چاہتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے گھریلو صارفین کو سولر سسٹم فراہم کرنے کے اعلان کے بعد گزشتہ ماہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے بھی گھریلو صارفین کو مفت سولر سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومتوں کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آئے جب پاکستان کے بیشتر شہروں میں عوام بجلی کے بلوں میں ’اوور بلنگ‘ کی شکایات کر رہے ہیں اور بجلی کے بلوں میں استعمال شدہ یونٹس کی تعداد اور اس کے عوض واجب الادا رقم سے مطمئن نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کسی صورت اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے ساری زندگی جیل میں بیٹھنا پڑے۔
سنیچر کے روز راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرینس کی سماعت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بانی تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ’ہماری پارٹی پر پہلے سے ہی پابندی تھی ہمیں تو الیکشن ہی نہیں لڑنے دیا گیا۔ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی جمہوریت کا قتل ہے۔‘
کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق عمران خان نے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ پارٹی کا چیئرمین، وائس چیئرمین اور صدر پہلے سے ہی جیل میں تھے یہ پھر بھی کہتے ہیں کہ پارٹی پر پابندی لگائیں گے۔
گفتگو کے دوران عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ’وہ کہتی ہیں کہ ججز ٹھیک نہیں،ججز تب ٹھیک تھے جب ان کے کیسز ختم کیے گئے۔‘
عمران خان نے بنوں واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سب کو پتہ ہے کہ بنوں واقعہ کے دوران ملٹری نے نہتے لوگوں پر فائرنگ کی۔
عمران خان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی جب تک قوم ساتھ نہ ہو۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں اور عوام سے قربانی مانگتے ہیں۔ آصف زرداری نے کس حیثیت میں صدر ہاؤس کا بجٹ بڑھا کر 88 کروڑ کر دیا۔
صحافی کے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں کوئی فرق نہیں۔ یہ ایک ہی ہیں دونوں فارم 47 کی پیداوار ہیں۔ تحریک عدم اعتماد سمیت کسی بھی مسئلے پر پیپلز پارٹی سے کوئی بات نہیں ہوگی۔ تحریک عدم اعتماد کے لیے پیپلز پارٹی سے تب بات کروں گا اگر مجھے اقتدار چاہیے ہو۔ میں ساری زندگی جیل میں بیٹھنے کوتیار ہوں۔ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے متعلق باتیں بے بنیاد ہیں۔ ‘
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود اگر الیکشن کمیشن سے پی ٹی ائی کو سیٹیں نہ ملیں تو الیکشن کمیشن پر آرٹیکل چھ لگنا چاہیے۔‘
عمران خان نے ایک بار پھر نو مئی پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ دہرایا۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں عمران خان کے وکلا کی اعظم خان، زبیدہ جلال اور پرویز خٹک پر جرح مکمل
احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد علی وڑائچ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا نے استغاثہ کے گواہان وزیر اعظم کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، سابق وزرا زبیدہ جلال اور پرویز خٹک پر جرح مکمل کرلی۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے مزید 2 گواہان کو بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کرتے ہوئے ریفرنس کی سماعت 22 جولائی تک ملتوی کر دی۔
آئندہ سماعت پر بشریٰ بی بی کے وکلا گواہان اعظم خان، زبیدہ جلال اور پرویز خٹک پر جرح بھی مکمل کریں گے۔
یاد رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس اس ساڑھے چار سو کنال سے زیادہ زمین کے عطیے سے متعلق ہے جو بحریہ ٹاؤن کی جانب سے القادر یونیورسٹی کے لیے دی گئی تھی۔
پی ڈی ایم کی حکومت نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یہ معاملہ عطیے کا نہیں بلکہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور عمران خان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ ہے۔
واضح رہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے عوض بحریہ ٹاؤن نےمارچ 2021 میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کو ضلع جہلم کے علاقے سوہاوہ میں 458 کنال اراضی عطیہ کی اور یہ معاہدہ بحریہ ٹاؤن اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ہوا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو نو مئی 2023 کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے گرفتار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف نے سنیچر کو یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے انٹرنیشنل اور سوشل میڈیا ٹیم کے پانچ کارکنان کو اب تک اغوا کر لیا گیا ہے، جن کے بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے کہ انھیں کہاں پر رکھا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے ایکس پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کی ٹیم میں شامل انٹرنیشنل میڈیا کے کوآرڈینیر احمد جنجوعہ سمیت سوشل میڈیا ٹیم کے تین کارکنان کو آج صبح اغوا کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق سوشل میڈیا کے یہ تین کارکنان فرید ملک، مدثر اور فیضان ہیں جبکہ اس وقت پی ٹی آئی کے پورے میڈیا سینٹر کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے مطابق ان کے میڈیا کے ایک اور کارکن ملک رمضان کو بھی چند روز قبل اغوا کیا گیا۔
