80 ہزار جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے عوام کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے: سہیل آفریدی

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے پاکستانی فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پی ٹی آئی تک محدود نہیں، بلکہ صوبے کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔

خلاصہ

  • رودریگیز نے وینزویلا کی عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔ پارلیمانی اجلاس کا آغاز معزول رہنما مادورو کی امریکی تحویل سے رہائی کے مطالبات سے ہوا
  • مادورو نے اپنے خلاف الزامات سے انکار کرتے ہوئے نیویارک کی عدالت کو بتاتا ہے کہ وہ ’جنگی قیدی‘ ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی نئی رہنما ڈیلسی رودریگیز کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ’صحیح کام نہیں کریں گی تو انھیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی، شاید مادورو سے بھی بڑی‘
  • وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنے ملک میں امریکی کارروائی پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے

لائیو کوریج

  1. 80 ہزار جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے عوام کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے: سہیل آفریدی

    Sohail Afridi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستانی فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔‘

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی طویل پریس کانفرنس پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کی اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔‘

    انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ’دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہدا اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ’یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔‘

    سہیل آفریدی نے مزید لکھا کہ ’اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔‘

    سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔‘

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزرا دہشت گردی کا نشانہ بنے، کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔‘

    ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔‘

    انھوں نے تجویز دی کہ ’دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔‘

  2. عمران خان کے بغیر کوئی مکالمہ آگے نہیں بڑھ سکتا: تحریک انصاف

    Imran Khan

    راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کی بات ’پانچ بڑوں‘ تک آگئی ہے تو اسے نا ہی سمجھا جائے۔

    پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے سوا پی ٹی آئی کا کوئی اور چیئرمین نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’رانا ثنااللہ نے پانچ بڑوں کے بیٹھنے کی جو بات کہی ہے، اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’مذاکرات کی آفر یہ ہے کہ عمران خان کو کال کوٹھری میں چھوڑ کر آؤ اور ہمارے ساتھ چائے پیو۔ بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی مکالمہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔‘

    بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ نہ تو یہ پانچ بڑے ملاقات کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ’جب ملاقاتیں ہی نہیں کرنے دی جاتیں تو مذاکرات کیسے آگے بڑھیں گے؟ ہم ہر منگل کو آتے ہیں اور بغیر ملاقات واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا ہے کہ عمران خان سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔ ملاقاتوں کو متنازع بنا کر بات کہاں سے آگے بڑھے گی؟‘

    انھوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے لوگوں کی بات پر وہ عوامی سطح پر کمنٹ نہیں کرتے۔ ’بھیک مانگنے کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ میرا مطلب یہ تھا کہ عدالت کے احکامات موجود ہیں، جو لوگ حالات کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی ستائش ہونی چاہیے۔ ایس او پیز اور قوانین موجود ہیں، اس کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اگر عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات نہیں دی جاتی تو یہ بھیک ہی ہے۔‘

  3. کوئٹہ میں وفاقی لیویز کے بزرگ ملازمین کی شدید سردی میں علامتی بھوک ہڑتال, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    Quetta

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وفاقی لیویز فورس سے تعلق رکھنے والے بزرگ ملازمین کا علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے، ایسے وقت میں جب شہر شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔

    کوئٹہ پریس کلب کے باہر لگائے گئے اس کیمپ میں شریک افراد کا تعلق بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ہے۔ کیمپ میں موجود لعل محمد مری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ تین سے چار دہائیوں تک وفاقی لیویز فورس میں خدمات انجام دیتے رہے، لیکن گذشتہ چار برس سے ان کی تنخواہیں بند ہیں۔

    Quetta

    ان کے مطابق وفاقی لیویز کے جن ملازمین کی تنخواہیں بند ہیں، ان کی تعداد 1500 سے زائد ہے اور یہ ملازمین بلوچستان کے 18 اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔

    لعل محمد مری نے بتایا کہ تنخواہوں کی بندش کے خلاف انھوں نے 2024 میں بھی کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ قائم کیا تھا، تاہم 27 فروری 2024 کو وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کر دیا گیا، لیکن مسئلہ حل نہ ہو سکا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ پھر شدید سردی میں احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں تاکہ ان کی آواز سنی جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بند تنخواہیں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں پینشن یا گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے۔

  4. پاکستانی فوج کے ترجمان کے افغانستان سے متعلقہ بیانات ذمہ دار عسکری منصب کے تقاضوں سے متصادم ہیں، ترجمان افغان طالبان

