آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جنوبی غزہ میں ’حملوں کی نئی لہر‘ کا آغاز، غزہ میں امداد کی ترسیل اگلے نوٹس تک معطل

اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو آگاہ کیا کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر رہا ہے

خلاصہ

  • اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر دیا
  • پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی روز تک جاری رہنے والے مسلح تصادم کے بعد سنیچر کی شب فریقین جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
  • قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد فریقین نے جنگ بندی اور مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا
  • امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک، واشنگٹن ڈی سی، شکاگو، میامی اور لاس اینجلس سمیت امریکہ کے شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ’نو کنگز‘ کے عنوان سے مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    20 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بلوچستان اسمبلی کے رکن رحمت صالح بلوچ کے چھوٹے بھائی ولید صالح حملے میں ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں بلوچستان اسمبلی کے رکن اورنیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما رحمت صالح بلوچ کے چھوٹے بھائی ولید صالح بلوچ ہلاک ہوگئے۔

    رکن بلوچستان اسمبلی کے چھوٹے بھائی ولید بلوچ پرحملے کا واقعہ ضلع پنجگور کے ہیڈکوارٹر پنجگورشہرمیں پیش آیا۔

    پنجگورپولیس کے ایک اہلکار شہزاد بلوچ نے بتایا کہ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ولید صالح بلوچ کو ان کے گھر کے قریب حملے کا نشانہ بنایا جس میں وہ مارے گئےـ

    پنجگور انتظامیہ کے ایک سینیئر آفیسر نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ولیدصالح اپنی گاڑی میں بازار سے گھر جارہے تھے کہ گھر کے قریب دو موٹرسائیکلوں پر سوار چارمسلح افراد نے ان پر حملہ کیا جس میں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔

    اس سے قبل رکن بلوچستان اسمبلی رحمت بلوچ کے گھر پر بھی دستی بموں سے حملے ہوتے رہے ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس سلسلے میں رپورٹ طلب کرلی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

    ضلع کچھی میں لیویز فورس کا تھانے نذر آتش

    ایک اورعلیحدہ واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے ضلع کچھی کے علاقے حاجی شہر میں لیویز فورس کے ایک تھانے پرحملہ کرکے اسے نذر آتش کیا۔

    کچھی میں پولیس ایک سینیئراہلکارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پراس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تھانے پر حملے کے بعد اس کے اہلکاروں کویرغمال بنا کرمسلح افرادان سے اسلحہ لے گئے۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ مسلح افراد نے حاجی شہرمیں ناکہ بندی بھی کی تاہم ضلع کچھی میں انتظامیہ کے ایک سینیئراہلکارنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلح افراد زیادہ دیرنہیں ٹہرے۔

    انھوں نے بتایا کہ وہ بیس منٹ کے قریب وہاں رہے جس کے دوران انھوں لیویز فورس کے تھانے کو نذر آتش کرنے کے علاوہ لیویز فورس کے اہلکاروں سے اسلحہ لے کر نامعلوم مقام کی جانب چلے گئے۔

    نیشنل پارٹی کا تین روزہ سوگ کا اعلان

    نیشنل پارٹی نے پارٹی کے رہنما رحمت صالح بلوچ کے بھائی ولید صالح بلوچ کے قتل کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس پر تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔

    پارٹی کے ایک اعلامیہ کے مطابق ولید صالح بلوچ کی شادی کی تقریبات جاری تھیں مگر اس کے قتل کے واقعے نے خوشیوں کے گھر کوماتم میں بدل دیا۔

    نیشنل پارٹی نے ولید صالح بلوچ کے قتل امن، عدم تشدد اور سیاسی اقدار کے علمبردار خاندان پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔

    نیشنل پارٹی کے اعلامیہ میں الزام لگایا گیا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امن دشمن عناصر بلوچستان میں ترقی اور استحکام کے مخالف ہیں۔

  3. جنوبی غزہ میں ’حملوں کی نئی لہر‘ کے آغاز کی اسرائیلی فوج کی تصدیق، غزہ میں امداد کی ترسیل اگلے نوٹس تک معطل

    اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں جنوبی غزہ کی پٹی میں حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

    دوسری جانب ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو آگاہ کیا کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی ترسیل کو اگلے نوٹس تک معطل کر رہا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے دعوے کے مطابق ’اتوار کی صبح جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد آئی ڈی ایف کے حملے حماس کے ’دہشت گردی کے اہداف‘ کے خلاف ہیں۔

    دوسری جانب حماس نے جنگ بندی کے لیے پرعزم رہنے اور اسرائیل پر متعدد بار اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

    سکیورٹی عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’سیاسی قیادت کی ہدایت کے مطابق حماس کی جانب سے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کے بعد غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی منتقلی کو اگلے نوٹس تک روک دیا گیا ہے۔‘

    یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے تاہم حماس نے اس کی تعدید کی ہے۔

    جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد 10 اکتوبر سے ہر روز امداد لے جانے والی سینکڑوں لاریوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔

    اس سے قبل امداد کی معطلی سے اگست میں اقوام متحدہ نے علاقے میں قحط کی تصدیق کی تھی۔

  4. اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کمانڈر سمیت پانچ دیگر افراد کے ہلاکت کی اطلاعات, رشدی ابوعلوف ،نامہ نگار برائے غزہ، بی بی سی نیوز

    اسرائیل کے مقامی میڈیا نے خبر دی ہے کہ غزہ کے وسطی قصبے الزویدہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے القسام بریگیڈ کے چھ ارکان ہلاک ہو گئے ہیں۔

    مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں جبالیہ بٹالین کی ایلیٹ یونٹ کے کمانڈر یحییٰ المبوح بھی شامل ہیں تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    اس حملے میں قصبے کے بیچ فرنٹ کے ساتھ ایک خیمے کے اندر قائم ایک چھوٹے کیفے کو نشانہ بنایا گیا۔

    یاد رہے کہ الزویدہ غزہ کے بحیرہ روم کے ساحل پر دیر البلاح اور خان یونس کے درمیان واقع ہے۔

    جنگ بندی کے معاہدے کے دوران ایک سینئر فیلڈ کمانڈر المبحوح کی موت حماس کی ایلیٹ فورسز کے لیے سب سے اہم نقصانات میں شمار کی جا سکتی ہے۔

  5. غزہ میں دو حملوں میں نو افراد ہلاک, رشدی ابوعلوف ،نامہ نگار برائے غزہ، بی بی سی نیوز

    غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوران ہی دو الگ میں مجموعی طور پر نو افراد کی ہلاکت اور سات افراد کے زخمی ہونےکی خبر سامنے آئی ہے۔

    غزہ کے الاقصی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے وسطی علاقے نصیرات میں اسرائیلی فضائی حملے میں تین افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    ان ہلاکتوں کی تصدیق غزہ کے زیر انتظام سول ڈیفینس نے بھی کی ہے۔

    اس سے قبل آج صبح وسطی غزہ کے قبضے الزویدہ پر ایک علیحدہ حملے میں طبی حکام نے چھ فلسطینیوں کی ہلاک اور سات افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی تھی۔

    غزہ کے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اسرائیلی فضائی حملے اتنی جلدی دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔

    جنگ بندی کے بعد ریلیف کا مختصر احساس تیزی سے خوف اور بے یقینی میں بدل گیا ہے۔

    رہائشیوں نے اپنے خیموں اور گھروں کی طرف جانا شروع کر دیا ہے جب کہ کئی علاقوں میں بنیادی اشیا کی قیمتیں پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گئی ہیں جس سے بڑھتی ہوئی بے چینی اور مایوسی کا اظہار ہوتا ہے کہ صورتحال کتنی تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

    حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ شرم الشیخ میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے لیے پرعزم ہے لیکن زمینی سطح پر ہونے والی پیش رفت سے پتہ چلتا ہے کہ صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے جو جنگ بندی کو تباہی کے دہانے پر بھی دھکیل سکتی ہے۔

  6. جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے، ’فلسطینی دھڑوں کے درمیان مزید لڑائی کا حقیقی خطرہ‘

    اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے غزہ میں فضائی حملے کیے ہیں۔

    ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ اس نے رفح، جنوبی غزہ میں فضائی حملے کیے ہیں، اور حماس پر حملوں کا الزام ’جنگ بندی کی کھلم کھلا خلاف ورزی‘ کا عائد کیا گیا ہے۔

    ایک فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ حماس نے ’پیلی لائن سے آگے اسرائیلی افواج کے خلاف متعدد حملے کیے‘ ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ علاقہ ہے جہاں سے اسرائیلی فوجی امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے پہلے مرحلے کے مطابق واپس چلے گئے ہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے اور اسرائیل پر متعدد بار اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

    فلسطینی دھڑوں کے درمیان مزید لڑائی کا حقیقی خطرہ

    فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    صدر ٹرمپ کی ثالثی میں جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے لیکن غزہ کی پٹی کے اندر پہلے ہی مسلح جھڑپیں شروع ہو چکی ہیں۔

    ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے جنگجوؤں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں جس کے بعد اہلکار نے کہا کہ راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ حملے اور حماس کی طرف سے اسرائیل کے زیر انتظام علاقے میں سنائپر فائر کیے گئے۔

    جنگ بندی معاہدے کی شرائط کے تحت حماس اپنے ہتھیار حوالے کرنے اور اقتدار سے دستبردار ہونے کی پابند ہے۔ ابھی تک ایسا نہیں ہو سکا ہے۔

    حماس نے اسرائیل پر اپنے حریف گروہوں کو فنڈز فراہم کرنے اور مسلح کرنے کا الزام عائد کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ ان گروہوں نے امدادی ٹرکوں کو لوٹ لیا ہے۔

    حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر جرائم پیشہ گروہوں کو طاقتور بنا رہا ہے تاکہ حماس کی اتھارٹی کو چیلنج کیا جا سکے اور افراتفری پیدا کی جا سکے۔

