عمران خان نے آرمی چیف کو پیغام دیا ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں ہم ٹوٹ جائیں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے: علیمہ خان

عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کے مقدمے کی سماعت کے دوران علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں اور ان کی وہاں عمران خان سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان کے مطابق ملاقات میں ’عمران خان نے کہا کہ یہ جو مرضی کرلیں میں غلامی قبول نہیں کروں گا۔‘

خلاصہ

  • عمران خان نے آرمی چیف کے لیے پیغام دیا ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں ہم ٹوٹ جائیں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے: علیمہ خان
  • پاکستان کے ارشد ندیم نے ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئین شپ میں جیولن تھرو کے فائنل مقابلے میں جگہ بنا لی ہے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سرکاری دورے پر برطانیہ میں موجود ہیں۔
  • اسرائیل کے غزہ شہر پر قبضے کے لیے شدید حملے جاری، 24 گھنٹوں کے دوران 59 افراد ہلاک 386 زخمی
  • حماس کے رہنما جہاں بھی ہوں گے، انھیں نشانہ بنایا جائے گا: اسرائیلی وزیرِ اعظم کا حماس کے خلاف بیرون ملک مزید کارروائیوں کا عندیہ
  • اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے دوحہ کے مرکز میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ 'جائز' تھا کیونکہ قطر کے حماس کے ساتھ تعلقات ہیں

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    18 ستمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

  2. بلوچستان میں بم دھماکوں اور تشدد کے واقعات میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت چار افراد ہلاک اور تین زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں بم دھماکوں اور تشدد کے دیگر واقعات میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت چار افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ ان میں سے تین افراد منگل کو ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل سوئی میں بارودی سُرنگوں کے دھماکوں کے دو واقعات میں ہلاک ہوئے۔

    ڈیرہ بگٹی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار عزیز اللہ نے بتایا کہ تینوں افراد کی ہلاکت تحصیل سوئی کے علاقے لنجو سغاری ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں زرعی اراضی میں نامعلوم افراد نے بارودی سُرنگیں نصب کی تھیں۔ ان میں سے پہلے بارودی بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک خاتون ہلاک ہوئی جبکہ دوسرے دھماکے میں ایک بزرگ شخص سمیت دو افراد ہلاک اور ایک بچی زخمی ہو گئی۔

    انھوں نے بتایا کہ ان واقعات کے بارے میں تحقیقات کا شروع کردی گئی ہیں۔ ان واقعات کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    اُدھر خیبر پختونخوا سے متصل بلوچستان کے ضلع شیرانی میں شدت پسندوں کے حملے میں بلوچستان کانسٹیبلری کا ایک اہلکار ہلاک اور لیویز فورس کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    ضلع شیرانی کے ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے بتایا کہ میر علی خیل کے علاقے میں نامعلوم افراد نے گذشتہ شب پولیس اور لیویز فورس کے تھانوں پر حملہ کیا۔

    ڈائریکٹر جنرل لیویز فورس عبدالغفار مگسی نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ شدت پسندوں کے ساتھ مقابلہ دو گھنٹے تک چلتا رہا۔ انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران بلوچستان کانسٹیبلری کا ایک اہلکار ہلاک ہوا جبکہ لیویز فورس کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور لیویز فورس کے ایک اہلکار کو اغوا کرکے بھی لے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ایک گاڑی کو نذر آتش کرنے کے علاوہ وہاں سامان کو بھی جلا دیا۔ ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے بتایا کہ حملہ آوروں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے۔

  3. پاکستان کے ارشد ندیم نے ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئین شپ میں جیولن تھرو کے فائنل مقابلے میں جگہ بنا لی

    ارشد ندیم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے ارشد ندیم نے ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئین شپ میں جیولن تھرو کے فائنل مقابلے میں جگہ بنا لی ہے۔ جاپان کے شہر ٹوکیو میں جاری ان مقابلوں میں جیولن تھرو کے ابتدائی راؤنڈ میں ارشد ندیم نے 85.28 میٹر دور نیزہ پھینک کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔

    ابتدائی مقابلے میں ارشد ندیم کی ابتدائی دو تھروز 77 میٹر سے بھی کم فاصلے پر گریں لیکن آخری تھرو نے مقررہ فاصلہ عبور کیا۔

    ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئین شپ میں جیولن تھرو کا فائنل مقابلہ جمعرات کی شام منعقد ہو گا۔

    خیال رہے کہ ارشد ندیم نے 2023 میں ہنگری میں ہونے والے ان عالمی مقابلوں میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا اور یہ پہلا موقع تھا کہ کسی پاکستانی ایتھلیٹ نے ان مقابلوں کی تاریخ میں کوئی بھی تمغہ جیتا ہو۔

    ارشد کے دیرینہ حریف سمجھے جانے والے انڈیا کے نیرج چوپڑا باآسانی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ ابتدائی راؤنڈ میں ان کی 84.85 میٹر کی پہلی ہی تھرو انھیں حتمی مرحلے میں پہنچانے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔

    ارشد ندیم نے 2024 کے پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اور یہ کارنامہ 92.97 میٹر فاصلے پر نیزہ پھینک کر سرانجام دیا تھا جو نہ صرف ایک اولمپکس ریکارڈ ہے بلکہ ان کے کریئر کی بہترین کارکردگی بھی ہے۔

  4. عمران خان نے آرمی چیف کے لیے پیغام دیا ہے کہ اگر آپ سمجھتے ہیں ہم ٹوٹ جائیں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے: علیمہ خان, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Aleema Khan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشرہ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں ہوئی۔ اس مقدمے کی سماعت کے بعد عمران خان کی بہن علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے آرمی چیف کو پیغام دیا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے اگر آپ سمجھتے ہیں ہم ٹوٹ جائیں گے یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔‘

    آج علیمہ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں اور ان کی وہاں عمران خان سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان کے مطابق ملاقات میں ’عمران خان نے کہا کہ جو مرضی کرلیں میں غلامی قبول نہیں کروں گا۔‘

    علیمہ خان کے مطابق ’عمران خان نے کہا جنرل یحییٰ خان نے بھی اپنے اقتدار کے لیے یہی کیا تھا ملک ٹوٹ گیا تھا۔‘

    علمیہ خان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان نے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے آپ نے اپنے اقتدار کے لیے پی ٹی آئی کو کچلا۔‘

    ان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے 26ویں ترمیم متعارف کرائی گئی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’میڈیا کو مکمل طور پر کنٹرول میں لیا گیا ہے جبکہ رول آف لا اور جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا ہے۔‘

    علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس دور میں باہر سے سب سے کم سرمایہ کاری آئی ہے۔

    ان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے پاکستان کا قرضہ ڈبل ہوگیا ہے، قوم کو مقروض کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملاقات میں عمران خان نے کہا افغانستان کو دھمکیاں دے کر افغانوں کو پاکستان سے نکالا جارہا ہے۔

    علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا کہ الیکشن ہوا، عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔

    ان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے الیکشن سے پہلے انھوں نے پیشنگوئی کی تھی پی ٹی آئی کلین سویپ کرے گی، آج پیش گوئی کررہا ہوں پاکستان اس وقت بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال جیسے حالات کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘

    سابق وزیر اعظم نے کہا ’ہم نے بات چیت کے لیے ہر راستہ اپنایا۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے بتایا کہ اب جھوٹی گواہیوں پر دس دس سال سزائیں دی جارہی ہیں۔

    عمران خان نے پارٹی لیڈرشپ کو ہدایت کی ہے کہ اب وقت ہے اصل اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا۔

    ان کے مطابق ’عمران خان نے کہا اگر صحیح اپوزیشن نہ کی گئی تو آپ اپنی سیاسی قبریں کھودیں گے۔ عمران خان نے کہا دو تین سال میں اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’پاکستان میں جو ظلم ہمارے ساتھ ہوا اس کی مثال نہیں ملتی، یہاں خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے بتایا کہ انھوں نے لیڈر شپ کو کہا ہے ڈر کے گھر میں بیٹھنے کا وقت نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں 27 تاریخ کے جلسے میں پوری قوم نکلے۔

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کے مقدمے کی سماعت اسلام آباد کے سپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ ٹو کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم کے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر محمد احمد اور سابق ڈپٹی ملٹری سیکریٹیر کرنل ریحان نے اپنے بیان سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں ریکارڈ کروائے۔

    بریگیڈیئر محمد احمد اب فوج سے ریٹائر ہوچکے ہیں جبکہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے ڈپٹی ملٹری سیکریٹری کے طور پر فرائض سر انجام دینے والے کرنل ریحان ابھی بھی فوج میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

    اس مقدمے کے سپیشل پراسیکوٹر ذوالفقار نقوی نے بی بی سی کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم کے ملٹری سیکریٹری اور ڈپٹی ملٹری سیکریٹری نے عدالت میں ملزمان کی موجودگی میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بتایا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مئی 2021 میں سعودی عرب کے دوران تحائف ملے تھے جن میں بلغاریہ کا ڈائمنڈ سیٹ کے علاوہ نیکلس بھی شامل تھے مگر انھیں توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی سبراہ مملکت یا سربراہ حکومت بیرون ملک کے دورے پر جاتا ہے اور انھیں وہاں سے جو بھی تحائف ملتے ہیں ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے اور وہاں سے اگر کوئی صدر یا وزیر اعظم تحفہ لینا چاہتا ہو تو اوپن مارکیٹ میں اس کی قمیت لگوا کر اس کا پچاس فیصد دے کر اس کو حاصل کرسکتا ہے۔

    عمران خان کے سابق ملٹری سیکریٹری نے عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان تحائف کی اوپن مارکیٹ میں قیمت سات کروڑ روپے تھی جبکہ اس وقت کے وزیر اعظم نے مبینہ طور پر اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ان تحائف کی کم قمیت لگوائی تھی۔

    اس مقدمے کے سپیشل پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ برگیڈیئر ریٹائرڈ محمد احمد نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ملزم عمران خان نے ان تحائف کی اوپن مارکیٹ میں قیمت 59 لاکھ روپے لگوائی تھی جس میں سے 29 لاکھ کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائی گئی تھی۔

    کمرہ عدالت میں موجود اڈیالہ جیل کے اہلکار کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے ڈپٹی ملٹری سیکریٹری کرنل ریحان نے بھی اسی سے ملتا جلتا بیان عدالت میں ریکارڈ کروایا۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا نے ان دونوں سرکاری گواہان پر جرح بھی کی۔

    واضح رہے کہ عمران خان کے سابق پرسنل سیکریٹری انعام شاہ اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان ان تحائف کو لے کر ٹیلی فونک گفتگو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں بشریٰ بی بی نے ان تحائف کی تصاویر اور تفصیلات حاصل کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور انعام شاہ کا بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ میں داخلہ بند کردیا تھا۔

    ذوالفقار نقوی کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی سماعت جمعرات کو بھی ہوگی جس میں اس مقدمے کی تحققیات کرنے والے نیب اور ایف ائی اے کے افسران بھی عدالت میں پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔ اب تک اس مقدمے میں 18 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔

  5. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لندن پہنچ گئے

    PA Media

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سرکاری دورے پر اس وقت لندن کے ونڈسر محل میں موجود ہیں، جہاں ان کی ملاقات برطانیہ کے بادشاہ سے ہو رہی ہے۔

    اس محل کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. بلخ، قندھار اور ہلمند میں انٹرنیٹ پر پابندی عائد، افغانستان پر ’برائی کو روکنے‘ والے اس فیصلے کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

    Afghanistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ افغانستان کے شمالی صوبے بلخ اور جنوبی صوبوں قندھار اور ہلمند میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ سروسز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    بلخ میں طالبان کے سرکاری حکام نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ انھوں نے اپنے رہنما مولوی ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر صوبے میں فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    بلخ کے گورنر کے ترجمان حاجی زید نے کہا کہ ’اب سے، اس کیبل (فائبر آپٹک نیٹ ورک) کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے اور اسے منقطع کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ قدم ’برائی کو روکنے‘ کے لیے اٹھایا گیا ہے اور ’ضرورت پڑنے پر ملک کے اندر ایک متبادل متعارف کرایا جائے گا۔‘

    اگرچہ حاجی زید نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’برائی کو روکنے‘ سے ان کی کیا مراد ہے تاہم انٹرنیٹ تک رسائی کا مطلب ہے کہ تقریباً کوئی بھی چیز جو آن لائن فارمیٹ میں موجود ہے اسے دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔

    Internet

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں، فائبر آپٹک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کی طرف سے فراہم کردہ سم کارڈ انٹرنیٹ خدمات کے علاوہ تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات فراہم کرتا ہے، جن کی نگرانی طالبان حکومت کی وزارت مواصلات کرتی ہے۔

    فائبر آپٹک کو ایک خاص آپٹیکل کیبل کے ذریعے زمین کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ فائبر آپٹک کے ذریعے منتقل ہونے والا انٹرنیٹ موبائل اور وائرلیس انٹرنیٹ سے زیادہ تیز اور مستحکم ہے۔

    یہ زیادہ تر سرکاری ایجنسیاں، کاروباری مراکز، اور غیر ملکی اور ملکی غیر سرکاری تنظیمیں اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہ انٹرنیٹ خدمات شہروں کے گھروں تک بھی پہنچ چکی ہیں۔

    ’فیصلے پر تمام صوبوں میں عملدرآمد ہو گا‘

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یہ فیصلہ تقریباً دو ہفتے قبل قندھار میں طالبان رہنما مولوی ہیبت اللہ کے ساتھ ’گورنرز کے اجلاس‘ میں کیا گیا تھا۔

    طالبان حکومت نے اجلاس میں شرکت کی جس میں بلخ، قندھار، ہرات اور ننگرہار کے گورنروں نے شرکت کی۔ گورنرز کو ’زبانی طور پر‘ کہا گیا کہ وہ ’مظالم‘ کو روکنے کے لیے فائبر آپٹک انٹرنیٹ کو فوری طور پر بند کر دیں۔

    ایک ذریعے کے مطابق کابل انتظامیہ کی قیادت میں ایک کمیٹی کو طویل مدتی حل کے لیے ’متبادل‘ پر غور کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی کو یہ بھی جانچنے کا کام سونپا گیا ہے کہ آیا فائبر آپٹک انٹرنیٹ پر ’منفی مواد کو روکنے‘ کے لیے ’فلٹر‘ استعمال کیا جا رہا ہے۔

    کمیٹی کی سفارشات کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا افغانستان میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بلاک کیا جانا چاہیے اور کیا یہ فلٹر بلاک کر سکتا ہے جو طالبان حکومت چاہتی ہے۔

    اگرچہ بلخ میں طالبان حکومت کی صوبائی انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بینکوں اور کسٹمز کو، جو زیادہ تر فائبر انٹرنیٹ سے منسلک ہیں، کو اس راستے سے انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فائبر انٹرنیٹ پر پابندی کے بعد بینکوں اور کسٹمز کے کام میں خلل پڑا ہے۔

    Kabul

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں بینکوں، الیکٹرانک شناختی کارڈز اور بہت سے اہم اداروں کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو فائبر آپٹکس پر چلتا ہے، لیکن اگر یہ انٹرنیٹ بغیر کسی متبادل کے منقطع ہو جائے تو اس سے بہت سے اداروں کا کام متاثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان اداروں کا کام متاثر ہو سکتا ہے جو انٹرنیٹ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق افغانستان جیسے خشکی سے گھرے ممالک کو سمندر تک رسائی والے ممالک سے تیز رفتار اور قابل اعتماد انٹرنیٹ ملتا ہے۔ زیادہ تر وائرلیس انٹرنیٹ، جو سیٹلائٹ کے ذریعے خدمات فراہم کرتا ہے، مہنگا اور ناقص معیار کا ہے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق یہ ملک مجموعی طور پر سات پوائنٹس پر فائبر آپٹکس کے ذریعے وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک سے منسلک ہے اور ان راستوں سے انٹرنیٹ افغانستان پہنچتا ہے۔

    طالبان حکومت کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ترجمان نے گذشتہ سال بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ پورے افغانستان میں ٹیلی کمیونیکیشن سائٹس کی تعداد بڑھانے اور انٹرنیٹ کی رفتار کو 3G اور 4G تک بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ لوگوں کو بہتر اور تیز انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہو سکے۔

    وزارت کے مطابق افغانستان میں مجموعی طور پر 26 ملین فعال سم کارڈز یا ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کے صارفین ہیں جن میں سے تقریباً 14 ملین کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور باقی صرف وائس کالز کے لیے سم کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ فائبر آپٹک پر پابندی ان صارفین کو کتنا متاثر کرے گی۔

  7. خطرات کے باوجود غزہ کے لوگ میلوں پیدل چلنے پر مجبور: ’سب کچھ پیچھے چھوڑ جانا زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا‘

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں اپنی زمینی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ غزہ کا وہ علاقہ ہے کہ جہاں منگل کے روز سے اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل اور شدید بمباری کی جا رہی ہے۔

    غزہ کی حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 59 افراد ہلاک اور کم از کم 386 زخمی ہوئے۔ وزارت کے مطابق تین افراد قحط اور غذائی قلت کے باعث ہلاک ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

    ہزاروں خاندان غزہ شہر سے نکلنے اور کوئی محفوظ مقام ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر پر قبضے کہ لیے زمینی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

    32 سالہ لینا المغربی تین بچوں کی ماں ہیں اور وہ غزہ شہر کے شیخ رضوان محلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خطرے کے باوجود اپنا گھر نہیں چھوڑنا چاہتیں تھیں، یہاں تک کہ انھیں ایک اسرائیلی فوجی افسر نے فون پر گھر سے نکل جانے کا حکم دیا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ’میں نے نقل مکانی اور ایک خیمے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا زیور فروخت کر دیا۔ خان یونس پہنچنے میں ہمیں 10 گھنٹے لگے اور ہم نے سواری کے لیے 3500 شیکل ادا کیے۔ اس سفر کے دوران گاڑیوں اور ٹرکوں حتیٰ کے گدھا گاڑیوں تک کی نہ ختم ہونے والی لمبی قطار تھی۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لینا کی ہی طرح 38 سالہ نیوین عماد الدین جو پانچ بچوں کی ماں ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی اور بچوں کی جان بچانے کے لیے غزہ شہر سے جنوب کی جانب اُس وقت بھاگنے پر مجبور ہوئیں کہ جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے ان کے محلے اور علاقے بھر میں انخلا کے اعلان والی پرچیاں گرائی گئیں اگرچہ اس سب کے باوجود ان کے شوہر نے گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ’میں اپنا فرنیچر ساتھ نہیں لے جا سکی کیونکہ بڑے ٹرک کا کرایہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ سب کچھ پیچھے چھوڑ جانا میری زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا۔‘

    نقل مکانی پر آنے والا خرچ زیادہ تر غزہ شہر کے رہنے والوں کی پہنچ سے دور ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اب ایک چھوٹے ٹرک کا کرایہ تقریباً 3,000 شیکل ہے، جبکہ پانچ افراد کے لیے ایک خیمہ تقریباً 4,000 شیکل میں فروخت ہو رہا ہے۔ چونکہ زیادہ تر خاندان جنگ کے آغاز سے آمدنی سے محروم ہیں، کچھ کو میلوں پیدل چلنے یا خطرات کے باوجود اپنے گھروں میں رہنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ کے رہنے والوں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہونے والی بمباری کو انتہائی خوفناک قرار دیا۔

    شمالی غزہ سے بے گھر ہونے والے غازی العلول نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اب جنوب مغربی غزہ کے علاقے تل الهو میں القدس ہسپتال کے دروازے پر بیٹھے ہیں کیونکہ یہ مقام انھیں محفوظ محسوس ہوتا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ ’میں اپنی مرضی سے یوں ہسپتال کے دروازے پر نہیں بیٹھا ہوا۔ مجھے اسرائیلی فوج کی بمباری سے مجبور ہو کر وہ گھر چھوڑا پڑا جہاں میں اور میرا خاندان شمال سے نقل مکانی کرنے کے بعد تقریباً ایک مہینے سے پناہ لیے ہوئے تھے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک جانب تو بغیر کسی وقفے کے غزہ پر بمباری جاری ہے اور ساتھ ہی اسرائیلی فوج اس علاقے میں کئی رہائشی عمارتوں کو مسمار کرنے کی دھمکی بھی دے رہی ہے۔‘

    وسطی غزہ کے علاقے الدرج سے تعلق رکھنے والے سامی ابو دلل نے کہا کہ ’گزشتہ شب کثیر منزلہ رہائشی عمارتوں پر بمباری کی گئی جس کی وجہ سے وہ منہدم ہو گئیں۔ ان میں کئی خاندان پناہ لیے ہوئے تھے اور اب بھی بہت سے لوگ یا تو اس وجہ سے ہلاک ہو چُکے ہیں یا تو لاپتہ یا زخمی ہو گئے ہیں۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  8. ایران میں ’موساد کے لیے جاسوسی‘ کے الزام میں ایک اور شہری کو سزائے موت دے دی گئی

    x/yasaminsh1386

    ،تصویر کا ذریعہx/yasaminsh1386

    ایران میں دو سال قبل ’اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے بابک شہبازی کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

    ایرانی عدلیہ نے بابک شہبازی کی سزائے موت پر عمل درآمد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھیں بدھ 16 ستمبر کی صبح پھانسی دے دی گئی ہے۔

    شہبازی کے بیٹے نے منگل کی رات اعلان کیا کہ ان کے والد کو جیل کے عام سیل سے نکال کر تنہا ایک سیل میں بند کر دیا گیا ہے۔‘ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے والد کی پھانسی کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں اور یوں انھیں قیدِ تنہائی میں رکھنا اسی بات کی علامت ہے۔

    شہبازی کے اہلِ خانہ کے قریبی ذرائع نے اس سے قبل کہا تھا کہ ’انھوں نے صرف سوشل میڈیا کے ذریعے یوکرین کے صدر کو پیغامات بھیجے تھے۔‘ اس سے پہلے خاندان کے قریب ایک اور ذریعے نے یہ بھی کہا تھا کہ شہبازی نے جاسوسی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔

    بابک شہبازی کے خاندان والوں نے اُن کی سزا کے خلاف ایرانی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی تاہم اُن کی سزائے موت جولائی 2025 میں سپریم کورٹ نے برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔

    مهدی محمودیان، جو ایک سماجی کارکُن، سیاسی قیدی اور شہبازی کے قریبی ساتھی ہیں نے اس سزا کو ’افسوسناک اور انتہائی تکلیف دہ قرار دیا۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد، ایران میں کئی افراد کو ’جاسوسی کے جرم‘ میں پھانسی دی جا چُکی ہے۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے رائٹرز نے ریاستی میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کہا ہے کہ شہبازی نے اسماعیل فکری کے ساتھ کام کیا تھا، جنھیں جون میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

    شہبازی پر الزام تھا کہ وہ کولنگ ڈیوائسز نصب کرنے والے ٹھیکیدار کی حیثیت سے اپنی پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے حساس مقامات جیسے سرور رومز اور فوجی و سکیورٹی اداروں سے منسلک مراکز سے اسرائیل کے لیے معلومات اکٹھی کرتے تھے۔

  9. اسرائیل کے غزہ شہر پر قبضے کے لیے شدید حملے جاری، 24 گھنٹوں کے دوران 59 افراد ہلاک 386 زخمی

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں اپنی زمینی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ یہ غزہ کا وہ علاقہ ہے کہ جہاں منگل کے روز سے اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل اور شدید بمباری کی جا رہی ہے۔

    غزہ کی حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 59 افراد ہلاک اور کم از کم 386 زخمی ہوئے۔ وزارت کے مطابق تین افراد قحط اور غذائی قلت کے باعث ہلاک ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

    غزہ شہر پر اسرائیل فوجی کی اس کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ وہ پٹی کے سب سے بڑے شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کرے، جسے وہ حماس کا آخری گڑھ سمجھتا ہے۔

    اسرائیلی فوجی دستے اب شہر کی سرحدوں پر آ گئے ہیں۔ غزہ پر قبضہ کرنے کا یہ اسرائیل کا طویل عرصے سے ایک منصوبہ تھا جس پر اب باقاعدہ عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    دوسری طرف اقوام متحدہ کے ایک انکوائری کمیشن نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق غزہ شہر، جو پٹی کا سب سے بڑا شہر ہے شدید اور بھاری شیلنگ کا نشانہ بنا ہے۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے ’غزہ شہر‘ پر اس کارروائی کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے اندازے کے مطابق شہر میں اب بھی 2000 سے 3000 کے درمیان حماس کے جنگجو موجود ہیں۔

    دوسری جانب، کینیڈا کی وزارتِ خارجہ نے غزہ شہر پر اسرائیل کے نئے زمینی حملے کو ’خوفناک‘ قرار دیا۔ کینیڈا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میس کہا کہ ’اسرائیل کی یہ حالیہ کارروائی انسانی بحران کو مزید سنگین کرنے اور یرغمالیوں کی رہائی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی حکومت کو بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے غزہ شہر پر اس کارروائی کو حماس کے خلاف ’فیصلہ کُن مرحلے‘ کے آغاز کے طور پر بیان کیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین کے مشیر عدنان ابو حسنہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو 35 مربع کلومیٹر سے کم رقبے میں زبردستی دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تقریباً 20 لاکھ افراد کو ایک چھوٹے سے علاقے میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

    تاہم اسرائیلی فوج کا اندازہ ہے کہ فوجی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک تین لاکھ 70 ہزار سے زیادہ لوگ غزہ شہر چھوڑ چکے ہیں اور انخلا کی رفتار مسلسل تیز ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب بھی شہر کے اندر چھ لاکھ سے زائد فلسطینی موجود ہیں۔

  10. دوحہ پر حملہ جائز تھا، کیونکہ قطر حماس کو پناہ اور مدد فراہم کرتا ہے: نیتن یاہو

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے دوحہ کے مرکز میں حماس کے رہنماؤں پر حملہ ’جائز‘ تھا کیونکہ قطر کے حماس کے ساتھ تعلقات ہیں۔

    نیتن یاہو نے منگل، 16 ستمبر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’قطر حماس سے رابطے میں ہے، وہ حماس کو پناہ دیتا ہے، اسے مالی مدد اور معاونت فراہم کرتا ہے۔ سطر کے پاس حماس پر دباؤ ڈالنے کی طاقت تھی (جو وہ استعمال کر سکتا تھا) مگر اس نے ایسا نہ کیا۔ لہٰذا ہم نے جو کیا وہ بالکل جائز تھا۔‘

    دوحہ میں حماس رہنماؤں پر اسرائیلی فوج کا فضائی حملہ قطر پر براہِ راست پہلا حملہ ہے جو امریکا کا قریبی اتحادی ہے، اسرائیلی فوج کی اس کارروائی پر دنیا بھر سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

    پیر کے روز عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے قطر میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا اور اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک بیان میں دیگر دُنیا کے مُمالک پر زور دیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی تعلقات پر نظرِ ثانی کریں۔

    قطر کے امیر، تمیم بن حمد آلثانی نے بھی اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر تنقید کی اور کہا کہ ’اسرائیل عرب دنیا کو اپنے اثر و رسوخ کے تحت لانا چاہتا ہے۔‘

    قطری امیر نے کہا کہ گزشتہ ہفتے دوحہ پر اسرائیلی حملے کا مقصد ’غزہ سے متعلق مذاکرات کو بند گلی کی جانب دھکیلنا‘ تھا۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واضح رہے کہ منگل 9 ستمبر کو اسرائیلی فوج نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں پر حملہ کیا تھا۔

    تاہم اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے انھیں اس حملے کے بارے میں تقریباً اُسی وقت اطلاع دی جب وہ اس پر عمل کرنے والے تھے اور اسی وجہ سے وہ قطری حکام کو آگاہ نہیں کر سکے۔ تاہم ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ انہیں پورا اعتماد ہے کہ ایسا حملہ دوبارہ نہیں ہوگا۔

  11. انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو سے متعلق بیان پر محمد یوسف کی وضاحت: ’میرا مقصد کسی کھلاڑی کی بے عزتی کرنا نہیں تھا‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سابق کوچ محمد یوسف نے ایک نجی ٹی وی چینل پر انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو کا نام غلط لینے پر وضاحت کی ہے۔

    ایک پر اپنے ایک بیان میں محمد یوسف نے انڈیا کے کپتان سوریا کمار یادیو سے متعلق بیان پر کہا کہ ’میرا مقصد کسی کھلاڑی کی بے عزتی کرنا نہیں تھا جو اپنے ملک کے لیے جذبے سے کھیلتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں محمد یوسف نے سوریا کمار یادیو کا نام غلط لے لیا تھا جس کے بعد سے انھیں سوشل میڈیا پر ٹرول کیا جارہا تھا۔

    محمد یوسف ایشیا کپ کے حوالے سے نجی ٹی وی پر ٹیم کی کارکردگی پر تبصرہ کررہے تھے۔

    انھوں نے ایکس پر اپبے بیان میں مزید یہ بھی کہا کہ ’انڈین میڈیا اور لوگ اُس وقت عرفان پٹھان کی تعریف کیوں کررہے تھے جب انھوں نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی پر تنقید کی تھی؟ کیا اسے ہر اس شخص کو مسترد نہیں کرنا چاہیے تھا جو عزت اور احترام کی بات کرتا ہے۔‘

  12. ٹرمپ اور مودی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ انھیں اپنی 75ویں سالگرہ کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فون کال موصول ہوئی ہے۔

    ایکس پر پیغام میں مودی نے کہا کہ ’آپ (ٹرمپ) کی طرح میں بھی انڈیا اور امریکہ کی مفصل اور عالمی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ہم یوکرین تنازع کے پُرامن حل کے لیے آپ کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔‘

  13. کیچ میں 22 کروڑ روپے کی ڈکیتی: ’یہ رقم بینکوں کی تھی جو کراچی منتقل کی جا رہی تھی‘, محمد کاظم/بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ میں 22 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی ڈکیتی ہوئی ہے۔ سرکاری حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ منگل کے روز ایم ایٹ شاہراہ پر دشت کُھڈان کے علاقے میں پیش آیا۔

    اس واقعے کے حوالے سے جب دشت کھڈان میں لیویز فورس کے ایس ایچ او الہٰی بخش سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم تربت سے نجی کمپنی کی دو گاڑیوں میں منتقل کی جا رہی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم دو نجی بینکوں کی تھی اور جب نجی سکیورٹی کمپنی کی دونوں گاڑیاں دشت کُھڈان کے علاقے میں پہنچیں تو مسلح افراد ان سے یہ رقم چھین کر لے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نجی کمپنی کے اہلکاروں نے بتایا کہ مسلح افراد ’دو ڈبل ڈور گاڑیوں میں تھے اور ان کی تعداد 12 سے زیادہ تھی۔‘

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نجی سکیورٹی کمپنی کی دونوں گاڑیوں میں آٹھ سکیورٹی اہلکار بھی تھے لیکن ان کے پاس پستول اور اس نوعیت کے چھوٹے ہتھیار تھے جس کی وجہ سے مسلح افراد ’آسانی سے ان پر قابو پا کر یہ رقم چھین کر فرار ہوگئے۔‘

    ضلع کیچ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس واقعے کے بارے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بینکوں اور سکیورٹی کمپنی کی جانب سے یہی بتایا جا رہا ہے کہ لوٹی جانے والی رقم 22 کروڑ روپے سے زیادہ تھی جو کہ تربت سے کراچی منتقل کی جا رہی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس رقم میں سے 14 کروڑ 55 لاکھ روپے ایک نجی بینک جبکہ سات کروڑ سے زیادہ رقم دوسرے نجی بینک کی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ اس قدر بڑی رقم کے لیے سکیورٹی مناسب نہیں تھی اور انتظامیہ کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

    تاہم سکیورٹی کمپنی کے ایک اہلکار کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی ایس او پیز کے مطابق تھی اور رقم کی منتقلی کے لیے دو گاڑیاں استعمال کی جا رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطیر رقم کی منتقلی ان کے لیے معمول کی بات ہے اس لیے اضافی سکیورٹی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی تھی۔

    ان کا کہنا تھا کہ روڈ کی بندش کی وجہ سے وہ دو سے ڈھائی گھنٹے تک پھنسے رہے تھے۔ ’اگر شاہراہ بند نہ ہوتی تو گاڑیاں ڈکیتی سے پہلے نکل جاتیں۔‘

    خیال رہے کہ ضلع کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ مسلح شورش سے متاثر ہیں۔

  14. اسرائیل کا غزہ شہر پر زمینی حملہ: ’یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے‘، اقوام متحدہ

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    اسرائیل نے غزہ شہر پر بڑی زمینی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے رات بھر شدید فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوجی دستے اب شہر کی سرحدوں پر آ گئے ہیں۔ غزہ پر قبضہ کرنے کا یہ اسرائیل کا طویل عرصے سے ایک منصوبہ تھا جس پر اب باقاعدہ عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    ہزاروں فلسطینیوں کو اب یہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور وہ ایک ہی ساحلی سڑک سے یہاں سے نکل رہے ہیں۔ یوں اب وہ بھی یہاں سے نکل جانے والے لاکھوں فلسطینی ہم وطنوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کے ’آخری بڑے گڑھ‘ کے خلاف ’طاقتور آپریشن‘ شروع کیا گیا ہے لیکن اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری طرف اقوام متحدہ کے ایک انکوائری کمیشن نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔

    فلسطینی شہری بڑی بڑی قطاروں میں گدھا گاڑیوں، رکشوں اور سامان سے لدی ہوئی گاڑیوں میں جنوب کی طرف بھاگتے ہوئے یا پیدل چلتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا اندازہ ہے کہ 350،000 افراد پہلے ہی غزہ شہر چھوڑ چکے ہیں حالانکہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے زیادہ تعداد باقی ہے۔

    بہت سے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ جنوب کی طرف جانے کے متحمل نہیں ہو سکتے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ جنوبی اور وسطی غزہ بھی تو محفوظ نہیں ہیں کیونکہ اسرائیل نے وہاں بھی فضائی حملے کیے ہیں۔

    کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ انھوں نے جنوب کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن اپنے خیمے لگانے کے لیے جگہ نہیں ملی، لہٰذا وہ غزہ شہر واپس آ گئے ہیں۔

    شہر ایک رہائشی شیخ رضوان کے محلے سے تعلق رکھنے والی تین بچوں کی ماں 32 سالہ لینا المغریبی نے بتایا کہ ’مجھے بے گھر ہونے اور ایک خیمے کی لاگت کو پورا کرنے کے لیے اپنے زیورات بیچنے پر مجبور کیا گیا تھا۔‘

    ان کے مطابق خان یونس پہنچنے میں ہمیں دس گھنٹے لگے اور ہم نے سواری کے لیے 3500 شیکل ادا کیے۔ کاروں اور ٹرکوں کی قطار نہ ختم ہونے والی لگ رہی تھیں۔

    غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 59 افراد ہلاک اور کم از کم 386 زخمی ہوئے ہیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ قحط اور غذائی قلت کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایکس پر لکھا کہ ’غزہ جل رہا ہے۔‘

    آئی ڈی ایف کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ زمینی دستے شہر کے اندر داخل ہو رہے ہیں اور شہر میں حماس کے تین ہزار جنگجو موجود ہیں۔

  15. اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹانے کا حکم، میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کی تعیناتی غیرشفاف قرار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    Major Gen Retd Hafeezur Rehman

    ،تصویر کا ذریعہPTA

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

    عدالت نے پی ٹی اے میں سینیئر ممبر کو چیئرمین پی ٹی اے کا عارضی چارج دینے کی ہدائت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو شفاف عملے کے ذریعے پی ٹی اے کا نیا چیئرمین تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اسامہ خلجی کی درخواست منظور کرنے کا 99 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے کا چارج فوری چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے عدالتی فیصلے کی نقل سیکریٹری کابینہ اور پی ٹی اے ممبرز کو بھجوانے کی بھی ہدائت کر دی ہیں۔

    عدالت نے لکھا کہ چیئرمین پی ٹی اے کی تعیناتی قانونی طور پر درست نہیں ہوئی لہٰذا چیئرمین پی ٹی اے کو عہدے سے ہٹایا جاتا ہے۔

    عدالت نے کہا حکومت کی جانب سے نئے چیئرمین کی تعیناتی تک پی ٹی اے کے سینیئر ممبر عارضی طور پر چیئرمین پی ٹی اے کی ذمہ داریاں نبھائیں۔

    عدالت نے گذشتہ سماعت پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت چیئرمین پی ٹی اے کی تعیناتی کے عمل کا ریکارڈ جمع کرانا چاہے تو کروا سکتی ہے کہ پی ٹی اے ممبرز میں سے چیئرمین کو کیسے منتخب کیا گیا۔

  16. جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روک دیا گیا، ’یہ سیاہ ترین دن ہے‘, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    IHC

    ،تصویر کا ذریعہX/Social Media

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے ہی ایک ساتھی جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی امور کی انجام دہی سے روک دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں اسلام آباد کے دو رکنی بینچ نے یہ حکم جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہونے سے متعلق درحواست کی سماعت کے دوران سنایا۔

    اسلام آباد بار کونسل نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصلے کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے اور اس دن کو عدلیہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا ہے۔

    بار کونسل کے رکن علیم عباسی ایڈووکیٹ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک جج ساتھی جج کو کام سے روک دے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چونکہ مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہے اور ان کے خلاف اس ضمن میں ریفرنس بھی دائر کیا گیا ہے اس لیے جب تک سپریم جوڈیشل کونسل اس ریفرنس کا فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک جسٹس طارق محمود جہانگیری کسی مقدمے کی سماعت نہیں کرسکتے۔

    اس عدالتی حکم کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کا ڈیوٹی روسٹر جاری کردیا گیا ہے اور اس روسٹر کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری کا نام تمام بینچز سے نکال دیا گیا ہے۔

    علیم عباسی ایڈووکیٹ کے مطابق آئین اور قانون کے مطابق جج کے کنڈکٹ کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہی دیکھ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ غلط روایت ڈالی جا رہی ہے کہ ججز ایک دوسرے کے خلاف فیصلے کریں۔

    علیم عباسی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے عدالت میں کہا کہ ہمیں سنیں، مگر بعد میں گھر پہنچتے ہی معلوم ہوا کہ حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلے دباؤ اور ٹیلی فون پر کیے جا رہے ہیں۔ اگر آج یہ سلسلہ شروع ہوگیا تو کل ہر جج دوسرے کو کام سے روکنے لگے گا۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر از خود نوٹس لے اور جسٹس جہانگیری کو کام سے روکنے کا حکم معطل کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے دو فیصلے موجود ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہی کسی جج کو ہٹایا جا سکتا ہے، اس کے بغیر نہیں۔

    بار کونسل نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آج اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹ میں مکمل ہڑتال ہوگی۔ جنرل باڈی اجلاس کے بعد وکلا ریلی بھی نکالیں گے۔

    علیم عباسی نے کہا کہ ’اگر آج پشاور ہائی کورٹ کہے کہ جسٹس ڈوگر کام نہیں کرسکتے تو کیا یہی طریقہ اپنایا جائے گا؟ یہ جنگل کا قانون نافذ کرنے کے مترادف ہے۔‘

    اسلام آباد بار کونسل نے واضح کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ تسلیم کیا جائے گا، تاہم ایک جج کا دوسرے جج کو کام سے روکنے کا اقدام غیر آئینی اور عدلیہ کی تاریخ پر بدنما داغ ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس معاملے میں دو عدالتی معاونین بھی مقرر کیے ہیں۔ جن میں سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف اور بیرسٹر ظفر اللہ شامل ہیں۔ اس مقدمے میں عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے۔

    درخوست گزار میاں داؤد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے سابق جج سجاد علی شاہ کی تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کا فیصلے کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل تو کارروائی کرسکتی ہے لیکن اس کے خلاف آئین کے ارٹیکل 199 کے تحت درخواست دائر کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اس درخواست پر اعتراض لگایا گیا تھا جوکہ منگل کے روزاس عدالتی کارروائی کے دوران یہ اعتراض ختم کردیا گیا۔

    واضح رہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس چھے ججز میں شامل تھے جنھوں نے سنیارٹی کے معاملے پر جسٹس سرفراز ڈوگر کو لاہور ہائی کورٹ سے اور دیگر دو ججز کو بلوچستان اور سندھ ہائی کورٹ سے لانے کی مخالفت کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اس درخواست کو کثرت رائے سے مسترد کردیا تھا تاہم اس فیصلے کے خلاف ان ججز نے نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کے خلاف درخواست میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کراچی کے جس کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے وہ جعلی ہے۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل بھی رہ چکے ہیں۔

    ادھر ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے رویے کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کے دوران نہ صرف ان کی تضحیک کی بلکہ انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔ ایمان مزاری نے کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف بھی اس معاملے کو دیکھنے والی کمیٹی کو چیف جسٹس کے اس رویے کے خلاف درخواست دی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رضامندی سے ہی تین ججز پر مشتمل کمیٹی قائم کی گئی تھی اور اس تین رکنی کمیٹی میں جسٹس اعجاز اسحاق، جسٹس سردار ارباب طاہر اور جسٹس رفعت سمن شامل ہیں۔

    بعدازاں چیف جسٹس کی منظوری سے ہی کمیٹی کو تبدیل کردیا گیا ا ور جسٹس انعام امین منہاس کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کردیا ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد کے ایک وکیل عدنان اقبال نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری کا لائسنس منسوخ کرنے کے لیے اسلام آباد بار کونسل میں درخواست دایر کی ہے۔

    اس درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایمان مزاری نہ صرف مختلف اداروں میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی تضحیک کرتی ہیں بلکہ ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا لٰہذا ان کا بطور وکیل لائسنس منسوخ کیا جائے۔

  17. سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ملک میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آج مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق جولائی اور اگست میں مہنگائی معتدل رہی۔ قوزی مہنگائی (کور انفلیشن) سست روی سے کم ہورہی ہے۔ جب کہ بڑی صنعتوں کی نمو سے معاشی سرگرمیاں تیز ہونے کا اشارہ مل رہا ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق سیلاب سے معاشی منظرنامہ معمولی خراب ہوا ہے اور سپلائی جزوی متاثر ہوئی ہے، بینک کے مطابق سپلائی متاثر ہونے سے آئندہ مالی سال کی مہنگائی اور کرنٹ اکاونٹ کی توقعات پر اثر پڑے گا اور معاشی نمو سابقہ اندازوں سے معتدل رہ سکتی ہے۔

    بینک نے کہا بدلتے منظرنامے اور سیلاب سے جڑی بے یقینی کے سبب شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بینک کے مطابق پالیسی کمیٹی سمجھتی ہے کہ معیشت سیلاب کی منفی اثرات برداشت کرلے گی۔

    بینک نے کہا کم مہنگائی، معتدل بڑھ رہی طلب اور عالمی اجناس کی موافق قیمتوں کے سبب معیشت پر بیرونی دباؤ کم رہے گا۔ ’اس کے مطابق ہم آہنگ مانیٹری اور اقتصادی پالیسیوں سے بیرونی اور اقتصادی بفرز بڑھانے کی پالیسیوں کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔‘

    بینک کا کہنا ہے زرمبادلہ ذخائر قرض ادائیگیوں اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باوجود مستحکم ہیں۔ بینک کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں مہنگائی پانچ سے سات فیصد کے ہدف سے زیادہ رہے گی۔

    آئندہ مالی سال میں مہنگائی دوبارہ پانچ سے سات فیصد کے ہدف میں واپس آئے گی۔

  18. اسرائیل پر فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام: تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    منگل کے روز شائع ہونے والی اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے پاس واضح شواہد ہیں کہ 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بین الاقوامی قانون میں بیان کردہ نسل کشی کے پانچ میں سے چار اقدامات کا مرتکب ہوا ہے۔

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

    اس کمیشن کے تین رکنی پینل کی سربراہی جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سابق سربراہ نوی پلے کر رہی ہیں۔ وہ اس سے قبل روانڈا میں ہونے والی نسل کشی پر بنے بین الاقوامی ٹریبونل کی صدر رہ چکی ہیں۔

    کمیشن کی تازہ ترین رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور اسرائیلی فورسز نے 1948 کے نسل کشی کنونشن کے تحت غزہ میں نسل کشی کے پانچ اقدامات میں سے چار کا ارتکاب کیا ہے۔

    مخصوص گروہ کے افراد کا قتل:

    ایسی چیزیں جنھیں بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہے ان پر حملہ کرکے گروہ کے ارکان کو قتل کیا؛ شہریوں اور دیگر افراد جنھیں تحفظ حاصل ہے انھیں نشانہ بنایا؛ اور جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے جو موت کا سبب بنے۔

    مخصوص گروہ کے افراد کو شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچانا:

    شہریوں اور ایسی اشیا جنھیں تحفظ حاصل ہے ان پر براہ راست حملے کر کے مخصوص گروپ کے ارکان کو شدید جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچایا؛ قیدیوں کے ساتھ شدید ناروا سلوک؛ جبری نقل مکانی؛ اور ماحولیاتی تباہی کا ارتکاب کیا۔

    جان بوجھ کر کسی گروپ کو تباہ کرنے کے لیے حالات پیدا کرنا:

    ضروری انفراسٹرکچر اور زمین کو تباہ کر کے؛ تباہی اور طبی خدمات تک رسائی سے روک کر؛ جبری نقل مکانی؛ ضروری امداد، پانی، بجلی اور ایندھن کو فلسطینیوں تک پہنچنے سے روک کر؛ تولیدی تشدد؛ اور بچوں کو متاثر کرنے والے مخصوص حالات پیدا کر کے ایسے حالات پیدا کیے گئے جس سے فلسطینیوں کی تباہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    بچوں کی پیدائش میں خلل

    دسمبر 2023 میں غزہ کے سب سے بڑے فرٹیلٹی کلینک پر حملہ کر کے بچوں کی پیدائش میں خلل ڈالا گیا۔ اس حملے میں مبینہ طور پر تقریباً 4,000 ایمبریو اور 1,000 سپرم کے نمونے اور غیر زرخیز انڈوں کو تباہ ہوئے تھے۔

    جینیوا کنونشن کے تحت کسی کو بھی عمل کو نسل کشی قرار دینے کے لیے یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ مجرم نے یہ سارے اقدامات نسل کشی کے ارادے سے کیے ہیں۔

    کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے اس مقصد کے لیے اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات کا جائزہ لیا۔ کمیشن کا لزام ہے کہ اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ، وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے نسل کشی کے لیے اکسایا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز کے طرز عمل سے جو واحد معقول نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کا ارادہ نسل کشی کا ہی تھا۔

    کمیشن کا کہنا ہے کہ اس طرز عمل میں بھاری گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کی غیر معمولی تعداد کو جان بوجھ کر قتل کرنا اور انھیں شدید نقصان پہنچانا شامل ہے۔ مذہبی، ثقافتی اور تعلیمی مقامات پر منظم اور بڑے پیمانے پر حملے؛ اور غزہ کا محاصرہ کر کے اس کی آبادی کو بھوکا مارنا شامل ہے۔

  19. اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے: اقوام متحدہ کا تحقیقاتی کمیشن

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی ہے۔

    تحقیقاتی کمیشن کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے پاس واضح شواہد ہیں کہ 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیل بین الاقوامی قانون میں بیان کردہ نسل کشی کے پانچ میں سے چار اقدامات کا مرتکب ہوا ہے۔ اسرائیل کو نسل کشی کے جن اقدامات کا مرتکب پایا گیا ہے ان میں کسی مخصوص گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل، انھیں شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچانا، جان بوجھ کر کسی گروپ کو تباہ کرنے کے لیے حالات پیدا کرنا، اور بچوں کی پیدائش کو روکنا شامل ہے۔

    رپورٹ میں نسل کشی کے ارادے کو ثابت کرنے لیے اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات اور اسرائیلی افواج کے طرز عمل کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 64,905 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    غزہ کی زیادہ تر آبادی متعدد بار بے گھر ہوچکی ہے جبکہ اندازے کے مطابق، 90 فیصد سے زیادہ گھر یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔ صحت کی سہولیات، پانی، صفائی اور حفظان صحت کے نظام تباہ ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ فوڈ سکیورٹی ماہرین اعلان کر چکے ہیں کہ غزہ شہر قحط کا شکار ہے۔

    اسرائیل کی وزارت خارجہ اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’مسخ شدہ اور جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔

    اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے کمیشن میں شامل تینوں ماہرین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’حماس کی پراکسی‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور انھوں نے رپورٹ کے لیے ’مکمل طور پر حماس کے جھوٹ‘ پر انحصار کیا ہے۔

  20. ٹک ٹاک کی ملکیت کے معاہدے پر چین کے ساتھ ’فریم ورک‘ طے ہو گیا ہے: امریکہ

    ٹک ٹاک

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے امریکہ میں کام کرنے کے متعلق چین سے ’فریم ورک‘ پر اتفاق ہو گیا ہے جس کے بعد اس اپلیکیشن کی امریکی ملکیت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    پیر کے روز امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ یہ فریم ورک سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ہونے والے مذاکرات میں طے پایا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ جمعے کے روز اس معاہدے کو ’مکمل‘ کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ مذاکرات ’بہت اچھے ہوئے ہیں۔‘

    چین کی جانب سے بھی ایک فریم ورک معاہدے کی تصدیق کی گئی ہے تاہم بیجنگ کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کے مفادات کی قیمت پر کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔

    ٹک ٹاک کی مالک چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کے پاس بدھ تک کا وقت ہے کہ اگر وہ امریکہ میں کام جاری رکھنا چاہتے ہیں تو انھیں ٹک ٹاک کے لیے خریدار تلاش کرنا ہو گا بصورتِ دیگر قومی سلامتی کے خدشات کی بنا پر امریکہ میں اس پر پابندی لگا دی جائے گی۔

    ٹک ٹاک کی فروخت کی ڈیڈ لائں پہلے ہی تین بار بڑھائی جا چکی ہے۔

    بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نے پیر کو خبر دی تھی کہ اگر واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اوریکل ان کمپنیوں کے گروپ میں شامل ہے جو امریکہ میں ٹک ٹاک آپریشنز کو جاری رکھنے میں مدد دیں گی۔

    بی بی سی نے اس متعلق مزید جاننے کے لیے اوریکل، ٹک ٹاک، وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن ڈی سی میں چینی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