تل ابیب کے مضافات میں اسرائیلی فوجی اڈے کے قریب ٹرک کی بس سٹاپ سے ٹکر، ایک شخص ہلاک

ٹرک ڈرائیور کی شناخت عرب اسرائیلی شہری رامی ناتور کے نام سے ہوئی ہے جسے مسلح شہریوں نے موقع پر ہی ہلاک کر دیا، حکام واقعے کی ممکنہ حملے کے طور پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

خلاصہ

  • لبنان کے شہر صیدا پر اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں: لبنانی وزارتِ صحت۔
  • اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ ایک دم نشانے پر اور بھرپور تھا۔
  • اسرائیل کے شہر تل ابیب کے مضافات میں فوجی اڈے کے نزدیک ٹرک کے بس سٹاپ سے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
  • ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’دو روز قبل ہونے والے صیہونی حکومت کے حملے کو نہ تو بڑھاوا دیا جائے اور نہ ہی حقیر سمجھا جائے۔‘
  • وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’ ٹیکس کے لیے کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں۔‘
  • ایرانی فوج نے اسرائیلی حملوں میں مزید دو فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے جس سے ہلاکتوں کی کل تعداد چار ہو گئی ہے۔
  • ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد متعدد حکام کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ملک میں نظامِ زندگی ’معمول‘ کی طرف لوٹ آیا ہے۔
  • ایران کے شہر تفتان میں مسلح افراد کے حملے میں کم ازکم 10 ایرانی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں کی اپڈیٹس کے لیے اس لنک پر کلک کیجیئے

  2. غزہ میں سکول کی عمارت میں بنے پناہ گاہ پر اسرائیل کا حملہ، متعدد افراد ہلاک

    غزہ کے الشطی کیمپ میں سکول میں بے گھر افراد کے لیے بنائے گئے پناہ گاہ پر اسرائیلی حملے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام چلنے والے سول ڈیفنس ایجنسی نے میسجنگ ایپ ٹیلی گرام کے ذریعے ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے کئی افراد مل گئے ہیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا اور روئٹرز کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین مقامی صحافی بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی تحقیقات کر رہے رہے ہیں۔

  3. آئی ڈی ایف کا مزید دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق

    اسرائیلی فوج نے اپنے مزید دو فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے ایک جنوبی لبنان میں جب کہ دوسرا شمالی غزہ میں زخمی ہونے کے بعد ہلاک ہوا ہے۔

    اسرائیل ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایک 47 سالہ سارجنٹ گذشتہ روز جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران مارے گئے جبکہ 18 اکتوبر کو غزہ میں زخمی ہونے والا ایک 22 سالہ سٹاف سارجنٹ زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اس سے قبل آئی ڈی ایف نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی لبنان میں اس کے چار فوجی مارے گئے ہیں۔

    تاہم آئی ڈی ایف کی جانب سے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی کہ اس کے فوجی جنوبی لبنان میں کہاں اور کیسے مارے گئے ہیں۔

  4. تل ابیب کے مضافات میں اسرائیلی فوجی اڈے کے قریب ٹرک کی بس سٹاپ سے ٹکر، ایک شخص ہلاک

    تل ابیب

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیل کے شہر تل ابیب کے مضافات میں فوجی اڈے کے نزدیک ایک ٹرک کے بس سٹاپ سے ٹکرانے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے ہیں۔

    حکام ممکنہ حملے کے طور پر اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق بیشتر زخمی عمر رسیدہ افراد ہیں جو قریبی عجائب گھر کی سیر کے لیے آئے تھے۔

    مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں موجود مسلح شہریوں نے ٹرک ڈرائیور کو اس وقت گولی ماری جب اس نے اپنا ٹرک جان بوجھ کر لوگوں سے ٹکرا دیا۔

    ٹرک ڈرائیور کی شناخت رامی ناتور کے نام سے ہوئی ہے جو ایک عرب اسرائیلی تھا۔

    دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سکیورٹی کے وزیر اتامار بن گویر نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ٹرک ڈرائیور کے خاندان کو ملک بدر کر دیا جائے۔

