یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
چھ ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ’اگر فوج میں کوئی شخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے کسی خاص سیاسی ایجنڈے کو پروان چڑھاتا ہے تو پاک فوج کا خود احتسابی کا عمل حرکت میں آ جاتا ہے۔ فوج قومی ادارہ ہے اور اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
چھ ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کو اسلام آباد میں آٹھ ستمبر کے جلسے کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم ضلعی انتظامیہ کے اس این او سی کے نوٹیفکیشن میں 41 مختلف شرائط بھی عائد کی گئی ہیں جن پر پی ٹی آئی کو عمل کرنےکا پابند بنایا گیا ہے۔
پی ٹی کو جلسے کی اجازت جی ٹی روڈ سنگنجانی کے قریب پسوال روڈ کے کھلے مقام پر دی گئی ہے اور ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ نے حکم جاری کیا ہے کہ جلسے میں شرکت کے لیے انتظامیہ کی طرف سے بتائے گئے راستوں کو ہی استعمال کیا جا سکے گا۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسلام آباد جلسے کا با ضابطہ روٹ پلان بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں ترنول کے مقام پر پی ٹی آئی نے جلسے کا اعلان کیا تھا تاہم بعد میں اس کو عمران خان کی مشاورت سے آگے بڑھا دیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے 22 اگست کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جیل سے جاری ہدایات کے مطابق جلسے کی تاریخ تبدیل کی جا رہی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ حکومت اس جلسے کی آڑ میں انتشار پھیلانے کی سازش کر رہی ہے۔
جی ٹی روڈ پر جلسے کی اجازت کے نوٹیفیکیشن میں پی ٹی آئی کو کہا گیا ہے کہ ’یہ اجازت صرف آٹھ ستمبر کے لیے ہے اور منتظمین اسی رات کارکنان کی واپسی یقینی بنائیں گے۔ تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت ہوگی اور کسی قسم کے دھرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔‘
آٹھ ستمبر کو ہونے والے جلسے کے لیے جاری انتظامیہ کے این او سی میں خیبرپختونخواہ، پنجاب سے بذریعہ موٹر وے آنے والوں کے الگ نقشہ جاری کیا گیا ہے جبکہ پنجاب سے بذریعہ جی ٹی روڑ آنے والے کارکنان کے لیے الگ روٹ جاری کیا گیا۔
اسی طرح اسلام آباد، راولپنڈی، مری کے لیے بھی الگ الگ روٹ پلان جاری کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ’ دوران جلسہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، جلسے کا آغاز سہہ پہر چار بجے جبکہ اختتام شام سات بجے تک ہوگا۔
منتظمین کو جلسے گاہ کی سکیورٹی کا ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے جبکہ ریاست مخالف یا مذہبی منافرت پر مبنی تقاریر یا نعروں پر سختی سے روکا گیا ہے۔
این او سی کے مطابق جلسے کی انتظامیہ سٹیج پر آنے والے مقررین یا افراد کے ناموں کی فہرست کم از کم 12 گھنٹے قبل اسلام آباد پولیس کو فراہم کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media/Screen Grab
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ فوج قومی ادارہ ہے اور اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات ثابت ہونے پر فیض حمید کے خلاف فیلڈ مارشل کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ اس کیس میں جو بھی ملوث ہوا، خواہ اس کا کوئی بھی عہدہ یا حیثیت ہو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر سے صحافی صدیق ساجد نے سوال کیا کہ ’جیسے جیسے کورٹ مارشل کی کارروائی آگے بڑھ رہی ہے پی ٹی آئی رہنما اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ عمران خان کے خلاف بھی فوجی ایکٹ میں کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے؟‘
اس سوال کے جواب میں میجر جنرل احمد شریف چوہدری کہا کہ ’یہ عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ فوجی قانون کے مطابق کوئی بھی شخص کسی بھی فرد یا افراد کو جو آرمی ایکٹ کے تابع ہو اس کو اپنے مقاصد کے لیہ استعمال کرے تو قانون اپنا رستہ خود بنا لے گا۔‘
اس سے قبل پریس کانفرنس کے آغاز میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ 12 اگست کو آئی ایس پی آر جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کے حوالے سے بتایا گیا تھا۔
