40 لاکھ صارفین کی خفیہ نگرانی کی صلاحیت کے حامل نظام کا انچارج کون ہے، حکومت چھ ہفتے میں رپورٹ دے: اسلام آباد ہائیکورٹ

سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے 29 صفحات کا تفصیلی حکم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نگرانی کے لیے شہریوں کی ٹیلیفون کالز کی ریکارڈنگز بادی النظر میں قانونا درست نہیں اور توقع ہے وزیر اعظم خفیہ اداروں سے رپورٹس طلب کر کے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے

خلاصہ

  • بشری بی بی آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے 29 صفحات کا تفصیلی حکم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے 40 لاکھ صارفین کی خفیہ نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نظام کا انچارج کون ہے؟حکومت چھ ہفتے میں رپورٹ دے
  • وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریٹیلرز پر ٹیکس یکم جولائی سے لگ جائے گا۔ لوگ نئے ٹیکسز کی وجہ سے دباو محسوس کر رہے ہیں
  • صدر آصف علی زرداری نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے فنانس بل 25-2024 کی توثیق کر دی ہے جس کے بعد اب مالیاتی بل یکم جولائی سے نافذ العمل ہو جائے گا
  • لاہور ہائیکورٹ نے انسداد دہشت گردی کے جج کو ہراساں کرنے کے معاملے میں چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں عدلیہ میں سول و ملٹری ایجنسیوں کی مداخلت روکنے کے لیے ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں
  • افغان وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر کا افغانستان کی قومی خودمختاری کی ممکنہ خلاف ورزی سے متعلق بیان بد اعتمادی پیدا کرسکتا ہے اور یہ کسی کے حق میں نہیں

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بالترتیب سات اور ساڑھے نو روپے سے زیادہ اضافہ

    نوٹیفیکیشن

    ،تصویر کا ذریعہMINISTRY OF FINANCE

    پاکستان کی حکومت نے یکم جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں سات روپے 45 پیسے اضافہ کا کیا گیا ہے جس کے بعد اب پیٹرول کی نئی قیمت 265 روپے 61 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی نو روپے 56 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ایسے ڈیزل کی نئی قیمت 277 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    جون کے مہینے میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت بھی سوا پانچ روپے کے قریب کم ہوئی تھی تاہم یکم جولائی سے اس قیمت میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں منظور ہونے والے سالانہ بجٹ میں پیٹرول پر عائد لیوی میں دس روپے فی لیٹر کا اضافہ بھی منظور کیا گیا ہے تاہم وزارتِ خزانہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ یکم جولائی سے ہونے والے اضافے میں اس لیوی کی مد میں اضافہ شامل ہے یا نہیں۔

    اس اضافے سے قبل حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 80 روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ اگرچہ تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس لاگو نہیں تاہم پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر 60 روپے فی لیٹر پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی وصول کی جا رہی ہے جسے موجودہ مالی سال میں بڑھا کر 70 روپے کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

  2. 40 لاکھ صارفین کی خفیہ نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھنے والے نظام کا انچارج کون ہے؟حکومت چھ ہفتے میں رپورٹ دے: اسلام آباد ہائیکورٹ

    بابر ستار

    ،تصویر کا ذریعہISLAMABAD HIGH COURT

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی آڈیو لیکس کیس میں جسٹس بابر ستار نے 29 صفحات کا تفصیلی حکم نامہ جاری کیا ہے۔

    حکم نامے میں وفاقی حکومت سے استفسار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت رپورٹ دے کہ ’ لا فل انٹرسپشن مینجمنٹ سسٹم لگانے کا ذمہ دار اورانچارج کون ہے جو شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نگرانی کے لیے شہریوں کی ٹیلیفون کالز کی ریکارڈنگز بادی النظر میں قانونا درست نہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم نامے کے مطابق ٹیلی کام کمپنیز آئندہ سماعت تک یقینی بنائیں کہ نگرانی کے نظام تک رسائی نا ہو۔

    تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے سامنے یہ سوال بھی ہے کہ آیا ملک میں غیر قانونی نگرانی کی جا رہی ہے یا نہیں؟ اور اگر ایسا کیا جا رہا ہے تو ایسی غیر قانونی کارروائی کا ذمہ دار کون ہے؟

    عدالت کے مطابق تقریباً 40 لاکھ موبائل صارفین کی ایک وقت میں کال اور ایس ایم ایس تک رسائی کی جا رہی ہے، موبائل کمپنیوں نے شہریوں کے دو فیصد ڈیٹا تک جو رسائی کا سسٹم لگا کر دے رکھا ہے، بادی النظر میں قانوناً درست نہیں۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دو فیصد ڈیٹا تک رسائی کے سسٹم کو کون استعمال کر رہا ہے اس حوالے سے عدالت کو نہیں بتایا گیا۔ توقع ہے وزیر اعظم خفیہ اداروں سے رپورٹس طلب کر کے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے۔

    یاد رہے کہ آٹھ دسمبر2022 کو مبینہ طور پر پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آڈیو لیک ہوئی تھی۔

    21 سیکنڈ پر مشتمل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو میں زلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کو گھڑیوں کے بارے میں بات چیت کرتے سنا گیا۔

