یہ صفحہ اب اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر تازہ خبریں اور تجزیے پڑھ سکتے ہیں
قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر کے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے ’نیویارک ڈیکلیئریشن‘ کی منظوری دی ہے۔
آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر تازہ خبریں اور تجزیے پڑھ سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر پر اسرائیل کے حملے کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے وزیراعظم سے نیویارک میں ملاقات کی ہے۔
جمعے کو نیویارک میں یہ ملاقات ڈنر یا عشائیے پر ہوئی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس ملاقات کی تصدیق کی ہے لیکن ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔
صدر ٹرمپ اور قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آلثانی کے مابین ملاقات میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی سفیر سٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔
نیویارک میں امریکی صدر کے ساتھ عشائیے سے قبل قطری وزیراعظم نے وائٹ ہاؤس میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔
امریکہ میں قطری مشن کے نائب سربراہ نے ایکس پر لکھا کہ ’امریکی صدر کے سے ساتھ زبردست عشائیہ ابھی ختم ہوا ہے۔‘
یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب چند روز قبل امریکی کے قریبی اتحادی ملک اسرائیل نے قطر کے دارالحومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ کیا تھا۔
دوسری جانب امریکی سیکرٹری خارجہ سنیچر کو اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔
امریکی سیکرٹری خارجہ ایک ایسے وقت میں اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں جب فرانس کی قیادت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر بات ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہQatar Foreign Ministry/X
قطر کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکام سے ملاقات میں خطے کی صورتحال کے تناظر میں امریکہ اور قطر کے مابین گہرے سٹرٹیجک تعلقات کو وسعت دینے پر غور کیا گیا۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق قطر کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے جارحانہ حملے کو دیکھتے ہوئے قطر اپنی سکیورٹی اور خودمختاری کے لیے ہر ممکن قدم اُٹھائے گا۔
بیان کے مطابق امریکہ نے امن کے قیام اور ثالثی کے لیے قطر کے کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ قطر خطے میں امریکہ کا قریبی اتحادی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlikhbariah
شام کی عبوری حکومت کے صدر احمد الشرع کا کہنا ہے کہ شام اور اسرائیل کے مابین ’سکیورٹی معاہدے‘ کو حتمیٰ شکل دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
اس معاہدے کے تحت بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کے جنوب میں اسرائیل کا قبضہ ختم کیا جائے گا۔
شام کے الخباریہ نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں الشرع نے بتایا کہ اسرائیل سمجھ رہا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کے خاتمہ کے بعد 1974 کا معاہدہ بھی ختم ہو گیا ہے حالانکہ شام نے کہا تھا کہ ’وہ معاہدہ برقرار رکھے گا۔‘
احمد الشرع اسرائیل اور شام کے مابین 1973 میں جنگ کے خاتمے کے بعد طے پانے والے معاہدے کا حوالے دے رہے تھے۔
احمد الشرع نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات سے متعلق یہ بیان اُس وقت جاری کیا ہے، جب چند ہفتے قبل شام کے وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر سے پیرس میں ملاقات کی تھی۔ دونوں کے مابین اس ملاقات میں شام میں ’دورز‘ اقلیتی صوبے سویدا میں کشیدگی کم کرنے پرغور کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیراعظم نریندرمودی نے سُشیلا کارکی کو نیپال کی عبوری حکومت میں وزیراعظم کا عہدہ سنھبالنے پر انھیں مبارکباد دی ہے۔
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری پیغام میں نیپال میں پرتشدد مظاہروں کے بعد بننے والے حکومت کو مبارکباد دی۔