زلفی بخاری کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں میں پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم پر بہت سنگین نوعیت کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی میڈیا پرپاکستان میں تحریک انصاف کے کارکنان پر ڈھائے جانے والے مظالم پر مستقل رپورٹنگ یقینی بنانے والی ٹیم کو ہی اب نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں زلفی بخاری نے کہا کہ انٹرنیشل میڈیا ٹیم پر حملہ ہی نہیں بلکہ یہ آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے اس پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ملک کے حالات موجودہ حکمرانوں اور ان کے ’سپانسرز‘ کی نالائقی اور غیر جمہوری سوچ کے باعث خراب ہو رہیں ہیں۔‘ اس کا غصہ سوشل میڈیا کے بے گناہ افراد پر نکالنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’تمام ایسے افراد کو فوری رہا کیا جائے۔‘ پولیس نے تحریک انصاف کے دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ایمان مزاری نے احمد جنجوعہ کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ ایمان مزاری نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے احمد جنجوعہ کے اغوا سے متعلق اسلام آباد کے علاقے ہمک ٹاؤن تھانے میں تحریری شکایت بھی درج کروائی ہے۔
احمد جنجوعہ کی اہلیہ جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنیچر کی صبح سادہ کپڑوں میں ملبوس 20 افراد ان کے گھر کا دروازہ توڑ کر داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ’گھسیٹتے ہوئے‘ اپنے ساتھ لے گئے۔
فرحانہ برلاس کی پیٹیشن میں مزید لکھا ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ان کا موبائل فون اور ان کے شوہر کا لیپ ٹاپ بھی ساتھ لے گئے۔
اسلام آباد پولیس کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ احمد جنجوعہ سمیت پی ٹی آئی میڈیا ٹیم کا کوئی رُکن ان کی تحویل میں نہیں ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں تھانے میں درخواست آنے کے بعد معلوم ہوا کہ احمد جنجوعہ لاپتہ ہوئے ہیں اور اس وقت پولیس ان کے اہلخانہ سے واقعے سے متعلق معلومات س حاصل کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFarhatullah
خیبرپختونخوا کے شہر بنوں میں دوسرے روز بھی مقامی افراد کا احتجاج جاری ہے۔ اس مارچ کے شرکا بنوں میں امن کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کے مطالبات کر رہے ہیں۔
گذشتہ روز بنوں کی تاجر برادری کی درخواست ’امن مارچ‘ کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جمعے کی دوپہر احتجاجی مارچ میں فائرنگ اور بھگڈر مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ آج مقامی افراد کا یہ ’امن مارچ‘ دھرنے میں بدل گیا۔
یہ مقامی افراد بنوں کے ایک مرکزی چوک میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں جو صبح آٹھ بجے شروع ہوا ہے اور دن دو بجے تک جاری رہے گا۔ دھرنے کی جگہ پولیس لائن اور چھاؤنی کے قریب ہے جہاں چند روز قبل ایک خود کش دھماکے میں فوج کے آٹھ اہلکار اور دس حملے آور ہلاک ہوئے تھے۔
گذشتہ روز مولانا عبدالغفار نے تمام قائدین کے ساتھ مذاکرات کے بعد دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ آج دھرنے میں شریک افراد گذشتہ روز فائرنگ کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کا واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا اعلان
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے گذشتہ روز پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ بیرسٹر سیف کے مطابق کمیشن شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے گا۔
ان کے مطابق رپورٹ کو پبلک کیا جائے گا اور ذمہ داران کے کردار کا تعین کرکے قانونی کاروائی کی جائے گی۔
گذشتہ روز بنوں شہر کے خلیفہ گل نواز ہسپتال کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس واقعے کے بعد ایک شخص کی لاش جبکہ 23 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے زیادہ تر کو بھگدڑ کی وجہ سے چوٹ لگی ہے تاہم کچھ گولی لگنے سے بھی زخمی ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ احتجاجی مارچ کے شرکا کے مطابق فائرنگ اور بھگدڑ کا واقعہ سپورٹس کمپلیکس کے راستے پر پیش آیا ہے جہاں مارچ کے شرکا جلسے کے لیے جمع ہونے جا رہے تھے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان نے موجودہ دہشت گردی کی لہر کے پیش نظر عوام سے انتہائی احتیاط سے کام لینے کی درخواست ہے۔
انھوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ سے قبل افواہوں اور بلا تصدیقالزامات سے اجتناب کرنا چاہیے۔
خیبرپختونخوا میں گذشتہ چند ماہ میں یوں تو شدت پسندی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ سامنے آیا ہے تاہم حالیہ دنوں میں بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث اس احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ تین روز قبل بنوں کینٹ پر اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقے میں مرکز صحت پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد اس امن مارچ کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس احتجاج میں حکومت سے شہریوں کو جان و مال اور عزت کا تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
