پی ٹی آئی سیاسی جماعت کا وجود رکھتی ہے تو دوسری جماعت میں شمولیت کیوں اختیار کی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت سوموار کے دن سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کی تو سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی کا وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کے قتل کے واقعے پر مقامی پولیس کی جانب سے 23 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
  • پاکستان کی وفاقی حکومت نے اتوار کے روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
  • وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد شائع ہونے والے اعلامیے کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز نے اتفاق رائے سے دہشتگردی کے خلاف ’عزم استحکام‘ آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

لائیو کوریج

  1. پی ٹی آئی سیاسی جماعت کا وجود رکھتی ہے تو دوسری جماعت میں شمولیت کیوں اختیار کی، چیف جسٹس قاضی فائز, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی کا وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی۔

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت سوموار کے دن سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کی۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی اگر اب بھی پولیٹیکل پارٹی کا وجود رکھتی ہے تو انھوں نے دوسری جماعت میں کیوں شمولیت اختیار کی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر اس دلیل کو درست مان لیا جائے تو آپ نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرکے خودکشی کیوں کی، یہ تو آپکے اپنے دلائل کے خلاف ہے۔

    بینچ میں شامل جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آزاد امیدار الیکشن کمیشن نے قرار دیا، الیکشن کمیشن کی رائے کا اطلاق ہم پر لازم نہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد سیاسی جماعتیں ہیں، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی امیدواروں کو سپریم کورٹ فیصلے کے سبب آزاد امیدوار قرار دیا۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ تو بہت خطرناک تشریح ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم یہ نہیں سنیں گے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے زیادتی کی، ہم آئین و قانون کے مطابق بات سنیں گے۔

    چیف جسٹس نے وکیل فیصل صدیقی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں پی ٹی آئی کے نہیں، آپ کے پی ٹی آئی کے حق میں دلائل مفاد کے ٹکراؤ میں آتا ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سنی اتحاد کونسل سے تو انتحابی نشان واپس نہیں لیا گیا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئین پر عمل نہ کر کے اس ملک کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں، میں نے آئین پر عملدرآمد کا حلف لیا ہے۔

    چیف جسٹس نے سماعت کے دوران کہا کہ ہم نے کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے مفاد کو نہیں آئین کو دیکھنا ہے۔

  2. سنی اتحاد کی مخصوص نشستوں کا مقدمہ: سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ آج سماعت کرے گا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ سوموار کے دن مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت کرے گا۔

    واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق انتخابات سے قبل فہرست جمع نہ کروانے پر سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کے بارے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

    الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں کیوں کہ مخصوص نشتوں کی فہرست جمع کرانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی لیکن سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے فہرست جمع نہیں کرائی۔

    الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ امیداروں سے تحریک انصاف نظریاتی کا انتخابی نشان دینے کا سر ٹیفکیٹ مانگا گیا، بعد ازاں امیدوار تحریک انصاف نظریاتی کےانتخابی نشان سے خود دستبردار ہوئے اور پی ٹی آئی نظریاتی کے انتخابی نشان سے دستبردار ہونے کے بعد امیدوار آزاد قرار پائے۔

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد آزاد امیدوار سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے تو سنی اتحاد کونسل کو الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں نہ دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا اور پشاور ہائیکورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا۔

    الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں یہ بھی کہا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کے لیے اہل نہیں اور مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے آئین کے مطابق کوئی غیر مسلم جماعت کا ممبر نہیں بن سکتا اور سنی اتحاد کونسل کے آئین کی غیر مسلم کی شمولیت کے خلاف شرط غیر آئینی ہے، اسی لیے سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص سیٹوں کی اہل نہیں۔

    دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کےکیس میں اضافی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں ہیں۔ کنول شوزب کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کرائیں جن میں الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی کے دو کامیاب ارکان کے نوٹیفکیشن بھی لگائے گئے جبکہ آزاد امیدوار قرار دینے کےخلاف درخواست پر الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی دستاویزات میں شامل ہے۔

    اضافی دستاویزات میں الیکشن کمیشن کا آزاد اراکین سے متعلق 2 فروری کا فیصلہ بھی لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ کرنے کیلئے اضافی دستاویزات کی بہت اہمیت ہے لہٰذا اضافی دستاویزات کو کیس کے لیے عدالتی ریکارڈ پر لانے کی اجازت دی جائے۔

    یاد رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنی اتحاد کونسل کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا تھا اور اس اپیل کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے سے متعلق یہ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا۔

    پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مخصوص نشستیں حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کو مل گئی تھیں تاہم اس فیصلے کی معطلی کے بعد حکمران اتحاد پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے محروم ہو گئی تھی۔

    پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے آزاد حثیت میں الیکشن جیتے تھے جس کے بعد انھوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی تھی۔

  3. رواں سال مون سون بارشیں 35 فیصد تک زیادہ ہونے کے خطرات ہیں: پی ڈی ایم اے

    بارش

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کردیا ہے جس کے مطابق رواں سال مون سون بارشیں 35 فیصد تک زیادہ ہونے کے خطرات ہیں۔

    پی ڈی ایم اے نے یکم جولائی سے پنجاب میں مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کی پیش گوئی ہے اور انتظامیہ کو مون سون بارشوں سے متعلق مراسلہ جاری دیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ محکمہ موسمیات نے بھی بارشوں کا الرٹ جاری کر رکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال مون سون کی بارشیں معمول سے زیادہ ہوں گی جبکہ گرمی بڑھنے سے دریاوں کی سطح بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔

    جولائی کے پہلے ہفتے سے شروع ہونے والی بارشوں میں بالائی پنجاب وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق جولائی میں مون سون بارشوں سے اربن فلڈنگ اور جنوبی پنجاب میں ہل ٹورنٹس کا خطرہ ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو مون سون بارشوں سے قبل تمام تر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ ندی نالوں کی صفائی اور نکاسی آب آب کے انتظامات جلد از جلد مکمل کریں۔

  4. دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے عزم استحکام آپریشن کی ضرورت پیش آئی: وفاقی وزیر اطلاعات

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے عزم استحکام آپریشن کی ضرورت پڑی۔ اس کی منظوری کابینہ اور پارلیمنٹ سے لی جائے گی۔

    وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو طالبان کو واپس لائے، گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی تعریفیں کس نے کیں۔ آج پارلیمنٹ میں طالبان کے حق میں نعرے بھی لگا دیے گئے۔ اس وقت سب کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

    عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ’آج ہمیں سڑکوں پر انصاف کرنے کو روکنا ہوگا، ہم ختم نبوت کے بھی امین ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کے بھی امین ہیں ۔آج اپوزیشن کو اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کی بجٹ میں کوئی تیاری نہیں ہے، یہاں صرف تنقید برائے تنقید کی جارہی ہے، اپوزیشن بجٹ پر بات نہیں کرتی، نعرہ لگانے میں آگے ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس پر مشاورت ہونی چاہیے تھی کہ کون سے طبقات ہیں جنھیں بجٹ میں ریلیف دے سکتے ہیں،اپوزیشن کو شیڈو کابینہ بنانی چاہیے تھی اور شیڈو بجٹ دینا چاہیے تھا، انھوں نے بجٹ پڑھے بغیر تنقید کی۔

  5. ہر سال آپریشن خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہی کیوں کیا جاتا ہے: شاندانہ گلزار

    پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار نے کہا ہے کہ اتنے آپریشنز کے بعد اب آپریشن غزم استحکام سامنے آ گیا ہے۔ ہر سال آپریشن خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہی کیوں کیا جاتا ہے یہ سمجھ نہیں آتی۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے کہا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے، آپ کو بانی پی ٹی آئی عمران خان پسند نہیں ہے تو مسئلہ نہیں، ملک کو تو بخش دیتے۔

    اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایران اتنا بے وقوف ہے کہ وہ بدلہ بلوچستان یا خیبرپختون خوا میں لے گا تو ایسا نہیں۔

    بجٹ پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ بجٹ لوگوں کو برباد کرنے کے لئے بنایا گیا، ہمیں 21 ارب ڈالر قرضوں میں دیا، پی ڈی ایم نے ملک کا بیڑہ غرق کیوں کیا۔

  6. پاکستان کے عوام اس سے بہتر بجٹ کے مستحق ہیں: آصفہ بھٹو زردای

    آصفہ بھٹو

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab/PTV

    پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ ’پاکستانی ہونے کے ناطے ہم سب کو اس بجٹ سے بے شمار امیدیں وابستہ تھیں۔ پاکستان کے عوام اس سے بہتر بجٹ کے مستحق ہیں۔‘

    آصفہ بھٹو نے ایوان میں اپنے خطاب میں کہا کہ وہ پوچھنا چاہتی ہیں کہ اس بجٹ سے عوام کی کتنی توقعات پوری ہوئی ہیں۔

    یاد رہے کہ آصفہ بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اپنا پہلا خطاب کیا ہے۔ اور اس خطاب کے آغاز میں انھوں نے اس موقع پر اپنی خوشی کا اظہار بھی کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں عام آدمی کی بہتری کے لیے آگے بڑھنا ہے، کسانوں کو کبھی سیلاب تو کبھی درآمدات کا مسئلہ ہے، ہمیں کسانوں کو ریلیف دینا ہو گا۔ عوام کو موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات، سیلاب، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔‘

    آصفہ بھٹو کے مطابق ’ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ تقسیم کی سیاست کو مسترد کرنا ہو گا۔ پاکستان کے عوام اس سے کہیں ذیادہ بہتر بجٹ کے مستحق ہیں۔ اور ہم اس کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘

    آصفہ بھٹو کے مطابق ’گرمی کے موسم میں 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ایک عذاب ہے ہمیں عوام کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے اس کا راستہ نکالنا ہو گا۔ صدر مملکت نے اس ایوان میں اتحاد کی بات کی اور اس وقت سب کا مل کر کام کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔‘

  7. آپریشن ’عزم استحکام‘ پر پارلیمان میں مشاورت کی جائے گی: خواجہ آصف

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہNATIONAL ASSEMBLY

    وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ ’عزم استحکام‘ آپریشن پر پارلیمان میں مشاورت کی جائے گی۔

    اتوار کے روز پارلیمان میں ایپکس کمیٹی کی جانب سے ’عزم استحکام‘ آپریشن کی منظوری کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایپکس کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بھی اس کمیٹی میں شرکت کرتی آئی ہے۔

    ’ہم اس کو دوبارہ فعال کر رہے ہیں، اس کو لے کر کابینہ میں جا رہے ہیں۔ انشااللہ، اس [معاملے کو] ایوان میں بھی لے کر آئیں گے۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر ایوان میں بحث بھی کی جائے گی۔

    ’ان کا اگر کوئی اعتراض ہے تو جب یہ مسئلہ اس ایوان میں آئے گا تو انشااللہ یہ بھی اس پر بول سکتے ہیں۔‘

    اس سے قبل جب خواجہ آصف نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی کوشش کی تو اس دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کو روزانہ کی بنیاد پر قتل کیا جا رہے اور اقلیتیں ملک میں غیر محفوظ ہیں۔

    اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک حساس معاملے کے بارے میں بات کرنا چاہ رہے ہیں اور اپوزیشن ارکان انھیں بولنے نہیں دے رہے۔

    ’پاکستان میں کوئی مذہبی اقلیت اس وقت محفوظ نہیں ہے۔ مسلمانوں کے اندر جو چھوٹے فرقے ہیں وہ بھی محفوظ نہیں ہیں۔ یہ ایسی بات ہے جس پر پوری قوم کو شرمسار ہونا چاہیئے لیکن ان کو نہ شرم آ رہی ہے نہ حیا آرہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر ایک قرارداد پیش کرنا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اقلیتوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جنتا مسلمانوں کا ہے۔

    ’یہاں گروہ کبھی سوات میں کرتے ہیں، کبھی سرگودھا میں قتل کرتے ہیں کبھی فیصل آباد میں قتل کرتے ہیں۔ یہ قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پوری قوم کا متحد ہونا ضروری ہے۔

    ’یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ آج تک جو لوگ قتل ہوئے ہیں ان کے متعلق کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انھوں نے خدانخواستہ کوئی توہینِ مذہب کی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ لوگ ذاتی جھگڑوں میں توہینِ مذہب کا الزام لگا کر قتل کر رہے ہیں۔

  8. کوئی بھی ایپکس کمیٹی پارلیمان سے بالاتر نہیں ہو سکتی: عمر ایوب

    بیرسٹر گوہر علی خان، عمر ایوب، اسد قیصر

    ،تصویر کا ذریعہGEO NEWS SCREENSHOT

    پاکستان تحریکِ انصاف کا پاریمان کو اعتماد میں لیے بغیر کسی بھی عسکری آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ کوئی بھی ایپکس کمیٹی پارلیمان سے بالاتر نہیں ہے۔

    اتوار کے روز اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی میں دہشتگردی کے خلاف ’عزم استحکام‘ آپریشن دے دی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر پوائنٹ آف آرڈر کروانا چاہ رہے تھے کہ کسی بھی آپریشن سے پہلے پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم یہ نقطہ اٹھانا چاہ رہے تھے کہ عسکری قیادت کو پارلیمان میں آکر اس پر بریفنگ دینی چاہیئے جیسے ماضی میں پارلیمان کو دی گئی تھی۔

    ’کوئی بھی ایپکس کمیٹی، اس کے جتنے بھی ممبر ہوں اور کوئی بھی اس کمیٹی میں بیٹھ جائے، وہ پارلیمان سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔‘

    ’ہمارا مطالبہ ہے کہ کوئی بھی آپریشن پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر کسی صورت شروع نہ کیا جائے۔‘

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ہم کسی طور پر کسی آپریشن کی حمایت نہیں کر سکتے۔

    ’اس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے۔ آپ اتنا بڑا فیصلہ کر رہے ہیں اور اس پارلیمان کو خاطر میں بھی نہیں لاتے، تو یہ پارلیمان ہے کس لیے؟‘

    اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’آپریشن بہت ہو چکے ہیں، میں بس یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آج تک کونسا آپریشن کامیاب ہوا ہے۔ ہم ہر صورت میں امن چاہتے ہیں لیکن ظلم کے خلاف ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف آپریشن شروع کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی لیڈر کا کہنا تھا کہ ان کے دورِ حکومت میں ایک سکیورٹی کمیٹی ہوا کرتی تھی جس میں باقاعدہ بحث ہوتی تھی۔

    ’لیکن اب حال یہ ہے کہ میڈیا بھی کنٹرولڈ ہے۔ یہ ایک مارشلائی ذہنیت ہے۔ اسمبلی تو ہوتی ہی ڈیبیٹ کے لیے ہے۔‘

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ سپیکر ایاز صادق سے ہمارا گلہ ہے کہ ان کا اپوزیشن کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے اور ہمیں بات کرنے کے لیے وقت نہیں دیا جا رہا۔

    ’ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کس پریشر کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ہاؤس میں اپوزیشن کو ان کا حق دینا پڑے گا۔‘

    یاد رہے کہ سنیچر کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد شائع ہونے والے اعلامیے کے مطابق کمیٹی تمام سٹیک ہولڈرز نے اتفاق رائے سے دہشتگردی کے خلاف ’عزم استحکام‘ آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ’عزم استحکام‘ آپریشن دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے قومی عزم کا اظہار ہے۔

    اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزرا، صوبائی وزرائے اعلی، چیف سیکرٹریز نے شرکت کی اور انسداد دہشت گردی کی جاری مہم کا ایک جامع جائزہ لیا گیا۔

  9. مدین میں توہین قرآن کے الزام پر قتل: مقدمے میں نامزد 23 افراد گرفتار، پولیس

    مدین میں توہین قرآن کے الزام پر قتل: مقدمے میں نامزد 23 افراد گرفتار، پولیس

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے مدین میں توہین قرآن کے الزام میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح کے قتل کے واقعے پر مقامی پولیس کی جانب سے 23 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    ترجمان سوات پولیس نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ ان 23 افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا اور انھیں باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جے آئی ٹی نے باقاعدہ طور پر جدید سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے شواہد اکٹھے کیے ہے۔۔۔ گذشتہ رات مختلف کاروائیوں میں نامزد ملزمان میں سے 23 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔‘

    ترجمان سوات پولیس کے مطابق پولیس کی ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ایس پی انویسٹیگیشن باچا حضرت کی سربراہی میں واقعے کی تفتیش کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کی فہرستیں تیار کی گئی ہیں اور کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو ’سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں نظر آئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن پر شک ہے کہ وہ اس میں ملوث ہو سکتے ہیں۔‘

    20 جون کو سوات کے علاقے مدین میں مشتعل افراد نے پولیس تھانے پر حملہ کیا تھا اور توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص کو پولیس کی تحویل سے نکال کر انھیں قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے پر ایس ایچ او مدین اسلام الحق کی مدعیت میں انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

  10. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں فرنٹئیر کانسٹیبلری تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق اور وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Interior

    پاکستان کی حکومت نے اتوار کے روز ملک کے زیر انتظام کشمیر میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

    یہ فیصلہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوارالحق اور وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران لیا گیا۔

    ملاقات میں امن وامان اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    فرنٹیئر کانسٹیبلری کی تعیناتی کی منظوری دیتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں قیام امن کیلئے قفاقی حلومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سکیورٹی سے متعلق انتظامات کو بہتر بنایا جائے گا۔

  11. نیشنل ایکشن پلان ایپکس کمیٹی اجلاس: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف ’عزم استحکام‘ آپریشن لانچ کرنے کی منظوری دے دی

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد شائع ہونے والے اعلامیے کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز نے اتفاق رائے سے دہشتگردی کے خلاف ’عزم استحکام‘ آپریشن شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ’عزم استحکام‘ آپریشن دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے قومی عزم کا اظہار ہے۔

    آج ہونے والے اجلاس میں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزرا، صوبائی وزرائے اعلی، چیف سیکرٹریز نے شرکت کی اور انسداد دہشت گردی کی جاری مہم کا ایک جامع جائزہ لیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں داخلی سلامتی کی صورتحال، نیشنل ایکشن پلان کے کثیرالجہتی اصولوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں خامیوں کی نشاندہی پر زور دیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق انسداد دہشت گردی کی جامع اور نئی جاندار حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں چینی باشندوں کی فول پروف سکیورٹی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور چینی باشندوں کی سکیورٹی کے لیے وزیراعظم کی منظوری کے بعد نئے ایس او پیز متعلقہ اداروں کو ارسال کر دیے گئے جو چینی باشندوں کو جامع سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کریں گے۔

