لائیو, ریاض ایئرپورٹ 17 اکتوبر تک بند: ’فضائی دفاعی نظام حوثی میزائلوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہا، سعودی عرب میں تحقیقات کا آغاز‘

یمنی گروہ انصار اللہ کے مسلسل حملوں کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کم از کم 17 اکتوبر تک بند رکھا جائے گا۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے علاقائی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ حوثی گروہ کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو اِس کے فضائی دفاعی نظام کیوں نہ روک سکے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. اگر امریکہ سعودی کارروائی میں شریک ہوا تو ’فوری اور سخت جواب‘ دیا جائے گا: حوثیوں کی دھمکی

    Houthis

    یمن کے حوثی گروپ کے ایک عہدے دار نے پیر کے روز امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران کے حمایت یافتہ اس گروہ کے خلاف سعودی عرب کے حملوں میں شامل ہوا تو اسے ’فوری اور سخت جواب‘ جواب دیا جائے گا۔

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے پر سنیچر کو ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائیوں میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے اس سے قبل سعودی عرب کی جانب سے مدد کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔

    صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا: ’حوثی بہت غلط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘

    حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا: ’اگر امریکہ یمن کے خلاف جارحیت میں شامل ہوتا ہے تو ہم جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گے بلکہ امریکہ اور خطے میں اس کے تمام مفادات کو نشانہ بنائیں گے اور فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔‘

    انھوں نے سعودی تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے ملازمین اور کارکنوں کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان مقامات سے دور رہیں کیونکہ ’یہ اب جائز اہداف بن چکے ہیں۔‘

  2. شاید ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں ہم حد سے آگے بڑھ گئے، اب یہ بھی نہیں جانتے کس سے بات کریں: ٹرمپ کا اعتراف

    trump

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے معاملے میں شاید ’زیادہ سختی‘ یا ’حد سے زیادہ کارروائی‘ کی گئی۔

    انھوں نے گذشتہ شب ریاست اوہائیو میں اپنے حامیوں کے ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’شاید ہم ایران کے رہنماؤں کے معاملے میں حد سے آگے بڑھ گئے، کیونکہ اب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم کس سے بات کر رہے ہیں۔‘

    ان کا اشارہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اُن رہنماؤں اور اعلیٰ عہدے داروں کی جانب تھا اسرائیلی اور امریکی حملوں میں مارے گئے تھے۔

    ٹرمپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ کی اعلیٰ قیادت کے بعض ارکان کی ہلاکت نے یہ طے کرنا مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات کے لیے کن افراد سے رابطہ کرنا چاہیے۔

    اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن کو اب بھی اس بات پر مکمل یقین نہیں کہ ایران کی اعلیٰ قیادت میں فیصلے کس طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے اسی اجتماع میں یہ بھی کہا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘ اور ایران کو ’دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست‘ قرار دیا۔

  3. ریاض ایئرپورٹ 17 اکتوبر تک بند: ’فضائی دفاعی نظام حوثی میزائلوں کو روکنے میں کیوں ناکام رہا، سعودی عرب میں تحقیقات کا آغاز‘

    saudi defence system

    یمنی گروہ انصار اللہ کے مسلسل حملوں کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کم از کم 17 اکتوبر تک بند رکھا جائے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ ہفتے شاہ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اِن حملوں میں سنیچر کی شب ہونے والا ایک حملہ بھی شامل ہے، جس میں 13 افراد مارے گئے تھے۔

    خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے سنیچر کے حملے کو گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی سرزمین پر ہونے والا ’مہلک ترین حملہ‘ قرار دیا تھا۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے علاقائی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ حوثی گروہ کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو اِس کے فضائی دفاعی نظام کیوں نہ روک سکے۔

    حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حوثی گروہ نے پہلے متعدد ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے بعد کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام سے بچتے ہوئے ایئرپورٹ کی عمارت کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔

    ایک عہدیدار نے بتایا کہ تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا بھی ہے کہ فضائی دفاعی نظام حملوں کے بارے میں پیشگی انتباہ فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہا۔