    Pak, Afghan

    ،تصویر کا ذریعہReuters/ISPR

    افغان طالبان نے پاکستانی فوج کے ترجمان کے حالیہ بیانات کو ’غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کے حکومتی اور سماجی ڈھانچے پر کی گئی تنقید حقائق کے منافی ہے اور ایک ذمہ دار عسکری منصب کے تقاضوں سے بھی متصادم ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ امارت اسلامیہ افغانستان اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتی ہے اور پاکستان کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ افغانستان کے خلاف ’بے بنیاد پروپیگنڈے‘ کے بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق افغانستان ایک خودمختار اور مستحکم ملک ہے، جو مضبوط سکیورٹی ڈھانچے اور مقتدر قیادت کا حامل ہے اور اپنی پوری سرزمین پر مکمل حاکمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور دھمکی آمیز زبان افغان عوام کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔‘

    امارت اسلامیہ نے پاکستان کے اداروں پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں اور سنجیدہ بیانات دیں۔

  5. فوج کے ترجمان کی عمران خان پر تنقید: ’انھوں نے اپنی جماعت کو ڈکٹیٹر کی طرح چلایا اور پوری حکومت بھی ان کے گرد ہی گھومتی تھی‘

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے اپنی جماعت کو ایک ڈکٹیٹر کی طرح چلایا، پوری جماعت اس ایک بندے کے گرد گھومتی تھی اور اس وقت پوری حکومت بھی ان کے گرد ہی گھومتی تھی۔‘

    ’اس وقت بھی ان کو تھا کہ بات چیت کرو، بات چیت کرو اور وہ جس چیز کے پیچھے پڑ جاتا ہے، پڑ جاتا ہے۔ جو اس وقت ڈی جی آئی تھے، وہ اس وقت کدھر ہیں، جن کو انھوں نے اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ آپ اسے ادارے پر نہیں لگا سکتے یہ شخصیات کا کھیل تھا۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان کے دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’بھئی وہ وزیراعظم تھا، وہ با اختیار وزیراعظم تھا۔ جو بعد میں کہتا ہے میرے پاس تو کوئی اختیار نہیں تھا۔ وہ اتنا با اختیار وزیراعظم تھا کہ اس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کر دیا تھا۔ اتنا اختیار تو سنہ 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈیکلیئر کر دے۔‘

    ’ہمیں تو یہ ہی پتا ہے کہ قوم کا ایک ہی باپ ہے قائد اعظم محمد علی جناح، وہ عظیم شخصیت جس نے ملک بنایا۔ اور قوم کا ایک ہی شاعر ہے، علامہ اقبال اور ہم تو ان کو ہی پڑھ کر آئے تھے۔ یہ قوم کا ایک نیا باپ لے کر آ گئے تھے کیونکہ اس وقت ان کی سیاست یہ ہی ڈیمانڈ کرتی تھی۔‘

    جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ ’وہ جو ابھی بھی بیٹھ کر کہتے ہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ ابھی بھی کہتے ہیں کہ بات چیت سے مسئلہ حل کرو، وہ جو خبط ادھر تھا وہ خبط ابھی بھی ہے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کو ان طالبان یا دہشتگردوں سے کیا محبت ہے۔ آپ کو ان کے گمراہ کن نظریات سے کیا محبت ہے۔ کس کے کہنے پر آپ پورے صوبے کو تو جھونک چکے ہیں اور اب پورے ملک کو اس آگ میں جھونک رہے ہیں، جس کا ایندھن آپ کے بچے بن رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں پر ترقی نہیں ہو رہی، کاروبار نہیں آ رہا۔ وہاں پر لوگ محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔‘

  6. آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر کی خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید

    آئی ایس پی آر

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے کئی وزرا کے کئی ویڈیو کلپس بھی چلائے، جن میں صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت متعدد وزرا مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے‘۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے، اپنے سہولت کار کے لیے، پتہ نہیں کس کی سہولت کاری کے لیے، اپنے صوبے کو، اپنے علاقے کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔‘

    پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی ایک ٹویٹ کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کئی غیور سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے خلاف کھڑی ہوئیں۔

    ’انھوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں لیکن یہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم مرنے کو تیار نہیں۔ ہم نہیں کھڑے ہوں گے۔ ہم ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔‘

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ کبھی ان فتنہ الخوارج، ان دہشتگردوں نے ان پر حملہ کیوں نہیں کیا۔ ہر سیاسی جماعت کے عمائدین اور سیاسی رہنماؤں پر حملے ہوئے۔ چاہے وہ اے این پی ہو، جے یو آئی ہو، چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو، چاہے وہ نون لیگ ہو۔ حملہ ہوا یا نہیں ہوا؟ ان (پی ٹی آئی) پر کیوں نہیں کرتے۔‘

  7. گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے: ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔

    منگل کے روز صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے گذشتہ برس میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ برس پاکستانی فوج نے دہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس ملک بھر میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر 75 ہزار آپریشنز کیے گئے اور دہشتگردی کے 5400 واقعات ہوئے جبکہ 1235 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوئے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ گذشتہ برس 2597 دہشتگرد بھی مارے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے اور تمام دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں اور وہاں ان کی پرورش کی جا رہی ہے۔‘

