آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے نئے سینٹر کا اعلان، حماس کے زیر انتظام علاقے کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے: امریکی حکام

نائب امریکی صدر جے ڈی وینس منگل کے روز دورے پر اسرائیل پہنچے ہیں جسے رواں ماہ کے آغاز میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کو مضبوط بنانے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کا حصہ کہا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور اُن کے داماد جیرڈ کُشنر پہلے سے ہی اسرائیل میں موجود ہیں۔

خلاصہ

  • دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ خفیہ رہے گا: پاکستانی وزیرِ دفاع
  • مذاکرات افغان طالبان سے ہو رہے ہیں، ٹی ٹی پی سے نہیں: خواجہ آصف
  • اگر مدعو کیا گیا تو ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے تیار ہوں: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں افغان مہاجرین کو 18 نومبر تک بے دخل کرنے کا حکم

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    22 اکتوبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. اسلام آباد اور پشاور سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    پاکستان میٹرولاجیکل ڈپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، چترال، سوات، دیر اور مالاکنڈ سمیت ملک کے کئی شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    اس کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 5.3 جبکہ اس کی گہرائی 234 کلو میٹر تھی۔ پی ایم ڈی کا کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز ہندوکش خطہ، افغانستان ہے۔

    خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے پشاور، چترال، سوات، دیر اور مالاکنڈ میں محسوس کیے گئے ہیں اور کنٹرول روم تمام اضلاع کی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’کنٹرول روم کو اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع پی ڈی ایم اے کی ہپلپ لائن 1700 پر دیں۔‘

  3. غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے نئے سینٹر کا اعلان، حماس کے زیر کنٹرول علاقے کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے: امریکی حکام

    نائب امریکی صدر جے ڈی وینس منگل کے روز دورے پر اسرائیل پہنچے ہیں جسے رواں ماہ کے آغاز میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کو مضبوط بنانے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کا حصہ کہا جا رہا ہے۔

    امریکی نائب صدر کے علاوہ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور اُن کے داماد جیرڈ کُشنر پہلے سے ہی اسرائیل میں موجود ہیں۔ جے ڈی وینس نے اسرائیل آمد کے بعد ان دونوں رہنماؤں سے تقریباً دو گھنٹے کی ملاقات کی۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے غزہ کی تعمیرِ نو کے آغاز کے لیے سویلین ملٹری کوآپریشن سینٹر کے افتتاح کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اسرائیلی حکومت اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اب ہمارے سامنے بہت سا کام ہونا باقی ہے۔‘

    صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی کے نفاذ کے حوالے سے امریکی ٹیم اُس مقام سے آگے بڑھ چکی ہے جہاں ہم نے اس وقت تک پہنچنے کی توقع کی تھی۔‘

    وٹکوف نے مزید کہا کہ ’سویلین ملٹری کوآپریشن سینٹر کو دیگر تنازعات کے حال کے بھی استعمال کیا جائے گا۔‘

    امریکی صدر کے داماد جیرڈ کُشنر دوبارہ مستقبل کی تعمیرِ نو کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’تعمیرِ نو کے فنڈز حماس کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں نہیں بھیجے جائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان علاقوں میں تعمیرِ نو کے آغاز پر غور کیا جا رہا ہے جو اسرائیلی دفاعی افواج کے کنٹرول میں ہیں۔‘

    تعمیرِ نو کے بعد کے غزہ کا ذکر کرتے ہوئے جیرڈ کُشنر نے آنے والے دنوں کے غزہ کو ’نیا غزہ‘ قرار دیا، اُن کا کہنا تھا کہ ’نیا غزہ ایک ایسی جگہ ہو گا کہ جہاں لوگ ’پر سکون انداز میں رہ سکیں‘ اور انھیں ملازمتوں کے مواقع میسر آئیں گے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے اقوامِ متحدہ اور اسرائیل کے درمیان مضبوط رابطہ ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ امداد غزہ کے عوام تک ہی پہنچائی جا سکے اور امداد کے ’غلط ہاتھوں‘ میں جانے سے بچا جا سکے۔‘

  4. پیرس کے عجائب گھر سے 15 لاکھ یورو مالیت کا سونا چوری کرنے کے الزام میں چینی خاتون سپین سے گرفتار

    فرانس کی ایک عدالت نے چین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کو پیرس کے نیشنل ہسٹری میوزیم سے تقریباً 15 لاکھ یورو مالیت کے چھ سونے کے ٹکڑوں کی چوری کا الزام عائد کیا ہے۔

    حکام کے مطابق خاتون کو بارسلونا سے اُس وقت حراست میں لیا گیا کہ جب وہ پگھلے ہوئے سونے کے کچھ ٹکڑے فروخت کرنے کی کوشش کر رہی تھیں اور انھیں عدالتی کارروائی سے قبل حراست میں ہی رکھا گیا ہے۔

    مختلف جانوروں کی باقیات کے مجموعے کے لیے مشہور یہ میوزیم متعدد اقسام کی معدنیات کے نمونے بھی محفوظ کیے ہوئے ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت مشہور ہے، یہاں سے ہی یہ سونا چوری کیا گیا تھا۔ پولیس کو موقع پر سے ایک لوہے کو کاٹنے والا اینگل گرائنڈر اور کسی بھی دھات کو پگھلانے کے لیے استعمال ہونے والی ’بلو ٹارچ‘ برآمد ہوئی ہے۔

