پنجاب میں سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی، ملتان اگلے 48 گھنٹوں تک ’ہائی رسک‘ پر

صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ ہیڈ تریموں سے آنے والے نئے سیلابی ریلے کے باعث ملتان اگلے 48 گھنٹوں تک ’ہائی رسک‘ پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے 63 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 4300 سے زیادہ دیہاتوں سمیت 26 اضلاع متاثر ہوئے ہیں

خلاصہ

  • پنجاب میں سیلاب کی صورتحال سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ ہیڈ تریموں سے آنے والے نئے سیلابی ریلے کے باعث ملتان اگلے 48 گھنٹوں تک ’ہائی رسک‘ پر ہے
  • اب تک صوبے میں سیلاب کی وجہ سے 63 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے 4300 سے زیادہ دیہاتوں سمیت 26 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ 74 ہزار سے زیادہ لوگ خیموں میں موجود ہیں۔
  • جلالپور پیر والا میں ریسکیو آپریشن جاری، 24 گھنٹوں میں چار ہزار سے زیادہ لوگ محفوظ مقامات پر منتقل
  • گجرات میں اربن فلڈنگ، ڈسٹرکٹ جیل کو خالی کر دیا گیا ہے
  • سیلاب کے پیشِ نظر سندھ میں تقریباً ایک لاکھ 34 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا: شرجیل انعام میمن
  • سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ گڈو، سکھر اور کوٹری میں حالات قابو میں ہیں

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  2. پنجاب میں سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی، ملتان اگلے 48 گھنٹوں تک ’ہائی رسک‘ پر

    پنجاب میں سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی جبکہ ملتان اگلے 48 گھنٹے تک ’ہائی رسک‘ پر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان کاٹھیا کا کہنا ہے کہ ہیڈ تریموں سے آنے والے نئے سیلابی ریلے کے باعث ملتان اگلے 48 گھنٹوں تک ’ہائی رسک‘ پر ہے۔

    انھوں نے یہ بات کمشنر ملتان عامر کریم خان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اب تک پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے 63 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 4300 سے زیادہ دیہاتوں سمیت 26 اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔ جبکہ 74 ہزار سے زیادہ لوگ خیموں میں موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب میں مون سون بارشوں کا دسواں سپیل چل رہا ہے۔ لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں تاریخ کی سب سے زیادہ بارشیں ہوئیں۔ اگلے 24 سے 48 گھنٹے بارش اسی طرح وقفے وقفے سے جاری رہے گی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم آٹھ سے 10 گھنٹے میں گجرات کو اربن فلڈنگ سے کلئیر کر لیں گے۔‘

    عرفان کاٹھیا کا کہنا تھا کہ ’ستلج میں تین لاکھ 19 ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ اسلام پر 1 لاکھ 20 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔۔۔ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ فلڈ بندوں پر 24 گھنٹوں میں پانی کا دباؤ بڑھے گا۔‘

    ادھر کمشنر ملتان کا کہنا تھا کہ ’شیر شاہ کو بریچ کرنے کا فیصلہ ٹیکنکل کمیٹی نے کرنا ہے۔

    ’جلالپور پیر والا میں ایک روز میں 4 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ بیشتر متاثرین فلڈ ریلیف کیمپوں کی بجائے عزیز و اقارب کے گھر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

  3. بلوچستان میں بی این پی کے کارکنان پر حملے کے خلاف ہڑتال، کوئٹہ میں 200 سیاسی رہنما اور کارکنان گرفتار, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    کوئٹہ

    بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے 200 سے زیادہ رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کوئٹہ میں دو ستمبر کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے بعد اس کے شرکا پر خود کُش حملے کے خلاف کی گئی تھی، جس میں 15افراد ہلاک اور 38 لوگ زخمی ہوئے تھے۔

    ہڑتال کی وجہ سے نہ صرف کوئٹہ بلکہ بلوچستان کے اکثر علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج رہے۔

    چھ سیاسی جماعتوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال کی حمایت متعدد تاجر اور ٹرانسپورٹ تنظیموں نے بھی کی تھی۔

    ہڑتال کی وجہ سے کوئٹہ شہر میں تمام اہم تجارتی مراکز بند رہے جبکہ شہر میں ٹریفک بھی نہ ہونے کی برابر تھا۔

    کوئٹہ شہر میں صبح سے ہی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ان کو بند کر دیا تھا۔

    ان رکاوٹوں کو ہٹانے اور کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے شہر کے جناح روڈ سمیت مختلف علاقوں میں آنسو گیس کی شیلنگ کے علاوہ گرفتاریاں بھی کیں۔

    ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ محمد بلوچ کے مطابق کوئٹہ شہر سے 200 سے زائد افراد کو دفعہ 144کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