    اس صورتحال کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کی قومی فضائی کمپنی ’اتحاد ایئرویز‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ابوظبی اور ریاض کے لیے اپنی تمام پروازیں 19 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ اتحاد ایئرویز کی جانب سے ابوظبی سے جدہ اور دمام جانے والی پروازیں بھی معطل کی گئی ہیں۔

    قطر ایئرویز نے بھی ’موجودہ صورتحال‘ کے پیش نظر ریاض اور دمام کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    بحرین کی ’گلف ایئر‘ نے کہا ہے کہ اس نے آئندہ ہفتے کے روز تک ریاض کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ امریکی فضائی کمپنی ڈیلٹا نے اٹلانٹا اور ریاض کے درمیان 23 اکتوبر سے شروع ہونے والی اپنی براہ راست پروازوں کے منصوبے کو مؤخر کر دیا ہے۔

    امریکی سفارتخانے نے امریکی حکومت کے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ سعودی عرب کے کسی بھی ایئرپورٹ کے استعمال سے پہلے سفارتخانے کی منظوری حاصل کریں، جبکہ امریکی شہریوں کو بھی مملکت کے ہوائی اڈوں کے ذریعے سفر کی صورت میں ’انتہائی احتیاط‘ برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حالیہ حملے میں ایک امریکی شہری بھی مارا گیا تھا۔

    سعودی حکام نے گذشتہ دنوں ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کی ہے، جس میں مسافروں کو، جن میں بعض احرام پہنے ہوئے تھے، دھماکے سے قبل ایئرپورٹ کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں دھماکا ہوتا ہے اور جلتا ہوا ملبہ عمارت کے اندر گرتا دکھائی دیتا ہے۔

  4. میرا نہیں خیال کہ روس اور چین ایران کی مدد کر رہے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    Donal Trump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں روس اور چین ایران کی مدد نہی٘ں کر رہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’مجھے انتہا پسند بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بہت سی آرا نظر آ رہی ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ چین اور روس ایران کی ’عظیم‘ اسلامی جمہوریہ کی مدد کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اگر روس اور چین ایسا کر بھی رہے ہیں تو وہ بہت محدود سطح پر ہے۔ ’لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔‘

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس اور چین کے لیے نقصان اٹھانے کا خطرہ بہت زیادہ ہے، اور ہمیں اس بارے میں بہت جلد معلوم ہو جاتا۔

  5. رحمان بابا ایکسپریس واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری

    رحمان بابا ایکسپریس

    منگل کی صبح ٹرین کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی 14 بوگیاں شیر شاہ ریلوے سٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئیں۔ اس واقعے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک جبکہ درجنوں مسافر زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ 26 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ 22 دیگر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر روانہ کر دیا گیا ہے۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ رحمان بابا (47 اپ) کی متبادل ٹرین 500 سے زائد مسافروں کو لے کر شیر شاہ اسٹیشن سے روانہ ہو چکی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ ملتان کے تعاون سے ان مسافروں کے لیے بسوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے جو بذریعہ سڑک اپنا سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

    رحمان بابا ایکسپریس
    رحمان بابا ایکسپریس
    رحمان بابا ایکسپریس
    رحمان بابا ایکسپریس
  6. رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے نتیجے میں چار مسافر ہلاک، درجنوں زخمی

    Rehman Baba Express

    پاکستان ریلویز کا کہنا ہے ملتان کے نزدیک رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے واقعے میں چار افراد ہلاک جبکہ دو درجن سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    منگل کی صبح ٹرین کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی 14 بوگیاں شیر شاہ ریلوے سٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئیں۔

    حکام کے مطابق 26 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ 22 دیگر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دے کر روانہ کر دیا گیا ہے۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ رحمان بابا (47 اپ) کی متبادل ٹرین 500 سے زائد مسافروں کو لے کر شیر شاہ اسٹیشن سے روانہ ہو چکی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ ملتان کے تعاون سے ان مسافروں کے لیے بسوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے جو بذریعہ سڑک اپنا سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