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں اس واقعے کی اطلاع مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر آٹھ منٹ پر موصول ہوئی۔ ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ واقعے کے نتیجے میں زخمیوں میں سے آٹھ افراد ٹرک کے نیچے پھنس گئے تھے۔

    اسرائیلی اخبار ہاریٹز سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کی ایمبولینس سروس کے ترجمان نے بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں بیشتر افراد بزرگ شہری ہیں جو گلیلوٹ میں واقع اسرائیل ڈیفنس فورسز کے اڈے جانے کے لیے بس سے اترے تھے۔

  5. اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شمالی غزہ میں بڑے پیمانے پر اموات پر تشویش کا اظہار

    شمالی غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفلسطینی شہری دفاع کے ارکان شمالی غزہ میں اسرائیلی بمباری میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے سے ایک بچے نکال رہے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شمالی غزہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری بیان میں غزہ میں ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے شہریوں اور ان بیمار اور زخمی افراد کا حوالہ دیا گیا ہے جنھیں جان بچانے کے لیے ضروری صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شمالی غزہ میں لوگوں کو خوراک اور رہائش کی قلت کا سامنا ہے۔

    گوتریس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بیشتر امداد سامان کی فراہمی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ تاہم اسرائیل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایک بار پھر غزہ میں فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  6. جنوبی لبنان میں چار اسرائیلی فوجی ہلاک

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے چار فوجی جنوبی لبنان میں مارے گئے ہیں۔

    تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی کہ اس کے فوجی جنوبی لبنان میں کہاں اور کیسے مارے گئے ہیں۔

  7. سی آئی اے، موساد کے سربراہان غزہ جنگ بندی مذاکرات کے لیے قطر پہنچ گئے

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور اسرائیلی ایجنسی موساد کے سربراہان قطر کے وزیرِ اعظم سے ملاقات کے لیے دوحہ میں موجود ہیں۔

    قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اور مصر بھی جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ہونے والے مذاکرات کا حصہ ہیں۔

    رواں ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ’قاہرہ میں ہونے والی ملاقاتوں‘ کے بعد موساد کے سربراہ کو دوحہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    یہ اعلان بظاہر ان رپورٹس کی جانب اشارہ تھا جن میں کہا گیا تھا کہ مصر کے ایک وفد نے جنگ بندی مذاکرات کی بحالی کے لیے حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔

  8. اختر لانگو کی رہائی کے لیے بی این پی کا بلوچستان میں احتجاج, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    کوئٹہ

    بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اخترمینگل سمیت پارٹی رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے کے اندراج اور سابق رکن اسمبلی اختر حسین لانگو اور اختر مینگل کے پرسنل سیکرٹری شفیع مینگل کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں بشمول خضدار ، نوشکی ، خاران ، مستونگ ، قلات اور سوراب میں اتوار کو احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔

    کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاج کے شرکا نے پارٹی رہنماؤں کے خلاف درج مقدمہ واپس لینے اور اختر لانگو اور شفیع مینگل کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا جب بی این پی کے سربراہ نے پارٹی کے سینیٹروں کو یرغمال بنا کر انھیں 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کرنے کے غیر اخلاقی اور غیر جمہوری عمل کو عوام کے سامنے ایکسپوز کیا تو ان کے اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

    خیال رہے کہ اخترمینگل اور بی این کے رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی اور تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت تھانہ سیکریٹریٹ، اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے۔

    22 اکتوبر کو سینیٹ سیکریٹیریٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر جمیل احمد کی مدعیت میں درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 22 اکتوبر کو ہونے والے سینیٹ کے اجلاس کے دوران اختر حسین لانگو، جہانزیب مینگل، شفیع محمد، احمد نواز اور شفقت ٹکری بغیر اجازت سینیٹ کی گیلریوں اور لابیز میں داخل ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق سردار اختر مینگل بھی ان افراد کے ہمراہ تھے۔

    ایف آئی آئی آر کے مطابق جب سیکریٹریٹ کے عملے نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے متعلقہ عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان اسلحے سے لیس تھے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ عمل سینیٹ کے معاملات میں مداخلت اور اس کے عملے کو کام سے روکنے کے مترادف ہے۔