ایکس پر جاری پیغام میں نریندر مودی نے کہا کہ ’انڈیا نیپال میں امن، ترقی اور نیپالی عوام کی خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔‘
نیپال میں بدعنوانی کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کے بعد سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سُشیلا کارکی نے بطور نگراں وزیرِ اعظم کا حلف اُٹھایا تھا۔ وہ نیپال کی پہلی خاتون وزیراعظم ہیں۔
سُشیلا کارکی کی قیادت میں نگراں حکومت اب اگلے چھ مہینوں میں نئے انتخابات کروائے گی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے ’نیویارک ڈیکلیئریشن‘ کی منظوری دی ہے جس میں اسرائیل فلسطین تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے ’مقررہ مدت کے اندر، ٹھوس، ناقابل واپسی اقدامات‘ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں اس قراراداد کے حق میں 142 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ امریکہ اور اسرائیل سمیت 10 ممالک نے اس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس قرارداد میں عسکریت پسند تنظیم حماس کے اسرائیل کے خلاف سات اکتوبر کے حملے مذمت کی گئی۔ قرارداد میں حماس سے فوری ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سات صفحات پر مشتمل ’نیویارک ڈیکلیئریشن‘ رواں سال جولائی میں فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس کے بعد سامنے آیا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔
22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران غزہ کے معاملے پر عالمی رہمناؤں کا اجلاس ہو گا جس میں امکان ہے کہ برطانیہ فلسطین کو بطورِ ریاست تسلیم کر لے گا۔
اقوام متحدہ کی قرارداد میں ’نیویارک ڈیکلیئریشن‘ کی توثیق کرتے ہوئے غزہ میں جنگ فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں غزہ کی ناکہ بندی، شہریوں اور املاک پر اسرائیلی حملے اور فاقہ کشی کے مذمت کی گئی۔ قرارداد میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت غزہ میں عارضی طور پر بین الاقوامی استحکام مشن کی تعیناتی کی حمایت کی ہے۔
امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی اس قرارداد کو ’گمراہ کن اور غیر وقتی تشہیری کوشش‘ قرار دیا جس سے تنازعے کو ختم کرنے کی سنجیدہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔
مبصرین کا خیال ہے کہ ’نیویارک ڈیکلیئریشن‘ گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری فلسطین تنازعے کو ختم کرنے کے لیے دو ریاستی حل کے مطالبے میں نئی جان ڈال دے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حماس کا کہنا ہے کہ منگل کو دوحہ میں اسرائیلی حملے میں ان کے رہنما خلیل الحیہ محفوظ رہے ہیں۔
مسلح تنظیم کی جانب سے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر خلیل الحیہ نے ’دوحہ میں مکّارانہ قاتلانہ حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے بیٹے اور دیگر افراد کی آخری رسومات ادا کی ہیں۔‘
بی بی سی عربی کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دوحہ میں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات میں خلیل الحیہ کی شرکت سے قبل ’سکیورٹی کے خصوصی انتظامات‘ کیے گئے تھے۔
خیال رہے اس سے قبل حماس کی جانب سے دوحہ میں ہلاک ہونے والے پانچ افراد کے نام جاری کیے گئے تھے، جن میں خلیل الحیہ کے بیٹے حمام، ان کے آفس مینجر جہاد لباد اور باڈی گارڈز مومن، عبدالواحد اور احمد المملوک شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نیپال میں بدعنوانی کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کے بعد سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سُشیلا کارکی نے بطور نگراں وزیرِ اعظم حلف اُٹھا لیا ہے۔
احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے رہنماؤں سے مذاکرات کے بعد 73 سالہ سُشیلا کارکی نے ایک مختصر تقریب میں بطور ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم حلف اُٹھایا ہے۔
