یہ صحفہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے
بی بی سی اردو کی نئے لائیو پیج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے ان کی جماعت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی حکومت کی ان سے کوئی حتمی مشاورت ہوئی ہے۔
بی بی سی اردو کی نئے لائیو پیج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔
سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے ان کی جماعت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی حکومت کی ان سے کوئی حتمی مشاورت ہوئی ہے۔
انھوں نے یہ گفتگو جیوز نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ خان کے ساتھ‘ میں کی جب ان سے پوچھا گیا کہ ن لیگ کی حکومت تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی بات کر رہی ہے تو اس پر پیپلز پارٹی کا کیا موقف ہے۔
15 جولائی کو وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا تھا کہ اس کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔ تاہم اگلے ہی روز پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف پر پابندی لگانے کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
22 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا اور جماعت کے ترجمان رؤف حسن کو گرفتار کیا تھا جنھیں 23 جولائی کو اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے رؤف حسن کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’دوران تفتیش ملزم وقاص احمد (پی ٹی آئی کے میڈیا کوارڈینیٹر) نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی لیڈر شپ ریاست مخالف میڈیا سیل چلا رہی ہے۔‘ تاہم عدالت کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ رؤف حسن کا ڈیجیٹل میڈیا ونگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
’ہمیں آئینی اور جمہوری قدروں کو سامنے رکھنا چاہیے‘
ادھر شیری رحمان نے کہا کہ ماضی میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے تحریک انصاف اور عمران خان سے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ ’تب ہم نے کہا تھا آپ الیکشن لڑ کر آئیں۔۔۔ آپ اگر جمہوری سانچے میں ڈھلنا چاہتے ہیں، ہمارے دروازے کھلے ہیں۔‘
’ایک طریقہ کار ہونا چاہیے جس کے مطابق ہم چل سکیں اور لوگوں کو اس پر اعتماد ہو یہ لوگ ہماری مشکلات حل کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘
’اس وقت یہ ملک کو اس نہج پر لے آئے ہیں۔ کسی کو فوکس کرنے نہیں دے رہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے فیصلے کے بارے میں مشاورت نہیں کی گئی اور تاحال ان کی پارٹی نے اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ کام جمہوری طریقہ کار سے کیا جانا چاہیے۔۔۔ ہمیں آئینی اور جمہوری قدروں کو سامنے رکھنا چاہیے۔۔۔ ہم سے کوئی حتمی مشاورت نہیں ہوئی۔‘
’ہم نے ایسی کوئی تجویز نہیں دی۔ کابینہ پہلے خود فیصلہ کرے، یا ہمارے پاس آئے جو بھی وہ پہلے کرنا چاہییں۔‘
شیری رحمان نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتی اس وقت تک چیئرمین بلاول یا صدر زرداری نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے۔‘
’ہم مشاورت کر کے بات کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہم لبرل پارٹی ہیں تو چپ کر کے بیٹھ جائیں گے۔‘
تاہم انھوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی سوچ بنی ہوئی ہے کہ میں ہوں تو پاکستان ہے۔ یہ آمریت والی سوچ ہے۔۔۔ جب ایسی ذہنیت بننے لگتی ہے تو اللہ تکبر کو توڑتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ سیاسی سوچ ہے نہ جمہوری۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی سیکرٹریٹ پر سوموار کے روز کے چھاپے کے دوران گرفتار کارکنوں، خواتین اور ملازمین کی بازیابی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی آئی کی میمونہ کمال کی درخواست پر سماعت کی، جس میں ڈی آئی جی آپریشنز، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سائبر کرائمز اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی مرکزی سیکرٹریٹ میں اسلام آباد پولیس نے بغیر وارنٹ حملہ کیا اور پولیس کارکنوں، خواتین اور ملازمین کو اٹھا کر لے گئی۔
اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے مقدمہ درج کیا اور اس مقدمے میں صرف نامزد لوگ ہی گرفتار ہیں جبکہ باقی سب کو ذاتی مچلکوں پر چھوڑ دیا گیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا اِس مقدمہ میں 10 مرد اور دو خواتین شامل ہیں، جس پر درخواست گزار کے وکیل علی بخاری نے عدالت کو بتایا کہ دو خواتین پر مقدمے کا کہا جا رہا ہے، اس کے علاوہ بھی دو خواتین کا ہمیں ابھی تک نہیں پتا نہیں۔
اس موقع پر ایف آئی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ ’مقدمے کے علاوہ مرد کارکنوں کو بھی ذاتی مچلکوں پر چھوڑ دیا گیا‘ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا مرد کارکنوں کو ذاتی مچلکوں پر چھوڑنے کا کوئی ثبوت ہے؟
چیف جسٹس عامر فاروق نے دوران سماعت یہ بھی پوچھا کہ آپ نے لوگوں کو اٹھا کر دس گھنٹے بعد چھوڑ دیا؟
’آپ کس قانون کے تحت اس طرح کسی شخص کو گرفتار کر سکتے ہیں؟ کیا پی ٹی آئی سیکرٹریٹ میں بیٹھے تمام لوگوں کو گرفتار کیا جانا لازم تھا؟ کیا اُس دفتر میں موجود ہونا کوئی جرم ہے۔‘
چیف جسٹس عامر فاروق نے مزید سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ ’جن لوگوں کو وہاں سے اٹھایا گیا، کیا آپ کو وہ سب مطلوب تھے؟ اگر آپ نے کسی کو صرف وہاں موجودگی کی بنیاد پر گرفتار کر لیا تو یہ اس کی بدقسمتی ہے۔ اگر میں اپنی عدالت کے دروازے بند کر دوں اور کسی آرڈر کے بغیر آپ کو باہر نہ جانے دوں کیا یہ اغوا نہیں۔‘
انھوں نے مزید سوال کیا کہ ’کل میں سڑک پر جا رہا ہوں تو کیا پولیس مجھے بھی اٹھا کر لے جائے گی؟‘
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں جرگہ عمائدین نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں امن مارچ کو غلط رنگ دیا گیا، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔
جرگہ عمائدین نے کہا ہے کہ بنوں قوم کی پر امن آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اس مارچ میں کسی ایک جماعت کے نام پر نہیں بلکہ لوگ صرف امن کے نام پر نکلے ہیں۔
گذشتہ روز پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بنوں میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں کہا کہ جمعے کو بنوں میں تاجروں کے ’امن مارچ‘ میں کچھ ’منفی عناصر‘ اور مسلح افراد شامل ہو گئے تھے جن کی فائرنگ سے لوگ زخمی ہوئے۔
ان کے مطابق ان عناصر نے نہ صرف ریاست اور فوج مخالف نعرے لگائے بلکہ سپلائی ڈپو کو لوٹا بھی اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں نے قواعد و ضوابط کے مطابق ’ہوائی فائرنگ‘ کی۔
یاد رہے کہ 19 جولائی کو تاجر برادری نے سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کے ہمراہ ’شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے‘ احتجاج کیا تھا اور اس مظاہرے کے دوران فائرنگ اور بھگدڑ سے ایک شخص ہلاک اور تقریباً 25 افراد زخمی ہوئے تھے۔
جرگے کے رہنما ناصر بنگش نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر عطا تارڑ اور مسلم لیگ نون کے رہنما امیر مقام کے بیانات کی مذمت کی کہ وہ قوم سے معافی مانگیں اور اپنے الفاظ واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات سے بنوں کے عوام کے زخموں پر نمک ڈالا جا رہا ہے۔
علما آئمہ مدارس کے رہنما مولانا عبدالغفار قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ امن مارچ مقامی لوگوں کے جذبات کی عکاسی تھی اور اس پر سوچا جائے کہ عوام کیوں اس طرح باہر نکلی۔
بنوں میں احتجاج کی وجہ کیا؟
بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف شہر کی تاجر برادری کی درخواست پر 19 جولائی کو امن مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔
خیبرپختونخوا میں گذشتہ چند ماہ میں یوں تو شدت پسندی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ سامنے آیا ہے تاہم حالیہ دنوں میں بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث احتجاج کا اعلان کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہYOUTUBE/@SCPPROCEEDINGS
پاکستان پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے 13 رکنی فل بینچ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ اس سے قبل حکومتی جماعت مسلم لیگ ن نے مخصوص نشستوں کے اس فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنے سے قبل یہ درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کا امکان نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے 12 جولائی کو مخصوص نشستوں سے متعلق تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ سنایا۔ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو آٹھ ججز نے منظور کیا تھا جبکہ پانچ ججز نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔
پیپلز پارٹی نے سینیئر وکیل فاروق ایچ نائیک کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں سپریم کورٹ سے یہ استدعا کی ہے وہ سندھ کی حکومتی جماعت اور مرکز میں حکومت کی اتحادی جماعت کی حیثیت سے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی نے اس درخواست میں یہ استدعا کی ہے کہ 12 جولائی کو مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اس پر عملدرآمد روک دیا جائے۔
واضح رہے کہ سپریم کوٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کے حصول کی حق دار ہے اور وہ اس فیصلے کے 15 روز میں مخصوص نشستوں کے حوالے سے اپنی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروائے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جو امیدوار آزاد حیثیت میں اس الیکشن میں کامیاب ہوئے ہیں وہ اپنی جماعت کی وابستگی سے متعلق بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں اور پھر الیکشن کمیشن اس جماعت کے ساتھ رابطہ کرکے اس بات کی تصدیق کرے اور تصدیق ہونے کے سات روز کے اندر اندر اس امیدوار کو اس جماعت کا رکن تصور کیا جائے۔
عدالت نے کہا کہ آزادا امیدواروں کے سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے بعد اس کی تعداد کو دیکھتے ہوئے متناسب نمائندگی کے اصول کو سامنے رکھتے ہوئے اس جماعت یعنی پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دی جائیں۔
پیپلز پارٹی نے اپنی درخواست میں کہا کہ یہ قانون کا ایک عام اصول ہے کہ فریقین کو ان کی استدعا کے مطابق ریلیف دیا جا سکتا ہے اور یہ کہ یہ عدالت آئین کی تشریح کر سکتی ہے مگر خود قانون سازی نہیں کر سکتی۔
پیپلز پارٹی کی درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف تو سرے سے اس سارے معاملے میں فریق ہی نہیں تھی تو پھر اسے ریلیف کیسے دیا جا سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستوں سے متعلق تفصیلات جمع کرانے کے لیے مناسب وقت دیا تھا مگر اس دوران سنی اتحاد کونسل نے نہ صرف یہ کہ فہرست جمع نہیں کرائی بلکہ اس نے سرے سے عام انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے عدالت سے کہا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور حتمی فیصلے تک مختصر حکمنامے کو معطل کر دے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے 57 بنگلہ دیشی شہریوں کو خلیجی ممالک میں اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں طویل قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
وام نیوز ایجنسی کے مطابق جمعے کو متحدہ عرب کے مختلف علاقوں میں احتجاج کرنے پر تین بنگلہ دیشی شہریوں، جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے ہیں، کو عدالت نے عمر قید جبکہ دیگر 53 کو دس سال جبکہ ایک کو 11 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