    فرانسیسی میڈیا کے مطابق عجائب گھر کا الارم اور نصب کیمروں کو ایک سائبر حملے کی مدد سے اسے کارروائی سے قبل ہی ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔

    اس عجائب گھر کے ترجمان کی جانب سے فرانسیسی اخبار لی فیگارو کو بتایا کہ ’چور جو واضح طور پر نہایت ماہر اور باخبر تھے نے سکیورٹی میں اُس خامی کا فائدہ اٹھایا جو 2024 میں ہونے والے آخری آڈٹ کے دوران شناخت نہیں کی گئی تھی۔‘

    عجائب گھر میں صفائی کرنے والے عملے نے صبح کام پر پہنچنے کے بعد پولیس کو اس چوری کی واردات سے متعلق آگاہ کیا۔

    اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق متعلقہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مشتبہ خاتون کو ہسپانوی پولیس نے 30 ستمبر کو یورپ سے جاری ہونے والے ایک وارنٹِ گرفتاری کے تحت حراست میں لیا گیا اور اُسی دن اُنھیں فرانسیسی حکام کے حوالے بھی کر دیا گیا۔

    گرفتاری کے وقت خاتون کے قبضے سے تقریباً ایک کلوگرام پگھلا ہوا سونا برآمد ہوا۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا کہ اس واقعے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور خیال ہے کہ خاتون اس واردات کے بعد وہ چین فرار ہونے کی تیاری کر رہی تھیں۔

  5. علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا: پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر

    پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کا خواہاں ہے لیکن براہ راست یا بالواسطہ اپنی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا تاکہ اس کے شہریوں کی زندگیوں اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جا سکے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 17 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہاں کے عوام محب وطن، باصلاحیت اور پرعزم ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان کے عوام ملک کا حقیقی سرمایہ ہیں، صوبے کے عوام بے پناہ اقتصادی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق عاصم منیر نے وفاقی، صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام صوبے کے بے پناہ اقتصادی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نوجوان ترقی اور دیرپا استحکام کے لیےاپناکردار ادا کریں۔

    عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ’انڈین سپانسرڈ‘ عوام مخالف گروہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور یہ شدت پسند تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’دہشت گرد پراکسیز کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان ’دہشت گردوں‘ کا تعاقب کرنے اور صوبے کو اس لعنت سے نجات دلانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  6. امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان نایاب معدنیات کا معاہدہ: کیا اس سے چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کیا جا سکے گا؟, نتالی شرمین، بی بی سی نیوز

    امریکہ اور آسٹریلیا نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد نایاب اور دیگر اہم معدنیات کی فراہمی کو بڑھانا ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ مارکیٹ میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ اس معاہدے سے اب 8.5 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام ممکن ہو سکے گا جو ان کے ملک میں کان کنی اور پروسیسنگ کے شعبے کو فروغ دے گا۔

    معاہدے کے متن میں کہا گیا ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں دونوں ممالک ایک دوسرے کی مارکیٹ میں ایک بلین ڈالر تک کی سرمایہ کاری کریں گے۔

    امریکہ اور آسٹریلیا ٹرمپ کے پہلے دور سے ہی ان امور پر کام کر رہے ہیں لیکن انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ تازہ ترین معاہدہ اس شراکت کو ’اگلے مرحلے‘ تک لے جائے گا۔

    پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ آسٹریلیا کے کئی بلین ڈالر کے آبدوز معاہدے پر بھی تبصرہ کیا ہے، جسے آکس (اے یو کے یو ایس) کے نام سے جانا جاتا ہے، اور کہا کہ یہ ہر صورت تکمیل کی منازل طے کرے گا۔

    اس سال کے آغاز میں یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلات کا جائزہ لے گی کہ یہ اس کے ’امریکہ فرسٹ‘ ایجنڈے کے مطابق بھی ہے یا نہیں۔ اس سے ان خدشات میں اضافہ ہوا تھا کہ اب آسٹریلیا اپنے پرانے بیڑے کو تبدیل کرنے کے لیے امریکی آبدوزیں نہیں خرید سکے گا۔

    اس سوال پر کہ کیا آسٹریلیا آبدوزیں حاصل کر سکے گا ٹرمپ کا جواب تھا کہ ’اوہ نہیں، وہ یہ حاصل کر رہے ہیں‘۔

    چین اس وقت تقریباً 70 فیصد نایاب معدنیات کی کان کنی اور 90 فیصد مواد کی ’پروسیسنگ‘ پر کنٹرول رکھتا ہے، جو دفاعی آلات سے لے کر کمپیوٹر چپس اور کاروں تک ہر چیز میں کام آتی ہیں۔

    امریکی کمپنیاں ’میٹیریل‘ یعنی مواد پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔ یہ چیز رواں برس ان کی کمزوری کے طور پر سامنے آئی ہے کیونکہ چین نے نئے امریکی ٹیرف اور دیگر وجوہات کی بنا پر ان دھاتوں کی سپلائی تک رسائی کو محدود کر دیا تھا۔

    منگل کو اس اعلان کے بعد آسٹریلیا کی قیمتی معدنیات کے معاہدے کے بعد مائننگ کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا۔

    آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں قائم فرم ’آروفورا ریئر ارتھس‘ کے حصص میں تقریباً 7.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایک اور بڑے پروڈیوسر ’الیوکا ریسورسز‘ کے حصص میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد آسٹریلیا میں پروسیسنگ سہولیات میں امریکی سرمایہ کاری سمیت تین قسم کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو تیز کرنا ہے۔