خیال رہے سوشل میڈیا پر پابندی کے سبب شروع ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں ایک ہفتے میں تقریباً 50 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پیر کو حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد پابندی ختم کر دی تھی، تاہم اس وقت تک یہ احتجاجی مظاہرے بدعنوانی کے خلاف ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکے تھے۔
ان احتجاجی مظاہروں کے دوران ملک کے وزیرِ اعظم کے پی شرما اولی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، تاہم اس کے باوجود بھی مشتعل مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت کو آگ لگا دی تھی۔
سُشیلا کارکی کی قیادت میں نگراں حکومت اب اگلے چھ مہینوں میں نئے انتخابات کروائے گی۔
سُشیلا کارکی ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئی تھیں جس کا نیپال کے کوئرالا سیاسی خاندان اور نیپالی کانگرس پارٹی سے گہرا تعلق تھا۔ بعد میں انھوں نے پارٹی کے سربراہ دُرگا سبیدی سے شادی کر لی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک وکیل سے ملک کے چیف جسٹس بننے کے سفر میں ان کے شوہر نے ان کا بہت ساتھ دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہRe
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ شہر کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے آپریشن کی تیاری کے لیے سکیورٹی مذاکرات آج کریں گے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق سکیورٹی کابینہ کے ارکان فوجی منصوبوں اور وہاں درپیش انسانی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کریں گے۔
اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق حکومت غزہ کی پٹی سے رضاکارانہ ہجرت کے امریکی منصوبے پر بات کرے گی۔
چینل نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اگلے اتوار کو اپنے دورہ اسرائیل کے دوران اس معاملے پر بات کریں گے۔
یو اے ای نے اسرائیلی نائب سفیر کو طلب کر لیا
دوسری جانب قطری دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں اسرائیلی نشریاتی ادارے نے خبر دی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے نائب سفیر ڈیوڈ احد ہورسانڈی کو سرزنش کے لیے طلب کیا ہے۔
یاد رہے قطر یو اے ای پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ بند کرے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’نام لیے بغیر‘ اسرائیلی حملے کی مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے ایک رہائشی کمپاؤنڈ حماس کے سینیئرارکان کو نشانے کے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ اس بیان میں براہ راست اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا۔
اس مذمتی بیان میں امریکہ سمیت سلامتی کونسل کے تمام 15 اراکین نے حمایت کی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ روایتی طور پر اپنے قریبی اتحادی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتا۔
اقوام متحدہ کی کونسل کے اراکین نے اپنے بیان میں کشیدگی میں کمی لانے کی اہمیت پر زور دیا اور قطر کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔

،تصویر کا ذریعہIDF
مذمتی بیان کو برطانیہ اور فرانس کی طرف سے تیار کیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے حملہ کرنے کا بدستور دفاع کیا۔
یاد رہے کہ قطر نے حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں بطور ثالث اہم کردار ادا کیا ہے۔
قطر نے 2012 سے حماس کے سیاسی دفتر کو بنانے میں بطور میزبان کردار ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ قطر امریکہ کا ایک قریبی اتحادی بھی ہے جو دوحہ کے جنوب مغربی صحرا میں ایک بڑے امریکی ایئربیس کی میزبانی کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس کی درخواست قطر، الجزائر، پاکستان اور صومالیہ نے کی تھی۔ قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی نے اس میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر نیویارک گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطری وزیر اعظم نے اسرائیلی حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کونسل کو بتایا کہ ’اس حملے نے بین الاقوامی برادری کو ایک امتحان میں ڈال رہا ہے۔ انتہا پسند قیادت کے زیر اثر اسرائیل کسی بھی سرحد اور کسی بھی حد سے آگے نکل گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’ہم یہ اندازہ لگانے سے قاصر ہیں کہ اسرائیل اب آگے کیا کرے گا۔ اور اس حملہ کے بعد ہم اسرائیلی نمائندوں کی میزبانی کیسے کر سکتے ہیں۔‘