نیوز ایجنسی کے مطابق عدالت نے ان شہریوں کے دفاع کے لیے وکیل مقرر کیے تھے جنھوں نے اتوار کو دوران سماعت کہا کہ یہ افراد کسی مجرمانے ارادے سے نہیں جمع ہوئے تھے اور یہ کہ سزا سنانے کے لیے ان شہریوں کے خلاف شواہد ناکافی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کی مذمت کرتے ہوئے محض اپنی سر زمین پر شہریوں کی طرف سے احتجاج کرنے پر پر اتنی سزا کو متحدہ عرب امارات کا انتہائی سخت ردعمل قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں احتجاج غیرقانونی عمل ہے۔ متحدہ عرب میں 90 فیصد غیر ملکی آباد ہیں جبکہ تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ شہری بنگلہ دیش کے یہاں رہ رہے ہیں۔ وام کے مطابق ان 57 بنگلہ دیشی شہریوں پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انھوں بنگلہ دیش کی حکومت کے خلاف متحدہ عرب امارات میں بڑے پیمانرے پر مظاہروں کا انعقاد کیا۔
بنگلہ دیش میں طلبہ کے ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف ہونے والے احتجاج اور مظاہروں میں 150 سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 500 سے زیادہ گرفتار ہوئے ہیں۔
پرتشدد مظاہروں کے بعد سپریم کورٹ نے کوٹہ سسٹم میں تبدیلی کا حکم دیا ہے جس کے مطابق ’1971 کی جنگ میں لڑنے والے فوجیوں کے اہلِ خانہ کو ملازمتوں کا اب صرف پانچ فیصد حصہ ملے گا‘ تاہم مظاہرین نے مارے جانے والے طلبہ کو انصاف ملنے تک ملک گیر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
بنگلہ دیش دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ترقی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبا کے لیے ملازمتیں پیدا کرنے کا سبب نہیں بن سکی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً ایک کروڑ80 لاکھ بنگلہ دیشی نوجوان نوکریوں کی تلاش میں ہیں۔ کم تعلیم یافتہ افراد کے مقابلے میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل افراد میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے۔

بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے پیر کو پہلے کی طرح پاکستان کی قومی شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ پر دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی آمدورفت ممکن نہیں ہوسکی۔
پاکستان کے سرکاری حکام کے مطابق آج اس حوالے سے پیش رفت افغان حکام کی وجہ سے نہیں ہوسکی ہے۔
چمن میں گذشتہ روز دھرنے سے خطاب کے موقع پر بلوچستان کے سابق نگراں وزیر داخلہ ملک عنایت کاسی نے یہ اعلان کیا تھا کہ آج سے چمن سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے کی طرح قومی شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ پر آمدورفت شروع ہوجائے گی۔
اس اعلان کے بعد افغانستان جانے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پیر کی صبح باب دوستی پہنچی لیکن چمن کے مقامی صحافیوں اور سیاسی رہنمائوں نے بتایا کہ یہ لوگ پاکستان کی قومی شناختی کارڈ پر افغانستان نہیں جاسکے۔
چمن سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینیئر صحافی نورزمان اچکزئی نے بتایا کہ ان لوگوں کو مایوس ہوکر واپس لوٹنا پڑا۔
انھوں نے بتایا کہ ’اس کی وجہ افغان حکام ہوسکتے ہیں کیونکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ افغان حکام کو اس حوالے سے ہونے والے معاہدے پر تاحال اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’افغان حکام یہ چاہتے ہیں کہ ان کے تذکرے پر قندھار کے لوگوں کو نہ صرف چمن بلکہ اس سے متصل دوسرے سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ تک آمدورفت کی اجازت دی جائے۔‘
چمن میں جمیعت العلما اسلام کے مقامی رہنما اور سابق دھرنا کمیٹی کے سربراہ مولوی عبدالمنان نے بھی یہ بتایا کہ آج پاکستان کی قومی شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ پر آمدورفت نہیں ہوسکی۔
انھوں نے بتایا کہ افغان حکام کو شاید تحفظات ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ افغان تذکرہ پر پاکستان آنے والوں کی نقل و حمل کو ایک کلومیٹر تک محدود نہیں کیا جائے ۔
پیر کو پاسپورٹ اور تذکرہ پر آمد و رفت نہ ہونے کی وجوہات جاننے کے لیے حکومت بلوچستان کے ترجمان اورکمشنر کوئٹہ ڈویژن سے کیا گیا لیکن انھوں نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تاہم محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس سلسلے میں ہونے والے معاہدے کی تفصیلات حکومت مناسب وقت پر دھرنا کمیٹی کے ساتھ شیئر کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج افغان حکام کی جانب سے پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے چیزیں رک گئیں۔
رابطوں میں مشکلات کی وجہ سے افغان حکام سے اس سلسلے میں ان کا مؤقف معلوم نہیں کیا جا سکا۔ خیال رہے کہ چمن سے متصل افغان سرحدی علاقے میں بڑی تعداد میں منڈیاں ہیں۔
چمن سے تعلق رکھنے والے ہزاروں محنت کش اورچھوٹے تاجروں کے معاش اور روزگار کا انحصار انھی سرحدی منڈیوں پر ہے۔
چمن سے ان منڈیوں تک وہ پاکستانی شناختی کارڈ پر روزانہ افغانستان آمدورفت کرتے تھے لیکن گذشتہ سال پاکستان کی نگراں حکومت نے چمن سے بھی آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط عائد کردی تھی۔
لغڑی اتحاد اور چمن کی سطح پر تمام سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے خلاف گذشتہ سال اکتوبر سے چمن کی تاریخ کا طویل اور بڑا دھرنا دیا گیا۔ اب اس دھرنے کو گذشتہ روز بلوچستان کے سابق نگراں وزیر داخلہ ملک عنایت کاسی کے اس اعلان کے بعد ختم کیا گیا کہ دھرنے کے مطالبات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ چمن سے پہلے کی طرح پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ پر آمدورفت ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ آپریشن عزمِ استحکام پرحکومت نے جو کنفیوژن پھیلائی اس سے بے چینی پیدا ہوئی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ میں جس انتشاری ٹولے کی بات کی گئی، اس کا اشارہ پی ٹی آئی کی طرف تھا، اس طرح سے قبل از وقت مؤقف دینے اور تحریک انصاف پر الزام لگانے سے تحقیقات متاثر ہوں گی۔
انھوں نے کہا کہ عزم استحکام سے متعلق وفاقی حکومت کی سب سے بڑی غلطی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کا بیان تھا، جس میں فوجی آپریشن کا تاثر دیا گیا، جس سے بے چینی پیدا ہوئی۔