    غزہ میں ایک مضبوط بین الاقوامی فورس کی موجودگی کے بغیر اب فلسطینی دھڑوں کے درمیان مزید باہمی لڑائی کا حقیقی خطرہ ہے۔

    ایک مجوزہ انٹرنیشنل ’سٹیبلائزیشن فورس‘ یعنی استحکام لانے والی فوج کی تشکیل ابھی باقی ہے تعیناتی تو پھر بعد کی بات ہے۔

  7. امریکہ میں ٹرمپ مخالف مظاہروں میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے: ’وہ مجھے بادشاہ کہہ رہے ہیں، میں بادشاہ نہیں ہوں‘ امریکی صدر کا ردعمل, گریس الیزا گڈون اور کیتلن ولسن، بی بی سی نیوز

    امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

    نیو یارک، واشنگٹن ڈی سی، شکاگو، میامی اور لاس اینجلس سمیت امریکہ کے شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ’نو کنگز‘ کے عنوان سے مظاہروں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔

    نیو یارک شہر کے مشہور ٹائمز سکوائر اور سڑکوں پر ہزاروں لوگوں نے ’جمہوریت، بادشاہت نہیں‘ اور ’آئین آپشنل نہیں ہے‘ جیسے نعروں والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    مظاہروں سے پہلے ٹرمپ کے اتحادیوں نے مظاہرین پر انتہائی بائیں بازو کی ’انتیفا‘ تحریک سے منسلک ہونے کا الزام عائد کیا، اور اس کی مذمت کی جسے انھوں نے ’امریکہ سے نفرت کرنے والی ریلی‘ قرار دیا ہے۔

    کئی امریکی ریاستوں نے نیشنل گارڈ کو طلب کر لیا۔ تاہم منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اورریلیاں جس میں تقریباً سات ملین افراد حصہ لے رہے ہیں پرامن ہیں۔

    جنوری میں وائٹ ہاؤس میں دوسری بار واپسی کے بعد سے ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کے دائرہ کار کو بڑھا دیا ہے۔ انھوں نے ریاستوں کے گورنرز کی مخالفت کے باوجود وفاقی حکومت کے کچھ شعبوں کو ختم کرنے اور نیشنل گارڈ کے دستوں کو امریکی شہروں میں تعینات کرنے کے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے۔

    انھوں نے انتظامیہ کے اعلیٰ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ممکنہ دشنموں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بحران میں گھرے ملک کی تعمیر نو کے لیے ان کے اقدامات ضروری ہیں اور انھوں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ ایک آمر یا فاشسٹ جیسا برتاؤ کر رہے ہیں۔

    ناقدین نے خبردار کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ کے کچھ اقدامات غیر آئینی اور امریکی جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔

    اتوار کو نشر ہونے والے فاکس نیوز پر ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے ریلیوں میں ان پر عائد کیے گئے الزامات کا جواب دیا ہے۔

    ٹرمپ نے اس انٹرویو میں کہا کہ ’ایک بادشاہ! یہ کوئی عمل نہیں ہے، آپ جانتے ہو، وہ مجھے بادشاہ کہہ رہے ہیں۔ میں بادشاہ نہیں ہوں۔‘

    نیو یارک میں یہ نعرے بلند ہوئے کہ ’جمہوریت کچھ ایسی ہی دکھائی دیتی ہے‘۔ ان نعروں کے پس منظر میں قریب قریب ایک ڈھول کی آواز مسلسل بج رہی تھی۔

    ہیلی کاپٹر اور ڈرون اوپر سے اڑتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے اور وہاں پولیس موجود تھی۔

    نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ شہر کے پانچ حصوں (بارو) یا اضلاع میں 100,000 سے زیادہ لوگ جمع ہوئے تھے اور احتجاج سے متعلق کوئی گرفتاری نہیں کی گئی۔

    ٹائمز سکوائر پر موجود ایک پولیس افسر کے اندازے کے مطابق 20,000 سے زیادہ لوگ سینونتھ ایونیو کی طرف مارچ کر رہے تھے۔

    فری لانسر اور ایڈیٹر بیتھ زسلوف نے کہا ہے کہ وہ نیویارک کے احتجاج میں شامل ہوئی ہیں کیونکہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت ہونے والی ’فسطائیت اور آمرانہ حکومت‘ پر غم و غصہ اور پریشانی محسوس کرتی ہیں۔

    ’میں نیویارک شہر کا بہت خیال رکھتی ہوں۔ یہ مجھے بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ گھر سے باہر نکلنے کی امید دیتا ہے۔‘

    68 سالہ ریٹائرڈ الیکٹرانک انجینئر ماسیمو ماسکولی جو نیو جرسی کے رہائشی اور اٹلی میں پلے بڑھے ہیں نے کہا کہ وہ اس لیے احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ انھیں تشویش ہے کہ امریکہ بھی اسی راستے پر چل رہا ہے جس تباہی کی طرف ان کا آبائی ملک گذشتہ صدی میں چل پڑا تھا۔