ان کے مطابق ’ریٹائرڈ افسر کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں باضابطہ طورپر درخواست موصول ہوئی، اپریل 2024 میں پاک فوج کی طرف سے اعلیٰ سطح کی کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا گیا، تاکہ مکمل تحقیقات کی جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹھوس شواہد پر مبنی تفصیلی انکوائری مکمل ہونے کے بعد 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی نے باضابطہ طور آگاہ کیا کہ متعلقہ ریٹائرڈ افسر نے پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی جانب سے متعلقہ قوانین کی خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے اور ان بنیادوں پر فیلڈ مارشل کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان آرمی قومی فوج ہے، اس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، نہ یہ کسی سیاسی جماعت کی مخالف ہے، نہ ہی طرف دار۔
’فوج کا ہر حکومت کے ساتھ پیشہ ورانہ اور سرکاری تعلق ہوتا ہے جس کو آئین اور قانون میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ بات جاننا اہم ہے کہ اگر فوج میں کوئی شخص اپنے ذاتی فائدے کے لیے کسی خاص سیاسی ایجنڈے کو پروان چڑھاتا ہے تو پاک فوج کا خود احتسابی کا عمل حرکت میں آ جاتا ہے۔ ثبوت و شواہد کی روشنی میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس کیس میں جو ذاتی فائدے حاصل کرنے کے لیے کام کیے گئے اور شواہد ملے وہ انکوائری کے سامنے ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’متعلقہ افسر کے حوالے سے ریٹائرمنٹ کے بعد آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی کے واقعات سامنے آئے۔ جس کا بھی کورٹ مارشل ہوتا ہے اس کو فیئر ٹرائل کے تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں اس لیے اس پر حتمی ٹائم فریم نہیں رکھا جاتا۔ یہ آن گوئنگ قانونی کیس ہے۔‘
’جو بھی شخص اس کیس میں ملوث ہو گا وہ قانون سے باہر نہیں ہو گا چاہے اس کا کوئی بھی عہدہ ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج خود احتسابی کے عمل پر یقین رکھتی ہے، اس کا خود احتسابی کا نظام انتہائی جامع اور مضبوط عمل جو ’ٹائم ٹیسٹڈ‘ ہے، یہ الزامات کے بجائے، ٹھوس شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔
’دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 130 آپریشن کیے جا رہے ہیں‘
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے دیشت گردی کے خلاف آپریشنز سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف اس سال 32 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے ہیں جس میں 90 خوارج کوہلاک کیا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 130 سے زائد آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ آخری خوارجی اور دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔
میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’20 اگست سے وادی تیراہ میں فتنہ الخوارج، نام نہاد کالعدم تنظیم لشکر اسلام اور جماعت الحرار کے خلاف کامیاب آپریشن کیا گیا۔ کامیاب آپریشن کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کو بڑا دھچکا لگا۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ’25 اور 26 اگست کی رات دہشت گردوں نے بلوچستان میں کارروائیاں کیں، یہ کارروائیاں اندورن اور بیرون ملک دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے ایما پر کی گئیں۔ ان کا مقصد معصوم اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنا کر بلوچستان کے پرامن ماحول اور ترقی کو متاثر کرنا ہے۔‘
میجر جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ دو دہائیوں سے زیادہ دہشتگردی کی جنگ میں 46 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ علاقے کو دہشتگردوں سے کلیئر کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس لیے ہم ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ پاکستان میں کوئی عملاً ایسا علاقہ نہیں جہاں دہشتگردوں کی اجارہ داری ہو، تو جو کلیئر اور ہولڈ کے مراحل ہیں وہ تو مکمل ہو چکے ہیں۔‘
’نہتے شہریوں کو ظلم کا نشانہ بنانا اور اس پر فخر ان کی ذہنیت اور مایوسی کی عکاسی ہے‘
بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے بھی انھوں نے پریس کانفرنس میں تفصیلی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی اور ریاستی جبر کا تاثر بھی پایا جاتا ہے، جس کو بیرونی ایما پر مخصوص عناصر منفی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق’وہ اس کو اس لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ بلوچستان میں ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کا جاری عمل خوف و ہراس کے ذریعے متاثر کیا جا سکے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’نہتے شہریوں کو ظلم کا نشانہ بنانا اور اس پر فخر ان کی ذہنیت اور مایوسی کی عکاسی ہے۔ دہشت گردوں کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ شہریوں کے جان و مال اور ترقی کے دشمنوں سے ریاست آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔‘
’بلوچستان میں حقیقی نمائندگی نہ دیے جانے کا منفی بیانیہ بنایا جاتا ہے‘
انھوں نے مزید کہا کہ جب بھی فوج میں قائم قوانین اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو یہ خود کار نظام حرکت میں آتا ہے۔ متعلقہ افسران کو قانون کے تحت تمام حقوق حاصل ہوں گے جیسے اپنی مرضی کا وکیل۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ اس طرح کی خود احتسابی باقی اداروں کو بھی ترغیب دے گی۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا انسداد دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ ایک منظور شدہ اور مربوط حکمت عملی کے تحت لڑی جارہی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں، سٹیک ہولڈرز اور تمام حکومتوں نے اس حکمت عملی کو مرتب کیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کی جان شان اور آن ہے۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے شاید ہی کوئی افسر ہو جس نے وہاں سرو نہ کیا ہو۔ زیادہ رقبے میں کم آبادی کے مسائل وہاں جنم لیتے ہیں۔ وہاں بلوچ ہی نہیں بلکہ پختون براہوی سمیت دیگر بھی شامل ہیں۔‘
ان کے مطابق بلوچستان میں حقیقی نمائندگی نہ دیے جانے کا منفی بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ ان کا بیانیہ احساس محرومی کا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے خلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد سے رجوع کر لیا۔
جمعرات کے روز علی امین گنڈاپور کی جانب سے ان کے وکیل راجہ ظہور نے وارنٹ گرفتاری کی منسوخی کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں درخواست جمع کروائی۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز جب سول جج شائستہ خان کنڈی نے علی امین گنڈا پور کے خلاف شراب اور اسلحہ برامدگی کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو ملزم کے ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کرم ایجنسی میں امن و امان کی خاطر بلائے گئے جرگے میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوسکیں گے۔
دوسری جانب، علی امین گنڈا پور کے ایک اور وکیل کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب آیا ہوا ہے اس لیے وزیرِ اعلیٰ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
عدالت نے وکلا کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے وکیلوں کے بیان آپس میں میل نہیں کھاتے ہیں اور اس سے تاثر یہی ملتا ہے کہ اس مقدمے کو طول دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سول جج شائستہ کنڈی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی اپنی مصروفیات ہوں گی لیکن عدالت نے بھی اپنا کام کرنا ہے۔
عدالت نے علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ایس ایچ اوبھارہ کہو کو حکم دیا تھا کہ 5 ستمبر کو ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف 2016 میں اس وقت تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہوا تھا جب وہ عمران خان سے ملنے کے لیے بنی گالہ جا رہے تھے کہ راستے میں لگے ہوئے ناکے پر پولیس اہلکاروں نے انھیں روکا اور ان کے قبضے سے شراب کی بوتل اور اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے دو ماہ سے لاپتہ اسلام آباد کے رہائشی 18 سالہ فیضان عثمان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے پولیس کو 11 ستمبر تک فیضان کو بازیاب کروانے کی مہلت دے دی ہے۔
جسٹس بابر ستار نے فیضان کے والد ڈاکٹر عثمان کی جانب سے دائر درخواست پر دو صفحات پر مبنی تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے خفیہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فیضان کی بازیابی کے لیے پولیس کو جتنی سپورٹ چاہیے وہ دی جائے۔
عدالت نے خفیہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ اس کیس سے متعلق جو بھی ڈیٹا پولیس کو درکار ہے وہ ان کے ساتھ شئیر کیا جائے۔