بنوں چیمبر آف کامرس کے رہنما اور امن پاسون کے قائدین میں شامل ناصر بنگش نے کہا ہے کہ ’امن مارچ‘ پر فائرنگ کے بعد لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مارچ میں شامل بچے تھے جنھوں نے پتھراؤ کیا ہے تو انھیں دور کرنے کے لیے ہوائی فارنگ یا آنسو گیس کے شیل پھینکے جا سکتے تھے لیکن اس طرح فائرنگ مناسب نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے مطالبات سامنے رکھے ہیں اس میں جو پیش رفت ہو گی اس سے آگاہ کیا جائے گا۔
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے بی بی سی کو بتایا کہ بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف شہریوں کے احتجاجی ’امن مارچ‘ میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے اور اس ضمن میں ذمہ داران کا تعین کر کے انھیں قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔
وزیراعلی بنوں انتظامیہ اور ذمہ داران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
ان کے مطابق ’صوبائی حکومت کے بروقت اقدامات کی بدولت صورتحال قابو میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز کے افسوسناک واقعے کے فوری بعد وزیر اعلی کے حکم پر ضلعی انتظامیہ، سیاسی اور سماجی عمائدین پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا گیا تھا اور پھر جرگے کی تشکیل کے بعد صورتحال قابو میں لائی گئی اور امن بحال ہوا۔
انھوں نے کہا کہ سیاسی و سماجی عمائدین اور انتظامیہ پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی جا رہی ہے جو دیرپا امن اور آئندہ ایسے واقعات کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات پر مبنی لائحہ عمل تیار کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ امن و امان کے معاملے میں عوام کی مشاورت سے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ فی الحال ان کے پاس فائرنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی مصدقہ تعداد کے حوالے سے معلومات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی نے واقعے میں ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے لیے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں آباد کاری روکے اور غزہ کی پٹی سمیت ان علاقوں سے غیرقانونی قبضہ فوری ختم کر دے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے اسے ایک جھوٹ پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسرائیلیوں کا وطن ہے جبکہ فلسطینیوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
عدالت نے دنیا بھر کے ممالک سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی ایسی مدد ترک کر دیں جس سے وہ اپنے اس طرح کے قبضے اور سرگرمیوں کو برقرار رکھ سکے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل نہ صرف فلسطین کے علاقوں پر بلکہ ان کے حق خود ارادیت اور قدرتی وسائل پر بھی قابض ہے۔
خیال رہے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں پر اگرچہ قانونی طور پر علمدارآمد ضروری نہیں ہوتا مگر پھر بھی ایسی رائے ایک سیاسی وزن ضرور رکھتی ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ 57 برس کے قبضے کی قانونی حیثیت پر عالمی عدالت انصاف نے ایک پوزیشن لے لی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی درخواست پر عالمی عدالت انصاف اس معاملے پر گذشتہ برس کے آغاز سے غور کر رہی تھی۔
عدالت سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ فلسطین کے بارے میں اسرائیلی پالیسیوں اور طرز عمل اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کی قانونی حیثیت پر اپنی رائے دے۔
اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت کے صدر نواف سلام کا کہنا تھا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی موجودگی غیر قانونی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی ریاست اس بات کی پابند ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے جتنا جلد ممکن ہو سکے اپنا غیرقانونی قبضہ ختم کرے۔
عدالت کے مطابق اسرائیل کے سنہ 2005 میں غزہ کی پٹی سے انخلا کے باوجود ان فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ جائز نہیں ہو جاتا کیونکہ ابھی بھی اسرائیل اس علاقے پر مؤثر کنٹرول رکھتا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اسرائیل ہر صورت مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے اپنے آبادکاروں کے انخلا کو یقینی بنائے اور فلسطینیوں کو اس غیر قانونی قبضے کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا ہرجانہ ادا کرے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے سنہ 1967 سے لے کر اب تک مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں 160 ایسی بستیاں تعمیر کر رکھی ہیں جہاں سات لاکھ یہودی آباد ہیں۔ عدالت نے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی اس آباد کاری کو بین الاقوامی قوانین کے منافی یعنی غیر قانونی قرا دیا ہے۔