    بشری بی بی نے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی ذاتی آڈیو کال کو میڈیا پر توڑ مروڑ کر پیش اور پبلک کیا گیا جس کا مقصد انھیں ہراساں کرنا اور خاندانی زندگی پر منفی اثرات ڈالنا تھا۔

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’جو گفتگو ریکارڈ کی گئی اور سوشل میڈیا پر لیک ہوئی ان کا قومی سلامتی سے کوئی تعلق نہیں۔‘

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی اے عدالت کو بتا چکے کہ کسی ایجنسی کو سرویلنس کی اجازت نہیں دی، لا فل انٹرسپٹ مینجمنٹ سسٹم کے حوالے سے غلط بیانی پر پی ٹی اے چیئرمین اور ممبران کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جائے۔

    عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ بادی النظر میں وزرائے اعظم ، سیاسی لیڈران ، ججوں اور ان کی فیملی ، بزنس مینوں کی آڈیو ریکارڈنگ سرویلنس کا میکنزم موجود ہے، بادی النظر میں آڈیو ریکارڈنگ کر بعد مخصوص سوشل اکاؤنٹس پر پھر مین سٹریم میڈیا پر آتی ہے۔

    بشری بی بی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    ،تصویر کا کیپشنسابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آڈیو لیک ہوئی تھی

    عدالت نے حکم نامے میں کہا ہے کہ ٹیلی کام آپریٹرز اور پی ٹی اے کے درمیان خط و کتابت کی تفصیل پی ٹی اے سربمہر لفافے میں جمع کرائی جبکہ ٹیلی کام کمپنیز بھی پی ٹی اے کے ساتھ سسٹم لگانے کی سر بمہررپورٹ جمع کرائیں۔

    عدالت نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیزآئندہ سماعت تک سی ڈی آر، لائیو لوکیشن وزارت داخلہ کے ایس او پیز کے مطابق شئیر کریں۔

    حکم نامے کے مطابق شہریوں کی موبائل فون کالز ریکارڈ کرنے کا سسٹم اتنا جدید اور خودکار ہے کہ ٹیلی کام آپریٹر کو بھی نہیں پتہ چلتا کہ ان کے کس صارف کی گفتگو سنی یا ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ٹیلی کام صارفین کی کل تعداد کے دو فیصد کی ہر وقت سرویلنس کی جا سکتی ہے۔

    حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ چیمبر میں کچھ دستاویزات دکھانا چاہتے ہیں تاہم چیمبر سماعت کی استدعا مسترد کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ توقع ہے وزیراعظم خفیہ اداروں سے رپورٹس طلب کر کے معاملہ کابینہ کے سامنے رکھیں گے۔

    حکم نامے کے مطابق ’وفاقی حکومت چھ ہفتے میں بتائے کون شہریوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرتا ہے اور پھر سوشل میڈیا پر ڈیٹا لیک کرتا ہے۔ ذمہ داروں کا تعین کر کے عدالت کو آگاہ کیا جائِے۔‘

    ’بادی النظر میں وزرااعظم، سیاسی لیڈرز، ججز، ان کی فیملیز، بزنس مینوں کی آڈیو ریکارڈنگ سرویلنس کا میکنزم موجود ہے، بادی النظر میں آڈیو ریکارڈنگ کے بعد مخصوص سوشل اکاؤنٹس پر پھر مین سٹریم میڈیا پر لائی جاتی ہے۔‘

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ تقریبا ًچالیس لاکھ موبائل صارفین کی ایک وقت میں کال اور ایس ایم ایس تک رسائی ہو رہی ہے،موبائل کمپنیز نے شہریوں کے 2 فیصد ڈیٹا تک جو رسائی کا سسٹم لگا کر کے دے رکھا ہے بادی النظر میں قانوناً درست نہیں۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    عدالت کے مطابق ’ قانونی فریم ورک کی تفصیلات جو موجود ہیں اس صورت میں جب نگرانی کی جانی ہے تو یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کو راز میں رکھا جانا چاہیے۔‘

    حکم نامے میں کہا گیا کہ ’قانون کی حکمرانی کا پورا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف شہریوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلانا ہے جن کی انھیں پابندی کرنی چاہیے اور دوسری طرف ریاستی اداروں کی زمہ داری ہے کہ جس طریقے سے انھیں ریاستی اختیار استعمال کرنے کی اجازت عطا کی گئی اسے عوامی اعتماد کے ساتھ ہی استعمال کیا جانا لازم ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی مبینہ آڈیو لیک کے خلاف کیس پر سماعت کے دوران چار محکموں نے جسٹس بابر ستار سے آڈیو لیکس کیس سے علیحدہ ہونے کی درخواست کی تھی۔

    پیمرا پی ٹی اے، ایف آئی سے اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار سے آڈیو لیکس کیس سے علیحدہ ہونے کی استدعا کی تھی۔

    تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیمرا، ایف آئی اے، پی ٹی اے کی جانب سے جسٹس بابر ستار سے آڈیو لیکس کیس سے علیحدہ ہونے کی متفرق درخواستیں خارج کردیں تھیں، عدالت نے پیمرا، پی ٹی اے، ایف آئی اے کی درخواستیں پانچ پانچ لاکھ روپے کے جرمانوں کے ساتھ خارج کر دی تھیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

    مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے۔

    بشریٰ بی بی اور نجم ثاقب کی مبینہ ٹیلی فونک کالز لیک ہوگئی تھیں، جس کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی، اس حوالے سے دونوں نے عدالت میں علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کی تھیں، تاہم عدالت نے نجم ثاقب اور بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر علیحدہ علیحدہ درخواستوں کو اکٹھا کردیا تھا۔

  3. بریکنگ, بجٹ میں نان فائلرز کے لیے سزا تک موجود ہے، لوگ نئے ٹیکسز کی وجہ سے دباؤ محسوس کر رہے ہیں: وزیر خزانہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریٹیلرز پر ٹیکس یکم جولائی سے لگ جائے گا۔ لوگ نئے ٹیکسز کی وجہ سے دباو محسوس کر رہے ہیں، خواہش ہے کہ یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہو۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ ’2022 میں جو مفتاح نے ریٹیلرز پر ٹیکس کا قدم اٹھایا تھا وہ ہونا چاہیے تھا، کل تک 42 ہزار ریٹیلرز رجسٹر ہوگئے۔ ریٹیلرز پر یکم جولائی سے ٹیکس لگے گا۔ کوئی کمپنی نقصان میں جاتی ہے تو اس پر ٹیکس نہیں ہوگا۔‘

    وفاقی وزیر کے مطابق ’بجٹ کے سلسلے میں آئی ایم ایف سے مشاورت رہی ہے۔ ہم اس پروگرام کے بغیر فی الحال آگے نہیں چل سکتے اور اس بات کو ناقدین بھی مانتے ہیں۔‘

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ’پی ایس ڈی پی پر ہم نے کٹ لگایا ہے۔ پی ایس ڈی پی کے بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر جائیں گے۔ سندھ کی طرح ہمیں وفاق میں بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ لانا ہو گی۔

    وزیر خزانہ کے مطابق ملک میں معاشی استحکام آ رہا ہے اور مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آ گئی ہے۔ معاشی استحکام کے باعث بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

    محمد اورنگزیب کے مطابق ’تعمیراتی شعبے کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔ اس بجٹ میں نان فائلرز کے لیے سزا تک لے کر آئے ہیں۔ میکرو سٹیبیلیٹی اس وقت سب سے بڑا چیلینج ہے۔ ایف بی آر کا 9.3 ٹریلین کا ٹارگٹ پورا ہو جائے گا۔

    محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طویل المدتی پروگرام کرنے جا رہے ہیں۔ جولائی میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے کی امید ہے۔

    ان کے مطابق ’بجٹ کے جو اصول میں نے بتائے اس میں تین چیزیں ہیں کہ ایک تو ہم ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے جانا چاہتے ہیں اگلے تین سال میں، اسی طرح ایل این جی، پاور سیکٹر، پیٹرولیم اصلاحات انتہائی اہم ہیں، 10 کھرب روپے بہت ہیں اگر اس قسم کی لیکیج ملک میں نہ ہورہی ہو تب۔‘

    بجٹ اور مہنگائی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنوزیر حزانہ کے مطابق لوگ نئے ٹیکسز کی وجہ سے دباو محسوس کر رہے ہیں

    ’ایف بی آر میں جتنا انسانی عمل دخل کم ہو گا اتنی ہی کرپشن کم ہوگی‘

    ان کا کہنا تھا کہ جو کام ہمارا کرنے کا ہے کہ لیکجز کو، کرپشن کو، چوری کو کیسے بند کرنا ہے تو اس معاملے پر ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ٹھوس اقدامات لیے جارہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جتنے کم لوگ اس عمل میں شامل ہوں گے اتنی ہی کرپشن کم ہوگی، ایف بی آر حکام اور ٹیکس دہندہ گان دونوں چوری میں ملوث ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ملک میں معاشی استحکام آرہا ہے۔ معاشی استحکام سےغیرملکی اداروں کا اعتماد بحال ہوا، معاشی بہتری کواب پائیدارمعاشی استحکام کی طرف لےجانا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر نو ارب ڈالر ہیں۔ اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اصطلاح ہی ختم کردیں گے۔

    ہم اپنے یوٹیلیٹی بلز بھی خود دے رہے ہیں: وزیر خزانہ کا دعویٰ

    وفاقی وزیر نے دعوی کیا کہ ’وزرا نے تو تنخواہیں لینے سے انکار کیا ہے جبکہ ہم اپنے یوٹیلیٹی بلز بھی خود دے رہے ہیں، یہ علامتی چیزیں ہیں۔ ہم نے پی ایس ڈی پی کو کاٹا تاکہ پبلک اخراجات کو کم کیا جائے، پنشن بجٹ کا حصہ نہیں تھا لیکن ای سی سی میں یہ فیصلہ ہوا، یہ بھی ایک اہم ذمہ داری ہے، اس میں ہم نے اقدامات لیے ہیں۔

    وفاقی وزیر کے مطابق ’نئے مالی سال میں جانے سے پہلے کوشش تھی کہ ہم سارا بیک لاگ ختم کرسکیں۔ ایک ارب ڈالر ورلڈ بینک نے داسو کے لیے منظور کیے، آئی ایف سی نے پی ٹی سی ایل کے لیے 40 کروڑ ڈالرز منظور کیے ہیں۔‘

  4. صدر آصف علی زرداری نے فنانس بل کی منظوری دے دی

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے فنانس بل 25-2024 کی توثیق کر دی ہے۔

