یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
20 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
خیبر پختونخوا میں لوڈ شیڈنگ کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور نیشنل گرڈ کے دورے کے موقع پر علی امین گنڈا پور نے وفاق کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر نیشنل گرڈ کی بجلی کم کی تو نیشنل گرڈ والا بٹن بھی میرے ہاتھ میں ہے میں وہ بٹن بھی بند کر دوں گا‘۔
بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
20 جون کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔
دونوں نے خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر 2 روز میں مشاورت اور مذاکرات پر اتفاق کیا اور کہا کہ افہام و تفہیم سے باہمی غلط فہمیاں دور کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے اپنے تحفظات سے وزیرداخلہ محسن نقوی کو آگاہ کیا۔ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا نے وزیرِ داخلہ کو گرڈ سٹیشنز کی حفاظت اور تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پوری کوشش ہے کہ خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ جلد حل ہو اور تمام وفاقی تنصیبات کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا تنازع شدت اختیار کر گیا اور صوبائی وزیر کے بعد وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور بھی بجلی بحال کرنے خود گرڈ سٹیشن پہنچ گئے تھے۔
گرڈ سٹیشن کے دورے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام پارلیمنٹیرینز اپنے اپنے علاقوں میں گرڈ سٹیشنز کا دورہ کرکے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے شیڈول پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

،تصویر کا ذریعہKPK CM Office
صوبہ خیبر پختونخوا میں لوڈ شیڈنگ کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور گذشتہ روز کے بیانات کے بعد آج وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور خود گرڈ سٹیشن پہنچ گئے جہاں پر وزیراعظم شہباز شریف اور توانائی کے وزیر اویس لغاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ بٹن ہے، اور دیکھ لیں یہ میرے ہاتھ میں ہے، اور اگر نیشنل گرڈ کی بجلی کم کی تو نیشنل گرڈ والا بٹن بھی میرے ہاتھ میں ہے اور میں وہ بٹن بھی بند کر دوں گا پھر پورا پاکستان جانے اور آپ جانیں۔‘
علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ اب کسی بھی علاقے میں 12 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا ہے میں نے کینٹ کی لوڈ شیڈنگ بھی 8 سے 12 گھنٹے کر دی ہے تاکہ سب پر برابر کا بوجھ رہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزیر اعلی نے خود لوڈ شیڈنگ کا شیڈول تیار کیا ہے۔
گرڈ سٹیشن کے دورے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام پارلیمنٹیرینز اپنے اپنے علاقوں میں گرڈ سٹیشنز کا دورہ کرکے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے شیڈول پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے کے سی سی آئی سے منظور شدہ 1600 ارب کے واجبات نہیں دیے جا رہے، جتنا وفاق کا بجٹ پیش کیا گیا اس سے زیادہ پیسہ ہمارا نیٹ ہائیٹرو پرافٹ کا واجب الدا ہے۔
انھوں نے صوبے کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کسی نے واپڈا کے اثاثوں کو نقصان نہیں پہنچانا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے آئی جی خیبر پختونخوا کو بتا دیا ہے کہ پولیس واپڈا کے کہنے پر کسی بندے کے خلاف آیف آئی آر نہیں کرے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں حق بھی نہیں مل رہا اور ہمارے ساتھ زیادتی بھی ہو رہی ہے مگر آپ نے حق کے ساتھ دینا ہے اور جو میں کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہsocial media
صوبہ خیبر پختونخوا کی تحصیل لنڈی کوتل میں قتل ہونے والے صحافی خلیل جبران کی نماز جنازا ادا کر دی گئی ہے۔
گذشتہ رات علاقہ مزرینہ سلطان خیل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے صحافی خلیل ہلاک جبکہ ان کے ساتھی ایڈووکیٹ سجاد شنواری زخمی ہوگئے تھے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور، گورنر اور وزیر اطلاعات سمیت ڈی جی انفارمیشن اور ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے صحافی خلیل جبران کے قتل کی مذمت کی ہے۔
لنڈی کوتل سے مقامی صحافی ولی خان شنواری نے بتایا ہے کہ مقامی سطح پر اس واقعہ پر سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے-
صحافی خلیل جبران کے قتل کے بعد آج خیبر پختونخوا کے مقامی صحافیوں نے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ اس واقعہ کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا اور جمعہ کے روز باب خیبر جمرود میں پشاور اور دیگر شہروں سے صحافی پہنچیں گے جہاں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