  7. کراچی کے ایک ہی گھر سے دو بچیوں سمیت پانچ افراد کی لاشیں برآمد, ریاض سہیل، بی بی سی اردو، کراچی

    Crime scene

    پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے گلشن حدید میں نجی سوسائٹی کے ایک گھر سے میاں بیوی سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

    پولیس نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت 30 سے 32 سالہ شاہ زیب، ان کی اہلیہ صبا، شاہ زیب کی بہن شمائلہ اور ان کی دو کم عمر بیٹیاں شامل ہیں جن کی عمریں چار سے پانچ سال اور تین سے چار سال بتائی گئی ہیں۔

    ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق گھر سے ایک پستول جبکہ شاہ زیب کی جیب سے ہاتھ سے تحریر شدہ ایک خط ملا ہے۔ پولیس کو ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ دونوں کم عمر بچیوں کو زہر دیا گیا تھا۔

    ڈاکٹر پیرزادہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی حتمی وجوہات اور اموات کی نوعیت کا تعین تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہو سکے گا۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعہ مبینہ خودکشی کا معلوم ہوتا ہے۔

    ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کرائے کے گھر پر رہائش پذیر تھا۔ ان کے مطابق جب مالک مکان آئے تو انھوں نے کافی دیر دروازہ بجانے کے کے بعد بالاخر اس کو توڑا کیونکہ دروازے کو اندر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ شاہ زیب کے جیب سے ملنے والے خط میں مالی تنگی اور رشے داروں کے رویوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

  8. رحمان بابا ایکسپریس: تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے، ریلوے حکام

    رحمان بابا ایکسپریس

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے نزدیک رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے حوالے سے پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز (ایف جی آئی آر) اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے جس کے بعد وجوہات کا تعین کیا جا سکے گا۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ حادثے کے باعث متاثرہ ریلوے ٹریک کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔

    ’متاثرہ ٹرین کے مسافروں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ہر ممکن امداد دی جائے گی۔‘

    حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی مسافروں کو ریلوے انشورنس پالیسی کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا۔

    ریلوے حکام کے مطابق جائے حادثہ پر ڈویژن کے تمام افسر اور عملہ موجود ہے اور ٹریک کلیئر کیا جا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال ٹرین آپریشن براستہ لودھراں جاری ہے۔

  9. انڈیا کی جانب سے بہہ کر آنے والی بارودی سرنگ حادثاتی طور پر پھٹنے سے پونچھ میں چار نوجوان ہلاک: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ اطلاعات کا دعویٰ

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے محکمہ اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کی جانب سے بہہ کر آنے والی بارودی سرنگ حادثاتی طور پر پھٹنے سے چار نوجوان ہلاک ہو گئے ہیں۔

    محکمہ اطلاعات کی جانب سے سوموار کی شام جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پونچھ کے علاقے میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گاؤں مہنڈلہ مدارپور میں انڈیا کی جانب سے بہہ کر پاکستان آنے والی بارودی سرنگ حادثاتی طور پر پھٹنے سے چار نوجوان ہلاک ہو گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چاروں نوجوان گاؤں کے قریب چشمے کے پانی کی پائپ لائن کی مرمت کے لیے گئے تھے کہ ان کے پہنچتے ہی حادثاتی طور پر زور دار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں چاروں موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

    ہلاک ہونے والوں کی شناخت فیضان صغیر، اشتیاق، عاصم رفیق اور وقاص شریف کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    کمشنر پونچھ ڈویژن سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد ایل او سی کے نزدیک اپنی زمین پر واقع چشمے کا پائپ ٹھیک کرنے گئے تھے۔ ’جس جنگل سے گزر کر گئے وہاں انڈین آرمی نے مائنز بچھائی ہوئی تھیں۔‘

    ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ چشمے کی کھدائی سے پہلے چاروں نوجوانوں نے وہاں پر تعینات فوج کے اہلکاروں سے رابطہ کیا تھا۔ اہلکار کے مطابق فوجی اہلکاروں نے نوجوانوں سے کہا تھا کہ چونکہ یہ علاقہ ایل او سی کے بالک ساتھ ہے اس لیے کھدائی سے قبل انھیں ایک دن کی مہلت دیں کہ وہ علاقے کی صفائی کر لیں۔

    تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ان چاروں نوجوانوں نے فوجی اہلکاروں کی بات پر کان نہیں دھرے اور وہ اپنے تئیں چشمے کی کھدائی کے لیے چلے گئے جس دوران یہ دھماکہ ہوا۔

    انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ انڈین فورسز کی جانب سے اس علاقے میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔ ایل او سی کے ساتھ بہت سے ایسے علاقے میں جہاں ہر انڈین اور پاکستانی فورسز پانچ پانچ سو میٹر دور ہیں جبکہ اس کے درمیان وہاں کے مقامی باشندوں کی زمینیں ہیں

    تاحال انڈیا کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  10. ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اُتر گئیں، چار افراد ہلاک

    رحمان بابا ایکسپریس

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے نزدیک ٹرین کے پٹری سے اترنے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق رحمان بابا ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے واقعے میں چار افراد ہلاک اور ایک درجن مسافر زخمی ہوئے ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد ٹرین میں سوار دیگر مسافروں کی عارضی رہائش اور کھانے پینے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

    ٹرین کراچی سے پشاور جا رہی تھی جب ملتان کے نزدیک حادثے کا شکار ہوئی۔ ریلوے حکام کے مطابق ترین کی 14 کوچز شیر شاہ ریلوے سٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئیں۔

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ملتان کے نزدیک رحمان بابا ایکسپریس کے پٹڑی سے اترنے کے واقعے میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیرِ اعظم شہبار شریف نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیرِاعظم نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    صدرِ آصف علی زرداری نے اس واقعے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کی ہے اور متعلقہ حکام کو متاثرہ مسافروں کی امداد اور ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    صدر کے دفتر سے جاری بیان میں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ رحمان بابا ایکسپریس حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔

    rehman Baba Express
  11. صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے روس یوکرین کی توانائی کی چھ تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے: زیلنسکی کا دعویٰ

    Ukraine

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے یوکرین کی توانائی کی چھ تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    زیلنسکی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے محض چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ روس اور یوکرین ایک دوسرے کے توانائی کی تنصیبات پر حملہ کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

    اگرچہ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ یہ جنگ بندی ’فوری طور پر نافذ‘ ہو جائے گی، تاہم زیلنسکی کے مطابق روس نے یوکرین ’گیس سٹیشنوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر تنصیبات‘ پر حملے کیے۔

    یوکرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یوکرِنفارم کے مطابق روسی حملے میں بجلی کی ترسیل کا نظام تباہ ہونے کے بعد ایزیوم شہر کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی ہے جبکہ مغربی یوکرین میں توانائی اور ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو بھی رات بھر نشانہ بنایا گیا۔

    زیلنسکی کا کہنا ہے ملک بھر میں توانائی کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں 33 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے فاکس نیوز کو بتایا ’ہم نے کوئی حملہ نہیں کیا، جبکہ روس نے ہمارے گیس سٹیشنوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں یہ صدر ٹرمپ کو پوتن کا جواب تھا۔‘

    دوسری جانب جب صدر ٹرمپ سے روس کی جانب سے اس مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے دیکھنا پڑے گا - کیونکہ خلاف ورزیاں دونوں جانب سے ہوئی ہیں۔‘

  12. تجزیہ: حوثی کون ہیں اور سعودی عرب کے لیے انھیں شکست دینا اتنا مشکل کیوں ثابت ہو رہا ہے؟, فرینک گارڈنر، بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

    حوثی جنگجو

    حوثی کون ہیں اور یمن میں پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والی یہ اقلیت سعودی عرب جیسے بڑے اور بھاری اسلحے سے لیس ملک کے لیے خطرہ کیسے بنی؟

    حوثیوں نے 2014 میں پہاڑوں سے نکل کر یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ سات سالہ جنگ لڑی۔ سعودی عرب نے فضائی حملوں کے ذریعے انھیں شکست دینے کی کوشش کی، لیکن یہ حکمت عملی کامیاب نہ ہو سکی۔