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جعفر ایکسپریس، ایف سی ہیڈکوارٹرز بنوں، کیڈٹ کالج وانا سمیت دہشتگردی کے دیگر حملوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ گذشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان پوری دنیا کے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہاں پر پوری دنیا سے دہشت گردوں کے لیے آماجگاہ بن چکی ہے۔ القاعدہ، داعش وہاں ہیں، بی ایل اے بھی وہیں ہے۔ شام سے بھی ڈھائی ہزار غیر ملکی دہشتگرد افغانستان پہنچے ہیں جو وہاں لڑ رہے تھے۔‘

  8. 27ویں آئینی ترمیم: پاکستان میں صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دیے جانے پر ایمنسٹی نے کیا کہا؟

    پاکستان میں صدر اور فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دیے جانے پر ایمنسٹی نے کیا کہا؟

    ،تصویر کا ذریعہPID/AFP

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نومبر 2025 کے دوران منظور ہونے والی 27 آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی، فیئر ٹرائل کے حق اور قانون کی عملداری پر حملہ ہے۔

    ایک بیان میں اس کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے عدلیہ کی آزادی کمزور ہو گی جبکہ تاحیات استثنیٰ کے ذریعے حکام احتساب سے محفوظ رہیں گے۔

    ایمنسٹی نے آئینی ترمیم پر فوری نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ججز کی غیر جانبداری، آزادی اور تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ بغیر کسی مداخلت کے اپنا کام کر سکیں۔

    ایمنسٹی کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم پر اٹھائے گئے اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قانون سازی جلد بازی میں کی گئی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کا مسودہ 8 نومبر کو کابینہ سے منظوری کے فوراً بعد سینیٹ میں پیش کیا گیا جبکہ اسے 13 نومبر کو قومی اسمبلی نے بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا اور اسی دن صدر نے اس پر دستخط کر دیے۔

    ایمنسٹی کا کہنا تھا کہ اس کے لیے سول سوسائٹی سے مشاورت نہیں کی گئی جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے اس میں محض معمولی تبدیلیاں کی تھیں۔

    اس کے مطابق آئینی ترمیم ایک ایسے وقت میں منظور کی گئی جب دونوں پارلیمانی ایوانوں کے اپوزیشن رہنما نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔ اس بیان میں تحریک انصاف کو بلے کا انتخابی نشان اور مخصوص نشستیں نہ دیے جانے کا بھی ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ پارلیمان میں آئینی ترمیم کو ملنے والی حمایت متنازع ہے۔

    ایمنسٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور فلیٹ ایڈمرل کو تاحیات استثنیٰ دی گئی ہے۔

    ایمنسٹی کے مطابق یہ برابری کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ’عالمی قانون کے مطابق سرکاری اہلکاروں کو استثنیٰ دینے کی اجازت ہے لیکن اس میں حدیں متعین ہیں، خاص کر جنگی جرائم اور بڑی خلاف ورزیوں کی صورت میں۔‘

    اس نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’ایسے اہم عہدوں کے لیے تاحیات اور وسیع استثنیٰ غیر محدود اور من مانے اختیارات کے استعمال اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کیے جانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔‘

  9. تین ہفتوں سے انڈیا میں روسی خام تیل کی کوئی کھیپ وصول نہیں کی: ریلائنس انڈسٹریز

    ریلائنس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی نجی ریفائنری ریلائنس انڈسٹریز نے منگل کو کہا ہے کہ اسے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران روس سے خام تیل کی کوئی بھی کھیپ موصول نہیں ہوئی ہے جبکہ جنوری میں بھی کوئی کھیپ نہیں آئے گی۔

    ایکس پر پیغام میں ریلائنس انڈسٹریز نے بلومبرگ کی اس رپورٹ کی تردید کی ہےجس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روسی تیل سے لدے تین جہاز جام نگر ریفائنری کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔

    ریلائنس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہمیں اس بات پر گہرا دکھ ہے کہ وہ ادارے جو خود کو غیر جانبدار صحافت کے علمبردار قرار دیتے ہیں، انھوں نے جنوری میں ریلائنس انڈسٹریز کے اس بیان کو نظرانداز کیا جس میں روسی تیل کی کسی بھی خریداری کی تردید کی گئی تھی اور ایک جھوٹی رپورٹ شائع کر دی جس سے ہماری ساکھ کو نقصان پہنچا۔‘

    پیر کو ٹرمپ کے ساتھ ایئر فورس ون میں موجود امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے انڈیا کی جانب سے روس سے تیل خریدنے پر ردعمل دیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ انڈیا کے بارے میں ٹرمپ کے اختیار کیے گئے رویے کی وجہ سے آج انڈیا روس سے بہت کم تیل خرید رہا ہے۔‘

