یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
17 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’کوئی بھی حساب ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ہم پوری قوت کے ساتھ اپنے فوجیوں اور شہریوں کا دفاع کریں گے۔‘ دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر عمان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
17 اگست کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بلوچستان اسمبلی کی حکومتی خواتین اراکین نے کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ضلع نوشکی میں ایک حملے میں دو خواتین کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔
خواتین کی ہلاکت کا واقعہ جمعہ اور سینیچر کی درمیانی شب نوشکی شہر کے قریب کلی مینگل میں پیش آیا تھا۔
سرکاری حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں علی احمد نامی شخص کے گھر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کرکے ان کی اہلیہ بی بی حنیفہ اور بیٹی حفصہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔
بلوچستان اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر غزالہ گولہ، وزیر تعلیم راحیلہ درانی اور رکن اسمبلی ہادیہ نواز کی ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے کھیل و امور نوجوانان مینا مجید نے الزام عائد کیا کہ کہ دونوں خواتین کو بیرونی ممالک کے ایما پر کام کرنے والے عناصر نے قتل کیا۔ یہ واقعہ چادر اور چار دیواری کی پامالی ہے۔
انھوں نے نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ کالعدم تنظیمیں ان خواتین پر بھی حملہ آور ہو رہے ہیں جو ہر چیز سے استثنیٰ رکھتی ہیں۔ یہ حقوق کی جنگ نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈا پر کام کررہے ہیں۔
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی نے کہا کہ ’خواتین پر تشدد کر کے قتل کرنا ایسا عمل ہے جس کی ہر کوئی مذمت کرتا ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں سے شرپسند اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔‘
رکن صوبائی اسمبلی ہادیہ نواز نے کہا ’آج اگر نوشکی میں واقعہ ہوا ہے تو ہم بھی محفوظ نہیں۔ سب کو مل کر اس واقعے کی مذمت کرنی چاہیے۔‘
خواتین اراکین نے نوشکی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پی ڈی ایم اے پنجاب اور خیبرپختونخوا نے مون سون بارشوں کے چھٹے سپیل کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔جس میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بوسیدہ و کچے مکانات میں ہرگز رہائش اختیار نہ کریں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق 16 اگست کی رات سے 21 اگست تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے سیف انور جپہ نے کہا کہ 17 سے 20 اگست کے دوران راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ ، برساتی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی امکان ہے۔
اعلامیے کے مطابق بارشوں کے نیے سلسلہ کے دوران راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، اٹک، سیالکوٹ، نارووال، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور وزیرآباد میں بارشوں کا امکان ہے۔
اعلامیے کے مطابق لاہور، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، سرگودھا، خوشاب، میانوالی، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لیہ، بھکر، ساہیوال میں بھی اس دوران بارش ہو سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ
دوسری جانب پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی جانب سے بارشوں کے پیش نظر الرٹ میں صوبے کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اضلاع چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، ملاکنڈ، باجوڑ اور کوہستان میں بھی بارش کا امکان ہے جبکہ پشاور، مردان، صوابی، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ، کرم اور ہنگو میں بھی بارش متوقع ہے۔
اعلامیے میں مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بتایا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی کہ آندھی اور طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