    چار برس تک جنگ بندی برقرار رہی، تاہم اس موسمِ گرما یہ ختم ہو گئی۔ اب حوثی پوری شدت سے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں۔

    حوثیوں نے، اپنے ایرانی پشت پناہوں کی طرح، جغرافیے کو اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔

    وہ پہاڑی علاقوں کے لوگ ہیں اور پہاڑوں میں لڑائی کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ سعودی عرب کے پاس ایک مضبوط فضائیہ ہے اور اس نے امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک سے فوجی سازوسامان خریدنے پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، لیکن زمینی سطح پر وہ حوثیوں کو ان کے زیرِ قبضہ بیشتر علاقوں سے بے دخل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    حوثیوں کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے اس بارے میں بہت رہنمائی مل رہی ہے کہ سعودی عرب جیسے زیادہ طاقتور حریف کے خلاف اس غیر روایتی جنگ میں کیسے لڑنا ہے۔ انھیں یہ بھی سکھایا جا رہا ہے کہ شاہ خالد ہوائی اڈے، تیل کے اڈوں اور پیٹرو کیمیکل تنصیبات جیسے اہداف کو کس طرح درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جائے، اور اس سے سعودی عرب کو خاصا نقصان پہنچ رہا ہے۔

    بالآخر اس تنازع کا خاتمہ کسی نہ کسی معاہدے پر ہو گا۔ تاہم حوثی بتدریج زیادہ مضبوط پوزیشن میں آ رہے ہیں، اور امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی طرح، ایسے کسی بھی معاہدے کے لیے سعودی عرب کو بعض مشکل رعایتیں دینی پڑیں گی۔

  13. حوثیوں کا ایک بار پھر ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: حوثیوں کا رویہ بالکل ٹھیک نہیں، صدر ٹرمپ

    حوثی

    یمن کے حوثیوں نے سوموار کی شام ایک بار پھر ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے دعویٰ کیا ہے کہ جب کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے سعودی دارالحکومت کی جانب آنے والے ایک میزائل کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے: ’حوثیوں کا رویہ بالکل ٹھیک نہیں... یہ بالکل صحیح نہیں۔‘

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ’ہماری مسلح افواج نے آج شام دشمن سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور حملہ درست نشانے پر لگا۔‘

    یحییٰ سریع کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں واقع خمیس مشیط ایئربیس کو بھی ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے ’شدت پسند حوثی ملیشیا کی جانب سے خمیس مشیط کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کرنے‘ کا دعوی کیا ہے۔

    یہ اعلانات اور دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سعودی حکام نے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش سنیچر تک بڑھا دی ہے، جبکہ فضائی کمپنیوں نے پروازیں منسوخ کر دی ہیں کیونکہ حوثیوں کے مسلسل حملوں کے باعث سعودی دارالحکومت کی فضائی حدود میں فضائی آمدورفت معطل ہو چکی ہے۔

    یاد رہے کہ ریاض ایئرپورٹ 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے بعد سے بند ہے، جس میں 13 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب میں پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز حملہ تھا۔ اتوار کو ہونے والے ایک اور حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 10 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

  14. صدر مسعود پزشکیان کی ایرانی رہبراعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ’سات گھنٹے کی ملاقات‘: ’ملک کے انتظامی مسائل پر تفصیلی بات ہوئی‘

    Reuters/EPA

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ اپنی ’سات گھنٹے طویل ملاقات‘ کے بارے میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران انھوں نے ملک کو درپیش انتظامی اور حکومتی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔

    مسعود پزشکیان نے یہ بات ایران میں جامعات کی افتتاحی تقریب اور نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب ایرانی صدر نے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ اپنی طویل ملاقات کا ذکر کیا ہے۔

    انھوں نے یاد دلایا کہ صدر منتخب ہونے کے بعد گذشتہ سات ماہ کے دوران وہ دو مرتبہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کر چکے ہیں۔ اپنی تقریر میں مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کے مسائل وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ مؤثر انتظام، اہل افراد کے انتخاب اور فیصلوں پر عمل درآمد کے فقدان سے جڑے ہوئے ہیں۔