    ماسیمو ماسکولی نے کہا ہے کہ وہ خاص طور پر ٹرمپ انتظامیہ کے امیگریشن کریک ڈاؤن اور لاکھوں امریکیوں کے لیے صحت کے شعبے میں ہیلتھ کئیر کے لیے مختص کٹوتیوں سے پریشان ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سپریم کورٹ پر بھروسہ نہیں کر سکتے، ہم حکومت پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ ہم کانگریس پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس تمام مقننہ، ایگزیکٹو اور عدلیہ ہے جو اس وقت امریکی عوام کے خلاف ہیں۔ اس لیے ہم لڑ رہے ہیں۔‘

    واشنگٹن، ڈی سی میں، جہاں ٹرمپ کی درخواست پر اگست سے نیشنل گارڈ کے محافظ تعینات ہیں، احتجاج میں بھی کوئی فوجی نظر نہیں آیا۔

    یہاں ریلی میں ایک پلے کارڈ پر درج تھا ’ہاں میں انتیفا ہوں‘۔

    76 برس کے چک ایپس نے کہا کہ یہ ایک جامع اصطلاع ہے جس کا صاف مطلب یہ بنتا ہے کہ وہ ’امن، ڈے کئیر، مناسب اجرت، ہیلتھ کیئر‘ جیسے مسائل کے علاوہ تارکین وطن اور سیاہ فام لوگوں کے حقوق کی بھی بات کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہ پورے نظام کو آنکھیں دکھا رہے ہیں یا اس کی کوشش کر رہے ہیں مگر اس سب میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔‘

    جمہور پسند سیاستدان بھی اس احتجاج کا حصہ بن گئے ہیں۔

    سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’امریکہ میں ہمارا کوئی آمر نہیں ہے۔ اور ہم ٹرمپ کو اپنی جمہوریت کو کھوکھلا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    نیویارک کے احتجاج میں ان کے ہاتھ میں اپنی تصویر والا پلے کارڈ تھا جس پر درج تھا کہ ’ہیلتھ کیئر کے بحران کو ٹھیک کریں‘۔

    واشنگٹن ڈی سی میں ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز نے اہم خطاب کیا۔

    انھوں نے ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم یہاں اس لیے نہیں ہیں کہ ہم امریکہ سے نفرت کرتے ہیں، ہم یہاں اس لیے ہیں کہ ہم امریکہ سے محبت کرتے ہیں۔

    ڈیموکریٹک سینیٹرز کوری بکر اور ایڈم شیف نے بھی احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اپنی ویڈیوز پوسٹ کیں، جس میں ملک بھر میں باہر نکلنے پر عوام کا شکریہ ادا کیا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’جمہوریت ایسی نظر آتی ہے۔ بولنے کے لیے پورے امریکہ کا شکریہ۔۔‘

    سینیٹر کرس مرفی نے اپنی آبائی ریاست کنیکٹیکٹ میں لوگوں کے بڑے ہجوم والی وڈیو شیئر کی۔ ’یہ حوصلے بڑھانے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا دن ہماری قوم کی 250 سالہ تاریخ میں پرامن احتجاج کا سب سے بڑا دن بن جائے گا۔‘

    کئی امریکی ریاستوں میں ریپبلکن گورنرز نے مظاہروں سے قبل نیشنل گارڈ کے دستوں کو الرٹ پر رکھا تھا۔

    ڈیموکریٹس کی طرف سے اس اقدام کی مذمت کی گئی۔ ریاست کے سرکردہ ڈیموکریٹ جین وو نے دلیل دی کہ ’پرامن احتجاج کو دبانے کے لیے مسلح فوجی بھیجنا بادشاہوں اور آمروں کا کام ہے اور گریگ ایبٹ نے ثابت کیا کہ وہ ان میں سے ایک ہے۔‘

    ورجینیا کے ریپبلکن گورنر گلین ینگکن نے بھی ریاست کے نیشنل گارڈ کو فعال کرنے کا حکم دیا تھا تاہم مقامی سطح سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران فوجی موجود نہیں تھے۔

    یہ احتجاج صرف امریکہ تک محدود نہیں رہا۔

    پورے یورپ میں برلن، میڈرڈ اور روم میں بھی مظاہرے ہوئے جب لوگوں نے اپنے امریکی شہریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ لندن میں کئی سو مظاہرین امریکی سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے۔

    ٹورنٹو میں بھی ایسے ہی مناظر تھے، جہاں امریکی قونصل خانے کے قریب مظاہرین نے ’ہینڈز آف کینیڈا‘ والے جھنڈے لہرائے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پر امریکیوں میں شدید تقسیم پائی جاتی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے اپسوز کےساتھ کیے جانے والے ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ صرف 40 فیصد نے صدر کے طور پر ان کی کارکردگی کو سراہا ہے جب کہ 58 فیصد نے اس کے مخالف رائے دی ہے۔

    اگرچہ یہ ٹرمپ کی پہلی مدت کی اوسط مقبولیت کے برابر ہے مگر جنوری میں دوسری بار صدارت کا منصب سبنھالنے پر ٹرمپ کی مقبولیت میں 47 درجے کی کمی دیکھنے میں آئی۔