اعلامیے کے مطابق شہری آسمانی بجلی سے بچاؤ کے لیے محفوظ مقامات پر رہیں اور بجلی کی گرج چمک و طوفانی صورتحال کے دوران کھلے آسمان تلے جانے سے گریز کریں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک میں گزشتہ نو دن سے جاری ہڑتال کو 40 دن کے لیے موخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
گورنر ہاؤس کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹرز اور حکومتی حکام کے درمیان مذاکرات کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال 40 روز کے لیے موخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
آل پاکستان گڈزٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مطالبات کے حل کے لیے یقین دہانیاں کرائی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہڑتال ختم نہیں بلکہ مؤخر کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر مواصلات نے احتجاجی کیمپ کے دورے پر گڈز ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اس سے پہلے گورنر ہاؤس کراچی میں گورنر سندھ، وفاقی وزیر مواصلات علیم خان اور دوسرے حکومتی حکام اور گڈز ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر رد و بدل کا نظام ختم کرکے قیمتوں کا تعین ماہانہ بنیاد پر کرنے، ٹول ٹیکس میں کیے گئے اضافے کو بھی واپس لینے، ٹول ٹیکس کی شرح 30 جون 2024 کی سطح پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس کے ساتھ اگلے ایک سال تک ٹول ٹیکس میں کسی قسم کا اضافہ واپس لینے اور اس عرصے کے دوران نئے ٹول پلازے بھی تعمیر نہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBNP
بلوچستان کے ضلع سوراب میں چھ افراد کی ہلاکت اور 16 کے زخمی ہونے کے واقعے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔
کوئٹہ میں پولیس نے پریس کلب کے باہر مظاہرے کے انعقاد کو روکنے کے لیے پریس کلب جانے والے راستوں کو بند کیا تھا جس کے باعث بی این پی کے کارکنوں نے چمن پھاٹک کے قریب واقع چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
سوراب میں خواتین اور بچوں سمیت چھ افراد کی ہلاکت اور 16 کے زخمی ہونے کا واقعہ سوراب کے علاقے کورکی گوندان میں کلی عبدالرحیم میروانی میں پیش آیا تھا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر قوم پرست جماعتوں کا یہ الزام ہے کہ یہ لوگ طیاروں کی بمباری سے ہلاک اور زخمی ہوئے۔
تاہم بلوچستان حکومت اور دوسرے ریاستی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عسکریت پسندوں کی جانب سے تیاری کے دوران بم کے پھٹنے اور اس کے نتیجے میں وہاں ذخیرہ کیے جانے والے دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے پیش آیا۔

،تصویر کا ذریعہBNP
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مظاہروں کے دوران اس واقعے کی مذمت کی گئی اور واقعے کی آزادانہ عدالتی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
بی این پی کے مظاہروں میں بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کو بند کرنے اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

کوئٹہ میں بھی بی این پی نے پریس کلب کے باہر مظاہرے کا اعلان کیا تھا لیکن پولیس نے کوئٹہ پریس کلب جانے والے تینوں راستوں کو بند کیا تھا جہاں پریس کلب کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی وہاں پریس کلب جانے والے راستوں پر خاردار تار رکھنے کے علاوہ جیل اور پولیس کی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں۔
پریس کلب کے باہر پولیس کے ایک سینیئر آفیسر نے بتایا چونکہ دفعہ 144 نافذ ہے اور پارٹی کی جانب سے ڈپٹی کمشنر سے این او سی حاصل نہیں کی گئی ہے اس لیے انھیں مظاہرہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔
اس صورتحال کے باعث بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکن پریس کلب تو نہیں پہنچ سکے لیکن انھوں نے چمن پھاٹک کے قریب چوک پر مظاہرہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے کہا ہے کہ فوج نے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت جو کوئی بھی کسی امریکی فوجی کو ہلاک کرے گا یا اسے گرفتار کر کے حوالے کرے گا، اسے ’30 ہزار ڈالر یا پانچ ارب تومان کے مساوی تحفہ‘ دیا جائے گا۔