سلامتی کونسل میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ’یہ بات عیاں ہے کہ اسرائیل امن کے ہر امکان کو کمزور اور ختم کرنے کے لیے سب کچھ کرنے پر تلا ہوا ہے۔‘
اسرائیل کے نمائندے ڈینی ڈینن نے اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’یہ حملہ ایک پیغام دیتا ہے جو اس چیمبر میں گونجنا چاہیے۔ دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں چاہے غزہ ہو، تہران ہو یا دوحہ۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پرتنقید کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ قطر کے اندر یکطرفہ حملے سے ’اسرائیل یا امریکہ کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھایا جاتا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی ایک عدالت نے چار کم عمر لڑکیوں کے ریپ کے ملزم کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
جمعے کے روز پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو گذشتہ روز قیوم آباد کے علاقے سے گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے فون سے متعدد ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ اتوار کو تھانہ ڈیفنس کے پولیس اہلکاروں نے قیوم آباد سے ایک شربت فروش کو اس وقت گرفتار کیا جب لوگ اسے تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔
پولیس کے مطابق شربت کی ریڑھی لگانے والے شخص کے خلاف دو بہنوں سمیت چار نو عمر لڑکیوں کے ریپ کے تین مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں اور پولیس کا کیا کہنا ہے؟
اس واقعے کے ایک فریادی عمران نامی شخص نے ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ وہ رنگ کا کام کرتے ہیں۔
عمران کے مطابق ان کی بیوی نے بتایا کہ ان کی سات سالہ بیٹی رات آٹھ بجے گھر سے باہر گئی تھی۔ بیٹی نے واپسی آکر بتایا کہ جسم میں شدید درد ہے۔ بیوی نے معلوم کیا تو بچی نے بتایا کہ جوس کی ریڑھی لگانے والا ایک لڑکا اس کے ساتھ گندے کام کرتا ہے۔
مقدمے کے مطابق فریادی کے مطابق اس نے اپنی بیٹی کو ساتھ لیا اور کہا کہ وہ شخص کو شناخت کرو۔
مقدمے کے مطابق بچی انھیں کو قیوم آباد میں ایک گلی میں لے گئی جس کے گھر پر تالا لگا ہوا تھا۔
مدعی نے ملزم کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی۔
دوسری ایف آئی آر میں محمد بلال نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ محنت مزدوری کرتے ہیں اپنی 10 سالہ بہن کے ساتھ قیوم آباد میں رہتے ہیں ان کی بہن کچھ دنوں سے پریشان تھی، اس نے ان کی بیوی کو بتایا کہ اس کو جسم کے نازک حصے میں درد ہے۔
بچی نے بتایا کہ ایک ریڑھی والے نے اس کے ساتھ نازیبا کام کیا ہے اور اس سے پہلے بھی ایسا کرتا رہا ہے۔
کراچی کے ڈیفنس تھانے پر تیسرا مقدمہ محمد ریاض نے دائر کیا ہے جس میں بتایا ہے کہ وہ کباڑی کی دکان پر کام کرتا ہے۔
اس کی 10 سالہ اور 12 سالہ بیٹیاں پریشان پر لگ رہی تھیں۔
مقدمے کے مطابق محمد ریاض نے بتایا کہ ’جب میری بیوی نے ان سے معلومات لیں تو پتا چلا کہ قیوم آباد میں ایک لڑکا رہتا ہے جو شربت کی ریڑھی لگتا ہے۔ وہ دونوں بہنوں کے ساتھ غلط حرکتیں کرتا ہے اور یہ حرکتیں کرتے وقت ویڈیو بھی بناتا ہے اس سے پہلے بھی کئی بار ایسی حرکتیں کرچکا ہے۔‘
یاد رہے کہ اس مقدمے میں پولیس تحقیقات میں اس پہلو کا جائزہ بھی لے رہی ہے کہ وہ کسی گینگ کا رکن تو نہیں جو ایسی ویڈیو ڈارک ویب سائٹ پر فروخت کرتا ہو۔
100 کے قریب نو عمر لڑکیوں کے ساتھ نازیاب حرکات کا انکشاف
حکومت سندھ کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بتایا کہ پولیس کو ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزم ایک سو کے قریب نو عمر لڑکیوں کے ساتھ نازیاب حرکات کرچکا ہے۔
ترجمان کے مطابق ملزم کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور گزشتہ دس سالوں سے کراچی میں رہتا ہے۔
سعدیہ جاوید کے مطابق پولیس نے ملزم سے موبائل فون بھی برآمد کیا ہے جس میں متعدد نازیاب حرکات کی ویڈیوز موجود ہیں جبکہ تین مقدمات دائر کیے ہیں۔