    یہ ایک عام بات ہے کہ صدور کی مدت ختم ہونے کے ساتھ ہی وہ زیادہ غیر مقبول ہو جاتے ہیں۔

    اس سروے کے مطابق جنوری 2021 میں جو بائیڈن کی مقبولیت 55 فیصد تک تھی۔ اس سال اکتوبر تک یہ محض 46 فیصد تک رہ گئی تھی۔

    اضافی رپورٹنگ اینا فاگوئے

  8. حماس، غزہ کے شہریوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے: امریکی محکمہ خارجہ

    امریکی محکمہ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’مصدقہ رپورٹس‘ کے مطابق حماس بہت جلد غزہ میں شہریوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی۔

    سنیچر کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف منصوبہ بند حملہ جنگ بندی معاہدے کی ’براہ راست اور سنگین‘ خلاف ورزی ہو گا اور ’ثالثی کی کوششوں کے ذریعے حاصل ہونے والی اہم پیش رفت کو نقصان پہنچائے گا۔‘

    امریکی محکمہ خارجہ نے حملے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے لیے کن رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس نے سنیچر کو کہا تھا کہ شمالی غزہ میں ایک اسرائیلی ٹینک کے گولے سے ایک بس کو نشانہ بنائے جانے کے بعد 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے ان تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

    یہ واقعہ جنگ بندی کے آٹھویں دن پیش آیا اور اسے جنگ بندی کے بعد سے اب تک کا سب سے خطرناک حملہ قرار دیا جا رہے ہے کہ جس میں اب تک سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ اس وقت جاری ہے اور تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے اور مقتولین کی لاشیں اب بھی اسرائیل کو واپس کی جا رہی ہیں۔

    معاہدے کے تحت اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 250 فلسطینی قیدیوں اور غزہ سے 1718 قیدیوں کو رہا کیا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس حوالے سے غزہ امن معاہدے کے ضامنوں مصر، قطر اور ترکی کو مطلع کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے کہ حماس معاہدے کی شرائط کی پابندی کرے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر حماس نے یہ حملہ کیا تو غزہ کے شہریوں کے تحفظ اور جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    حماس نے تاحال امریکی محکمہ خارجہ کے اس بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

    ٹرمپ نے اس ہفتے کے شروع میں ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ’اگر حماس نے غزہ میں لوگوں کو مارنا جاری رکھا، جو کہ ڈیل نہیں تھی، تو ہمارے پاس انھیں مارنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔‘

  9. پاکستان اور افغانستان کا فوری جنگ بندی پر اتفاق، خواجہ آصف کا طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان

    قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان نے فوری طور پر جنگ بند کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ فریقین جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے۔

    قطری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق فریقین نے اتفاق کیا ہے کہ دیرپا امن اور استحکام کے لیے فریقین ایک لائحہ عمل بنائیں گے جس کے ذریعے دونوں ملکوں میں سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں پر تناؤ ختم ہو گا اور دونوں برادر ملک مستقبل میں خطے میں امن و استحکام کی بنیاد رکھیں گے۔

    معاہدے کے بعد خواجہ آصف کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے بعد ’افغانستان سے دہشت گردی‘ کا سلسلہ فی الفور بند ہو گا اور دونوں ہمسایہ ملک ایک دوسرے کی سرزمین کا احترام کریں گے۔

    خواجہ آصف کے مطابق 25 اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود کے درمیان ملاقات ہو گی اور تفصیلی بات چیت ہو گی۔

    خیال رہے کہ سنیچر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی تھی۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق ان مذاکرات میں آئی ایس آئی کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک ہوئے۔

    طالبان وفد کی قیادت طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب کررہے ہیں اور طالبان کے انٹیلی جنس کے سربراہ مولوی عبدالحق وثیق بھی وفد میں شامل تھے۔

  10. غزہ میں فلسطینیوں سے بھری بس پر اسرائیلی فوج کا حملہ، 11 افراد ہلاک

    غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس نے کہا ہے کہ شمالی غزہ میں ایک اسرائیلی ٹینک کے گولے سے ایک بس کو نشانہ بنائے جانے کے بعد 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے ان تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

    سول ڈیفنس کے مطابق ابو شعبان خاندان کے افراد جمعے کی رات غزہ سٹی کے زیتون نامی علاقے میں اپنے گھر کا جائزہ لینے جا رہے تھے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا۔

    یہ واقعہ جنگ بندی کے آٹھویں دن پیش آیا اور اسے جنگ بندی کے بعد سے اب تک کا سب سے خطرناک حملہ قرار دیا جا رہے ہے کہ جس میں اب تک سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے کہا کہ فوجیوں نے ایک ’مشکوک گاڑی‘ پر فائرنگ کی تھی جو غزہ میں اُن علاقوں کو تقسیم کرنے والی لائن عبور کر کے اس علاقے میں داخل ہو گئی تھی جو اب بھی اسرائیلی افواج کے زیرِ قبضہ ہے۔

    جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج اب بھی غزہ پٹی کے نصف سے زیادہ حصے میں موجود ہے۔

    سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ابو شعبان خاندان کے افراد تھے اور وہ اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ ’اپنے گھر کا حال دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

    سول ڈیفنس کے مطابق مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ ’شمالی غزہ پٹی میں آپریشن کرنے والے فوجیوں کے قریب ایک مشکوک گاڑی کو حد عبور کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس پر فوجیوں نے گاڑی کی جانب فائر کیا۔‘

    حماس کی جانب سے اسرائیلی افواج کی اس کارروائی کو فسوس ناک اور بلاجواز قرار دیا گیا کہ جس میں بھاری جانی نقصان ہوا۔

    اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اُن علاقوں میں داخل نہ ہوں جو اب بھی اُس کے کنٹرول میں ہیں۔

    انٹرنیٹ محدود ہونے کی وجہ سے بہت سے فلسطینیوں کو معلوم نہیں کہ اسرائیلی فوج ابھی کس علاقے میں موجود ہے اور انھوں نے کس علاقے میں جانا ہے اور کس میں نہیں۔

  11. بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حادثہ، چار مزدور ہلاک, محمد کاظم بی بی سی نیوز کوئٹہ

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع دُکی میں کوئلے کی دو کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں چار کان کن ہلاک ہو گئے۔

    دکُی پولیس کے ایک اہلکار عبدالغنی نے بتایا کہ سنیچر کو پیش آنے والے حادثات میں سے ایک واقعہ دُکی جبکہ دوسرا چمالانگ میں پیش آیا۔

    ہلاک ہونے والے چاروں کان کنوں کی شناخت ہوگئی ہے اور ان چاروں کا تعلق افغانستان سے تھا۔

    چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان سید رفیع اللہ نے بتایا کہ دونوں کانوں میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کان کے مالکان اور انتظامیہ نے مائنز انسپیکٹوریٹ کی اجازت کے بغیر اس کو کھولی اور اس میں کام شروع کر دیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ چونکہ اس کان میں زہریلی گیس موجود تھی جس کی وجہ سے اس میں کام کے لیے جانے والے دونوں کان کن زندگی کی بازی ہار گئے۔

    ‎چیف انسپیکٹر مائنز کے مطابق مائنز انسپیکٹوریٹ کی اجازت کے بغیر کوئلے کی کان کو کھولنے پر اس کے مالکان اور انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کروایا جارہا ہے۔

    بلوچستان میں جدید صنعتیں کم ہونے کی وجہ سے کان کنی کا شمار بڑی صنعتوں میں ہوتا ہے۔

    بلوچستان میں جن اضلاع میں کوئلہ کی بڑی تعداد میں کوئلہ کی کانیں موجود ہیں ان میں دکی، ہرنائی، کوئٹہ اور کچھی شامل ہیں۔

    مزدور تنظیموں کا کہنا ہے کہ کوئلہ کانوں میں سیفٹی کے جدید انتظامات نہ ہونے کے سبب حادثات پیش آتے ہیں تاہم دیگر اضلاع کے مقابلے میں دُکی میں ان حادثات کی شرح سب سے زیادہ ہے

  12. افغانستان کے ساتھ دوحہ میں مذاکرات جاری، پاکستان کے وزیر دفاع اور آئی ایس آئی چیف شریک

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات دوحہ میں ہو رہے ہیں۔

    پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ پی ٹی وی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات دوحہ میں جاری ہیں اور پاکستان وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ ایم آصف کر رہے ہیں۔

    پی ٹی وی کے مطابق ان مذاکرات میں مشیر قومی سلامتی اور آئی ایس ائی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک ہیں۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا محور افغانستان سے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ اور پاک افغان سرحد پر امن و استحکام کی بحالی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا لیکن وہ چاہتا ہے کہ افغان طالبان بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں اور پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔

    طالبان وفد کی قیادت طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا یعقوب کررہے ہیں اور طالبان کے انٹیلی جنس کے سربراہ مولوی عبدالحق وثیق بھی وفد میں شامل ہیں۔

  13. پاکستان کی پاک افغان سرحد پر شدت پسند گروہ حافظ گل بہادر کے ٹھکانوں پر حملوں کی تصدیق

    پاکستان کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد سے متصل شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سرحدی اضلاح میں شدت پسند گروہ حافظ گل بہادر کے تصدیق شدہ کیمپوں کو نشانہ بنایا گا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ 48 گھنٹوں کی جنگ بندی کے دوران ’خارجیوں‘ نے پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد حملے کرنے کی کوشش کی ہے جس کا سکیورٹی فورسز نے مؤثر جواب دیا ہے اور سو سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ گذشتہ رات ’مصدقہ‘ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر حافظ گل بہادر گروپ کے خلاف کارروائی کی گئی جس میں کم سے کم 60 سے 70 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    پاکستان کی جانب سے سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ گذشتہ رات ہونے والے حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان میں سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ جمعے کی شب جنوبی اور شمالی وزیرستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جمعے کی شب پاکستان کی فوج نے پکتیکا میں شہری علاقوں پر فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغان حکومت افغانستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ان کارروائیوں کا جواب دینے کا حق محفوط رکھتی ہے۔