    صدر نے کہا کہ ’مسئلہ یہ نہیں کہ ملک میں امکانات یا وسائل کم ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اہل اور باصلاحیت افراد کی کمی ہے اور جو درست فیصلے کیے جاتے ہیں ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں ہو پاتا۔‘

    انھوں نے بعض سرکاری اداروں اور کمپنیوں کے طرزِ انتظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’کچھ سرکاری کمپنیوں میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے انتظام یا مینجمنٹ نہیں کہا جا سکتا۔‘ ان کے بقول ایران کے نظامِ حکمرانی اور عوامی انتظامیہ میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

    مسعود پزشکیان نے اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کے عمل میں حائل رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات حکومت کسی موزوں اور قابل فرد کو کسی عہدے پر تعینات کرنا چاہتی ہے، لیکن بعد میں عدلیہ یا دیگر اداروں کی جانب سے اعتراضات سامنے آ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں تقرری کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

  15. طیارے میں کھٹملوں کی موجودگی کے انکشاف پر اٹلی سے آسٹریلیا جانے والی پرواز منسوخ

    اٹلی سے آسٹریلیا جانے والی قانتاس کی ایک پرواز سنیچر کو اس وقت منسوخ کر دی گئی جب طیارے میں کھٹملوں کی موجودگی کا پتا چلا۔

    سڈنی مارننگ ہیرلڈ کے مطابق جمعہ کے روز پرتھ سے روم جانے والی تقریباً 17 گھنٹے طویل پرواز کے دوران بعض مسافروں نے شکایت کی تھی کہ انھیں کیڑے کاٹ رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق خارش اور تکلیف کم کرنے کے لیے مسافروں کو اینٹی ہسٹامین ادویات دی گئیں، تاہم یہ ادویات بعد میں ختم ہو گئیں۔

    بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کو مکمل صفائی کے لیے سروس سے ہٹا دیا گیا۔ قانتاس کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ طیارے کی مکمل صفائی کی جائے گی۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم سنیچر کو روم سے پرتھ جانے والی پرواز کی منسوخی پر اپنے مسافروں سے دلی معذرت خواہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق اکانومی کلاس کی چند نشستوں میں ایک مسئلے کی نشاندہی ہوئی تھی۔

  16. اسمبلی تحلیل نہیں ہوئی، پھر سپیکر کو کیوں حراست میں لیا گیا: مینا خان

    پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما مینا خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی گرفتاری اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر کو حراست میں لیے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے آئینی بالادستی، پارلیمانی خودمختاری اور جمہوری اقدار پر ’کھلا وار‘ قرار دیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں مینا خان کا کہنا تھا کہ جب صوبائی اسمبلی بدستور قائم ہے اور اسے تحلیل بھی نہیں کیا گیا، تو سپیکر کی گرفتاری یا حراست کا جواز کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آئینی عہدوں کا احترام بھی ریاستی طاقت کے سامنے بے معنی ہو چکا ہے؟

    پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ پارلیمان کو دباؤ کے ذریعے خاموش نہیں کرایا جا سکتا، منتخب نمائندوں کو گرفتاریوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا اور آئین کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

  17. یمن میں مداخلت کی صورت میں امریکہ کو ’تیز اور دردناک جواب‘ ملے گا، حوثیوں کی تنبیہ

    حوثی باغی

    یمن کے حوثی گروپ (انصار اللہ) نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ یمن کے خلاف کسی فوجی کارروائی یا مداخلت میں شریک ہوا تو اسے ’تیز اور دردناک‘ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ سعودی عرب نے حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔

    انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یمن کے خلاف کسی جارحیت میں شامل ہوا تو حوثی نہ صرف امریکی مفادات بلکہ خطے میں موجود اس کے تمام ممکنہ اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی کسی مداخلت سے تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور خطہ وسیع پیمانے پر کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