اتوار کو تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے انعامی رقم مردوں کے مقابلے میں دگنی، یعنی 60 ہزار ڈالر ہوگی۔
ایرانی فوجی کمانڈر نے مزید کہا کہ ’جو شخص کسی امریکی جارح کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوگا، اس کا ہتھیار دگنی قیمت پر خریدا جائے گا اور اسے نیا ہتھیار فراہم کیا جائے گا۔ اس شخص کے ہتھیار کو ایک مخصوص میوزیم میں بھی رکھا جائے گا۔‘
اسرائیل نے کہا ہے کہ اگر اسے حزب اللہ کی جانب سے خطرہ محسوس ہوا تو وہ اس گروپ پر دوبارہ حملہ کرے گا۔
اسی دوران، اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے ایک ایسے کمانڈر کی شناخت کی ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ روز ہونے والے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔
اسرائیل نے بتایا کہ حزب اللہ کی ’بدر یونٹ‘ کے ایک سینیئر کمانڈر، ابو حسن علاء گذشتہ روز کے حملوں میں مارے گئے۔
لبنانی حکام کے مطابق، جنوبی لبنان میں سنیچر کو ہونے والے اسرائیلی حملوں میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ جون میں لڑائی ختم کرنے کے معاہدے کے بعد سے اب تک کے سب سے مہلک حملے تھے۔
اسرائیل کا کہنا تھا کہ یہ حملے جنوبی لبنان میں نام نہاد ’سکیورٹی زون‘ کے اندر حزب اللہ کی جانب سے بارود بردار ڈرونز کے استعمال کے ردِعمل میں کیے گئے تھے۔ اس حملے میں ایک افسر سمیت تین اسرائیلی فوجی شدید زخمی ہو گئے تھے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’کوئی بھی حساب ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ہم پوری قوت کے ساتھ اپنے فوجیوں اور شہریوں کا دفاع کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ سابق رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے چہلم کی تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد کی جائیں گی۔
دفتر کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ ہلاک ہونے والے اہلخانہ کی یاد میں تقریبات کا انعقاد تین شہروں میں کیا جائے گا۔
بیان کے مطابق یہ تقریبات اسلامی انقلاب کے موجودہ رہبر، آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی ہدایت پر منعقد ہوں گی۔
منگل 18 اگست کو تہران میں امام خمینی مصلیٰ میں شام پانچ بجے سے سات بجے جبکہ 19 اگست کو قم جبکہ 20 کو مشہد میں تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔
ایران نے کہا ہے کہ قطر اس کے تین لاپتا پائلٹس سے متعلق معلومات کے لیے ایرانی ایئر فورس کے ماہرین کی ٹیم کو قطر آنے کی اجازت دے۔ اس سے پہلے ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ رواں برس مارچ میں قطر میں امریکی اڈے پر حملے کے دوران نشانہ بننے والے اس کے تین پائلٹ قطر کی تحویل میں ہیں۔
قطر نے اس کی تردید کی تھی جس کے بعد اتوار کو ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی گمشدہ افراد کی تلاش سے متعلق کمیٹی کے سربراہ نے پھر مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی فضائیہ کی ٹیم کو قطر جانے کی اجازت دی جائے۔
بریگیڈیئر جنرل باقر زادہ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فضائیہ کے ماہرین قطر میں داخل ہو کر اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے لیے کئی ماہ سے منتظر ہیں، لیکن ’قطری حکام کی جانب سے مسلسل تخریبی کارروائیوں اور تاخیر‘ نے اب تک ہمارے پائلٹوں کی وطن واپسی میں رکاوٹ ڈال رکھی ہے۔
قطر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کروانے ممالک میں شامل ہے، لیکن ایران اب یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ تینوں پائلٹس قطر کی تحویل میں ہیں۔ تاہم دوحہ نے ان ایرانی دعوؤں کی تردید کی ہے۔
خیال رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ایران نے بھی خطے میں امریکہ کے حلیف ممالک پر حملے شروع کر دیے تھے جن میں قطر بھی شامل تھا۔