    بی این پی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گرفتار رہنماؤں میں رحیم زیارتوال، قہار ودان، ملک نصیر شاہوانی، صمند بلوچ، عبدالخالق بلوچ، چنگیز حئی بلوچ کے علاوہ دیگر لوگ شامل ہیں۔

  4. رحیم یار خان میں سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ جانے سے دو خواتین ڈوب کر ہلاک, عمر دراز ننگانیہ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    رحیم یار خان میں لیاقت پور کے علاقے نور والا میں ریسکیو آپریشن کے دوران سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ جانے سے دو خواتین ڈوب کر ہلاک ہو گئی ہیں۔

    اس کشتی میں 28 افراد سوار تھے جن میں سے 13 کو محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے جبکہ 13 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    دوسری جانب لیاقت پور میں دریائے چناب کے سیلابی ریلے سے بڑے پیمانے پر تباہی سے زمیندارہ بند ٹوٹ گیا ہے، جس سے پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

    حکام کے مطابق رحیم یار خان میں بھیٹ بھتڑ کا زمیندارہ بند ٹوٹنے سے 35 موضع جات، درجنوں بستیاں گھر اور فصلیں زیر آب آگئیں اور 13000 سے زائد لوگ سیلاب میں پھنس گئے ہیں۔

    اس علاقے میں فوج کا انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کے ہمراہ ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ حکام کے مطابق 1861 افراد کو ضروری سامان سمیت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

    سیلابی ریلے کا پانی حفاظتی منچن بند تک پہنچ گیا

    حکام کے مطابق سیلابی ریلے کا پانی حفاظتی منچن بند تک پہنچ گیا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد حفاظتی بند پر پہنچ گئی ہے۔ سیلاب اورمزید بارشوں نے سیلاب متاثرین کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

    حکام کے مطابق ان حالات میں لوگوں کو ریسکیو کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    یہاں متاثرین کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خاندان کے لوگ اندر پھنسے ہوئے ہیں کوئی مدد نہیں کر رہا۔‘ سیلاب متاثرین نے ریسکیو آپریشن کے لیے مزید کشتیاں اور امداد بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  5. لاہور میں تیز بارش، متعدد شاہراہیں زیرِ آب

    لاہور میں تیز بارش کے سبب شہر کے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔ واسا کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 108 ملی میٹر بارش پانی والا تالاب میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

    واسا کی جانب سے جاری کی گئی تفصیل کے مطابق لاہور میں جیل روڈ پر 46، ایئرپورٹ روڈ پر چھ، گلبرگ میں 63، لکشمی چوک پر 87، مغلپورہ میں 20، تاجپورہ میں 25 اور نشتر ٹاؤن میں 55 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ پانی والا تالاب میں 108، فرخ آباد میں 94، گلشن راوی میں 62، اقبال ٹاؤن میں 78، سمن آباد میں 77 اور جوہر ٹاؤن میں 61 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    دوسری جانب واسا کے ایم ڈی غفران احمد نے لاہور کے متعدد علاقوں کا دورہ کیا ہے اور تمام مرکزی شاہراہوں کو جلد از جلد کلیئر کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

    ایمرجنسی کیمپ کے دورے کے موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جلد از جلد نشیبی علاقوں کو کلیئر کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

  6. نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاج: مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 19 افراد ہلاک, ایمی والکر اور فانندرا داہل

    نیپال

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    خود کو’جنریشن ذی‘ کہنے والے مظاہرین کی احتجاج کی کال پر کٹھمنڈو میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر ہزاروں افراد جمع ہوئے تھے۔ خیال رہے نیپال میں حکومت نے فیس بُک، ایکس اور یوٹیوب سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کر دیا ہے۔

    ملک کے وزیرِ برائے مواصلات پرتھوی سبّا نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا پڑا ہے۔ اس دوران نہ صرف پولیس کی جانب سے واٹرین کینن اور لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا بلکہ ربڑ کی گولیاں بھی چلائی گئیں۔

    حکومت کا مؤقف ہے کہ فیک نیوز، نفرت انگیز مواد اور آن لائن فراڈ کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہے۔

    کٹھمنڈو میں احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پوسٹرز پکڑے ہوئے تھے جن میں سے کچھ پر لکھا تھا کہ ’بس بہت ہو گیا‘ اور ’کرپشن ختم کرو۔‘

    کچھ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے ’آمرانہ رویے‘ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ جب احتجاجی مظاہرین پارلیمنٹ علاقے میں پہنچے تو کچھ افراد پارلیمنٹ کی دیوار پر بھی چڑھ گئے۔