    افغان طالبان نے اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    پاکستان کے وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں اور دعوے غلط ہیں اور ان کا مقصد افغانستان کے اندر سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کی حمایت پیدا کرنا ہے۔

    افغان طالبان کے ایک صوبائی عہدیدار نے بی بی سی افغان سروس کو بتایا کہ جمعے کو 'پاکستان نے پکتیکا صوبے کے ارغون ضلع میں ایک قصاب کے گھر پر بمباری کی ہے جس میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔'

  14. دوحہ میں افغان طالبان سے مذاکرات، پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف کریں گے: دفترِ خارجہ

    پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی میں کمی کے لیے فریقین کے مابین مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو رہے ہیں۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستانی وفد وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی قیادت میں شرکت کر رہا ہے۔

    دفترِ خارجہ کے مطابق ان مذاکرات کا محور افغانستان سے پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ اور پاک افغان سرحد پر امن و استحکام کی بحالی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا لیکن وہ چاہتا ہے کہ افغان طالبان بین الاقوامی برادری سے کیے گئے وعدؤں کی پاسداری کریں اور پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔

    دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات میں قطر کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ بات چیت سے خطے میں امن و استحکام آئے گا۔

    افغانستان کا وفد بھی مذاکرات میں شرکت کرنے کے لیے دوحہ پہنچ گیا ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت کے وفد کی صدرات وزیر دفاع ملا یعقوب کر رہے ہیں۔

    پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی جھڑپوں کے بعد گذشتہ رات دونوں ممالک نے قطر میں مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا تھا۔

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے اپنے بیان پاکستان پر الزام لگایا کہ جمعے کی شب پاکستان کی فوج نے پکتیکا میں شہری علاقوں پر فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغان حکومت افغانستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ان کارروائیوں کا جواب دینے کا حق محفوط رکھتی ہے۔

    پاکستان کی حکومت یا فوج نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جمعے کی شب جنوبی اور شمالی وزیرستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔

  15. دوبارہ جارحیت کی صورت میں انڈیا کو پہلے سے زیادہ شدت سے جواب دیا جائے گا: فیلڈ مارشل عاصم منیر کا انتباہ

    پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص سے قوم کا پاکستان فوج پر اعتماد مزید مضبوط ہوا اور پاکستان نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

    سنیچر کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ’معرکہ حق‘ میں اپنی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین کا ایک انچ بھی کسی کو نہیں دیا جائے گا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستان کی قوم، فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی تھی۔

    جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جوہری ماحول میں جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، لہذا دونوں ملکوں کو برابری کی بنیاد پر حل طلب تنازعات پر بات کرنی چاہیے۔

  16. پاکستان کی ’جارحیت‘ کے باوجود فی الحال جوابی کارروائِی نہیں کریں گے: ذبیح اللہ مجاہد

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ دوحہ مذاکرات کے لیے افغان وفد قطر روانہ ہو چکا ہے جس کی قیادت وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب کر رہے ہیں۔

    ’ایکس‘ پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں اُنھوں نے الزام لگایا کہ جمعے کی شب پاکستان کی فوج نے پکتیکا میں شہری علاقوں پر فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغان حکومت افغانستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ان کارروائیوں کا جواب دینے کا حق محفوط رکھتی ہے۔

    پاکستان کی حکومت یا فوج نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جمعے کی شب جنوبی اور شمالی وزیرستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاکستان نے تاحال دوحہ مذاکرات میں اپنا وفد بھیجنے سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

  17. پاکستان کا افغانستان میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، طالبان کا سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

    پاکستان میں سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعے کی شب جنوبی اور شمالی وزیرستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاکستان کے سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی اس کارروائِی میں 70 سے زائد ’دہشت گرد‘ مارے گئے۔

    پاکستان کی حکومت اور فوج نے باضابطہ طور پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ بی بی سی کو بھی آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    دوسری جانب افغان طالبان کے ایک صوبائی عہدیدار نے بی بی سی افغان سروس کو بتایا کہ جمعے کو 'پاکستان نے پکتیکا صوبے کے ارغون ضلع میں ایک قصاب کے گھر پر بمباری کی ہے جس میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔'

    افغان طالبان نے اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    گُڈ طالبان‘ کے نام سے مشہور

    شمالی وزیرستان میں سنہ 2014 میں بڑا فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جسے آپریشن ’ضرب عضب‘ کا نام دیا گیا تھا۔

    اس آپریشن سے پہلے حافظ گل بہادر گروپ حکومت کا حمایتی گروپ سمجھا جاتا تھا اور ایسی اطلاعات تھیں کہ یہ گروپ طالبان کے اندر پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے خلاف تھا۔

    اس گروپ کے بارے میں تجزیہ کار یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ’گُڈ طالبان‘ تھے۔