ان کے مطابق ’ویڈیوز میں نظر آنے والی بچیوں کے والدین تک پولیس رسائی کی کوشش کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مقدمات دائر ہوسکیں اور مضبوط کیس بن سکے۔ دوسری جانب سندھ چائلڈ پروٹکشن اتھارٹی موجود ہے اگر والدین قانونی مدد لی چاہئیں یا بچیوں کی طبی اور نفسیاتی علاج معالجے میں مدد چاہئیں تو اتھارٹی ان کی مدد کرنے کو تیار ہے۔‘
ملزم لڑکیوں کو سو دو سو روپے کا لالچ دے کر اپنے کمرے میں بلاتا: پولیس
ایس ایچ او ڈیفنس غلام نبی آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک لڑکی ملزم کے گھر سے یو ایس بی مقامی دکان پر لے گئی اس نے سوچا اس میں گانے وغیرہ ہوں گے دکان والے نے دیکھا تو اس میں متعدد نازیبا ویڈیوز موجود تھیں۔
دکان والے لڑکے نے یو ایس بی خالی کرکے لڑکی کو دے دی اور اپنے مالک کو بتایا۔
پولیس کے مطابق مالک اس شربت والے کے پاس پہنچا اس دوران پولیس نے آکر اس کو گرفتار کرلیا۔
انسپیکٹر آفریدی کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش بتایا ہے کہ وہ ایک سو کے قریب لڑکیوں کے ساتھ یہ حرکت کرچکا ہے وہ ویڈیو میں لڑکی کی تصویر نام اور اپنا نام بھی لگاتا تھا اور ان سے پورن موویز والی حرکتیں کراتا تھا۔
پولیس کے مطابق ’ملزم لڑکیوں کو سو دو سو روپے کا لالچ دے کر اپنے کمرے میں بلاتا اور یہ حرکتیں کرتا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے 50 فیصد ٹیرف کے بعد انڈیا اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
اس درمیان صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی سرجیو گور کو انڈیا کے لیے سفیر مقرر کرنے کے بعد بھی صورتحال تبدیل نہیں ہو سکی۔
جمعرات کو سرجیو گور کی تقرری کی تصدیق کے لیے ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں انھوں نے ان ہی امریکی مطالبات کو دہرایا، جو دہلی کے لیے پریشان کن ہیں۔
سرجیو گور نے کہا کہ انڈیا امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کے نتائج جلد ہی معلوم ہوں گے لیکن انھوں نے امریکہ کے اس مطالبے کو بھی دہرایا کہ انڈیا کو روس سے تیل خریدنا بند کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا کو روس سے تیل خریدنے سے روکنا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔
سرجیو گور نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے انڈیا کے وزرائے تجارت کو ٹرید ڈیل پر بات چیت کے لیے امریکہ مدعو کیا ہے۔
گور نے یہ بھی کہا کہ آنے والے وقت میں امریکہ توانائی کے شعبے میں انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن سکتا ہے۔
انڈیا امریکا کا اہم پارٹنر ہے: سرجیو گور
جمعرات کو امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی میں اپنی تقرری کے لیے تصدیقی سماعت کے دوران دیا۔ سرجیو گور نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت پر جاری مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا۔
سرجیو گور نے کہا کہ اگر ان کی تقرری کی تصدیق ہو جاتی ہے تو وہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو آگے بڑھانے پر کام کریں گے۔
سینیٹ کے سامنے سرجیو گور کا تعارف کراتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ سرجیو گور صدر ٹرمپ کے قریب ہیں اور انڈیا جیسے ملک میں نمائندگی کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔
دوسری جانب 38 سالہ سرجیو گور کی تقرری کی تصدیق ہوجاتی ہے تو وہ انڈیا میں سب سے کم عمر امریکی سفیر ہوں گے۔
سرجیو گور کو ایسے وقت میں انڈیا کا سفیر بنایا جا رہا ہے جب انڈیا اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر نے کہا ہے کہ ایمان مزاری ان کی بیٹیوں کی طرح ہیں لیکن ان کی بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے طوفان کھڑا کیا گیا۔
جمعے کے روز ایک کیس کی سماعت کے دوران وضاحت دیتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ وہ گذتشہ روز بطور چیف جسٹس اور بڑا ہونے کے ناطے ایمان مزاری کو سمجھا رہے تھے۔
واضح رہے کہ جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی تھی جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے درمیان تکرار ہو گئی تھی۔