    محمد البخیتی نے سعودی عرب میں واقع تیل تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم مقامات پر کام کرنے والے ملازمین کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنصیبات اب ’جائز اہداف‘ بن چکی ہیں کیونکہ حالات وسیع تر تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ حالیہ حملے غیر معمولی نوعیت کے ہیں اور سعودی عرب کا ردعمل بھی اسی شدت کا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے عالمی تحفظ کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور مملکت کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

    ادھر ایران نے ایک بار پھر سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے اور تنازع کے فریقین کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

    ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری نے دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے متعدد بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام کے شاہ فہد ایئرپورٹ اور مشرقی صوبے میں واقع آرامکو سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

    حوثیوں کے مطابق حملوں کے باعث ریاض ایئرپورٹ پر فضائی سرگرمیاں متاثر ہوئیں جبکہ سعودی حکام نے ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    فضائی سفر متاثر، عالمی ایئرلائنز کی پروازیں معطل

    حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے شہری ہوا بازی کے شعبے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل یا محدود کر دی ہیں۔

    امریکی سفارت خانے نے بھی سعودی عرب میں تعینات اپنے سرکاری ملازمین کے لیے ہوائی اڈوں کے استعمال پر اضافی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے فضائی کمپنیوں کو سعودی فضائی حدود میں پروازوں کے دوران خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا اجتماعی دفاع مضبوط بنانے کا مطالبہ

    متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مشترکہ دفاعی اور سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر حملے دراصل پورے خلیجی خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کا مشترکہ جواب ضروری ہے۔

    یمن میں لڑائی تیز، تعز کا محاصرہ

    یمن میں بھی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ حوثی جنگجوؤں نے جنوبی مغربی شہر تعز کے گرد اہم راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے نتیجے میں شہر کا زمینی رابطہ محدود ہو گیا ہے۔

    فوجی ذرائع کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں دونوں جانب درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حوثیوں نے تعز کے اطراف نئی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جبکہ حکومتی فورسز جوابی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

  18. ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی پر پاکستان کا اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ، کابل نے مؤقف مسترد کر دیا

    Afghanistan
    ،تصویر کا کیپشنافغانستان میں طالبان جنگجوؤں کی ایک تصویر، جو نومبر 2009 میں بی بی سی کی ویڈیو فوٹیج سے حاصل کی گئی

    پاکستان اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان ایک بار پھر سفارتی اور لفظی کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب پاکستانی حکام نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خطرے پر سخت مؤقف اختیار کیا، جبکہ افغان طالبان کی وزارتِ اطلاعات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جوابی ردعمل دیا۔

    پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان کے ترجمان ایک مرتبہ پھر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے اور بیاناتی حربے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خطرے کے بارے میں متعدد شواہد موجود ہیں۔

    پاکستانی مؤقف کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں، جبکہ کابل انتظامیہ ان گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں اندازہ ظاہر کیا گیا تھا کہ تقریباً چھ ہزار ٹی ٹی پی جنگجو افغانستان میں موجود ہیں۔ پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی مشاہدات کو محض پاکستانی پروپیگنڈا قرار دے کر رد نہیں کیا جا سکتا اور افغان حکام کو اس مسئلے پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

    Afpak
    ،تصویر کا کیپشنافغانستان کے صوبہ ننگرہار میں پاک۔افغان سرحد کے قریب مبینہ پاکستانی فضائی حملے کے مقام کا طالبان سکیورٹی اہلکار اور مقامی رہائشی جائزہ لے رہے ہیں۔ تصویر 22 فروری 2026 کو لی گئی

    پاکستانی بیان میں افغان طالبان حکومت پر یہ تنقید بھی کی گئی کہ وہ دیگر ممالک کو طرزِ حکمرانی اور شہری حقوق پر نصیحت کرنے کی کوشش کرتی ہے، حالانکہ اسے خود لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں اور انسانی حقوق سے متعلق تنقید کا سامنا ہے۔

    اسلام آباد نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان بات چیت کا حامی ہے، تاہم تعلقات میں پیش رفت اسی صورت ممکن ہے جب افغان حکام انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کریں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاونت کے نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کریں۔