دو صفحات پر مبنی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سماعت کے دوران آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور ابتدائی رپورٹ جمع کروائی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے بتایا ہے کہ تفتیش کار تمام ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ آئی جی اسلام آباد نے لاپتہ فیضان کو بازیاب کروانے اور رپورٹ پیش کرنے کے لئے مہلت مانگی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آئی جی اسلام آباد آئی ایس آئی، آئی بی، ایف آئی اے سمیت تمام متعلقہ خفیہ اداروں سے مدد لے سکیں گے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اسے توقع ہے کہ آئی جی اسلام آباد فیضان کو بازیاب کروا کر 11 ستمبر کو عدالت کے سامنے پیش کریں گے۔
گذشتہ روز اسلام آباد سے لاپتہ فیضان کی بازیابی کی درخواست پر سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ فیضان کی بازیابی کے لیے دو سے تین دن کا مزید وقت دیا جائے۔
دورانِ سماعت آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ فیضان کی لوکیشن پہلے اسلام آباد اور پھر 17 اگست کو لاہور دکھائی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فیضان کو لے جانے کے وقت کی فوٹیجز دیکھی ہیں۔ ان کے مطابق فوٹیج میں دکھائی دینے والے کچھ افراد نے چہروں پر نقاب پہنے ہوئے تھے۔
آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ فوٹیج میں دکھائی دینے والی گاڑیوں کے متعلق معلومات کے لیے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع سے رابطہ کیا ہے۔
اس سے قبل منگل کے روز درخواست گزار ڈاکٹر عثمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ان گھر تقریباً 10 سے 15 لوگ آئے تھے جس میں پولیس کا کوئی اہلکار شامل نہیں تھا۔
عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے آنے والے افراد سے یہ نہیں پوچھا کہ ان کا تعلق کس ادارے سے ہے۔ اس پر ڈاکٹر عثمان کا کہنا تھا، ’میرے سوال پر بتایا گیا کہ آپ وہ رہنے دیں کہ ہم کہاں سے ہیں۔‘
ڈاکٹر عثمان کا کہنا تھا کہ ان کے اندازے کے مطابق آئی ایس آئی کے لوگ تھے جو ان کے بیٹے کو لے گئے تھے۔
ڈاکٹر عثمان نے عدالت کو بتایا کہ وہ افراد دو دن تک ان کے گھر اور انسٹیٹیوٹ آتے رہے اور پوچھ گچھ کرتے رہے۔
انھیں بتایا گیا کہ ان کے بیٹے کا لاہور میں مقیم ان کے داماد سے رابطہ ہے جو مبینہ طور پر ایک کالعدم تنظیم سے منسلک ہے۔
عدالت کے سوال پر کہ آیا درخواست گزار کا داماد گرفتار ہے یا انھیں بھی اٹھایا گیا ہے جس پر ڈاکٹر عثمان کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ بھی لاپتہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ اسرائیلی افواج فلاڈیلفیا راہداری خالی نہیں کرے گی۔
فلاڈیلفیا راہدری مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ زمین کی ایک تنگ پٹی ہے۔
یروشلم میں غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے نتن یاہو کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں کسی بھی مستقل جنگ بندی معاہدے کے حصے کے طور پر غزہ اور مصر کی سرحد کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی کے متبادل پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم انھیں ابھی ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔
نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں اور اسرائیلی یرغمالیوں کی ممکنہ سرحد پار اسمگلنگ کی کوشش کو روکنے کے لیے اسرائیلی فوجیوں کی اس بفر زون میں موجودگی ضروری ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نتن یاہو کا فلاڈیلفیا راہداری سے فوج نہ ہٹانے کا فیصلہ جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنانے کی کوشش ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا وقت آگیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کے روز نتن یاہو کا کہنا تھا کہ مستقل جنگ بندی میں ایسی شرائط کو شامل کرنا لازمی ہے جس کے تحت فلاڈیلفی کوریڈور کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ جب تک انھیں اس بات کی یقین دہانی نہیں کروا دی جاتی، اسرائیلی فوجی وہاں موجود رہیں گے۔
کہا جا رہا ہے نتن یاہو کے وزیر دفاع سمیت ان کے تمام سیکورٹی چیفس سرحد کے ساتھ فوجی موجودگی کے متبادل کے حامی ہیں۔ متبادل تجاویز میں سرحد کی نگرانی کے لیے تکنیکی حل اور اتحادی افواج کی تعیناتی شامل ہے۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم اور ان کے دفاعی سربراہان کے درمیان فلاڈیلفیا راہداری میں فوج کی تعیناتی کو لے کر اختلافات موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق نتن یاہو مبینہ طور پر حماس کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہیں چاہتے ہیں۔