    ایئر فورس ون میں گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ (انڈیا اور روس) ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کرتے ہیں‘ اور اگر انڈیا ’ہماری بات نہیں مانتا تو ہم بہت جلد ان پر ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔‘

    امریکہ اس سے قبل ہی انڈیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر چکا ہے جن میں سے 25 فیصد ٹیرف روس سے تیل خریدنے کی ’سزا‘ کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔

  10. فیض حمید کے بھائی پر جعلی دستاویزات کے ذریعے اراضی منتقل کرنے کا الزام

    نجف حمید

    ،تصویر کا ذریعہذریعہFACEBOOK

    پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے خلاف مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کے ذریعے اراضی منتقل کرنے پر مقدمہ درج کیا ہے۔

    ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سیل کی جانب سے درج کیے گئے اس مقدمے میں اسلام آباد کے سابق حلقہ پٹواری نجف حمید کے علاوہ ریونیو افسر عبدالظہور اور خالد منیر نامی شہری کو نامزد کیا گیا ہے۔

    ان افراد پر الزام ہے کہ 2009 اور 2010 کے دوران موضع پنڈ پڑیاں میں ایک کنال اراضی کے جعلی دستاویزات بنائے گئے تھے۔

    مقدمے کے متن کے مطابق شکایت کنندہ ملازم حسین کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے 2022 کے دوران پنڈ پڑیاں کے حلقہ پٹواری سے اپنی ایک کنال اراضی کی فرد ملکیت مانگی تو انھیں معلوم ہوا کہ ملزمان نے ایک کنال کی بجائے انھیں 10 مرلہ رقبے کی اراضی دی ہے۔ شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے نام پر جعلی رجسٹری جاری کی گئی۔

    تاحال اس الزام پر نجف حمید سمیت دیگر ملزمان نے اپنا موقف نہیں دیا ہے۔

  11. سلامتی کونسل کا اجلاس: روس اور چین کی وینزویلا میں امریکی کارروائی کی مذمت، پاکستان کا محتاط موقف

    سلامتی کونسل

    ،تصویر کا ذریعہUN

    اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کے روز وینزویلا میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ وینزویلا پر قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

    اقوامِ متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں اس وقت اجلاس منعقد کیا جب مادورو کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

    اپنے بیان میں گوتریس نے کہا کہ ’مجھے ملک میں ممکنہ طور پر عدم استحکام میں شدت، اس کے خطے پر ممکنہ اثرات اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے قائم ہونے والی مثال پر گہری تشویش ہے۔‘

    جبکہ اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکہ نے ’امریکی فوج کی معاونت سے ایک محدود اور قانون نافذ کرنے کی کارروائی‘ کے ذریعے دو مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جن میں مادورو اور ان کی اہلیہ شامل ہیں۔

    والٹز نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وینزویلا یا اس کے عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔ ہم کسی ملک پر قبضہ نہیں کر رہے۔‘

    اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے سفیر نے مادورو کو پکڑنے کی امریکی کارروائی کو ’ایک غیر قانونی مسلح حملہ‘ کہا جس کی ’قانونی توجیہ موجود نہیں۔‘

    اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق رکن ممالک کو بین الاقوامی تعلقات میں کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنا چاہیے۔

    امریکہ نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا ہے جس کے تحت کسی رکن ملک پر مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی دفاع کے فطری حق کو متاثر نہیں کیا جا سکتا۔

    روس، چین اور کولمبیا نے امریکی فوجی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ غیر مستقل رکن پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے دیگر ارکان نے براہِ راست امریکہ پر تنقید کرنے کے بجائے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔

    اقوامِ متحدہ میں روسی سفیر نے کہا کہ ’وہی ممالک جو دیگر مواقع پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں پر چیختے چلاتے نظر آتے ہیں، آج اصولی موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں جو خاصی منافقت کا مظہر ہے۔‘

    قابلِ ذکر ہے کہ اقوامِ متحدہ نے خود روس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کی وجہ سے مذمت کا نشانہ بنایا تھا۔

    کولمبیا، جس نے پیر کے روز ہونے والے اجلاس کی درخواست دی تھی، نے امریکی کارروائی کو وینزویلا کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ روس، چین اور وینزویلا نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے۔

    تاہم امریکہ کو سلامتی کونسل کے ذریعے کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی پر جوابدہ نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ سلامتی کونسل میں امریکہ کو روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جس کے ذریعے وہ کسی بھی کارروائی کو روک سکتا ہے۔

    پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون

    ،تصویر کا ذریعہUN

    ،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون

    پاکستان کا موقف: ’یکطرفہ فوجی کارروائی سے خطرناک مثال قائم ہوئی‘

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران پاکستان نے وینزویلا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

    پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے نئے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔‘

    عثمان جدون کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کا واحد حل مکالمہ اور سفارت کاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان وینزویلا میں حالیہ پیش رفت کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اقوامِ متحدہ کا منشور ہمیں اس امر کا پابند بناتا ہے کہ ہم کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے باز رہیں۔۔۔ یہ منشور رکن ممالک کو خودمختار مساوات، دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کا بھی پابند کرتا ہے۔‘

    عثمان جدون نے کہا کہ ’یکطرفہ فوجی کارروائی ان مقدس اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے نظریے کی خلاف ورزی ہے۔‘

    ’اس طرح کے اقدامات خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔‘

    عثمان جدون کا کہنا تھا کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہونا چاہیے۔ ’سیاسی اختلافات کا پائیدار حل صرف پُرامن ذرائع سے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں، پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دیں، کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس نازک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتا ہو، اور خلوصِ نیت سے پیش کی گئی ثالثی کی پیشکشوں سمیت مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔‘

  12. بلوچستان میں انتظامی افسران کو جسٹس آف پیس مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن معطل, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    بلوچستان ہائیکورٹ

    ،تصویر کا ذریعہبلوچستان ہائی کورٹ

    بلوچستان ہائیکورٹ نے انتظامی افسران کو جسٹس آف پیس مقرر کرنے کے حکومت بلوچستان کے نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا ہے۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے انتظامی افسران کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 22 کے تحت 30 دسمبر کو جسٹس آف پیس مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔

    بلوچستان بار کونسل کی جانب سے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی راحب بلیدی ایڈووکیٹ نے اس حکم کو بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کامران ملاخیل اور جسٹس گل حسن کاسی نے درخواست کی سماعت کی۔

    درخواست گزار کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت بلوچستان نے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے تمام ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ان کے متعلقہ انتظامی حدود میں ضابطۂ فوجداری کی دفعات 22اے اور 22بی کے تحت جسٹس آف پیس مقرر کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ نوٹیفیکیشن ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی منظوری کے بغیر یکطرفہ طور پر جاری کیا گیا، جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175(3) کے تحت عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی کے اصول کے منافی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 202 اور 203 اور ضابطۂ فوجداری کے سیکشن 25 کے تحت سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز پہلے ہی جسٹس آف پیس کے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس لیے ایگزیکٹو افسران کو یہ اختیارات دینا آئینی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہے۔

    درخواست گزاروں کے مطابق اگرچہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 22 حکومت کو جسٹس آف پیس کی تقرری کا اختیار دیتی ہے۔ تاہم یہ اختیار واضح قواعد و ضوابط بنانے سے مشروط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بغیر کسی قانونی فریم ورک کے محض ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے عدالتی اختیارات ایگزیکٹو افسران کو منتقل کر کے متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی ہے، جو عدلیہ کی آزادی کے بنیادی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔

    عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ اٹھائے گئے قانونی نکات مزید غور طلب ہیں۔

    عدالت نے حکومت بلوچستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک محکمہ داخلہ کے انتظامی افسران کو جسٹس آف پیس مقرر کرنے کے نوٹیفیکیشن کو معطل کر دیا۔

  13. وینزویلا کے رہنما مادورو کی معزولی کی پیشگوئی کر کے ایک شخص نے لاکھوں ڈالر کیسے کمائے؟

    پولی مارکیٹ

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایک شخص نے وینزویلا کے صدر کی معزولی کی شرط لگا کر قریب پانچ لاکھ ڈالر کمائے ہیں۔ مگر اس پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا انھیں امریکی آپریشن کے حوالے سے ’انسائیڈر‘ معلومات حاصل تھیں۔

    کرپٹو کرنسی کے پلیٹ فارم پولی مارکیٹ پر اس حوالے سے شرط لگائی جا رہی تھی کہ آیا مادورو کو جنوری کے آخر تک اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا۔ یہ شرط ٹرمپ کے اس اعلان سے کچھ ہی گھنٹے پہلے لگائی گئی تھی جس میں انھوں نے ہفتے کے روز مادورو کو پکڑنے کا اعلان کیا تھا۔

    ایک اکاؤنٹ نے گذشتہ ماہ ہی پلیٹ فارم جوائن کیا تھا اور اس نے چار پوزیشنیں لیں۔ یہ تمام شرطیں وینزویلا سے متعلق تھیں اور اس نے 32,537 ڈالر کی شرط لگا کر 436,000 ڈالر جیت لیے۔

    یہ غیر واضح ہے کہ اس پلیٹ فارم پر سب سے پہلے شرط کس نے لگائی تھی۔ بلاک چین پر ایک نامعلوم اکاؤنٹ کی شناخت صرف کچھ نمبرز اور لیٹرز پر مشتمل ہے۔