    دونوں ممالک نے اس شعبے میں کمپنیوں اور منصوبوں کی فروخت پر حکومتی نظرثانی کے لیے قیمتوں کا تعین، متعلقہ کمپنیوں کو ’پرمٹ‘ جاری کرنے اور قواعد جیسے مسائل پر مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

    امریکہ نے اپنے طور پر بھی کہا ہے کہ وہ مغربی آسٹریلیا میں 100 ٹن سالانہ ایڈوانسڈ گیلیم ریفائنری کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرے گا اور اپنے ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذریعے معدنیات کے اہم منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے 2.2 ارب ڈالر کی ’فنانسنگ‘ کی پیشکش پر کام کر رہا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ مہینوں میں پہلے ہی امریکی نایاب دھاتوں کی کان کنی کرنے والی ایم پی میٹریلز اور کینیڈا کی ٹرائیلوجی میٹلز اور لیتھیم امریکہ جیسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے سلسلے کا اعلان کیا ہے، جن کے امریکہ میں منصوبے ہیں۔

    اس حمایت کے بدلے میں امریکہ نے فرموں میں ملکیت کے حصص حاصل کیے ہیں۔

    اجلاس سے قبل آسٹریلوی کمپنیوں جیسے کہ لینس ریئر ارتھس کے حصص میں اضافہ ہوا ہے۔ ’لینس‘ کو چند سال قبل امریکی محکمہ دفاع نے ایک کنٹریکٹ دیا تھا اور وہ ٹیکساس میں ایک پروجیکٹ پر کام کر رہی ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی طرف سے شائع کردہ فریم ورک میں اس معاہدے کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں جس میں کئی اہم نازک معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔

    آسٹریلیا اہم معدنیات کا ایک بڑا ذریعہ ہے لیکن امریکہ کی طرح وہ چین پر انحصار کرتا ہے، جو اس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔

  7. جیل جانے والے پہلے فرانسیسی سابق صدر نکولا سرکوزی جنھیں نو مربع میٹر کی کوٹھری میں رکھا جائے گا

    فرانس کے سابق صدر نکولا سرکوزی جیل کی سزا کاٹنے والے پہلے فرانسیسی صدر بن گئے ہیں۔ منگل کے روز ان کی پانچ سال کی سزا کا آغاز ہو گیا ہے۔

    سابق فرانسیسی صدر کو لیبیا کے آنجہانی آمر معمر قذافی کے پیسوں سے اپنی انتخابی مہم کو فنڈ کرنے کی سازش کرنے کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

    آخری بار 1945 میں نازیوں سے تعاون کرنے والے فلپ پیٹن کو غداری کے الزام میں جیل میں بھیجا گیا تھا۔ وہ آخری فرانسیسی رہنما تھے جنھیں جیل جانا پڑا تھا۔

    سرکوزی 2007 سے 2012 تک فرانس کے صدر رہے۔ انھوں نے لا سانٹے جیل میں اپنی قید کی سزا کے خلاف اپیل کی ہے۔ وہ اب بھی اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہیں۔

    جیل جانے سے قبل سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں کوئی شک نہیں کہ سچ ضرور سامنے آئے گا لیکن یہ نہیں معلوم کہ اس کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

    سرکوزی کو جیل کے آئسولیشن ونگ میں تقریباً 9 مربع میٹر (95 مربع فٹ) کی ایک کوٹھڑی میں رکھا جائے گا۔

    وہ کہہ چکے ہیں وہ لا سانٹے جیل میں دوسروں سے بہتر سلوک نہیں چاہتے۔

    تاہم انھیں ان کی حفاظت کے پیشِ نظر دوسرے قیدیوں سے الگ ایک کوٹھری میں رکھا جا رہا ہے کیونکہ جیل میں موجود دیگر قیدیوں میں بدنامِ زمانہ منشیات کے سمگلرز اور دہشتگردی کے الزام میں سزا پانے والے افراد بھی شامل ہیں۔

  8. پاکستان اور افغانستان میں جنگ بندی کے باوجود چمن سرحد امدورفت اور تجارت کے لیے بدستور بند, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    پاکستان اورافغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکی کی کوششوں سے جنگ بندی تو ہو گئی ہے تاہم اس کے باوجود بلوچستان کے علاقے چمن کی سرحد تجارت اور آمدورفت کے لیے بدستور بند ہے۔

    گزشتہ شب اس سرحدی گزرگاہ کو کچھ وقت کے لیے کھولا گیا تھا تاکہ وہ خالی مال بردار پاکستانی گاڑیاں جو حالیہ جھڑپوں کے باعث چمن سے متصل افغانستان کے سرحدی علاقے سپن بولدک میں پھنس گئی تھیں واپس آ سکیں۔

    کوئٹہ ڈویژن کے انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کی کہ سرحد کو گزشتہ شب صرف ان پاکستانی مال بردار گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا جو خالی دوسری جانب کھڑی تھیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ چمن سرحد صرف ان افغان پناہ گزینوں کے لیے کھلی ہے جنھیں افغانستان واپس بھیجا جا رہا ہے۔

    پاکستانی تاجروں کا کہنا ہے سرحد کی بندش کے باعث کئی روز سے دونوں اطراف تجارتی مال سے لدی سینکڑوں گاڑیاں پھنسی ہیں جس سے ان کو بڑے پیمانے پر نقصان ہو رہا ہے۔