    کٹھمنڈو پولیس کے ترجمان شیکھر کھنال کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران 17 افراد دارالحکومت میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال اس وقت کیا گیا جب مظاہرین نے ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔‘

    کٹھمنڈو کے ضلعی دفتر کے ترجمان کے مطابق پارلیمنٹ سمیت اس سے ملحقہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

    ایسا ہی ایک احتجاجی مظاہرہ نیپال کے شہر اتہاری میں بھی ہوا جہاں مقامی پولیس کے مطابق دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    خیال رہے گذشتہ ہفتے نیپال میں حکام نے 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے اور کہا تھا کہ یہ کمپنیاں ملکی قوانین کے مطابق وزارت برائے مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اپنی رجسٹریشن نہیں کروا رہیں۔

  7. پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کا الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمر جنسی آپریشن سینٹر نے پنجاب، سندھ اوربلوچستان میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پنجاب کے شمال مشرقی اور جنوبی اضلاع میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، حافظ آباد، فیصل آباد، چنیوٹ اور سرگودھا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے جبکہ ملتان، لیہ، خانیوال، وہاڑی، بہاولپور، بہاولنگر، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، خانپور، راجن پور، لیاقت پور، ظاہر پیر، صادق آباد اور رحیم یار خان کے علاقوں میں شدید طوفانی بارشوں کا امکان ہے۔

    نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال، ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ سندھ کے جنوبی اضلاع میں اگلے 12 تا24 گھنٹے گھنٹوں کے دوران طوفانی ہواؤں کے ساتھ شدید بارشوں کا امکان ہے۔

    جنوبی اضلاع بشمول ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر، مٹھی، عمر کوٹ، میرپور خاص، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو آدم، حیدرآباد، کراچی اور گردونواح میں بارش متوقع سندھ کے بالائی اور وسطی اضلاع میں بھی اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے ہلکی بارش کا امکان ہے۔ سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد، خیرپور، دادو، جیکب آباد، کشمور، جامشورو اور گردونواح میں بھی ہلکی بارش کا امکان ہے۔

    بلوچستان کے متعدد اضلاع میں اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارشوں کا امکان ہے۔ ژوب، لورالائی، سبی، ڈیرہ بگٹی، سوئی، خضدار، آواران، بارکھان اور لسبیلہ کے علاقوں میں آندھی طوفان کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی ہے۔

  8. سپریم کورٹ کے آج ہونے والے فل کورٹ اجلاس میں چار ججز نے شرکت سے معذرت کر لی

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ کے آج ہونے والے فل کورٹ اجلاس میں چار ججز نے شرکت سے معذرت کرلی ہے۔ چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں ان ججز نے کہا کہ پہلے سپریم کورٹ رولز کو سرکولیشن کے ذریعے منظور کیا اور پھر رولز میں پیوندکاری کے لیے فل کورٹ بلا لیا گیا ہے۔

    ججز کے خط کے مطابق مطابق فل کورٹ اجلاس پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر مہر ثبت کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے چیف جسٹس یحیی آفریدی کو لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تین ستمبر 2025 کو فل کورٹ اجلاس کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، فول کورٹ اجلاس سپریم کورٹ رولز 2025 میں ترامیم پر غور کے لیے تھا۔

    اس فل کورٹ اجلاس پر ہمارے تحفظات وہی ہیں جو بارہا دہرائے جا چکے ہیں۔

    خط کے مطابق سپریم کورٹ رولز 2025 کو فل کورٹ اجلاس میں پیش نہیں کیا گیا، نہ ہی منظوری لی گئی، آئین کا آرٹیکل ون نائنٹی ون سپریم کورٹ کو اپنے رولز مرتب کرنے کا اختیار دیتا ہے، سپریم کورٹ بطور ادارہ مجموعی طور پر یہ اختیار استعمال کرتی ہے۔ فل کورٹ کی جانب سے غور و فکر و منظوری کے بغیر یہ رولز قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکتے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ رولز 2025 کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے لی گئی، سرکولیشن ایک انتظامی طریقہ کار ہے جس کے تحت معمولی معاملات کی منظوری لی جاتی ہے، عدالتی رولز کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے ہر گز نہیں لی جا سکتی۔

    خط لکھنے والے ججز کے مطابق صرف فل کورٹ ہی رولز کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری کا کہہ سکتا ہے، اکیلے چیف جسٹس رولز کی منظوری کیلئے سرکولیشن کا عمل نہیں اپنا سکتے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ اس مرحلے پر فل کورٹ اجلاس بلانا نہ صرف پریشان کن بلکہ مقصد کے لحاظ سے بھی غلط ہے، نو اگست 2025 کو سپریم کورٹ رولز کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، چیف جسٹس نے تین روز کے اندر ہی رولز میں ترمیم کے لیے تجاویز طلب بھی کرلیں اور ان تجاویز پر غور کے لیے فل کورٹ اجلاس بھی بلا لیا۔