کئی افراد کا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم محض وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ان کا اصل مقصد جنگ کے خاتمے سے قبل حماس رہنما یحییٰ سنوار کو ہلاک کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی چھ اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک مقدمے میں عبوری ضمانت میں 19 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔
جمعرات کے روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی تو سابق وزیرِ اعظم اور بشریٰ بی بی کی جانب سے خالد یوسف چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت خالد یوسف کا کہنا تھا کہ آج انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں ضمانت کی چار درخواستوں کی سماعت ہے اور سینیئر کونسل وہاں مصروف ہیں۔ انھوں نے عدالت سے عبوری ضمانت میں توسیع کی استدعا کی۔
عدالت نے خالد یوسف کی استدعا منظور کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 19 ستمبر تک توسیع کر دی۔
سابق وزیر اعظم اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت اب 19 ستمبر کو ہوگی۔
دوسری جانب، جیل حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے عمران خان کی پیشی نہ لگوانے پر جواب آج بھی جمع نہیں کروایا جس کے بعد عدالت نے حکام سے دوبارہ رپورٹ طلب کر لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مُسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق، ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے پی ٹی آئی کو اپنا ضدی رویہ بدلنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اسمبلی میں کھڑے ہو کر سیاسی جماعتوں سے غیر مشروط مذاکرات کے بارے میں بات کی تھی۔
پشتونخوا ملی عوامی پارتی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے محمود اچکزئی سے بات کی ہے اور وہ بھی مذاکرات کو آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
وزیر اعظم کے مشیر کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن سیاسی معاملات کے حل کے لیے جمہوریت اور مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی پڑے گی تاکہ مذاکرات درست طریقے سے ہو سکیں۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے سنیچر کے روز پاکستان مسلم لیگ ن کی پارٹی میٹنگ کے بعد ایسی خبریوں سامنے آئی تھی کہ سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ کے صدر نواز شریف نے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے اپنی جماعت کو پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
تاہم اتوار کے روز مسلم لیگ کے سینیئر رہنما اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ان خبروں کی تردید کر دی تھی۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب تک پی ٹی آئی نو مئی کے واقعات کے لیے معافی نہیں مانگ لیتی ان کے ساتھ مذاکرات میں کسی قسم کی پیش رفت کی گنجائش نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’قوموں کو تباہ کرنے کے لیے دشمن کے حملے کی ضرورت نہیں ہوتی اداروں پر کرپٹ اور نااہل لوگ بٹھا دیے جائیں تو قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔‘
اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش سے وائٹ واش ہوگئی اس سے بُری اور شکست کیا ہوگی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ایسا کون سا ایٹم بم پھٹا کہ تین سال میں ہماری کرکٹ بنگلہ دیش سے نیچے اور تباہ ہو گئی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جو کام دشمن نہیں کر سکا وہ یہ خود کر کے ادارے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘
کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’کرکٹ ایک ٹیکنیکل کھیل ہے اس پر آپ نے سفارشی بٹھا دیا محسن نقوی کی کیا قابلیت ہے انھوں نے کہا کہ رمیز راجہ میرا رشتہ دار نہیں تھا ایک پروفیشنل کرکٹر تھا جسے میں نے چیئرمین پی سی بی بنایا۔‘
سابق وزیر اعظم نے نام لیے بغیر کہا کہ ’اب بڑے صاحب نے اپنا چیئرمین پی سی بی رکھ لیا یہ کرپٹ ہے۔ انھوں نے الیکشن کا فراڈ کیا گندم فراڈ کیا اب انھیں وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی بڑے صاحب نے اپوائنٹ کیا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ادارہ سب کا ہے صرف آرمی چیف کا نہیں اور پوری قوم کے لیے اہم ہے کہ ادارہ مضبوط ہو۔‘