    ایپکس کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق سیاسی اور سفارتی سطح پر علاقائی تعاون کے ذریعے دہشت گردوں کی آپریشنل سپیس ختم کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں گی۔

  12. صوبائی حکومتیں سکیورٹی کی ذمہ داری فوج پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتیں: شہباز شریف

    apex commitee

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتیں سکیورٹی کی ذمہ داری فوج پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتیں، ریاست کو صرف ایک ادارے پر چھوڑنا فاش غلطی ہو گی، ہم سب کو ذمہ داری لینا ہو گی۔

    نیشنل ایکشن پلان ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ دہشت گردی کا مسئلہ پیچیدہ ہے، ملک کی پائیدار ترقی کے لیے استحکام اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے، ریاست کی عمل داری کو نافذ کرنا میری اورہم سب کی ذمہ داری ہے، دہشتگردی کےخلاف جنگ کی ذمہ داری ریاست کے تمام اداروں کا اولین فرض ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مکمل نظام کے بغیر پائیدار ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، توقع ہے صوبے دہشتگردی کے خلاف بھرپور حصہ ڈالیں گے اور مل کر دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ کریں گے، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت کا پوری طرح واضح ہونا ضروری ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جنگ ہماری اپنی ہے، کسی غیر کی جنگ نہیں لڑ رہے، ہمیں ذمہ داری خود لینا ہو گی، ایک ادارے پر ذمہ داری ڈالنا فاش غلطی ہو گی۔

    ’صوبائی حکومتیں سکیورٹی کی ذمہ داری فوج پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتیں، نرم ریاست سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتی، ہمیں طاقت کے تمام عناصر کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پوری قوم کو شامل کرنے کیلئے فعال کردار ادا کرنا ہو گا۔‘

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’افواج دہشتگردی کیخلاف جو جنگ کر رہی ہے اس کے اخراجات وفاق اٹھاتا ہے، حکومت کی آواز کو مضبوط بنانے کے لیے قوانین بنائیں گے، دہشتگردی کے خلاف فوج کی ضروریات پوری کرنے میں کوئی کثر نہیں اٹھا رکھیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں علاقائی ممالک کے ساتھ فعال سفارتکاری کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں قانون سازی کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانا ہو گا۔

    ’دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے تمام وسائل فراہم کریں گے، ریاست کی عملداری کو پوری قوت سے نافذ کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، دہشتگردی میں مبتلا غیرمستحکم ریاست میں اچھی معیشت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔‘

    دورہ چین کے حوالے سے مبینہ منفی مہم پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’قومی بیانیے کو داغدار بنانے کی مہم کو ناکام بنانا ہو گا، پاکستان کے دشمنوں نے سوشل سپیس کو زہر آلود کر رکھا ہے، دورہ چین کے موقع پر بھی منفی مہم چلائی گئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے دشمنوں نے سوشل سپیس کوزہر آلود کر رکھا ہے، ہمیں ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت کی زبان کو ختم کر سکیں اور یقینی بنائیں گے کہ غلط معلومات اور جھوٹ سچائی کو نہ چھپا سکے، اظہار رائے کا غلط استعمال اور آئین کی دھجیاں اڑانے سے بڑا کوئی جرم نہیں ہو سکتا، ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو نفرت اور تقسیم کے بیانیے ختم کر سکیں۔‘

  13. بریکنگ, مذہب کے نام پر توڑ تھوڑ کی گئی، علما اور ایوان سوات واقعے کا نوٹس لیں: احسن اقبال

    ہ سوات میں ہجوم کے ہاتھوں شہری کی ہلاکت

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ سوات میں ہجوم کے ہاتھوں شہری کی ہلاکت پر علما نوٹس لیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پارلیمینٹ کی خصوصی کمیٹی بنا کر قومی لائحہ عمل طے کیا جائے۔

    بجٹ اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سوات میں ایک روز قبل ہجوم کے ہاتھوں موت کا ایک اور افسوسناک واقعہ ہوا۔اس واقعے سے میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ ’ہم کسی کی لاش کی بے حرمتی نہیں کر سکتے۔ اگر ہم نے اس کا اب نوٹس نہیں لیا تو یہ انارکی ہمیں جلا دے گی۔ ہم نے دین کا نام اس توڑ پھوڑ میں استعمال کیا ہے۔ علما کرام بھی اس کا نوٹس لیں۔‘