    یہ ترتیب اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ فل کورٹ ہی اس طرح کے مباحث کے لیے صحیح فورم ہے۔ پہلے رولز کو صحیح قرار دے دیا گیا، پھر رولز میں پیوندکاری کے لیے فل کورٹ بلا لیا گیا۔

    خط کے مطابق یہ اجلاس پہلے سے جاری کردہ رولز کو جواز دینے کی کوشش ہے۔ ججز نے لکھا کہ فل کورٹ کا اجلاس اب محض ایک رسمی کارروائی لگتی ہے۔ فل کورٹ کو محض دکھاوے کے لیے نہیں، حقیقی مشاورت اور اتفاقِ رائے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ فل کورٹ اجلاس پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر مہر ثبت کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

    آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کے رولز بنانے کا اختیار صرف فل کورٹ کو حاصل ہے، کوئی ایک فرد یا کمیٹی یہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی۔ یہ اقدام اجتماعی اختیار کو کمزور کرنے جیسا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ جب تک مناسب طریقہ کار نہیں اپنایا جاتا، ہم فل کورٹ اجلاس میں شرکت کی کوئی وجہ نہیں دیکھتے۔ استدعا ہے کہ ہمارے تحفظات و اعتراضات کو فل کورٹ اجلاس کے منٹس کا حصہ بنایا جائے، فل کورٹ اجلاس کے منٹس کو بھی عام کیا جائے تاکہ عوام جان سکے کہ ججز کے غور و فکر کے بغیر عدالتی رولز کیسے منظور کرلیے گئے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ ’فل کورٹ کے اجلاس میں شفافیت ناگزیر ہے، عوامی اعتماد عدلیہ کی بنیاد ہے، شفافیت کے بغیر کوئی آئینی ادارہ مؤثر طریقے سے کام نہیں کر سکتا۔‘

  9. نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف نوجوان سڑکوں پر، پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 13 افراد ہلاک

    Nepal

    نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 13 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    زیادہ تر زخمیوں کو نیو بنیشور کے سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر موہن چندر رگمے نے کہا کہ کم از کم دو لوگوں کی موت واقع ہو چکی ہے۔

    مقامی صحافی نریش گوالی نے فون پر بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’کم از کم 150 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کئی مقامات پر کرفیو نافذ ہے، فوج بھی سڑکوں پر ہے، شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، اس کے باوجود مظاہرین پیچھے نہیں ہٹے اور ہلاکتوں کی اطلاعات کے بعد بھی احتجاج جاری ہے۔‘

    نیپال پولیس نہ صرف کھٹمنڈو بلکہ ملک کے کئی حصوں میں نگرانی کر رہی ہے۔

    پولیس ترجمان بنود گھمیرے کے مطابق کھٹمنڈو اور کئی بڑے شہروں میں پیر کی صبح سے ہی مظاہرے جاری ہیں۔

    ترجمان نے بی بی سی نیوز نیپالی کو بتایا ’مظاہرے نہ صرف کھٹمنڈو میں بلکہ کئی دوسرے شہروں میں بھی ہو رہے ہیں۔ پولیس فورس ان کی نگرانی کر رہی ہے۔ ایک منصوبہ بنایا گیا ہے اور امن برقرار رکھنے کے لیے ہر پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔‘

    protest

    نوجوانوں کا احتجاج، فوج سڑکوں پر

    ہزاروں مظاہرین پیر کی صبح کھٹمنڈو کے سنگھا دربار میں جمع ہوئے اور پھر نئے بنیشور میں پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کیا۔

    بی بی سی کے نامہ نگار کیشو کوئرالا کے مطابق کچھ مظاہرین رکاوٹیں عبور کر کے پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس دوران جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا۔

    راشٹرپتی بھون، شیتل نواس، نارائن دربار میوزیم، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور پارلیمنٹ ہاؤس کے ارد گرد رات 10 بجے تک کرفیو رہے گا۔ ترجمان کے مطابق مظاہرین بے قابو ہو گئے ہیں اور حکم امتناعی کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

    کرفیو میں توسیع کے اعلان کے فوراً بعد نیپالی فوج کے دستے سڑکوں پر تعینات کر دیے گئے۔

    نیپالی فوج کے ترجمان اسسٹنٹ جنرل راجا رام بسنیٹ نے کہا کہ ’تحریری احکامات ملنے کے بعد، امن برقرار رکھنے کے لیے ایک چھوٹا فوجی دستہ بھیج دیا گیا ہے۔‘

