برطانوی وزیراعظم سے ’مشکل ملاقات‘ کے بعد اسرائیلی صدر کا قطر پر حملوں کا دفاع، یمن پر اسرائیلی حملوں میں 35 افراد ہلاک

برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر نے قطر پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ضروری تھے تاکہ ’کچھ لوگوں کو ہٹایا جائے جو معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘ ادھر یمن پر اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے اور 131 زخمی ہیں۔

خلاصہ

  • یمن پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی ہے جبکہ 131 زخمی ہیں
  • برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر نے قطر پر حملوں کا دفاع کیا اور کہا کہ ’یہ اتحادیوں کے درمیان ملاقات تھی لیکن یہ ایک مشکل ملاقات تھی‘
  • امریکہ میں اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم اس بار انھیں (حماس کو) نشانہ نہیں بنا سکے تو اگلی دفعہ پھر انھیں ہدف بنا لیں گے‘
  • اسرئیل کو حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں: قطری وزیر اعظم
  • دوحہ میں حملے کا فیصلہ میرا نہیں بلکہ نیتن یاہو کا تھا، میں اس سے خوش نہیں ہوں: امریکی صدر
  • حماس کا کہنا ہے کہ دوحہ حملے میں تنظیم کی لیڈرشپ محفوظ رہی، تاہم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔

    تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  2. یمن پر حملوں کے بعد اسرائیل اور قطر کے تعلقات غیر یقینی کا شکار

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کو 24 گھنٹے سے زائد ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے حماس کے اعلیٰ رہنماؤں کو نشانہ بنایا۔

    دن بھر مختلف ردِعمل سامنے آتے رہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اپنا اجلاس ملتوی کر دیا تاکہ قطر کے وزیراعظم اس میں شریک ہو سکیں۔

    قطر کی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں، تاہم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ اسرائیل کو مکمل جواز حاصل تھا کیونکہ اس نے ان حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا جو 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں ملوث تھے۔

    امریکہ کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ ’ہمیں فی الحال یہ نہیں معلوم کہ ان حملوں کا غزہ میں جنگ بندی مذاکرات پر کیا اثر پڑے گا۔‘

    آج اسرائیل نے یمن میں بھی نئے حملے کیے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے فوجی کیمپوں، حوثیوں کے ایک میڈیا ہیڈکوارٹر اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا جبکہ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں شہری مقامات، جن میں دو اخباروں کے دفاتر بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنایا گیا۔

    حوثیوں کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں 35 افراد ہلاک اور 131 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی نے جاری کیے ہیں۔

    اس سے قبل برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے ملاقات کی۔ ہرزوگ نے اس ملاقات کو’مشکل گفتگو‘ قرار دیا جس میں غزہ کی صورتحال اور دوحہ پر حملوں پر بات ہوئی۔ سٹارمر کی جانب سے اس ملاقات کے بعد تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

  3. یمن پر اسرائیلی حملے، ہلاک ہونے والوں میں صحافی بھی شامل: حوثی فوج کے ترجمان, سبیستین اشر، مشرقِ وسطیٰ کے امور کے تجزیہ کار

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی فوج نے حوثیوں کے نئے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور صنعا کے اوپر دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔ اسرائیل کے مطابق یہ کارروائی حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔

    حوثی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے میڈیا اداروں سے وابستہ صحافی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔

    گذشتہ ماہ اسرائیل نے حوثیوں کی خودساختہ حکومت کے کئی اہم رہنماؤں کو ہلاک کر دیا تھا، جن میں ان کے وزیراعظم بھی شامل تھے۔

    یہ اب تک کے سب سے بڑے اور نمایاں حملے تھے، جو اُس وقت سے جاری ہیں جب غزہ کی جنگ کے آغاز کے فوراً بعد حوثیوں نے حماس کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ برسانا شروع کیے تھے۔

  4. یمن پر اسرائیلی فضائی حملے: ہلاکتوں کی تعداد 35 ہو گئی، 131 زخمی

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یمن میں حوثی انتظامیہ کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 35 ہو گئی ہے۔

    یہ اعداد و شمار خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی نے جاری کیے ہیں۔