صحافتی تنظیموں نے سوگ کا اعلان کیا ہے اور حکومت سے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہsocial media

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ خیرات سے سکول اور ہسپتال تو چل سکتے ہیں لیکن ملک نہیں اگر اس ملک نے ترقی کرنی ہے تو سب کچھ نجی شعبے کے حوالے کرنا پڑے گا۔
پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کچھ اصول اور قواعد کی بات کی تھی، ان کو دہرانا چاہوں گا، پہلی بات یہ ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9.5 فیصد ہے، یہ مستحکم نہیں رہ سکتی اس لیے بار بار کہتا ہوں کہ خیرات سے سکول، یونیورسٹیاں اور ہسپتال تو چل سکتے ہیں، ملک صرف ٹیکس سے چل سکتے ہیں اور اگر ملک کو ریلیف چاہیے تو حکومت کا جتنا بوجھ ہے، اسے کم کرنا ہو گا۔ اس لیے ہمیں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو بتدریج 13.5 فیصد پر لے کر جانا پڑے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے مختلف اقدامات ہیں کہ ہم اس کو وہاں لے کر کیسے جائیں گے، پہلا تو جو ریونیو اقدامات کا اعلان کیا گیا، اس میں یہ ہے کہ وہ تمام شعبے جو پہلے ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں نہیں تھے، انھیں اس میں لایا جائے، دوسرا یہ تھا کہ گذشتہ برس 39 کھرب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی، ہمیں اس چھوٹ کو ختم کرنا ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں ہم باقی سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں، 31، 32 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور جولائی سے ان پر ٹیکس کا اطلاق ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ہم انفورسمنٹ اور کمپلائنس کی طرف جا رہے ہیں، سسٹم میں جو خامیاں ہیں، قوانین پہلے سے موجود ہیں لیکن ہم ان کو نافذ نہیں کر پا رہے، اس کے لیے ہمارے ٹیکس اتھارٹی کو بہتر کرنا پڑے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسی طرح ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو تمباکو کی صنعت کے شعبے سے شروع ہونا تھا، اس کے بعد چینی، کھاد، سیمنٹ اور دیگر سیکٹر میں جانا تھا، لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا، اس کی وجہ سے جو آمدنی ملنی چاہیے تھی نہیں مل سکی۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں ان ساری چیزوں کا ادارک ہے اور ہم ڈیجاٹزیشن کر رہے ہیں تاکہ انسانی عمل و دخل کم ہو، اس کے نتیجے میں شفافیت آئے گی، کرپشن کم ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کیوں لوگ ایف بی آر کے نیٹ میں نہیں آنا چاہتے؟ اس لیے نہیں آنا چاہتے کہ ہمیں ان اداروں کی جانب سے نوٹسز کے ذریعے ہراساں کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم خود مانیٹر کر رہے ہیں کہ ہم آٹومیشن کی طرف کیسے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ بہت اہم ہے۔ انھوں نے حکومتی اخراجات کم نہ کرنے سے تنقید پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے لیکن حکومتی اخراجات میں دو چیزیں ہیں، جس کے بارے میں ہمیں دیکھنا ہے اور اس کو آگے لے کر جانا ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ جو سب سے آسان چیز ہے کہ جو شعبے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، وہاں وفاقی حکومت کو وزارتیں بند کر دینی چاہیں، ان محکموں کو ضم کردینا چاہیے تاکہ خرچہ کم ہو۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ ریاستی ملکیتی ادارے ہیں، اس کا خسارہ کون برداشت کر رہا ہیں، آپ لوگ برداشت رہے ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ سرکاری ملکیتی اداروں کو چلنے دیا جائے، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے 622 ارب روپے کے واجبات حکومت پاکستان کو منتقل ہوئے ہیں، اس کا قصور وار کون ہے، لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے تنخواہ دار طبقے کو اور مینوفیکچرنگ کو ریلیف نہیں دیا، کہاں سے ریلیف دیں، اگر یہ 650 ارب روپے بچتے تو ریلیف دیتے۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کی بات ہے، اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ جولائی، اگست میں ہو جائے گی، اس کے علاوہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں بھی نجی شعبے کو دے دیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر اس ملک نے آگے جانا ہے تو سب کچھ پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنا پڑے گا، مزید کہنا تھا کہ اگر اس ملک کو ریلیف چاہیے، اور انشا اللہ ہم ریلیف دیں گے، تو حکومت کا جتنا بوجھ ہے، ہمیں اس کو کم کرنا ہوگا اور ہم اس کو کم کرنے جا رہے ہیں۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے عیدالاضحیٰ کے روز بھی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں احتجاجی ریلی نکالی اور جلسہ منعقد کیا۔