دو مارچ کو قطر نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فورسز نے دو ایرانی ایس-یو بمبار لڑاکا طیاروں کو مار گرایا ہے جو قطر میں اپنے اہداف کی جانب بڑھ رہے تھے۔
بعدازاں ایران نے بھی تصدیق کی تھی کہ یہ طیارے قطر میں امریکہ کی العدید ایئر بیس پر کارروائی کے مشن میں شامل تھے اور اس میں چار پائلٹس شامل تھے۔ ایران کے مطابق ان میں سے ایک پائلٹ کی لاش قطر نے ایران کے حوالے کر دی تھی۔
لیکن اب ایران کا اصرار ہے کہ دیگر تین پائلٹس قطر کی تحویل میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کا دورہ دہلی فی الحال منسوخ کر دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے اتوار کو باضابطہ طور پر کہا کہ ’سفر کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔‘
بی بی سی بنگلہ کی رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کے ترجمان اے کے ایم شاہدال کریم نے اتوار کی سہ پہر ڈھاکہ میں وزارت خارجہ میں منعقدہ ایک پریس بریفنگ کے دوران یہ اعلان کیا۔
اس سے قبل انڈین میڈیا نے اشارہ دیا تھا کہ طارق رحمان اگلے ہفتے کے وسط میں دو روزہ دورے پر انڈیا آ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی حکام نے بھی گذشتہ ہفتے وزیر اعظم کے دورہ انڈیا کی تیاریوں کا اشارہ دیا تھا۔
بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اے کے ایم شاہدال نے کہا کہ ’ہم نے انڈین حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ حسینہ اور دیگر مفرور مجرموں کو فوری طور پر واپس بھیجیں اور دو طرفہ حوالگی کے معاہدے کے تحت شہید شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان کو بنگلہ دیش کے حوالے کریں۔ بنگلہ دیش اس جواب کا منتظر ہے۔‘
جب لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا، طارق رحمان کی بطور وزیر اعظم حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے گئے تھے، تو اُنھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے طارق رحمان کو انڈیا کے دورے کی باضابطہ دعوت دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ مالی سال 2025-26 کے دوران 61 ارب روپے بڑھ کر جون 2026 کے اختتام پر 1675 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو جون سنہ 2025 کے اختتام پر 1614 ارب روپے تھا۔
تازہ ترین گردشی قرضے کی رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو واجب الادا رقم 77 ارب روپے کم ہو کر 784 ارب روپے رہ گئی، جو گزشتہ سال 861 ارب روپے تھی۔
اسی طرح بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کمپنیوں (جینکوز) کی ایندھن فراہم کرنے والوں کو واجب الادا رقم بھی معمولی کمی کے بعد 90 ارب روپے رہ گئی، جو ایک سال پہلے 93 ارب روپے تھی۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے گردشی قرضے کی فنانسنگ مالی سال 2025-26 میں 801 ارب روپے رہی، جبکہ گزشتہ مالی سال پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) میں 660 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ فنانسنگ کے اس جزو نے مجموعی گردشی قرضے میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا۔
مالی سال کے دوران مختلف عوامل کے باعث گردشی قرضے میں مجموعی طور پر 364 ارب روپے کا اضافہ ہوا، تاہم مالی گنجائش سے کی جانے والی ادائیگیوں، جن میں 302 ارب روپے کی سٹاک ادائیگیاں شامل ہیں، نے اس اضافے کو جزوی طور پر کم کیا۔ نتیجتاً گردشی قرضے میں خالص اضافہ تقریباً 61 ارب روپے رہا۔
رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک کی جانب سے ادائیگی نہ کرنا گردشی قرضے میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل رہا۔ اس مد میں مالی سال 2025-26 کے دوران 194 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ رقم صرف چار ارب روپے تھی۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات اور انتظامی نااہلیوں کے باعث بھی گردشی قرضے میں 262 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
تاہم یہ رقم گزشتہ مالی سال کے 265 ارب روپے کے مقابلے میں معمولی کم رہی۔
ڈسکوز کی جانب سے بجلی کی مکمل لاگت وصول نہ کیے جانے کے باعث 64 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے 132 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