    وزارت کے مطابق 131 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے فوجی کیمپوں، حوثیوں کے ایک میڈیا ہیڈکوارٹر اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا جبکہ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں شہری مقامات، جن میں دو اخباروں کے دفاتر بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنایا گیا۔

  5. ’یہ اتحادیوں کے درمیان ملاقات تھی لیکن یہ ایک مشکل ملاقات تھی‘: برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسرائیلی صدر کا قطر پر حملوں کا دفاع

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے آج دوپہر برطانیہ کے وزیراعظم کیر سٹارمر کے ساتھ ملاقات کے بعد کچھ باتیں شیئر کیں۔

    لندن میں قائم بین الاقوامی امور کے ایک تھنک ٹینک، چیتھم ہاؤس کے ایک ایونٹ میں بات کرتے ہوئے ہرزوگ نے اس ملاقات کو ’صاف گو‘ اور ’سخت‘ قرار دیا۔

    انھوں نے کہا ’یہ اتحادیوں کے درمیان ملاقات تھی لیکن یہ ایک مشکل ملاقات تھی۔‘

    منگل کو قطر پر اسرائیلی حملے میں حماس کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کو نشانہ بنانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہرزوگ نے کہا کہ یہ حملے ضروری تھے تاکہ ’کچھ لوگوں کو ہٹایا جائے جو معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

    انھوں نے زور دیا کہ اسرائیل جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، لیکن حماس کے فیصلے کے عمل میں سب کی رضامندی درکار ہوتی ہے اور اگر ایک شخص بھی انکار کر دے تو معاہدہ ممکن نہیں ہوتا۔

    انھوں نے کہا ’اگر آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، تو آپ کو ان لوگوں کو ہٹانا پڑتا ہے جو معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘

  6. دوحہ حملے کا غزہ جنگ بندی مذاکرات پر اثر واضح نہیں: امریکی سفیر

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ ’ہمیں نہیں معلوم‘ کہ اسرائیل کے قطر میں حملوں کا غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر کیا اثر پڑے گا۔

    رؤئٹرز نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ہکابی نے کہا کہ حماس نے اب تک ہر ممکن معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔

    ہکابی نے ان ممالک پر بھی تنقید کی جنھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ماہ اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔

    انھوں نے اس اقدام کو ’چھوٹا سا ڈراما‘ قرار دیا جس کے ’کچھ نقصان دہ اثرات‘ ہوئے، جیسے کہ حماس کے ساتھ یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات ختم ہونا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے اسرائیل کے یہودیہ اور سامریہ کے کچھ حصوں پر خودمختاری کے دعووں کو تقویت ملی۔

    برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آسٹریلیا اور بیلجیم نے کہا ہے کہ وہ اس ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے۔

    اس سال کے شروع میں اس ارادے کا اعلان کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیراعظم کیر سٹارمر نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل کچھ شرائط پوری کرے، جیسے جنگ بندی پر اتفاق کرے، تو وہ اس فیصلے سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

  7. اسرائیل یمن میں حوثیوں کو متعدد بار نشانہ بناتا رہا ہے

    یمن میں حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت صنعا ور الجوف کے علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں نو افراد ہلاک اور 118 زخمی ہوئے ہیں۔

    اسرائیل نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے حوثیوں کے ’پرو پیگنڈا ڈپارٹمنٹ، عسکری مقامات اور ایندھن کے ذخیرے‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کو نشانہ بنایا ہو بلکہ رواں برس متعدد مرتبہ ایسے حملے تواتر سے دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔

    • مئی میں اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا اور حدیدہ بندگارہ کے اطراف واقع متعدد مقامات کو اپنے حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔ یہ فضائی حملے میڈیا کی سُرخیوں میں بھی رہے تھے کیونکہ جس وقت صنعا میں ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا اس وقت عالمی ادارہ صحت کے سربراہ وہیں موجود تھے۔
    • جون اور جولائی میں اسرائیل نے ایک بار پھر حدیدہ میں متعدد فضائی حملے کیے اور کہا کہ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔
    • اگست میں اسرائیل نے یمن پر مزید حملے کیے اور ایسے ہی ایک حملے میں حوثیوں کے خود ساختہ وزیرِ اعظم احمد غالب ناصر الرھوی بھی ہلاک ہوئے تھے۔
    • گذشتہ ایک برس میں اسرائیل نے یمن کے علاوہ لبنان، شام اور ایران میں بھی اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
  8. اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ’قطر کی درخواست پر‘ کل تک کے لیے ملتوی, ندا توفیق، بی بی سی نیوز، نیویارک