    سرحد کو کھولنے کے لیے چمن سے تعلق رکھنے پاکستانی تاجروں کے ایک وفد نے دونوں ممالک کے حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

    ملاقات کرنے والے اس وفد میں پاکستان اینڈ افغانستان جوائنٹ چیمبرز آف کامرس کے سابق نائب صدر محمد غنی اچکزئی بھی شامل تھے۔

    انھوں نے ان ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پہلے سپن بولدک میں افغان حکام اور تاجروں سے بات کی، اس کے بعد یہاں پاکستانی حکام سے ملاقات کر کے ان کو سرحد کھولنے کی درخواست کی۔

    محمد غنی کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں کے بعد سرحد کو گزشتہ شب ان پاکستانی مال بردار گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا جو سپن بولدک میں خالی کھڑی تھیں جبکہ باقی ہر قسم کی تجارت کے لیے سرحد بدستور بند ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت سرحد کی بندش کے باعث سینکڑوں مال بردار گاڑیاں دونوں جانب پھنسی ہیں۔

    محمد غنی نے بتایا کہ ان میں افغانستان سے آنے والے انار اور انگور کی گاڑیوں کے علاوہ پاکستان سے افغانستان کے لیے کیلے اور دیگر فروٹ لے جانی والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جہاں ان پھنسی ہوئی گاڑیوں میں موجود سبزیاں اور فروٹ کے خراب ہونے سے تاجروں کو نقصان ہو رہا ہے وہیں شپنگ کمپنیوں کو فی کنٹینر روزانہ سو سے ڈیڑھ سو ڈالر جرمانے کی مد میں ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ان میں وہ گاڑیاں بھی شامل ہیں جو پاکستان سے وسط ایشائی ریاستوں کو سامان لے جا رہی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کو زرمبادلہ کی شکل میں بھی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    محمد غنی اچکزئی نے دونوں ملکوں کے حکام سے اپیل کی کہ وہ سرحد کو تجارتی اشیا کی آمدورفت کے لیے کھول دیں تاکہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان کو مالی لحاظ سے نقصان نہ ہو بلکہ تاجروں کو بھی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ جھڑپوں کے دوران افغانستان کے سرحدی منڈیوں میں بھی گولے گرے تھے جس کی وجہ سے تاجروں کا نقصان ہوا ہے۔

  9. راولپنڈی، اسلام آباد میں چھاپے، پولیس کا غیر قانونی طور پر مقیم 50 سے زیادہ افغان باشندوں کو حراست میں لینے کا دعوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    راولپنڈی اور اسلام آباد کی پولیس نے جڑواں شہروں کے محتلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران 50 سے زیادہ ایسے افغان باشندوں کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے جن کے پاس پاکستان میں قیام سے متعلق دستاویزات نہیں تھیں۔

    جڑاوں شہروں کی پولیس نے منگل کی علی الصبح ترنول، 26 نمبر چونگی، روات، مندرہ اور اڈیالہ روڈ پر مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور اس دوران پچاس سے زیادہ افغان باشندوں کو حراست میں لے لیا۔

    راولپنڈی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق، حراست میں لیے جانے والے افراد کی چھان بین کی جارہی ہے اور اگر ان میں سے کوئی بھی شخص کسی جرم میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف 14 فارن ایکٹ کے علاوہ ضابطہ فوجداری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے جانے والی خواتین اور بچوں کو جیل نہیں بھیجا جائے گا بلکہ انھیں حاجی کمیپ میں افغان باشندوں کے لیے بنائے گئے عارضی کیمپ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

    راولپنڈی پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز کاشف ذوالفقار کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی سے متعلق وفاقی حکومت کی واضیح پالیسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف آپریشن جاری رہے گا۔

    انھوں نے کہا کہ راولپنڈی کے تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں ان غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کریں جو غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پولیس افسران کو یہ ٹاسک بھی دیا گیا ہے کہ ایسے پاکستانیوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائیں جنھوں نے ایسے غیر ملکیوں کو پناہ دی ہے جن کے پاس سفری دستاویزات نہیں اور یا پھر ان کی پاکستان میں قیام کی مدت ختم ہوچکی ہے۔

    واضح رہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا تھا کہ 30 ستمبر کے بعد افغان پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ ایسے افغان باشندے بھی پاکستان میں غیر قانونی تصور ہوں گے جو مختلف غیر ملکی سفارت خانوں سے ویزے حاصل کرنے کے لیے پاکستان میں مقیم ہیں۔

    داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری کی طرف سے چند روز قبل یہ بیان سامنے ایا تھا کہ سات روز کے بعد تمام افعان باشندوں کو ملک بدر کردیا جائے گا۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اس بات کی منطوری دی جا چکی ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو اپنے وطن واپس جانا ہو گا۔

  10. حماس امن معاہدے کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے: خلیل الحیا

    حماس کے رہنما اور چیف مذاکراتکار خلیل الحیا نے قاہرہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم امن معاہدے کی تکمیل کے لیے پرعزم ہیں۔

    منگل کی صبح نشر ہونے والے انٹرویو میں خلیل الحیا کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والا غزہ جنگ بندی معاہدہ قائم رہے گا کیونکہ ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ [معاہدہ] برقرار رہے، اور اس کی پاسداری کے لیے ہم بہت پر عزم ہیں۔‘