    حکام کا کہنا ہے کہ کچھ مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس دوران تشدد کی اطلاعات ہیں اور کئی زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

    نیپال سے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں ہزاروں مظاہرین نظر آ رہے ہیں۔

    احتجاج میں شریک ایک طالب علم نے بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ ’زلزلے کی ضرورت نہیں، نیپال آئے روز کرپشن سے لرز رہا ہے۔‘

    نوجوان کرپشن کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے۔

    چند ماہ قبل نیپال میں بادشاہت کی بحالی کے لیے تحریک چلی تھی۔ اس دوران بھی مظاہرین نے سسٹم میں موجود مبینہ بدعنوانی کا مسئلہ اٹھایا تھا۔

    Social Media ban in Nepal

    سوشل میڈیا پر پابندی

    نیپال حکومت نے گذشتہ ہفتے 26 پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ شامل ہیں پر پابندی لگا دی تھی۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ملکی قوانین کی پاسداری، مقامی دفاتر کھولنے اور شکایات افسران کی تعیناتی کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔

    چین کی سوشل میڈیا کمپنی ٹک ٹاک نے بروقت ان شرائط کی تعمیل کی، اس لیے اس سائٹ پر پابندی نہیں لگائی گئی۔

    نیپال کے عوام کی بڑی تعداد بیرون ملک مقیم ہے۔ میسجنگ ایپس اور سوشل میڈیا پر پابندی کے بعد بیرون ملک مقیم نیپالی شہریوں کو اپنے اہل خانہ سے رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    Social Media

    پابندی کے بعد مظاہرے کی کال

    سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی کے بعد خود کو ’جنریشن زی‘ کہنے والے نوجوانوں نے احتجاج کی کال دی۔

    ٹک ٹاک فی الحال نیپال میں ٹرینڈ کر رہا ہے۔ منتظمین نے ٹک ٹاک پر کئی ویڈیوز شیئر کیں اور نوجوانوں سے احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی۔

    ٹک ٹاک پر ’نیپو بے بی‘ ٹرینڈ بھی شروع کیا گیا، جس میں سیاستدانوں کے بچوں کی پرتعیش زندگی کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی گئیں۔ اس میں سوال اٹھایا گیا کہ سیاست دان اپنے بچوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں لیکن ملک کے لیے کام نہیں کر رہے۔

    کئی ویڈیوز میں نیپال کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکل زندگی اور لیڈروں کی آرام دہ زندگی کا بھی موازنہ کیا گیا۔

  10. سیلاب متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مالی مدد فراہم کی جائے: بلاول بھٹو زرداری کا مطالبہ

    BBZ

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے عوام کو مالی مدد فراہم کرے۔

    پنجاب میں مظفر گڑھ کے علاقے ٹھٹھہ سیال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے یہ درخواست کی ہے کہ یہ پروگرام امداد کا شفاف طریقہ بھی ہے اور اس سے قبل بھی آفات میں اس پروگرام کے ذریعے متاثرین کی مدد کی گئی ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اس وقت جتنا اہم ریلیف ہے اتنا ہی نقصان کا ازالہ ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ فصلوں کی تباہی کا ازالہ کیا جائے اور تباہ شدہ گھروں کو تعمیر کیا جائے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ملک میں ایگریکلچر ایمرجنسی ڈکلیئر کرنا چاہیے۔‘

  11. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج اور عسکریت پسندوں میں جھڑپ: ایک شدت پسند ہلاک، تین فوجی زخمی, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    انڈین کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    انڈین فوج نے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے علاقے کولگام میں ایک شدت پسند کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    انڈین فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح کولگام ضلع کے گُڑھر جنگلات میں تلاشی کی کارروائی کے دوران مسلح عسکریت پسندوں نے فوج پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک افسر سمیت تین فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔

    ترجمان کے مطابق، فوج نے پیر کی صبح مصدقہ اطلاع ملنے پر گُڑھر جنگلات کا محاصرہ کیا لیکن وہاں چھپے مسلح عسکریت پسندوں نے فوجی اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔

    ’پہلے تو شدت پسندوں کی فائرنگ سے ایک جونئیر کمیشنڈ افسر زخمی ہوا۔ جوابی کارروائی میں ایک عسکریت پسند مارا گیا۔ تاہم اس دوران مزید دو فوجی زخمی ہوگئے۔‘

    کشمیرمیں تعینات انڈین فوج کی پندرہویں کور، جسے اب چنار کور کہا جاتا ہے، کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گڑھر جنگلات میں آپریشن جاری ہے اور گھنے جنگلوں، غاروں اور پہاڑی درّوں میں چھپے عسکریت پسندوں کو تلاش کیا جارہا ہے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگست کے شروع میں کولگام میں ہی اکہال جنگلات کے قریب فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جو 11 روز تک جاری رہی۔ تاہم عسکریت پسند گھنے جنگلات کا فائدہ اُٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