دوسری جانب آئی پی پیز، پی ایچ ایل اور گردشی قرضے کی فنانسنگ پر سود کی مد میں 14 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ مالی سال اس مد میں 58 ارب روپے شامل ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ہنگری میں پولینڈ سے تعلق رکھنے والے سیاحوں سے بھری ایک بس موٹروے سے پھسل کر کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق یہ حادثہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً ایک بجے پیش آیا، جب بس ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ کو شمال مشرقی شہر نیریگ ہازا سے ملانے والی ایم تھری موٹروے سے اتر کر کھائی میں جا گری۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ حادثہ ڈرائیور کے بس چلانے کے دوران سو جانے کی وجہ سے پیش آیا۔ تاہم حادثے کے بعد بس ڈرائیور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق بس میں 57 مسافر اور دو ڈرائیور سوار تھے، جن میں سے اب تک امدادی کارکُنان نے 35 افراد کو نکال لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
خبر رساں ادارے ایم ٹی آئی کے مطابق امدادی کارکنوں نے کرینوں کے پہنچنے سے قبل 24 ٹن وزنی بس کا پچھلا ایکسل اٹھانے کی کوشش کی تاکہ اس کے نیچے پھنسے افراد کو نکالا جا سکے۔ بعد میں پوری بس کو اٹھانے کے لیے کرینیں استعمال کی گئیں۔
ہنگری کی ایمبولینس سروس کے مطابق 10 شدید زخمی افراد کو فوری طور پر طبی امداد دے کر فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ مزید 37 افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔
ہنگری کے وزیر اعظم پیٹر میگیار نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے بدر یونٹ کے ایک سینئر کمانڈر ابو حسن علاء کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’حزب اللہ کے یہ کمانڈر تنظیم کی جانب سے سکیورٹی زون میں اسرائیلی فوج کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے جواب میں کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ’حسن علاء نے سکیورٹی زون میں موجود اسرائیلی فوج کے خلاف متعدد حملوں کی منصوبہ بندی کی اور ان پر عمل درآمد میں حصہ لیا تھا، جن میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرونز کے ذریعے حملے بھی شامل تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عرب لیگ نے لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے گزشتہ روز ہونے والے حملوں کو ’خطرناک کشیدگی‘ قرار دیا ہے۔ ان حملوں میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عرب لیگ کے مطابق یہ صورتحال جنگ بندی کی کوششوں اور کسی حل تک پہنچنے کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
عرب لیگ کے ترجمان نے کہا کہ ’اسرائیل کی پالیسیاں اور اقدامات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ قابض قوت تنازع کو طول دینا، مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنا اور زمینی حقائق کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنا چاہتی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔‘
ترجمان نے خبردار کیا کہ ’یہ تنازع مزید علاقوں تک پھیل سکتا ہے۔
ان کے مطابق ’اگر عالمی برادری، بالخصوص امریکہ، اسرائیل کی ’جنگ‘ کو روکنے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد پر مجبور کرنے میں ناکام رہی تو صورتحال مزید کشیدہ ہوتی جائے گی۔‘
سنہ 2006 میں منظور کی گئی قرارداد 1701 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ قرارداد میں حزب اللہ کے تمام حملوں اور اسرائیل کی تمام جارحانہ فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حماس کے ذرائع کے مطابق تنظیم کے سیاسی رہنما اور چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ غزہ کی صورتحال پر مصری حکام سے مذاکرات کے لیے قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔
بی بی سی فارسی نے الجزیرہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ خلیل الحیہ اتوار کی صبح مصر کی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ حسن رشاد سے ملاقات کریں گے۔ جولائی کے اواخر میں حماس کی قیادت سنبھالنے کے بعد یہ ان کا مصر کا پہلا دورہ ہے۔