    اس مقدمے کے اندراج کے بعد اسلام آباد پولیس نے بی این پی کے سابق رکن اسمبلی اختر حسین لانگو اور شفیع مینگل کو گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس نے دونوں ملزماں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے ان کا سات روزہ ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

  9. لبنان کے شہر صیدا پر اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ افراد ہلاک، 11 زخمی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    لبنان کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز لبنان کے شہر صیدا پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں پانچ افراد ہلاک جب کہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔

    صیدا میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار نوال المقحفی کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت وہ شہر کے مرکزی ہسپتال کی کار پارک میں موجود تھیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ حملہ بالکل غیر متوقع تھا اور اس حملے سے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے کوئی انتباہی پیغام بھی جاری نہیں کیا گیا تھا۔ لبنان کے اس حصے میں آخری مرتبہ 15 اکتوبر کو حملہ ہوا تھا۔

  10. اسرائیل کا ایران پر حملے کے تمام مقاصد حاصل کرنے کا دعویٰ

    نتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملے کے تمام مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ ایک دم نشانے پر اور بھرپور تھا۔

    ایران نے سنیچر اور جمعے کی درمیانی شب ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت تصدیق کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے تمام مقاصد جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے کچھ تکلیف دہ فیصلے لینے ہوں گے۔

  11. اسرائیلی فوجی اڈے کے قریب ٹرک کی بس سٹاپ سے ٹکر، درجنوں زخمی

    تل ابیب

    ،تصویر کا ذریعہMagen David Adom

    اسرائیل کے شہر تل ابیب کے مضافات میں فوجی اڈے کے نزدیک ایک ٹرک کے بس سٹاپ سے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے چھ کی حالت تشویوشناک بتائی جا رہی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے تاہم مقامی میڈیا اسے ایک ممکنہ حملہ قرار دے رہا ہے۔

    مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں موجود مسلح شہریوں نے ٹرک ڈرائیور کو اس وقت گولی ماری جب اس نے اپنا ٹرک جان بوجھ کر لوگوں سے ٹکرا دیا۔

    تل ابیب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھیں اس واقعے کی اطلاع مقامی وقت کے مطابق 10 بج کر آٹھ منٹ پر موصول ہوئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ زخمیوں کو جائے وقوعہ پر ہی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    اسرائیلی اخبار ہاریٹز سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کی ایمبولینس سروس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں بیشتر افراد بزرگ شہری ہیں جو گلیلوٹ میں واقع اسرائیل ڈیفنس فورسز کے اڈے جانے کے لیے بس سے اترے تھے۔

  12. اسرائیلی حملے کو نہ بڑھاوا دیا جائے نہ حقیر سمجھا جائے: آیت اللہ خامنہ ای

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہTabnak

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’دو روز قبل ہونے والے صیہونی حکومت کے حملے کو نہ تو بڑھاوا دیا جائے اور نہ ہی حقیر سمجھا جائے۔‘

    ایران پر اسرائیل کے حملے کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا یہ پہلا بیان آج سامنے آیا ہے۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایران میں موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے ذریعے ایران نے اسرائیل پر حال ہی میں کیے گئے میزائل حملوں کی قیمت ادا کی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق ’یہ ایک واضح پیغام ہے کہ جو لوگ اسرائیلی ریاست کے لیے خطرہ بنیں گے انھیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

    ایرانی فوج اسرائیلی حملوں میں اب تک اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر چکی ہے۔

    اتوار کے روز ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی فوجیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور کہا کہ ’اسرائیل کے اندازے درست نہیں اسے ایرانی قوم اور ملک کے جوانوں کی طاقت، عزم اور اقدام کو سمجھنا چاہیے۔‘

    اسرائیلی حملے پر ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا، حکام صیہونی حکومت کے لیے ایرانی قوم کے جذبات کو تسلیم کریں اور وہ قدم اٹھائیں جو اس قوم اور ملک کے لیے بہتر ہو۔

    یاد رہے کہ ایران کی حکومت اسرائیل کو صیہونی حکومت کے نام سے یاد کرتی ہے۔

    رہبر اعلیِ خامنہ ای نے معاشرے کی نفسیاتی صحت کے برقرار رکھنے کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا ’سلامتی کے معاملے میں معاشرے کی نفسیاتی صحت اور حفاظت کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ لوگوں کے دلوں میں خوف اور شک کو پیدا ہونے سے روکا جائے۔‘