    احسن اقبال نے کہا کہ ’ایوان کی خصوصی کمیٹی بنائے جو ان واقعات کا جائزہ لے کر اور ایک مشترکہ قومی لائحہ عمل دیا جائے تاکہ ان واقعات کی مستقبل میں روک تھام کی جا سکے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ہمسایہ ملک جہاں مسلمانوں کے ساتھ ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا سلوک ہوتا ہے وہ بھی ہمارا مذاق اڑا رہا ہے۔ آج دنیا میں ہم تعلیم، سائنس، صحت، عمل سب میں پحچھے ہیں۔‘

    سوات میں ہجوم کے ہاتھوں قتل

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    احسن اقبال کے مطابق ’یہ ایسے واقعات کا ایک تسلسل ہے۔ پہلے سیالکوٹ پھرجڑانوالہ، سرگودھا میں یہ واقعات ہوئے۔ اس وقت میں اپنی مثال دینا چاہتا ہوں کہ ایک ایسے ہی جنونی نے میری زندگی لینے کی کوشش کی اور وہ گولی آج بھی میرے جسم میں موجود ہے۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’ایوان اس معاملے کا نوٹس لے کیونکہ معاشرہ تباہی کے اس دہانے پر پہنچ گیا ہے جہاں پر سٹریٹ جسٹس میں دین کے نام کو استعمال کر کے آئین، قانون ، انصاف اور ریاست کے تمام اصولوں کو پیروں تلے روند دیتے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’اسلام نے کافرکی لاش کی بے حرمتی تک سے منع کیا وہاں ہم مشتعل ہجوم کی صورت میں کسی کو مار کر اس کی لاش کو آگ لگا کر اس کا تماشہ دیکھتے ہیں۔‘

  14. بتایا جائے کہ آئی ایس آئی کا بجٹ کہاں لگایا جا رہا ہے: عمر ایوب

    عمر ایوب

    ،تصویر کا ذریعہPTV_Screen Grab

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اجلاس میں تقریر کے دوران موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسز خصوصا آئی ایس آئی کا بجٹ بتایا جائے اور آگاہ کیا جائے کہ وہ بجٹ کہاں لگایا جا رہا ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران عمر ایوب نے کہا کہ ’چینی رہنما پاکستان آئے اور انھوں نے جو باور کروایا اور جسے اخبارات نے بھی رپورٹ کیا وہ یہ ہے کہ قومی معاشی ترقی اور سی پیک کے لیے سکیورٹی اور استحکام ضروری ہے۔‘

    عمر ایوب نے کہا کہ ’چینی عہدیدار کی جانب سے پاکستان میں آکر یہ پیغام دینا، اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ہمیں اپنا گھر درست کرنے کا کہا جا رہا ہے۔‘

    خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ پوچھا جائے کے انٹیلیجنس کیوں ناکام ہو رہی ہے۔ عمران خان کی جیل میں گفتگو سننے اور کیمرہ لگانے کے بجائے ملکی استحکام پرکام کریں۔ ملک کی معیشت بکھر گئی ہے۔‘

    عمر ایوب کے مطابق ’انٹیلیجنس اداروں کے بجٹ کا بتایا جائے کہ کیا ان کا بجٹ ویگو ڈالوں پر لگ رہا ہے اور تحریک انصاف کے ساتھوں اور صحافیوں کے پیچھے وہ ڈالے لگ رہے ہیں یا دہشت گردوں کے پیچھے لگایا جا رہا ہے۔‘

    انھوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ویگو ڈالے دہشت گردوں کے پیچھے لگائے جائیں نہ کہ تحریک انصاف کے لوگوں کے پیچھے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ گزشتہ روز ہمارے کارکنوں کو پر امن احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ارکان پارلیمنٹ کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جس کی مذمت کرتا ہوں۔‘

  15. سکیورٹی پلان پر کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں: محسن نقوی

    اجلاس

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Interior

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سکیورٹی امور کے حوالے سے اجلاس میں چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں متعلقہ اداروں کی جانب سے سکیورٹی پلان اور مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ اجلاس میں ملک میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی پلان کے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی اور کہا کہ ’وضع کردہ پلان کی ہر سطح پر باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ملک دشمن عناصر کے عزائم خاک میں ملانے کے لیے متعلقہ ادارے قریبی رابطہ رکھیں، سکیورٹی پلان پر کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔‘

    اجلاس میں وفاقی سیکریٹری داخلہ، سربراہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا)، کوآرڈینیٹر نیشنل ایکشن پلان نے بھی شرکت کی۔

  16. بلوچستان: مالی سال 25-2024 کے لیے 955 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کی اسمبلی

    ،تصویر کا ذریعہpabalochistan.gov.pk

    بلوچستان کی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 955 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیا گیا جس میں 25 ارب روپے سے زائد کا سرپلس ظاہر کیا گیا ہے۔

    جمعے کے روز بلوچستان اسمبلی میں پیش کئے گئے بجٹ میں وفاقی اور صوبائی محاصل سے آمدنی کا تخمینہ 955 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 930 ارب روپے ہے۔