ریلی کا آغاز لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ سے ہوا جس میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ ریلی کے شرکا مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب کے باہر پہنچے جہاں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا۔
ریلی کے شرکا کے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصاویر کے علاوہ کتبے بھی تھے جن پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق نعرے درج تھے۔
احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ’لاپتہ افراد کے رشتہ دار گذشتہ کئی سال سے عید پر بھی احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کی بجائے نہ صرف جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے بلکہ ریاستی ادارے اسے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے رشتہ دار کسی بھی صورت اپنے جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے اور جب تک آخری لاپتہ فرد بازیاب نہیں ہوتا تو وہ اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما صبغت اللہ شاہ نے کہا کہ اگر جبری گمشدگیوں کا سلسلہ برقرار رکھا گیا تو لاپتہ افراد کے رشتہ دار آئندہ سیکورٹی فورسز کے کیمپوں کے باہر اپنا احتجاجی کیمپ لگائیں گے۔
احتجاجی جلسے سے خطاب کرنے والوں کی بڑی تعداد ان خواتین پر مشتمل تھی جن کے رشتہ دار مبینہ طور پر جبری گمشدگیوں کے شکار ہوئے ہیں۔
ان خواتین میں طالب علم رہنما ذاکر مجید بلوچ کی والدہ بھی شامل تھیں جنھوں نے کہا کہ وہ ایک دہائی سے زائد کے عرصے سے اپنے بیٹے کے انتظار میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ذاکر مجید کو ان کے بعض دیگرساتھیوں کے ہمراہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا لیکن چند روز بعد ان کے دیگر ساتھیوں کو چھوڑ دیا گیا مگر ذاکر مجید بلوچ ابھی تک لاپتہ ہیں۔
احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عبدالواحد کرد کی بہن نے کہا کہ ان کے دو بھائیوں عبدالواحد کرد اور داد محمد کرد کو 15 سال پہلے لاپتہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بہن کی کیا حالت ہوگی جو کہ ڈیڑھ دہائی کے عرصے سے دو لاپتہ بھائیوں کے انتظار میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے رشتہ دار جس اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں اس کے باعث وہ نہیں جانتے کہ عید یا کسی اور تہوار کی خوشی کیا ہوتی ہے۔
’یہی وجہ ہے کہ لاپتہ افراد کی مائیں اور بہنیں آج گھروں میں عید منانے کی بجائے سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہیں۔‘
حیدرآباد سندھ سے لاپتہ ہونے والے غلام فاروق بلوچ کی خالہ نے کہا کہ ان کا بھانجا محنت مزدوری کے سلسلے میں حیدرآباد میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ غلام فاروق کو دیگر افراد کے ہمراہ نو سال پہلے لاپتہ کیا گیا۔ ’باقی افراد کو چھوڑ دیا گیا لیکن غلام فاروق تاحال بازیاب نہیں ہوئے۔‘
غلام فاروق کے والد اور والدہ دونوں بڑھاپے میں اپنے سہارا کے انتظار کرتے رہے لیکن وہ دونوں انتظار کرتے کرتے اس دنیا سے چلے گئے لیکن ان کا بیٹا بازیاب نہیں ہوا۔
مقررین نے حکومت سے تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ان میں سے کسی پر کوئی الزام ہے تو ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے۔‘


،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک میں عید الاضحی مذہبی جوش و جذے سے منائی جا رہی ہے۔ اس موقعے پر پاکستان کے صدر آصف علی زرادری اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے الگ الگ پیغامات میں قوم کو عید کی مبارک باد دی۔
ان کا عید کے تہنیتی بیان میں کہنا تھا کہ ’ہمیں پاکستان کی خاطر جھوٹی انا اور ذاتی مفادات کی قربانی دینے کا عہد کرنا ہے۔ آج وطن کی مٹی ہمیشہ کے لیے سیاسی، گروہی اور لسانی اختلافات کی قربانی مانگ رہی ہے۔ ‘
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’ہر جماعت، ادارے، محکمے، طبقے سمیت ہر فرد کو ذمہ دارانہ اور مثبت کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں چینی سفارت خانے میں سفیر جیانگ زی ڈونگ سے ملاقات کی جس میں سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے چینی انجینئروں اور عملے کے سکیورٹی پلان سے متعلق انھیں بریفنگ دی گئی۔
چینی سفیر جیانگ زی ڈونگ نے بھی وزیر داخلہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے بعد سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