  13. نان فائلرز گاڑیاں اور جائیداد نہیں خرید سکیں گے : وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’ پائیدار معاشی ترقی کے لیے طویل المدتی پروگرام پر کام کر رہے ہیں۔ ٹیکس کے لیے کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ نان فائلر سے متعلق ہمیں قانونی کور کی ضرورت ہے، ہم نان فائلر کی اصطلاح ہی ختم کررہے ہیں۔‘

    واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ’ نان فائلر افراد گاڑیاں اور جائیدادیں نہیں خرید سکیں گے۔‘

    یاد رہے کہ وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب دیگر حکام کے ہمراہ عالمی مالیاتی اداروں کے حکام سے ملاقاتوں کے لیے امریکہ کے دورے پر ہیں۔

    پریس کانفرنس کے موقع پر انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ میں سٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں مثبت رہیں، سٹیک ہولڈرز نے پاکستان میں مہنگائی میں کمی کے اعشاریوں کو سراہا ہے۔

    وزیر خزانہ کی امریکہ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدرسے ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    ،تصویر کا کیپشنوزیر خزانہ کی امریکہ میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدرسے ملاقات

    وزیرخزانہ کے مطابق امریکہ میں سعودی وزیر خزانہ سمیت آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے نمائندوں سے مثبت ملاقاتیں ہوئیں، آئی ایم ایف کے نمائندوں سے حوصلہ افزا بات چیت ہوئی۔

    وزیرخزانہ نے دعویٰ کیا کہ ’تمام ریٹنگ ایجنسیاں تسلیم کر رہی ہیں کہ پاکستانی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، معیشت کی بہتری کے لئے مزید مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔‘

    وزیرخزانہ نے کہا کہ ورلڈ بینک پاکستان کو قرض نہیں گرانٹ دے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ تعمیری بات چیت ہوئی ہے، کوشش ہوگی ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ آخری پروگرام ہو، ہمارے اقدامات کی وجہ سے ملک میکرو اکنامک استحکام کی جانب گامزن ہے۔‘

    محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 11 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو نو سے 13 فیصد پرلانے کا عزم ہے۔

    اس موقع پر گورنرسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان نے غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم کر دیا ہے، اس وقت تمام بینک ہمارے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہیں، عالمی ادارے بھی قرض دینا چاہتے ہیں لیکن اب ہم اپنی شرائط پر قرض لیں گے۔

  14. اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں ’نظامِ زندگی معمول کے مطابق چل رہا ہے‘, مسعود آذر، بی بی سی فارسی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ایرانی میڈیا اور نیوز چینلز پر جو پیغام دیا جا رہا ہے وہ واضح ہے: زندگی معمول کی طرف لوٹ آئی ہے۔

    ایرانی میڈیا پر شہروں اور تیل کی تنصیبات کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اسرائیل کے حملے کو نہ صرف دبانا چاہتی ہے بلکہ اس کے اثرات کی اہمیت کو بھی کم کرنا چاہتی ہے۔

    ایک بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ تہران کسی بھی غیرملکی جارحیت کے خلاف ’حقِ دفاع رکھتا ہے۔‘

    صرف یہی نہیں ایرانی وزارتِ خارجہ نے ’متعدد فوجی اڈوں پر‘ اسرائیل کے حملے کی مذمت بھی کی اور اسے ’بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے ’خطے اور اس سے باہر امن سے محبت کرنے والے ممالک‘ سے درخواست کی کہ وہ اسرائیلی کارروائی کی مذمت کریں۔

    ایران کی ایئر ڈیفینس کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملے تہران، ایلام اور خوزستان میں ہوئے ہیں۔

    ان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ’کچھ مقامات پر محدود نقصانات‘ ہوئے ہیں۔

    ایرانی فوج کے ایک بیان کے مطابق اسرائیلی حملوں میں چار فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان فوجیوں کی موت کس مقام پر ہوئی، تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ان کی موت ’مجرم صہیونی حکومت کے میزائل روکتے ہوئے ہوئی ہے۔‘