اسی معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے آج چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ’کل سے اِس بات کو پھیلایا جا رہا ہے لیکن میں نے تو نہیں کہا کہ میں پکڑ لوں گا۔‘
’ہادی صاحب (ایمان مزاری کے شوہر) کھڑے تھے تو میں نے کہا انھیں پکڑ کر لے جائیں ورنہ توہینِ عدالت کی کارروائی کروں گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے بچوں کی طرح سمجھایا لیکن وہ سمجھ نہیں رہی تھی۔ بار بار کہہ رہی تھیں کہ بنیادی حقوق، کیا اِس کورٹ کے بنیادی حقوق نہیں۔‘
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر ’توہینِ عدالت کی کارروائی ہوئی تو بچی کا کیرئیر خراب ہو جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برازیل کے سابق صدرجائیر بولسونارو پر فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام ثابت ہونے پر انھیں 27 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
برازیل کی سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کے پینل نے سابق رہنما کو مجرم قرار دیے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی یہ سزا سنائی۔
پانچ رکنی بینچ کے چار ججز نے انھیں قصوروار پایا جبکہ ایک جج نے انھیں تمام الزامات سے بری کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سنہ 2022 کے الیکشن میں ہارنے کے بعد انھوں نے اقتدار میں رہنے کے لیے سازش کی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بولسونارو سنہ 2033 تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے۔
گھر میں نظر بند سابق صدر بولسونارو اس موقع پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے لیکن وہ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ انھیں 2026 کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے یہ الزامات عائد کیے گئے۔
فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھیں یہ (فیصلہ) ’بہت حیران کن‘ لگا۔
انھوں نے اس فیصلے کا موازنہ اپنے تجربے سے کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ بہت زیادہ ایسا ہی ہے جیسا میرے ساتھ کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ برازیل کی سپریم کورٹ نے ’سابق صدر بولسونارو کو قید کرنے کا غیر منصفانہ فیصلہ دیا‘ اور دھمکی دی کہ وہ ’اس کا جواب دیں گے۔‘
برازیل کی وزارت خارجہ نے ایکس پر جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’مارکو روبیو کی طرف سے دی جانے والی دھمکی اور اس جیسی دھمکیاں ہماری جمہوریت کو خوفزدہ نہیں کرے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے چارلی کرک کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے، جو بدھ کے روز ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
دنیا بھر میں لوگ امریکہ میں ہونے والے اس ہائی پروفائل قتل پر بات کر رہے ہیں تاہم صارفین کی رائے کافی منقسم نظر آتی ہے۔
ایسا ہی کچھ پاکستان میں بھی ہے اور اس کی وجہ چارلی کرک کے قدامت پسند نظریات اور خاص کر کے فلسطین کے حوالے سے اُن کے خیالات اور بیانات تھے۔
بہت سے صارفین نے چارلی کرک کی موت پر دُکھ کا اظہار کیا مگر بہت سے ایسے بھی ہیں جو ماضی میں چارلی کرک کی فلسطین اور حماس کے حوالے سے متنازع ٹویٹس کے سکرین شاٹ بھی شیئر کرتے نظر آئے۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہ بھی لکھا کہ پاکستانیوں کو اپنے ملک میں سیلاب کی صورتحال اور غزہ میں نسل کشی پر پریشان ہونا چاہے۔
31 سالہ چارلی کرک امریکہ کے سب سے ہائی پروفائل قدامت پسند کارکنوں اور میڈیا شخصیات میں سے ایک تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قابل اعتماد اتحادی سمجھے جاتے تھے۔
چارلی کرک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پوڈ کاسٹ میں اکثر ان کے ایسے کلپس شیئر کیے جاتے ہیں جن میں وہ طلبا کے ساتھ ٹرانسجینڈرز کی شناخت، موسمیاتی کی تبدیلی، مذہبی عقائد اور خاندانی اقدار جیسے امور پر بحث کرتے دیکھائی دیتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ پاکستان نے فیصلہ دیا ہے کہ بیوی کے حق نان نفقے کے لیے رُخصتی یا ازدواجی تعلق ضروری نہیں بلکہ نکاح کے بندھن میں بندھنے کے ساتھ ہی شوہر پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ بیوی کے نان نفقے کا بندوست کرے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رُکنی بینچ نے درخواست گزار کی درخواست پر فیصلہ سنایا جس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
پندرہ صفحات پر مشتمل سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر پر نان نفقہ اُسی وقت لازم ہو جاتا ہے جب نکاح کے دوران وہ ’ہاں‘ کرتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر کو نان نفقے سے صرف اسی صورت مبرا قرار دیا جا سکتا ہے جب وہ یہ ثابت کرے کہ بیوی کو بغیر کسی جواز کے اُس سے دُور کیا گیا ہو یا بیوی نے بغیر کسی وجہ سے شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے سے انکار کیا ہو۔
فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مقدمہ اسلامی قانون، آئینی حقوق اور سماجی حقائق کے درمیان دو بنیادی سوالات اٹھاتا ہے: ایک مسلمان عورت شادی کے اندر کب نفقہ کی حقدار بنتی ہے اور کن حالات میں مرد کو اپنی بیوی کو خرچہ دینے سے چھوٹ دی جا سکتی ہے؟
اس حوالے سے ایک خاتون نے سنہ 2013 میں نان نفقے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔
درخواست گزار کی نومبر سنہ 2012 میں شادی ہوئی تھی، تاہم مصدقہ نکاح نامے کے باوجود شوہر نے ایک سال سے زیادہ عرصے تک رُخصتی نہیں لی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فیصل آباد کی فیملی کورٹ نے خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کے شوہر کو اُنھیں ماہانہ تین ہزار روپے خرچہ دینے کا حکم دیا۔ بعدازاں فیصل آباد ڈسٹرکٹ کورٹ نے یہ خرچہ بڑھا کر پانچ ہزار کر دیا۔
شوہر نے مئی 2014 میں اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ چونکہ دونوں میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا تھا۔ لہذِا اسد اللہ اپنی بیوی کو نان نفقہ دینے کے پابند نہیں تھے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔
ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ ڈینس فرینکس کا کہنا ہے کہ چارلی کرک پر فائرنگ کرنے والا شخص ’ممکنہ طور پر شکاری‘ تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قسم کا نشانہ لینے کے لیے بہت زیادہ اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ایک تجربہ کار شوٹر کے لیے اتنے فاصلے سے نشانہ لینا کوئی مشکل کام نہیں۔
ڈینس فرینکس نے کہا کہ جس علاقے میں چارلی کرک کو قتل کیا گیا اور مسلح شخص نے جس اعتماد سے انھیں نشانہ بنایا، اس کے بعد وہ یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ حملہ آور شکاری ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ چارلی کرک کو گردن میں ایک گولی لگی تھی جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ گولی قریبی عمارت کی چھت پر کھڑے ایک شخص نے چلائی تھی۔
ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس مقام پر چارلی کرک بیٹھے ہوئے تھے اس سے تقریبا 130 میٹر فاصلے پر چھت پر کوئی موجود تھا۔

،تصویر کا ذریعہFBI
حکام کی جانب سے جاری ویڈیو اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چارلی کرک کو گولی لگنے کے بعد ایک مشتبہ شخص عمارت سے فرار ہو رہا ہے۔
اس نے کالے رنگ کی ٹی شرٹ، بیگ پیک، کالے چشمے اور تکونی لوگو والی ٹوپی پہن رکھی ہے۔
یوٹاہ کے گورنر سپینسر کاکس کے مطابق چارلی قتل کیس کی تحقیقات میں وہ اب تک 200 سے زیادہ انٹرویو کر چکے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہمارے پاس بہت سے فرانزک شواہد موجود ہیں اور ہم اس شخص کو ہر صورت پکڑ لیں گے۔‘
اب سے کچھ ہی دیر پہلے ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل، یوٹاہ کے گورنر سپینسر کاکس اور یوٹاہ کے پبلک سیفٹی کمشنر بیو میسن نے ایک پریس کانفرنس کی ہے۔
اس پریس کانفرنس میں متشبہ شخص کی ایک ویڈیو دکھائی گئی، جس کے آغاز میں اس عمارت کو دکھایا گیا جہاں سے چارلی کرک پر گولی چلائی گئی۔
اس کے بعد اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کالے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص چھت پر بھاگ کر عمارت کے ایک کونے کی جانب جا رہا ہے۔ پھر یہ شخص ایک کنارے پر چڑھتا ہے اور نیچے گھاس پر گر جاتا ہے اور پھر قریبی سڑک پر چلتے ہوئے ’جنگل والے علاقے‘ میں چلا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے دھوپ والے چشمے پہن رکھے تھے جبکہ اس کی سیاہ رنگ کی شرٹ پر امریکہ کا جھنڈا اور عقاب کا نشان تھا۔
اس پریس کانفرنس میں مشتبہ شخص کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں۔ یوٹاہ کے گورنر سپینسر کاکس نے کہا کہ وہ یہ معلومات اس لیے شیئر کر رہے ہیں تاکہ ’شیطان صفت انسان‘ کو تلاش کرنے کے لیے ’عوام سے مدد حاصل کی جا سکے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’وہ عوام کی حمایت کے بغیر اپنا کام نہیں کر سکتے۔‘
واضح رہے کہ یہ پریس کانفرنس صرف 10 منٹ تک جاری رہی۔ حکام نے صحافیوں کی جانب سے کوئی سوال نہیں لیا جبکہ ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے گفتگو نہیں کی۔
یوٹاہ کے ڈیپارٹمنٹ آف پبلک سیفٹی نے چارلی کرک قتل کیس میں ایک مشتبہ شخص کی تصاویر جاری کی ہیں۔
یوٹاہ کے پبلک سیفٹی کمشنر بیو میسن نے میڈیا کو مشتبہ شخص کی چارلی کرک پر حملے سے قبل اور بعد کی تفصیلات بھی بتائی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUtah Public Safety

،تصویر کا ذریعہUtah Public Safety
امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ چارلی کرک قتل کیس میں ایک مشتبہ شخص کی شناخت کر لی گئی ہے۔
دو امریکی حکام اور قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ انھوں نے ایک مشتبہ شخص کو شناخت کر لیا ہے۔
سی بی ایس کے مطابق تاہم ابھی تک کسی کی گرفتاری کا وارنٹ جاری نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل حکام نے بتایا تھا کہ چارلی کرک کو گردن میں ایک گولی لگی تھی جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گولی قریبی عمارت کی چھت پر کھڑے ایک شخص نے چلائی تھی۔
بی بی سی کی نامہ نگار نَدا توفیق لکھتی ہیں کہ چارلی کرک تقریر کے بعد اپنے مخصوص انداز میں لوگوں کے ساتھ مباحثے کے لیے بیٹھے تھے جب قریبی عمارت کی چھت پر گہرے رنگ کے کپڑے پہنے ایک شخص نمودار ہوا اور اس نے ایک گولی چلائی جو کرک کی گردن میں لگی۔
ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس مقام پر چارلی کرک بیٹھے ہوئے تھے اس سے تقریبا 130 میٹر فاصلے پر چھت پر کوئی موجود تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قدامت پسند تنظیم ’ٹرننگ پوائنٹ‘ کے شریک بانی چارلی کرک کو یوٹاہ میں ایک تقریب کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
ان کی ہلاکت کی تصدیق خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی۔ صدر ٹرمپ نے چارلی کرک کو ’سچا محبِ وطن‘ کہا اور ان کی ہلاکت کو امریکہ کے لیے ’تاریک لمحہ‘ قرار دیا۔
سابق امریکی صدر براک اوبامہ، برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر اور اسرائیلی وزیرِ بنیامن نیتن یاہو سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے چارلی کرک کے قتل کی مذمت کی۔
31 سالہ چارلی کرک امریکہ کے سب سے ہائی پروفائل قدامت پسند کارکنوں اور میڈیا شخصیات میں سے ایک تھے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قابل اعتماد اتحادی سمجھے جاتے تھے۔
انھیں بدھ کے روز اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ اس تقریب میں تقریباً تین ہزار افراد شریک تھے۔
حملے کے وقت ان کی اہلیہ اور گھر والے بھی ساتھ موجود تھے تاہم وہ سب اس حملے میں محفوظ رہے۔ انھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن چند گھنٹوں بعد امریکی صدر نے چارلی کرک کی ہلاکت کی تصدیق اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ چارلی کرک کو گردن میں ایک گولی لگی تھی جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ گولی قریبی عمارت کی چھت پر کھڑے ایک شخص نے چلائی تھی۔
حملے کے بعد حکام نے شک کی بنیاد پر دو افراد کو حراست میں لیا تاہم تفتیش کاروں کو ان دونوں کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے جس کے بعد دونوں کو رہا کر دیا گیا۔