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر پر اسرائیل کے حملے کے حوالے سے ہونے والا اجلاس ’قطر کی درخواست پر‘ کل تک ملتوی کر دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کے مطابق جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں اب قطری وزیراعظم شرکت کر سکتے ہیں۔

    اس سے قبل اس اجلاس کو آج مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے منعقد ہونا تھا۔

    یاد رہے کہ قطر نے اقوام متحدہ کو ایک خط میں دوحہ پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی تھی۔

    اس خط میں قطر نے اسرائیلی حملے کو قطری شہریوں اور یہاں رہنے والوں کے لیے ’سنگین خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

  9. یمن میں اسرائیلی فضائی حملے، کم از کم نو افراد ہلاک، 118 زخمی: یمن کی وزارت صحت

    یمن پراسرائیلی فوج کی جانب سے ہونے والے فضائی حملوں میں اب تک کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    یمن کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ صنعا اور الجوف میں ہونے والے ان حملوں میں 118 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    حوثیوں کے زیر انتظام چلنے والی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے یہ حملے عام شہریوں کے علاقے میں کیے ہیں جن کی ذد میں دو صحافی بھی آئے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے صنعا اور الجوف کے علاقوں میں ان ’فوجی کیمپوں‘ کو نشانہ بنایا جہاں حوثی باغیوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔‘

    آئی ڈی ایف نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ’حوثی فوجی پروپیگنڈا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کوارٹر اور ایندھن ذخیرہ کرنے کے مقام کو بھی نشانہ بنایا۔‘

  10. دوحہ میں حماس کے رہنما فون کال موصول نہیں کر رہے ہیں

    Israel

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی نیوز نے دوحہ میں موجود حماس کے رہنماؤں سے بات کرنے کی کوشش کی ہے مگر ان سے فون رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ ان رہنماؤں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس اجلاس میں موجود تھے جس پر اسرائیل نے فضائی حملہ کیا۔

    ان حملوں کے بعد بی بی سی کی طرف سے ان رہنماؤں کی طرف سے فون موصول نہیں کیا گیا اور نہ ہی ٹیکسٹ میسجز کے جوابات دیے گئے۔

    ان اسرائیلی حملوں میں چھ لوگ مارے گئے ہیں۔ ان میں حماس کے رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے بھی شامل ہیں۔ ان کے آفس مینجیر اور ایک قطری سکیورٹی آفیسر شامل تھے۔

    کچھ فون نمبر پر گھنٹی بجتی ہے مگر کوئی فون نہیں اٹھا رہا ہے۔

    حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے جو حملہ کیا گیا ہے اس میں ان کے رہنما محفوظ رہے ہیں۔ تاہم اس بیان میں ان رہنماؤں کے زخمی ہونے کے بارے میں یا ان کی صحت سے متعلق کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

  11. بریکنگ, اسرائیل کے یمن کے دارالحکومت صنعا پر فضائی حملے

    یمن کے دارالحکومت صنعا پر حملے

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یمن کے حوثی باغیوں کے زیر اثر میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر کم از کم چھ فضائی حملے کیے ہیں۔

    یمن کے حوثیوں کے زیرانتظام المسیرہ ٹی وی نے خبر دی ہے کہ یمن کی مسلح افواج کا فضائی دفاع اس وقت دارالحکومت صنعا پر حملہ کرنے والے اسرائیلی طیاروں کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے یمن پر حملے کی تصدیق کر دی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسرائیلی ڈیفنس فورس کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ نے یمن کے صنعا اور الجوف کے علاقوں میں ان ’فوجی کیمپوں‘ کو نشانہ بنایا جہاں حوثی باغیوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔

    آئی ڈی ایف نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ’حوثی فوجی پروپیگنڈا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کوارٹر اور ایندھن ذخیرہ کرنے کے مقام کو بھی نشانہ بنایا۔‘