    ایوان صدر سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق صدر زرداری نے آئین کے آرٹیکل پچھہتر کے تحت بل کی منظوری دی۔

    مالیاتی بل یکم جولائی سے نافذ العمل ہوگا۔

    خیال رہے کہ جمعے کو کچھ ترامیم کے بعد قومی اسمبلی میں فنانس بل کی منظوری دی گئی تھی۔

    پی ڈبلیو ڈی کی تحلیل کا عمل فوری شروع کرنے کی ہدایت

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کی تحلیل اور اس کے متبادل کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔

    وزیر اعظم آفس کے مطابق شہباز شریف کو پی ڈبلیو ڈی کی تحلیل کے حوالے سے لائحہ عمل اور اس کے متبادل کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات پیش کی گئیں۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ’پی ڈبلیو ڈی کے تحت جاری منصوبوں کو متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں سے مکمل کروایا جائے گا جبکہ پی ڈبلیو ڈی کو کسی قسم کا نیا منصوبہ نہیں دیا جائے گا۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’فی الفور پی ڈبلیو دی کی تحلیل کا عمل شروع کیا جائے اور اس عمل کے دوران ملازمین کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔‘

    وزیرِاعظم کو بریفنگ میں کہا گیا کہ پی ڈبلیو ڈی کے اثاثہ جات کے انتظام کے لیے ایک ایسٹ مینجمنٹ کمپنی تشکیل دی جائے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کے اثاثہ جات کے ریکارڈ کو مکمل طور پر ڈیجیٹائیز کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات ملکی خزانے کو نقصان پہنچانے والے اداروں کا مزید بوجھ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے جاری عمل کی نگرانی میں بذات خود کروں گا۔

  5. ہرنائی سے اغوا ہونے والے سات افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے لواحقین کا بلوچستان اسمبلی کے باہر مظاہرہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    کوئٹہ میں مظاہرہ

    بلوچستان کے ضلع ہرنائی سے اغوا ہونے والے سات افراد کی بحفاظت بازیابی کے لیے ان کے رشتہ داروں نے بلوچستان اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا ہے جنھوں نے مغویوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ ان سات افراد کو 20 جون کو ضلع ہرنائی کے سیاحتی مقام شابان سے تین دیگر افراد کے ہمراہ اغوا کیا گیا تھا۔ ان افراد کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

    مظاہرہ

    مظاہرین سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میرضیاءاللہ لانگو اور وزیر برائے لائیواسٹاک بخت محمد کاکڑ نے ملاقات کی اور انھیں مغویوں کی بازیابی کے لیے یقین دہانی کرائی۔

    تنظیم کی جانب سے باقی مغویوں کی رہائی کے لیے اپنے گرفتار لوگوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی ہے اور اس کے لیے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دی گئی تھی۔

    مظاہرے میں خواتین اور بچے شریک تھے جنھوں نے ہاتھوں میں مطالبات پر مشتمل پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔

  6. وزیراعظم آفس تمام انٹیلیجنس ایجنسیوں کو کسی بھی جج یا ان کے عملے سے براہ راست رابطہ نہ کرنے کی ہدایت کرے: لاہور ہائی کورٹ

    لاہور ہائی کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہWWW.LHC.GOV.PK

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے انسداد دہشت گردی کے جج کو ہراساں کرنے کے معاملے میں چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے جاری کر دیا ہے جس میں عدلیہ میں سول و ملٹری ایجنسیوں کی مداخلت روکنے کے لیے ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم کی جانب سے گزشتہ سماعت کے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے کے مطابق انٹیلیجنس بیورو، آئی ایس آئی وزیر اعظم کے ماتحت ہیں اور ان کو ذمہ داری لینا ہوگی۔

    تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم آفس آئی ایس آئی اور آئی بی سمیت تمام سول اور ملٹری ایجنسیوں کو ہدایت جاری کریں کہ وہ مستقبل میں اعلی عدلیہ اور ماتحت عدلیہ کے کسی بھی جج یا ان کے عملے سے براہ راست رابطہ نہ کریں۔

    عدالت نے آئی جی پنجاب کو بھی ماتحت افسروں کو عدلیہ میں مداخلت سے روکنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکم نامے کے مطابق ے ٹی سی عدالتوں کی سکیورٹی کے حوالے سے اگر کوئی حفاظتی اقدامات کرنے ہیں تو متعلقہ جج سے مشاورت کی جائے۔

    فیصلے کے مطابق اے ٹی سی کے ججز اپنے موبائل میں پر کال ریکارڈ کریں، پنجاب کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں نو مئی کے کیسز کا ترجیحی بنیادوں پر فیصلہ کریں۔

    جسٹس شاہد کریم نے حنا حفیظ اللہ کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے اے ٹی سی جج سرگودھا کے معاملے پر عدالتی عملے کو تفتیش میں مکمل تعاون کرنے کا بھی حکم دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ تفتیشی عدالتی عملے سے تفتیش کی ویڈیو ریکارڈ کر کے ہائیکورٹ کو فراہم کرے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کوآٹھ جولائی تک عمل درآمد رپورٹ جمع کرانےکا حکم دیا ہے۔

  7. ’مذہبی عقائد مجروح‘ کرنے کا الزام: پاکپتن میں واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج

    واٹس ایپ گروپ، پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع پاکپتن میں پولیس نے ایک واٹس ایپ گروپ میں توہین آمیز مواد شیئر کرنے اور لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں گروپ ایڈمن سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    بی بی سی اردو کو دستیاب ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ 26 جون کو عارفوالہ سٹی تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے کے مدعی کے مطابق واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیے گئے مواد کے سبب ان کے ’مذہبی عقائد مجروح‘ ہوئے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن سمیت پانچ افراد نے ’شہر میں شر پھیلانے اور پُرامن فضا کو خراب کرنے کی سازش کی ہے۔‘

    یہ مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 اے کے تحت درج کی گئی ہے۔

    عارفوالہ سٹی تھانے کے ایس ایچ او نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پولیس نے واٹس ایپ گروپ میں ’توہین آمیز مواد‘ شیئر کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور انھیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ گروپ کے ایڈمن کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں، تاہم انھیں ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

    ایسے مقدمات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرِ قانون اسد جمال کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں کسی گروپ کے ایڈمن پر یہ الزام لگ سکتا ہے کہ ’اُسے کہا گیا ہو کہ آپ یہ مواد ڈیلیٹ کریں کیونکہ یہ واضح طور پر پاکستان کے قوانین کے خلاف ہے لیکن انھوں نے ایسا نہ کیا ہو، اس صورت میں ان کے خلاف سہولت کاری کے الزام میں مقدمہ درج ہوسکتا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ایسا صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے جب گروپ ایڈمن کے علم میں یہ بات لائی گئی ہو اور انھوں نے جان بوجھ کر اس (توہین آمیز) مواد کو گروپ سے ڈیلیٹ نہ کیا ہو۔‘

  8. ’عمران خان کی رہائی ہماری جماعت یا حکومت کے لیے خطرہ نہیں ہیں‘

    وزیر دفاع خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کی جیل سے رہائی ان کی جماعت یا حکومت کے لیے خطرہ نہیں۔

    بی بی سی کو دیے ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا کہ ’سیاست میں اتار چڑھاؤ ہوتے ہیں، انھیں تھریٹ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انھیں سیاسی طور پر حل کرنا چاہیے۔ عمران خان ہمارے لیے خطرہ نہیں ہیں۔‘

    خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے بعض حکومتی اہلکاروں نے یہ ایسے بیانات دیے ہیں کہ عمران خان کو طویل عرصے کے لیے جیل میں رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

    خواجہ آصف کہتے ہیں کہ عمران خان رہائی پانے کی صورت میں پہلے کی طرح عدم استحکام کی سیاست کرتے رہے تو ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔

    ’عدم استحکام پیدا ہوگا، لڑائی بڑھے گی، معیشت بہتر نہیں ہوگی اور ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ پاکستان معاشی استحکام حاصل نہ کر سکے۔‘

  9. خواجہ آصف کا افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا بیان، افغان طالبان کا ردعمل

    دوحہ میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ سہیل شاہین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں طالبان حکومت نے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے افغانستان کے اندر کارروائی کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے غیر دانشمندانہ قرار دیا ہے۔

    خیال رہے کہ ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہا تھا کہ آپریشن عزمِ استحکام کے تحت اگر ضرورت محسوس ہوئی تو افغانستان میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد بی بی سی کو دیے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بالکل ہم نے ان (افغانستان) کی سرحد کے اندر کارروائیاں کی ہیں کیونکہ ان کی سرزمین سے لوگ آ کر یہاں پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ تو ہم نے انھیں کیک، پیسٹری تو نہیں کھلانی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں میں حملہ آوروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ کہ پاکستان مستقبل میں بھی یہ عمل جاری رکھے گا۔

    اس سوال پر کہ عالمی سرحدی قوانین کے مطابق کیا پاکستان افغان حکومت کو ایسی کسی بھی کارروائی سے پہلے اطلاع دیتا ہے، پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ ’ایسا نہیں کیا جاتا، کیونکہ اس سے سرپرائز کا عنصر ختم ہو جائے گا۔ ہم انھیں یہ نہیں بتا سکتے کہ ہم آ رہے ہیں، آپ تیاری کر لیں۔‘

    اس سے قبل ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں افغان وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر کا افغانستان کی قومی خود مختاری کی ممکنہ خلاف ورزی سے متعلق بیان ایک غیر دانشمندانہ عمل ہے جو بد اعتمادی پیدا کرسکتا ہے اور یہ کسی کے حق میں نہیں۔

    وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت کو چاہیے کہ کسی کو بھی حساس معاملات پر اس طرح کے غیر سنجیدہ بیانات دینے کی اجازت نہ دے۔

    دوسری جانب دوحہ میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ سہیل شاہین نے پاکستان کے وزیر دفاع کے حالیہ ریمارکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی کو افغانستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہورہی اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت افغان پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔

    ’ہم نہ تو کسی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچانے کی اجازت دیتے ہیں، اور نہ ہی ہم کسی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔‘

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ مہم جوئی کا ارادہ رکھنے والوں کو ماضی کے حملہ آوروں کی تاریخ کا اچھی طرح مطالعہ کرنا چاہیے اور ایسی مہم جوئی کے ممکنہ نتائج پر غور کرنا چاہیے۔