    ایرانی محکمہ شہری دفاع نے شہریوں کو موبائل فونز پر بھیجے گئے پیغامات میں مشورہ دیا کہ وہ ’غیرتصدیق شدہ خبروں‘ پر توجہ نہ دیں اور کسی بھی مشکوک لنک پر کلک نہ کریں۔

    اس کے ساتھ ساتھ پاسدارانِ انقلاب کے سائبر ڈویژن نے خبردار کیا کہ کوئی بھی شہری ’دشمن میڈیا‘ کو کوئی اطلاع یا تصویر نہ بھیجے کیونکہ اسے جرم تصور کیا جائے گا۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا تھا کہ: ’شہریوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ صہیونی ریاست سے منسلک میڈیا کو تصاویر یا اطلاعات بھیجنا جُرم ہے۔‘

    ایران میں انقلاب کے بعد ایرانی حکومتیں ’اسرائیل‘ کو اس کے نام سے پکارنے سے اجتناب برتتی آئی ہیں اور ان کی جانب سے اسرائیل کے لیے ’صہیونی ریاست‘ جیسے الفاظ ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔

    تمام دھمکیوں اور پابندیوں کے باوجود بھی بی بی سی فارسی ایک ایرانی شہری سے بات کرنے میں کامیاب رہا ہے جنھوں نے اسرائیل کے حملے کے بعد ایران میں موجودہ ماحول کی تصویر کشی کی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل پر ایران کے حملے کے 21 دنوں کے دوران اسرائیل کے متوقع حملے کی تیاری نے ایران کی معیشت اور اس کے عوام کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔‘

    بی بی سی کو انھوں نے بتایا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تناؤ کا ملک کی معیشت اور لوگوں پر ’تباہ کُن‘ اثر پڑا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کشیدگی کے سبب ناصرف غیرملکی پروازوں کے ٹکٹ مہنگے ہوئے بلکہ ایرانی ریال کی قیمت میں بھی 20 فیصد کمی آئی ہے۔

    ان کے خیال میں اسرائیلی حملوں کا مرکزی ہدف ایران کی معیشت تھی، جبکہ سنیچر کے حملے صرف ایران پر ’سٹریٹیجک فوقیت‘ حاصل کرنے کی اسرائیلی کوشش تھی۔

    اسرائیلی حملے میں ایرانی نقصانات کا ابتدائی جائزہ

    پاسدارنِ انقلاب سے قریب تصور کیے جانے والے خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل کے تہران، خوزستان اور ایلام میں حملے ’کمزور‘ تھے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے ایران میں عسکری مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور اسے کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی۔

    تاہم ان خبروں میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے فضائی دفائی نظام اور پہلے سے لیے گئے ایرانی اقدامات کے سبب اسرائیلی حملوں میں ’کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔‘

    تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ’باخبر ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ 20 مقامات پر حملوں کا دعویٰ اسرائیل کے ’سائیکولوجیکل آپریشن‘ کا حصہ ہے اور یہ کہ اس آپریشن میں 100 اسرائیلی طیاروں کے حصہ لینے کی اطلاعات جھوٹ ہیں۔

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس ذرائع کے مطابق اسرائیل اپنے کمزور حملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دوسری جانب اسنا نیوز ایجنسی نے ’چھوٹی ریاست کی بیوقوفی‘ کے عنوان سے لکھا گئے اداریے میں کہا ہے کہ: ’ایران کسی بھی جارحیت کے خلاف ردِ عمل دینے کا حق رکھتا ہے اور وہ اسرائیل کی کارروائی کا مناسب جواب دے گا۔‘

    رواں مہینے کی پانچ تاریخ کو ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران نہ ہچکچاتے ہیں اور نہ جلدی بازی کرتے ہیں۔‘

    ان کا یہ بیان حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی موت کے ایک ہفتے اور اسرائیل پر ایرانی حملے کے تین بعد منظرِ عام پر آیا تھا۔

    خیال رہے 2 اکتوبر کی رات کو پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ انھوں نے اسماعیل ہنیہ، حسن نصراللہ اور عباس نلفوروشن کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل کی طرف درجنوں ہائپرسونک میزائل داغے ہیں۔