واضح رہے کہ پیر کے روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک مضبوط لابی ہے جوچاہتی ہے کہ عزم استحکام کے اغراض مقاصد پورے نہ ہوں، عزم استحکام پرسیاست کی جا رہی ہے، کیوں ایک مافیا، سیاسی مافیا اور غیرقانونی مافیا کھڑا ہوگیا اورکہنے لگا اس کو ہم نے ہونے نہیں دینا؟ یہ سیاسی مافیا چاہتا ہے کہ عزم استحکام کومتنازع بنایا جائے۔
ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا تھا کہ بنوں واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنا دیا ہے، اعلیٰ اختیاراتی کمیشن سب لوگوں سے مل کر رپورٹ بنائے گا۔ ان کے مطابق تحقیقات کے بعد ہی پتا چلے گا کہ کس نے جان بوجھ کر کیا کردارادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیبر پختونخوا کے شہر بنوں کے قبائلی عمائدین کی وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈہ پور سے طویل ملاقات کے بعد عمائدین کے مطالبات کے لیے وزیر اعلی نے ایپکس کمیٹی طلب کرنے کا کہا ہے۔
جرگہ عمائدین نے کہا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ان کا دھرنا جاری رہے گا۔
قبائلی عمائدین کے رہنما اور بنوں چیمبر آف کامرس کے سربراہ ناصر بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ کل یعنی منگل سے ان کا دھرنا جاری رہے گا جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔
مظاہرین کی طرف سے پیش کردہ مطالبات کے چیدہ چیدہ نکات
·طالبان چاہیے وہ گڈ ہوں یا بیڈ، ان کے جتنے بھی مراکز کھولے گئے ہیں وہ سب بند کیے جائیں۔
·بنوں میں تین دن سے بند انٹرنیٹ کھولا جائے
·بنوں میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوگا
·کوئی بھی شخص لاپتا نہیں ہوگا
·15 جولائی اور 19جولائی کے واقعے کی فی الفور جوڈیشنل انکوائری کروائی جائے
·دہشت گردی کی جنگ میں زخمی پولیس اہلکاروں اور عوام کو معاوضہ دیا جائے
·مدارس پر چھاپے مارنا بند کیے جائیں
خیبر پختونخوا کے شہر بنوں کے قبائلی عمائدین کی وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈہ پور سے طویل ملاقات کے بعد عمائدین کے مطالبات کے لیے وزیر اعلی نے ایپکس کمیٹی طلب کرنے کا کہا ہے۔
جرگہ عمائدین نے کہا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ان کا دھرنا جاری رہے گا۔
قبائلی عمائدین کے رہنما اور بنوں چیمبر آف کامرس کے سربراہ ناصر بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ کل یعنی منگل سے ان کا دھرنا جاری رہے گا جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوں گے۔
انھوں نے بتایا کہ انھوں نے وزیر اعلیٰ کو اپنے مطالبات پیش کیے ہیں جس پر وزیر اعلی نے کہا ہے کہ ان میں بیشتر مطالبات ایسے ہیں جن میں وفاقی حکومت کی منظوری ضروری ہے اس لیے وہ ایپکس کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز طلب کریں گے جس میں ان مطالبات پر غور ہو گا اور اگر مطالبات منظور ہوجاتے ہیں تو وہ خود بنوں آکر اس کا اعلان کریں گے۔
ناصر بنگش نے بتایا کہ اس ایپکس کمیٹی میں بنوں اقوام کے نمائندہ جرگہ کے پانچ اراکین بھی شامل ہوں گے۔
اس اجلاس میں وزیر اعلی کے ساتھ انسکپٹر جنرل پولیس اور چیف سیکرٹری موجود تھے۔
ناصر بنگش کے مطابق وزیر اعلی کو بتایا گیا ہے کہ ’علاقے میں شدت پسند موجود ہیں وہ اچھے ہیں۔ یا برے ہیں انھیں نہیں معلوم لیکن لوگ پریشان ہیں۔ علاقے میں امن نہیں ہے اور پولیس رات کے وقت پیٹرولنگ نہیں کر سکتی۔‘
جرگہ اراکین کی تعداد 41 بتائی گئی ہے اور اجلاس کے خاتمے کے بعد ناصر بنگش نے کہا کہ وہ واپس بنوں جا رہے ہیں اور صبح وہ دھرنے میں شریک ہوں گے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر اپنا ردعمل دیا ہے اور سوال اٹھایا کہ ان لوگوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا جو سمگلنگ میں ملوث ہیں۔
انھوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہمیں بتایا جائے سرحد سے پیٹرولیم مصنوعات کیسے سمگل کی جاتی ہیں۔۔۔ منشیات کی سمگلنگ عروج پر ہے مگر وہ کون لوگ ہیں جو اس میں ملوث ہیں؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ’معذرت کے ساتھ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بنتی نہیں تھی۔۔۔ وہ ریاست کے ایک ٹول ہیں، ریاست نہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیر خزانہ بن کر بات کی جو ان کا بنتا نہیں تھا۔
عمر ایوب نے کہا کہ کیا جب تحریک انصاف کی طرف سے پوچھا جاتا ہے کہ اس کے خلاف قوانین کو غلط طور پر پر کیوں استعمال کیا جا رہا ہے تو کیا یہ بھی ڈیجیٹل دہشتگردی ہے۔
’کیا ہمیں یہ حق بھی نہیں؟ صحافی سوال پوچھیں گے تو کیا وہ بھی ڈیجیٹل دہشتگرد ہیں؟ یہ نہیں ہوسکتا۔ وہ عراق، شام اور لیبیا کی مثالیں دیتے ہیں جہاں آمریت ہے۔ وہ ملک اسی لیے ٹوٹے کیونکہ وہاں اظہار رائے کی آزادی نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSocial Media
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک کیس کی سماعت کے موقع پر گذشتہ برس نو مئی کے واقعات پر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی گرفتاری کی صورت میں کارکنان سے فوج کے ہیڈ کوارٹر یعنی جی ایچ کیو کے سامنے پُرامن احتجاج کرنے کا کہا تھا۔
گذشتہ برس نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد واقعات ہوئے تھے جن میں مشتعل مظاہرین نے راولپنڈی میں واقع جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کیا تھا اور لاہور میں واقع جناح ہاؤس پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش بنایا گیا تھا۔
پیر کو صحافی بابر ملک 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے سلسلے میں کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
ان کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک موقع پر عمران خان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا انھوں نے اپنے کارکنان کو جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج کرنے کی ہدایت دی تھی۔