    آئندہ مالی سال کے لیے غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 609 ارب روپے ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 321 ارب روپے ہے۔

    بلوچستان کے آئندہ مالی سال کا بجٹ سپیکر صوبائی اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں صوبائی وزیرخزانہ میر شعیب شیروانی نے ایوان میں پیش کیا۔

    نئے مالی سال میں بلوچستان حکومت کے گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد، گریڈ 17 سے اوپر کے ملازمین کی تنخواہوں میں 22 فیصد جبکہ سابق ملازمین کی پینشن میں 15فیصد اضافہ کیا گیا۔

    بلوچستان اسمبلی میں اپنے بجٹ خطاب میں وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم اور صحت کے شعبے کو ترجیح دی گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے 146ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں جن میں غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 126ارب روپے ہے۔

    ان کے مطابق صحت کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 67 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں سے 57 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہیں۔ امن و امان کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 93ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں نو ارب روپے زیادہ ہیں۔

    وزیر حزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں 93 ارب روپے میں سے 74 ارب روپے پولیس ، بلوچستان کانسٹیبلری اور لیویز فورس کے لیے ہیں۔

    بلوچستان کے آئندہ مالی سال کی بجٹ دستاویزات وزیر خزانہ کی تقریر سے محض آدھا گھنٹہ پہلے دیی گئیں جس کے باعث صحافیوں کو بجٹ کی خبریں بنانے میں پریشانی اور مشکلات کا سامنا بھی رہا۔

  17. کرم میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے پانچ اہلکار ہلاک: ’دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے‘

    سکیورٹی فورسز پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرانے سے پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

    اس واقعے پر وزیر اعظم شہباز شریف، صدر آصف زرداری اور دیگر سرکاری حکام کی جانب سے اظہار افسوس کیا گیا ہے جبکہ آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    یاد رہے کہ آئی ایس پی آر کے مطابق جمعے کے روز ضلع کرم کے علاقے سدہ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی دیسی ساختہ بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا کہ ’سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور بہادر جوانوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔‘

    دوسری جانب صدر آصف ذرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ کی جانب سے اس حملے میں ہلاکتوں پراظہار افسوس کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیان میں دہشت گردی کی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے مرنے والوں کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اوران کی بلندی درجات کی دعا کی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

    صدر آصف زرداری نے بیان میں ہلاک ہونے والے پاک فوج کے جوانوں کے جذبہ حب الوطنی اور فرض شناسی کو سراہا اور کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اِداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق علاقے میں ممکنہ طور پر موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 33 سالہ حوالدار عقیل احمد، 30 سالہ لانس نائیک محمد طفیر، 24 سالہ سپاہی انوش رفون، 26 سالہ سپاہی محمد اعظم خان اور29 سالہ سپاہی ہارون ولیم شامل ہیں۔

  18. بہتر ہوتا حکومت اتحادیوں سے بات چیت کر کے بجٹ بناتی، جمہوری قوتوں کو آپس میں مذاکرات کرنے چاہیں: بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جہاں ایک طرف معاشی مشکلات ہیں وہاں سیاسی بحران بھی ہے، اسلام آباد کے سیاستدان ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے اور بات کرنے کو تیار نہیں، معاشرے میں نفرت کی سیاست پھیلائی جارہی ہے، اور سیاسی جماعتیں اپنی انا کے لیے پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ انھوں نے تجویز دی کہ جمہوری طاقتوں آپس میں ہی مذاکرات کرنے چاہیں اور پارلیمان کی بالادستی کو تسلیم کرنا چاہیے۔

    کراچی کے علاقے لیاری میں بینظیربھٹو کی 71 ویں سالگرہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک کے حالات اور مشکلات آپ کے سامنے ہیں، حکومت وقت کوشش کر رہی ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالا جائے، ہم نے مشکل وقت میں مل کر ملک کی معیشت کو سنبھالنا ہے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں بہتر ہوتا کہ حکومت تمام اتحادیوں سے بات چیت کرکے بجٹ بناتی، اگر بجٹ میں پی پی کی رائے موجود ہوتی تو بہتر انداز میں آگے بڑھ سکتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے نمائندے اسلام آباد میں موجود ہیں، وہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی نیت صاف ہے، امید ہے وہ پیپلز پارٹی سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہے، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، عوام کو جو بل ملتا ہے وہ ادا نہیں کر سکتے جبکہ عوام کا بجلی پہنچانے والے اداروں پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ میں ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے، نئے منصوبے سے غریب عوام کو مفت سولر کی سہولت دیں گے، جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں ان کو سبسڈائزڈ ریٹ پر سولر پینل فراہم کریں گے اور پانچ سال میں سولر منصوبے کو پورے سندھ میں پھیلائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا ہے، حکومت سندھ دن رات محنت کرے گی کہ ایسے منصوبے لائیں جس سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ججز نے ایسے فیصلے سنائے جو غریب عوام کو روزگار سے روکنے کا باعث بنے، مہربانی کرکے اسٹے ختم کریں تو عوام کو روزگار مل سکے، ہم درخواست کریں گے کہ روزگار فراہم کرنے دیا جائے، ملک کے موجودہ حالات آپ کےسامنے ہیں۔