    یہ حملہ قطری دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے جاری علاقائی کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایران کے حمایت یافتہ باغی گروپ نے 2014 سے یمن کے شمال مغربی حصے پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔

    اکتوبر 2023 میں غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے حوثیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ ’اظہار یکجہتی‘ کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل داغنا شروع کیے تھے۔

    ان حملوں کے دوران حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں پر بھی حملے کیے۔

    ان کے جواب میں اسرائیل بھی جواباً حملے کرتا رہا ہے۔

  12. سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے قبل قطر کا اقوام متحدہ کو خط

    قطر نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں دوحہ پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی ہے اور اسے تمام عالمی قوانین اور اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حملے کو زیر بحث لانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آج ہنگامی اجلاس بھی ہو گا۔

    قطر کی خبر رساں ادارے ’یو این اے کے مطابق یہ خط اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سنگجن کم کے نام بھیجا گیا ہے۔ سنگجن کم جنوبی کوریا کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ ستمبر میں سلامتی کونسل کے صدر بھی بنے ہیں۔ اس خط میں قطر نے اسرائیلی حملے کو قطری شہریوں اور یہاں رہنے والوں کے لیے ’سنگین خطرہ‘ قرار دیا ہے۔

  13. کراچی میں وقفے وقفے سے بارش، مضافات میں واقع پہاڑوں اور ندیوں سے آنے والے پانی سے شاہراہیں اور آبادیاں متاثر

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر کے مضافات میں واقع پہاڑوں اور ندیوں سے آنے والے پانی نے شاہراہوں اور آبادیوں کو متاثر کیا ہے۔

    دیکھیے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل اور محمد نبیل کی رپورٹ

    ،ویڈیو کیپشنکراچی میں بارش سے شاہراہیں اور آبادیاں متاثر
  14. اسرائیلی ٹی وی پریزینٹر کا دوحہ حملے پر جشن، شراب کی بوتل کھولی اور سٹوڈیو میں مٹھائی کی تقسیم

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہChannel 14

    اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ اسرائیل دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو قتل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اب بڑے بڑے اسرائیلی میڈیا کے ٹی وی چینلز اس حملے کے نتائج کے بارے میں مزید مایوسی کا شکار ہونے لگے ہیں۔

    تاہم، دائیں بازو کے چینل 14 نیوز کا معاملہ زرا مختلف ہے جو وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایتی کوریج کی شہرت رکھتا ہے۔

    وہ ان حملوں کو کامیابی قرار دے رہا ہے۔ دوحہ پر نو ستمبر کو ہونے والے حملوں کے جواب میں، اس ٹی وی کے فلیگ شپ پروگرام ’دی پیٹریاٹس‘ کے میزبان ینن مگل کو شیمپین کی بوتل اچھالتے دیکھا جا سکتا ہے اور ان حملوں پر وہ مٹھائی تقسیم کرتے نظر آتے ہیں اور براہ راست پروگرام کی نشریات میں سٹوڈیو میں تالیوں کی آواز بھی بلند ہوتی ہے۔

    ینن مگل نے حملے میں حصہ لینے والوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ’خدا ان پر رحم کرے اور ہمیں یہ امید ہے کہ وہاں ہر کوئی خاک میں مل گیا اور تمام دشمنوں کا صفایا ہو گیا ہے۔‘

    معروف مبصر یاکوف بارڈوگو ان حملوں کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل نے اب معاملہ سیدھا کر دیا ہے اور اب قطر کو اس کے صحیح مقام پر لا کھڑا کیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔

  15. برطانیہ کی قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت

    برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر

    ،تصویر کا ذریعہHouse of common

    برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے قطر پر اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم نے ہاؤس آف کامنز میں خطاب کے دوران کہا کہ ’وہ (اسرائیل) قطر کی خود مختاری کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ اس امن کو محفوظ بنانے کے لیے کچھ نہیں کرتے جس کے لیے برطانیہ اور دیگر اتحادی پابند عہد ہیں۔‘

    انھوں نے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا کہ حملے کے فوراً بعد برطانیہ کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے قطری امیر سے بات کی ہے۔