    اس کے بعد اسرائیل کی جانب سے متعدد بار کہا گیا تھا کہ وہ ایران کے میزائل حملوں کا جواب دے گا۔

    ’نظامِ زندگی معمول کی طرف لوٹ آیا‘

    ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد متعدد حکام کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ملک میں نظامِ زندگی ’معمول‘ کی طرف لوٹ آیا ہے۔

    ایرانی وزارتِ تعلیم کے مطابق 27 اکتوبر کو تمام سکول کھلے رہیں گے اور تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رہیں گی۔

    گذشتہ رات ایران میں بین الاقوامی اور ڈومیسٹک پروازیں تعطل کا شکار ہوئی تھیں۔ امام خمینی ایئرپورٹ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سلام ایئر، الجزیرہ، فلائی دُبئی اور ایئر عربیہ کی پروازیں اب بھی معطل ہیں لیکن توقع ہے کہ صبح تک تمام پروایں بحال ہو جائیں گی۔

    انھوں نے تصدیق کی کہ ایران میں اب ڈومیسٹک پروازیں بلاتاخیر چل رہی ہیں۔

    ’آئل ریفائنریوں کو نقصان نہیں پہنچا‘

    تہران اور آبادان کی آئل ریفائنریوں پر تعینات حکام نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ان تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور وہ معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں۔

    تہران ریفائنری کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ریفائنری پر کوئی حملہ نہیں ہوا اور وہاں پروڈکشن معمول کے مطابق جاری ہے۔‘

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب آبادان ریفائنری کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ان کے آپریشن بھی معمول کے مطابق جاری ہیں۔ انھوں نے وضاحت کی کہ اہلِ علاقہ نے جن دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں وہ دراصل دفاعی فائرنگ کا نتیجہ تھیں۔

    گیس سٹیشن آپریٹرز کے ایک ترجمان کہتے ہیں کہ اسرائیلی حملوں کے سبب تیل کی سپلائی میں کوئی رُکاوٹ نہیں آئی ہے۔

  15. بریکنگ, ایرانی فوج کا اسرائیلی حملوں میں مزید دو فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان

    ایرانی فوج نے کل رات کے اسرائیلی حملوں میں مزید دو فوجیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے جس سے ہلاکتوں کی کل تعداد چار ہو گئی ہے۔

    ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں پاسدارنِ انقلاب نے کہا ہے کہ پہلے جن دو سپاہیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی ان کے علاوہ دو اور فوجی سجاد منصوری اور مہدی ناغاوی بھی ان حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

  16. ’اگر ایران نے کشیدگی کو بڑھانے کی غلطی کی تو ہم جواب دینے کے پابند ہوں گے‘آئی ڈی ایف کے ترجمان, یولیند نیل - بی بی سی نیوز، یروشلم

    سنیچر کے روز سے صبح سویرے سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں کئی گھنٹوں کے فضائی حملوں کے دوران ایران کی فضاؤں میں دھماکوں کی گونج سنائی دیتی رہی۔

    اسرائیل کو اپنے قریبی اتحادی امریکہ کی طرف سے مسلسل خبردار کیا جا رہا تھا کہ ایران کے تیل اور جوہری تنصیبات پر حملے کی صورت میں ایک مکمل علاقائی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

    ایسے میں اسرائیل نے اعلان کیا کہ اس نے پہلے درجنوں لڑاکا طیاروں سے ایران کے فضائی دفاع کو اور پھر ڈرون اور بیلسٹک میزائل بنانے اور لانچ کرنے مقامات نشانہ بنایا۔

    اس سے قبل اسرائیلی فوج کے ترجمان ایڈمرل ڈینیئل ہیگاری نے ایران سے کہا تھا کہ وہ جوابی کارروائی نہ کرے اور ’اگر ایران کی حکومت نے کشیدگی کا نیا دور شروع کرنے کی غلطی کی تو ہم جواب دینے کے پابند ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا ’ہمارا پیغام واضح ہے وہ تمام لوگ جو اسرائیل کی ریاست کو دھمکیاں دیتے ہیں اور خطے کو وسیع تر کشیدگی کی طرف گھسیٹنا چاہتے ہیں انھیں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔‘

    ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملے کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیا ہے لیکن کچھ مقامات پر محدود نقصان ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی ’کھلی اور واضح خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

    امریکہ کی جانب سے کہا ہے کہ گو کہ اسے اسرائیل کی کارروائی سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا تاہم وہ خود اس میں ملوث نہیں۔

    ساتھ ہی امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی ردعمل آتا ہے تو وہ ایک بار پھر اسرائیل کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

  17. حزب اللہ نے اسرائیل پر آج لگ بھگ 80 میزائل فائر کیے: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی ڈیفینس فورس کا کہنا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ شدت پسند تنظیم حزب اللہ نے آج اسرائیل پر تقریباً 80 میزائل فائر کیے ہیں۔

    آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سنیچر کی سہ پہر حزب اللہ کی طرف سے لگ بھگ 80 میزائل داغے گئے۔

    یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے سنیچر اور جمعے کی درمیانی شب ایران میں حملے کیے گئے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے امریکی سی بی ایس چینل کے ساتھ بات چیت میں کہا تھا کہ تہران کے وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے چند منٹ قبل تک اسرائیلی حملے جاری تھے۔

    ایرانی فوج نے صبح سویرے ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اپنے دو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق اسرائیل کے مقامی وقت کے مطابق سہہ پہر تین بجے لبنان سے یہ میزائل اسرائیل میں داخل ہوئے۔

    آئی ڈی ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم حزب اللہ کی طرف سے لاحق خطرے کے خلاف ریاست اسرائیل اور اس کے عوام کا دفاع جاری رکھے گا۔

  18. اسرائیل نے ایران کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا: بی بی سی ویریفائی, ڈینیئل پلمبوئی بی بی سی نیوز

    ایران میں سنیچر اور جمعے کی درمیانی شب اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کئی ایرانی شہروں سے کئی ویڈیوز پوسٹ کی گئیں۔

    بی بی سی ویریفائی نے سوشل میڈیا کا تجزیہ کیا اور انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی بہت سی ویڈیوز کی چھان بین کی ہے۔

    اگرچہ رات کے وقت ایران کے حملے سے متعلق شائع مواد کی تصدیق کرنا مشکل ہے کیونکہ اندھیرے کے باعث مقام کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔

    تاہم بی بی سی ایک ایسی ویڈیو کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا جسے تہران کے شمالی علاقے میں فلمایا گیا تھا۔

    اس ویڈیو میں رات کے وقت دھماکے کی آواز کے ساتھ آسمان میں روشنی کی چمک دیکھی جا سکتی ہے۔

    ویڈیو میں نظر آنے والا وہ مخصوص علاقہ مشرق سے تہران تک جانے والی اہم سڑکوں میں سے ایک سمجھے جانے والی دماوند روڈ سے قریبی مشابہت رکھتا ہے۔

    بی بی سی نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ تصاویر میں تہران کے جنوب میں واقع حضرت امیر ایئر ڈیفنس بیس سے آگ کے شعلے اور سیاہ دھواں بھی نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ فوجی اڈوں کے علاقے کی ان تصویروں میں ایک پل، ٹرین کی پٹری اور اونچے ٹاور کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    بی بی سی ویریفائی ایران پر حملے سے متعلق سوشل میڈیا کے مزید مواد کی تصدیق جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ایران پر حملے

    دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا نے حملے کا نشانہ بننے والے تین مقامات کی تصدیق کی ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کے حملوں نے تہران میں فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ مغربی صوبے الام اور جنوب مغربی خوزستان کے مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیل نے اپنے بیان میں ایرانی ملٹری سائٹس پر راتوں رات مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ حملوں کے بیان میں حملے کا نشانہ بننے والے مقامات کی تصدیق نہیں کی تھی۔

    دوسری جانب ایران کی فضائی دفاعی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملوں کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کیا گیا جبکہ کچھ مقامات پر محدود نقصان ہوا۔ ایران کی جانب سے حملوں میں اپنے دو فوجی کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

  19. حملے سے قبل ایران کو جوابی کارروائی نہ کرنے کا پیغام بھیجا تھا, جیار گوئیل، بی بی سی نیوز