    الحیا نے غزہ امن معاہدے کے لیے مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔

    یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی میں تاخیر کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حماس یرغمالیوں کی لاشیں تلاش کرنے اور انھیں طے شدہ وقت کے اندر اندر اسرائیل کے حوالے کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ یرغمالیوں کی لاشیں ان کے ورثا تک جلد از جلد پہنچا دی جائیں تاکہ ہمارے اپنوں کی لاشیں ہمارے حوالے کر دی جائیں اور ہم ان کی باعزت طریقے سے تدفین کر سکیں۔

    تاہم خلال الحیا کا کہنا تھا کہ انھیں لاشوں کی تلاش میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے بعد کئی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اِن لاشوں کو نکالنے کے لیے ’وقت اور بھاری مشینری کی ضرورت ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی یہ کام مکمل کر لیا جائے گا۔

    حماس کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ اب تک اسرائیل بھی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے امدادی سامان کی طے شدہ تعداد غزہ میں لانے کی اجازت دے رہا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ موسمِ سرما سے قبل معاہدے کے ثالث مزید امدادی سامان خاص طور پر خیمے اور طبی سامان غزہ میں لانے کے لیے مداخلت کریں گے۔

  11. اگر مدعو کیا گیا تو ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے تیار ہوں: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اگر انھیں مدعو کیا گیا تو وہ ہنگری میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کے درمیان ہونے والے مجوزہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔

    جمعرات کے روز امریکی اور روسی صدور کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے بعد دونوں صدور نے اعلان کیا تھا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں بوڈاپیسٹ میں یوکرین جنگ پر بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    دریں اثنا، میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کافی گرما گرمی ہو گئی تھی۔ ملاقات کے دوران امریکہ کی جانب سے یوکرین پر جنگ کے خاتمے کے لیے روس کی شرائط قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

    وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد اپنی پہلی پریس بریفنگ کے دوران زیلنسکی کافی محتاط دکھائی دیے تاہم ان کے تبصروں سے واضح تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کافی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

    انھوں نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کو بے تکلف قرار دیا۔ زیلنسکی کا کہنا تھا کہ انھوں نے امریکی صدر کو بتایا ہے کہ ان کا مقصد محض فوری امن نہیں بلکہ دیرپا امن ہے۔

    زیلنسکی نے ٹرمپ اور پوٹن کے درمیان مذاکرات کے لیے ہنگری کے چناؤ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے وزیر اعظم وکٹر اوربان یوکرینیوں کے لیے کچھ بھی مثبت نہیں کر سکے ہیں۔

  12. دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ خفیہ رہے گا: خواجہ آصف

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر میں ہونے والے معاہدے کے متعلق بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مذاکرات تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے نہیں بلکہ افغانستان میں برسرِِاقتدار افغان طالبان سے ہوئے ہیں اور دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ ہونے والا معاہدہ خفیہ رہے گا۔

    پیر کی شب اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر محمد مالک کے ساتھ‘ میں جب وزیرِ دفاع سے افغانستان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا وہ اس کے تفصیلات نہیں بتا سکتے اور اسے خفیہ رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے میں تین چیزیں شامل ہیں: پناہ گزینوں کی واپسی، ٹی ٹی پی کی سرپرستی اور سیز فائر۔

    پیر کی رات ہی جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے کہا تو بات نہیں کی اور اب کر رہے ہیں۔ ’میں واضح کر دوں کہ ہم نے ٹی ٹی پی سے بات نہیں کی، افغان طالبان سے بات کی ہے جن کی وہاں پر حکمرانی ہے اور ان کے ساتھ ہمارے غیر رسمی سفارتی تعلقات ہیں۔‘

    ’ہم قطعی طور پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ قطر میں پاکستان اور افغان طالبان کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران ماحول میں تلخی نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’قطر اور ترکی کے ثالثوں کی موجودگی نے ماحول کو سنجیدہ بنایا ہوا تھا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران تمام بحث مباحثہ قطری اور ترکی کے ثالثوں کی وساطت سے ہوتی رہی۔ ’ہمارے وفود کا بہت کم براہ راست رابطہ ہوا، تمام بات چیت قطری اور ترکی کے دوستوں کے ذریعے ہوتی رہی۔‘

    ’مذاکرات کا دوسرا دور استنبول میں ہو گا‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والا معاہدہ انتہائی مختصر ہے۔

    وزیرِ دفاع کے مطابق، اس معاہدے میں جن چیزوں پر اتفاق ہوا ہے ان پر عملدرآمد کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور ترکی میں ہو گا۔

    اس سوال پر کہ کیا اس بار سیز فائر قائم رہے گی، خواجہ آصف کا کہنا تھا، ’میں امید ضرور رکھتا ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ محتاط بھی ہوں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں کابل اور طاقت کے دوسرے مراکز سے مختلف آوازیں آ رہی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ایک متحد حکومت کے طور پر ہمارے ساتھ یہ معاہدہ کریں۔ ’یہ نہ ہو کہ وہ کل کہنا شروع کردیں کہ فلاں شہر والے یہ کر رہے ہیں، ہم تو نہیں کر رہے۔‘

    اس سوال پر کہ اگر اب دوبارہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے تو پاکستان کا کیا ردِ عمل ہو گا، خواجہ آصف کا کہنا تھا اس کا طریقہ کار ابھی طے ہونا باقی ہے تاہم ان کے خیال میں ایسا کچھ ہوتا ہے تو ثالثوں کو مداخلت کے لیے کہا جائے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ کا تعین ایک دو روز میں کر لیا جائے گا۔