    کیئر سٹارمر کا کہنا ہے کہ شیخ تمیم بن حمد الثانی پرعزم تھے کہ ’حملوں کے باوجود، وہ جنگ بندی کے لیے سفارتی حل پر کام جاری رکھیں گے۔‘

  16. ’ہم اگر اس بار ان تک نہیں پہنچ سکے تو دوبارہ انھیں نشانہ بنائیں گے‘: امریکہ میں اسرائیلی سفیر کا حماس رہنماؤں سے متعلق بیان

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یروشلم میں بی بی سی نیوز کے نمائندے نے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فوج میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ انھوں نے گذشتہ روز دوحہ پر جو فضائی حملہ کیا ہے اس میں حماس کا کوئی سرکردہ رہنما نہیں مارا گیا، بلکہ نسبتاً جونیئر رہنما اس حملے میں نشانہ بنے ہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے میں اس کے چھ لوگ مارے گئے ہیں مگر ان میں کوئی بھی سینیئر رہنما شامل نہیں ہے۔

    جب امریکہ میں اسرائیلی سفیر سے اس حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم اس بار انھیں نشانہ نہ بنا سکے تو اگلی دفعہ پھر انھیں ہدف بنا لیں گے۔‘

    فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ اس حملے کا نشانہ حماس تنظیم تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں قطر کے لوگوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

    اسرائیلی سفیر نے اس حملے پر امریکی اور عالمی تنقید سے متعلق کہا کہ اسرائیل جلد اس مرحلے سے باہر نکل آئے گا۔

    ایک تنقید یہ بھی کی جاتی ہے کہ ایک ایسے وقت پر حماس پر حملہ ہوا جب جنگ بندی پر غور کیا جا رہا تھا۔

    سفیر نے کہا کہ ایسے مذاکرات مہینوں سے چل رہے ہیں۔ ’اس دوران حماس کی سرنگوں میں ہمارے یرغمالی کو بھوکا پیاسا رکھا ہوا ہے۔‘

  17. حماس کے کتنے اراکین قطر میں مقیم ہیں؟, رشدی ابولوف، غزہ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار

    حماس کے سینیئر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جانے والا اسرائیلی حملہ اس تنظیم کے قطر کے ساتھ تعلقات میں غیر یقینی کی سی صورت حال پیدا کرے گا۔

    قطر 13 سال سے زائد کے عرصے سے ایک ثالث کے طور پر اہم حیثیت رکھتا ہے۔

    2007 میں جب حماس نے غزہ پر کنٹرول حاصل کیا اور عالمی برادری کے بیشتر ممالک نے اسے نظرانداز کیا تو قطر نے اس وقت حماس کے لیے مالی اور سیاسی مدد فراہم کرنے کا قدم بڑھایا۔

    قطر نے غزہ میں تاحال اپنا خصوصی ایلچی، سفیر محمد العمادی، کو تعینات کیا ہوا ہے جنھیں فلسطینی اکثر ’اصل گورنر‘ قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں کی براہِ راست نگرانی کرتے ہیں۔

    تہران میں حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد اس تنظیم نے خاموشی سے ایران میں اپنے کچھ عہدیداروں کو قطر منتقل کر دیا اور اسے خطے میں اپنے لیے سب سے محفوظ اڈا سمجھا۔

    اسماعیل ہنیہ کے مشیروں میں سے ایک کے مطابق حماس کے تقریباً 1000 ارکان اور ان کے اہل خانہ دوحہ میں مقیم ہیں جو حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی رہائش گاہوں میں مقیم ہیں۔

    ان رہائش گاہوں میں سینئر رہنماؤں کے لیے الگ الگ ولا، تحریک کے لیے ایک بڑے ہیڈ کوارٹر کی عمارت اور رہائی پانے والے قیدیوں اور سکیورٹی عملے کے لیے اپارٹمنٹ بلاکس شامل ہیں۔

    تاہم منگل کے روز دوحہ میں حماس کے دفاتر پر حالیہ اسرائیلی حملے نے اس تصور میں دراڑ ڈال دی ہے کہ قطر حماس رہنماؤں کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہ ہے۔