اس پر بابر ملک کے بقول عمران خان نے گذشتہ برس مارچ میں جوڈیشل کمپلکس میں انسداد دہشت گردی عدالت میں ایک مقدمے میں پیشی کا حوالہ دیا۔ عمران خان نے کہا کہ اس روز ان پر اور ان کے پارٹی کارکنوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے شیلنگ کی گئی تو انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنوں کو کہا تھا کہ اگر ان کی ممکنہ گرفتاری عمل میں لائی گئی تو جی ایچ کیو کے سامنے پُرامن احتجاج کیا جائے۔
9 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک ’پُرامن جماعت‘ ہے اور ان کی جماعت کی رہنما یاسمین راشد نے کارکنان کو کور کمانڈر ہاؤس لاہور (جناح ہاؤس) جانے سے روکا تھا۔
جبکہ کمرۂ عدالت میں موجود جیل کے ایک اہلکار کا بھی کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنی گفتگو کے دوران میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ نو مئی کو ان کی جماعت کے کارکنوں کا احتجاج ’پُرامن‘ تھا۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انھوں نے بتایا کہ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ نو مئی کے واقعات کی فوٹیج فوج کے خفیہ ادارے ’آئی ایس آئی کے پاس ہے۔‘ عمران خان نے گفتگو کے دوران مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔
صحافی بابر ملک کا کہنا تھا کہ انھوں نے عمران خان سے دوبارہ پوچھا کہ کیا انھوں نے پارٹی کارکنوں کو جی ایچ کیو کے سامنے پُرامن احتجاج کرنے کا کہا تھا تو بابر ملک کے بقول عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پُرامن احتجاج کو پُرتشدد کیوں کیا گیا، وہ اس کی جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
یہ پہلی بار نہیں کہ عمران خان نے تسلیم کیا ہو کہ جی ایچ کیو کے باہر ان کے کارکنان نے ’پُرامن احتجاج‘ کیا تھا۔ انھوں نے گذشتہ سال مئی میں رہا ہونے کے بعد ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ’جب ہمارے لوگوں نے دیکھا کہ رینجرز - جو پاکستانی فوج ہے - نے مجھے غیر قانونی طریقے سے اغوا کیا ۔۔۔ تو کیا انھیں پُرامن احتجاج کا حق نہیں؟
’انھوں نے کدھر احتجاج کرنا تھا؟ جی ایچ کیو کے سامنے کرنا تھا، جدھر آرمی ہوگی ادھر ہی کرنا تھا، اور کدھر کرنا تھا؟ جس نے بھی پُرامن احتجاج نہیں کیا اس پر سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔‘
ماضی میں حکومتی وزرا کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ نو مئی کو عمران خان کی ہدایت پر کارکنان کی جانب سے پُرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے۔ تاہم پی ٹی آئی ان دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔
نو مئی کے واقعات پر درج کیے گئے بعض مقدمات میں عمران خان پر الزام ہے کہ انھوں نے لوگوں کو پُرتشدد احتجاج پر اُکسایا تھا۔ نو مئی سے متعلق لاہور میں درج مقدمات میں انسداد دہشتگردی کی عدالت سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے جس پر پولیس اڈیالہ جیل میں ان سے تفتیش کرے گی۔
پاکستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے تحریک انصاف کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا ہے اور ترجمان رؤف حسن کے ساتھ ساتھ جماعت کے میڈیا کوارڈینیٹر احمد وقاص جنجوعہ کو ’گرفتار‘ کیا ہے۔
ایک بیان میں وزارت داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کی ٹیم نے یہ کارروائی ’ابتدائی تفتیش اور ڈیجیٹل مواد کی روشنی میں‘ کی۔
ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی ریاست مخالف پروپیگنڈے میں ملوث ہے۔‘
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مزید تفتیش اور تحقیقات کے لیے ’جے آئی ٹی (مشترکہ تحقیقاتی ٹیم) تشکیل دی جا رہی ہے۔‘
اب تک یہ غیر واضح ہے کہ رؤف حسن اور احمد وقاص جنجوعہ کو کس مقدمے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث شدت پسندوں اور ’ڈیجیٹل دہشتگردوں‘ میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں کا ہدف فوج اور اس کی قیادت ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا کہ آرمی چیف، ادارے اور ایس آئی ایف سی پر تنقید کی جا رہی ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے ادارہ کیا کر رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر فوج اور اس کی قیادت کے خلاف ’ڈیجیٹل دہشتگردی‘ سرگرم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’جس طرح ایک دہشتگرد ہتھیار پکڑ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح ڈیجیٹل دہشتگرد موبائل، کمپیوٹر، جھوٹ، فیک نیوز اور پراپیگنڈے کے ذریعے اضطراب پھیلا کر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا ہے۔‘
پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ کسی ’ڈیجیٹل دہشتگرد‘ کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہوتی ہے لیکن شدت پسندوں اور ان میں یہ قدر مشترک ہے کہ ’دونوں کا ہدف فوج ہے۔‘
’ڈیجیٹل دہشتگرد فوج، فوج کی قیادت، فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور کرنے کے لیے فیک نیوز کی بنیاد پر حملے کر رہا ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشتگرد کو قانون اور سزائیں ہی روک سکتی ہیں۔ ’تواتر سے فوج اور دیگر اداروں کی قیادت کے خلاف بے ہودہ بات چیت کی جاتی ہے، فیک نیوز پھیلائی جاتی ہے۔‘
پریس کانفرنس کے آخر میں انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دہشتگردوں کو نہ روکا گیا تو انھیں مزید سپیس ملے گی۔ ’وہ غیر قانونی عناصر جو اس ملک کو سافٹ ریاست بنانا چاہتے ہیں، ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘
ٹی ایل پی کے دھرنے پر فوج کا موقف
اس سے قبل ایک صحافی کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا کہ آیا فیض آباد کے مقام پر تحریک لبیک کے حالیہ دھرنے کا پاکستانی فوج یا اسٹیبلشمنٹ سے کوئی تعلق ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے جواب دیا کہ مرکزی مسئلہ فلسطین کا ہے اور اس پر حکومت و فوج کا واضح موقف ہے کہ یہ نسل کشی ہے اور ناقابل قبول ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’حکومت اور ادارے حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ بغیر تشدد کے، بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل ہوجائے۔‘