    قطر کی جانب سے جاری بیان کا افغانستان اور پاکستان کے معاہدے سے کوئی تعلق نہیں

    میزبان کی جانب سے سوال پر کہ معاہدے کے بعد قطر کی جانب سے پہلے جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں بارڈر پر کشیدگی کا لفظ موجود تھا تاہم بعد میں جاری ہونے والے بیان میں سے یہ الفاظ نکال دیے گئے، وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ قطر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کا افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔

    ’ان [قطر] کے بیان میں پہلے بارڈر کا لفظ تھا، انھوں [افغان طالبان] نے بہت زور دیا کہ آپ بارڈر کا لفظ استعمال نہ کریں، یہ ہمارے لیے متنازع ہے اور اس سے آپ کی بطور ثالث حیثیت متاثر ہوتی ہے، اس کی وجہ سے انھوں نے کیا۔ یہ ان کے آپس کی بات ہے۔‘

  13. ’زچگی کے دوران نوکری کا تحفظ خواتین کا بنیادی حق ہے‘، وفاقی محتسب نے کمپنی پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا

    وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے خواتین کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون کو نوکری سے نکالنے کو صنفی امتیاز قرار دے دیا۔

    وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ ’زچگی کے دوران نوکری کا تحفظ خواتین کا بنیادی حق ہے اور محفوظ زچگی ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔‘

    درخواست گزار زینب زہرہ اعوان کو زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برخاست کردیا گیا تھا۔ وفاقی محتسب نے زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون کو نوکری سے نکالنے پرنجی کمپنی پر دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی فوزیہ وقار نے زینب زہرہ اعوان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نجی کمپنی کو ہدایت دی کہ وہ آٹھ لاکھ روپے متاثرہ خاتون کو معاوضے کے طور پر ادا کرے اور دو لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائیں جائیں۔

    فوزیہ وقار نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ برطرفی کا حکم کالعدم قرار دے کر زینب زہرہ کو ان کی ملازمت میں بحال کر دیا گیا ہے۔

    ’ماں بننا کسی عورت کے کریئر کے لیے رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔‘

    یہ مقدمہ ہے کیا؟

    زینب زہرہ اعوان نے ایمبریس آئی ٹی نامی کمپنی کے خلاف جنسی حراسیت اور صنفی امتیاز کے خلاف وفاقی محتسب میں درخواست دائر کی۔

    زینب اس کمپنی میں جولائی 2022 سے ایچ آر مینیجر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہی تھیں۔ 3 اگست 2024 کو کمپنی نے ان کی زچگی کی چھٹی کی درخواست منظور کی۔ یہ چھٹی 14 مارچ 2024 سے لے کر 14 جون 2024 کی تھی۔

    زینب زہرہ ابھی چھٹیوں پر ہی تھیں کہ انھیں کمپنی کی طرف سے 24 اپریل 2024 کو ہی برطرفی کا نوٹس موصول ہو گیا۔ زینب زہرہ نے کمپنی کے اس فیصلے کے خلاف قانون کا رستہ اختیار کیا۔ انھوں نے کمپنی کو چھ مئی 2024 کو لیگل نوٹس بھیج دیا کہ ان کی زچگی کے دوران جب وہ چھٹیوں پر تھیں تو ان کی برطرفی کیسے عمل میں لائی گئی۔

    اس دوران کمپنی نے زینب زہرہ کے خلاف مقامی تھانے میں ایک رپورٹ درج کرائی کہ ان کے قبضے سے کمپنی کا ایک لیپ ٹاپ واپس کرایا جائے۔

    شکایت کنندہ زینب زہرہ نے اس فیصلے کے خلاف وفاقی محتسب کا رخ کیا۔

    زینب زہرہ اس مقدمے کو صدر مملکت کے دفتر بھی لے گئیں مگر وہاں سے ان کے حق میں فیصلہ نہیں آ سکا اور ایوان صدر نے وفاقی محتسب کو یہ مقدمہ بھیجتے ہوئے ایک ماہ میں فیصلے کرنے کو کہا۔ ایوان صدر نے کہا کہ وفاقی محتسب یہ فیصلہ کرے کہ آیا یہ صنفی امتیاز کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔

    وفاقی محتسب کے مطابق فریقین نے اپنے اپنے حق میں دلائل اور ثبوت پیش کیے۔ وفاقی محتسب اس مقدمے کی طویل سماعت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ زینب زہرہ کی شکایت درست ہے اور کمپنی نے انھیں غیرقانونی طور پر ان کی زچگی کی چھٹیوں کے دوران برطرف کرنے کا فیصلہ کیا۔

    وفاقی متحسب نے فیصلہ زینب زہرہ کے حق میں دیتے ہوئے کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کیا۔

  14. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں افغان مہاجرین کو 18 نومبر تک بے دخل کرنے کا حکم, نصیر چوہدری، صحافی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں افغان مہاجرین کو 18 نومبر 2025 تک علاقے سے بے دخل کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔

    انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں تمام ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ مقررہ تاریخ تک تمام افغان مہاجرین کو طورخم بارڈر پر متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا جائے۔

    ہدایت نامے کے مطابق کشمیر کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز اور ایس پیز کو اس عمل کی نگرانی اور عملی انجام دہی کا پابند بنایا گیا ہے۔ سرکاری ٹرانسپورٹ کی دستیابی نہ ہونے کی صورت میں بھی مہاجرین کی بے دخلی میں کسی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

    پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ 18 نومبر کے بعد تحریری طور پر یہ تصدیق دی جائے کہ ان کے ضلع میں اب کوئی بھی افغان مہاجر مقیم نہیں ہے۔ اگر کسی بھی علاقے میں مہاجرین کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تو اس علاقے کے متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او، ایریا آفیسرز، سپیشل برانچ کے اہلکاروں کو نہ صرف ملازمت سے برطرف کیا جائے گا بلکہ متعلقہ ڈی ایس پی، ایس ایس پی اور ایس پی سپیشل برانچ کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ہدایت نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تمام ضلعی ایس ایس پیز اور ایس پیز کو افغان مہاجرین کی بے دخلی کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر مرکزی پولیس دفتر کو ارسال کرنا ہو گی۔

  15. غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کریم شیلوم کراسنگ سے بحال، رفح کراسنگ ابھی تک بند

    اسرائیل نے ابھی تک رفح کراسنگ کو نہیں کھولا مگر کریم شیلوم سے غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔

    اس کراسنگ سے سامان سے لدے ٹرک غزہ میں داخل ہوتے دکھائی دیے ہیں۔

  16. زہری ٹاؤن میں معمولات زندگی بحال، یہ شہر کہاں واقع ہے اور وہاں کب کیا ہوا؟, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خضدارکی تحصیل زہری کے ہیڈ کوارٹر زہری شہر میں معمولات زندگی بحال ہو گئے ہیں۔ یہاں سکیورٹی فورسز نے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کاروباری اوردیگر سرگرمیوں کے لیے کھول دیا ہے اور نیشنل ہائی وے کی جانب سے آمدورفت کے لیے اس کا رابطہ بھی بحال کر دیا ہے۔

    تین روز قبل کورکمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان نے زہری ٹاؤن کا دورہ بھی کیا تھا اور وہاں کی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔ اس دورے کی تفصیلات پر بھی بات کرتے ہیں مگر پہلے یہاں بنیادی مسئلے پر بات کرتے ہیں۔

    قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کا الزام عائد کیا ہے جس کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس سلسلے میں تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    تاہم سرکاری سطح پرعام شہریوں کی ہلاکت کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں عسکریت پسندوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    زہری کہاں واقع ہے، وہاں کب کیا ہوا؟

    زہری ضلع خضدار کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ شہر خضدار شہر سے شمال میں اندازاً 120 کلومیٹر کے فاصلے پرجبکہ قلات اور خضدار کے درمیان کوئٹہ کراچی شاہراہ سے 52 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

    گذشتہ سال 8 جنوری کو پہلی مرتبہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے جنگجو زہری شہر میں داخل ہوئے تھے لیکن اس وقت ان کی موجودگی وہاں چند گھنٹوں تک رہی تھی۔ تاہم رواں سال اگست کے مہینے میں کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے جنگجو ایک مرتبہ پھر زہری اوراس کے نواحی علاقوں میں داخل ہوئے تھے لیکن مقامی لوگوں کے مطابق اس مرتبہ ان علاقوں میں ان کی موجودگی ایک ماہ سے زیادہ تک رہی۔

    ستمبرکے وسط میں سکیورٹی فورسز نے زہری اوراس کے نواحی علاقوں میں بڑے پیمانے پرکارروائی کی جس کے باعث چار اکتوبر کو مقامی میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے یہ خبردی کہ سکیورٹی فورسز نے زہری ٹاؤن کا کنٹرول حاصل کیا جبکہ اسی روز وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے میڈیا میں ایک بیان بھی جاری کیا گیا تھا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ زہری میں سکیورٹی فورسز نے ریاست دشمن عناصر کا قلع قمع کرتے ہوئے متعدد کو ہلاک جبکہ ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا ہے۔

    زہری شہرکا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد نہ صرف شہر کئی روز تک بند رہا تھا بلکہ اس کی رابطہ سڑکیں بھی منقطح ہو گئی تھیں۔

    بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے شہر اور راستوں کی بندش کے باعث خوراکی اشیا کی قلت کا دعویٰ کرنے کے علاوہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

    ’تین چار روز سے دن کو بازار کھلنے کے علاوہ راستے بھی کھل گئے ہیں‘

    کورکمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان گذشتہ جمعہ کو زہری ٹاؤن اور اس کے ملحقہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اس دورے کے حوالے سے میڈیا کو معلومات فراہم نہیں کی گئیں تاہم مقامی لوگوں نے فون پر بتایا کہ کورکمانڈر نے نمازجمعہ زہری شہر کے جامع مسجد میں ادا کی اور دورے کے موقع پروہاں کے عمائدین سے بھی ملاقات کی۔

    انجمن تاجران زہری کے صدر علی محمد نے فون پررابطہ کرنے پربتایا کہ کور کمانڈر نے زہری شہرکا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ خود ان کے دورے کے موقع پرزہری شہرمیں موجود نہیں تھے تاہم گذشتہ تین چار روزسے زہری شہرکو صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کاروباری سرگرمیوں کے کھول دیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اسی طرح خضدار اورنیشنل ہائی وے کی جانب سے رابطہ سڑک کو کھول دیا گیا اور انٹری کے بعد گاڑیوں کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یکم اکتوبر کے بعد چند روز تک زہری شہر خوراک، ضروری اشیا اورادویات وغیرہ کے حوالے سے لوگوں کو مسائل اورمشکلات کا سامنا تھا لیکن اب ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔

    دوسری جانب زہری کے علاقوں میں قوم پرست جماعتوں اورتنظیموں کی جانب سے عام شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن تاحال سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ تاہم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے زہری کی صورتحال پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔

    کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ زہری میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایک شادی کی تقریب بھی حملوں کی زد میں آ گئی جس میں بچوں سمیت متعدد لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

    کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے لوگوں کی آمدورفت میں رکاوٹیں ہیں جبکہ بہت سارے علاقے نو گو ایریا بن گئے ہیں۔

    بیان میں عام شہریوں کی ہلاکت پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تحقیقات کے علاوہ غیرجانبدار مبصرین اور صحافیوں کو علاقے میں رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    عام شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے حکومت کا موقف حاصل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وزیراعلی بلوچستان، کمشنر مکران ڈویژن اور ڈی سی خصدر سے رابطہ نہیں ہوسکا۔

  17. اسرائیل اب نئی فوجی پوزیشن کو واضح کرنے کے لیے نشانات لگا رہا ہے

    اسرائیل اب پیلے رنگ والی لائن کے ساتھ نشانات لگا رہا ہے جو اس نئی پوزیشن کی نشاندہی کرتی ہے جس سے اسرائیلی افواج جنگ بندی معاہدے کے تحت پیچھے ہٹنے پر راضی ہوئی تھیں۔

    اسرائیلی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی ہدایت کے بعد کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس کے فوجیوں نے ’فوری خطرے‘ کے پیش نظر اس حد کو عبور کرنے والے لوگوں پر فائرنگ کی تھی۔

  18. حماس نے دوبار ممنوعہ حد عبور کی، اسرائیلی دفتر خارجہ

    اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حماس نے دو بار ممنوعہ حد ’یِلو لائن‘ یعنی پیلی لیکر کی خلاف ورزی کی ہے۔

    اسرائیل نے اس سے پہلے یہ مؤقف دیا تھا کہ اس کے فوجیوں نے غزہ میں ان لوگوں پر گولیاں برسائی ہیں جنھوں نے یہ لائن عبور کی تھی اور اسرائیلی فوجیوں کے لیے ’فوری خطرے‘ کا باعث بنے تھے۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ نے اب مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ حماس نے ’شجاعیہ کے علاقے میں پیلی لائن والے اسرائیل کے زیر انتظام علاقے کو دو بار عبور کیا ہے۔‘

    وزارت نے لکھا کہ یہ خلاف ورزیاں حماس کی جانب سے گذشتہ روز ایک منظم حملے کے بعد دیکھنے میں آئی جس میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت ہوئی۔

    بیان کے مطابق ’اسرائیل ہمیشہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو کسی بھی خطرے کے خلاف تحفظ فراہم کرے گا۔‘

    حماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے زیر انتظام علاقے میں کسی بھی جھڑپ سے لاعلم ہے۔

  19. غزہ کے لیے ٹرمپ کے امن منصوبے کا اگلا مرحلہ کیا ہے؟

    غزہ میں جنگ بندی کو دس دن ہو چکے ہیں جسے ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے منصوبے کے مطابق اگلا مرحلہ غزہ کی پٹی کی حکمرانی اور انکلیو میں حماس کی جگہ ایک حکومت قائم کرنا ہے۔

    تفصیلات سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک ٹیکنوکریٹک، غیر سیاسی فلسطینی کمیٹی کے ذریعے عارضی عبوری حکومت کے تحت چلائی جائے گی، جو غزہ میں لوگوں کے لیے روزانہ عوامی خدمات کی فراہمی اور میونسپلٹی چلانے کی ذمہ دار ہو گی۔

    یہ کمیٹی اہل فلسطینیوں اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ہو گی، جس کی نگرانی ایک نئے بین الاقوامی عبوری ادارے ’بورڈ آف پیس‘ سے ہوگی، جس کی سربراہی صدر ٹرمپ کریں گے۔

    دیگر ارکان میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی شامل ہوں گے۔

    بی بی سی نیوز کی نامہ نگار یالند نیل کے تجزیے کے مطابق امریکی حکام اگلے مرحلے پر جانے کے خواہشمند ہیں حالانکہ ابھی تک بہت سے سوالات حل طلب ہیں۔

  20. امریکی حکام کا دورہ اسرائیل اور امن منصوبے کے حل طلب سوالات, یروشلم سے بی بی سی نیوز کی یولاند نیل کا تجزیہ

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔

    ان سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ یہاں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے بارے میں بات کریں گے اور اس پر غور کریں گے کہ معاملات کو آگے کیسے بڑھایا جائے۔

    لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکہ سے نکلنے سے قبل ہی انھیں جنگ بندی کے موجودہ معاہدے کو آگے بڑھانا پڑا۔ اہم سوالات جو صدر ٹرمپ کے امن منصوبے سے حل نہیں ہوئے ہیں وہ سب غزہ کے مستقبل اور حماس کے مستقبل سے متعلق ہیں۔

    ان سوالات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ غزہ میں حکومت کون کرے گا؟ حماس کو غیر مسلح کیسے کیا جائے؟ غزہ میں سکیورٹی کی صورتحال کیسی ہوگی تاکہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کی جا سکے؟

    اس وقت یہ سب بہت غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