  19. سرمایہ کاری کے لیے سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا ہوگا، ترقی کے لیے اندرونی استحکام ضروری ہے: چین

    Pakistan China

    ،تصویر کا ذریعہPID

    چین نے پاکستان پر واضح کیا ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے ملک کی داخلی صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا۔

    جمعے کو چینی وزیر لیوجیان چاؤ نے اسلام آباد میں پاک چین مشاورتی میکانزم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان معاہدوں سے ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے لیکن ترقی کے لیے اندرونی استحکام ضروری ہے۔

    چینی وزیر نے پاکستان کی تمام سیاسی قیادت کے سامنے یہ واضح کیا کہ ’سرمایہ کاری کے لیے سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ’بہتر سکیورٹی سے تاجر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔‘ پاکستان کے سیاسی حالات پر تبصرہ کیے بغیر چینی وزیر نے کہا کہ اداروں اور سیاسی جماعتوں کو مل کر چلنا ہوگا۔

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ سی پیک دو طرفہ تعلقات کا اہم ستون ہے، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاک چین دوستی مزید مضبوط ہوگی، جبکہ سی پیک پر تمام ملکی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین میں منصوبوں کو اپ گریڈ کرنے پر اتفاق کیا گیا، سی پیک کے اگلے مرحلے میں صنعتی پارکس قائم کیے جائیں گے، سی پیک کے اگلے مرحلے میں خصوصی اقتصادی زونز بھی قائم کیے جائیں گے، جبکہ تجارت اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے کئی مواقع کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا ایک میز پر بیٹھنا دوطرفہ سیاسی قیادت کے ایک پیج پر ہونے کی دلیل ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے مشکل حالات میں تعاون پر چینی قیادت کے شکرگزار ہیں۔‘

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ محفوظ مستقبل کے لیے سی پیک منصوبے پر مل کر کام کرنا ہوگا۔

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہPID

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان چین تعلقات کے حوالے سے پاکستانی قوم میں اتفاق پایا جاتا ہے، پاکستان چین دوستی ہمارے باہمی اختلافات سے بالا تر رہی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما حنا ربانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سی پیک کے لیے تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مشترکہ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کی شمولیت خوش آئند ہے۔

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک پر ہم پیشرفت دیکھ رہے ہیں لیکن اس کی رفتار بہت آہستہ ہے تو ہمیں اس رفتار کو بڑھانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں ہم سب کی دلچسپی اور دونوں ملکوں کے درمیان بہترین دوستی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں یہاں صرف اس لیے موجود ہیں کیونکہ آپ یہاں موجود ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس ملک کو دہشت گردی کے خلاف استحکام کی ضرورت ہے، ہمیں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ہمیں تعاون اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کی ضرورت ہے اور سی پیک جیسے قومی مقاصد کے لیے ہم آپ کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور کاروبار کے لیے سب سے اہم یہی ہے کہ قانون کی حکمرانی ہو، جس کا مطلب ہے کہ عدالتیں آزادانہ کام کریں، معاہدوں کا احترام اور وعدوں کی پاسداری کی جائے۔

    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ بدقسمتی سے سی پیک منصوبہ ماضی میں ’ڈس انفارمیشن‘ کا شکار رہا ہے۔

  20. پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، چینی اور امریکی سرمایہ کاری میں بڑی کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں موجودہ مالی سال کے پہلے 11 مہینوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 15 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    زیر جائزہ عرصے میں غیر ملکی سرمایہ کاری 1.7 ارب ڈالر رہی جو گذشتہ مالی سال کے ان مہینوں میں 1.5 ارب ڈالر رہی۔ تاہم مئی کے مہینے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی دیکھی گئی جو 271 ملین ڈالر رہی جو اپریل کے مہینے میں 359 ملین ڈالر رہی۔

    مالی سال کے گیارہ مہینوں میں چین سے آنے والی سرمایہ کاری می 19 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    امریکہ سے آنے والی سرمایہ کاری میں 25 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جب کہ متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں 15 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    چین پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے۔ پاکستان میں ہانگ کانگ سے ہونے والی سرمایہ کاری میں 39 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سنگاپور، کینیڈا اور ہالینڈ سے آنے والی سرمایہ کاری میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