تاہم ان کے مطابق یہ ’پراپیگنڈا شروع ہوگیا کہ ادارے نے خود انھیں بٹھایا ہے۔ کیا کل اگر جماعت اسلامی بیٹھے گی یا کوئی اور مظاہرہ ہوگا تو اس پر بھی یہ دعویٰ کیا جائے گا کہ یہ فوج نے کروایا ہے۔
’ملک میں فیک نیوز پر کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ حقائق آپ کے سامنے ہیں کہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ اگر آپ اسے دوستانہ انداز میں حل کر لیں تو مزید قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں۔ اس بارے میں ہر طرح کے سازشی نظریات گردش کرتے ہیں۔‘
دریں اثنا انھوں نے افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستانی شہر چمن میں دھرنے کی مثال دی جہاں کراس بارڈر نقل و حرکت کے لیے پاسپورٹ کی شرط لگانے کی مقامی سطح پر مخالفت کی گئی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغان بارڈر پر غیر قانونی تجارت کو فروغ دیا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ آج چمن میں افغانستان کی سرحد پر آمدورفت کے مسئلے پر تقریباً دس ماہ سے جاری دھرنا منتظمین کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اب چمن سے آمدورفت شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ کی بنیاد پر ہو گی اور اگر کسی کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ہو گا تو وہ شناختی کارڈ کے ٹوکن پر سفر کر سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وضاحت کی ہے کہ آپریشن عزم استحکام ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ انسداد دہشتگردی کی مہم ہے جس کا ماضی کے آپریشنز ضرب عضب اور راہ نجات سے موازنہ درست نہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک بیانیے کے ذریعے آپریشن عزم استحکام کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ سے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی کی جانب سے پوچھا گیا کہ ماضی کے ’راہ نجات‘ اور ’ضرب عضب‘ کا موازنہ عزم استحکام سے کیا جا رہا ہے اور سیاسی حلقوں میں ممکنہ طور پر مقامی لوگوں کے بے گھر ہونے کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ (ملک کے) سنجیدہ مسائل کو بھی سیاست کو بھینت چڑھایا جاتا ہے۔ عزم استحکام اس کی مثال ہے۔‘
’حکومت بھی کہہ چکی ہے کہ آپریشن عزم استحکام ایک مربوط، انسداد دہشتگردی مہم ہے، کوئی ملٹری آپریشن نہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ 22 جون کو ایپکس کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس ضرورت کا اظہار کیا کہ ملک میں جامع انسداد دہشتگردی کی مہم کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے اسی اعلامیے کے حوالے سے کہا کہ ملک میں انسداد دہشتگردی مہم کے لیے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی اور قانون سازی کی جائے گی۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ملک میں ’ایک بیانیہ بنایا گیا کہ آپریشن سے لوگ بے گھر ہوں گے اور اس کی مخالفت کی جانی چاہیے۔‘
’یہ ہماری بقا کا معاملہ ہے، ہم سنجیدہ معاملے کو بھی سیاست کی وجہ سے مذاق بنا دیتے ہیں۔‘
انھوں نے سمگلنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن عزم استحکام کا ایک اہم مقصد دہشتگردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں بے نامی پراپرٹیز، سمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ذریعے دہشتگرد آپریٹ کر رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سوال کیا کہ ’عزم استحکام کو متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ۔۔۔ ایک مضبوط لابی چاہتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کے مقاصد پورے نہ ہوں۔‘
’کیوں ایک بہت بڑا مافیا، سیاسی مافیا، غیر قانونی مافیا ہر جگہ سے کھڑا ہوگیا کہ ہم نے یہ کام نہیں ہونے دینا۔ وہ اسے جھوٹ کی بنیاد پر متنازع بنانا چاہتے ہیں۔‘
فوج کے ترجمان نے نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد، اب تک کی کارروائی کی تفصیلات اور دیگر معلومات پر مبنی سلائیڈز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ہر گھنٹے چار سے پانچ انٹیلیجنس کی بنیاد پر انسداد دہشتگردی آپریشن کر رہے ہیں۔‘
خیال رہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا گیا تھا جس پر ملک کے بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے تحفظات ظاہر کیے گئے تھے۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب کے نئے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جسمانی ریمانڈ میں سات روز کی توسیع کی ہے۔
اسام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے جب اس مقدمے کی سماعت شروع کی تفتیشی ٹیم نے دونوں ملزمان سے مزید تفتیش کے لیے 14 روز کا جسمانی ریمانڈ مانگا۔ تاہم ملزمان کے وکلا نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ ایک ہی واقعے سے متعلق نیب کے دو ریفرنس کیسے دائر کیے جاسکتے ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے نیب کی درخواست منظور کر لی اور دونوں ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔
تاہم عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ ملزمان سے ان مقدمات میں تفتش جیل میں ہی کی جائے اور عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزمان کو دوبارہ 29 جولائی کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سابق حکمراں اتحاد نے نیب آرڈیننس میں ترمیم کر کے جسمانی ریمانڈ 90 دن سے 14 دن کر دیا تھا تاہم عمران خان کی گرفتاری کے بعد نیب کے قوانین میں ایک مرتبہ پھر ترمیم کی گئی اور اب جسمانی ریمانڈ 14 دن سے بڑھا کر 40 دن تک کر دیا گیا ہے۔
عمران خان اور بشرہ بی بی نے دوسرے توشہ خانہ ریفرنس میں گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست کر رکھی ہے جس پر رجسٹرار آفس نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب ملزمان جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہوں تو ان سے متعلق درخواست کیسے دائر کی جاسکتی ہے۔
تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو دور کرتے ہوئے اس درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنی جماعت کی جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کے بعد یہ وضاحت کی ہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے انھیں حراست میں نہیں لیا گیا تھا۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس نے جب پارٹی کے ترجمان رؤف حسن کو حراست میں لیا تو وہ پولیس کے ساتھ خود گئے تھے مگر اب وہ اپنی رہائش گاہ میں موجود ہیں۔
ادھر سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹریٹ پر چھاپے کے دوران بعض اہم دستاویزات اور کمپیوٹرز اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ اب تک اسلام آباد پولیس نے اس ریڈ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران شبلی فراز کہتے ہیں کہ ’سارے فلورز پر پولیس کھڑی ہیں۔ وہ ہمارے ریکارڈز، کمپیوٹرز لے گئے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری کو تحریک انصاف کے دفتر کے باہر دیکھا جاسکتا ہے۔ ان ویڈیوز میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ اہلکار کمپیوٹرز اور دستاویزات اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر تحریک انصاف کو بیان حلفی اور دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرانے تھے جنھیں حتمی شکل دی جا رہی تھی۔ ’یہ وہ دستاویزات اٹھا کر لے گئے ہیں۔ ہمارے ایم این ایز نے عدالتی ہدایات کے مطابق اپنی وابستگی کا اظہار کرنا تھا۔ لیکن وہ ان دستاویزات کو لے گئے۔‘
انھوں نے الزام لگایا کہ حکومت ’ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا راستہ روکنا چاہتی ہے۔‘
شبلی فراز نے یہ بھی کہا کہ فیصلے پر عملداری میں رکاوٹ ڈالنے کی اس کوشش پر ’ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔‘
خیال رہے کہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے سے متعلق فیصلے میں سپریم کورٹ نے جماعت کو ہدایت دی تھی کہ اپنے ارکان کی فہرست حلف ناموں کے ساتھ الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے خلاف انٹرا پارٹی الیکشن کیس 23 جولائی کو الیکشن کمیشن میں سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق اس سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکلا نے جماعت کی فنڈنگ کے بارے میں دلائل دینا تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ترجمان رؤف حسن کو اسلام آباد میں جماعت کے مرکزی سیکریٹریٹ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کی ایک بھاری نفری کو پی ٹی آئی کے دفتر کے باہر دیکھا جاسکتا ہے۔
ابتدائی طور پر پی ٹی آئی کی جانب سے رؤف حسن کے علاوہ جماعت کے موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی گرفتاری کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا تاہم اب جماعت کے رہنما زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس نے تاحال ان گرفتاریوں سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا تاہم اس کارروائی میں شامل اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گرفتاری کی تصدیق کی۔
اہلکار سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ یہ گرفتاری کس مقدمے میں عمل میں آئی ہے تو انھوں نے یہ تفصیل دینے سے معذرت کی۔
پولیس کی جانب سے تحریکِ انصاف کے دفتر پر چھاپے کے بعد سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ پولیس اہلکار رؤف حسن اور بیرسٹر گوہر کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے اس بارے میں ’کچھ نہیں بتایا‘۔
سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے اس اقدام سے ’ملک کے ہر قانون کو نظر انداز کیا ہے۔ پاکستان میں جنگل کے قانون کی حکمرانی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہABDUL BASIT ACHAKZAI
افغانستان سے متصل پاکستان کے شہر چمن میں افغانستان کی سرحد پر آمدورفت کے مسئلے پر تقریباً دس ماہ سے جاری دھرنا منتظمین کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد ختم کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ بلوچستان کے سابق نگران وزیر داخلہ ملک عنایت اللہ کاسی کے خطاب کے بعد کیا گیا جس میں انھوں نے اعلان کیا کہ دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات کو تسلیم کیا گیا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب چمن سے آمدورفت شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ کی بنیاد پر ہو گی اور اگر کسی کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ہو گا تو وہ شناختی کارڈ کے ٹوکن پر سفر کر سکے گا۔
انھوں نے بتایا کہ جن نوجوانوں کے شناختی کارڈ نہیں بنے ہیں ان کے شناختی کارڈ بنانے کے لیے نادرا کی دس موبائل گاڑیاں بھی چمن لائی گئی ہیں۔
ملک عنایت کاسی کے دعووں کے برعکس جہاں اس بارے میں تاحال حکومتِ پاکستان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے وہیں گورنر بلوچستان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان چمن سرحد کا مسئلہ حکومت کی کاوشوں اور وفاقی حکومت سے رابطوں کے نتیجے میں حل ہو گیا ہے۔
ادھر افغان سرحدی علاقے سپین بولدک کے حکام نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ خبر کہ شناختی کارڈ اور تذکرہ کی بنیاد پر سرحد کو کھول دیا گیا ہے حقائق سے دور ہے۔
چمن کے سینیئر صحافی نعمت اللہ سرحدی کے مطابق طالبان حکام کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے رسمی اعلان تک کوئی بھی سرحد سے آمدورفت کی کوشش نہ کرے۔
اس دھرنے کا آغاز گذشتہ برس نگران حکومت کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط لاگو کرنے کے بعد ہوا تھا۔
اس پابندی کے نفاذ سے قبل چمن کی سرحد پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان لوگوں کی آمدورفت پاکستانی قومی شناختی کارڈ یا افغان تذکرہ کی بنیاد پر ہوتا تھا اور مظاہرین اسی نظام کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
جب یہ دھرنا شروع ہوا تو اسے نہ صرف چمن کی سطح پر تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی بلکہ بلوچستان کی اکثر سیاسی جماعتیں بھی دھرنے کے مطالبے کی حمایت کرتی رہیں۔