    پولی مارکیٹ کے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ 2 جنوری کو مادورو کی معزولی کے امکانات صرف 6.5 فیصد تھے۔ مگر یہ امکانات رات گئے 11 فیصد ہو گئے۔ ان میں 3 جنوری کی صبح مزید تیزی آئی جب ٹرمپ نے مادورو کو امریکی آپریشن میں پکڑے جانے کی تصدیق کی۔

    پولی مارکیٹ نے ان سوالات پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

    تجزیہ کار ڈینس کیلہر نے سی بی ایس کو بتایا کہ ’اس شرط کے تمام پہلو انسائیڈر انفارمیشن کا اشارہ دیتے ہیں۔‘

    پولی مارکیٹ پر کچھ دیگر صارفین نے بھی مادورو کے پکڑے جانے پر لاکھوں ڈالر کمائے ہیں۔ اس معاملے پر امریکہ کے کچھ قانون سازوں نے بھی تبصرہ کیا ہے۔

    نیو یارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس رچی ٹوریس نے تمام سرکاری ملازمین پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر مارکیٹس میں شرط لگانے پر پابندی عائد کرنے کے لیے ایک بل پیش کیا ہے۔

    امریکہ میں حالیہ برسوں کے دوران پیش گوئی پر مبنی مارکیٹس کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پولی مارکیٹ اور کالشی جیسی کمپنیاں صارفین کو کھیلوں سے لے کر سیاست تک مختلف نتائج پر شرط لگانے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔

    اس شعبے کی صفِ اوّل کی کمپنیوں نے 2024 کے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج پر سینکڑوں ملین ڈالر کی شرطیں حاصل کیں۔

    بائیڈن انتظامیہ کے دور میں اس صنعت کو ضابطہ کار اداروں کی جانب سے کڑی جانچ پڑتال کا سامنا رہا۔ تاہم ٹرمپ کے دورِ صدارت میں اسے نسبتاً خوش آمدید کہا گیا ہے۔

    صدر کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کالشی اور پولی مارکیٹ میں مشاورتی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    سٹاک مارکیٹ میں اندرونی معلومات کی بنیاد پر لین دین (انسائیڈر ٹریڈنگ) غیر قانونی ہے۔ تاہم پیش گوئی کی مارکیٹس میں قواعد و ضوابط نسبتاً نرم ہیں۔

    کالشی کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ پیش گوئی کی ویب سائٹ ’واضح طور پر ہر قسم کی انسائیڈر ٹریڈنگ کی ممانعت کرتی ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی جانب سے حکومتی سرگرمیوں سے متعلق پیش گوئی مارکیٹس میں تجارت بھی شامل ہے۔‘

  14. وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو: ’ٹرمپ نے انسانیت کے لیے بڑا قدم اٹھایا‘

    ماریا کورینا ماچاڈو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنے ملک میں امریکی کارروائی پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں ماچاڈو نے وینزویلا کے عوام کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ قانون کی بالادستی برقرار رکھنے میں ان کی ’سختی اور عزم‘ پر شکر گزار ہیں۔

    ماچاڈو نے کہا کہ ’وینزویلا کی آزادی قریب ہے اور ہم بہت جلد جشن منائیں گے۔‘

    بعد ازاں فاکس نیوز کو ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ مادورو نے ’نظام اور الیکشن کونسل پر مکمل کنٹرول‘ حاصل کر رکھا تھا جس کے باعث وینزویلا میں آزاد اور شفاف انتخابات کرانا ناممکن ہو چکا تھا۔ تاہم ان کے مطابق ’اس سب کے باوجود ہم نے انھیں بھاری اکثریت سے شکست دی تھی۔‘

    ماچاڈو نے کہا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ نوبیل امن انعام کے اصل حقدار تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے وینزویلا میں اپنے اقدامات سے یہ بات دنیا کے سامنے ثابت کی ہے جو کہ ’انسانیت کے لیے ایک بڑا قدم‘ ہے۔

    اپوزیشن رہنما نے ایک بار پھر کہا کہ وہ ٹرمپ کے اقدامات پر ’انتہائی شکر گزار‘ ہیں۔ ماچاڈو نے مزید کہا کہ وہ ’جلد از جلد‘ وینزویلا واپس جانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔

    وینزویلا کی اپوزیشن رہنما کئی ماہ سے روپوش ہیں۔ ان کے مطابق جب ملک واپس جانا غیر محفوظ تھا تو یہ حکمتِ عملی ’زیادہ مؤثر‘ ثابت ہوئی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وینزویلا میں ’14 صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘ ماچاڈو کا کہنا تھا کہ عبوری صدر رودریگیز پر ’بھروسہ نہیں کیا جا سکتا‘۔

  15. وینزویلا میں رودریگیز نے بطور عبوری صدر حلف اٹھا لیا: ’ہمیں غیر قانونی فوجی جارحیت کا سامنا ہے‘