محسن نقوی کا ملاقات کے دوران کہنا تھا کہ ’چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے جامع اور مؤثر ایس او پیز بنائے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں غیر ملکی شہریوں کی حفاظر اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے الگ سے ایک سکیورٹی فورس ایس پی یو بنائی جا رہی ہے۔‘
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کرنے والے چینی بھائیوں کا تحفظ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اسی سلسلے میں کوشش ہے کہ کسی چینی شہری پر ذرہ بھر آنچ بھی نہ آئے۔‘
بعد ازاں چین کے سفیر جیانگ زی ڈونگ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور چین ہر موسم کے دوست ہیں، اور ہم پاکستان کے ساتھ اپنی تعلقات کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy Ali Afzal
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ایک بم دھماکے میں چار افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کے ایک دوسرے واقعے میں دو بھائیوں کو مبینہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔
کرم کے ایک پولیس اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ کوڑم روڈ پر مسافر گاڑی کے قریب بم دھماکے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق ابتدائی اطلاع یہ تھی کہ یہ آئی ای ڈی دھماکہ تھا تاہم اب تک کی معلومات کے مطابق یہ ایک مقناطیسی بم تھا جو کہ گاڑی کے ساتھ نصب کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق بظاہر یہ ایک دہشتگردی کا واقعہ تھا۔
دوسری طرف ادھر لوئر کرم کے علاقے ساتین میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے دو بھائیوں کو مبینہ طور پر قتل کیا ہے۔ پولیس اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے ایک بھائی ’سی ٹی ڈی کو مطلوب تھا۔‘ تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
خیال رہے کہ جمعے کو علاقے کے عوام نے بدامنی کے خلاف امن مارچ کیا تھا اور حکومت سے علاقے میں امن و امان کی بحالی اور شدت پسندی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
کرم میں امن مارچ کا شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے ضلع کرم میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف مقامی عمائدین نے امن مارچ میں کہا کہ علاقے میں ایک مرتبہ پھر شدت پسندوں کی آمد سے علاقے کا امن داؤ پر لگنے کا خدشہ ہے۔
مقامی سطح پر ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ بعض علاقوں میں مسلح شدت پسند موجود ہیں اور مقامی لوگوں نے ان شدت پسندوں کی سرگرمیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔
سیاسی اور قبائلی عمائدین کا کہنا ہے ضلع کرم میں ایک بار پھر عسکریت پسندی کے واقعات عوام کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں اور عوام کسی صورت مزید بدامنی کے واقعات برداشت نہیں کر سکتے۔
ضلع کرم میں مسلح افراد کی آمد اور امن کو سبوتاژ کرنے کے خدشے کے پیش نظر لوئر، سینٹرل اور اپر کرم کے عوام نے مل کر مشترکہ امن مارچ کیا۔ امن مارچ سنٹرل کرم کے علاقے ساتین سے شروع ہو کر تحصیل صدہ سے ہوتے ہوئے ضلع کرم کے ہیڈکوارٹر پاراچنار پہنچا جہاں مقامی رہنماؤں نے خطاب کیا ہے۔
رہنماوں نے کہا کہ ضلع کرم کے لوگ بارہا بد امنی کے واقعات سے تنگ آچکے ہیں اور اسی لیے ضلع کرم کے تمام مکاتب فکر کے لوگ یک آواز ہو کر بد امنی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
کیا مسلح شدت پسند واقعی سینٹرل کرم میں موجود ہیں؟
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ 300 کے لگ بھگ شدت پسند سینٹرل کرم کے کچھ علاقوں میں اپنے اپنے کمانڈروں کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ علاقے پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہیں۔
اسی طرح سابقہ قبائلی علاقے جیسے ضلع اورکزئی اور اور ضلع خیبر کے سرحدی علاقوں میں بھی مسلح افراد منظم ہو رہے ہیں۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ مسلح افراد اپنے اپنے کمانڈرز کے ساتھ 20 سے 25 افراد کی ٹولیوں میں مختلف مقامات پر موجود ہیں۔
سرکاری سطح پر اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ اس بارے میں ضلع کرم کے پولیس افسر سے رابطہ کیا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی واضح بیان یا اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں گئی۔
مقامی سطح پر الرٹ بھی جاری کیا گیا اور ایسی اطلاع ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی علاقے میں پہنچ گئے ہیں جس سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ مسلح افراد کے خلاف ایک بڑا آپریشن یا ٹارگٹڈ آپریشن کیا جا سکتا ہے۔
اس بارے میں فوج کے تعلقات عامہ کے مکمے کے حکام کو میسج کیا گیا ہے لیکن اب تک ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہScreen grab