اس دھرنے اور احتجاج کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی بری طرح سے متاثر ہوئی۔
چمن پولیس کے سربراہ شاہد جمیل کاکڑ نے دھرنے کے خاتمے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ احتجاج میں شامل افراد نے تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا ہے۔
دھرنے کے خاتمے سے قبل حکام نے اس احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے ان رہنماؤں کو بھی رہا کر دیا ہے جنھیں رواں برس جون کے اوائل میں احتجاج میں شدت آنے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
ان رہنماؤں میں لغڑی اتحاد کے صدر غوث اللہ اور دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی کے علاوہ لغڑی اتحاد کے بعض دیگر عہدیدار شامل تھے۔
اتوار کو یہ رہنما سابق نگراں وزیر ملک عنایت کاسی کے ہمراہ دھرنے کے مقام پر پہنچے جہاں دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ احتجاج میں شامل افراد سے خطاب کرتے ہوئے ملک عنایت کاسی نے یہ بھی کہا کہ ’دھرنے کے شرکا کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں اور آئندہ سرحد کے حوالے سے جو معاہدہ ہو گا وہ کسی ملک یا خان کے لیے نہیں بلکہ لغڑیوں کے لیے ہوگا اور اس حوالے سے معاہدے لغڑی اتحاد کے ساتھ ہوں گے۔‘
دھرنے کے شرکا کے مطالبات پر طے پانے والے معاہدے کے حوالے سے دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تاہم دھرنا کمیٹی کے سربراہ مولوی عبدالمنان نے بی بی سی کو بتایا کہ معاہدے اور دھرنے کے خاتمے کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جو بھی مذاکرات ہوئے وہ گزشتہ دس روز کے دوران گرفتار رہنماؤں کے ساتھ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم معاہدے کو دیکھیں گے اور اگر یہ چمن کے لوگوں کے مفاد میں نہیں ہوا تو ہم اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بھی واضح نہیں کہ طے پانے والا معاہدہ افغان حکومت کے لیے قابل قبول ہو گا یا نہیں کیونکہ پہلے یہ کہا جا رہا تھا کہ افغان سرحدی علاقےسپین بولدک کے لوگوں کو تذکرہ کی بنیاد پر چمن سے پاکستانی حدود میں صرف ایک کلومیٹر تک اندر آنے کی اجازت ہو گی اور اس شرط پر افغان حکام معترض تھے۔
دھرنے کے خاتمے کے بعد گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرحدی تجارت کی دوبارہ بحالی اور فعالیت کے لیے شعوری کوششیں کی گئیں. ان کا کہنا ہے کہ 'پاک افغان چمن سرحد کی تقریباً پچھلے ایک سال سے مسلسل بندش کے باعث قلعہ عبداللہ کے عوام خاص طور پر تاجر اور کاروباری حضرات مشکلات سے دوچار ہوئے.
’چھوٹے اور بڑے تاجروں کے ہونے والے نقصانات کا ہمیں خوب احساس ہے تاہم اب موجود حکومت سرحدی تجارت کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں کی فعالیت کے لیے مزید اقدامات اٹھا رہی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہROOFAN KHAN
صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع بنوں میں امن مارچ اور دھرنے کے قائدین نے حکومت سے مذاکرات کے پہلے دور میں دس مطالبات پیش کیے ہیں جن میں طالبان کے مراکز کے مکمل خاتمے اور فوجی آپریشن کی بجائے پولیس کو بااختیار بنانے اور سی ٹی ڈی کو انسدادِ دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کی کمان سونپنے کی بات کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف شہر کی تاجر برادری کی اپیل پر جمعے کے روز ہونے والے ’امن مارچ‘ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے اور اس دوران فائرنگ اور بھگدڑ مچنے سے کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
فائرنگ کے واقعے کے بعد یہ مارچ دھرنے میں تبدیل ہو گیا تھا۔
اتوار کو دھرنے کے دوسرے روز مشران بنوں نے متفقہ طور پر امن دھرنے کو آگے بڑھانے کے لیے 45 رکنی امن کمیٹی منتخب کی جس میں مقامی ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کے علاوہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی نمائندگی شامل ہے۔
اس امن کمیٹی کا سربراہ چیمبر آف کامرس بنوں کے صدر ناصر خان بنگش کو منتخب کیا گیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے مذاکراتی ٹیم میں کمشنر بنوں ڈویژن، ڈی آئی جی بنوں ڈویژن اور ڈسڑکٹ پولیس افسر بنوں ڈویژن شامل ہیں۔
مظاہرین کی امن کمیٹی کے رہنماؤں کی پیر کو وزیراعلیٰ علی امین سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہFARHAT ULLAH
مطالبات کے چیدہ چیدہ نکات
امن کمیٹی کے صدر ناصر خان بنگش نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں واضح کیا ہے کہ وہ بنوں میں امن چاہتے ہیں۔ ناصر خان بنگش کا کہنا تھا کہ پیر دس بجے تک ہمیں بتایا جائے کہ مطالبات کا کیا بنا اور کیا ہوا ہے۔
’ہمارے ساتھ انتظامیہ نے رابطہ قائم کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ حالات بہتر ہوں اور اس کے لیے وہ پل کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں اور یقین دہانی کروائی گئی کہ وہ مثبت کردار ادا کریں گے۔ ‘
ناصر خان نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بنوں میں کوئی بھی فوجی آپریشن نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف ہر کارروائی سی ٹی ڈی کرے گی اور پولیس ان کی معاونت کے لیے موجود ہوگی۔ اگر سی ٹی ڈی کسی فرد کو لے کر جائے گی تو ہر صورت میں اس کا اندراج مقامی چوکی اور تھانے میں ہو گا۔
دوسری جانب صوبائی وزیر یار خان نے بی بی سی سے بات کر کرتے ہوئے کہا کہ کہ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں اور مشران نے مطالبے پیش کر دیے ہیں۔
ان کے مطابق سوموار کا دن بہت اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم حکومت ہیں مگر کچھ چیزیں ہم پر مسلط کی جا رہی ہیں جن کو ہم قبول نہیں کریں گے۔ سوموار کو جو کچھ بھی ہوگا وہ سب کچھ مشران اور عوام کے سامنے ہو گا۔‘
بی بی سی کی اس لائیو کوریج کے ذریعے آپ کو پاکستان اور دنیا بھر سے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا!
اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ: