دوحہ میں مسلم ممالک کے اجلاس میں اسرائیل کی مذمت، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ملاقات

قطر پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں اس وقت دوحہ میں عرب لیگ اور دیگر اسلامی ممالک کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔ اس اجلاس کے دوران کچھ اور اہم اجلاس اور ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد اور ایرانی صدر کے درمیان ملاقات میں نو ستمبر کو اسرائیل کی طرف سے قطر پر کیے جانے والے فضائی حملے پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

خلاصہ

  • عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہان کے اجلاس کے موقع پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات بھی ہوئی ہے۔
  • قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں عرب لیگ اور دیگر اسلامی ممالک کا مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین طہٰ نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
  • سیکریٹری جنرل عرب لیگ احمد ابوالغیط نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسے وقت میں اکٹھے ہوئے ہیں جب خطے کو بہت چیلنجز درپیش ہیں۔
  • امریکی وزیر خارجہ سے یروشلم میں ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کے رہنماؤں پر حملے جاری رکھے گا، چاہے وہ کہیں بھی ہوں جبکہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ کے لوگ بہتر مستقبل کے مستحق ہیں مگر یہ حماس کے خاتمے تک ممکن نہیں۔
  • پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں گدو اور سکھر کے مقام پر سیلابی صورتحال بر قرار ہے جبکہ دوسری جانب پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آنا شروع ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    16 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بلوچستان کے ضلع کوہلو میں چار بچے برساتی پانی کے گڑھے میں ڈوب کر ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع کوہلو میں چار بچے ایک برساتی پانی کے ایک گڑھے میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔

    ہلاک ہونے والوں میں سے تین بچوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

    کوہلو میں لیویز فورس کے ایک اہلکاربشیر احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ یہ واقعہ کوہلو شہر کے نواحی علاقے کلی فیض محمد چرمی میں پیش آیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں ایک بڑھے گڑھے میں حالیہ بارشوں کے باعث پانی جمع ہوا تھا جہاں کھیلتے ہوئے چار بچے ڈوب کر ہلاک ہوگئے جن میں تین بہن بھائی شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے بلوچستان کے رپورٹ کے مطابق ان چار بچوں کی ہلاکت کے بعد رواں مون سون کے دوران جون کے مہینے سے اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 30 ہو گئی۔

    رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سب سے زیادہ بچے ہیں جن کی تعداد 20 ہے ۔

  3. کیچ میں بم حملہ، ایک آفیسر سمیت پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    سکیورٹی اہلکار

    ،تصویر کا ذریعہGetty

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچستان کے ضلع کیچ میں بم حملے کے ایک واقعے میں ایک آفیسر سمیت کم از کم پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے ۔

    بلوچستان میں انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ پیر کے روز ضلع کے علاقے مند اور دشت کے درمیان کھڈان کے علاقے میں پیش آیا-

    ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جو کہ اس وقت پھٹ گیا جب سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں یہاں سے گزر رہی تھیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ایک گاڑی کی دھماکے کی زد میں آنے کی وجہ سے اس میں سوار پانچ اہلکار ہلاک ہوگئے۔

    سینیئر اہلکار نے بتایا کہ دھماکے میں ایک کیپٹن سمیت پانچ اہلکار مارے گئے۔ مارے جانے والے کیپٹن کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے بتایا جاتا ہے۔

    ایک بیان میں گورنر بلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل نے اس واقعے پر گہرے دُکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق گورنر بلوچستان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی درحقیقت ایک وحشت اور دہشت پر مبنی ایک ذہنیت کا نام ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے۔

    ضلع کیچ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازا 8 سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس ضلع کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متائثر ہیں۔

    کیچ اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں 2006 کے بعد سنگین بدامنی کے مختلف واقعات کمی و بیشی کے ساتھ پیش آرہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ایسے واقعات میں کمی آئی ہے۔

  4. دوحہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات

    Doha

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہان اس وقت دوحہ میں اہم اجلاس میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر سعودی عرب کے محمد بن سلمان اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات بھی ہوئی ہے۔

    سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے نو ستمبر کو اسرائیل کی طرف سے قطر پر کیے جانے والے فضائی حملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پیر کے روز اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ سربراہی اجلاس سے قبل اسرائیل سے تعلقات منقطع کر لیں۔

    انھوں نے کہا کہ اسلامی ممالک اس جعلی ملک سے اپنے تعلقات منقطع کر سکتے ہیں اور اپنے اتحاد اور ہم آہنگی کو حتی الامکان برقرار رکھ سکتے ہیں۔

    انھوں نے یہ امید ظاہر کی کہ دوحہ سربراہی اجلاس اسرائیل کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ’کسی نتیجے پر پہنچے گا‘۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد، عرب اور اسلامی رہنما قطر میں ہنگامی سربراہی اجلاس کے لیے جمع ہوئے ہیں۔

    سربراہی اجلاس میں اپنی تقریر میں مسعود پزشکیان نے دوحہ پر اسرائیلی حملے کو ’ڈھٹائی‘، ’منصوبہ بندی‘ اور ’سفارت کاری پر حملہ‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد ’غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ ’امریکہ اور کچھ مغربی ممالک کی ملی بھگت‘ ہے۔ انھوں نے اسرائیلی حکومت کے رہنماؤں کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ دوحہ پر حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی بھی اسلامی یا عرب ملک اسرائیلی جارحیت سے محفوظ نہیں ہے۔

    اس اجلاس کے آغاز میں قطر کے امیر اور اجلاس کے میزبان تمیم بن حمد الثانی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل عرب دنیا کو اپنے زیر اثر لانا چاہتا ہے۔‘

    قطر کے امیر نے کہا کہ دوحہ پر گذشتہ ہفتے اسرائیلی حملے کا مقصد "غزہ مذاکرات کو تعطل کی طرف لانا تھا۔

  5. خلیج تعاون کونسل کا غیر معمولی اجلاس، دوحہ میں رکن ممالک کا دفاعی پوزیشن اور ممکنہ خطرات کا جائزہ

    خلیج تعاون کونسل کا غیر معمولی اجلاس

    ،تصویر کا ذریعہGCC

    ،تصویر کا کیپشنخلیج تعاون کونسل کا غیر معمولی اجلاس

    خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی سپریم کونسل نے پیر کو دوحہ میں تنصیبات پر اسرائیلی حملے پر بات چیت کے لیے ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کیا۔

    رہنماؤں نے جی سی سی کی مشترکہ دفاعی کونسل کو ہدایت کی کہ وہ دوحہ میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے، جس سے قبل سپریم ملٹری کمیٹی کے اجلاس میں جی سی سی کی ریاستوں کی دفاعی صورتحال اور خطرات کے ذرائع کا جائزہ لیا جائے۔

    انھوں نے یونیفائیڈ ملٹری کمانڈ کو مشترکہ دفاعی میکانزم اور خلیجی ڈیٹرنس کی صلاحیتوں کو فعال کرنے کے لیے ضروری انتظامی اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    سپریم کونسل نے کہا کہ قطر کی ریاست کے خلاف ’اسرائیلی جارحیت‘ مشترکہ خلیجی سلامتی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

    سپریم کونسل نے سلامتی کونسل، عالمی برادری اور بااثر ریاستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پوری ذمہ داریاں سنبھالیں اور ’ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اور روک تھام کے اقدامات‘ کریں۔

  6. پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ

    PAF

    ،تصویر کا ذریعہQENA

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار اور اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانا قابل مذمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جنگی جرائم پر اسرائیل کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ’غزہ میں انسانیت سسک رہی ہے، ہم نے اجتماعی دانش کے تحت اقدامات نہ کیے تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔‘

    پیر کو یہاں ہنگامی عرب اسلامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبام شریف نے کہا کہ ’آج ہم ایک اور افسوسناک واقعہ کے تناظر میں اکٹھے ہوئے ہیں، اسرائیل نے ہمارے برادر ملک قطر کی خود مختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ،اسرائیل کا قطر پر حملہ جارحانہ اقدامات کا تسلسل ہے، اسرائیل نے جارحیت کے ذریعے امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، اس جارحیت کے بعد سوال ہے کہ اسرائیل نے مذاکرات کا ڈھونگ کیوں رچایا۔‘

    ’اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانا قابل مذمت ہے۔‘

  7. ’ہم سربراہی اجلاس سے طویل خطابات اور اختتامی اعلامیے کے بجائے کسی ٹھوس مؤقف کی توقع رکھتے ہیں‘: غزہ کے شہری

    Qatar

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    غزہ کے باشندوں نے دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے لیے اپنے ردعمل اور توقعات کو بی بی سی کی مشرق وسطیٰ ڈائری کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

    سربراہی اجلاس کے لیے ان کی امیدیں اور خواہشات مختلف تھیں۔ غزہ کے رہائشی ابراہیم نے کہا کہ وہ صرف 30 فیصد پر امید ہیں کہ سربراہی اجلاس ٹھوس فیصلے کرے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’عرب ممالک امریکا کے سامنے کمزور ہیں، جو اسرائیل کی جنگ میں حمایت کرتا ہے، کیونکہ اس سے ان کے ذاتی مفادات کی تکمیل ہوتی ہے۔‘

    ابو محمد نے پیش گوئی کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ ’سربراہی اجلاس ناکام ہو جائے گا، اور یہ کہ عرب ممالک نیتن یاہو کو جو چاہیں کرنے سے روکنے کے لیے کسی عرب موقف کے بغیر، صرف مذمت ہی جاری کریں گے۔‘

    Doha

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جہاں تک ابو خامس کا تعلق ہے تو انھوں نے یہ امید ظاہر کی کہ سربراہی اجلاس ’گھروں، لوگوں اور بچوں کی باقیات کو بچانے میں کامیاب ہو جائے گا‘ اور حقیقی فیصلوں کا مطالبہ کرتے ہوئے ’کاغذ پر سیاہی نہیں‘۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک رہائشی نے کہا کہ غزہ کے باشندوں کے مطالبات ناممکن نہیں ہیں اور ’وہ اپنے سروں پر سے اسرائیلی طیاروں کی پرواز کے بغیر زندگی گزارنے کا خواب دیکھتے ہیں‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ سربراہی اجلاس کا محض اجلاسوں کی ایک طویل فہرست میں ذکر شامل ہو جن سے کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ ’ہم لمبی تقریروں اور اختتامی بیانات کے بجائے محاصرے کے خاتمے، قتل عام کو روکنے اور غزہ میں امداد کی اجازت دینے کے لیے ایک مضبوط موقف اور حقیقی اقدام کی توقع رکھتے ہیں۔‘

    کچھ دوسرے شہریوں نے مطالبہ کیا کہ سربراہی اجلاس ’اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر جنگ ختم کرنے، قتل و غارت روکنے اور جبری نقل مکانی کی پالیسی کو روکنے کے لیے مجبور کرے۔‘

  8. ’اسرائیل کو اس کے تمام جرائم کا جوابدہ ٹھہرایا جائے‘: او آئی سی

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہQena

    اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین طہٰ نے قطر کی خودمختاری اور سلامتی پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    پیر کو دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس سے خطاب میں انھوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اسرائیل کو اس کے تمام جرائم کا جوابدہ ٹھہرایا جائے، اور کہا کہ ’قطر پر حملہ فلسطینی عوام کے خلاف اس کے جرائم کی توسیع ہے۔‘

    انھوں نے جنگ بندی، پوری غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی فراہمی، وہاں سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور فلسطینی حکومت کو پٹی میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے بااختیار بنانے کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی ضرورت پر زور دیا۔

    انھوں نے اپنے اعتماد کا اظہار کیا کہ اس سربراہی اجلاس کے نتائج سے عرب اسلامی یکجہتی کو تقویت ملے گی۔

    عالمی برادری نے اسرائیل کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت دے دی ہے: اردن کے شاہ عبداللہ دوم

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہQena

    دوحہ سربراہی اجلاس میں اپنی تقریر میں اردنی شاہ عبداللہ دوم نے کہا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں غیر قانونی اقدامات کے ذریعے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں اور منصفانہ امن کے حصول کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت ’لبنان اور شام کی سلامتی اور استحکام کو مسلسل خطرہ بنا رہی ہے اور آج وہ قطر کی خودمختاری اور سلامتی پر حملہ کر رہی ہے۔‘

    شاہ نے مزید کہا کہ ’قطر کے خلاف یہ جارحیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی خطرے کی کوئی حد نہیں ہے۔ ہمارا ردعمل واضح، فیصلہ کن اور دو ٹوک ہونا چاہیے۔‘

    قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد اس وقت دارالحکومت دوحہ میں عرب لیگ اور دیگر اسلامی ممالک کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔

    اردن کے بادشاہ نے بین الاقوامی برادری کو جزوی طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت ’اپنی تسلط پر قائم ہے کیونکہ عالمی برادری نے اسے قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت دی ہے۔‘

    انھوں نے اس ’انتہا پسند‘ حکومت کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ عرب اور اسلامی کارروائی کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    اردوغان

    ،تصویر کا ذریعہQena

    قطر پر اسرائیلی حملہ ’جان بوجھ کر پرامن حل کے امکانات کو ختم کرتا ہے‘

    اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملہ خطرناک اضافہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    انھوں نے زور دے کر کہا کہ اس حملے سے بحران کو کم کرنے کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہوا اور یہ ایک منفی پیغام ہے کہ ’جان بوجھ کر پرامن حل کے امکانات کو ختم کر دیا گیا ہے۔‘

    انھوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیل اس حد تک چلا گیا ہے کہ وہ عوامی سطح پر طاقت کے ذریعے بین الاقوامی سرحدوں کو تبدیل کرنے کی بات کرتا ہے، جس سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی مثال قائم ہوتی ہے۔

    انھوں نے وضاحت کی کہ غزہ اور مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ’اب صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بے مثال انسانی مصائب اور مجموعی طور پر علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے‘۔

  9. عالمی برداری کو پیغام دیتے ہیں کہ اسرائیل کے رویے پر خاموش رہنا چھوڑ دیں: سیکریٹری جنرل عرب لیگ

    Qena

    ،تصویر کا ذریعہQena

    سیکریٹری جنرل عرب لیگ احمد ابوالغیط نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ایسے وقت میں اکٹھے ہوئے ہیں جب خطے کو بہت چیلنجز درپیش ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی دہشت گردی نے صورتحال کو گمبھیرکردیا ہے، فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف آواز بلند کرنا ہم سب کی ذمے داری ہے۔

    احمد ابوالغیط نے کہا کہ عالمی برادری کوجنگی جرائم پر اسرائیل کی جوابدہی کرنا ہوگی۔

  10. پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف دوحہ پہنچ گئے، ہنگامی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے

    PM Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ سرکاری دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ دوحہ ایئرپورٹ پر قطر کے وزیر ثقافت شیخ عبد الرحمن بن حمد بن جاسم بن حمد الثانی نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

    پیرکو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف دوحہ میں منعقد ہونے والی ہنگامی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے ہیں۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ سربراہی اجلاس دوحہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں اور فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور قطر اور دیگر علاقائی ریاستوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔

    بیان کے مطابق قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی اور علاقائی اتحاد کے لیے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 11 ستمبر 2025 کو دوحہ کا دورہ کیا اور قطر کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اس کے عزم کا اظہار کرنے کے لیے قطری قیادت سے ملاقات کی۔

    بیان کے مطابق 15 ستمبر کو دوحہ میں منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک کے سربراہان کی شرکت امت مسلمہ میں مضبوط اتحاد اور علاقائی امن قائم کرنے کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔

  11. دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی قرارداد کا مسودہ: اسرائیلی حملوں سے ’خطے میں امن اور بقائے باہمی کے امکانات‘ کو خطرہ

    Doha

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قطر کے دارالخلافہ دوحہ میں پیر کو عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں پیش کی جانے والی قرارداد کے مسودے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عرب اور اسلامی رہنما متنبہ کریں گے کہ قطر پر اسرائیل کے حملے اور دیگر ’دشمنی پر مبنی کارروائیوں‘ سے بقائے باہمی اور خطے میں تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو خطرہ ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کی طرف سے دیکھے گئے مسودے کے اقتباسات میں کہا گیا ہے کہ ’قطر کے خلاف اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت اور نسل کشی، نسلی تطہیر، بھوک، ناکہ بندی، آبادکاری کی سرگرمیاں اور توسیع پسندانہ پالیسیوں سمیت اس کے مسلسل جارحانہ اقدامات، خطے میں امن اور بقائے باہمی کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، جس میں اسرائیل کے ساتھ موجودہ تعلقات اور مستقبل میں تمام معمولات اور معاہدے کو خطرہ لاحق ہے۔‘

    سربراہی اجلاس کی تیاریوں کے سلسلے میں اتوار کو ہونے والے اجلاس میں شریک ممالک کے وزرائے خارجہ نے یہ مسودہ تیار کیا ہے۔

    قطر پر اسرائیلی حملے کو ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا اور دارالحکومت دوحہ میں عرب لیگ اور دیگر اسلامی ممالک کا مشترکہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اسے حسنِ اتفاق کہیں یا کچھ اور لیکن یہ اجلاس ’ابراہم ایکارڈ‘ کے دستخط کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔

    یاد رہے کہ 2021 میں ہونے والے ابراہم ایکارڈ یا ابراہیم معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل اور عرب ممالک نے معمول کے تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اس اجلاس کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل کے درمیان سیاسی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی غزہ میں جنگ اب تیسرے سال میں داخل ہو رہی ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس کی تباہ کاریوں سے دوچار ہیں۔

    گذشتہ ہفتے اسرائیل نے غزہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر پر بھی حملہ کیا۔ اسرائیل اس سے قبل لبنان، ایران، یمن اور شام پر بھی حملے کر چکا ہے۔

    اتوار کے روز قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے دوحہ میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے بند کمرے کے اجلاس کے دوران بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنا ’دوہرا معیار‘ ترک کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جو چیز اسرائیل کو اپنا طرز عمل جاری رکھنے کی ترغیب دیتی ہے، وہ عالمی برادری کی خاموشی اور اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے میں اس کی ناکامی ہے۔‘

    ایسے میں جہاں کئی لوگوں کو امید ہے کہ اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات لیے جائیں گے وہیں کئی افراد کو عرب ممالک کی جانب سے ایک متحد ردعمل کی زیادہ امید نہیں ہے۔

    دوحہ میں ہونے والا سربراہی اجلاس کا انعقاد مشترکہ طور پر 22 رکنی عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کر رہی ہے۔

  12. غزہ کے لوگ بہتر مستقبل کے مستحق ہیں مگر یہ حماس کے خاتمے تک ممکن نہیں: امریکی وزیر خارجہ

    Marco Rubio

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے غزہ میں اپنے اہداف کے حصول کے لیے اسرائیل کی ’مستقبل حمایت‘ کا وعدہ کیا، اور حماس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

    مارکو روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ ’غزہ کے لوگ ایک بہتر مستقبل کے مستحق ہیں، لیکن یہ مستقبل اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتا جب تک حماس کا خاتمہ نہیں ہو جاتا‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ ہماری غیر متزلزل حمایت اور ایسا کرنے کے عزم پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔‘

    نیتن یاہو نے مارکو روبیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج یہاں آپ کی موجودگی ایک واضح پیغام ہے کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ انھوں نے اسرائیل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار اور حمایت کی بھی تعریف کی۔

    نیتن یاہو نے امریکی وزیر خارجہ سے بات چیت کے بعد کہا کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے اب تک سب سے بڑے دوست ہیں۔

    نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے قطر میں ہونے والے حملے کے بعد حماس کے رہنماؤں پر مزید حملوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں انھیں استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ ہر ملک کو ’اپنی سرحدوں سے باہر اپنا دفاع کرنے‘ کا حق حاصل ہے۔

    قطر میں حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے اسرائیل کے فیصلے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر غم و غصے اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    حماس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن اس کے رہنما بچ گئے۔ جب نیتن یاہو سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا اس حملے میں امریکا بھی ملوث تھا تو انھوں نے کہا کہ ’ہم نے یہ کام خود ہی کیا۔‘

    بی بی سی کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسرائیل کے حملے سے خطے میں امریکی تعلقات کو نقصان پہنچا ہے، مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن نے اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    قطر ایک بڑے امریکی ہوائی اڈے کی میزبانی کرتا ہے اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں ثالثی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے ثالث کے طور پر کام کرتا ہے۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے اسرائیل کے فوجی منصوبوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کو ناکام بنانے کی کوشش میں مغربی کنارے کے کچھ حصوں کو ضم کرنے کے بارے میں ان کی انتظامیہ سے بات چیت کریں گے۔

    مارکو روبیو نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ 7 اکتوبر 2023 کو اغوا کیے گئے یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کی طرف سے لاحق ’خطرے‘ کے خاتمے کے ساتھ غزہ کی جنگ ’ختم‘ کرنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران ہم جس بات پر بات کریں گے اس کا ایک حصہ یہ ہے کہ قطر میں گذشتہ ہفتے کے واقعات اس پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔

    مارکو روبیو نے یروشلم پر اسرائیلی خودمختاری کے لیے واشنگٹن کی حمایت کی تصدیق کی۔

    مارکو روبیو اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ مغربی دیوار دیکھنے بھی گئے اور انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ان کا دورہ ان کے اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ یروشلم اسرائیل کا ’ابدی دارالحکومت‘ ہے۔

  13. امریکی وزیر خارجہ کی نیتن یاہو سے ملاقات جاری، قطر پر اسرائیلی حملے اور غزہ پر قبضے کے منصوبے پر بات چیت کا امکان

    Israel Prime Minister's Office

    ،تصویر کا ذریعہIsrael Prime Minister's Office

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اس وقت یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کر رہے ہیں۔ قطر میں اسرائیلی حملے پر بات چیت اس ملاقات کے ایجنڈے میں سرفہرست رہنے کا امکان ہے۔

    گذشتہ ہفتے حماس کے اس حملے میں بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا اور امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس پر تنقید کی تھی۔

    مارکو روبیو نے پہلے کہا تھا کہ ’ظاہر ہے کہ ہم اس کے بارے میں خوش نہیں ہیں۔ صدر اس سے خوش نہیں تھے۔ اب ہمیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ آگے کیا ہوگا۔‘

    واضح رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب قطر پر اسرائیلی حملے کو ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا اور دارالحکومت دوحہ میں عرب لیگ اور دیگر اسلامی ممالک کا مشترکہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔

    اس اجلاس کا انعقاد ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کے ممالک اور اسرائیل کے درمیان سیاسی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی غزہ میں جنگ اب تیسرے سال میں داخل ہو رہی ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس کی تباہ کاریوں سے دوچار ہیں۔

    گذشتہ ہفتے اسرائیل نے غزہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے قطر پر بھی حملہ کیا۔ اسرائیل اس سے قبل لبنان، ایران، یمن اور شام پر بھی حملے کر چکا ہے۔

    اسرائیلی حملے کے باوجود دوحہ نے غزہ جنگ کو روکنے کے لیے قاہرہ اور واشنگٹن کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    اتوار کے روز قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے دوحہ میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے بند کمرے کے اجلاس کے دوران بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنا ’دوہرا معیار‘ ترک کریں اور اسرائیل کو اس کے کیے کی سزا دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’جو چیز اسرائیل کو اپنا طرز عمل جاری رکھنے کی ترغیب دیتی ہے، وہ عالمی برادری کی خاموشی اور اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے میں اس کی ناکامی ہے۔‘

    قطر میں امریکہ کا بڑا فوجی اڈہ بھی ہے۔ اس وقت دوحہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے ثالث کے طور پر کام کر رہا ہے۔

    اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات یروشلم میں واقع مغربی دیوار کے پتھروں کی طرح مضبوط اور پائیدار ہیں جبکہ انھوں نے اور مارکو روبیو نے یروشلم کے پرانے شہر میں اس مقدس مقام کا مختصر دورہ بھی کیا اور دیوار کو قریب سے دیکھا۔

    اس دورے میں امریکی وزیر خارجہ نے ایک نوٹ بھی لکھ کر دیوار پر رکھا۔

    قطر پر حملے سے متعلق صحافیوں کے سوالات کو دونوں رہنماؤں نے نظر انداز کیا۔

    اب توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں کے درمیان غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے اسرائیلی فوجی منصوبوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی بستیوں کی مسلسل توسیع پر بھی بات چیت ہو گی۔

  14. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی شاہراہ بند، وادی میں پیٹرول اور خوراک کی کمی کا خدشہ, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    کشمیر سیب

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو انڈیا کے دیگر علاقوں سے ملانے والی ’نیشنل ہائی وے 44‘ بارشوں کی وجہ سے کئی مقامات پر ڈھے گئی ہے جس کے باعث دو ہفتوں سے یہ اہم سڑک بند ہے۔

    ہائی پر میوہ جات اور پھلوں خاص طور پر سیب سے لدے سینکڑوں ٹرک اور ہزاروں مسافر بردار گاڑیاں پھنسی ہیں۔

    انڈین حکام نے کشمیر کے سیب، ناشپاتی، اخروٹ اور دوسرے پھل اور میوہ جات کو سرینگر سے نئی دلّی پہنچانے کے لیے پارسل ٹرین کا انتظام کیا ہے تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ ہائی وے پر پہلے سے سینکڑوں کروڑ روپے مالیت کا فروٹ خراب ہو رہا ہے۔

    جموں کشمیر میں باغبانی کی صنعت کا حجم 20 ہزار کروڑ انڈین روپے ہے جو یہاں کی مجموعی معیشت کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔

    کشمیر سیب

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    میوہ منڈیاں بند، پیٹرول کی قلّت

    پیر کے روز کشمیر فروٹ گروورز ایسوسیشن کے سربراہ بشیر احمد نے بتایا کہ ’ہائی وے پر پھنسے ٹرکوں کا مطلب ہے کہ میوہ نئی دلّی کی مارکیٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی سڑ رہا ہے، ہمیں پہلے ہی اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔‘

    انھوں نے تاجروں اور کاشتکاروں سے لگاتار ہائی وے کی بندش کے خلاف پیر اور منگل کو احتجاجاً فروٹ منڈیوں کو بند رکھنے کی کال دی ہے۔

    دوسری جانب کشمیر ویلی پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر آنے والے پیٹرول اور ڈیزل کے ٹینکرز ہائی وے پر پھنسے ہوئے ہیں اور کشمیرمیں بیشتر پیٹرول پمپوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

    سیب کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    واضح رہے سرینگر سے دلّی تک کا فاصلہ ایک ہزار کلومیٹر ہے لیکن یہ راستہ جموں سے ہوتے ہوئے جاتا ہے، اور جموں پہنچنے کے لیے ہمالیہ کے دشوار گزار پہاڑوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران 270 کلومیٹر طویل سرینگر۔جموں ہائی وے پر کئی سرنگیں تعمیر کی گئی ہیں لیکن شدید بارشوں اور بادل پھٹنے سے آئی طغیانی کی وجہ سے پہاڑوں سے چٹانیں اور مٹی کے تودے کھسک رہے ہیں جو سڑک کو تباہ کر رہے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ہائی کے کئی مقامات کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ سڑک کی مرمت کا کام ایک ماہ تک مکمل ہو جائے گا۔

    محکمہ ٹریفک کے ایک سینیئر افسر نے بتایا: ’نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا، بارڈر روڈز آرگنائزیشن اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار مرمت کے کام میں جٹے ہوئے ہیں۔ راستہ کھُلنے پر ہم پہلی ترجیح فروٹ ٹرکس اور ٹینکرز کو ہی دیں گے۔‘

    اس دوران رام بان اور اُدھمپور میں ہائی وے پر پھنسے مسافروں کا کہنا ہے کہ انھیں کھانے پینے کی اشیا کی کمی کا سامنا ہے۔

    سرینگر کے ایک مسافر پرویز احمد نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ’دکانوں کا سٹاک بھی ختم ہو رہا ہے، اور جس کے پاس کچھ ہے وہ من مانی قیمتوں پر فروخت کررہا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ کئی فلاحی تنظیموں اور ضلعی انتظامیہ نے بھی خوراک تقسیم کی ہے۔ ’تاہم اگر ہائی وے کو بحال نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ مسلہ بڑے بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ً

    کشمیر سیب

    ،تصویر کا ذریعہHindustan Times via Getty Images

    ’یہ سڑک نہیں لائف لائن ہے‘

    1947 سے قبل کشمیر کا باہری دنیا سے رابطہ راولپنڈی روڈ کے ذریعہ ہوتا تھا ۔ موجودہ ہائی وے کو اُن دنوں ’بانہال کارٹ روڈ‘ کہتے تھے کیونکہ اس سڑک پر گاڑیاں نہیں چل سکتی تھیں۔

    راولپنڈی روڑ سرینگر کے شمال کی جانب اُوڑی سے ہوتی ہوئی راولپنڈی پہنچتی ہے، اور اس سڑک پر سردیوں اور بارشوں کے دوران ٹریفک بند نہیں ہوتا تھا۔

    تقسیم ہند کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کو لے کر جنگ ہوئی اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی سیز فائر کے بعد راولپنڈی روڈ کو بند کر دیا گیا کیونکہ سیز فائر لائن پاکستانی زیرِانتظام کشمیر کے چکوٹی اور انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے اُوڑی کے درمیان سے گزری۔ بعد میں بانہال سرنگ تعمیر کرکے سرینگر اور جموں کے درمیان 270 کلومیٹر کی ہائی تعمیر کی گئی جو بتدریج بہتر ہوتی رہی۔

    پلوامہ کے ایک مسافر عبدالاحد نے بتایا، ’دو ہفتے پہلے جو سفر پانچ گھنٹوں میں طے ہوتا تھا وہ اب 15 روز بعد بھی ختم نہیں ہو رہا ہے۔ یہ کوئی عام سڑک نہیں کشمیریوں کی لائف لائن ہے، حکومت کو بہتر منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔‘

    مغل روڈ کی اہمیت

    2004 میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی سید نے جموں ہائی وے کے متبادل کے طور پر مغل روڑ کو تعمیر کروایا تھا۔ یہ سڑک جنوب میں شوپیان سے ہوکر نیلم ویلی کے راجوری اور پونچھ کو وادی سے ملاتی ہے۔

    ہائی وے کی بندش کے دوران مغل روڈ واحد متبادل ہوتا ہے لیکن اس سڑک کو بہتر بنانے کے سبھی منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ مال بردار ٹرک اور پیٹرول ٹنیکرز اس سڑک سے نہیں گزر پاتے ہیں۔

    یہ سڑک مغل حکمرانوں نے سولہویں صدی میں کشمیر کو فتح کرنے کے لیے دریافت کی تھی۔

  15. مسلم ممالک کو اسرائیل سے تعلقات منقطع کر لینے چاہییں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    ایرانی صدر مسعود

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران کے صدر مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات منقطع کر لیں۔

    قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد ہونے والے عرب و اسلامی ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے دوحہ روانگی سے قبل ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ تمام اسلامی ممالک کو اس جعلی ملک سے اپنے تعلقات منقطع کر لینے چاہییں اور آپس میں اتحاد اور ہم آہنگی کو حتی الامکان برقرار رکھیں۔

    ایرانی صدر نے امید ظاہر کی کہ سربراہی اجلاس میں تمام ممالک اسرائیل کے خلاف اقدامات کے حوالے سے کسی نتیجے پر ضرور پہنچیں گے۔

    یاد رہے کہ دوحہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اجلاس ’ابراہم ایکارڈ‘ کے دستخط کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔

    2021 میں ہونے والے ابراہم ایکارڈ یا ابراہیم معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل اور عرب ممالک نے معمول کے تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  16. غزہ شہر میں کارروائیوں میں توسیع یرغمالیوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے: اسرائیلی عسکری قیادت

    غزہ شہر میں اسرائیل کی جانب سے ایک گھر اور مسجد نشانہ بنائے جانے کے بعد حملے کے مقام سے دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنغزہ شہر میں اسرائیل کی جانب سے ایک گھر اور مسجد نشانہ بنائے جانے کے بعد حملے کے مقام سے دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔

    اسرائیلی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن کے دوسرے مرحلے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جبکہ اسرائیلی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر میں کارروائیوں میں توسیع یرغمالیوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔

    اسرائیل کے چینل 12 نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اتوار کی شام کو اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال ضمیر نے بند کمرے میں ہونے والی سکیورٹی میٹنگ میں سیاسی قیادت کو بریفنگ دی۔

    چینل کے مطابق، اسرائیلی چیف آف سٹاف کا کہنا تھا وہ حکومت کی جانب سے طے کیے گئے جنگی اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ غزہ شہر پر قبضے کے لیے آپریشن کے بعد بھی حماس کو عسکری یا سیاسی طور پر مکمل شکست نہیں دی جاسکے گی۔

    اجلاس کے دوران وزیر اعظم نیتن یاہو نے زور دیا کہ وہ اس عمل کو طے شدہ وقت کے اندر شروع ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    چینل 12 نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان کا اندازہ ہے کہ زیادہ تر رہائشی آخری لمحات میں غزہ شہر سے نکلنے پر راضی ہو جائیں گے۔

    اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے مطابق، اب تک تقریبا تین لاکھ افراد غزہ شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کو توقع ہے کہ فوجی آپریشن کے آغاز پر دو سے تین لاکھ افراد شہر میں رہ جائیں گے۔

    بی بی سی آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا ہے ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کے احکامات کے بعد سے اب تک کتنے فلسطینی غزہ شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

    اسرائیلی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے اسرائیلی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں کارروائیوں میں توسیع ’یرغمالیوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتی ہے۔‘

    ادارے کے مطابق، ایک سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ’پوری سیاسی قیادت اس بات سے آگاہ ہے۔‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اگر آپریشن کے دوران یرغمالیوں کو نقصان پہنچتا ہے تو اس سے کیسا ردِ عمل آ سکتا ہے۔

  17. دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال، پنجاب کے دریاؤں کے بہاؤ میں کمی آنے لگی

    پنجاب کے شہر جلالپور پیر والا میں امدادی کارکن سیلاب میں پھنسے افراد کو کشتی کی مدد سے محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنپنجاب کے شہر جلالپور پیر والا میں امدادی کارکن سیلاب میں پھنسے افراد کو کشتی کی مدد سے محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

    پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں گدو اور سکھر کے مقام پر سیلابی صورتحال بر قرار ہے جبکہ دوسری جانب پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آنا شروع ہو گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، دریائے سندھ پر گدو بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ پانی چھ لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔ اگلے 24 گھنٹے میں پانی کا بہاؤ چھ لاکھ 50 ہزار کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ گدو بیراج سے 12 لاکھ کیوسک پانی محفوظ طریقے سے گزر سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ دریائے سندھ پر سکھر بیراج کے مقام پر پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے جسے درمیانے درجے کا سیلاب قرار دیا جا رہا ہے۔

    پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آ رہا ہے: پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ صوبے کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آ رہا ہے۔

    ڈائیریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ پنجند کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ تین لاکھ 7 ہزار کیوسک ہے جبکہ دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر ایک لاکھ 8 ہزار کیوسک کے ساتھ درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج پر ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 89 ہزار کیوسک ہے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے چناب، دریائے راوی اور پنجاب کے بڑے نالوں میں پانی کا بہاؤ اس وقت معمول کی سطح پر ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

    اس سے قبل گذشتہ روز پی ڈی ایم اے نے بتایا تھا کہ صوبے میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 104 ہو گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں دریائے راوی، دریائے چناب اور ستلج کے سیلابی ریلوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی ہے۔

    اس کے علاوہ پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے 11ویں سپیل کا الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 16 سے 19 ستمبر کے دوران دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشوں کا امکان ہے۔

  18. امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اسرائیل پہنچ گئے

    امریکی وزیر خارجہ کا دورہ اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو قطر میں حماس کے ارکان پر اسرائیلی حملے کے بعد غزہ میں جنگ پر بات چیت کے لیے اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز یروشلم کے مقدس مقام پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات مغربی دیوار (یروشلم کی ویسٹرن وال) کے پتھروں کی طرح مضبوط اور پائیدار ہیں۔‘

    امریکا سے روانگی سے قبل روبیو نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے اہم اتحادی پر اسرائیلی حملے سے ناخوش ہیں تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔

    غزہ میں تقریباً 48 اسرائیلی یرغمالی، جن میں سے 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں، حماس کی حراست میں ہیں۔

    ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو ان کی واپسی اور امن معاہدے تک پہنچنے کی راہ میں واحد رکاوٹ ہیں۔ یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ گذشتہ ہفتے قطر پر اسرائیل کا حملہ ظاہر کرتا ہے کہ ’جب بھی کوئی معاہدہ قریب آتا ہے تو نیتن یاہو اسے سبوتاژ کر دیتے ہیں۔‘

    اُدھر دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کے تقریباً ایک ہفتے بعد پیر کو قطر کا دارالحکومت ایک ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔

    سربراہی اجلاس کی تیاری کے لیے وزرائے خارجہ کا اجلاس اتوار کو ہوگا، پیر کو سربراہان سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔

    مبصرین کہتے ہیں کہ دوحہ سمٹ اسرائیلی اقدامات کے خلاف محض مذمت سے ہٹ کر ایک مشترکہ بیانیہ تشکیل دینے کا تاریخی موقع ہو سکتا ہے۔

    بعض ماہرین کہتے ہیں کہ ہر کوئی قطر اور دیگر علاقائی ممالک کی جانب دیکھ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کون کون سے آپشنز سامنے لاتے ہیں۔

    اس سربراہی اجلاس میں گذشتہ منگل کو اسرائیلی حملے کے حوالے سے ایک مسودہ قرارداد پر بات چیت کی جائے گی، جسے اتوار کو ہونے والے عرب اور اسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں حتمی شکل دی جائے گی۔

  19. رومانیہ کی فضائی حدود میں روسی ڈرون، ’یہ ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی ہے‘

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    رومانیہ کا کہنا ہے کہ روسی ڈرون نے اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ نیٹو کا دوسرا ملک ہے جس نے اس طرح کی خلاف ورزی کی اطلاع دی ہے۔

    رومانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ سنیچر کے روز یوکرین میں روسی حملے کی نگرانی کرنے والے لڑاکا طیارے فضا میں تھے اور وہ یوکرین کی جنوبی سرحد کے قریب ڈرون کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یہ حملہ کوئی غلطی نہیں ہو سکتی، یہ ’روس کی طرف سے جنگ کی واضح توسیع‘ ہے۔

    ماسکو نے رومانیہ کے دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    بدھ کے روز پولینڈ نے کہا تھا کہ اس نے کم از کم تین روسی ڈرون مار گرائے ہیں جو اس کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ رومانیہ کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے روسی ڈرون کا اس وقت پتا لگایا جب دو ایف 16 طیارے یوکرین کے ساتھ اپنی سرحد کی نگرانی کر رہے تھے۔

    ڈرون کو ریڈار سے غائب ہونے سے پہلے چلیا ویچے گاؤں سے 20 کلومیٹر جنوب مغرب میں دیکھا گیا تھا۔ وزارت نے کہا کہ یہ آبادی والے علاقوں کے اوپر پرواز نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

    پولینڈ نے بھی سنیچر کے روز روسی ڈرونز کے بارے میں خدشات کا جواب دیا۔ اس ہفتے کے آغاز پر روسی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ پولینڈ کی سرزمین پر تنصیبات کو نشانہ بنانے کا ’کوئی منصوبہ‘ نہیں ہے۔

    اتوار کے روز جمہوریہ چیک نے اعلان کیا کہ اس نے پولینڈ میں ایک خصوصی آپریشن ہیلی کاپٹر یونٹ بھیجا ہے۔

    یہ یونٹ تین ایم آئی-171 ایس ہیلی کاپٹروں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک 24 اہلکاروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں مکمل جنگی آلات موجود ہیں۔

    چیک وزیر دفاع نے کہا ہے کہ یہ اقدام نیٹو کے مشرقی حصے میں روس کی دراندازی کے جواب میں کیا گیا ہے۔

    تازہ ترین ڈرون حملے کے جواب میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ روسی فوج ’اچھی طرح جانتی ہے کہ ان کے ڈرون کہاں جا رہے ہیں اور وہ کب تک فضا میں کارروائی کرسکتے ہیں۔‘

    انھوں نے مسلسل مغربی ممالک سے ماسکو پر پابندیاں سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی رواں ہفتے کے اوائل میں فضائی حدود کی خلاف ورزی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ روس پر سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب نیٹو ممالک روسی تیل کی خریداری بند کرنے جیسی کچھ شرائط پر پورا اترتے ہیں۔

    روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملہ کیا اور میدان جنگ میں سست پیش رفت کر رہا ہے۔

    ٹرمپ جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ہیں جبکہ پوتن کے گذشتہ ماہ الاسکا میں ٹرمپ کے ساتھ سربراہی اجلاس سے واپس آنے کے بعد سے روس نے یوکرین پر حملوں کو تیز کر دیا ہے۔

  20. صدر زرداری کا چینگڈو میں جے 10 جنگی طیاروں کے کمپلیکس کا دورہ: ’چین کے ساتھ دفاعی پیداوار میں تعاون بڑھائیں گے‘

    @PresOfPakistan

    ،تصویر کا ذریعہ@PresOfPakistan

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا (اے وی آئی سی) کے دورے کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اور چین دفاعی پیداوار اور ہوا بازی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھاتے رہیں گے اور ان کی ہر طرح کے حالات میں سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید گہرا کریں گے۔

    اے وی آئی سی چین کا ’فلیگ شپ ایرو سپیس‘ اور دفاعی گروپ ہے جو فوجی اور سویلین طیاروں کی ایک وسیع رینج کے ڈیزائن اور تیاری میں مصروف ہے۔

    دورے کے دوران صدر مملکت نے اس وسیع و عریض کمپلیکس کا دورہ کیا، جو جے-10 سی لڑاکا طیارہ تیار کرتا ہے۔ ان لڑاکا طیاروں نے حالیہ تنازع کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا۔ آصف زرداری نے اے وی آئی سی کے انجینئرز اور سائنسدانوں سے بھی ملاقاتیں کیں اور مستقبل کی ٹیکنالوجی سے متعلق ان کے خیالات سنے۔

    آصف علی زرداری کو اے وی آئی سی کی جدید صلاحیتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جن میں جے 10 لڑاکا طیارے، پاکستان کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر کی مشترکہ تیاری کے ساتھ ساتھ جے 20 سٹیلتھ پانچویں جنریشن کے لڑاکا طیارے، بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں، مکمل طور پر خودکار یونٹس اور جدید ملٹی ڈومین آپریشنز کے لیے انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم شامل ہیں۔

    صدر مملکت نے کہا کہ جے 10 اور جے ایف 17 نے پاکستان فضائیہ کو بہت مضبوط کیا ہے جس کا عملی اظہار مئی 2025 کے معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کے دوران واضح طور پر سامنے آیا۔

    واضح رہے کہ رواں سال مئی کے دوران پاکستان فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے انڈیا کے پانچ طیارے مار گرائے ہیں۔ اس سے قبل انڈیا کی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں نو مقامات کو نشانہ بنایا۔

    پاکستان کی جانب سے یہ دعویٰ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پارلیمان میں کیا تھا اور کہا تھا کہ ’انڈیا کے فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کو مار گرانے کے لیے چین کے جے 10 سی لڑاکا طیارہ استعمال کیے گئے۔‘ یاد رہے کہ انڈیا نے تاحال اپنے طیاروں کے مار گرائے جانے کے پاکستانی دعوؤں کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

    آصف علی زرداری نے اپنے دورے کے دوران اے وی آئی سی کو چین کی تکنیکی ترقی اور پاکستان اور چین کے درمیان پائیدار سٹریٹجک شراکت داری کی علامت قرار دیا۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ کسی بھی غیر ملکی سربراہ مملکت کا اے وی آئی سی کمپلیکس کا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے میں آصف زرداری کے ہمراہ دیگر حکام کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، خاتون اول آصفہ بھٹو بھی شامل ہیں۔

    ہتھیاروں کی خریداری میں پاکستان کا چین پر کتنا انحصار ہے؟

    جے 10 سی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین نے گذشتہ چار دہائیوں میں کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی۔ لیکن اس دوران چین نے اپنی فوج کو مضبوط بنانے اور جدید ترین ہتھیار تیار کرنے میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی۔

    چین نے اپنے تیار کردہ بہت سے ہتھیار پاکستان کو بھی فراہم کیے ہیں۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کے اعداد و شمار کے مطابق چین نے گذشتہ پانچ برسوں (2020-24) میں پاکستان کے درآمد شدہ ہتھیاروں کا 81 فیصد فراہم کیا ہے۔ (یعنی پاکستان نے اس دورانیے میں جتنے ہتھیار درآمد کیے ہیں ان میں سے 81 فیصد چین سے خریدے گئے ہیں)

    سپری کے مطابق پاکستان نے سنہ 2015 سے 2019 اور 2020 سے 2024 تک ہتھیاروں کی درآمد میں 61 فیصد اضافہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان نے چین سے جو ہتھیار حاصل کیے ہیں ان میں جدید لڑاکا طیارے، میزائل، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔ پاکستان میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے کچھ ہتھیاروں میں بھی چین کا کردار ہے، یہ یا تو چینی کمپنیوں نے تیار کیے ہیں یا پھر ان میں چینی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