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ صنعتوں کے لیے ساڑھے دس روپے فی یونٹ بجلی سستی کر دی ہے۔ سستی بجلی سے صنعتوں کے اوپر 200 ارب روپے کا بوجھ کم ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مئی کے ماہ میں سمندر پار پاکستانیوں نے تین ارب روپے کا غیر ملکی زر مبادلہ پاکستان بھجوایا ہیں جو ملک کے اوپر ان کے اعتماد کی دلیل ہے۔
شہباز شریف کے مطابق ’بجٹ کے بعد سٹاک ایکسچینج 76 ہزار پوائنٹس پر پہنچ گیا اور یہ کاروباری برادری کا بجٹ پر اعتماد ہے۔‘
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ’جو ادارے دہائیوں سے کئی سو ارب کے خسارے کا باعث بن رہے ہیں ان کو پرائیویٹائز کر کے پاکستان کی معاشی حالت بہتر کی جائے گی۔‘
ان کے مطابق تعلیم کے میدان میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان اخراجات بچا کر سادگی کو اوڑھنا بچھونا بنائیں گے۔ پرائیویٹ سیکٹر کو سہولیات مہیا کر کے ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے گی تاکہ ہر جگہ میڈ ان پاکستان کی چھاپ لگے۔‘
شہباز شریف کے مطابق ’شہدا اور غازیوں کی توہین کرنے والا ملک کی ترقی اور خوشحالی کا دشمن ہے۔‘
ان کے مطابق ’ماضی میں دیکھا کہ جب بھی ترقی کا سفر شروع ہوا تو کوئی نہ کوئی حادثہ ہوا اور رکاوٹیں آئیں جس سے ترقی کا راستہ رک گیا اور ہم پیچھے چل پڑے لیکن اس بار بھرپور امید ہے کہ ایسی تمام رکاوٹیں دور کر دی جائیں گی۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مستقبل کا راستہ چن لیا ہے عوام کے پیسے پرعیاشی نہیں ہو گی۔ قوم کا ایک ایک دھیلا ملک کی ترقی پر لگایا جائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ ’ایسی تمام وزارتیں اور ادارے جو عوامی خدمت کے بجائے قوم پر بوجھ بن گئے ہیں بلکہ بے جا اخراجات اور کرپشن کا منبہ بن چکے ہیں ان کو ختم کرنا فرض اولین ہے۔‘
شہباز شریف کے مطابق ’آج ہماری حکومت کے 100 دن مکمل ہو گئے ہیں۔ میری حکومت کی زمہ داری ہے شاہانہ اخراجات کا خاتمہ کریں۔ اس کے لیے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جس کے نتائج ایک سے ڈیڑھ ماہ میں آپ کے سامنے لے کر آوں گا۔‘
انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستان کی تاریخ کا آخری پروگرام ہو گا۔
’آئی ایم ایف کا جو پروگرام ہم لینے جا رہے ہیں وہ انشاللہ آخری پروگرام ہو گا۔ کئی ممالک ایسے ہیں جو صرف ایک مرتبہ آئی ایم ایف گئے اس کے بعد کبھی نہیں گئے۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ اپریل 2022 میں جب ہم نے اقتدار کی زمہ داری سنبھالی تو اس وقت معاشی صورت حال سب کے سامنے ہے جس میں ہم نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا جس کا سہرا اتحادی جماعتوں اور نواز شریف کو جاتا ہے۔
شہباز شریف کے مطابق ’اس وقت قوم کی نظریں حکومت پر جمی ہوئی ہیں کہ کس طرح پاکستان کی مشکلات ختم کر کے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔‘
شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ ’جب سے انتخابات کے بعد اقتدار سنبھالا تو مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر ہماری کوششوں سے 12 فیصد پر آ گئی ہے۔ شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد پر آ گئی ہے اس سے سرمایہ کاری کو ملک میں فروغ ملے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان مشکلات سے نکل کر آہستہ آہستہ ترقی کی راہ پر گامزن ہر رہا ہے۔ ترقی اور خوش حالی کے سفر کے لیے اور معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے ملک اشرافیہ سے قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جھانک کر رونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کر کے کھویا ہوا مقام حاصل کر کے رہیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کی جا رہی ہے۔
اپنے خطاب کے آغاز پر ان کا کہنا تھا کہ ’دل کی گہرائیوں سے حج اور عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ غزہ میں 40 ہزار افراد مار دیے گئے اس سے بڑا ظلم و زیادتی اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔‘
سابق وزیر اعظم اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ٹیریئن وائٹ کیس میں نااہلی کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ چیلنج کردیا گیا ہے۔
عمران خان کے خلاف اس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا 21 مئی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ میں عام شہری محمد ساجد کی جانب سے اپیل دائر کی گئی ہے، جس میں بانی پی ٹی آئی کو فریق بنایا گیا ہے۔