    Taliban

    پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ، قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    دوسری جانب افغان طالبان کی وزارتِ اطلاعات اور حکومتی ترجمان نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کسی بھی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ افغان حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے اور دوطرفہ تعلقات میں الزام تراشی کے بجائے مثبت رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

  19. کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر حملہ: ایک اہلکار ہلاک، دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    Quetta

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    سرکاری حکام کے مطابق حملہ پیر کے روز جوائنٹ روڈ پر پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے میڈیا شاہد رند کے مطابق حملہ سیٹلائٹ ٹاؤن تھانے کے ایس ایچ او کی گاڑی پر کیا گیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے۔

    پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت سپاہی نعمان کے نام سے ہوئی ہے۔ فائرنگ سے ایک راہگیر بھی زخمی ہوا، جبکہ زخمی اہلکاروں اور شہریوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    شاہد رند نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاک اہلکار کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    رواں سال پولیس کو زیادہ جانی نقصان

    بلوچستان میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال متاثر ہونے کے بعد دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرح پولیس اہلکار بھی عسکریت پسندوں اور شدت پسند گروہوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال پولیس اہلکاروں کو جانی نقصان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال بلوچستان میں پولیس اہلکاروں پر حملوں کے نتیجے میں 63 اہلکار ہلاک ہوئے تھے، جبکہ رواں سال اب تک یہ تعداد بڑھ کر 98 ہو چکی ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ پولیس ریاستی رٹ اور حکومتی عملداری کی علامت سمجھی جاتی ہے، اس لیے عسکریت پسند اور شدت پسند عناصر اسے مسلسل اپنے حملوں کا ہدف بنا رہے ہیں۔

  20. خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں: سرفراز بگٹی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    Sarfraz Bugti

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات، اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا آپس میں کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بلوچستان حکومت شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔

    وہ پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر اظہارِ خیال کر رہے تھے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بعض اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ امن و امان کی صورتحال بلوچستان میں بھی سنگین ہے، لہٰذا اگر اسی بنیاد پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا ہے تو پھر بلوچستان میں کیوں نہیں نافذ کیا جا رہا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات اور دونوں صوبائی حکومتوں کے طرزِ عمل میں واضح فرق ہے۔ ان کے بقول آئین کے خالقین نے مختلف حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ آئینی دفعات شامل کی تھیں اور وفاق نے جو اقدام کیا ہے وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا گیا ہے، اس لیے اسے غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت اس اقدام کی حمایت کرتی ہے۔

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خطرات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم دہشت گردی سے نمٹنے اور حکومتی ذمہ داریاں ادا کرنے کے حوالے سے دونوں حکومتوں کے کردار میں نمایاں فرق ہے۔

    انھوں نے کہا، ’پورا پاکستان سن لے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا کوئی موازنہ نہیں۔‘

    وزیرِ اعلیٰ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا اقدام صرف امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے نہیں اٹھایا گیا بلکہ اس کے پس منظر میں حکومتی کردار سے متعلق سوالات بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے حکومتوں کو سکیورٹی اداروں کی معاونت، مؤثر قانون سازی اور مناسب بیانیہ تشکیل دینے میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کے لیے مختص فنڈز سے سوشل میڈیا ٹیمیں بنائی گئیں، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوتی ہیں۔

    سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھتی ہے اور اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، جبکہ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں ایسا رویہ نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی ماحول میں وفاق کے خلاف بیانات اور رویے بھی غور طلب ہیں۔

    انھوں نے اپنے حالیہ دورۂ سوئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ان کی موجودگی کے دوران دور دراز علاقوں میں دستی بم اور کریکر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان کے بقول اگر بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف اس لڑائی کو اپنی ذمہ داری نہ سمجھتی تو حالات مختلف ہو سکتے تھے، تاہم صوبائی حکومت اس چیلنج کا مقابلہ اپنی ذمہ داری سمجھ کر کر رہی ہے۔

    سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ بینظیر بھٹو، بشیر بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے کے قاتلوں کو واپس بلانے کی باتیں کون کر رہا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے تمام اراکین دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