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے اڑھائی ماہ سے نیب ترامیم اپیل کا فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے اور انتظار کیا جا رہا ہے کہ مجھے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا ہو تو وہ نیب ترامیم کا فیصلہ سنائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہNAB
عمران خان کا اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’نیب ترامیم اپیل کے باعث شہباز شریف کے چار، نواز شریف کے پانچ، زرداری اور اس کے قریبی لوگوں کے نو ریفرنس فریز ہوئے پڑے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’نیب نے القادر یونیورسٹی کا ڈونیشن بند کر دیا ہے تاکہ یہ یونیورسٹی بند ہو جائے۔ اگر یہ بند ہو گئی تو میرا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اگر شوکت خانم ہسپتال بند ہو گیا تو مریضوں کو 10 گنا زائد خرچ کر کے علاج کرانا پڑے گا۔ نمل یونیورسٹی میں 90 فیصد طلبہ مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔‘
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’مجھے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے تین ملاقاتوں کے علاوہ سیل میں ہی رہتا ہوں۔ میرا سیل اون بن جاتا ہے کبھی نہیں کہا کہ مشکل ہے۔ میری بچوں سے بات نہیں کرائی جاتی صرف اس کی شکایت کی اس کی مجھے تکلیف ہے۔ اب یہ سپریم کورٹ پر حملہ کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’صرف سپریم کورٹ ہی ایک شناخت بچی ہے اب یہ اسے تباہ کرنے جا رہے ہیں اور جب بھی انھوں نے سپریم کورٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہم ملک بھر میں سٹریٹ موومنٹ شروع کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی ایک مقدمے میں 25 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت کی درخواست منظور کرلی ہے۔
علی وزیر پر الزام تھا کہ انھوں نے پولیس پر حملہ کیا تھا اور ایک ہولیس اہلکار سے سرکاری بندوق چھیننے کی کوشش کی تھی جس کی بنا پر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
جسٹس بابر ستار کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے علی وزیر کی جانب سے ضمانت کی اس درخواست کی سماعت کی۔ ملزم کے وکیل عطا اللہ کنڈی نے ضمانت کی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ سیاسی نوعیت کا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش میں ملزم سے نہ تو سرکاری بندوق کی برآمدگی کے بارے میں کچھ بتایا گیا اور نہ ہی یہ کہ وقوعہ کے وقت پولیس اہلکاروں کے علاوہ اور کوئی گواہ موجود بھی تھا یا نہیں۔
اس مقدمے کے پراسیکوٹر نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ ابھی اس مقدمے کی تفتیش اپنے حتمی مراحل میں نہیں پہنچی اس لیے اس مرحلے پر ملزم ضمانت کا حقدار نہیں ہے۔
عدالت نے ملزم کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے علی وزیر کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں 25 ہزار روپے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل انسداد دہشتگردی عدالت نے علی وزیر کی ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد سابق رکن اسمبلی نے ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد کی مقامی عدالت کی جج شائستہ خان کنڈی نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس میں حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔
بدھ کے روز سول جج شائستہ کنڈی نے علی امین گنڈا پور کے خلاف شراب اور اسلحہ برامدگی کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو ملزم کے ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کرم ایجنسی میں امن و امان کی خاطر بلائے گئے جرگے میں شرکت کے لیے گئے ہوئے ہیں اس لیے وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوسکیں گے۔ انھوں نے عدالت سے ملزم کی ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرنے کی استدعا کی۔
دوسری جانب، علی امین گنڈا پور کے ایک اور وکیل کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب آیا ہوا ہے اس لیے وزیرِ اعلیٰ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