    مبصرین کے مطابق اس واقعے کے بعد خطے کے کسی بھی ملک کے لیے حماس کی میزبانی جاری رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے جس سے سفارتی سطح پر بھی پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران حماس کے رہنما دوحہ، قاہرہ اور استنبول میں نسبتاً آزادی سے سفر کرتے رہے ہیں اور مصر و ترکی کے دارالحکومتوں میں غیر رسمی دفاتر بھی چلاتے رہے ہیں۔

    تاہم تازہ اسرائیلی کارروائی کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ غزہ کے علاوہ حماس اپنی سرگرمیاں کہاں اور کس شکل میں جاری رکھ سکے گا۔

  18. مصر اور اردن کی قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت

    مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اردنی بادشاہ عبداللہ دوم

    ،تصویر کا ذریعہgetty

    ،تصویر کا کیپشنمصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اردنی بادشاہ عبداللہ دوم کی فائل فوٹو

    مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے قطر کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انھیں عرب ریاست کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق مصری صدر اور شاہ اردن نے ٹیلیفون پر ہونے والے رابطے میں قطر پر اسرائیلی حملوں کے بعد کی علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق صدر عبد الفتاح سیسی اور شاہ عبداللہ دوم نے اسرائیل کی بلاجواز کشیدگی کی سنگینی پر زور دیا۔

    یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی اوراسرائیلی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیے کے خاتمے کے لیے قطر کی ثالثی تقریباً دو سال سے جاری ہے۔

    بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ریاست قطر کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ بھی کیا۔

  19. اسرائیلی حملے کا جواب دینے کا پورا حق رکھتے ہیں: قطری وزیر اعظم

    قطر نے اسرائیلی حملے کو ریاستی دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ قطر جوابی کارروائی کا پورا حق رکھتا ہے۔

    قطر کی جانب سے اپنی قانونی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹہرائیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیل نے منگل کی دوپہر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے سینیئر رہنماؤں پر حملہ کیا۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ دوحہ پر اسرائیلی حملے پر واضح طور پر ناراض اور مایوس ہیں اُن کا کہنا ہے کہ وہ ’اس حملے کے ہر پہلو سے بہت ناخوش ہیں۔‘

    قطر کے وزیر اعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ قطر اسرائیلی حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اپنی سلامتی اور علاقائی استحکام کو خطرے سے متعلق وہ کسی بھی خلاف ورزی یا جارحیت کے خلاف سختی سے کارروائی کرے گا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ’جواب میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قطر پالیسیوں اور طریقہ کار کا ایک جامع جائزہ شروع کرے گا تاکہ اس طرح کے اقدامات کی روک تھام کی جا سکے۔‘

  20. ہم ہمیشہ امریکی مفادات کے لیے کام نہیں کرتے، بعض اوقات فیصلہ کر کے صرف مطلع کرتے ہیں: اسرائیل کے اقوام متحدہ کے سفیر

    اسرائیل کے اقوام متحدہ کے سفیر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دفاع کرتے ہوئے اسے ’درست‘ فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’ہم ہمیشہ امریکہ کے مفاد میں کام نہیں کرتے۔‘

    اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے یہ بات اسرائیلی ریڈیو سٹیشن سے بات چیت میں کہی ہے اور ساتھ ہی کہا کہ ’اس کے نتائج پر تبصرہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے تاہم یہ درست فیصلہ ہے۔‘

    یاد رہے کہ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔

    واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے قطر پر اسرائیلی حملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس پوری صورتحال سے کوئی خوشی نہیں ہوئی ہے۔‘

    ڈینی ڈینن نے ریڈیو 103 ایف ایم کو بتایا کہ ’یہ حملہ قطر پر نہیں بلکہ حماس پر حملہ تھا۔ ہم قطر اور نہ ہی کسی عرب ملک کے خلاف ہیں۔ ہم اس وقت ایک دہشت گرد تنظیم کے خلاف کھڑے ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’ہم ہمیشہ امریکہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور وہ ہمیں بھرپور مدد فراہم کرتے ہیں، اور ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات ہم فیصلے کرتے ہیں اور امریکہ کو صرف مطلع کرتے ہیں۔ ‘