    فوج اور پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے عسکریت پسندوں نے اپنی حکمت عملی بدل دی ہے اور اب وہ بستیوں کی بجائے گھنے جنگلات اور پہاڑی درّوں میں پناہ لے کر فوج پر حملے کرتے ہیں۔ اس نئے ’جنگل وارفئیر‘ سے نمٹنے کے لیے اسرائیل سے جدید ترین ہتھیار خاص طور ڈرونز کو بھی درآمد کیا گیا ہے۔

  12. یروشلم میں فائرنگ کے واقعے میں چھ افراد ہلاک، چھ زخمی

    ِیروشلم

    ،تصویر کا ذریعہMDA Israel

    اسرائیلی امدادی سروس کا کہنا ہے کہ یروشلم میں فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

    میگن ڈیوڈ ایڈم ایمبولینس سروس کے مطابق، مرنے والوں چاروں افراد مرد ہیں جن میں سے ایک کی عمر 50 سال سے زائد ہے جبکہ دیگر تین 30 ​​سال سے زائد عمر کے ہیں۔

    ایمبولینس سروس کے مطابق گولی لگنے سے زخمی ہونے والے چھ افراد کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ کئی دیگر افراد شیشے ٹوٹنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ راموت جنکشن پر ہوا جو شہر کے شمال مغربی مضافات میں واقع ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ ’دو عسکریت پسندوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔‘

    اسرائیل کے چینل 12 ٹی وی نے خبر دی ہے کہ مسلح افراد ایک بس میں سوار ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد ایک فوجی نے انھیں گولی مار دی۔

    تاحال کسی مسلح گروپ کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

  13. پی ڈی ایم اے کی آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، رواں مون سون سیزن کا دسواں سپیل نو ستمبر تک جاری رہے گا۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، حافظ آباد، منڈی بہاوالدین، اوکاڑہ، ساہیوال، قصور، جھنگ، سرگودھا، اور میانوالی میں بارشوں کا امکان ہے۔

    اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ نو ستمبر تک ڈیرہ غازی خان رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں سب سے زیادہ 96 ملی میٹر بارش جہلم میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ جھنگ میں 77 ملی میٹر، نورپور تھل میں 70 ملی میٹر، خانیوال میں 55 ملی میٹر، لیہ 42 ملی میٹر، راولپنڈی 34 ملی میٹر، ساہیوال 32 ملی میٹر، منگلا 29 ملی میٹر، چکوال 26 ملی میٹر، ڈیرہ غازی خان 21، فیصل آباد 20 اور اوکاڑہ میں 17 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔

  14. چھ روز بعد بھی گجرات سے سیلاب اور بارش کا پانی مکمل طور پر نہیں نکالا جا سکا, احتشام شامی، صحافی

    گجرات

    ،تصویر کا ذریعہEhtisham Shami

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گجرات سے چھ روز بعد بھی سیلاب اور بارش کا پانی مکمل طور پر نہیں نکالا جا سکا ہے۔

    گجرات کے علاقوں گلزار مدینہ روڈ، تمبل بازار، چوک نواب صاحب، چوک پاکستان، فیصل گیٹ، مین سرکلر روڈ، شاہدولہ گیٹ، مچھلی بازار، خواجگان روڈ، تھانہ بی ڈویژن سے پانی کی نکاسی کی جا چکی ہے تاہم محلہ شاہ حسین، شفیع آباد، بخشو پورہ، غریب پورہ، کورٹ روڈ ،علی پورہ روڈ، جیل روڈ، شادمان، بارہ دری، قمر سیالوی روڈ، رحمان شہید روڈ پر اب بھی کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔

    سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہر کے متعدد علاقوں میں اب بھی کئی کئی فٹ پانی جمع ہے۔

    گجرات کے رہائشی صحافی عبدالسلام مرزا کا کہنا ہے کہ علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب کمشنر گوجرانوالہ کا کہنا ہے کہ پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز کے گجرات کے دورے کے بعد پانچ شہروں سے واسا کی مشینری گجرات پہنچائی دی گئی ہے اور متاثرہ علاقوں کو کلیئر کرنے کے لیے تیزی سے کارروائی جاری ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ محکمہ ہاؤسنگ، کمیونیکیشن، ورکس، لوکل گورنمنٹ اور اریگیشن کا عملہ دن رات کام کررہا ہے۔

    کمشنر گوجرانوالہ کے مطابق، جن علاقوں سے نکاسی کا عمل مکمل ہوچکا ہے وہاں ستھرا پنجاب کی ٹیمیں صفائی کا کام کررہی ہیں۔