عدالت نے وکلا کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے وکیلوں کے بیان آپس میں میل نہیں کھاتے ہیں اور اس سے تاثر یہی ملتا ہے کہ اس مقدمے کو طول دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ مقدمہ اپنے آخری مراحل میں ہے اور ملزم کو اپنی صفائی میں یا اس مقدمے سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعہ 342 کا بیان ریکارڈ کروانا ہے۔
سول جج شائستہ کنڈی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی اپنی مصروفیات ہوں گی لیکن عدالت نے بھی اپنا کام کرنا ہے۔
عدالت نے ایس ایچ اوبھارہ کہو کو 5 ستمبر کو ملزم علی امین گنڈاپور کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف 2016 میں اس وقت تھانہ بارہ کہو میں مقدمہ درج ہوا تھا جب وہ عمران خان سے ملنے کے لیے بنی گالہ جا رہے تھے کہ راستے میں لگے ہوئے ناکے پر پولیس اہلکاروں نے انھیں روکا اور ان کے قبضے سے شراب کی بوتل اور اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔
پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سائبر کرائمز میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے طالبات کو آن لائن جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام ایک شخص کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزم محمد جابر نجی یونیورسٹی میں بطور سکیورٹی گارڈ کام کر رہا تھا اور خود کو امریکی شہری ظاہر کر کے طالبات کو اپنے جال میں پھنساتا تھا۔
ملزم کو اسلام آباد کے علاقے جناح گارڈن سے گرفتار کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم خود کو ایف آئی اے کا اہلکار ظاہر کر کے یونیورسٹی کی طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرتا تھا۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم جابر طالبات کو قابل اعتراض مواد کی آڑ میں بلیک میل کرنے میں ملوث ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم گزشتہ کئی ماہ سے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کر رہا تھا اور اس کے موبائیل سے قابل اعتراض مواد برآمد ہوا ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار سمیت کئی اہم رہنماؤں پر گذشتہ سال سات اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے حملے کے سلسلے میں فرد جرم عائد کردی ہے۔
امریکہ کے ڈیمارٹمنٹ آف جسٹس کا کہنا ہے کہ حماس کے چھ اراکان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
یحییٰ سنوار کے علاوہ دیگر نامزد ملزمان میں حماس کے سابق رہنما اسماعیل ہنیہ، تنظیم کے مسلح ونگ کے نائب سربراہ مروان عیسیٰ، غزہ اور غربِ اردن سے باہر گروپ کی قیادت کرنے والے خالد مشعل، محمد دیف اور علی براکا شامل ہیں۔
ان رہنماؤں کو جن الزامات کا سامنا ہے ان میں امریکی شہریوں کا قتل، دہشت گردی کی مالی معاونت کی سازش اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے۔
اس کے علاوہ عوامی جگہ پر بم حملہ کرنے کی سازش اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مادی مدد کا الزام بھی شامل ہے۔
حماس کے خلاف دائر مجرمانہ شکایت میں فلسطینی تنظیم کے کئی دہائیوں پر محیط مبینہ حملوں کے ساتھ ساتھ تقریباً ایک سال قبل جنوبی اسرائیل پر ہونے والے حملے کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔
یہ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سات اکتوبر کے حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔
جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی شکایت میں درج ہے کہ تمام ’مدعا علیہان یا تو فوت ہوچکے ہیں یا مفرور ہیں۔‘
اسماعیل ہنیہ، مروان عیسیٰ اور محمد ڈیف تینوں پچھلے چند مہینوں میں یا تو اسرائیلی حملوں میں یا پھر اسرائیل سے منسوب حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔
جبکہ یحییٰ سنوار کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کے نیچے موجود سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں۔
اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے منگل کے روز اپنے بیان میں گذشتہ ہفتے مارے گئے 23 سالہ امریکی اسرائیلی یرغمالی ہرش گولڈ برگ پولن کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ گارلینڈ کے بیان میں حماس کے سات اکتوبر کے حملے میں مارے گئے 42 دیگر امریکی شہریوں کی ہلاکت اور یرغمال بنائے گئے 10 امریکیوں کا بھی حوالہ موجود تھا۔
ان کا کہنا تھا تمام چھ ملزمان پر حماس کی اسرائیلی ریاست کو تباہ کرنے اور اس مقصد کے حصول کے لیے شہریوں کو قتل کرنے کی کوششوں کی قیادت کرنے کا بھی الزام ہے۔