اپیل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا 21 مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ عدالت اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف اپیل منظور کرے اور نا اہلی کی درخواست منظور کی جائے۔
یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ٹیریئن وائٹ کی مبینہ ولدیت کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر اُن کے خلاف دائر نااہلی سے متعلق درخواست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نا قابل سماعت قرار دیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلگت بلتستان کی سات ہزار سے زائد میڑ کی چوٹی سپانٹک کو سر کرنے کی کوشش میں پانچ روز سے لاپتہ دو جاپانی کوہ پیماؤں کی تلاش کے آپریشن میں ایک جاپانی کوہ پیما کی لاش ریسیکو ٹیم کو مل گئی ہے۔ ان کی لاش کو پہاڑ ہی پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بعد دوسرے کوہ پیما کی تلاش کا کام کیا جائے گا۔
رایا ہیروکا اور ایسٹین ٹوبوچی 29 مئی کو اسلام آباد پہنچے تھے جبکہ انھوں نے ’گولڈن پیک‘ کے نام سے مشہور اس چوٹی پر مہم جوئی کا آغاز دو جون کو کیا تھا۔ دس جون کو وہ لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد ان کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
تاحال انتظامیہ کی جانب سے یہ ہلاک ہونے والے کوہ پیما کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم ڈپٹی کمشنر شگر نے ایک جاپانی کوہ پیما کی لاش ملنے کی تصدیق کی ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری کے مطابق پہاڑ پر ایک کوہ پیما کی لاش کے مقام کی نشان دہی فضائی امدادی کارروائی کے دوران ہوئی تھی۔ ان کی تلاش کا کام کرنے کے لیے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کی مدد حاصل کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہCredits: Majeeb Khan
ان کا کہنا تھا کہ مگر وہ ایسے مقام پر تھے جہاں پر ان کو فضا سے کوئی مدد فراہم نہیں کی جا سکتی تھی جس کے بعد ایک چھ رکنی امدادی ٹیم جس میں تین پاکستانی اور تین جاپانی کوہ پیما شامل تھے نے گراؤنڈ آپریشن کے ذریعے سے گذشتہ روز یعنی جمعے کو تلاش کے کام کا آغاز کیا تھا۔
کرار حیدری کے مطابق اس تلاش کے آپریشن میں آج سنیچر کو ریسیکو ٹیم کو ایک لاپتہ کوہ پیما کی لاش ملی ہے جس کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے جس کے بعد دوسرے کوہ پیما کی تلاش کا کام شروع کیا جائے گا۔
’حادثہ کیمپ ٹو کے قریب ہوا‘
الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری کرار حیدری کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران رایا ہیروکا کی لاش ملی ہے جسے پہاڑ پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
دونوں جاپانی کوہ پیماؤں کو سہولتیں فراہم کرنے والی ٹوور کمپنی کے مطابق کوہ پیما کا خاندان چاہتا ہے کہ لاش کو اسلام آباد پہنچایا جائے جہاں سے وہ انھیں جاپان لے جا سکیں۔
کمپنی کے مطابق اس کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ممکنہ طور پر یہ آپریشن کل کیا جائے گا۔
کمپنی کے مطابق لاش کیمپ ٹو اور کیمپ تھری کے درمیان ملی ہے۔
خیال ہے کہ یہ حادثہ اس وقت ہوا جب دونوں کوہ پیما پانچ ہزار سے زیادہ کی بلندی پر کیمپ ٹو سے اوپر جا رہے تھے۔
جاپانی کوہ پیما کی لاش کیمپ ٹو سے تقریبا دو، تین سو میٹر نیچے ملی ہے جبکہ اس کے ساتھ گلیشیئر کی کھائیاں ہیں۔
اس وقت تلاش کا کام کرنے والی امدادی ٹیم کوشش کر رہی ہے کہ وہ لاپتہ کوہ پیما کو گلیشیئر کی ان کھائیوں میں تلاش کرے جو کافی مشکل کام ہے۔
کمپنی کے مطابق ممکنہ طور پر ہیلی کاپٹر پہاڑ پر کسی محفوظ مقام پر لینڈ کرے گا اور چھ کوہ پیما جو کہ تلاش کا کام کر رہے ہیں، وہ لاش کو ہیلی کاپیٹر تک پہنچائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف عیدالاضحیٰ کے موقع پر پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے سے زائد کمی کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 20 پیسے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کیا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے 33 پیسے فی لیٹر کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 258 روپے 16 پیسے فی لیٹر ہوگی ۔جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 267 روپے 89 پیسے فی لیٹر ہو گی۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق گذشتہ چند ماہ کے دوران حکومت کی جانب سے عوام کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر 35 روپے کا ریلیف دیا جا چکا ہے۔
وزرات خزانہ نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGovernment of Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر آئی ایس آئی اور اسٹیبلشمنٹ کو عدالتی امور سے مداخلت کرنے پر لگام نہ دی گئی تھی تو اس سے ملک کی میعشیت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