    گجرات

    ،تصویر کا ذریعہEhtisham Shami

    گجرات

    ،تصویر کا ذریعہEhtisham Shami

  15. بی این پی کے جلسے میں خود کش حملے کے خلاف بلوچستان میں ہڑتال, محمد کاظم، بی بی سی کوئٹہ

    کوئٹہ ہڑتال

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے کے شرکا پر خود کش حملے کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ دو ستمبر کو کوئٹہ میں سریاب کے علاقے میں واقع شاہوانی سٹیڈیم میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی سردار عطااللہ مینگل کی برسی کی مناسبت سے ہونے والے جلسے کے بعد اس کے شرکا پر خود کش حملہ ہوا تھا۔ اس حملے میں 15 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوئے تھے۔

    ہڑتال کے دوران کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے کئی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

    ہڑتال کے باعث اکثر علاقوں میں نجی اسکول بند ہیں جبکہ بلوچستان بار کونسل کی جانب سے صوبے بھر میں عدالتی کاروائی کے بائیکاٹ کی بھی کال دی گئی ہے۔

    دوسری جانب محکمہ داخلہ بلوچستان نے خبردار کیا ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت اور معمولاتِ زندگی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے گی۔

    کوئٹہ

    دو ستمبر کے خود کش حملے کے خلاف ہڑتال کی کال پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں چھ جماعتوں کی جانب سے دی گئی تھی جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور مجلس وحدت المسلمین شامل ہیں۔

    متعدد تاجر تنظیموں کے علاوہ ٹرانسپورٹ کی تنظیموں کی جانب سے بھی ہڑتال کی حمایت کی گئی ہے۔

    ہڑتال کی وجہ سے کوئٹہ شہر سمیت صوبے کے متعدد شہروں میں کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

    پہیہ جام ہڑتال کی وجہ سے نجی سکولوں کی تنظیموں نے بھی سکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ہرتال کے دوران سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے بلوچستان کے متعدد علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کی وجہ سے صوبے کی اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہے۔

    کوئٹہ اور بعض دیگر علاقوں میں رکاوٹیں ہٹانے اور مظاہرین کو منتشر کرنے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

    بی این پی کے مرکزی نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ گرفتار رہنماوؑں میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال، عوامی نیشنل پارٹی کے ثناء اللہ کاکڑ کے علاوہ دیگر جماعتوں کے متعدد رہنما اور کارکن شامل ہیں۔

    ’امن عامہ کو نقصان پہنچانے والے ملک دشمنی کے مرتکب تصور کیے جائیں گے‘

    محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے اس ہڑتال کی مناسبت سے جاری کیے جانے والے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ امن عامہ کو نقصان پہنچانے والے ملک دشمنی کے مرتکب تصور ہوں گے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    پریس نوٹ کے مطابق پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی اور جمہوری حق ہے تاہم کسی کو بھی زبردستی سڑکیں یا شاہراہیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور زور زبردستی یا تشدد کے ذریعے شہریوں کو مشکلات میں ڈالنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

    محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ ہسپتال، عوامی ٹرانسپورٹ، فیول سٹیشنز اور مارکیٹس ہر صورت فعال رہیں گی۔ تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز کی بندش کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔

    حکومت کی جانب سے تمام ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے عملے کی حاضری یقینی بنانے، ایمبولینسز کو الرٹ پر رکھنے اور ادویات کی دستیابی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور ایسے عناصر سے دور رہیں جو امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کریں۔

  16. جلالپور پیر والا میں لوگوں نے انتظامیہ کی ہدایت کے باوجود انخلا نہیں کیا جس کے باعث ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی: اعظمیٰ بخاری

    جلالپور

    ،تصویر کا ذریعہRescue Punjab

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے صوبے بھر میں 42 لاکھ افراد سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے 21 لاکھ 47 ہزار کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    پیر کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات پنجاب اعظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سیلاب سے چار ہزار 335 موضع جات متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلاب سے متعلقہ واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 60 تک جا پہنچی ہے۔

    ضلع ملتان کے شہر جلالپور پیر والا میں سیلاب کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جلالپور پیر والا میں لوگوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کو کہا گیا تھا لیکن لوگوں نے انتظامیہ کی بات نہیں سنی جس کے باعث کل رات ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ساری رات وزیرِ اعلیٰ سمیت تمام انتظامیہ ہائی الرٹ پر تھی اور ابھی بھی علاقے میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    اعظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگ شاید سیلاب کو سیریس نہیں لے رہے۔ ’سیلاب کوئی دیکھنے کی اور فن کرنے کی چیز نہیں ہے۔ یہ پانی کوئی مستی [کرنے] والا پانی نہیں، یہ بہت تیز بہاؤ والا پانی ہے۔‘

    انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ جب کہا جائے کہ گھروں کو چھوڑ دیں تو برائے مہربانی گھروں کو خالی کر دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب جو کہ ملک کا ’فوڈ باسکٹ‘ کہلایا جاتا ہے وہاں 18 لاکھ 41 ہزار ایکڑ زیرِ کاشت اراضی سیلاب سے متاثر ہوئی ہے۔

    اعظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ سیلاب کے دوران ساڑھے 15 لاکھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

  17. جلالپور پیر والا سے لوگوں کا انخلا جاری، شہر کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں: پی ڈی ایم اے

    جلالپور پیر والا

    ،تصویر کا ذریعہPDMA Punjab

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ جلالپور پیر والا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے شہریوں کا انخلا جاری ہے جبکہ شہر کو محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ فوج، سول انتظامیہ، ریسکیو اور پنجاب پولیس کے اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن میں تین ہیلی کاپٹرز بھی شامل ہیں۔ عرفان علی کاٹھیا کے مطابق، ہیلی کاپٹرز کی مدد سے بھی شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا مزید کہنا ہے کہ وزیر اعلٰی پنجاب ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہی ہیں۔

  18. سیلاب کے پیشِ نظر سندھ میں تقریباً ایک لاکھ 34 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا: شرجیل انعام میمن

    پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں سیلاب کے پیشِ نظر اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 33 ہزار 887 افراد اور تین لاکھ 80 ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پانچ ہزار 830 افراد اور 10 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے تاہم گڈو، سکھر اور کوٹری میں حالات قابو میں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ خطرناک صورتحال اس وقت پنجند اور تریموں کے مقامات پر ہے۔ پنجند میں پانی کی آمد و اخراج دونوں تقریباً 504,604 کیوسک ہے جبکہ تریموں پر پانی کا بہاؤ 543,579 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت مسلسل پانی کی سطح پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

  19. جلالپور پیر والا میں ریسکیو آپریشن جاری، 24 گھنٹوں میں ملتان سے 2300 سے زائد افراد ریسکیو

    جلالپور والا

    ،تصویر کا ذریعہRescue Punjab

    ریسکیو پنجاب کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ جلالپور پیر والا میں رات بھر سے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملتان میں 2343 افراد کو سیلابی علاقوں سے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

    ترجمان ریسکیو کا کہنا ہے کہ مڈ نائیٹ آپریشن کے دوران ملتان کے علاقے خان بیلہ کی ملحقہ آبادیوں کرم والی اور دراب پور سے 143 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

    ریسکیو پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک ملتان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 10 ہزار 810 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

    ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد کا کہنا ہے کہ ملتان کی ضلعی مینجمنٹ اب تک مجموعی طور پہ ساڑھے 3 لاکھ افراد اور 3 لاکھ سے زائد جانوروں کا پیشگی انخلا کروا چکی ہے۔

    ریسکیو پنجاب نے مظفر گڑھ اور علی پور جتوئی کے رہائشیوں سے پیشگی انخلا میں تعاون کرنے اور سیلابی علاقہ چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔

  20. اربن فلڈنگ کے باعث گجرات جیل خالی کر دی گئی, احتشام شامی، صحافی

    گجرات جیل

    ،تصویر کا ذریعہGujrat Prison

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گجرات میں شدید اربن فلڈنگ کے باعث ڈسٹرکٹ جیل کو خالی کر دیا گیا ہے۔

    جیل انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، 1860 قیدی و حوالاتیوں کو صوبہ کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں چار روز قبل 400 قیدیوں منتقل کیا گیا تھا جبکہ سنیچر کے روز بقیہ 1460 قیدیوں کو بھی دوسری جیلوں میں منتقل کر دیا گیا۔

    قیدیوں کو جہلم، حافظ آباد، نارووال اور گوجرانوالہ کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    سپرنٹینڈنٹ جیل اختر بریار کا کہنا ہے کہ جیل میں حساس مقامات میں پانی کی سطح بڑھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے جیل کو خالی کروایا گیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیل کے چاروں اطراف اور اندر بدستور پانی موجود ہونے کے باعث منتقلی آپریشن میں 20 گھنٹے لگے۔

    سپرنٹینڈنٹ جیل کا کہنا ہے کہ جیل میں دو سے تین فٹ پانی داخل ہوا جو بیرکوں میں بھی چلا گیا۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ جیل سے پانی کی نکاسی اب تک ممکن نہیں ہو سکی ہے کیونکہ روڈ لیول پر کافی پانی موجود ہے۔