    وینزویلا، رودریگیز، مادورو

    ،تصویر کا ذریعہReuters/Getty Images

    وینزویلا میں پارلیمانی اجلاس کے دوران ڈیلسی رودریگیز نے عبوری صدر کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔ اس اجلاس کا آغاز معزول رہنما مادورو کی امریکی تحویل سے رہائی کے مطالبات سے ہوا۔ 56 سالہ رودریگیز نے کہا کہ انھیں مادورو اور ان کی اہلیہ کے مبینہ ’اغوا‘ پر شدید دُکھ ہے۔

    وہ 2018 سے نائب صدر کے عہدے پر فائز رہی ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکہ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے توانائی کے ذخائر ’انصاف سے فرار‘ رہنما کے ہاتھوں میں چھوڑے نہیں جا سکتے۔

    مادورو کی عدالتی پیشی سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وینزویلا کی صورتحال پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔

    وینزویلا کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک ایک ’غیر قانونی، مسلح حملے‘ کا نشانہ بنا ہے جس کی کوئی قانونی توجیہ موجود نہیں۔

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے مادورو کو ’نام نہاد‘ اور ’غیر قانونی‘ صدر قرار دیتے ہوئے امریکی کارروائی کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے مادورو کی گرفتاری کے لیے ایک ’محدود‘ اور ’قانون نافذ کرنے کی کارروائی‘ انجام دی۔

    اتوار کے روز ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر رودریگیز نے درست راستہ اختیار نہ کیا تو انھیں ’مادورو سے بھی زیادہ بڑی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔‘

    کابینہ کے اجلاس کے دوران رودریگیز نے عندیہ دیا کہ ان کی حکومت امریکہ کے ساتھ محدود تعاون پر آمادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مشترکہ ترقی پر مبنی تعاون کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ کام کرے۔‘

    حلف برداری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے رودریگیز نے کہا کہ انھوں نے یہ عہدہ ’درد کے ساتھ‘ سنبھالا ہے کیونکہ ملک کو ’غیر قانونی فوجی جارحیت‘ کا سامنا ہے۔

    انھوں نے ملک میں امن اور معاشی و سماجی استحکام لانے کا وعدہ کیا۔

    اجلاس کے دوران مادورو کے بیٹے نے بھی خطاب کیا اور اپنے والدین کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’وینزویلا واپس آئیں گے۔‘

    انھوں نے رودریگیز کے لیے بھی ’غیر مشروط حمایت‘ کا اعلان کیا۔

    وینزویلا کے ہزاروں شہری وفاقی قانون ساز اسمبلی کے باہر جمع ہوئے تھے تاکہ مادورو، ان کی اہلیہ اور عبوری صدر سے اظہارِ یکجہتی کر سکیں۔

  16. میری موکل کو شدید چوٹیں آئی ہیں: مادورو کی اہلیہ کے وکیل کا الزام

    سیلیا فلوریس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وینیزویلا کے معزول صدر کی اہلیہ سیلیا فلوریس کے وکیل مارک ای ڈونلی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی مؤکل کو وینیزویلا میں گرفتار ہونے پر ’شدید چوٹیں‘ لگی ہیں۔

    بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق فلوریس کو عدالت میں نمایاں نیلوں کے ساتھ دیکھا گیا۔

    ڈونلی نے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی پسلیوں پر فریکچر یا شدید چوٹ ہے اور جج نے پراسیکیوٹرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ مناسب علاج کو یقینی بنائیں۔

    ڈونلی نے بی بی سی کو دیے گئے بیان میں کہا ’ہماری مؤکل کے حوصلہ بلند ہیں۔ ہم حکومت کے پاس موجود شواہد کا جائزہ لینے اور چیلنج کرنے کے منتظر ہیں۔ اگرچہ ہم ابھی اپنا موقف پیش کرنا چاہیں گے، ہم مناسب وقت پر عدالت میں پیش کرنے کا انتظار کریں گے۔ خاتون اوّل جانتی ہیں کہ آگے ایک طویل راستہ ہے اور وہ تیار ہیں۔‘

  17. میں اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہوں، جسے اس کے گھر سے پکڑا گیا: مادورو, میڈلین ہالپرٹ، نیویارک کی عدالت سے رپورٹنگ

    وینز ویلا کے معذول صدر مادورو اور ان کی بیوی کی پیشی آج ڈرامائی لمحات کے ساتھ شروع اور ختم ہوئی۔

    مادورو کی ٹانگوں کی زنجیروں کی آواز عدالت میں داخل ہونے سے پہلے سنائی دی، جہاں انھوں نے مڑ کر سر ہلایا اور سامعین میں موجود کئی لوگوں کو ’بونوس دیاس‘ کہا۔