    اسرائیلی میڈیا کی مطابق آج کے حملوں سے قبل اسرائیل نے ایک تیسرے فریق کے ذریعے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ جوابی کارروائی نہ کرے۔

    یکم اکتوبر کو اسرائیل پر ایران کے حملے اور آج صبح اسرائیل کی جانب سے ایران پر جوابی حملے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ دونوں ہی ممالک ایک مکمل جنگ کے دور میں داخل نہیں ہونا چاہتے اور اس دوران انسانی جانوں کا نقصان بھی کم سے کم رکھنا چاہتے ہیں۔

    ایران کی تیل اور جوہری تنصیبات کو بھی آج صبح سویرے حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا تھا تاہم ایسا ارادتاً نہیں کیا گیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے آج صبح بیان میں کہا کہ آج کے حملوں کا ہدف میزائل پروڈکشن سائٹس، سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سائٹس اور فضائی دفاعی مقامات تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اب اسرائیل کو ایران میں وسیع فضائی برتری حاصل ہے

    ایسا لگتا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو نقصان پہنچانے سے زیادہ فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے آج کے حملوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

    اپریل میں ایرانی حکومت نے اصفہان کے قریب ایرانی فضائی دفاع کو نشانہ بنانے والے حملے کی تردید کی تھی تاہم گزشتہ ہفتے، پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر، جنرل جعفری نے اس حملے کا اعتراف کیا تھا گو کہ انھوں نے اس کے اثرات کو کم بیان کیا۔

    آنے والے دنوں میں، اسرائیل اور ایران میں بہت سے لوگ اس کشمکش میں مبتلا رہیں گے کہ آیا ایران جوابی کارروائی کرتا ہے یا جواب دینے سے گریز کرے گا جیسا کہ اس نے اصفہان کے واقعے کے بعد کیا تھا۔ اور یا پھر کوئی اور طریقہ اختیار کرے گا۔

  20. ایران پر اسرائیل کے حملے سے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    ایران پر حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • اسرائیل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نے سنیچر اور جمعے کی درمیانی شب ایران میں فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے امریکی سی بی ایس چینل کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ تہران کے وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے چند منٹ قبل تک اسرائیلی حملے جاری تھے۔
    • پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف نے ایران کے خلاف اسرائیل کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان قیام امن کے لیے ایران اور اپنے دیگر پڑوسی ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
    • ایرانی فوج نے صبح سویرے ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اپنے دو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ایران کی فوج کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ’گزشتہ رات ایران کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے اسرائیل کے میزائلوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دو فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔‘ اس سے قبل ایران کی فضائی دفاعی افواج نے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے تہران، خوزستان اور ایلام صوبوں میں اس کے اڈوں پر حملے کیے ہیں۔ کچھ مقامات پر ’محدود نقصان‘ ہوا ہے۔
    • اسرائیل کی دفاعی افواج کے ترجمان ڈینیئل ہیگری نے ایک نئے بیان میں نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر اپنے حالیہ حملوں کی قیمت ادا کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان مقامات کا انتخاب ممکنہ اہداف کی فہرست ’براڈ ٹارگٹ بینک‘ سے کیا ہے اور وہ ’اس فہرست میں سے اضافی اہداف کا انتخاب کرکے ضرورت پڑنے پر ان پر بھی حملہ کرکے گا۔‘
    • ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی ’کھلی اور واضح خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
    ایران میں حملے کے بعد طلوع صبح کا منظر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد طلوع صبح کا منظر
    • سعودی عرب نے اسرائیل کی جانب سے ایران کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اس کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
    • ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حماس نے رات گئے ایران میں فوجی مقامات پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ حملے ایرانی خودمختاری کی سراسر خلاف ورزی‘ اور ’خطے کی سلامتی کو نشانہ بنانے کی کوششیں ہیں۔‘
    • امریکہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف اسرائیل کے تازہ ترین حملوں کا جواب نہ دے۔ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اگر ایران نے ایک بار پھر جواب دینے کا فیصلہ کیا تو ہم تیار رہیں گے اور ایک بار پھر ایران کے لیے اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
    • ایران نے ان حملوں کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی، جسے تھوڑی دیر بعد ہی بحال کر دیا گیا۔