  10. پاکستان کی قومی اسمبلی میں فنانس بل منظور: آپ کو اپنی تنخواہ پر کتنا ٹیکس ادا کرنا ہوگا؟

  11. بریکنگ, 190 ملین پاؤنڈز کیس: نیب نے عمران خان کی ضمانت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی ضمانت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ درخواست میں نیب نے استدعا دی کہ سپریم کورٹ اسلام آبادہائی کورٹ کا 14 مئی کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

    نیب کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزمان کو ضمانت دیتے ہوئی حقائق کو سامنے نہیں رکھا۔

    یاد رہے کہ 14 مئی کو 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر 13 مئی کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا اور سابق وزیر اعظم کی ضمانت 10 لاکھ روپے کے مچلکے کے عوض منظور کی گئی تھی۔

    23 جنوری کو سابق وزیر اعظم نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

    واضح رہے کہ 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس ’القادر ٹرسٹ کیس‘ میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی۔

    یہ کیس القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے مبینہ طور پر غیر قانونی حصول اور تعمیر سے متعلق ہے جس میں ملک ریاض اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ذریعے 140 ملین پاؤنڈ کی وصولی میں غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا۔

    عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، رقم (140 ملین پاؤنڈ) تصفیہ کے معاہدے کے تحت موصول ہوئی تھی اور اسے قومی خزانے میں جمع کیا جانا تھا لیکن اسے بحریہ ٹاؤن کراچی کے 450 ارب روپے کے واجبات کی وصولی میں ایڈجسٹ کیا گیا۔

  12. عمران خان کے خلاف ٹیریئن وائٹ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست ناقابل سماعت ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ٹیریئن وائٹ کو کاغذات نامزدگی میں اپنی ولدیت میں ظاہر نہ کرنے کے مقدمے میں تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لارجر بینچ کے دو اراکین کے فیصلے کے مطابق درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا گیا تھا۔

    تفصیلی فیصلے میں سابقہ بینچ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس ارباب محمد طاہر کا فیصلہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ اس مقدمے کی سماعت چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ نے 30 مارچ 2023 کو تھی جس میں جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس محسن اختر کیانی شامل تھے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر اپنا فیصلہ تحریر کیا جس سے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بھی اتفاق کیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے چیف جسٹس کے سیکرٹری اور رجسٹرار کو نوٹ لکھے اور

    فیصلے کو کاز لسٹ میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔ تاہم رجسٹرار کی جانب سے بغیر کسی معقول وجہ کے اس ہدایت پر عمل نہیں کیا گیا۔

    تحریری فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی کی بارہا ہدایت کے باوجود فیصلے کو کاز لسٹ میں کیوں شامل نہ کیا گیا۔

    واضح رہے کہ لارجر بینچ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے اپنے فیصلے میں درخواست کو قابل سماعت قرار دیا تھا تاہم بینج میں موجود دیگر دو ججوں نے اس درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس عامر فاروق نے بینچ توڑتے ہوئے درخواست پر نیا بینچ تشکیل دینے کی ہدایت جاری کردی، اور چیف جسٹس کے اس اقدام نے بینچ کے اکثریتی فیصلے کو کالعدم کر دیا،

    تحریری فیصلے میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ کیا ایک درخواست جس کو اکثریتی فیصلہ ناقابل سماعت قرار دے چکا ہے کو دوبارہ سنا جاسکتا ہے؟ جو اکثریتی فیصلہ دیا گیا اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا چیف جسٹس اپنے انتظامی اختیارات کو اختلاف رائے کو دبانے کا آلہ بنا سکتے ہیں؟ رجسٹرار آفس کی جانب سے کاز لسٹ میں شامل نہ کرنے کے باوجود اکثریتی بینچ کی جانب سے دیا گیا فیصلہ، فیصلہ ہی کہلائے گا اور کسی ایپلٹ فورم کی جانب سے کالعدم یا معطل قرار دیئے جانے تک اکثریتی فیصلہ برقرار رہے گا،

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے سامنے معاملہ ایک فیصلہ شدہ معاملہ ہے اور اس پر یہی عدالت دوبارہ کارروائی نہیں کر سکتی۔

    یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ٹیریئن وائٹ کو کاغذات نامزدگی میں اپنی ولدیت میں ظاہر نہ کرنے اور اس کیس کو سننے والے بینچ پر اعتراض کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس معاملے میں گذشتہ برس لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

    بینچ کی سربراہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی تھی جبکہ بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب محمد طاہر شامل تھے۔

    واضح رہے کہ اس کیس کو سننے والے بینچ پر اعتراض کے بعد دو فروری 2023 کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ عمران خان نے اپنے جواب میں اس بینچ پر بھی اعتراض اٹھایا۔

    اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ ٹیریئن سے متعلق ڈیکلریشن کے جائزے کا آئینی دائرہ اختیار نہیں رکھتی اور اس نوعیت کا معاملہ متعلقہ فورم پر قابل سماعت ہو سکتا ہے۔

  13. وزیر دفاع خواجہ آصف کا افغانستان کی حدود میں کارروائی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: تحریک انصاف

    وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے افغانستان کی حدود میں کارروائی کے بیان کو پاکستان تحریک انصاف نے نہایت غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

    تحریک انصاف نے وزیر اعظم شہباز شریف سے فوری طور پر قوم کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی زرتاج گل نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے بجائے افغانستان کو دشمن سمجھا جا رہا ہے۔

    پاکستان کو برادر ہمسایہ ملک کے ساتھ تصادم کی جانب نہ دھکیلا جائے۔

    اس حوالے سے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ ان کی جماعت ملک کو اندرونی طور پر مبہم اہداف کے حامل کسی فوجی آپریشن یا ایران و افغناستان سمیت کسی ہمسائے سے مسلح طور پر الجھنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گی۔

    ترجمان کے مطابق تحریک انصاف ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن، احترام اور مستحکم باہمی روابط کے ذریعے معاملہ سازی کی وکالت کرتی آئی ہے۔

  14. پاکستان کی قومی اسمبلی میں امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف قرارداد منظور

    National Assembly

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی قومی اسمبلی نے امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔

    رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے خلاف قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے انتخابات میں کروڑوں پاکستانیوں نے ووٹ دیے ہیں۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ امریکا اور عالمی برادری غزہ اور کشمیر میں مظالم کا نوٹس لے۔ قرارداد کے مطابق حکومت پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے۔

    اس سے قبل وزیر خارجہ اسحٰاق ڈار نے بھی امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے جواب میں قومی اسمبلی میں قرارداد لانے کا اعلان کیا تھا۔

    امریکی ایوان نمائندگان سے سات کے مقابلے میں 368 ووٹوں سے منظور قراراداد میں کہا گیا ہے کہ آٹھ فروری کے الیکشن میں مداخلت اور بے ضابطگیوں کے دعوؤں کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عوام کو جمہوری عمل میں شرکت سے روکنے کے لیے عوام کو دبانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں۔ قرارداد میں عوام کو جمہوری عمل میں حصہ لینے سے باز رکھنے کے لیے دھمکانے، ہراساں کرنے اور قید میں رکھنے کی بھی مذمت کی گئی ہے جب کہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ و ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات کی فراہمی میں تعطل اور انسانی، سول اور سیاسی حقوق کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے۔

    حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے کہا کہ ایوان نمائندگان کی قرارداد نان بائنڈنگ ہونے کے باوجود اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔

    انھوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ارکان پاکستان کی خود مختاری پر حملے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، اپوزیشن ارکان کو شرم آنی چاہیے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہوئی ہے۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی قرارداد کو حقائق سے منافی قرار دیا تھا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ایسی قراردادیں نہ تو تعمیری ہیں اور نہ ہی بامقصد، امید ہے امریکی کانگریس باہمی تعاون کی راہوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد کی منظوری کا نوٹس لے لیا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ قرارداد کی منظوری کا وقت اور حالات دوطرفہ تعلقات اور مثبت محرکات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق امریکی نمائندگان کی قرارداد پاکستان میں سیاسی صورتحال اور انتخابی عمل سے نامکمل واقفیت کا نتیجہ ہے۔

    ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت اور مجموعی طور پر پانچویں سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفاد کے مطابق آئین پر عملداری، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی اقدار کا پابند ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم تعمیری بات چیت اور مشغولیت پر یقین رکھتے ہیں۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسحٰاق ڈار نے کہا تھا کہ امریکی قرارداد کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اور اس حوالے سے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کے لیے مسودہ تیار کر لیا ہے جسے اپوزیشن کے ساتھ بھی شیئر کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’ کچھ چیزیں بہت حساس ہیں، جن میں تاخیر نہیں ہو سکتی۔ ہم اپنے اندرونی معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    NA

    ،تصویر کا ذریعہNA

  15. نئے مالی سال کا بجٹ منظور، قومی اسمبلی اجلاس کی تصویری جھلکیاں

    Aisfa Bhutto

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    SS

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    NA

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    NA

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    NA

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    Speaker

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    Budget Session

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    NA

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    Afridi

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    PM

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    NA

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    NA

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    NA

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

  16. بریکنگ, قومی اسمبلی نے سال 2024-2025 کے لیے بجٹ کی منظوری دے دی

    M Aurangzeb

    ،تصویر کا ذریعہNA Media

    پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسممبلی نے پاکستان کے نئے مالی سال 2024-2025 کے لیے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔

    اب یہ بجٹ ایوان بالا یعنی سینیٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

  17. خیبر پختونخوا کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے 590 ارب دیے مگر آج تک صوبے میں ’سی ٹی ڈی‘ تک نہ بن سکی: وزیر اعظم

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2010 سے لے کر آج تک خیبر پختونخوا کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ (این ایف سی) سے ایک فیصد کے حساب سے 590 بلین روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سنہ 2010 میں جب آصف علی زرداری صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے تو اس وقت این ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کے لیے ایوارڈ نے ایک فیصد کی رقم مختص کی اور یوں اب تک اس مد میں اس صوبے کو 590 ارب ادا کیے جا چکے ہیں جو کسی اور صوبے کو نہیں ملے۔ اگرچہ خیبر پختونخوا کے علاوہ بلوچستان اور پھر پنجاب اور سندھ بھی دہشتگردی سے متاثر ہوئے ہیں۔