    سب سے زیادہ کشیدہ لمحہ عدالت کے اختتام پر آیا، جب عوام میں سے ایک شخص نے مادورو پر ہسپانوی زبان میں چیخنا شروع کیا کہ وہ اپنے کیے کی سزا ’بھگتیں گے۔‘

    مادورو نے ان کی طرف رخ کیا اور ہسپانوی میں جواب دیا کہ وہ ’اغوا شدہ صدر‘ اور ’جنگی قیدی‘ ہیں۔

    اس کے بعد انھیں ان کی بیوی کے پیچھے زنجیروں میں جکڑ کر عدالت کے پچھلے راستے دروازے سے باہر لے جایا گیا۔

    یہ واحد لمحہ نہیں تھا جب 40 منٹ کی سماعت کے دوران مادورو نے، جو ایک نیلا اور ایک روشن نارنجی شرٹ پہنے ہوئے تھے، اپنی بے گناہی کا اظہار کیا۔

    جج نے ان سے درخواست کی کہ سماعت کے آغاز میں تصدیق کریں کہ وہ واقعی نکولس مادورو ہیں۔

    عام طور پر، ملزم مختصر جواب دیتا ہے کہ وہ کون ہے، لیکن مادورو نے موقع پا کر بھرے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ وینزویلا کا صدر ہیں جنھیں اغوا کیا گیا ہے۔

    انھوں نے پرسکون ہسپانوی لہجے میں کہا ’مجھے میرے گھر کاراکس، وینزویلا میں پکڑا گیا۔‘

    جج نے مداخلت کی اور کہا کہ اس کے لیے بہتر ’وقت اور جگہ‘ ہوگی کہ وہ یہ بات شیئر کریں۔

  18. میں اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں: مادورو کا عدالت میں موقف

    مادورو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق، مادورو نے نیو یارک کی عدالت کو بتاتا ہے کہ وہ وینزویلا کے رہنما ہیں۔

    ’میں بے قصور ہوں۔ میں قصوروار نہیں ہوں۔ میں ایک شریف آدمی ہوں، اپنے ملک کا صدر۔‘

    انھوں نے عدالت میں ایک مترجم کے ذریعے بات کی۔

    وینیز ویلا کے معذول صدر کی کی اہلیہ سیلیا فلورز نے بھی اپنے خلاف منشیات کی سمگلنگ اور ہتھیاروں کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

    متعدد امریکی میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ مادورو کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا مؤکل ضمانت پر رہا ہونے کی کوشش نہیں کر رہا، لیکن وہ بعد میں رہائی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، کیس کی اگلی سماعت 17 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔ جس میں جج نے مادورو کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

  19. بریکنگ, مادورو کی پیروں میں بیڑیوں کے ساتھ جیل کی وردی میں عدالت آمد

    وینز ویلا کے معزول صدر مادورو کی امریکہ میں عدالت میں پیشی کے موقع پر کمرہِ عدالت کے اندر کیمروں کی اجازت نہیں ہے، تاہم کچھ رپورٹرز کو نوٹس بھیجنے کی اجازت ہے، جن میں بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنرز سی بی ایس بھی شامل ہیں۔

    سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، مادورو ابھی نیو یارک سدرن ڈسٹرکٹ کورٹ میں جیل یونیفارم پہنے ہوئے داخل ہوئے ، ان کے پیر بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

    ان کی اہلیہ سیلیا فلورس، بھی جیل کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔

    مادورو اور فلوریس کے ہاتھ زنجیروں میں بندھے نہیں ہیں، مادورو نے اپنے وکیل سے ہاتھ ملایا۔

    اس موقعے پر مادورو نے نیو یارک کی عدالت میں کہا کہ وہ بے گناہ ہیں۔

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مادورو نے خود پر لگے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔

    فرد جرم میں چار الزامات درج تھے، جن میں منشیات، دہشت گردی کی سازش اور مشین گنوں اور تباہ کن آلات کی ملکیت شامل ہے۔

  20. مجھے نہیں لگتا کہ میکسیکو میں امریکی مداخلت کا کوئی امکان ہے: صدر کلاڈیا شینبام

    میکسیکو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انھیں نہیں لگتا کہ ان کے ملک میں امریکی مداخلت کا کوئی امکان ہے۔ انھوں نے نکولس مادورو کی گرفتاری کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کسی بھی نظریے یا طاقت کا نہیں بلکہ یہ عوام کا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ میکسیکو منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون کے لیے تیار ہے، لیکن کسی قسم کی ماتحتی یا مداخلت قبول نہیں کرے گا۔

    اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’میکسیکو کے ساتھ کچھ کرنا پڑے گا‘، تاہم شینبام کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ امریکہ اس معاملے کو ’سنجیدگی سے لے رہا ہے‘۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے امریکی فوج کے میکسیکو میں داخل ہونے کے خیال کو ’بہت سختی سے‘ مسترد کر دیا ہے۔