انھوں نے کہا کہ فوجی ایجسنیوں کی تمام تر توجہ اس وقت ان ججز کو ہراساں کرنے اور ان پر نظر رکھنے پر مرکوز ہے جو تحریک انصاف سے متعلقہ مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں جبکہ بدقسمتی سے یہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب ملک میں آئے روز فوجی جوانوں اور پولیس والوں پر دہشتگردانہ حملے ہو رہے ہیں اور انھیں جان سے مارا جا رہا ہے۔
عمران خان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق میں اپنے ملک کی اعلیٰ عدلیہ خاص طور پر سپریم کورٹ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کو دیکھے اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی آبزرویشن کی روشنی میں آئی ایس آئی اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر قابو پا کر پاکستان کے نظام انصاف کو بچائیں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ چیز ہماری افواج کی شبیہ بھی خراب کر رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جب تک عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تو اس وقت تک ملک کی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچتا رہے گا۔‘
عمران خان کے اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی پوسٹ کے مطابق سیاسی کارکنان، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور ان کے رشتے داروں کے علاوہ صحافیوں کو بھی اغوا کیا جا رہا ہے یا جعلی مقدمات میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔
جمعرات کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈز کے مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے معاملے پر ’غلط بیانی نہ کی جائے کہ پی ٹی آئی مذاکرات نہیں چاہتی۔‘
سابق وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’جب فیصلے اوپر سے بڑے صاحب کریں گے تو پھر موجودہ حکمرانوں سے مذاکرات کا کیا فائدہ؟‘
اڈیالہ جیل میں کی جانے والی اس گفتگو کے کچھ دیر بعد عمران خان کے اکاؤنٹ پر شیئر کی جانے والی پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ سرگودھا کی ایک عدالت کے جج کے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے نام تازہ ترین خط سے بھی یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ کیسے بڑے پیمانے پر بغیر کسی روک ٹوک کے آج تک آئی ایس آئی عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔
عمران خان کے اکاؤنٹ کے مطابق انڈین فوج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں جس طرح کیا جا رہا ہے بلکہ اسی طرز پر ہماری فوج کی ایجنسیاں تحریک انصاف کے سمندر پار حامیان کے رشتے داروں، ہماری سوشل میڈیا ٹیم کے رہنماؤں کو بھی اغوا کر رہی ہیں اور ان کے ساتھ غلامی کے دور والی اجتماعی سزاؤں کے حربے استعمال کر رہی ہیں۔
اس سب سے بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک کو افراتفری کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے معیشت اور سرمایہ کاری کو براہ راست نقصان پہنچ رہا ہے۔
عمران خان کے مطابق پاکستان کو اس وقت سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اور سمندر پار پاکستانی اس حوالے سے ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں مگر ان کے ساتھ دشمن جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 10 روپے 69 پیسے کی کمی کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ ملکی صنعت کی بہتری کے لیے بجلی کے ایک بڑا پیکج ہے۔ اعلامیے کے مطابق صنعت اور برآمدات میں اضافے کے لیے بجلی کی قیمت میں 10 روپے 69 پیسے کی کمی کر دی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی خصوصی کاوشوں سے صنعت اور برآمدات کے شعبے کے لیے بجلی کی قیمت 34 روپے 99 پیسے فی یونٹ مقرر کر دی گئی ہے۔
تجویز کی تھی وزیراعظم کے پیکج کے نتیجے میں صنعتوں سے 200 ارب روپے سے زائد کا بوجھ ختم ہوگا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صنعتوں کو یہ پیکج عالمی منڈی میں اشیا کی لاگت کے مقابلے کے قابل بنانے کے لیے کیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس ک مطابق اس پیکج سے صنعتی اور زرعی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں کمی اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا اور صنعتی ترقی کی رفتار مزید تیزہو گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے تجارتی خسارے میں رواں مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں میں 15 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد یہ خسارہ 21.7 ارب ڈالر رہ گیا، جو گذشتہ سال کے ان مہینوں میں 25.6 ارب ڈالر تھا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جارہ کردہ اعداد و شمار کے مطابق زیر جائزہ مہینوں میں ملکی برآمدات تقریباً 11 فیصد اضافے کے بعد 28.1 ارب ڈالر ہو گئیں جو گذشتہ سال اس عرصے میں 25.3 ارب ڈالر تھیں۔