    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کی طرف سے صوبے کے واجبات ادا نہ کرنے کے شکوے کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’میں ادب سے یہ کہوں گا کہ 590 ارب روپے خیبر پختونخوا کو دیے گئے مگر آج تک اس صوبے میں سی ٹی ڈی قائم نہیں ہوسکی۔ انھوں نے کہا کہ اتنی رقم ملنے کے باوجود ’اس صوبے میں سی ٹی ڈی آج بھی نامکمل ہے۔ اس پر سوچیے گا۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔‘

    اسد قیصر نے اپنی تقریر میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں فاٹا کے انضمام کا فیصلہ اس پارلیمنٹ کا مشترکہ فیصلہ تھا، مگر ابھی تک صوبے اور ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کا حصہ نہیں دیا جا رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ کہیں ان کے صوبے کو اس بات کی سزا تو نہیں دی جا رہی کہ انھوں نے تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دیا ہے؟

    Assad Qaiser

    ،تصویر کا ذریعہNA TV

    انھوں نے کہا کہ ان قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے وقت یہ فیصلہ ہوا تھا کہہ صوبے کو این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والے حصے کے علاوہ تین فیصد قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے دیے جائیں گے۔

    ان کے مطابق یہ وعدہ ہوا تھا کہ ’ہر سال دس ہزار بلین دیے جائیں گے مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔

    اسد قیصر نے یہ بھی سوال کیا کہ ’نیٹ ہائیڈل میں جو خیبر پختونخوا کے 111 ارب روپے بنتے ہیں کیا وہ دیے جائیں گے۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’اس پارلیمنٹ کی کمٹمنٹ کو پورا کیا جائے۔‘ اسد قیصر نے کہا کہ ’مجھے پتا چلا ہے کہ وزیراعظم نے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں زیادہ تر لوگ مسلم لیگ ن کے ہی ہیں۔‘

    اسد قیصر نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ پر ہمارے بہت اعتراضات ہیں۔ آپ نے ہمارا مینڈیٹ چرایا ہے اور فارم 47 کے تحت وزیراعظم بنے مگر اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ آپ پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ ایک صوبے کے نہیں ہیں۔‘

    وزیراعظم شہبام شریف نے اسد قیصر کے ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ یہ بتایا کہ خیبر پختونخوا کے نیٹ ہائیڈل والے واجبات وفاق کیوں نہیں ادا کر رہا ہے۔

    صوبے کے چیف سیکریٹری کی تعیناتی سے متعلق سوال پر شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم نے روایت کے عین مطابق چیف سیکریٹری کے لیے تین ناموں کا پینل دیا مگر خیبر پختونخوا نے اس پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔‘

    وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں صوبے کے عوام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، خیبر پختونخوا کے بہت خوبصورت لوگ ہیں، ہمیں ان کا بہت احترام ہے۔

  18. معیشت میں استحکام آیا ہے، سرمایہ کار واپس آ رہے ہیں: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران کہا کہ گذشتہ چھ سات ماہ سے کرنسی مستحکم ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’معیشت میں استحکام آیا ہے، چھ سات ماہ سے کرنسی مستحکم ہے، سرمایہ کار واپس آ رہے ہیں۔‘

    وزیر خزانہ نے حکومت کی طرف سے معیشت کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ٹیسکز کے لیے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس حوالے سے ایف بی آئی کی ری سٹرکچرنگ بھی کی جا رہی ہے اور اسے ہم ڈیجٹلائزیشن کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔

    ان کے مطابق آئندہ نان فائلر کئی بار سوچے گا کہ اسے ٹیکس فائلر ہونا چاہیے یا نہیں۔

  19. خیبر پختونخوا میں انسداد دہشتگردی کا ادارہ سی ٹی ڈی نامکمل ہے: شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں تاہم صوبے کو 590 ارب روپے ملنے کے باوجود وہاں اب تک انسداد دہشتگردی کا ادارہ (سی ٹی ڈی) مکمل نہیں ہوسکا۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق جمعے کو قومی اسمبلی میں اسد قیصر کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’اسد قیصر لائق احترام ہیں۔ ان کی باتوں کو غور سے سنا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ 2010 میں تشکیل پایا، اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں چاروں صوبوں نے مل کر اس پر اتفاق کیا تھا۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’اس وقت ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی جس کا سب سے زیادہ شکار صوبہ خیبرپختونخوا تھا، وہاں کے عوام نے عظیم قربانیاں دیں جنہیں تاریخ یاد رکھے گی۔‘

    انہوں نے کہا کہ ’اس این ایف سی ایوارڈ کا میں بھی حصہ تھا جس پر دستخط بلوچستان میں ہوئے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں سے خیبرپختوخوا کا حصہ ایک فیصد رکھا گیا تھا جو ابھی تک اسے مل رہا ہے۔ ’اب تک 590 ارب روپے دہشت گردی کے خلاف ان کی کاوشوں کے اعتراف میں ملے۔‘

    ’خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی تک قائم نہیں ہو سکی۔ 590 ارب کے باوجود سی ٹی ڈی نامکمل ہے۔ ہم سیاست نہیں کرنا چاہتے۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ ’خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری کی تعیناتی کے لیے ہم نے روایت کے مطابق تین ناموں کا پینل صوبائی حکومت کو دیا کہ اس میں سے نام دیں تاہم ابھی تک جواب نہیں آیا۔ اگر انہیں اس پینل میں سے کوئی نام پسند نہیں تو آگاہ کریں ہم اور ناموں پر مشتمل پینل دے دیں گے۔‘