خلیل الحیہ کا یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے خطے کے متوقع دورے سے قبل ہو رہا ہے۔
جیرڈ کشنر آئندہ ہفتے اسرائیل اور مصر کا دورہ کریں گے، جہاں وہ غزہ سے متعلق ایک منصوبے پر اختلافات کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اس منصوبے کو مسترد کر چکے ہیں۔
غزہ کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب نکولائی ملاڈینوف بھی جیرڈ کشنر کے ہمراہ خطے کے دورے پر جانے والے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یمن میں کئی برس کی نسبتاً پُرسکون صورتحال کے بعد ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر حملے تیز کر دیے ہیں، جس سے ملک میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دو بچوں کے والد انور نے شمالی یمن میں حوثیوں کی جانب سے اپنے آبائی شہر حدیدہ کی جانب پیش قدمی کے بعد بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر مخا میں پناہ لی تھی۔ تاہم گزشتہ ہفتے حوثیوں کی جانب سے مخا کی بندرگاہ پر کیے گئے حملوں نے جنگ کو ان کی اور ان کے بچوں کی زندگیوں کے مزید قریب پہنچا دیا، جس سے بڑے پیمانے پر نئی نقل مکانی اور تشدد کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
انور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ حوثیوں کے حملوں کا خوف مسلسل ہماری زندگیوں پر موجود رہے۔ مخا پہلے ایک محفوظ شہر اور بہت سے یمنیوں کے لیے پناہ گاہ تھا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے اپنی جان کا خوف نہیں، میری فکر اپنے بچوں اور خاندان کے لیے ہے اور میرے لیے بس یہی سب سے مشکل بات ہے۔‘
مخا کے ایک اور رہائشی نجم حمود الوہبانی نے بھی کہا کہ ’ہر شخص خوف میں زندگی گزار رہا ہے۔ ہر روز حوثیوں کے میزائل اور ڈرون ہمارے سروں کے اوپر سے گزرتے ہیں۔ جب ہمیں دور کہیں حملوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں تو بہت خوف محسوس ہوتا ہے کہ کہیں کل یہ جگہ ان کا نشانہ نہ بن جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
بقائی نے سنیچر کے روز رات گئے ایک بیان میں لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اسرائیل کی مبینہ خلاف ورزیوں پر مسلسل خاموشی پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔
انھوں نے جنوبی لبنان میں سنیچر کے روز کیے گئے اسرائیلی حملوں کی بھی شدید مذمت کی، جن میں خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔
اسماعیل بقائی نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں لبنانی عوام کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’ایران لبنان کی خودمختاری اور وقار کے دفاع میں اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں سنیچر کے روز اسرائیلی حملوں کے بعد شہری اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے ان حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق انصار نامی گاؤں پر ایک حملے میں تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے، جبکہ دیر الزہرانی پر ایک اور حملے میں چار افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر اور مقامی میڈیا کی رپورٹس میں جنوبی لبنان کی سڑکوں پر شدید ٹریفک دکھائی گئی ہے، جہاں درجنوں خاندان نباطیہ کے علاقے سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’یہ حملے حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں پر کیے گئے حملے کے جواب میں کیے گئے، جس میں اس کے مطابق تین فوجی شدید زخمی ہوئے۔‘
اسرائیلی حکام نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ’انصار پر حملے کے دوران حزب اللہ کی رضوان فورس کے ایک کمانڈر کو بھی ہلاک کیا گیا۔‘
یہ حملے جون میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے آغاز کے بعد ہونے والے خونریز حملوں میں شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکی صدر کو آبنائے ہرمز کے بارے میں مسلسل دھمکیاں دینے کے بجائے اپنی سکیورٹی کی فکر کرنی چاہیے۔‘