گیارہ مہینوں میں درآمدات دو فیصد کمی کے بعد 49.8 ارب ڈالر رہ گئیں جو گذشتہ سال ان مہینوں میں 51 ارب ڈالر تھیں۔
مئی کے مہینے میں تجارتی خسارے میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی اور رواں سال کے اس مہینے میں یہ خسارہ 2.1 ڈالر تھا جو گذشتہ برس بھی اتنا ہی تھا۔
اس مہینے میں برآمدات میں 29 فیصد جب کہ درآمدات میں 15 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گیارہ مہینوں میں ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات 15 ارب ڈالر رہیں جب کہ غذائی اشیا کی برآمدات چھ ارب ڈالر رہیں۔
رواں مالی سال میں ملک میں 15 ارب ڈالر کا خام تیل اور تیل مصنوعات درآمد کی گئیں اور سات ارب ڈالر کی غذائی اشیا درآمد کی گئیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے والے تحریک انصاف کے مقامی رہنما عامر مغل سمیت جماعت کے متعدد کارکنان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او شفقت فیض نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والوں کی تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ان مظاہرین نے احتجاج سے قبل پولیس سے کسی قسم کی کوئی اجازت نہیں لی تھی۔
ان کے مطابق اس وقت دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ ہے اور کسی بھی قسم کے اجتماع پر پابندی ہے مگر تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان نے اس قانون کی خلاف ورزی کی ہے، جس وجہ سے ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک انصاف نے 14 جون کو ملک گیر احتجاج کی کال دی تھی۔
وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے بھی صوبے کے تمام اضلاع میں 14 جون کو بھرپور احتجاج کرنے کی ہدایت کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے الیکشن ٹربیونلز کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔ جسٹس نعیم اختر افغان اس بینچ کے دوسرے ممبر ہیں۔ الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت 20 جون کو ہوگی۔
لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونلز کے قیام کے خلاف الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPTV
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال 2024-25 کے لیے 3.056 ٹریلین روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا ہے۔
تنخواہوں میں 22 سے 30 فیصد کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس میں 959 ارب روپے کے نمایاں ترقیاتی اخراجات کی تجویز اخراجات کا 31 فیصد بنتا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ متوازن بجٹ بنیادی طور پر سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی اور غریبوں کے لیے سماجی تحفظ پر مرکوز ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے کی کل متوقع آمدنی 3 ٹریلین روپے ہے۔
تنخواہوں کا سب سے بڑا حصہ 38 فیصد ہے۔ اس کے بعد گرانٹس 27 فیصد مختلف پروگراموں کے لیے ہیں۔ غیر تنخواہ کے اخراجات 21 فیصد میں آپریشنل اخراجات، منتقلی، سود کی ادائیگی اور مرمت شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ملازمین کی پنشن اور ریٹائرمنٹ کے فوائد موجودہ اخراجات کے بقیہ 14 فیصد ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق تعلیم کو سب سے زیادہ 519 ارب روپے ملتے ہیں جس میں 459 ارب موجودہ آمدنی کے اخراجات کے لیے ہیں۔ صحت کے لیے 334 ارب روپے رکھے ہیں، جس میں 302 ارب روپے موجودہ اخراجات کے لیے مختص ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق لوکل گورنمنٹ 329 ارب روپے کے مجوزہ بجٹ کے ساتھ ’ٹاپ تھری‘ میں شامل ہے۔
سندھ آبپاشی کے لیے 94 ارب روپے سمیت موجودہ اخراجات کے لیے 36 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ مزدور کی کم سے کم اجرت 37,000 روپے تک اضافے کی تجویز ہے جبکہ 34.9 ارب روپے کی ایک اہم رقم غریبوں کی مدد کے لیے مختص کی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہاری کارڈ کی صورت میں 12 ملین کسانوں کو مالی مدد فراہم کرنے کے لیے آٹھ ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
بجٹ میں تعلیم و صحت کے لیے اہم گرانٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کو ترجیح دی گئی ہے، وزیراعلیٰ سندھ بڑی گرانٹس کی کل رقم 190 ارب روپے بنتی ہے۔ گرانٹس کی مد میں 35 ارب روپے سندھ بھر کی یونیورسٹیوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق فنڈنگ کا مقصد تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنا اور صحت کی معیاری خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