    سنہ 2022 میں جب ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا آغاز کیا جا رہا تھا تو ان دنوں میں طالبان کے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ بھی بات چیت کی خبریں سامنے آئی تھیں اور ایک خبر یہ بھی تھی کہ شمالی وزیرستان کی حد تک جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن اس بارے میں مزید کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔

    یاد رہے کہ اکتوبر2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ طالبان کے مختلف دھڑوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔

    اس میں ایک گروپ حافظ گل بہادر کا بھی تھا۔

  18. چین میں کرپشن کے الزامات پر فوج کے نو سینئر جرنیل برطرف

    چین میں کمیونسٹ پارٹی نے کرپشن الزامات پر فوج کے نو اعلیٰ جرنیلوں کو پارٹی اور فوج سے نکال دیا ہے۔

    چین کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نو افراد، جن میں سے زیادہ تر سینئر جنرلز اور پارٹی کی فیصلہ ساز مرکزی کمیٹی کے ارکان تھے، پر سنگین مالیاتی جرائم کا شبہ ہے۔

    بیان میں اس کارروائی کو بدعنوانی کے خلاف مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے لیکن تجزیہ کار اسے سیاسی اقدام کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

    نکالے گئے اعلیٰ جرنیلوں میں سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین ہی ویڈونگ اور راکٹ فورس کے کمانڈر وانگ ہوبن بھی شامل ہیں۔

    یہ کارروائی پارٹی کے کنونشن سے پہلے ہوئی ہے جہاں مرکزی کمیٹی ملک کی اقتصادی ترقی کے منصوبے پر بحث کرے گی اور نئے اراکین کو ووٹ دے گی۔

    ہی ویڈونگ چینی فوج میں دوسرے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز تھے۔

    ویڈونگ کو آخری بار مارچ میں دیکھا گیا تھا، اور عوامی نقطہ نظر سے ان کی طویل غیر موجودگی نے ان قیاس آرائیوں کو ہوا دی کہ وہ فوج کے اعلیٰ افسروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تحت زیر تفتیش تھے۔

    وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان نو افراد نے ’پارٹی ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی کی تھی اور ان پر بڑی رقم خردبرد کرنے سمیت سنگین نوعیت کے دیگر الزامات تھے۔‘

  19. افغانستان کرکٹ بورڈ پاکستان میں شیڈول کرکٹ سیریز سے دستبردار

    افغانستان نے پاکستان پر افغان صوبے پکتیکا میں حملے کے دوران افغان کرکٹرز کی ہلاکت کا الزام عائد کرتے ہوئے آئندہ ماہ پاکستان میں شیڈول سہ فریقی سیریز سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔

    افغان کرکٹ بورڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان کرکٹ بورڈ ’صوبہ پکتیکا کے ضلع ارغون سے تعلق رکھنے والے بہادر کرکٹرز کی المناک ہلاکت پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے، جنھیں آج شام پاکستانی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔‘

    پاکستان کی حکومت اور فوج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا اور بی بی سی بھی آزاد ذرائع سے ان دعووں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    افغان کرکٹ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے میں ارغون سے تعلق رکھنے والے تین کھلاڑی کبیر، صبغت اللہ اور ہارون سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔

    بورڈ کا کہنا ہے کہ کھلاڑی اس سے قبل ایک دوستانہ کرکٹ میچ میں شرکت کے لیے صوبہ پکتیکا کے دارالحکومت شرانہ گئے تھے اور ارغون واپسی کے بعد انھیں ایک اجتماع کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

    افغانستان نے آئندہ ماہ نومبر میں سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شرکت کے لیے پاکستان آنا تھا، اس سیریز میں میزبان پاکستان کے علاوہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم نے بھی شرکت کرنی تھی۔

    افغانستان کرکٹ ٹیم کے کپتان راشد خان اور سابق کپتان محمد نبی سمیت دیگر کھلاڑیوں نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔

  20. افغانستان اور پاکستان کا مسئلہ آسانی سے حل کرلوں گا: امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع جاری ہے لیکن ’اگر مجھے یہ مسئلہ حل کرنا پڑا تو میں یہ آسانی سے کرلوں گا۔‘

    جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں امریکہ کا انتظام بھی چلانا ہے لیکن ’مجھے جنگیں رکوانا بہت پسند ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے لوگوں کی اموات رُکوانا بہت پسند ہے اور میں نے لاکھوں زندگیاں بچائی ہیں۔‘

    خیال رہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان 15 اور 16 اکتوبر کو جھڑپیں ہوئی تھیں اور اس دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا بھاری جانی و مالی نقصان کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

    پاکستانی فوج نے تصدیق کی تھی کہ افغانستان سے کیے گئے حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے افغانستان میں 200 سے زیادہ طالبان اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔

    تاہم اس دعوے کی آزادنہ تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

    دو دنوں پر محیط جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے بدھ کو 48 گھنٹوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ جمعے کی شام کو افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی ہے۔

    تاہم پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی توسیع ہونے یا نہ ہونے کے معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