ابراہیم عزیزی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’ٹرمپ کو اپنی سلامتی کے لیے شاید ’فوڈ ٹرک میں پناہ لینا پڑے۔‘
ان کا یہ بیان ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ شب دیے گئے اس بیان کے ردِعمل میں سامنے آیا، جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے جا رہا ہوں۔‘
بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ یہ بات مذاق میں کہہ رہے تھے۔ تاہم ان کے بیان نے عالمی میڈیا کے ساتھ ساتھ ایران کے حکام اور سیاسی حلقوں میں بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی حکومت نے جنگی حالات اور پابندیوں کے پیشِ نظر پیٹرول کی تقسیم کے نظام میں ممکنہ تبدیلی کے لیے تین تجاویز پیش کی ہیں، تاہم ان میں سے کسی ایک کی حتمی منظوری ابھی نہیں دی گئی۔
ایران میں ایندھن کے استعمال کے حوالے سے موجود تنظیم کے سربراہ ساقب اصفہانی کے مطابق موجودہ حالات میں ملک میں پیٹرول کی کھپت کو پیداوار کے برابر لانا ضروری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت پیٹرول کی تقسیم کے حوالے سے تین مختلف نکات پر غور کر رہی ہے۔
پہلا منصوبہ یہ ہے کہ اس صورت میں پیٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، تاہم روزانہ صرف ملکی پیداوار کے قریب 121 ملین لیٹر پیٹرول ہی پمپس کو فراہم کیا جائے گا۔ جب یہ مقدار ختم ہو جائے گی تو پمپس مزید پیٹرول فراہم نہیں کریں گے۔
دوسرا منصوبہ یہ ہے کہ اس تجویز کے تحت دستیاب تقریباً 121 ملین لیٹر پیٹرول کو گاڑیوں کے درمیان مقررہ کوٹے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ جو افراد اپنے مقررہ کوٹے سے زیادہ پیٹرول استعمال کریں گے، انھیں اضافی پیٹرول آزاد مارکیٹ کی قیمت پر خریدنا ہوگا۔ اصفہانی کے مطابق یہ طریقہ کار اس منصوبے سے ملتا جلتا ہے جسے صوبہ کرمان میں نافذ کرنے کی تیاری کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تیسرا منصوبہ اس تجویز میں پیٹرول کا کوٹا گاڑیوں کے بجائے افراد کو منتقل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یعنی گاڑی رکھنے والے اور نہ رکھنے والے تمام شہریوں کو پیٹرول کا کوٹا دیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت روزانہ تقریباً 30 ملین لیٹر پیٹرول پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹیکسیوں کے لیے مختص کیا جائے گا، جبکہ باقی مقدار عوام میں تقسیم کی جائے گی۔
ایرانی حکام کے مطابق اس نظام میں ہر فرد کو ماہانہ تقریباً 30 لیٹر پیٹرول کا کوٹا مل سکتا ہے۔ اس کوٹے کو دوسرے افراد کو منتقل کرنے کے علاوہ خرید و فروخت کرنے کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔
اصفہانی کے مطابق ایران میں پیٹرول کی اوسط یومیہ کھپت تقریباً 135 ملین لیٹر ہے، جبکہ ملک کی ریفائنریاں روزانہ تقریباً 112 ملین لیٹر پیٹرول تیار کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ پیٹروکیمیکل مصنوعات کو پیٹرول میں تبدیل کرکے تقریباً 9 ملین لیٹر مزید فراہم کیے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں پیٹرول کی قیمت اور تقسیم کے نظام پر بحث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، خصوصاً صوبہ کرمان میں نافذ کیے جانے والے ایندھن کے منصوبے کے بعد۔ کرمان میں پہلے سے موجود کوٹے کے علاوہ 5,000 تومان کا ایک اضافی کوٹا متعارف کرایا گیا تھا، جسے بعد میں مقامی حکام نے بڑھا کر 40 لیٹر کرنے کا اعلان کیا۔
اس منصوبے کے نفاذ کے بعد پیٹرول سٹیشنز پر طویل قطاریں لگ گئیں اور عوام کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی۔ صورتحال کے باعث حکام کو صوبے میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے بعض پیٹرول سٹیشنز پر منصوبے کی مقررہ حدود سے زیادہ پیٹرول حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنا پڑی۔
ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ تینوں تجاویز میں سے کسی پر بھی ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حکام کے مطابق اگر ان میں سے کوئی منصوبہ منظور ہوا تو اس کی تفصیلات عمل درآمد سے چند ہفتے قبل عوام کے سامنے پیش کی جائیں گی۔