گارلینڈ کا کہنا تھا کہ امریکہ ہرش اور حماس کی ہاتھوں مارے گئے تمام امریکیوں کے وحشیانہ قتل کی دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر تحقیقات کر رہا ہے۔
اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو ملزمان کو عمر قید یا سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ یہ الزامات فروری میں درج کیے گئے تھے لیکن انھیں منگل تک خفیہ رکھا گیا تھا کہ شاید امریکہ کو ان میں سے کسی ملزم کو گرفتار کرنے کا موقع مل جائے۔
سات اکتوبر کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملے شروع کر دیے تھے،
حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کی جاری فوجی کے نتیجے میں غزہ میں اب تک 40,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وسطی یوکرین کے شہر پولتاوا پر روسی میزائل حملے میں کم از کم 51 افراد ہلاک اور 271 زخمی ہوئے ہیں۔ روس نے بیلسٹک میزائل حملے میں ایک ملٹری اکیڈمی اور قریبی ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔ یوکرین کی زمینی افواج نے تصدیق کی ہے کہ حملے میں فوجی اہلکار مارے گئے ہیں۔
یوکرین کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فضائی حملے سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجنے کے بعد لوگوں کے پاس بم سے بچنے کے لیے پناہ گاہوں تک جانے کا وقت نہیں تھا۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کو اس حملے کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ وہ روس کے حملوں کو ’روسی سکیم‘ کہتے ہیں۔ صدر زیلینسکی کی جانب سے مزید فضائی دفاع کے لیے بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ یوکرین طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حملے کر کے خود کو بچا سکے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے روس کے بیلسٹک میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ حملہ رواں برس یوکرین پر ہوئے روسی حملوں میں سب سے ہلاکت خیز ہے، روس کو اس حملے کا حساب چُکانا ہو گا۔‘
ماسکو نے اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
علاقے کے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ ان کی کھڑکیوں کے شیشے دھماکے سے اڑ گئے۔ دوسری جانب پولتاوا میں تین روز کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
پولتاوا کے ایک مقامی رہنما فلپ پرونین نے اس حملے میں مرنے والوں کے خاندانوں سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ٹیلیگرام پر ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ منگل کا دن پولتاوا کے لوگوں کے لیے بہت صدمے والا دن ہے۔ انھوں نے شہر میں تین دن سوگ کا اعلان کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس نے پولتاوا پر کیوں حملہ کیا؟
پال کربی کا تجزیہ
یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ یوکرین کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ روس کے حملے میں مرنے اور زخمی ہونے والے کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس روسی حملے کا ہدف یوکرین کا شہر پولتاوا تھا جو کہ فرنٹ لائن سے بہت دور یوکرین کے وسط مشرقی حصے میں واقع ہے۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ بیلسٹک میزائلوں سے کیا جانے والا حملہ تھا لہٰذا روس کو یہ واضح تھا کہ انھوں نے کیا کرنا تھا۔
پولتاوا شہر روس کی سرحد سے کوئی 140 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ شہر اور اس کے علاقے میزائل حملوں کا نشانہ بنتے رہے مگر اس طرح کی بمباری یہاں کبھی نہیں ہوئی جو مشرقی فرنٹ پر واقع علاقوں میں ہوتی آئی ہے۔
اس شہر کی آبادی تین لاکھ سے زائد ہے۔ یہاں روسی حملوں سے بچ کر آنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ اس سے قبل گرمیوں کے آغاز پر روس نے پولتاوا کے ایک فضائی اڈے پر حملہ کیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس حملے میں یوکرین کے جنگی جہازوں کو تباہ کیا گیا۔ آج کے حملے میں شہر کو ہدف بنایا گیا، جس میں ایک عمارت تباہ ہوئی ہے اور متعدد لوگ ملبے میں دب گئے۔ اس حملے کے لیے پیشگی کوئی اطلاع نہیں دی گئی اس وجہ سے یہاں عمارت میں موجود لوگوں کو باہر نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Getty Images
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔
گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